52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

سہراب ماہین کو الجھن بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جیسے جاننا چاہ رہا ہو جو وہ بتانے لگی تھی شیلہ ایک ہی بات بار بار کہتی جا رہی تھی کہ اسکا بیٹا بلکل پرفیکٹ ہے جبکہ ماہین اندر ان کے کمرے میں چلی گئ سہراب بچپن میں شاید انکے کمرے میں دو بار ہی گیا ہوگا اور آج وہ اتنا بڑا ہو چکا تھا آج تک وہ اس کمرے میں نہیں گیا تھا ۔
علینہ اسر سہراب کی بھی نظر ملی دونوں ہی جیسے متجسس کھڑے تھے
ماہین دو منٹ بعد باہر نکلی اور اسنے سہراب کی جانب وہ فائل بڑھا دی ۔
سہراب کی آنکھوں میں الجھن تھی اسنے ماہین کے ہاتھ سے وہ فائلز لے لی
یہ ہے وجہ جو بچپن سے آج تک تمھارے اور مرتضی کے بیچ دڑاڑ رہی ۔
اور یہ دڑاڑ ہمارے گھر کو توڑ گئ
ہم سب کو ایک دوسرے سے چھین کر لے گئ ۔
وہ بولی تو لہجہ بھیگ گیا
سہراب جاننا چاہتا تھا کہ آخر اسے ساری زندگی کا بات کی سزا ملی تھی ۔
اسنے وہ فائل کھولی ماہین نے شیلہ کو تھام لیا جو بری طرح رو رہی تھی
اور سہراب جیسے جیسے وہ فائل پڑھتا گیا اسے لگا اسکا سر گھوم رہا ہو جیسے چارو جانب سے ہر چیز ہل رہی ہو اور وہ تیز آندھی میں ا کھڑا ہو ۔
وہ حونک نظروں سے کبھی ماں کو تو کبھی بہن کو دیکھا
میں میں تمھیں کہہ رہی ہوں تم کچھ نہیں تھے وہ ہی سب تھا ۔ اور اور میرا بچہ ساری زندگی اسی کمپلیکس میں رہا میں اس کے اندر سے یہ بات ختم کرتی رہ گئ مگر وہ ۔۔ مگر وہ بھی مجبور تھا کیا کرتا آخر کیا کرتا کہ قدرت نے ہی اسے ایسا بنایا تھا ۔
سہراب کے ہاتھوں سے فائلز چھوٹ کر زمین رہ جا گیری
ہاں سہراب اسی وجہ سے کبھی تمھیں تمھارا حق نہ مل سکا ۔
کبھی تمھیں تمھارے حصے کی محبت نہیں مل سکی اور سب
مرتضی کو پرفیکشن کا احساس دلانے کے لیے تمھیں روندتے چلے گئے ۔
ہم نے قدر ہی نہیں کی کہ کسی کو سنوار ے کے لیے ہم تمھیں برباد کر رہے ہیں مگر مگر وہ بہت حساس تھا “
وہ سر تھام گیا ۔
زندگی میں کہیں کبھی اسے اس بات کا احساس ہی نہیں ہونے دیا کسی نے ۔۔۔۔
اسی کے جھمیلوں میں اسے اتنا پھنسا دیا کہ وہ جان ہی نہیں پایا کہ اسکا بھائ آخر کیا ہے ۔
علینہ سہراب کو دیکھ کر پریشانی سے آگے بڑھی اور اسنے وہ فائلز اٹھا لیں وہ ایک ایک چیز کو دیکھتی جا رہی تھی اور اسنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
یہ بڑا انکشاف تھا
اور بلکل یہ سہراب کے لیے بڑا انکشاف تھا ۔
یہ مرتضی کی ریپورٹس تھیں
جس میں مرتضی کے اندر موجود سب سے بڑی خامی کے بارے میں درج تھا علینہ حیران اور حونک رہ گئ یہ لوگ جانتے بھی تھے پھر بھی مرتضی کی شادی کرا رہے تھے اور وہ خود بھی کر رہا تھا ۔
علینہ کو یہ ریپورٹس دیکھ کر یاد آیا کہ مرتضی نے تنہائ میں بھی اسے نہیں چھوا تھا ۔
مرتضی جب ایک پرفیکٹ مرد کے خاکے میں پورا اترتا ہی نہیں تھا تو وہ عورت میں دلچسپی لیتا بھی کیسے ۔
اس میں خامی ہی اسکی نہ مردانگی کی تھی ۔
تو وہ کیوں لیتا جب وہ مرد تھا ہی نہیں تو وہ کیسے شادی کرتا تبھی اسنے فاطمہ سے بھی کسی قسم کا بدل لیا بنا اس سے علیحدگی کر لی تھی ۔
علینہ سہراب کی کیفیت تک پہنچ نہیں پا رہی تھی
