52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

مراد تم نے کیا سوچا ہے اگے کے بارے میں ” شیلہ نے مراد کو فائلوں سے سر کھپاتے ہوئے دیکھا تو سوال کیا ۔ وہ ابھی باہر سے ہی آئ تھی
اور مرتضی نے فاطمہ کے لیے صاف انکار کر دیا تھا وہ اس استعمال شدہ لڑکی کو کبھی بھی اپنی بیوی نہیں بنائے گا بیوی تو کیا منگیتر بھی بنانا پسند نہیں کرے گا جبکہ مرتضی کی طبعیت سے بھی وہ پریشان تھیں اور سہراب کے آ جانے کے بعد تو اور بھی فکر لاحق تھی ۔
تبھی مراد سے ہی سوال کر لیا ۔
کس بارے میں بات کر رہی ہو “
وہ ایک فائل بند کر کے دوسری کھولتے حیران ہی تھا یہ سب اسکے باپ نے کب کیا اسے کانوں کان خبر نہ ہو سکی مرتضی اور مراد کے حصے میں تو صرف ایک ایک پلاٹ تھا جبکہ سہراب کے۔ نام اسکا باپ اپنی تقریبا ساری جائیداد اسکے نام کر چکا تھا ۔
اور یہ بات اسکے وکیل نے جب اسکے سامنے رکھی تو مراد کی پیشانی بھیگ گئ اسکی کوشش تھی کہ کسی بھی طرح سہراب تک یہ خبر نہ پہنچے وہ فائلیں پھینک کر ۔سر تھام کر بیٹھ گیا ۔
مزید اسے کیا کرنا تھا ۔
سو فیصد انھیں ان فائلوں میں سہراب کے سگنیچر کی ضرورت تھی اگر یہ سگنیچر وہ نہ کرتا اور ۔اسے اندازا ہو جاتا تو ضرور وہ سب اس گھر سے باہر ہوتے ۔
اسی بارے میں کہ یہ سہراب نامی کانٹا ہمارے بیچ سے کب نکلے گا ۔
او پلیز شیلہ” وہ بھڑک اٹھے۔
یہاں میرے ہاتھوں میں کچھ نہیں رہا اور تمھیں اپنی ہی اولاد کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے اسکے ساتھ تعلقات استوار کرو یہ ہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے نہ میرے پاس کچھ بھی ہے اور نہ ہی مرتضی کے پاس ساری جائیداد کا ستر پرسنٹ بابا سہراب کے نام کر گئے ہیں اور تیس پرسنٹ ہم دونوں کے جس میں سے پندرہ پندرہ پرسنٹ ہم دونوں کے پاس آئے گا۔ ” وہ بھڑک کر بتانے لگے
اسی لیے مجھے تمھارا باپ بے حد برا لگتا تھا ” شیلہ تپ گئ ۔
چپ ہو جاو میرا دماغ پھٹ جائے گا ۔۔ چپ ہو جاؤ “
وہ غصے سے بولے تو شیلہ اپنی جگہ سے اٹھ گئ ۔
میں کسی صورت بھی اس سے تعلقات استوار نہیں کروں گی
کیوں نہیں کرو گی کیا پروبلم ہی کیا ہے مجھے یہ بتاؤ بیٹا ہے وہ ہمارا کون سی دقت ہے اس کے ساتھ نرمی کرنے میں ” وہ شیلہ کو جھنجھوڑ کر بولے
میں نہیں جانتی میں اپنی اولاد سے ہی کیوں اتنی نفرت کرتی ہوں مجھے نہیں معلوم مجھے سمھجہ نہیں اتا اس سے اتنی نفرت کیوں اور درحقیقت اس سے نفرت تم نے کروائی ہے۔ مراد تم نے تم نے ہی یہ ثابت کیا وہ زندگی میں کبھی کچھ نہیں کرسکتا ایک نمبر کا لوزر ہے اور جس طرح تم ٹریٹ کرتے تھے اسے ۔۔ اسی طرح ہم سب سے ٹریٹ کراتے تھے مرتضی کو اہمیت زیادہ دیتے تھے ۔ اپنے گریبان میں جھانکو پھر مجھے کچھ کہنا ۔ ” وہ اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں سے ہٹا کر وہاں سے چلی گئ جبکہ مراد نے گھیرے گھیرے سانس بھرے آج بھی بیٹے کے جزبات اور احساسات کا خیال چھو کر نہیں گزرا تھا آج بھی لالچ نے جگہ بنائ ہوئ تھی ۔ وہ سمھجہ نہیں پا رہے تھے آخر ایسا کیا کریں کے یہ سب انکے اور مرتضی کے نام ہو جائے وہ سب سہراب کو حقیقی دشمن سمھجنے لگے تھے یہ فرق ہی سمجھ بوجھ سے نکل گیا تھا کہ وہ انکا حصہ ہے ۔
بس اکڑ نے اور پیسوں کی لالچ نے ان سب کے دل سے نرمی اور رحم اٹھا لیا تھا اور کہتے ہیں زیادہ پیسہ بھی کسی عزاب سے کم نہیں تو یہاں ثابت ہو رہا تھا کہ زیادہ پیسہ کیا ولیو رکھتا ہے ۔
مراد اپنے کمرے سے نکلے اور مرتضی کے پاس۔ آگئے ۔
مرتضی تیار ہو رہا تھا ۔
صبح صبح اپنے باپ کو کمرے میں دیکھ کر وہ مڑا ۔
یہ فائلیں دیکھیں ہیں تم نے” مراد نے وہ فائلیں بیڈ پر پھینکیں
ہاں دیکھ چکا ہوں ” مرتضی تلخی سے بولا ۔
اسی لیے اسکے ساتھ مٹھا پیارا ہونا پڑے گا تاکہ وہ اس جال میں پھنس کر یہ سب ہمارے نام کر دے “
میں مرتضی خان کبھی بھی اسکے ساتھ مٹھا پیارا نہیں ہو سکتا ۔ تو ڈیڈ مجھے یہ سبق نہ ہی دیں تو اچھا ہے”
وہ نفی کرتا
بولا
تو کیا کرنے والے ہو تم” وہ جانتے تھے مرتضی اتنے سکون سے تو بیٹھنے سے رہا تبھی اس سے پوچھا ۔ مرتضی مسکرا دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہراب سیدھا کچن میں آیا تھا ۔
اسکا شوٹ تھا مگر طبعیت اچھی نہیں تھی وہ چپ تھا ۔ کل سے ہی دماغ میں بس ایک سوال تھا کہ علینہ اسے بنا بتائے کیسے جا سکتی ہے ۔ اور اسکا جواب بھی اسکے پاس نہیں تھا ۔
اسے فیور ہو رہا تھا مگر اس بخار کا علاج تو کبھی کسی نے نہیں کیا تھا تبھی وہ خود ہی کچن میں ا گیا ۔ کچن میں ۔ نوشین آنٹی پہلے سے موجود تھیں ۔
آنا ابھی ابھی باہر پودوں کو پانی دینے گئ تھی جو کے کچن کے بلکل ساتھ ہی قطار میں رکھے تھے ۔
سہراب نے نوشین آنٹی سے کافی کا کہا ۔ تو وہ مڑ کر اسے مسکرا کر دیکھتی کہ اسکی سرخ نظروں سے پریشان ہو گئیں اسکے نزدیک آئیں اور ۔ اسکی پیشانی کو جیسے ہی چھوا تو گھبرا گئیں۔
بابا تم کو تو بخار ہو رہا ہے”
ہمم کافی دے دیں ” وہ بولا ۔ کل سے وہ کچھ خاص کھانے کے لیے بھی تیار نہیں تھا ۔
ارے کافی سے کب ٹھیک ہوتا ہے گلے بھی خراب ہوں گے ایک قہوا بناتی ہے آنا اس سے بنواتی ہوں ۔
کیا آپ اپنی بیٹی کا نام کچھ اور نہیں رکھ سکتی تھیں”
بار بار آنا کی پکار سے اسکے کانوں میں درد ہو رہا تھا ۔
کیوں اپکو میرے نام سے کیا دقت ہے”
وہ کچن کے دروازے میں کھڑی سوال کرنے لگی ۔
نوشین نے اور سہراب نے بیقوقت دیکھا تھا آج وہ کچھ تیار سی لگی تھی ہاں وہ بلاشبہ خوبصورت تھی مگر آج نظر کا ٹھراو چھین رہی تھی ۔
سہراب چند لمہے اسے دیکھتا رہا ۔ جبکہ نوشین نے بیٹی کو گھورا تمیز سے بات کرو ” ۔
