Rate this Novel
Episode 07
دادا کی تدفین ہو گئ تو انکا غم منانے کے لیے مراد خان کے علاؤہ وہاں کوئ نہیں تھا ۔
سہراب وہاں سے جا چکا تھا مراد خان کی طبعیت بھی کچھ ٹھیک نہیں تھی مرتضی باپ کے پاس۔ آگیا
ڈیڈ آپ اسے پوری عمر یہاں رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ آوارہ آپ نے دیکھا کس طرح اس لڑکی کے گال پر جھک کر نازیبا حرکت کی ہے اسنے اپ کے سامنے اور کون تھی وہ لڑکی آپ نے پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی ۔
تم میری گود میں پلے ہو مرتضی تبھی تم۔ ویسے نہیں ہو اسے زمانے نے پالا ہے میرے ہوتے ہوئے تبھی وہ ایسا ہے”
مراد نقاہت سے بولے
یہ کچھ زیادہ ہی آپ حمایت نہیں لے رہے اسکی کہیں دادا مرنے سے پہلے آپ پر تو نہیں پھونک مار گئے سہراب کے نام کی میں آپکو صاف لفظوں میں بتا رہا ہوں کہ جو کام ہمیں اس سے ہے وہ کریں اور اسے یہاں سے جانے دیں “
وہ حتمی لہجے میں بولا ۔
میں زندہ ہوں۔ ابھی” مراد خان کو بھی اسپر غصہ آیا ۔
کہ وہ ہر بات اپنی مرضی کی چاہتا تھا یہاں تک کے گھر میں رہنے والے لوگوں کا انتخاب بھی اپنی مرضی سے کرنا چاہتا تھا
جب میں مر جاؤں تب تم فیصلے کر لینا ۔ایک بدتمیز تو دوسرا ضدی سہی اولاد ہے میری”
وہ چیڑ گئے ۔
مجھے اسکے ساتھ کمپئیر نہ کریں”
مرتضی غصے سے بول کر ۔
صوفے پر بیٹھ گیا ۔ سہراب خان اس سے برداشت نہیں وہ رہا تھا اور ہوتا بھی کیسے وہ مرتضی سے شخصیت طاقت اور اپنے انداز کے اثر میں کئ گناہ باہر تھا جبکہ مرتضی ایک برگر بوائے تھا ۔
ٹیک اٹ ایزی ابھی تمھارے ڈیڈ صدمے میں ہیں وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گے پھر ہمیشہ کیطرح سب کچھ تمھاری ہی تو مانی جاتی ہے پھر کیوں فکر کر رہے ہو
میں نہیں چاہتا وہ لوزر یہاں رہے مام لک ایٹ ہم ہی از سو کریکٹر لیس وہ سب کے سمانے جھک کر لڑکی کے گال پر کس کرتا ہے ڈیڈ کا گریبان پکڑتا ہے دادا کی تدفین میں شرکت نہیں کی ایسا انسان ہمارے ساتھ رہنے قابل نہیں ہے پہلے وہ لوزر تھا اب جنگل میں رہنے والے جانور سے کم نہیں ہے میں اسکو برداشت نہیں کر سکتا ” وہ غصے سے بول رہا تھا
نہیں رہے گا ۔ تم ریلکس ہو جاؤ پلیز” وہ اسکی پیشانی کے بال ہٹاتی بولیں
مرتضی کو کچھ تسلی سی ہوئ دوسری طرف ماہین جو کافی فرست سے سوچ میں تھی توقف سے بولی
لیکن کسی کو ایسا لگتا ہے کہ وہ وہ جیسے بہت عجیب سا ہو ۔ اسکا اثر اسکے ہوتے ہوئے چاروں اطراف میں ہوتا ہے اسکے منہ پر نشان ہونے کے باوجود وہ مرد ہو کر بے حد خوبصورت لگتا ہے”
ماہین بولی مرتضی کے مرچیں لگیں ۔
پاگل ہو گئ ہو تبھی بھکی بھکی باتیں کر رہی ہو ” مرتضی نے آنکھیں نکالیں تو وہ شانے اچکا گئ میں نے جو محسوس کیا وہ بتایا عجیب سی طاقت لگتی ہے اس میں ۔ اور وہ لڑکی جو صبح اسکے ساتھ تھی وہ کتنی خوبصورت تھی ۔ مام ۔ فاطمہ سے کہیں گنا زیادہ اور جہاں تک مجھے یاد ہے وہ بہت بڑی ڈائریکٹر ہے “
اسنے شانے آچکا کر کہا ۔
تمھاری عقل گٹھنوں میں ہے تبھی سہراب جیسے لوزر میں اچھائیاں نظر ا رہی ہیں ۔ بھلا جس کے منہ پر ہی داغ ہو وہ کیسے خوبصورت اور پرفیکٹ ہو سکتا ہے”
وہ جیسے خود کو سمھجا رہا تھا ۔
ٹھیک کہہ رہا ہے میرا بیٹا اور تم اپنی چوں چوں بند کرو تھک گئ ہو گی جاؤ سو جاؤ “
اوکے میں سونے جا رہی ہوں ڈیڈ کا خیال رکھیے گا “
وہ کہہ کر اٹھ گئ جبکہ مرتضی کے بالوں میں تادیر اسکی ماں چاہت سے ہاتھ پھیرتی رہی
مرتضی اگر سہراب یہاں رہتا بھی ہے تو میرے بیٹے تمھیں اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے تم یہ ضد مت لگانا “
تو آپ بھی اسکی حمایت کریں گی” وہ بولا
بلکل نہیں میں کیوں کروں گی اسکی حمایت میرے پاس میرا بیٹا ہے بلکل پرفیکٹ ہنڈسم فٹ لجو لوگوں کو متاثر کر لے وہ ہے ہی کیا کچھ بھی نہیں تم پھر اس سے مقابلہ مت کرو ” وہ اسے سمھجا رہیں تھیں جبکہ مرتضی نے سر ہلایا دیا تادیر وہ ماں کے پاس بیٹھا رہا اور اسکے بعد دونوں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے
سہراب چلا گیا ہے نہ”
مراد کو فکر ستانے لگی
مراد مجھے سمھجہ نہیں آتی تمھاری”
شیلہ نے غصے سے کہا
ٹھیک کہہ رہا ہے مرتضی تمھارا باپ جاتے ہوئے تم پر دم کر گیا ہے جو سہراب کی گردان اب تم نے پکڑ لی ہے ۔”
وہ سر جھٹک کر واشروم میں چلی گئ جبکہ مراد خان کی بے چینی اروج پر تھی وہ جس طرح بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے ۔ اسطرح کی کیفیت تو آج سے پہلے کبھی نہ ہوئ تھی ۔ اور معملہ بھی ایسا تھا کہ انکا بے چین ہونا بنتا تھا اگر وہ گھر میں یہ بات کھول دیتے تو ایک ہنگامہ مچ جاتا تبھی سہراب کا ان سب کے ساتھ ہونا ضروری تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علینہ نے ڈنر کرایا اور ۔ دونوں ڈنر ہی کر رہے تھے
تم اپنے گھر نہیں جانا “
علینہ نے سوال کیا جبکہ وہ خود کم کھا رہی تھی اسے زیادہ کھلا رہی تھی سہراب حالانکہ خود بھی کھا رہا تھا مگر پیچھلے سات سالوں میں وہ اسی طرح اسکے نخرے اٹھاتی آئ تھی۔ اب تو عادی ہو گئ تھی
نہیں میرے پاس فلیٹ ہے میں وہاں نہیں جانا چاہتا “
کیوں “
میرا دم گھٹتا ہے” وہ بنا کچھ چھپائے بولا ۔
مگر میرا خیال ہے جس طرح تم نے میری ناک میں دم دیا ہوا ہے کچھ عرصے اپنے پیرنٹس کی ناک میں دے دو تا کہ میں اپنے شوہر پر توجہ دوں “
نام نیہاد شوہر کا نام نہ لیا کرو “
وہ بے زاری سے بولا ۔
کیوں نہ لوں وہ مجھ پر حق رکھتا ہے اور ویسے بھی وہ مجھے انگلینڈ بلا رہا ہے”
وہ فوک پلیٹ میں گھماتی بولی
کہ اچانک ہی اسکا وہی ہاتھ سہراب نے جکڑ لیا ۔
تم شرافت سے یہی رہو گی اور مجھ سے نہ اسکی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب ہم ساتھ ہیں تو دوسرے کا ذکر مت کرنا آئندہ”
سہراب یہ انفئیر ہے”
دنیا میں بہت کچھ انفئیر ہے آنا بتاؤ کس کو سہی کرو گی”
وہ غصے میں تھا
کم از کم اسکو جو میرے بس میں ہے میں چیٹ کر رہی ہوں رضا کو ۔ مجھے گلٹ ہوتا ہے”
پتہ نہیں کس پاگل کتے نے کہا تھا منہ اٹھا کر شادی کر لو”
وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتا بولا
علینہ کی آنکھیں بھیگ گئیں
تم نے”
وہ کہہ کر اپنا بیگ اٹھا کر چلی گئ
سہراب ایکدم ہونٹ سکیڑ گیا
مگر پاگل کتا نہیں ہوں میری جان “
وہ ہنستا ہوا بل ٹیبل پر رکھ کر اسکے پیچھے آیا یہ پہلی بار ہی تھا جو اسنے خود سے بل پے کیا تھا
میرے پیچھے مت او “
وہ بھڑکی
اب تو تمھارا شوہر بھی نہیں ہے ۔ پھر کیا پریشانی ہے”
سہراب اسے چھیڑنے لگا ۔
ہو گیا “
علینہ نے بھی ہنسی روکی ۔
نہیں کبھی کیا ہی نہیں تم نے موقع ہی نہیں دیا “
وہ جان بوجھ کر اسے اپنی نظروں کے حصار میں قید کرنے لگا ۔
علینہ سانس روک گئ
اسکا کھلا گریبان اور اسکی شرٹ سے اٹھتی خوشبو ۔
وہ جیسے بے حال سی تھی اسکے بازؤں کی سخت گرفت اور انداز دلکشی اس اتنا مسرمائز کر دینے والا تھا ۔ جبکہ سہراب نے اسپر ایک نگاہ باغور ڈالی تو وہ وائیٹ شرٹ اور بلیو جینز میں برون گولڈن بالوں میں گیرے آنکھوں والی اسکی ہائیٹ کو بیٹ کرتی بے پناہ خوبصورت لڑکی تھی
ایکدم وہ اسکو چھوڑ گیا علینہ نے بھی خود کو سمبھالا ۔
یہ ظلم ہی تو تھا اسپر وہ اسکا ہو کر بھی اسکا نہیں تھا ۔
علینہ نے بال درست کیے
آنا تم گھر جاؤ گی یہ میرے ساتھ فلیٹ پر”
وہ آنکھ دبا کر پھر سے دوستانہ ماحول میں آ گیا ۔
یو اڈیٹ ڈرائیو میں کرو گی اور تمھیں تمھارے گھر چھوڑ کر میں اپنے گھر جاؤں گی”
جب مجھے نہیں جانا تو میرے پیچھے مت پڑو
اور ہاں سب سے اہم میری بات کان کھول کر سن لو تم کہیں نہیں جاؤ گی”
وہ ایسے بولا جسیے سارے حقوق کا مالک ہو اسکے ۔
مگر”
علینہ کنفیوز ہو گئ
سٹپ دس نام سینس آنا ۔ “
وہ اسکا ہاتھ کھینچ کر اسکی بات پر توجہ دیے بنا گاڑی سٹارٹ کر گیا
علینہ نے بھی جیسے چارو اطراف سے نگاہیں چرہ لی تھیں
وہ سیٹ پر بیٹھی اسے دیکھنے لگی ۔
جو ہمیشہ کی طرح رات میں بھی گاگلز لگائے بے حد حسین لگ رہا تھا
سہراب اپنے گھر چلے جاؤ ۔
دیکھو کچھ ٹائم وہاں گزار کو ان لوگوں کو احساس دلاؤ تم ان لوگوں کا حصہ ہو “
وہ اسے سمھجانے لگی
مجھے ایسے بےکار کاموں میں دلچسپی نہیں ہے آنا ۔”
وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتا بولا عادل کا میسیج آیا تھا ۔ اور وہ اب اپنی منزل کو نکلنے والا تھا ۔
تم میری بات کبھی نہیں مانتے”
علینہ نے گھورا
بے کار باتیں کرو گی تو ایسا ہی ہو گا خیر ابھی نکلو بور کر رہی ہو “
اف اف اف اف ” علینہ نے سر تھام لیا جبکہ میر سہراب علی خان کا قہقہ بلند ہوا ۔
میرا دل کرتا ہے تمھیں بھی کوئ یوں ہی زچ کرے”
وہ بولی ۔
نہ نہ تم ہو نہ ۔ تم بھی تو صبح شوٹ پر یہ ہی کر رہی تھی ۔
یہ مت کرو وہ کرو یہاں بیٹھو یہ نہ کھاؤ “
وہ بولا
تو بدلہ لے رہے ہو “
علینہ نے دروازے پر جھک کر اسکی صورت دیکھی ۔
وہ ہلکا سا مسکرایا ۔
مجھ میں ہمت نہیں”
وہ منہ میں بڑبڑایا تھا
علینہ نے گھیرہ سانس بھرا
پلیز گھر جانا”
علینہ نے اسکے بریڈز کو چھوا
سہراب نے سختی سے سٹیرنگ کو تھام لیا
ایم سوری”
علینہ دور ہو گئ
وہ وہیں کھڑا رہا جبکہ علینہ اپنے گھر کی جانب بڑھ گئ
اچانک نہ جانے اسے کیا ہوا تھا اسے جاتے دیکھا تو پیچھے سے ہارن بجایا اسنے پلٹ کر دیکھا ۔
تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی ورنہ کی زمہ دار خود ہو گی”
وہ انگلی اٹھا کر بولا ۔
علینہ ہنس پڑی
تمھیں چھوڑ کر جاؤں تو کافر ” سہراب اسکا جواب سن کر تسلی میں آتا ۔
وہاں سے گاڑی اڑا لے گیا وہ گاڑی علینہ کی ہی تھی اسکی جیپ تو نہ جا ے کہاں تھی
مگر میرا کبھی تو سوچو سہراب”وہ بھیگی نظروں سے دھول اڑتی گاڑی کو دیکھنے لگی
کبھی ، کبھی تو میرے لیے سوچو سہراب”
وہ جیسے شکست خوردہ اپنے گھر میں داخل ہو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہراب کی فائیٹ سٹارٹ ہو گئ تھی آج اسنے خوب مار کھائ تھی یہاں تک کے اسکے جسم پر کئ نشان بن گئے تھے اور جتنی مار وہ کھا سکتا تھا اسنے کھائ تھی نہ جانے سامنے والے کے موز اچھے تھے یہ وہ دو دن میں خود کو زنگ لگا چکا تھا اسکا دماغ آگ کیطرح کھول رہا تھا ۔
وہ زمین پر پڑا تھا آج ٹل ڈیتھ فائیٹ نہیں تھی تبھی وہ بچ گیا تھا
یہ میدان اسکا تھا یہاں اسکے نام کی گونج ہوتی تھی اور مراد خان سے مل کر اسکی قسمت کی ہار پھر سے شرع ہو گئ تھی
وہ مٹی کو مٹھی میں بھر گیا
نہیں ۔۔۔۔”
اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا اسکا سر پھٹ گیا تھا اسکے جسم سے خون رس رہا تھا اسکا زخم چہرے پر جو تھا روز ہرا ہو جاتا تھا ۔
مگر آج ان زخموں کی تکلیف ہی الگ محسوس ہو رہی تھی جیسے وہ پھر سے سات سال پیچھے چلا گیا ہو
اسے یاد تھا ایک بار ۔ مرتضی کو خوش کرنے کے لیے صرف اسکی اور مرتضی کی مراد خان نے لڑائ کرائ تھی وہ کمزور سا تھا اور نہ ہی لڑنا بھڑنا جانتا تھا ۔
مرتضی نے چاہت سے اپنی چاہت سے اسے بہت پیٹا تھا اور جب تک اسکی خواہش تھی وہ اسکے ساتھ لڑتا رہا تھا
اسے کسی نے نہیں بچایا تھا نہ ہی کوئ آیا تھا الٹا اسکے ماں باپ مرتضی کے جیت جانے پر خوشی کا اظہار کرتے اسے گود میں اٹھا کر گھمانے لگے تھے ۔
اس دن بھی زمین پر ہارا ہوا پڑا وہ ۔ جس ازیت کا شکار ہوا تھا آج بےساختہ وہی ازیت اسکے وجود میں سما گئ
وہ اٹھنا چاہتا تھا مگر نہیں اٹھ سکا ۔
وہ لڑنا چاہتا تھا مگر نہیں کر پایا ۔
کیوں ۔ کیوں نہیں کر پا رہا وہ ۔
کیا وہ کمزور پڑ گیا تھا
سات سال جن لوگوں کے بنا گزارے تھے آج انھیں پا کر کیا اسکے اندر کی ہوک نے جنم لے لیا تھا
نہیں”
وہ بھڑک کر اٹھ بیٹھا جگہ خالی ہو چکی تھی اسکا دوست آج پیسے ہار گیا تھا اوہ سر تھامے بیٹھا تھا
میرے بھائ نہیں کیا مطلب تھا اسکا سارا جوا ہار گیا میں کیا ہو گیا تجھے تو نے کچھ کھایا نہیں اس تلے سے ہار گیا تو ۔ یار سہراب نام ڈبو دیا اب سب اٹھ اٹھ کر ا جائیں گے ۔تو جانتا ہے لوزر لوزر کے کتنے نعرے تھے”
اچانک سہراب نے لوزر لفظ پر اسکی گردن جکڑ لی
میں لوزر نہیں ہوں آئندہ مجھے یہ لفظ نہ کہنا ورنہ گدی سے زبان کھینچ لوں گا ” سرخ خون چھلکاتی آنکھوں میں عجیب جنون لیے وہ چیخا اور
اسے دور دھکیل کر وہ وہاں سے جانے لگا
ہارا ہوا نہ کہوں تو اور کیا کہو میرا شیر جب زخمی ہو گا تو اسے ہارا ہوا کتا ہی کھوں گا نہ تو شیر ہے شیر ۔ تجھ پر پر پیسہ لگا کر کبھی نہیں ہارا میں ۔
تو مت بھول تو قلندر ہے ۔ کسی کا لاڈلا نہیں ہے مت بھول اپنی طاقت کو میر سہراب مت بھول کے اکھاڑے میں تو وحشی ہے ۔۔۔ وہ وحشی جو خون کا پیاسا ہے تیرے جنون پر لوگ پیسہ لگاتے ہیں مت بھول “
وہ سن رہا تھا ۔
اسنے اپنی شرٹ اٹھائ اور ۔
اس سے منہ پر لگا خون صاف کیا اور ۔
وہاں سے باہر نکل گیا گاڑی اسنے اپنے پورے حوش وحواس میں چلائ تھی ۔
وہ گاڑی چلا کر مرتضی منزل پہنچ گیا تھا پلیٹ پر مرتضی کا نام دیکھ کر وہ ہنس پڑا اور بغاوت سے بھرپور اس گھر میں داخل ہو گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