اسی بات کے تحت اسے فیڈز پڑتے تھے وہ اپنے اندر کی کمزوریوں سے چیڑ کھاتا تھا سہراب ۔۔۔
وہ جو تھا وہ بننے کے لیے اسکا اندر اپنا آپ اسے اکساتا تھا جسے
وہ بمشکل ڈھانپ کر چلتا تھا کیونکہ اسے خود سے بھی چیڑ تھی ۔
کیونکہ اسے نفرت تھی کہ خدا نے نہ اسے مرد بنایا مکمل اور عورت بھی نہیں ۔
مگر جو اسے اللّٰہ نے بنایا وہ اس تقسیم پر راضی نہیں تھا ۔
تبھی تبھی یہ سب ہوا ۔
وہ بچپن سے تم سے نفرت کرتا تھا کیونکہ وہ اپنی کمزوری سے آگاہ تھا ۔
وہ جانتا تھا تم میں لڑکوں والی باتیں ہیں تم پسند کرتے ہو لڑکوں کیطرح کھیلنا کودنا جبکہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اسی طرح کھیلنا چاہتا تھا مگر اسکا دل پھر بھی کسی اور چیز میں لگتا تھا وہ خود کو بچاتا تھا وہ سنوارتا تھا ایک مرد کے خاکے میں ڈھانپتا تھا مگر بے سود ۔۔۔
پھر اسنے تم سے نفرت کرنا سیکھ لی۔
اسے علم ہو گیا اس میں ایک بات ہے اور وہ یہ کہ وہ تم سے مردوں کی طرح نفرت کرتا ہے اور اسے یہ بات خود میں اتنی پسند آئ کک اپنے لیے ہی اسنے تمھاری طرف سے سب کا دماغ میک کرنا شروع کر دیا ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ تم کبھی یہ جان سکو وہ پرفیکٹ نہیں ۔
وہ چاہتا تھا تم میں خامیاں ہوں۔
تم نے اسکے منہ پر کپ مار دیا ہم سب جانتے تھے اسنے تمھیں ٹیز کیا ہو گا مگر ہم کچھ نہیں بولے کیونکہ تم پھر بھی سنبھل سکتے تھے مگر وہ حساس تھا۔
جب تم اور وہ لڑتے تھے تو ڈیڈ تمھاری طاقت سے آگاہ تھے جانتے تھے کہ تم اسے لمہوں میں ڈھیر کر دو گے مگر اسکو احساس نہ ہو تبھی تمھیں مارتے تھے۔کہ تم کمزور رہو اور وہ خود کی خامی کو خود پر حاوی نہ کرے
ڈیڈ کو اس سے زیادہ محبت اسکی وجہ سے ہوئ۔
ڈیڈ کو اسکے نقص کی وجہ سے تم سے نفرت ہوئ
مجھے۔۔ ماں کو ہم ہر پل اس فکر میں رہتے تھے مرتضی کو کچھ ہو نہ جائے تم چلے جاؤ یہاں سے تم یہ گھر چھوڑ دو ۔
وہ مردوں کی طرح خون دیکھ نہیں سکتا تھا اسکے اندر ہمت نہیں تھی وہ عورتوں کیطرح خون دیکھ کر گھبرا اٹھتا تھا چیختا تھا ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ تم اسکے اندر کی خامی سے آگاہ ہو جاؤ اور خود کو اس سے طاقتور سمجھو
وہ لائق تھا اسنے تمھیں تعلیم سے مات دی وہ خود کو مقابلے میں رکھتا تھا
اسنے اپنا چہرہ ٹھیک کرا لیا اور اس دن ٹھان لی تمھارے چہرے کو نشان دینے کی اور اسنے ایسا ہی کیا۔۔۔
مگر ہم میں سے کوئ نہیں بولا
کیونکہ ہم اندھے ہو گئے تھے اسکے جزبات اور احساسات دیکھ کر ہم اندھے ہو گئے تھے بھول گئے تھے کہ تم جیتے جاگتے احساس رکھنے والے انسان ہو
تمھارے چہرے کو نشان دے کر وہ بہت خوش تھا مام ڈیڈ اسکو دیکھ کر خوش تھے اور شاید میں بھی ۔
تم واپس لوٹے اور تمھارے طاقت ور ہاتھ اسکے اندر کی خامی کو پھر سے اسکے منہ کے سامنے لے آئے ۔
اسکو بہت عرصے بعد فیڈ پڑا تھا ہم پریشان ہو گئے تھے
مگر ہم کچھ نہیں کر سکے تم سے نہ نفرت ختم کر سکے نہ اس سے محبت ۔
ہم۔۔۔۔ ہاں میں مانتی ہوں آج ہم سب ہی وجہ سے تم سمیت ہم سب تباہ ہو گئے
تمھارے دل سے رشتوں کا پاس اٹھ گیا اور ہمارے ہاتھوں سے سب نکل گیا ۔