امی میں نے تو سوال کیا ہے ” وہ معصومیت سے بولی ۔
سہراب نے جواب نہیں دیا ۔
اسنے نوشین آنٹی کی جانب دیکھا
مجھے کافی چاہیے”
وہ بولا ۔
ہٹیں۔ امی میں بنا دیتی ہوں آپکی طبعیت ویسے بھی ٹھیک نہیں”
آنا نے ماں کو ہٹایا کل سے ہی وہ تکلیف میں تھیں ۔
نوشین سر ہلا کر ابھی ہٹتی کہ سہراب کے صاف الفاظ پر آنا کو مجبورا پلٹنا پڑا ۔
مجھے آپکے ہاتھ کی پینی ہے “
وہ آنا کیطرف دیکھے بنا ہی بولا تھا نوشین آنٹی ایکدم اٹھ گئیں ۔
آنا البتہ اسکو دیکھتے ہوئے ایکطرف کھڑی ہو گئ وہ وہیں بیٹھا رہا جب تک کافی نہیں بن گئ اور کافی بنی تو گرم گرم کافی کا گھونٹ پی کر اسے بلکل اچھا احساس تو نہیں ہوا تھا مگر پہلے سے کچھ بہتر تھا ۔
وہ اپنے کام میں مگن تھا آنا اسی کیطرف دیکھ رہی تھی وہ بھی مسلسل ۔
اسنے فرینک ہونے کی کوشش کی تھی مگر ۔
سہراب تو بلکل تیار نہیں تھا ۔
اسے منہ لگانے کو
جبکہ مرتضی نے اسے بہت کچھ سیکھایا تھا اور سہراب کے بارے میں بھی بہت کچھ بتایا تھا ۔اور وہ اپنی خواہشوں اور ماں کے علاج کی خاطر تیار ہو گئ تھی ۔ پھر سہراب کچھ کچھ اسے اچھا بھی لگتا تھا ۔
اسکا اسکے بہت نزدیک انا اس دن آنا کے دل میں ابھی بھی کہیں چھپا ہوا تھا ۔
اور جب وہ سوچتی تو اسے کچھ کچھ محسوس ہوتا تھا
سہراب کافی پی کر اٹھ گیا
بیٹا دوائ لے لو ” نوشین آنٹی بولی
ہمم لے لوں گا “
وہ کہہ کر وہاں سے جانے لگا ۔ کہ نوشین آنٹی نے افسوس سے کہا
کتنے دکھ کی بات ہے کتنا جوان جہان خوبرو بیٹا ہے ۔مراد صاحب اور شیلہ میڈیم کا مگر اسے ایسے نظر انداز کیا ہوا ہے جیسے وہ سوتیلی ہو بچپن سے ہی ۔ بس بہت زیادتی کرتے ہیں ۔ سہراب بابا کے ساتھ چلو جاؤ اب یہ دوائ تم دے او وہ پی لیں گے”
نوشین آنٹی نے اسے دوائ نکال کر دی ۔
آنا ہلکا سا مسکرائی اور ۔ سر ہلا دیا ۔
ٹھیک ہے میں دے آتی ہوں ۔ ویسے امی آپکو پتہ ہے آپکے سہراب بابا کو کھانے میں کیا کیا پسند ہے”
وہ پوچھنے لگی ۔۔
ارے” وہ ہنسی
وہ تو بچپن سے ہی کھانے کے بے حد شوقین ہیں ۔ انھیں مزے دار چیزیں پاستہ تو بہت ہی پسند ہے ابھی فلحال یہ دے آؤ جاؤ اور جلدی آنا ابھی بہت کام پڑا ہے”
نوشین نے آج کا منیو دیکھتے کہا شیلہ رات میں ہی اگلے دن کا کھانے کا منیو دے جاتی تھی وہ دیکھنے لگی کہ آج کتنی ڈیشیز بنیں گی ۔۔۔ اور ڈشیز کی تعداد دیکھ کر گھیرا سانس بھر گئ ۔ کہیں بے شمار پیسے نے ۔ لوگوں کے دلوں سے خدا کا خوف اڑا دیا تھا ۔اور کہیں پیسے کی بے حد قلت لوگوں کو ترسا رہی تھی ۔
وہ کام میں لگ گئیں جبکہ آنا باہر نکلی ۔ اور اوپر جانے لگی تبھی رضا کی آواز پر ایکدم رک گئ ۔
وہ مڑی
کہاں جا رہی ہو”
رضا نے پوچھا اسوقت وہاں کوئ نہیں تھا کوئ نظر نہیں آ رہا تھا اور اگر دیکھائی بھی دیتا تو اسے کوئ فرق نہیں پڑ رہا تھس وہ صرف ایک غریب لڑکی کو ۔ فقت اپنے مطلب کے لیے کیش کر رہا تھا ۔
