52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

سہراب وٹ از دس بیہیویر کتنی اہم میٹنگ ہے آج اور تم کیا کر رہے ہو “
وہ اسکے فلیٹ نہیں کباڑ خانے میں داخل ہوئ تو وہ شرٹ لیس تھا اور اسکے مسلز علینہ دور سے ہی دیکھ سکتی تھی اسنے دو بنڈلز اٹھائے ہوئے تھے جنھیں کبھی وہ اوپر لیفٹ کرتا تو کبھی نیچے علینہ یہ منظر سانس روکے دیکھ رہی تھی سہراب نے علینہ کو دیکھتے ہی چھوڑ دیے ۔
وہ اسکے نزدیک سنجیدگی سے بڑھنے لگا
علینہ کو لگا اسکا سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہے اتنا اثر تھا ماحول میں اسکا ۔
سہراب اسکے نزدیک آیا ۔
ہائے علینہ”
وہ ہمیشہ اتنا ہی کول رہتا تھا بھلے اسکے گھر میں آگ کیوں نہ لگ جائے ۔
علینہ نے اسے غصہ کرتے ہوئے دیکھا بھی نہیں تھا
سہراب” علینہ اسکی اتنی قربت پر سٹپٹا گئ ۔
سہراب نے بنا لحاظ کے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے نزدیک کیا ۔
پاگل ہو گئے ہو ” وہ خود کو قابو نہیں کر پا رہی تھی
یو ڈونٹ وانٹ ٹو سپنڈ ود می سچ آ رومنٹک موز ” وہ اسکے کان کے قریب جھکتا بولا جبکہ علینہ نے اسکے شانے پر تھپڑ دے مارا ۔
شادی شدہ ہوں میں “
پھٹیچر سے شادی کی ہے تم نے”
وہ اس سے دور ہوتا شانے آچکا کر بولا
ہاں طاقت ور سے کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عزت بہت پیاری تھی اپنی اکثر لڑکیاں نکاح کے دن بھاگتی ہیں مجھے یقین تھا میرا دولہا نکاح کے دن بھاگ جاتا “
یو آر ٹو امپریسیو تم میرے بارے میں اتنا سب کچھ جان جاتی ہو”
وہ چیڑانے لگا ۔
شیٹ آپ سہراب میں بہت اہم بات کر رہی ہوں ” وہ غصے سے بولی ۔
کول ڈاؤن ” اسنے اسکے ماتھے پر انڈا مارا اور اسے پین میں ڈال کر بنانے لگا
سہراب” وہ چیڑ گئ ۔
سہراب نے اسکیطرف دیکھا
یہ میٹنگ تمھاری لائف بدل دے گی یار” وہ اب زیچ ہو رہی تھی ۔
مجھے نہیں بدلنی یار” وہ اسی کیطرح لفظوں پر زور دیتا بولا ۔
تو ساری زندگی اس کباڑ میں گزار دو گے” وہ بھڑکی ۔
بھئ تمھارے باپ کا کیا جاتا ہے”
وہ فریج میں سے بریڈ ڈھونڈنے لگا مگر شاید وہ نہیں تھی
تم کتنی بے مروت گرل فرینڈ ہو تمھارے بوائے فرینڈ کے پاس ایک ڈبل روٹی نہیں جاؤ زرا لے آؤ ورنہ اپنے پھٹیچر سے کہو “
وہ بولا اور انڈا ہی بنا کر کھانے لگا
سہراب میرا دل کرتا ہے بعض اوقات میں اپنے بال نوچ لوں “وہ زیچ ہو رہی تھی وہ جانتا تھا سہراب مسکرا دیا ۔
فائین “اسنے شانے آچکائے
تم ابھی ریڈی ہو کر میرے ساتھ جا رہے ہو “
وہ حتمی لہجے میں بولی ۔
مجھے تم پسند نہیں ا رہی اسوقت تم جا سکتی ہو ” سہراب نے کہا ۔
میں اپنے شوہر کو پسند ہوں تمھاری ضرورت نہیں مجھے” وہ زرا اترا کر بولی کہ اب علینہ اتنا بھی جان نہیں دیتی اسپر ۔
بہت اچھی بات ہے پھر نکلو یہاں سے “
وہ پلیٹ وہیں چھوڑ کر ہاتھ دھونے لگا ۔
سہراب پلیز” علینہ کے پاس آخری حل یہ ہی تھا ۔