ماہین رو رو کر اسے یہ سب بتا رہی تھی
سہراب اپنے بال دونوں ہاتھوں میں جکڑے بیٹھا تھا علینہ خود ساکت تھی ۔
اسے تم سے نہیں بلکہ دنیا کے ہر مرد سے چیڑ تھی کیونکہ وہ پرفیکٹ نہیں تھا اور تم پرفیکٹ تھے “
وہ چیخی ۔
علینہ نے سہراب کی سرخ آنکھیں دیکھی
دیکھو تمھاری بدعاؤں نے آج ہم سے سب چھین لیا تمھارے پاس تو سب ہے”
وہ بولی جبکہ سہراب نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور ایکدم اٹھا ۔
ایک اور وجود بھی تھا جو کچن کے دروازے میں کھڑا یہ سب سن رہا تھا اور وہ آنا تھی ۔
یہ سچ تھا مرتضی کبھی اسکی جانب بھی نہیں بڑھا تھا ۔
جبکہ مراد خان نے بھی اسپر گندی نظر ڈالی تھی مگر مرتضی نے نہیں ۔
سہراب نے شاید مرتضی کے کمرے میں پہلی بار قدم رکھا تھا
اسنے اس کمرے کی شان و شوکت پر ایک نگاہ ڈالی اور اسکے بعد
وہ مرتضی کی الماریوں کو دیکھنے لگا اسنے ایک ایک چیز نکال کر باہر پھینک دی تبھی مرتضی کی الماری سے۔
اسے سرخ لباس اور نقلی بال اور سرخ لیپسٹک ملی ایکدم اسنے یہ سب اپنے ہاتھ سے جھٹک دیا
شیلہ نہ ایک بار پھر اسے مارنا شروع کر دیا تھا
کیوں آئے ہو تم یہاں کیوں آئے ہو میرے بیٹے پر ہنس رہے ہو تم ہنس رہے ہو اسکی بے بسی پر”
ہاں اچھا ہوا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہا آج مجھے احساس ہو رہا ہے ۔
کہ مراد نے اچھا کیا جو اسے مار دیا کم از کم میرے بیٹے کا دل تو نہیں کٹے گا ۔
ماہین نے اسے دور کھینچا کیونکہ سہراب ماں پر توجہ نہیں دے رہا تھا
وہ دیکھنا چاہتی تھی وہ کیا کر رہا ہے
سہراب کو بالآخر اپنی مطلوبہ چیز مل گئ اور اسنے سٹدی ٹیبل ڈھونڈی ۔
اور وہاں سے پن اٹھا کر اسنے ان فائلوں پر اپنے سگنیچر کئے اور وہ فائلیں ماہین کے منہ پر دے ماری ۔
وہ اب سرخ نظروں سے ماں اور بہن کو دیکھ رہا تھا
اگر مجھ سے مقابلہ کرنے کے بجائے یہ بتا دیتے کہ بھائ کا خیال رکھو میر سہراب علی خان تو خدا کی قسم سہراب خان اپنی ہستی مٹا دیتا اسے خوشیاں دینے کے لیے ان ان چیزوں کی اوقات میری نظر میں اتنی ہے ماہین خان جتنے لمہوں میں میں نے تمھارے مرے ہوئے بھائ کے نام یہ سب کیا ہے ۔
ایسی جائیداد پر تھوکتا بھی نہ سہراب خان اگر مجھے بھی کوئ اپنا سمجھتا ۔ “
وہ سرخ چہرے اور سرخ نظروں سے کہتا دھاڑا ۔
مجھے مار دیا ۔
مجھے جیتے جی مار دیا ۔۔ نہیں کون سا سکون حاصل کر لیا اب اس نے “
وہ ماں کی جانب دیکھنے لگا
میں ساری زندگی تڑپتا رہا ایک لمس کو ماں کے پیار کو باپ کے پیار کو اپنی بڑی بہن کی محبت کو جو وہ مرتضی سے کرتی تھی جیسے مان سے وہ مرتضی سے بولتی تھی وہ مجھ سے بھی تو ویسے بول سکتی ہے ارے میں ابھرتا نہ۔
مجھے بتاتے تو سہی “
وہ ماہین کو جھنجھوڑ گیا
ماہین رونے لگی
مگر فرق ہی رہا اور یہ فرق کبھی ایک نہیں ہونے دے گا “
وہ وہاں سے نکلنے لگا
مت جاؤ سہراب ماں کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں رک جاؤ ۔ “
ماہین بولی جبکہ وہ علینہ کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
جبکہ آنا بھی روتے ہوئے وہاں سے پلٹ گئ تھی مرتضی کے جال میں آ کر اس آدمی کے سامنے اسنے اپنی آبرو کھو دی تھی یہ
