Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 2)

Misal E Taweez By Isra Rao

مثل تعویذ ہوئ تیری آواز

سن کر شفا ملتی ہے

اور نیچےاس کی کچھ بولتے ہوئے

لی جانے والی تصویر تھی۔۔

جس میں وہ ہاتھ ایک ادا سے اٹھائے کچھ بول رہی تھی۔۔

اس نے جھٹ پیج بدلا۔۔

ہزار نسخے آزمائے ہزاروں دوائیں دی گئی

مگر وہ مثال تعویذ سی، آئی اور شفی ہوگئی

نیچے اسی طرح کٹنگ کی گئی تصویر۔۔۔

اس نے پھر پیج پلٹا۔۔

الغرض کہ پوری ڈائری اس کی تصویروں سے بھری تھی۔۔

جو شاید اچانک ہی لی گئی تھی۔۔

بہت سے شعر لکھے ہوئے تھے اس کی تعریف میں، بہت سی غزلیں تھی۔۔

مگر ہر جگہ صرف وہی تھی۔۔

جیسے کسی نے اپنی محبت چھپا کر اس ڈائری میں بند کردی ہو۔۔

آنسوں اس کی آنکھ سے متواتر بہ رہے تھے۔۔

مگر ایک خوشی تھی۔۔۔جو اسے ڈائری پڑھ کر ملی تھی۔۔

وہ جسے بے رخی اور نفرت کرنے والا کہ رہی تھی۔۔

وہ شخص دل میں اس کے لیے کتنی محبت چھپائے بیٹھا تھا۔۔

جسکا اسے آج تک علم ہی نہیں تھا۔۔

وہ یک اٹھنے لگی۔۔مگر پھر کچھ سوچ کر بیٹھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ایک نظر کار میں بیٹھی لڑکی پر ڈالتا۔۔برابر سے گزر گیا۔۔

وہ کوئی عام لڑکی ہوتی تو شاید غنی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔۔

مگر وہ نایاب تھی۔۔۔جو اس کے لیے واقع قیمتی تھی۔۔

وہ جانتا تھا وہ آزاد ہے۔۔

اور اس کے جیسا شخص اس سے میچ نہیں کھاتا۔۔

اس لیے وہ زیادہ تر کوشش کرتا کہ اسے نا ٹوکے۔۔

وہ مسکراتا ہسپتال کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔

وہ جب بھی نایاب کو دیکھتا ایسے ہی مسکراہٹ اس کے لبوں کی زینت بنتی۔۔

“یہ یہاں کر کیا رہی تھی ویسے”

وہ سوچنے لگا۔۔

“آئی ہوگی کسی فرینڈ کے ساتھ۔۔۔”

وہ خود ہی جواب دیتا۔۔سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

زوہیب ہاتھ میں رپورٹس پکڑے کار کا دروازہ کھول اندربیٹھا۔۔

“میں نے کہا تھا نا مجھے ایسی جگہوں پر نہیں لایا کرو۔۔۔”

اس نے ایک چپت زوہیب کے بازو پر رسید کی۔۔

“کیا کردیا میں نے؟”

وہ روہانسی ہوا۔۔

“ابھی ابھی غنی گزرا یہاں سے۔۔دیکھ لیتا نا تو میری خیر نہیں تھی۔۔”

نایاب نے غصہ سے کہا۔۔

اور بدلے میں زوہیب کا زوردار قہقہہ گونجا۔۔

“ہنس رہے ہو۔۔”وہ تپی۔۔

“تو کیا کروں؟ تم اپنے گھر والوں سے اتنا ڈرتی جو ہو”

زوہیب نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔

“گھر والوں سے نہیں بس پھپھو سے۔۔۔اور یہ غنی تو لاڈلا ہے ان کا۔۔۔اس کی تعریفوں کے پل تو باندھتے باندھتے نہیں تھکتی وہ”

نایاب نے کہا۔۔

“اچھا ایسا کیا ہے اس میں؟”

زوہیب نے پوچھا۔۔

“ہممم۔۔۔پرفیکٹ کہ سکتے ہو تم اسے۔۔۔اس میں کسی چیز کی کمی نہیں۔۔ڈاکٹر بن گیا ہے۔۔۔شکل کا بھی اچھا ہے۔۔نمازی اور نیک ہے۔۔۔اخلاق بھی بہترین ہے۔۔۔اور”