یار تم مجھے آزادی سے جینے کیوں نہیں دیتی”
سہراب نے ہاتھ چھڑایا اور بیڈ پر گیر گیا ۔
اسے تم آزادی کہتے ہو مجھے تو لگتا ہے تم آزاد نہیں قید ہو کہیں کسی بھی طرح۔۔۔۔ میں نہیں جانتی مگر صاف دیکھتا ہے کوئ بھی نارمل انسان اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھتا ہے وہ تمھاری طرح کا رویہ نہیں رکھتا تم یہ تو یہ سب جان بوجھ کر خود کے ساتھ کرتے وہ یہ تم انوکھے انسان ہو “
وہ اسکی شرٹ زمین سے اٹھاتی چیخی جو پاؤں میں الجھ رہی تھی
آئ وانٹ ٹو سلیپ جاؤ گیٹ آؤٹ”
وہ تکیوں میں منہ دیتا بولا
ہاں پتہ ہے مجھے تم کتنا سوتے ہو صبح چار بجے بھی اون لائین تھے “
تم کیا کر رہی تھی اس وقت” وہ سر اٹھا کر اسکی صورت دیکھنے لگا
جبکہ علینہ آنکھیں غصے سے چھوٹی کرتی اسے دیکھنے لگی
اب تم شرافت سے اٹھ جاؤ اس سے زیادہ نہیں ہو رہے مجھ سے
تمھاری ترلے ” وہ بولی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا علینہ مسکرا دی
کچھ شرائط ہیں میری ۔” وہ بولا
مجھے سب منظور ہیں” علینہ نے جلدی سے کہا ۔
میری بریڈز ختم ہیں وہ لا کر دینی ہے تم نے انڈے اور پاستہ “
علینہ کھل کر ہنسی
مجھے لگتا ہے تم میرے دوست نہیں بس اٹھائیس سال کے بچے ہو ” وہ ہنس رہی تھی
شیٹ آپ ” سہراب نے سر جھٹک کر واشروم جانے کا سوچا
کیا تمھیں مزید کچھ چاہیے” وہ بولی
آئسکریم “
وہ ہنسی روک گئ
اوکے ویسے اتنے پیسے تم کما لو گے کہ تم یہ سب خود خرید سکو “
علینہ نے اسے یاد دلایا وہ بنا کچھ بولے واشروم میں چلا گیا ۔
جب وہ فریش ہو کر نکلا تب تک علینہ اسکے کباڑ خانے کو کچھ سنوار چکی تھی
سہراب نے بلیک کلر کی شرٹ ڈالی اور بلیک ہی جینز پہن کر بالوں کو سیٹ کیا اور اسکے بعد اسنے پرفیوم لگا کر گاگلز لگائے تو وہ اتنا شاندار لگ رہا تھا کہ علینہ بس سانس روکے دیکھتی رہی کاش کاش وہ مان جاتا تو آج اسکی دوست سے زیادہ اسکے لیے کچھ اور ہوتی مگر نہیں اسنے کبھی نہیں ماننا تھا گاگلز لگانے کے بعد اسکے چہرے کا نشان چھپ گیا تھا وہ بلکل پرفیکٹ ہیرو میٹریل لگ رہا تھا
علینہ بہت خوش تھی سہراب اپنی جیپ جبکہ علینہ اپنی کار میں ڈائیریکٹر کے پاس پہنچے تھے۔
سہراب بنا انتظار کیے سیدھا اس ڈائریکٹر کے سر پر سوار ہو گیا تھا
علینہ نے گھبرا کر اسے باہر کھینچا
پاگل ہو گئے ہو “
وہ گھورنے لگی
تو مجھے یہاں انتظار کرانے کے لیے لائ ہو جب تم نے کہا تھا وہ مجھ سے ملنے کے لیے بے تاب ہے تو ملے اب “
وہ بولا انداز لاپرواہ تھا جیسے کوئ بھی مینرز اسکی ڈکشنری میں نہ ہوں اور وہ تو خلائ مخلوق ہے تو لوگوں کو اس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا ۔
سہراب وہ اس وقت کے سب سے بڑے ڈائریکٹر ہیں تمھیں تھوڑا تو لحاظ رکھنا چاہیے”
اوکے علینہ۔ ” وہ باہر دیکھنے لگا شیشیے سے باہر لمبے لمبے درخت جھول رہے تھے ۔
اسنے کافی عرصے بعد نیچر پر گھور کیا تھا نہ جانے کیوں یہ درخت ایسے جھومتے اچھے لگ رہے تھے ۔