احساس اسے مارنے کے لیے کافی تھی
علینہ کچھ بول نہیں سکی کہنے کے لیے تو اسکے پاس بھی کچھ نہیں تھا مگر وہ غصے میں لگا تھا ۔
علینہ بار بار اسکی طرف دیکھتی مگر سہراب سامنے دیکھ کر ڈرائیو کر رہا تھا ۔
اور کافی رش ڈرائیو کر رہا تھا ۔
نکاح کرو گی مجھ سے”
اچانک وہ بولا کافی سٹریٹ فاروڈ سوال تھا علینہ نے ہمیشہ تمنا کی تھی وہ اس سے یہ سوال کرے اس سے پوچھے مگر آج وہ گھبرا گئ مگر انکار کی ہمت نہیں تھی اور اسکو انکار کر کے اپنی محبت کی بے حرمتی نہ کر دیتی وہ سر اثبات میں ہلا گئ
علینہ تلخی سے مسکرائ
اسے آج بھی محبت نہیں تھی
شاید ہمدردی تھی اور پوچھا بھی تو کیسے ۔۔۔
کاش وہ کہتا میں تمھارا عاشق ہوں زرا آوارہ سا شادی کر کے سنبھال لو وہ کتنا خوش ہوتی ۔
مگر سوال بھی کیا تو ایسا لگا کھینچ کر کچھ مارا ہو۔
اسنے گاڑی مسجد کی جانب موڑ لی اور مولانا سے بات کی تو پہلے تو انھوں نے عجیب نظروں سے دیکھا گویا وہ دونوں بھاگ کر کر رہے ہوں مگر سہراب کی سنجیدگی کے آگے کچھ بولے بنا ہی مسجد کے ساتھ بنے اپنے گھر میں آنے کی دعوت دی ۔
اور وہیں پر کچھ پیسوں کے آویز گواہوں کا انتظام کر کے ان دونوں کا نکاح پڑھانے لگے علینہ کے لیے یہ منظر معجزے سے کم نہیں تھے اسکا مل جانا خواب ہی تو تھا ۔
اسکا ہو جانا حقیقت تو کبھی نہیں سوچی تھی کہ وہ اسکا ہو گا اسے مل جائے گا ہاں اتنے جتن سہنے کے بعد اسنے اسکا ہونا ہے یہ نہیں سوچا تھا اسنے تین بار بڑی تیزی سے قبول ہے کہا انداز سپاٹ تھا علینہ دیکھ رہی تھی جبکہ علینہ کی دل کی دھڑکنوں کو سنتا تو سہی کبھی ۔۔۔۔
وہ کس طرح اسکے نام ہی کے ساتھ ساتھ دھڑک رہیں تھیں دونوں نے سائین کیے اور سہراب نے وہ نکاح نامہ لیا اور لے کر وہ باہر نکل گیا
خیر عپینہ یہ تو باخوبی جانتی تھی کہ وہ بدتمیز کتنا ہے نہ کسی سے ملا بس پیسے دے کر وہ وہاں سے باہر نکل کر دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گیا نکاح ایسے کیا تھا جیسے سبزی خریدی ہو اور بھلا کیا فرق پڑتا ہے نکاح ہی تو ہوا ہے سب کا ہوتا ہے کوئ خاص بات نہیں
علینہ نے گھیرہ سانس بھرا
تم ٹھیک ہو ” اسنے اسکی خاموشی سے عاجز ا کر پوچھ ہی لیا
مجھے کیا ہوا ہے ” لٹھ مار جواب آیا ۔
ایسے ابنارمل کیوں بیہیو دے رہے ہو ” وہ سیدھی ہو گئ تھی شاید لڑنے کا موڈ بنا چکی تھی
تم سے شادی کر کے مجھے ابنارمل ہی ہونا ہے “
وہ موڑ کاٹتے ہوئے سنجیدگی سے بولا
علینہ طنزیہ ہنسی
لائیک سیریسلی ” اسے برداشت نہ ہوا وہ اسکا مذاق بنا رہا ہے
یس افکورس ” وہ آئ برو آچکا کر سنجیدگی سے بولا
تم نہایت بے کار آدمی ہو ” علینہ غصے سے بھڑکی ۔
شادی کی تمنا بھی تمھیں ہی مجھ سے تھی ” وہ اسی پر ڈال گیا
مطلب تم اس بات پر بھڑک رہے ہو کیونکہ تم نے مجھ سے نکاح کیا ہے “
علینہ بات کی تہہ تک جانا چاہتی تھی
ہاں کتنی عجیب بات ہے ہم دونوں نے شادی کر لی ہے “
وہ سٹیرنگ پر ہاتھ مار کر بولا ۔
سہراب”
علینہ غصے سے چیخی ۔
جبکہ ایک جاندار قہقہہ گاڑی میں ابھرا علینہ حیران رہ گئ ۔
وہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔
افکورس یار میں حیران ہوں میں تم سے شادی کر چکا ہوں مطلب میں کیسے شاید جوش میں ہوش گنوا چکا تھا ” وہ افسوس سے بولا ۔
جبکہ علینہ نے کھینچ کھینچ کر اسکے مکے مارے تھے
روکو گاڑی روکو ابھی”
وہ بھڑکتی ہوئی بولی ۔
ارے روکو ابھی شادی ہوئ ہے آج ہی موت کے گھاٹ اترنا ہے”
وہ اسکا ہاتھ ہٹانے لگا جس نے زبردستی گاڑی رکوائی تھی۔
کیا “
سہراب کچھ کہتا کہ علینہ نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا اور اسکی گود میں بیٹھ گئ
سہراب نے اسکی جانب دیکھا ۔
اسکا چہرہ پہلے جیسا دیکھ رہا تھا ۔
اور قریب سے تو اور بھی خوبصورت ۔
تم اس نکاح پر پچھتاؤ یہ نہیں ۔۔یہ سوچو کہ تم مجھ سے شادی کیسے کر سکتے ہو مگر میں نے تم تک اور اس حق تک پہنچنے کے لیے کتنے سال سفر کیا ہے تم اندازا نہیں لگا سکتے”
بھیگے لہجے سے وہ اسکا چہرہ تھام گئ ۔
سہراب نے گھیرہ سانس بھرا تھا ۔
اور اسکا مظبوط بازو اسکی کمر کے گرد حائل ہو گیا
اسنے علینہ کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔
اگر ساری دنیا مل کر بھی تمھیں چاہنے لگے گی نہ سہراب پھر بھی علینہ کی محبت کے پیمانے پورے نہیں کر سکتی ۔
تم تو بس لاڈلے ہو ۔۔۔۔ تمھیں محبت کرنی نہیں آتی مجھے علم ہے میں تم سے کبھی محبت نہیں مانگو گی مگر “
اسنے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔
مگر وعدہ کرو آج ابھی زندگی کی ہر تلخ یاد بھول کر مجھ سے پہلے کیطرح ملو گے مجھے ویسے ہی ملو مجھے ویسے ہی دیکھو میں تم سے کسی چیز کی خواہش نہیں کروں گی مگر خود میں کسی تکلیف کو قید مت کرنا شاید وہ لوگ تمھارے لائق نہیں تھے یہ وہ ماں باب کہلانے لائق ۔
سہراب نے اسکے ہونٹوں پر اپنی بھاری انگلی رکھ دی ۔
میں ان لوگوں کے بارے میں ایک لفظ بات نہیں کرنا چاہتا “
باقی جتنی بکواس کرنی ہے کر لو “
وہ بولا اور سکون سے سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
علینہ نے گھیرہ سانس بھرا وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا
میرا دل کر رہا ہے میں باہر نکلو اور یہ جو اینٹیں یہاں پڑیں ہیں ان میں سے ایک اٹھا کر اپنے سر پر مار لو کس پاگل کتے نے کاٹا تھا مجھے جو تم سے محبت کی میں نے ” وہ غصیلی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ مسکرا رہا تھا
بہت بھاری ہو تم انا” اسنے منہ بنایا
سہراب”
علینہ نے اسکے سینے پر مکے برسائے اور اسپر سے ہٹنے لگی کہ سہراب نے اسے کھینچ لیا وہ اسکے سینے سے ا لگی
سہراب اسکا چہرہ دیکھتا اپنی مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں تلے دبانے لگا۔
علینہ جو شرمانے میں مصروف تھی اسے ہونٹ دانتوں میں دبائے ہنستے دیکھ کر وہ بھڑک کر دور ہوئ ویٹ آنا ویٹ مجھے کوشش تو کرنے دو دیکھو میں آج سے پہلے اتنا کنفیوز نہیں ہوا کسی بھی لڑکی کے لیے اب “
وہ ہنسا ۔
تم نہایت چیپ ہو بے حد چیپ بیوی سے رومینس کرتے ہوئے جان جا رہی ہے باقی دنیا پر اپنا فلرٹ لٹاتے پھیرتے تھے اور بات سنو جب میں تمھاری بیوی نہیں تھی تو کیا کیا بکواس کرتے تھے”
” وہ غصے سے بولی
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو ” سہراب کو بھی لگا ۔