وہ اپنی بات پوری کرتی کہ زوہیب نے ٹوکا۔۔

“بس بس اتنی تعریفیں تو میری بھی نہیں کی کبھی۔۔

جتنی اس غنی کی کر رہی ہو۔۔۔اتنا ہی اچھا ہے تو شادی کیوں نہیں کر لیتی اس سے؟”

زوہیب نے چڑ کر کہا۔۔

“شادی تو کرلیتی اور میرے گھر والے بھی خوشی خوشی کردیں۔۔مگر یہ میرے ٹائپ کا نہیں”

نایاب نے اترا کر آخری جملہ کہا۔۔

“وہ کیسے؟”

زوہیب نے پھر سوال کیا۔۔

“بھئی میں جنس وغیرہ پہننے والی۔۔آزاد لڑکی ہوں۔۔اس کی بیوی بنی تو برقعہ پہن کر اجتماع میں بیان دیتی پھروں گی۔۔”

نایاب کی بات سن زوہیب کے حلق سے قہقہہ گونجا۔۔

“اچھا میں ہوں تمہارے ٹائپ کا؟”

زوہیب نے ہنسی روکی۔۔

“ہاں بلکل۔۔۔مگر پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ۔۔تم مجھے یہاں لائے کیوں۔۔۔ابھی پھنس جاتی میں”

نایاب نے اس کے بال بکھیرے۔۔

“نایاب۔۔۔سارے بال بکھیر دیے۔۔۔اتنی ڈرتی ہو تو برقعہ پہن کر آیا کرو نا”

زوہیںب نے انگلیوں سے بال سیٹ کرتے ہوئے۔۔چڑ کر کہا۔۔

اور بدلے میں نایاب نے اسے مکہ سے نوازہ۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ شام گئے گھر پہنچی۔۔۔کہ سامنے ہی خالدہ بیگم اور زاہدہ پھپھو لان میں بیٹھے تھے۔۔۔چائے کا کپ تھامے باتوں میں مشغول تھے۔۔

اسے باہر سے آتا دیکھ ٹھٹکے۔۔

نایاب نے قریب آکر سلام کیا۔۔

“کہاں سے آرہی ہے لڑکی۔۔؟”

پھپھو نے پوچھا۔۔

“میں وہ۔۔۔” ناہاب سر جھکائے ہکلائی۔۔

“میں وہ کیا؟ ٹائم دیکھا ہے؟ لڑکیوں کا اتنی دیر باہر رہنا ٹھیک نہیں۔۔صبح کی نکلی ہوئی ہے تو۔۔۔کس کے ساتھ تی؟”

پھپھو نے غصہ سے پوچھا

“ارے آؤ بیٹا۔۔۔چائے پیو۔۔۔”

خالدہ بیگم کھڑی ہوئی

نایاب نے مڑ کر دیکھا۔۔پیچھے غنی کھڑا تھا۔۔

غنی نے سب کو سلام کیا۔۔

“غنی کے ساتھ تھی تم؟ پہلے ہی بتا دیتی آپا کو”

خالدہ بیگم نے فوراً کہا۔۔

“جی۔۔میں غنی کے ساتھ تھی۔۔۔مجھے کچھ کال تھا۔۔۔تو پھر غنی۔۔کے ساتھ۔۔”

نایاب نے نیچے سے غنی کا ہاتھ پکڑ اسے بولنے سے روکا۔۔

جو بے یقینی سے نایاب کو دیکھ رہا تھا۔۔

“اچھا اب تو کہ رہی ہے تو مان لیتی ہوں۔۔غنی بیٹا آؤ بیٹھو۔۔چائے منگواتی ہوں۔۔”

زاہدہ پھپھو ایک ناگوار سی نظر نایاب پر ڈال غنی سے مخاطب ہوئی۔۔

“نہیں آپ لوگ پئیں۔۔پھپھو۔۔

میں ابھی بس نماز پر جاؤں گا۔۔۔”

وہ کہ کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔

“ماشاءاللہ بہت نیک بچہ ہے۔۔”

پھپھو نے تعریف کی۔۔

جس کی آواز جاتے جاتے بھی نایاب کے کانوں میں پڑی۔۔

“غنی۔۔” نایاب نے آگے چلتے غنی کو پکارا

وہ پلٹا۔۔

“تھینک یو۔۔۔” نایاب نے کہا۔۔

“کس لیے۔۔؟” غنی نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔

“پھپھو کے سامنے چپ رہنے کے لیے۔۔۔”