علینہ جبکہ اسکی فرمابرداری پر حیران ہوتی اندر بات کرنے لگی ۔
اور تقریبا پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد ڈائیریکٹر نے انھیں اندر بلا لیا تھا ۔
وہ اندر گیا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا ۔
ڈائریکٹر نے اسکا انداز بے نیازی غور سے دیکھا تھا
گاگلز ہٹاؤ ” وہ بولے تو سہراب نے آنکھوں پر سے گاگلز ہٹا دیے
یہ یہ چوٹ کیسے لگی”
ماتھے پر تیوری ڈالے وہ سوال کرنے لگے علینہ سٹپٹا کر اٹھی
سہراب نے بس علینہ کو ایک نظر دیکھا تھا
سر میں نے آپکو تصویر دیکھائی تو تھی”
علینہ بولی
ہاں تصویر تو میں نے دیکھ لی جنرلی جاننا چاہ رہا ہوں ” وہ بولے اور سہراب کا چہرہ دیکھ رہے تھے یہ عجیب حیران کن سی بات تھی چہرے پر واضح نشان کے بعد بھی وہ اتنا خوبصورت دیکھ رہا تھا اصل اسے جاننے اور ایسے دیکھنے کی وجہ ہی یہ تھی کہ
وہ بجائے ایمپرفکٹ ہونے کے بھی پرفیکٹ لگ رہا تھا
سہراب ادھر ادھر دیکھنے لگا
سر ایک منٹ”
علینہ ڈائریکٹر کو اپنے ساتھ لے گئ سہراب البتہ اب بھی ان جھومتے درختوں کو کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا ۔
میں آپکو بتا رہی ہوں یہ چہرہ ہمیں جتنا پروفٹ دے گا آج سے پہلے اتنا پروفٹ نہیں ملا ہو گا آپکو آپ یہ ایمپرفیکٹ چہرہ پورے پرفیکٹ کنفیڈنس سے انٹرویوز کرائیں یہ آپکے لیے لکی ثابت ہو گا آئ ایم شیور”
علینہ کی آواز ا رہی تھی حالانکہ وہ اپنے بقول دور لے گئ تھی ڈائیریکٹر کو مگر آواز واضح ا رہی تھی سہراب کے لب مسکراہٹ میں ڈھل گئے
مطلب پرست دنیا میں مطلبی لوگوں کا ایک انبار ہے۔۔۔ ڈھیر لگا ہے مطلبیوں کا اور علینہ ان میں سے ایک تھی اسکا فائدہ تھا سہراب کا چہرہ ۔۔ اور وہ کیش کرنا چاہتی تھی بس اسی لیے سہراب کے آگے پیچھے تھی وہ بےزاری سے اٹھا ۔
ڈائریکٹر شاید مان گیا تھا تبھی وہ کہہ رہی تھی کہ وہ اس کیٹلاگ میں ففٹی پرسنٹ کی پارٹنر بنے گی ۔
بحث و مباحثہ کافی دیر چلتا رہا سارا سہراب سن رہا تھا ۔
اور اسکی نگاہ باہر ہوا سے جھومتے درختوں پر تھی ۔
آپ شاید جانتے نہیں سکندر سر کی کیٹلاگ آج سے تین سال پہلے کی تھی سہراب نے۔۔۔۔ آج تک انڈسٹری میں سہراب کا چرچا ہے فرق بس اتنا ہے کہ وہ کام نہیں کرتا یہ بھی آج وہ زبردستی آیا ہوا ہے “
علینہ نے کہا اور کچھ دیر خاموشی چھا گئ تو وہ دونوں باہر نکل آئے ۔
سو میر سہراب علی خان میں نے تمھیں سلیکٹ کر لیا ۔ “
وہ چپ ہو گئے شاید امید کر رہے تھے کہ وہ باقی لوگوں کیطرح آگے بڑھ کر عقیدت سے انکا ہاتھ تھام کر مشکور ہو گا انکا شکریہ ادا کرے گا ۔
مگر وہ بلکل سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا رہا ۔
پیسوں کی بات ہو جائے”
اسنے گھیرہ سانس بھر کر ڈیل کرنے کی سوچھی
سہراب میں فائنل کر لوں گی وہ سب “
علینہ نے کہا وہ دونوں طرف کول رکھنا چاہتی تھی معملہ ۔
تو تمھیں ہی سلیکٹ کر لیتے پھر یہ” سہراب دوبارہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا گیا ۔۔۔
علینہ نے ایکدم زبان دبا لی ۔
اوکے کرو کتنا پیسہ چاہیے تمھیں” ڈائریکٹر نے کہا تو ۔
سہراب نے آنکھوں پر سے گاگلز اتارے ۔
دو کروڑ اسی لاکھ ” وہ مزے سے ایسے بولا تھا جیسے دو روپے مانگ رہا ہوں ڈائریکٹر کو اچھو لگا تھا وہ گلاس ایکطرف رکھ کر اسکی شکل دیکھنے لگا ہنسی بھی نہیں آئ تھی کہ وہ ایسا نہیں لگتا تھا کہ اسکا مذاق بنایا جاتا کہ پہلی بار ا کر وہ کیسی ڈیمانڈ کر رہا تھا ۔
ڈائریکٹر نے علینہ کیطرف دیکھا علینہ خود حونک تھی ۔
سہراب”
میری طرف سے بات اتنی ہی ہے اگر تیار ہو تو کام شروع ہو جائے گا ورنہ میں چلتا ہوں “
وہ کہہ کر دوبارہ گاگلز لگا کر وہاں سے اٹھ گیا اور اسکی جیپ کی آواز اندر تک آئ تھی گویا جا چکا تھا یعنی اسکے نزدیک سامنے بیٹھے ڈائریکٹر اور اسکی فرینڈ کی اتنی ولیو تھی
علینہ پر ڈائریکٹر نے بھڑک کر اپنا زلزلہ نکالا سر بلیو می ہم اس سے زیادہ کما لیں گے اس چہرے سے ” وہ اسے سمجھانے لگی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مراد غصے سے اپنے کمرے میں داخل ہوئے
انکی بیوی بیڈ پر بیٹھی تھی ۔
کیا ہوا ہے غصے میں ہیں” وہ بولیں
وہی ابا جان کی رٹ سہراب کو بلاؤ سہراب کو بلاؤ اب بھلا
پوچھو کہاں سے لاؤ انکے لئے سہراب ” وہ غصے سے بیٹھ گئے
دیکھیں اباجان آج ہیں کل نہیں آپ اتنی توجہ نہ دیں” وہ لاپرواہی
سے اسکے شانے پر سر رکھتی بولی
نہیں سوئیٹ ہارٹ اباجان کی طبعیت ناساز ہے حالات ایسے نہیں
کہ میں لاپرواہ ہو جاؤں ” انھوں نے فکرمندی سے کہا تبھی ۔۔ و
ہ گھیرہ سانس بھر گئ ۔
اچھا ریلکس ہو جائیں “
ریلکس نہیں ہو سکتا نہ مجھے سہراب کو ڈھونڈنا پڑے گا ” وہ
فکرمندی سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے
اسکے ماں نے اکتا کر اپنے شوہر کو دیکھا اور لیٹ گئ
ماں باپ اور سب کے بارے میں سوچتے رہے “
وہ بھڑک کر بولتی لیٹ گئ جبکہ وہ اس ٹنشن میں تھے کہ سہراب
کہاں سے آئے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرتضی تیزی سے گھر کے اندر داخل ہو رہا تھا کہ اچانک اسکی کسی سے زبردست ٹکر ہوئ اور جو کچھ سامنے والے کے ہاتھ میں تھا وہ زمین بوس ہو گیا جبکہ مرتضی نے غصے سے اپنے قدم پیچھے لیے
یو نونسینس نظر نہیں آ رہا تمھیں۔۔۔ میں آ رہا ہوں تو راستہ چھوڑ دو ۔ ” وہ چیخا ۔
سوری سوری مرتضی صاحب ” وہ نرمی سے بولی ۔
جبکہ مرتضی نے ایک منٹ کے لیے چونک کر آواز سنی تھی ۔
سر جھکا ہوا تھا سر پر دوپٹہ تھا اور اوٹ تھی دوپٹے کی تبھی صورت پر نگاہ نہیں پڑ سکی تھی ۔
جاؤ ” وہ کچھ نرم ہو گیا ۔
وہ سر ہلا کر اپنی کتابیں سمیٹتی بھاگ اٹھی ۔
جبکہ مرتضی وہیں کھڑا دیکھ رہا تھا ۔
یہ آواز اسے اچانک احساس ہوا کہ اسنے اپنی زندگی میں اتنی نرم آواز نہیں سنی تھی وہ اندر بڑھا ۔