علینہ بڑی بڑی انکھوں سے اسے گھور رہی تھی ۔
ایکچلی تم سے کچھ نہیں ہو سکتا “
اسنے اسکی دکھتی رگ دبائے اور ہٹ کر اپنی جگہ پر جاتی کہ سہراب نے اسکے بال سر کی پشت سے جکڑے اور اسے لمہوں میں اپنی جانب کھینچتا وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا ۔
شاید دونوں ہی آگاہ نہیں تھے ۔
سہراب اپنی کاروائ میں مصروف ہونے لگا اور وقت گزرنے لگا وقت جیسے جیسے آگے بڑھنے لگا سہراب کی دلچسپی بڑھانے لگی اور اسنے ان لمہوں کو طویل تر کر کے علینہ کی جان پر بنا دی تھی وہ سانس رکنے کے باعث اس سے جھٹکا کھا کر دور ہوئ سہراب ایکدم سیدھا ہوا ۔
ٹو انٹرسٹینگ آئ تھینک یو آر ٹیسٹی ” وہ اسے سٹیرنگ پر دھکیل کر دوبارہ اسکے چہرے پر جھکا ۔
علینہ اسے انکار کسی صورت نہیں کر سکتی تھی بھلے خود کتنی ہی تکلیف میں رہتی وہ اپنی من مرضی کر رہا تھا اور جب تک اسکا دل کیا وہ اپنی مرضی کرتا رہا ۔
اور اپنی مرضی سے ہی وہ الگ ہوا تو دونوں کی سانسیں نہ ہموار تھیں
وہ گھیرے گھیرے سانس بھرنے لگی یہاں تک کے سہراب نے اسکے ہونٹوں سے کنارے سے نکلتے خون پر اپنا انگوٹھا رکھا اور اسے منہ میں چکھا ۔
علینہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا اس حد تک کہ وہ اسکی نظروں میں دیکھ نہ سکی ۔
نہ وہ مزید اسکے پاس بیٹھ پا رہی تھی اٹھنے لگی ۔
مگر سہراب نے یوں ہی دیکھتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر لی
علینہ اسکی نظروں سے بے حد پریشان ہو وہ چکی تھی یہاں تک کے پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھر گئے ۔
سہراب نے اسکی گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے اسکو سٹیرنگ پر سے ہٹا کر اپنے سینے سے لگا لیا
علینہ نے بھی اپنا چہرہ چھپا لیا ۔
ہاں اسے ڈرائیو کرنے میں مشکل ہو رہی تھی مگر اسے بس سکون مل رہا تھا اسکا پاس ہونا اسکا ساتھ رہنا سکون سا لگ رہا تھا
وہ جانتا تھا وہ اس سے محبت نہیں کرتا وہ جانتا تھا اور شاید اسکے سینے سے لگی ہوئ یہ لڑکی بھی جانتی تھی کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا
نہ وہ اسے محبت دے سکتا تھا ۔
وہ ایسا ہی تھا وہ اپنے ماضی کو ایک لمہے کے لیے یاد نہیں کرنا چاہتا تھا
یہ جان کر کے اسے کس معیار پر رکھ کر یہ انجام دیا گیا وہ بری طرح بدظن اور بدگمان ہو گیا تھا ۔
مگر وہ اسکے بنا نہیں رہ سکتا وہ اسکے بنا رہ ہی نہیں پائے گا ۔
چھ مہینے اسنے ایسے گزارے تھے کہ ہر سانس کے ساتھ اسے یاد کیا تھا ۔
اور یہ بات وہ مانتا تھا کہ اسے اسکی عادت تھی عادت بھی بہت سخت جان لیوا اور جس دن محبت ہو گئ وہ اعتراف بھی کر لے گا مگر سہراب خان اپنے وجود سے محبت کسی کو نہیں دے سکتا تھا مگر اسکی حفاظت سہراب کا اولین فرض تھا ۔
وہ فلیٹ میں اسے لے آیا تھا یہ اسکی پسندیدہ جگہ تھی ۔
سہراب ہم یہاں رہیں گے”
علینہ نے حیرانگی سے پوچھا
ہاں کیوں کیا ہوا ” وہ اندر داخل ہوتے ہوئے خوش تھا ۔
علینہ نے گہرہ سانس لیا
اس کباڑ خانے میں” علینہ افسوس سے بولی
شیٹ آپ ” اسنے گھور کر دیکھا
تو ہے یہ کباڑ خانہ” علینہ نے شانے اچکائے ۔