نایاب نے مسکرا کر کہا

تبھی سامنے سے ایک سفید بلی بھاگتی ہوئی آئی اور غنی کے پاؤں میں گھومنے لگی۔۔

نایاب یک دم اچھل کر پیچھے ہوئی۔۔

“غنی اسے دیکھ مسکرایا۔۔پھر جھک کر بلی کو گود میں اٹھایا۔۔

“تم لیزی سے اتنا ڈرتی کیوں ہو۔۔؟”

اس نے اپنی پالتو بلی کا نام لیا۔۔

“ڈرتی نہیں ہوں میں بس مجھے پسند نہیں”

اس نے منہ بنایا ۔

“کیوں پسند نہیں یہ تو بہت معصوم جانور ہے۔۔۔”

غنی نے بلی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔

“خیر میں چلتا ہوں فریش ہونا ہے مجھے۔۔”

وہ کہتا لیزی کو تھامے اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

افضل اور فضل دونوں بھائی تھے ۔۔۔

اور دونوں ہی ایک ساتھ مل کر اپنے کاروبار کو فروغ دے رہے تھے۔۔

افضل اور فضل کی کی طرح فاخرہ بیگم اور خالدہ بیگم میں بھی بہت محبت تھی۔۔۔

وہ دونوں بلکل بہنوں کی طرح رہتیں۔۔۔

افضل صاحب اور فاخرہ بیگم کے دو بچے تھے۔۔ایک بیٹا غنی اور بیٹی عائشہ۔۔۔جبکہ فضل صاحب اور خالدہ بیگم کی ایک ہی بیٹی تھی نایاب۔۔۔

ان دونوں بھائیوں کہ ایک ہی بہن تھی زاہدہ بیگم جو زبان

کی ذرا کڑوی تھی۔۔جو شوہر سے طلاق لے کر کافی سال پہلے ہی یہاں اپنے دو بچوں کو لے آگئیں تھی۔۔۔ایک بیٹا جو غنی کا ہم عمر تھا۔۔۔فیضان۔۔۔۔اور بیٹی تانیہ جو عائشہ کی ہم عمر تھی۔۔۔۔

مگر واحد غنی تھا جس کی پھپھو تعریف کرتی۔۔۔کیونکہ پورا گھر جانتا تھاکہ تانیہ بی بی غنی کو پسند کرتی ہے۔۔۔نایاب گھر میں سب سے چھوٹی تھی۔۔

اور پھپھو کے علاوہ سب ہی کی لاڈلی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ عشاء کی نماز پڑھ کر گھر میں داخل ہوا۔۔۔

ارادہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف جانے کا تھا۔۔

کسی سے ٹکراؤ ہوا۔۔

سامنے ہی تانیہ کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔

سر پر دوپٹہ لیے۔۔

“سوری۔۔میں نے دیکھا نہیں”

غنی نے کہا۔۔

“کوئی بات نہیں۔۔میری غلطی ہے۔۔وہ اصل نماز پڑھنے جارہی تھی میں”

تانیہ نے جتایا۔۔

“اچھی بات ہے”

غنی نے مسکرا کر کہا۔۔

دور کھڑی نایاب ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

پھر چل کر قریب آئی۔۔

“ارے تانیہ آپی۔۔پہلے آپ نا یہ نیل پینٹ اتار لیجئے گا۔۔”

نایاب نے اس کی انگلیوں کی طرف اشارہ کیا۔۔ جہاں ریڈ کلر کی نیل پینٹ لگی تھی۔۔جس سے اس کی پول ہی کھل گئی۔۔

“آ۔۔۔ہاں۔۔۔۔” وہ جبرن مسکرائی۔۔۔

“ہاں۔۔۔یہ ریموو کرنا ورنہ وضو نہیں ہوگا۔۔”

غنی نے سنجیدگی سے ہدایت کی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔

نایاب بھی چپ چاپ ہنسی روکے سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئی۔۔۔

نایاب جانتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

تانیہ غنی کو دیکھ جان بوجھ کر ایسے ظاہر کرتی تھی کہ وہ بہت نیک ہے۔۔جبکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔۔

وہ پورے پانچ وقت کی نماز تک ادا نہیں کرتی تھی۔۔

اور فیشن تو اسے دیکھ کر ہی پتا لگتا تھا کہ وہ کتنا کرتی ہے۔۔پورا دن وہ گلے میں دوپٹہ ڈالے گھومتی۔۔اور جیسے ہی غنی گھر میں داخل ہوتا گلے سے دوپٹہ اس کے سر پر پہنچ جاتا۔۔۔