وہ مرتضی صاحب میں سہراب صاحب کے کمرے میں جا رہی ہوں یہ دوائ دینے “
وہ اسے دوائ دیکھانے لگی
کس لیے دوائ دے رہی ہو ” مرتضی نے آنکھیں گھما کر دیکھا
وہ انکو بخار چڑھا ہوا ہے “
آنا بولی تو مرتضی نے سختی سے اسکے ہاتھ سے دوائ کھینچ لی ۔
تمھیں میں نے اس سے ہمدردی کا نہیں کہا ۔ اپنے حسن کے جال میں اسے پھنساو میرے پاس زیادہ دن نہیں ہے آنا اور تم جانتی ہو تمھیں پیسے اسی وقت ملیں گے جب یہ دو فائلیں سائین ہو جائیں گی ۔۔ جتنا لیٹ تم کرو گی وہ تمھاری بوڑھی ماں ۔ اتنی زیادہ بیمار ہوتی رہے گی”
وہ بولا لہجے بے حد سخت تھا ۔
آنا چپ ہو گئ تھی ۔ اسے پیسے تو ہر صورت چاہیے تھے اسکی ماں کا معملہ تھا ۔
جی ” اسنے بس اتنا ہی کہا
جاؤ اب اور مجھے آج کے دن کی ریپورٹ ساری
رات میں دے کر جانا “
وہ بولا اور وہاں سے چلا گیا
قاسم کی کالز پر کالز ا رہی تھی ایک مہینہ ختم ہونے کو تھا ااور اب تک وہ کر ہی کیا سکا تھا وہ بس ہتھیلی پر سرسوں جما لینا چاہتا تھا
تبھی اسنے چن کر لڑکی اٹھائ تھی کہ سہراب جیسے لڑکیوں میں انولو ہوتا ہے تو ضرور آنا میں بھی ہو گا ۔
اور ایسے مرد ایک رات میں ہی سیدھے ہو جاتے ہیں ۔وہ آنا کے حسن کے آگے ایسی سو فائلیں بھی سائین۔ کرا سکتا تھا ۔
تبھی مرتضی نے آنا کو چنا تھا ۔
اور اگر وہ اسکو قابو نہیں کر سکی تو مرتضی کے پاس آخری ایسا حل تھا کہ آنا کے قدموں میں سہراب کو ڈھیر ہونا ہی پڑتا اگر قاسم فورس نہ کرے اسے تو وہ یہ سارے کھیل سکون سے کھیل سکتا تھا ۔
وہ باہر نکل گیا جبکہ دوائ کو دور اچھال دیا ۔
اچھا ہے بیمار ہو کر اسے مر جانا چاہیے اسکی تمداری کا کیا حق بنتا تھا ۔
آنا کا دل تو کیا کہ اسکے لیے دوائ لے جائے مگر مرتضی سے خوف محسوس ہوا تھا ۔
کہ اگر اسے پتہ چل گیا تو
مگر اسے بتائے گا کون تبھی وہ دوبارہ کچن میں آئ اور ۔ دوسرے ڈبے میں سے دوائ نکال کر ۔ وہ وہاں سے نکل گئ اسکی ماں باہر تھی نہ جانے کیا کر رہی تھی وہ باہر آئ اور سڑھیاں چڑھنے لگی کچھ ڈر بھی رہی تھی ۔
اسکے کمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے کافی بار یہ بات سوچی تھی پھر ہمت کر کے وہ نوک کرتی اندر ا گئ ۔
وہ لیٹا ہوا تھا نڈھال تھا چہرے سے ہی تھکا تھکا سا لگ رہا تھا ۔
آنکھیں بند تھیں سہراب کو اندازا ہو گیا تھا کہ کمرے میں کوئ آیا ہے ۔
آنا کو اسکی جانب دیکھتے کچھ کچھ گھبراہٹ محسوس ہوئ تھی وہ تھا ہی ایسا ۔اگر خالی کمرے میں بھی ہو تب بھی اسکا اثر چارو جانب ہوتا تھا ۔
وہ جب کچھ نہ بولی تو سہراب نے ہی سر اٹھا کرا سکی جانب دیکھا ۔
اسکی آنکھیں سرخ تھیں
وہ وہ امی نے دوائ بھیجی ہے آپ یہ لے لیں تو بہتر محسوس کریں گے”
آنا بولی۔ سہراب اٹھ کر بیٹھ گیا اسکا ٹھیک ہونا زیادہ ضروری تھا ۔
کیونکہ اسے کام پر جانا تھا ۔ وہ خود میں عجیب سی خفگی محسوس کر رہا تھا ایک سناٹا سا محسوس کر رہا تھا۔
اسنے بنا کوئ بات کیے اس سے دوائ لے لی کافی کا کپ وہ لے چکا تھا اور دوائ پینے کے بعد ۔
اسنے وقت دیکھا اور اٹھا ۔ آنا نے محسوس کیا وہ اسے ایسے اگنور کر رہا تھا جیسےوہ وہاں موجود ہی نہ ہو ۔ وہ کچھ جزبز کا شکار تھی ۔
ابھی مرتضی اسے کتنی باتیں سنا چکا تھا ۔
وہ شاور لینے جانا چاہتا تھا اپنی الماری کھول کر اسنے کئ کپڑے باہر پھینکے اور ایک اٹھا کر وہ آنا سے بلکل لاپرواہ واشروم میں چلا گیا
آنا نے گھیرہ سانس بھرا یہ کام اسکے لیے نہایت مشکل تھا ۔ اتنا مشکل کے وہ سمھجہ ہی نہیں پا رہی تھی اسے دیکھے یہ اس سے بات کرے ۔
وہ چلا گیا تو وہ وہیں رہی اور اسنے اسکا پھیلایا ہوا سامان سمیٹ دیا
تقریبا پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلا تھا ۔ اس وقت وہ صرف ٹراؤزر میں تھا اسے سامنے دیکھ کر اسکے ماتھے پر کچھ بل سے پڑے
تم اب تک یہاں ہو “
وہ بولا لہجہ سپاٹ تھا
جی وہ مجھے لگا آپکو کسی چیز کی ضرورت نہ ہو “
آنا کچھ جھجھکتے ہوئے بولی
آج بڑی زبان چل رہی ہے تمھاری
اور تمھیں کس نے کہا میں اپنی ضرورتیں تمھارے جیسے لوگوں سے پوری کرتا ہوں “
وہ ہاتھ سینے پر باندھ کر۔ اسکی صورت دیکھنے لگا جو ٹھٹکا دینے کی حد تک خوبصورت تھی اور کچھ میکپ نے بھی اسے مزید چمکا دیا تھا
آنا ایکدم اسکی بات پر
دنگ رہ گئ خوف سے اسکا چہرہ پیلا پڑ گیا اسے لگا جیسے سہراب اسکے بارے میں سب جان گیا ہو ۔ جو اسنے کہا ہے کہ وہ اسکے جیسے لوگوں سے اپنی ضرورتیں پوری کرے گا ۔
نہیں ۔وہ “
وہ دوبارہ سے کانپ اٹھی ۔
تم اپنا کام کرو جا کر مجھ پر دھیان نہ دو “
وہ خفگی سے بولا ۔ تھا
خود سے ہی خفا ہو گیا تھا جیسے ۔
کیوں آپکو دھیان کی ضرورت نہیں”
آنا نے جواب دیا ۔
سہراب نے مڑ کر اسکی شکل دیکھی ۔
ایک ہی تھی دھیان دینے والی وہ بھی جا چکی ہے سہراب کو اب کسی کی ضرورت نہیں ” سہراب نے سر جھٹکا
اب چلتی پھیرتی نظر آنا کبھی تمھیں اٹھا کر باہر پھینک دوں “
وہ کڑک لہجے میں بولا ۔
نہیں اسکی ضرورت نہیں پڑے گی میں چلی جاتی ہوں مگر “
وہ رک گئ ۔
سہراب نے مڑ کر دیکھا ۔

مگر کیا ” سہراب کو اب غصہ ا رہا تھا ۔
کچھ نہیں میں چلتی ہوں ” وہ جانے لگی سہراب کے لیے یہ بات سب سے زیادہ بھڑکانے والی تھی کہ بات کو ادھورا چھوڑ دیا جائے اور اسنے بھڑک کر آنا کا ہاتھ جکڑ لیا
کیا اگر مگر لگایا ہوا ہے اور تم کیوں مجھ سے بات کر رہی ہو “
وہ آنکھیں نکال کر بولا ۔
آپ کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے ۔ اب کوئ غصے والی تو بات نہیں کی میں نے” وہ نرمی سے بولی ۔
جاؤ یہاں سے “
وہ گھور کر بولا ۔ آنا باہر نکل گئ جبکہ سہراب دروازے کو دیکھتا رہا ۔
رہ رہ کر علینہ کا خیال دماغ کو تھام رہا تھا
ٹھیک ہے بھاڑ میں جاؤ میں کیوں سوچ رہا ہوں جب اسے ہی میرا خیال نہیں تھا جھنم میں جائے “
سر جھٹک کر اسنے سوچا اور وہ تیار ہونے لگا ۔
مگر ماتھے پر پریشانی کی لکیریں واضح تھی

وہ تیار ہو کر باہر آیا تو ۔ آنا ہی لاونج میں کھڑی تھی اسکی نظر آنا پر گئ ۔
اور ۔ دونوں کی نظریں ملی ۔ وہ اسکے سامنے جان بوجھ کر کھڑی تھی ۔تا کہ اسکی نظریں اسپر رہیں ۔
سہراب اسے دیکھ کر وہاں سے باہر نکل گیا ۔
اسنے علینہ کی گاڑی استعمال نہیں کی تھی وہ گاڑی اسنے عادل کو کہہ کر علینہ کے گھر پہنچا دی تھی اور اسنے اپنی گاڑی نکلوانے کے لیے بھی کہہ دیا تھا ۔ عادل کو اس سے پہلے وہاں جتنی گاڑیاں کھڑی تھیں اسنے ان میں سے ایک گاڑی نکال لی تھی
اور وہ سیدھا اپنے کام کو چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علینہ کو ہوش آیا تھا مگر ایک بار پھر اسے انجیکٹ کر دیا گیا تھا ۔
اسے لگ رہا تھا اسکی سانسیں بھی بمشکل ا رہیں ہیں وہ لوگ اسے ہوش میں نہیں انے دے رہے تھے مگر اس وقت یہاں کوئ نہیں تھا اور علینہ کو ہوش ا گیا تھا وہ اٹھی تو سر چکرا گیا اس کمرے کو دیکھ کر عجیب متلی سی آئ تھی اسے اسنے آنکھیں بند کر لیں بس ایک دن
میں ہی اسکی آنکھوں کے گرد حلقے ا گئے تھے اسکا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا وہ اٹھی اور دروازہ ابھی بجاتی کہ اسے محسوس ہوا کہ اسے دماغ سے کام لینا چاہیے ۔وہ جلدی سے اس کمرے کو دیکھنے لگی کیا یہاں سے بھاگنے کا راستہ ہو گا ۔ واشروم کا دروازہ کھول کر ۔ اسنے اندر جھانکا مگر یہاں سب اتنا گندہ اور عجیب تھا ۔ اور اتنی بدبو تھی کہ وہ ناک پر ہاتھ رکھ کر ۔ پریشان ہوتی دروازہ پیٹنے لگی رو رہی تھی چلا رہی تھی چیخ چیخ کر اسکا گلہ بیٹھ گیا تھا ۔
اچانک دروازہ کھلا اور نگو بائ اندر داخل ہوئ
علینہ اسے دھکیل کر وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی مگر وہ نگو بائ تھی جو عرصے سے یہ کوٹھا چلا رہی تھی اور وہ بہت اچھی طرح علینہ جیسی لڑکیوں کو ۔ سدھارنا جانتی تھی دو آدمیوں نے علینہ کو جکڑ لیا علینہ تڑپ اٹھی ان دو آدمیوں کی پکڑ پر اور نگو بائ نے علینہ کے دھکیلنے کا بدلا اسے بری طرح مار مار کر لیا تھا ۔
وہ اسکے منہ پر اسکے جسم پر اندھا دھن مار رہی تھی ۔
جبکہ علینہ کے حلق سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی اور کچھ نہ کھانے کے باعث وہ ۔ بے ہوش ہو گئ تھی ۔
اسے اس کمرے میں لے جاؤ ۔ اور تب تک کوئ چھوئے گا نہیں جب تک ہوش میں نہیں آئے گی اس کی ہمت کیسے ہوئی نگو بائ کو دھکیلے ( گالی) وہ ہھنکارتی ہوئ وہاں سے چلی گئ جبکہ وہ آدمی علینہ پر تبصرے کر رہے تھے ۔
ہنس رہے تھے علینہ زمین پر پڑی تھی ۔
شاید کسی انجان کی منتظر ۔
لیکن وقت ہر پل ایک سا نہیں رہتا۔
جاری ہے