تم کم اوور ہو ” وہ انگلیاں اٹھا کر بولا علینہ کو مزاہ آنے لگا وہ اس کباڑ خانے کے لیے کتنا پوزیسیو ہو رہا تھا ۔
اوکے ہم یہاں رہیں گے ہیپی” وہ اسے غصے میں دیکھ کر اسکا شانہ پکڑتی بولی
ایک بات بتاؤ ” اسنے شانہ تھامے کھڑی علینہ کو دیکھا
ہمم” وہ بولی چاہت لٹاتا لہجہ تھا۔
تم اب میرے کندھے سے چیپکی رہو گی” وہ معصومیت سے پوچھ رہا تھا ۔
سہراب تم نے صرف میرا خون پینا ہے” وہ دور ہوتی بولی ۔
جبکہ اسکا قہقہہ بلند ہوا ۔
تم تم” وہ کچھ کہہ نہیں پائ
شوہر کی عزت کرو میڈیم آپ کہا کرو مجھے”
وہ شرٹ کے بٹن کھولتا بولا ۔
علینہ نے سانس حلق میں تارا ۔
مجھے تو بہت شوق تھا میں تمھیں محبت کے ہر لفظ سے پکاروں”
وہ ایک قدم دور ہوتی بولی انکھوں میں بے تحاشہ پیار تھا۔
اچھا پھر محبت کرو مجھ سے اپنی آخری سانس تک کرو تاکہ میری روح کی تڑپ ختم ہو جائے” وہ اچانک اسکی گردن جکڑتا بولا ۔
بہت قریب سے اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔
علینہ نے اسکا وہ نشان جو کبھی اسنے چھونے نہیں دیا چھوا وہ کچھ نہیں بولا تھا
وہ نرمی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
علینہ کی آنکھیں اسے بہت کچھ بتا رہیں تھیں اسنے اسے ایکدم بانہوں میں اٹھا لیا ۔
اور اسکی آنکھوں میں دیکھتا ۔
بولا
ایک بات کہوں آنا “
وہ نرمی سے بولا ۔
جی” وہ چاہت سے بولی ۔
ایک فرمائش ہے ” وہ ہلکی سی شرارت سے اسے سرخ کرتا بولا ۔
علینہ نے اسکا زخم پھر سے چھوا ۔
سہراب ایکدم بیڈ پر گیر گیا ۔
یہ زخم آج تک کسی نے نہیں چھوا تھا اور آج اسنے چھوا تو عجیب سا احساس ہوا تھا ۔
وہ جیسے چاروں خانے چیت ہو گے تھے۔
اسے دیکھنے لگا
بولیں”
وہ نرمی سے اسے دیکھنے لگی
بھول لگی ہے پاستہ بنا دو “
وہ معصومیت سے بولا
علینہ ایکدم سیدھی ہوئی
حیران پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی
بمشکل اسکی بات ہضم کی ۔۔۔
اب۔۔ابھی”
وہ دوبارہ پوچھنے لگی
وہ سر ہلا گیا
مطلب سہراب اس وقت یوں میرا مطلب ابھی” وہ پھر سے پوچھ رہی تھی
یس ” وہ ہنسی روکتا بولا
بہت لمبا ضبط بھرا سانس کھینچا تھا علینہ نے وہ لڑکی زیچ ہو گئ تھی ساری زندگی کیسے رہتی
سہراب میں واقعی جاؤں” وہ پھر سے بولی
ہاں نہ پلیز ” وہ ہاتھ سر کے پیچھے رکھتا بولا ۔
اوپن کچن تھا سامنے ہی جانا تھا اسنے
وہ اس کے اوپر سے اٹھ گئ
مٹھیاں بھینچ کر پاؤں پٹختی جانے لگی کہ اسنے بگڑی ہوئی شیرنی کو جکڑ لیا ۔
جبکہ اسکا قہقہہ فلیٹ میں گونجا تھا اور علینہ اس سے بدلا لینا چاہتی تھی مگر سہراب اسپر شدت سے حاوی ہو چکا تھا وہ خود نہیں جانتا تھا وہ اسکے ساتھ کیوں اتنا سکون محسوس کر رہا ہے کیوں اتنا خوش ہیں مگر وہ خوش تھا اسکے مل جانے پر اسکو پا لینے پر ۔
اسنے علینہ کو چند ہی لمہوں میں ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیا تھا جبکہ علینہ کی چاہت میں بھی کمی نہ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چند سالوں بعد ۔
وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا جبکہ میری فرمائش پر مجھے میری مرضی کا گھر لے کر دیا ہے اور ساتھ میری ہر خواہش پر سر جھکا دیتا ہے۔
