Rate this Novel
Episode 04
وہ واپس لوٹ آیا تھا اسکے زخموں میں سے خون رس رہا تھا اسنے آنکھیں بند کرنا چاہیں مگر شاید خود کو اتنی رعایت نہیں دی تھی ۔
اسنے دوبارہ آنکھیں کھولیں اور وسکی کی بوتل اٹھا کر اسنے ساری بوتل اپنے چہرے پر الٹ تھی ۔
سرخ مشروب اسکے چہرے اور اسکے وجود پر بہنے لگا ۔
اور ساتھ ہی ساتھ اس مشروب میں خون کا ذائقہ بھی گھل مل گیا تھا شراب زخموں سے نکلنے والے خون کو روکنے کے کام آئ تھی
وہ صوفے پر پھر سے گر گیا گھیرہ سانس بھرا تھا ۔
ابھی وہ اٹھتا ہی کہ اسکے گھر کا دروازہ بجنے لگا
اسے یاد آیا عادل ہو گا آج جتنا پیسہ کمایا تھا وہ اسنے اسے دیا نہیں تھا وہ اٹھا اور اپنے ہاتھ پر لگی چوٹ دیکھتا دروازے تک گیا اور اسنے بنا پیچھے دیکھے دروازہ کھول دیا ۔
پیسہ رکھو اور دفع ہو جاؤ “
سہراب نے ٹیبل پر سے سامان اٹھا اٹھا کر پٹخا شاید فرسٹ ایڈ ڈھونڈ رہا تھا
لوزر”
اچانک اسکے کانوں میں آواز سنائ دی یہ وہ آواز تھی جو وہ لاکھوں کروڑوں میں بھی پہچان لیتا یہ آواز اسے چین سے سونے نہیں دیتی تھی یہ آواز اسکے اندر دل نامی کسی چیز کو پتھر کا کر چکی تھی ۔
یہ آواز کبھی بھول نہیں سکتا تھا
بل کھا کر مڑا اور مقابل کھڑے مراد خان کی آنکھوں میں دیکھنے لگا وہ اب بھی ویسے ہی تھے بلکل پرفیکٹ بلکل پہلے کیطرح اچھے مہنگے کپڑے اور جتنے مہنگے کپڑے اتنی ہی مہنگی انا ۔۔۔۔ شاید پیچھلے سات سالوں میں اسنے اپنی رگوں میں خون دوڑتا محسوس کیا تھا مگر اس وقت اسے لگ رہا تھا اسکی رگوں میں آگ دوڑ رہی ہے جو اسکے وجود کو تکلیف سے دھورا کر رہی ہے سہراب نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔
بلکل ویسے کے ویسے ہو زندگی میں کچھ نہیں کر سکے گھر سے فرار ہونے کے بعد اکھاڑوں میں لڑ رہے ہو پہلے سے ہی برباد چہرے کو مزید مار دھاڑ کے بعد اور حسین کر رہے ہو اور واہ کس عالیشان جگہ پر رہ رہا ہے مراد خان کا بیٹا ۔ “
وہ بولے انکے لہجے میں نخوت تھا غصہ تھا جیسے اسکی بربادی دیکھ کر وہ بھڑک اٹھے ہو
ایکدم اسنے اپنا مظبوط ہاتھ اٹھایا تھا وہ مراد خان کے سامنے کھڑا اس وقت اتنا طاقتور لگ رہا تھا کہ اگر چاہتا تو اپنی ہر اذیت کا بدلہ لے کر وہ کچھ کر جاتا جو شاید ایک بیٹے پر زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ باپ کے ساتھ کرے ۔
کیوں آئے ہو ” وہ دانت پیس رہا تھا اسے سالوں بعد غصہ خود میں انکی شکل دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا مگر پھر بھی وہ چپ کھڑا تھا وہ برداشت کر رہا تھا ۔
نہ چاہتے ہوئے بھی تمھیں لینے اور شاید تمھیں لیے بنا جاؤں بھی نہ کیونکہ میرے پاس اسکے علاؤہ کوئ راستہ نہیں ہے “
وہ بےزاری سے بولے جبکہ سہراب خان ہنس دیا ۔
ہنستا ہنستا وہ صوفے پر ایکدم دھڑم سے گرہ ۔
مراد خان سات سال بعد بھی ویسے ہی بولتے ہو مگر سمجھہ یہ نہیں ا رہی کہ ایسی کیا مجبوری ا گئ جو اپنے شاہی محل سے نکل کر میری دنیا میں جھکنا پر رہا ہے آپکو ” وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے انھیں دیکھنے لگا ۔
وہ ٹانگ جھولا رہا تھا
مراد خان اسکے رویے پر غصے سے بھڑکے ۔
تمھارے دادا بستر مرگ پر ہیں تمھیں یاد کر رہے ہیں سات چلو میرے ۔۔۔ شاید تم بہتر اور انسانوں والی زندگی گزار لو یہ جانوروں سے بھی بدتر ماحول میں رہ کیسے رہے ہو “
وہ بولتے ہوئے اسکے فلیٹ پر حقارت بھری نگاہ ڈالنے لگے
جہاں ہر طرف کباڑ ہی تھا ۔
سہراب حیران ہوا کافی عرصے بعد وہ چونکا تھا ۔
اور بھلا دادا یہ لفظ اسکی پہچان سے باہر تھا سہراب خان کو یاد کرنے کی وجہ کیا تھی ۔
میں کہیں نہیں جاؤں گا آپ یہاں سے جا سکتے ہیں اور کوشش کریے گا دوبارہ اپنی شکل مجھے نہ دیکھائیں”
سہراب تمیز مت بھولو “
میرے پاس تمیز نام کی کوئ چیز نہیں ہے مراد خان اور تمیز تہذیب تو آپ جیسے شان دار اور عالیشان لوگوں پر جچتی ہے مجھ پر نہیں تو بہتر ہو گا میری طرف نہ دیکھیں ” دوبارو جواب دے کر وہ اپنے بیڈ پر گیر گیا اور اسنے تکیہ منہ پر رکھ لیا ۔
گویا جتا دیا ہو وہ اب ایک لفظ ان سے نہیں بولے گا جبکہ دوسری طرف مراد خان کا تو خون ہی کھول گیا تھا وہ وہاں سے نکل گئے ۔ جبکہ سہراب نے انکے نکلتے ہی تکیہ منہ پر سے ہٹا لیا ۔
اسے لگا اسکا سر شدت سے درد کر رہا ہے اکثر اسے مئیگرین کا درد ہوتا تھا وہ ایک جھٹکے سے اٹھا تھا اسکا آدھا سر بری طرح درد کر رہا تھا ۔
اسنے سارا سامان الٹ پلٹ کر کے پھینک دیا تھا مگر اسے وہ دوائ نہیں ملی تھی جو وہ لیتا تو اسکے درد میں کمی ہوتی
اسنے ایک اور وائین کی بوتل کھولی مگر شراب سے بھی درد کم نہ ہوا
وہ ایکدم زمین پر گیر گیا ۔ ۔
اسے دوائ چاہیے تھی اسکا سر پھٹ رہا تھا ۔
وہ سمجھہ نہیں پا رہا تھا اسے کیا ہو رہا ہے یہ پھر سمجھنا نہیں چاہتا تھا
مراد خان اب بھی ویسے ہی تھے سات سال بعد بھی اس سے اتنے ہی بےزار اور لاپرواہ بعض اوقات تو اسکا دل کرتا تھا اتنا مارے اتنا مارے اور چیخ چیخ کر سوال کرے کہ اسے پیدا کرنے کی کیا وجہ تھی۔
جب نفرت اسکے وجود میں ڈالنے تھی اسنے کہا تھا اسے پیدا کیا جائے کیا اسکا شوق تھا یہ جو ہر عذاب کو اسے ہی سہنا تھا وہ بھی اتنی معصوم عمر سے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے واہ سہراب خان صاحب سو رہے ہیں اور وہاں ڈائریکٹر نے میرا دماغ کھا لیا ” علینہ نے ایکدم اسکو زمین پر پڑا دیکھا تو تکیہ اٹھا کر اسکے منہ پر دے مارا
یہ عام بات تھی وہ گھبرائ نہیں تھی وہ اکثر نشے کی زیادتی کی بنا پر گیر جاتا تھا تو زمین میں ہی ملتا تھا مگر آج بات کچھ اور تھی اگر علینہ اسکے وجود کے بجائے اسکے اس دل سے محبت کرتی ہوتی جسے اسنے نا جانے کتنی بار مار مار مار کر اسے اتنا کڑوا اور سخت کر لیا تھا کہ اب احساس نام کی کوئ چیز نہیں رہی تھی اس میں ۔
تو وہ ضرور اسکا چہرہ دیکھ کر جان لیتی کہ گزشتہ شب نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں ۔
وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ایک لفظ کی بازگشت بار بار سنائ دے رہی تھی لوزر “
وہ ہنس دیا بیٹھے بیٹھے ہنسنے لگا ۔
لوزر ۔” یہ وہ لفظ تھا جو وہ زندگی میں سے نوچ کر پھینک دیتا ۔ تب بھی شاید اسکے منہ پر مار دیا جاتا
کیا ہوا ہے تمھیں اب بیٹھے کیوں گھور رہے ہو خود کو ” وہ اسکے سامنے ا کر بیٹھ گئ
لک ایٹ دس سہراب لک ایٹ دس ۔۔۔ تم اٹھائیس سال کے لڑکے ہو خوبصورت ہو اور بے انتہا خوبصورت ہو لیکن مجال ہے تم کہیں سے بھی انسان لگتے ہو ۔”
علینہ اردگرد اسکی توجہ دلا رہی تھی کہ وہ اس فلیٹ کا کسی حال کر چکا ہے ۔
کیا کام ہے” وہ سوال کرنے لگا
مسٹر سہراب گھڑی میں وقت دیکھا تمھارا وقت ہو چکا ہے کہ تم ڈائریکٹر کے پاس جاتے مگر تم عجیب انسان ہو “
وہ گھورنے لگی سہراب نے گھیرہ سانس لیا اور جیسے وہ اسی کھول میں پھر سے بند ہو گیا ۔
اسنے گھیرہ سانس بھرا اور اٹھ گیا
علینہ اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی اسنے گردن کو ایک دو بار جھٹکا دیا اور واشروم میں گھس گیا ۔
بنا دروازہ بند کیے وہ یوں ہی جا کر شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا ۔
شاور کا تیز ٹھنڈا پانی اسکے جسم پر گیر رہا تھا
جب سے مراد خان کو دیکھا تھا وہ تپ رہا تھا اسکے اندر ہی اندر آگ بھڑبھڑا رہی تھی
اگر اسے دنیا میں نفرت تھی تو سب سے زیادہ مراد خان سے تھی اسکی بیوی سے تھی اسکے بیٹے سے تھی اسکی بیٹی سے تھی یہاں تک کے خود سے بھی تھی ہاں اسے اتنی نفرت تھی خود سے تبھی خود کو روز مارتا تھا ۔
علینہ دور سے کھلے دروازے کو دیکھ رہی تھی
اسکی دھڑکنیں سہراب خان کو دیکھ کر بے چین ہونے لگی اور جب سہراب نے بنا کسی چیز کی پرواہ کیے شاور لیا تو علینہ نے رخ موڑ لیا
وہ کیا اتنا بدتمیز تھا یہ اسے فرق نہیں پڑتا تھا کہ ایک لڑکی اسکے فلیٹ میں کھڑی ہے اسکے ہاتھ پاؤں کپکپا رہے تھے پانی کا شور اسکے پیچھے جس طرح شور مچا رہا تھا اتنا ہی شور اسکی دل کی دھڑکنیں سہراب کے لیے مچا رہیں تھیں وہ جب تک فری نہیں ہوا وہ تب تک یوں ہی جمی کھڑی رہی جب تک سہراب نے شاور نہیں ہے لیا ۔
اور جب شاور بند ہو گیا اور اسکے قدموں کی دھمک باہر آنے لگی ۔
علینہ نے اپنی پیشانی پر پھیلا پسینہ صاف کیا اور مڑی سہراب کو اس بات کی رتی بھی پرواہ نہیں تھی کہ علینہ اسکے فلیٹ میں تھی ۔
وہ مسکرانے لگا تھا علینہ کی حالت دیکھ کر ۔
جبکہ علینہ نے اسکے کسرتی بازو پر تھپڑ مار دیا
جان بوجھ کر یہ حرکتیں کرتے ہو تم”
وہ غصے میں لگی ۔
تم آتی ہی کیوں ہو یہاں مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کتنا کمانا چاہتی ہو ایسا بھی میری شکل سے
جس پر اتنا تو بدصورت نشان ہے”
وہ شانے آچکا کر بولا ۔
تمھیں کس نے کہا میں کما رہی ہوں ہم دوست ہیں اور مجھے تمھاری پرواہ
ارے بس کرو۔۔۔ دنیا میں آنے والا نسان مفاد اور فائدے کے بنا نہیں چلتا
تمھارا فائدہ میری شکل ہے اس سے زیادہ نہیں یہ پھر “
وہ رک گیا اسے دیکھنے لگا علینہ نے غصے سے اسکیطرف دیکھا ۔
تم نہایت بدتمیز ہو “
وہ جیسے لاجواب ہو گئ
چلو “
سہراب نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا اور ہنستا ہوا اسکو لے جانے لگا
کہ ابھی دروازہ کھولا ہی تھا مراد خان سامنے کھڑے تھے ۔
سہراب کے چہرے پر بےساختہ سنجیدگی چاہ گئ اور دوسری طرف مراد خان اسے حیرانگی سے دیکھنے لگے
دنگا فساد شراب اسپر نہایت بدتمیزی اور اب لڑکی
وہ غصے سے بھڑبھڑاتے سہراب کے منہ پر تھپڑ مار گئے
کوئ کوئ اگر تمھیں پہچان جائے کہ تم تم میرے چھوٹے بیٹے میر سہراب علی خان ہو تو میری عزت کا کیا جنازہ نکلے گا تمھیں اندازا بھی ہے “
علینہ شاکڈ کھڑی تھی جبکہ سہراب کو اس چوٹ میں تکلیف سی ہوئ تھی اسکی چوٹ سے خون رسنے لگا ۔
علینہ ایک لفظ نہ بول پائ وہ کون تھا جس نے سہراب کے منہ پر تھپڑ دے مارا
وہ منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی ۔
سہراب نے سرخ نظروں سے مراد خان کیطرف دیکھا اور اسکی جانب قدم اٹھانے لگا ۔
ڈراؤ گے اس۔۔۔اس جانور جیسے جسم اور کھر دماغ سے ڈراؤ گے باپ کو مارو گے مجھے تو مارو میں بھی دیکھتا ہو کتنی بےعیرتی ہے تم میں”
وہ دھاڑے اور اسے جھنجھوڑ دیا
جبکہ اسکے بازؤں کو چھوتے ہی احساس ہوا کہ وہ کس قدر مظبوط تھا ۔
یہ اسنے اسے بنا لیا تھا
کیوں میری زندگی میں دخل دے رہے ہیں “
وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
سہراب خان جو تمھیں کہا جا رہا ہے وہ کرو ” مراد خان انگلی اٹھا کر بیٹے کو بولے
اسنے انکی انگلی دیکھی اور پھر علینہ نے پہلی بار اسکے اندر زلزلہ سا محسوس کیا تھا
علینہ گھبرا کر پیچھے ہٹی جبکہ سہراب نے مراد کی وہ ہی انگلی جکڑ لی
مراد خان نے گھبرا کر اپنا ہاتھ اور پھر اسکے ہاتھ کی جنونی گرفت دیکھی تووہ کچھ بول نہیں پائے ۔
جب میں آپکے ساتھ نہیں جانا چاہتا تو کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں”
مر رہے ہیں تمھارے دادا تم سے ملنا چاہتے ہیں”
اسکی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ اپنا ہاتھ چھڑا گئے
کوئ مرتا ہے یہ زندہ رہتا ہے مجھے فرق نہیں پڑتا دوبارہ میرے راستے میں مت آئیے گا مراد خان ورنہ بھول جاؤں گا میرے باپ ہیں آپ “
وہ سنگدلی سے آ بولا اسکے لہجے کی آہٹ اور انداز نے ثابت کر دیا کہ وہ چودہ سال کا بچہ نہیں رہا وہ اٹھائیس سال کا مرد تھا جو سب تہس نہس کر دینے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔
علینہ کا ہاتھ جکڑ کر وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ مراد خان نے غصے سے ہتھیلی پر مکہ مارا
انکی کوشش کے باوجود بھی وہ واپس نہیں لوٹ رہا تھا اور
دوسری طرف باپ کی حالت انکو پریشان کر رہی تھی
ماں کا تو انتقال ہو چکا تھا اب وہ اپنے بستر مرگ پر پڑے باپ کو یوں ہی مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے تھے تبھی وہ انکی آخری خواہش پوری کرنا چاہتے تھے اور گھر میں کوئ نہیں چاہتا تھا سہراب وہاں آئے مگر سہراب کو لوٹنا چاہیے تھا ۔
وہ اسے دور جاتا دیکھتے رہے تھے ۔
نہ جانے وہ انکے سٹیٹس کو کتنا اور گیراتا ۔
وہ بدظن سے ہوتے وہاں سے خود بھی چلے گئے باپ کی مجبوری نہ ہوتی تو کبھی پلٹ کر وہ اسے نہ دیکھتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضی روم میں داخل ہوا تو کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا بس بیچ میں ایک لیمپ جل رہا تھا اور اسکے پاس ہی ایک آدمی چئیر پر بیٹھا تھا اور اسکے ساتھ زمین پر ایک لڑکی بیٹھی تھی جس کے بال اس آدمی نے جکڑے ہوئے تھے اور اتنی شدت سے بال جکڑے ہوئے تھے کہ وہ لڑکی تڑپ سی رہی تھی
روشنیاں کرو ہمارا جوان آیا ہے “
اس آدمی نے شاید مرتضی کو پہچان لیا تھا
مرتضی نے اس لڑکی کو ایک نظر دیکھا اور روشنیاں بکھر گئیں ۔
آؤ آؤ خوشخبری سناؤ ” وہ بولا تو مرتضی اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔
وہ آدمی مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ۔
ایکچلی ابھی سر کچھ ہو نہیں سکا مگر میں جلد انتظام کر لوں گا “
وہ بولا تو اس آدمی کی مسکراہٹ سمٹ گئ
اسنے ایک لمبا سانس کھینچا روتی ہوئی لڑکی کو دیکھا اور اسکا منہ اوپر کر کے کھینچ کھینچ کر اس لڑکی کے منہ پر تھپڑ مارنے لگا یہاں تک کے اس لڑکی کی چیخی نکل گئیں مرتضی نے جیسے بے سکونی سے پہلو بدلہ
سن رہے ہو اسکی چیخی سن رہے ہو۔۔۔میں تمھاری نکلوا سکتا ہو مرتضی خان یہ چیخی اگر تم نے میرا پیسہ کھانے کا سوچا بھی تو “
وہ خونی نظروں سے اسے دیکھنے لگا
سر ایسا کیوں ہو گا ہم نے ڈیل کی ہے میں آپکو وہ کمرشل ایریا ہر صورت میں دوں گا “
مرتضی نے اس تڑپتی ہوئ لڑکی سے نگاہ ہٹا کر وسوق سے کہا
ہونا بھی ایسا ہی چاہیے “
اس آدمی نے چاقو اٹھا لیا ۔
لیکن اگر اگر ایسا نہ ہوا اور مجھے زرا بھی گڑبڑ کا احساس ہوا “
اسنے ایک نظر مرتضی کو دیکھا
تو ” بس اسنے وہ چاقو چلایا تھا اچانک کمرے میں سناٹہ چاہ گیا اور بس کچھ ہی لمہوں میں وہ لڑکی اس آدمی کے قدموں میں گیر گئ اسکی گردن کاٹ دی تھی اسنے دو تین جھٹکے اس لڑکی کے وجود نے لیے اور وہ اس آدمی کے قدموں میں ہی دم توڑ گئ
مرتضی کی پیشانی عرق آلود ہو گئ
اسکی آنکھیں پھٹ گئیں تھیں اسنے کبھی یہ خون یہ موت اور مار پیٹ نہ ہی دیکھی تھی اور نہ کبھی حصہ لینے کی کوشش کی تھی اور سچ تو یہ تھا وہ دو کو چار کرنا جانتا تھا مگر اپنی حفاظت کرنا نہیں جانتا تھا
وہ آدمی مرتضی کی پھٹی ہوئ آنکھیں دیکھ کر ہسنے لگا ۔
مرتضی نے تھوک نگلا ۔
تمھارے پاس ایک ماہ ہے”
اسنے خون سے بھری چھری اپنے چہرے پر پھیری ۔
اس لڑکی کا خون اس آدمی کے ہونٹوں اور گال پر لگ گیا ۔
مجھے اپنا بھی نہیں پتہ میں کب پاگل کتا بن جاتا ہوں ۔۔ ۔ تمھیں بہت سنبھالنے کی ضرورت ہے جوان جو مجھے چاہیے وہ مجھے دو ورنہ “
وہ ہنسنے لگا ۔
جبکہ مرتضیٰ نے سر ہلایا اور وہاں سے اٹھ گیا ایک تو اس سے اس لڑکی کا خون نہیں دیکھا جا رہا تھا دوسرا وہ اپنی بےوقوفی پر پشتا رہا تھا
جوب چھوڑنے کے بعد اسنے اپنی پراپرٹی بیچنے کا سوچ اٹھ مگر پراپرٹی بیچنے سے اسے اتنی رقم نہیں مل سکتی تھی تبھی اپنے بیزنس کو کھڑا کرنے کے لیے مراد خان کے مشورے کے بنا اور اپنا آپ انپر اچھا اور قابل ثابت کرنے کے چکر میں اسنے قاسم سیٹھ سے پیسے لیے تھے
اور اسنے بھی رقم اسکے ہاتھ میں دے دی اور اسکی وہ پراپرٹی
جو سہراب کے نام تھی پسند کر کے اس سے وہ زمین مانگنے کی
خواہش کی مرتضی کو یہ کام آسان لگا تھا تبھی اسنے پیسہ لے کر
بیزنیس کھڑا کر لیا ۔
مگر بہت کوششوں کے بعد بھی دادا سائین کرنے کے لیے تیار نہیں
تھے اور اسکی بھی جلدی بازی کو لے کر چلنے پر وہ اپنا بنا بنایا ایمیج خراب نہیں کرنا چاہتا تھا جو اسکی ساکھ تھی وہ اسکو برقرار رکھنا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا سب اس سے محبت کریں اسکے گن گائیں اسکی تعریفیں کریں اور اتنی ہی برائ سہراب خان میں نکالیں اسکی بدصورتی کے قصیدے پڑھیں ۔
اسنے جو اسکے چہرے پر نشان دیا تھا وہ چاہتا تھا وہ نشان سہراب کو بے حد بدصورت بنا دے ۔
وہ سہراب سے حسد رکھتا تھا اور شاید اسکا اسے خود علم نہیں تھا
وہ پریشانی سے باہر نکل آیا اس لڑکی کی موت دیکھ کر اسے الٹی آنے لگی تھی خود کو سنبھالتا وہ ایک ماہ میں ہر ممکن طریقے سے سہراب سے وہ جگہ نکلوا لینا چاہتا تھا
سہراب کے ساتھ اچھا بننا نہ اسکی مجبوری تھی اور نہ وہ اس لوزر سے اچھا ہو سکتا تھا
تبھی اسے کچھ اور سوچنا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں ۔ ۔۔۔”
آنا کی آنکھوں سے آنسو رفتار سے نکل رہے تھے ۔
آپکی طبعیت نہیں ٹھیک آپ مت جائیں کام پر”
وہ انکا ہاتھ پکڑ گئ
نہیں بڑے صاحب غصہ ہوں گے آنا چندہ تم یہ کھانا بناؤ”
میں چلی جاتی ہوں آپکی جگہ میں کام کر لیا کروں گی اماں ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہے آپکا علاج ہو جائے تو میں اتنا تو کر سکتی ہوں آپکا کام آسان کر دوں”
وہ شرمندہ ہوتی روتی ہوئی بولی
میری اتنی سی بیٹی اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہی ہے”
وہ مسکرائیں
اماں مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔” وہ انکی گود میں سر رکھ گئ اسکے آنسوں آنکھ سے نکل کر گال پر بہہ گئے
مجھے بھی لگتا ہے آنا بہت ڈر لگتا ہے مجھے بھی “
وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی دل میں سوچنے لگیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