اور اپنے کمرے میں ا گیا مگر آواز کا سحر موجود تھا اب بھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
وہ بلاوجہ جیپ روڈ پر گھماتا رہا تھا ۔
اور جب وہ گھر پہنچا علینہ پہلے سے موجود تھی اسنے ایک نگاہ علینہ پر ڈالی ۔
اور شیلف سے اپنی پسند کا مشروب اٹھا کر وہ ٹیبل پر رکھ کر
گلاس میں ڈالتا ایسے پینے لگا جیسے وہاں اس فلیٹ میں اس کے
علاؤہ کوئ اور نہ ہو علینہ۔۔۔ اسکے سامنے ا گئ
دو کروڑ بہت بڑی رقم ہے سہراب” علینہ نے اسے احساس دلایا ۔
جب وہ مان گیا ہے تو تم اپنا پروفیٹ رکھنا چاہتی ہو جو مجھ سے
بحث کر رہی ہو ” وہ ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگا ۔
علینہ زرا جزبز سی ہوئ
تمھیں کیسے پتہ چلا وہ مان گئے ہیں” علینہ اسکے ساتھ بیٹھ گئ ۔
میرا موڈ نہیں تم سے بات کرنے کا فلحال تم جاؤ “
سہراب نے زرا چیڑ کر کہا ۔
کل صبح چھ بجے ریڈی رہنا ۔”
جاگ گیا تو ضرور آؤ گا ” اسنے گلاس سے بڑا گھونٹ بھرا نہ جانے اس وقت علینہ کی دلی کیفیت اسکے لیے کیا تھی اسکی شرٹ کے فولڈ بازو اور کھلا گریبان علینہ اسکی جانب بری طرح متاثر ہو رہی تھی جو اپنا اثر چاروں جانب چھوڑ دیتا تھا مگر خود سے آشنائی ہی نہیں تھی ۔
وہ سرخ مشروب پی رہا تھا آنکھیں بھی سرخ ہو رہیں تھی ایسا معلوم ہو رہا تھا وہ بہت دل سے پی رہا ہے اور انجوائے کر رہا ہے
علینہ کے پاؤں اگر اسکی شادی نے نہ باندھے ہوتے تو یقیناً وہ اس وقت بے ایمان ہو جاتی اسپر ۔
اور نہ جانے کیا کر بیٹھتی ۔۔
وہ پلٹ گئ اسکے فلیٹ سے باہر نکل گئ اسکے نکلتے ہی سہراب نے بند دروازے کی جانب دیکھا تھا ۔
اسکے منہ سے پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئ
دنیا کتنی بڑی ڈرامے باز تھی اپنے مطلب اپنے نفس کی خواہش کے لیے وہ اسپر رال ٹپکا رہی تھی اور اسکے چہرے کو کیش کر رہی تھی ۔
اسنے سر جھٹکا اور سر پیچھے صوفے پر گیرا دیا ۔
اسکا دل دھڑکتا تھا یہ نہیں وہ نہیں جانتا تھا کبھی آواز ہی نہیں سنائ دی تھی ۔
چھت کو یوں ہی کافی دیر گھورتا رہا ۔
اور جب وہ اکتا گیا اور گھبراہٹ سی بھڑنے لگی تبھی اسنے اٹھ کر ٹیرس پر جانے کا سوچا وہ خاموشی سے ٹیرس پر ا گیا
اسکے ارد گرد گھیری خاموشی تھی یہ روز ہی ہوتی تھی مگر پھر بھی یہ خاموشی اسکے عصابوں کو جھنجھوڑ دیتی تھی اسنے ایک آخری گھونٹ بھرا اور موبائل اٹھا کر اپنے ایک دوست کو کال ملا لی ۔
آج تم نے کوئ پلین نہیں بتایا ۔” وہ پوچھ رہا تھا
پلین تو ہے برو تمھارے زخموں کی وجہ سے سوچا نہ بتاؤ “
دوسری طرف سے بتایا گیا
بکواس مت کرو بتاؤ کہاں پہنچنا ہے”
وہ جلدی سے اپنی شرٹ اتارتا بولا ۔
جبکہ دوسری طرف سے قہقہہ نکلا
کیا تجھے سکون ملتا ہے میرے بھائ پیٹ کر اور سامنے والے کی ہڈیاں توڑ کر “
عادل ہزار بار کا سوال اس سے پھر سے کر رہا تھا ۔
مجھے لوکیشن سینڈ کرو “
جواب سننے بنا اسنے اپنا لباس تبدیل کیا اور جلدی سے لوکیشن ٹریس کرتا وہ اس جگہ پہنچنے کے لیے بے تاب تھا جہاں اسکو سکون ملتا تھا یہ وہ جگہ تھی جہاں اسکا سکون چھپا تھا یہ فائیٹ ہی اسکا آکسیجن تھی اگر وہ اس طرح زندگی جیتا جس طرح باقی سب کا کہنا تھا تو جلد مر جاتا تبھی وہ اسی طرح جی رہا تھا جس طرح وہ زندہ رہ سکتا سہراب کے جاتے ہی اسکے چاہنے والے کا شور چاروں اطراف میں گونج اٹھا اسنے بالوں میں ایک ہاتھ پھیرا اور ماتھے پر سرد رومال باندھ لیا ۔
سامنے دیو ہیکل مرد تھا جو سب کو ہرا چکا تھا اور بہت پیسہ بنا چکا تھا۔۔۔
شور چاروں جانب تھا سہراب اس میدان میں ہمیشہ کیطرح اپنی جان کی پرواہ کیے بنا ٹل ڈیتھ فائیٹ لگا کر اتر چکا تھا ۔
عادل نے وہاں سب سے پیسے اکٹھا کرنا شروع کیے اور سہراب اس آدمی پر ایکدم تل پڑا مگر سامنے بھی کوئ عام انسان نہیں تھا ۔
اسنے سہراب کو بری طرح پیٹنا شروع کر دیا یہاں تک کہ اسکے زخم کھل گئے اور وہ زخمی ہو گیا مگر یہ زخم سکون بھرے تھے وہ ہنس دیا
اگر اسے کبھی غصہ آتا تو شاید وہ نارمل لگتا جہاں ایک جنون اٹھنا چاہیے تھا وہاں وہ ہنس رہا تھا
انجواۓ کر رہا تھا اس آدمی نے سہراب کو پھر سے غصے سے مارنا شروع کر دیا سہراب پر لگنے والی ہر چوٹ وہاں کھڑے اسکے چاہنے والوں کو غمگین کر رہی تھی اور جیسے ہی اس آدمی کا ہاتھ اسکے آنکھ کے قریب موجود زخم پر لگا ویسے ہی اسنے وہ ہاتھ جکڑ لیا ۔
اور اسکے بعد سہراب کے نام کی گونج دور دور تک سنی جا سکتی تھی ۔
اتنی دور تک اسکے نام کی پکار تھی کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے اسنے اس آدمی کا وہی ہاتھ توڑ دیا تھا اسکی پھسلیوں پر اتنا مارا تھا کہ اسکی پھسلیوں ٹوٹنے کی آواز سنائ دے رہی تھی وہ اتنا وحشی ہو چکیا تھا کہ لگتا تھا ٹل ڈیتھ آج پوری کر کے رہے گا مگر وہ ہمیشہ کی طرح اس آدمی کی بیوی تڑپتی ہوئ سہراب کے قدم جیسے ہی تھامنے لگی سہراب نے پاؤں دور کھینچ لیا ۔
اسنے خون اپنے چہرے سے صاف کیا اور ایک بار پھر وہ اس آدمی کو ویسے ہی چھوڑ کر وہاں سے باہر نکال تو ہلکی سی مسکان تھی
اسکے دوست اسکی بہادری پر مر مٹنے کو تھے اور ایک شخص نے
نفرت سے یہ منظر دیکھا تھا ۔
مجھے یقین تھا تم لوزر ہی رہو گے ساری زندگی
تم زندگی میں کچھ نہیں کر سکے سہراب خان بلڈی لوزر ۔”
وہ نخوت سے کہتے وہاں سے ہٹ گئے تھے
نہ ہی اسکے نکلنے والے خون کی تڑپ تھی اور نہ ہی کوئ اور جزبہ
بس اتنا ہی کہ وہ ڈس آ پوائنٹ ہوئے تھے اتنے عرصے بعد بھی
بلکل ویسا ہی تھا وہ
نہ کچھ پہلے کر سکا تھا اور نہ آج کر سکا ۔
وہ نفرت سے اسکی جانب دیکھ کر وہاں سے چلے گئے تھے جبکہ دوسری طرف وہ اپنی جیپ کی جانب بڑھ رہا تھا ۔
اسکا مظبوط اونچا جسم اور قدو قامت اور اسپر اسکے چہرے پر جس قدر سرد مہری تھی ۔
پتہ دے رہی تھی جیسے کچھ چھپ رہا ہے اسکے اندر ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continued .