وہ مجھ سے محبت کا لفظ نہیں بولتا تھا شاید وہ لفظ محبت سے ہی چیڑتا تھا ۔
مگر وہ میرے لیے سب کرنے کے لیے تیار تھا میرے لیے وہ میرا آوارہ مزاج سا عاشق صبح صبح اٹھ کر کام پر جاتا تھا ۔
وہ میرے ساتھ خوش تھا ۔
مگر اسکی آنکھوں میں ایک خلش تھی ۔
اور وہ خلش اس دن پوری ہوئ جب ہماری بیٹی اس دنیا میں آئ
ہاہا ہاں میری اور سہراب کی بیٹی بعض اوقات مجھے یقین نہیں آتا وہ میرا ہے وہ مکمل میرا ہے وہ اپنی بیٹی سے عشق کرتا ہے اسکی بیٹی جیسے جیسے بڑی ہوتی جا رہی ہے اسکا بچپنا ختم ہوتا جا رہا ہے ۔
وہ اپنی بیٹی سے روز “آئ لو یو ہنی ” کہتا ہے ۔
کام پر جاتا ہے تو مجھ سے فون کر کے بار بار پوچھتا ہے اور گھر آنے کی کوشش کرتا ہے ۔
شاید میں نے کسی باپ کو اسکی بیٹی سے اتنی محبت کرتے عشق کرتے جان لٹاتے نہیں دیکھا تھا
جتنا میں نے سہراب کو اپنی بیٹی ہنی پر لٹاتے دیکھا تھا وہ بلکل سہراب جیسی تھی وہ روز مجھے بتاتے تھا وہ میرے جیسی ہے وہ اسکے ہاتھ چومتا ہے وہ اسکو تنگ کرتا ہے وہ اسکے ساتھ چھوٹا بچہ بن جاتا ہے وہ اسکا باپ دوست بھائ ہر رشتہ بن کر اسے نبھاتا ہے ۔
اور وہ مجھ سے بہت سارے بچوں کی فرمائش کرتا ہے ۔
میں حیران ہو جاتی ہوں یہ وہی سہراب ہے جو ہر چیز سے چیڑ کر بھاگتا تھا ۔
مجھے اچھا لگتا ہے وہ اپنی بیٹی پر اتنا ہی جان نثار رہے اتنا ہی عشق کرے ۔
شاید اپنے دل کی محرومی کو دور کرتا ہے شاید وہ چاہتا تھا اسکا باپ یوں ہی اس سے بھی محبت کرے
پہلے مجھے لگتا تھا وہ صرف ہنی سے محبت کرتا ہے مگر جب عائث خان ہوا تو اسکی دیوانگی پر بس میں دور بیٹھ کر ہنستی ہی رہتی تھی ۔
وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اتنی ہی محبت کرتا تھا جتنی ہنی سے کرتا تھا ۔
اور دونوں بہن بھائیوں میں بھی بے لوث محبت تھی میں جانتی ہوں وہ اپنی محرومی کو ختم کر کے شاید اپنے باپ کو دیکھانا چاہتا ہے کہ بچوں کی تربیت یوں بھی ہو سکتی ہے مگر آج اسکا باپ دیکھنے کے لیے نہیں
اسکی ماں پوتا پوتی سے ملنے آتی ہے ۔
وہ سہراب سے ملنا چاہتی ہے مگر وہ نہیں ملتا اسکی بہن اس سے ملنے کے لیے تڑپتی ہے مگر وہ نہیں ملتا ۔
اور میں فورس بھی میں کرتی جو اسنے سہا ہے وہ اسے ہی پتا ہے۔
مگر میں ان لوگوں سے اچھے سے ملوں یہ اسی کے آرڈرز ہیں ۔
میں خوش ہوں بے حد اپنی زندگی میں ۔ “
اسنے ڈائیری بند کی ۔
کیونکہ وہ تینوں کمرے میں ا چکے تھے ۔
کیا لکھ رہی ہو “
سہراب نے عائث کو گود میں اٹھایا ہوا تھا
آپکے لیے لکھ رہی تھی ۔” وہ مسکرائ اسکے کہنے کے بعد وہ اسے آپ ہی کہتی تھی یہ سہراب کی فرمائش کم اسکا اپنا شوق زیادہ تھا ۔
مما پاستہ ” ہنی نے اسکی شرٹ کھینچی
ہاں آنا ہم یہ ہی کہنے آئے تھے پاستہ بنا دوں ہم تھک چکے ہیں اب”
وہ دونوں بچوں کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گیا
میں بناتی ہوں “
اسنے جھک کر ہنی عائٹ اور اپنے سب سے خاص بچے کے بالوں کو بکھیرا اور باہر چلی گئ پیچھے وہ سب پھر سے کھیلنے لگے تھے سہراب ان دونوں کے لیے چاکلیٹس لایا تھا وہ مسکرا کر ۔۔ زندگی کے اس خوبصورت منظر پر خدا کی شکر گزار ہوتی کچن میں ا گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد