Rate this Novel
Episode 11
سہراب تو جا چکا تھا فاطمہ کے والد نے مرتضی کی جانب دیکھا جو بلکل سپاٹ چہرہ لیے کھڑا تھا اور بس ایک منٹ لگا تھا وہ وہاں سے چلا گیا ۔
انھوں نے بیٹی کا ہاتھ تھام لیا ۔
غصہ تو بہت چڑھا تھا اپنے منگیتر کے سامنے انکی بیٹی یہ کیا حرکات کر رہی تھی مگر اس وقت شاید کوئ کچھ بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھا
ہم چلتے ہیں ۔ ڈیٹ میں آپکو فون پر بتا دوں گا ” درانی صاحب بولے اور زبردستی اپنی بیٹی کو کھینچ کر اپنی بیوی کے ساتھ وہ وہاں سے نکل گئے ۔
دوسری طرف مراد خان ایکدم صوفے پر ڈھے گئے تھے۔ ماہین شیلہ بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہیں تھیں
انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا سہراب کا کوئ کام بھی ہو گا وہ بھی ایسا کام ۔
سب شاکڈ ہی تھے کوئ کسی سے کچھ بول نہیں پا رہا تھا ۔
اچانک مرتضی کے کمرے سے چیزوں کے ٹوٹنے کی آواز پر وہ سب بے ساختہ بھاگے تھے
مرتضی کے روم کی جانب
مجھے یقین تھا یہ آئے گا تو میرا بیٹے کو پاگل ہی کرے گا “
شیلہ مراد پر چلائ ۔
حرکت دیکھی ہے اسکی تم نے مراد” وہ جیسے شوہر کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہیں تھیں
اسے یہ تمیز نہیں کے بھائ کی منگیتر ہے کتنا ہی اونچا آدمی نہ بن جائے وہ رہے گا میری نظروں میں نیچ ہی”
وہ بھڑکیں ۔
اور مرتضی کے روم میں چلی گئیں اسنے اپنے کمرے کو تباہ کر لیا تھا
مرتضی ” وہ پریشانی سے اسکیطرف بڑھیں
دور رہیں مجھ سے وہ سرخ نظروں سے گویا پھاڑ کھانے والا تھا سب کو ۔
اس بے عزتی کا بدلہ میں میر سہراب سے ایسا لوں گا اسکی روح تک تڑپے گی”
وہ دھاڑا ۔
مرتضی ایزی ہو جاؤ تمھاری طبعیت خراب ہو سکتی ہے بیٹا پلیز
ہاں مرتضی مام ٹھیک کہہ رہی ہیں تمھیں اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے یہ فاطمہ اپنے گھر بیٹھے اگر اتنی ہی سہراب کی دیوانی ہے “
ماہین غصے سے بولی
نہیں ماہین اسنے میری چیز کو جھوٹا کیا ہے ۔اسنے یہ ثابت کیا ہے مجھ پر جتایا ہے کہ وہ کیا ہے جان بوجھ کر ہم لوگوں۔ کو لاعلم رکھا کہ وہ کیا کرتا ہے تاکہ وقت انے ہر ہم لوگ یہ ری ایکشن دیں اور میری منگیتر مرتضی خان کی منگیتر کو چھوا ہے اسنے ۔۔ میں اسے زندہ گاڑ دوں گا “
اسنے مہنگا ترین واس اٹھا کر زمین پر دے مارا جو کئ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا
پلیز مرتضی تم نے جو کرنا ہے کرو اسکے ساتھ مگر ۔ ابھی فلحال ریلکس ہو جاؤ پلیز مرتضی “
ماں کی تو جان جا رہی تھی ۔
مرتضی نے سب کو اپنے کمرے سے باہر نکال دیا ۔
وہی سب ہی مرتضی کے لیے پریشان تھے ۔
اور وجہ ایک ہی شخص تھا وہ سہراب خان تھا ۔
بس نہیں چل رہا تھا شیلہ کا اسکی جان لے لے اور وہ بنا کچھ دیکھے اور سوچے سمھجے سہراب کے کمرے کی جانب بڑھ گئ ۔
مراد خان اسکے پیچھے لپکے
شیلہ” وہ اسے روکنا چاہتے تھے مگر ماہین اور شیلہ سہراب کے کمرے میں ایکدم داخل ہوئیں وہ بیڈ پر لیٹا تھا ۔
فون پر کچھ دیکھ رہا تھا ۔
ان دونوں کو اندر آتے دیکھ ۔بھی اسی پوزیشن میں لیٹا رہا ۔
دفع ہو جاؤ میرے گھر سے “
شیلہ نے اسے وہاں سے نکل جانے کا اشارہ کیا ۔
سہراب سیدھا ہو گیا ۔
انکے چہرے پر بڑے بیٹے کی تکلیف پر تکلیف تھی اور پیچھلے سات سالوں میں وہ کس کس قرب سے گزرتا آیا ہے کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی اور سہراب کو بھی نہیں تھی مگر خیال تو ا ہی گیا تھا
سہراب کچھ نہیں بولا
میں نے کہا ہے چلے جاؤ یہاں سے یہ گھر مرتضی کا ہے تم کتنے بڑے آدمی بن جاؤ میری نظروں میں تمھاری کوئ اوقات نہیں ہے سہراب علی خان تمھیں میری ہی گود میں پیدا ہونے کی کیا ضرورت تھی مجھے تو یہ سمھجہ نہیں آتا تمھارے ہونے کی ہی کیا ضرورت تھی میرے لیے تو میرے دو بچے کافی تھے ۔
مگر تم ہو گئے اور ۔ میری ایک بات یاد رکھو جو تم نے فاطمہ کے ساتھ کیا ہے صرف مرتضی کو جلانے کے لیے انجام اچھا نہیں ہو گا اسکا “
کہہ دیا ” سپاٹ انداز میں وہ ترچھی نظروں سے ماں کو دیکھنے لگا
میری زندگی میں ۔کچھ اچھا ہے بھی نہیں تو اپنے جزبات کو مسز مراد خان کنٹرول رکھیں “
اسنے اپنے گریبان پر سے شیلہ کے ہاتھ جھٹکے
اور یہاں سے چلتی پھیرتی نظر آئیں اور آپ کون ہوتی ہیں مجھے یہاں سے نکالنے والی ۔ میں جانتا ہوں اس گھر میں میرا حصہ ہے اور اور یہاں سے مجھے کوئ نہیں نکال سکتا میرا جب دل کرے گا میں یہاں آؤ گا رہو گا اور جب میرا دل نہیں ہو گا مجھ آپ لوگوں کی شکلیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے تو بہتر ہو گا مجھ پر چلانے کے بجائے اپنے لال کو جا کر سنبھالیں جو کسی جگہ پر منہ چھپا کر رو رہا ہے”
وہ طنزیہ ہنسی ہنستا ۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتا کھڑا ہو گیا ۔
پیچھے سے مراد خان شیلہ کو باہر کھینچ رہے تھے تبھی وہاں مرتضی بھی ا گیا ۔
سہراب ایک آئ برو آچکا کر ان سب کو دیکھنے لگا بچپن میں بھی اسکے نام کی عدالت یوں ہی لگتی تھی مگر وہ کمزور تھا تبھی اپنے لیے لڑ نہیں پاتا تھا اور آج وقت بدل گیا تھا ۔
اسے ان لوگوں سے نہ ہی ڈر لگتا تھا اور فکر یہ بھی نہیں تھی کہ وہ اس سے پیار کریں اسے دنیا میں کوئ بھی پیار نہ کرتا اسے ایک پرسنٹ بھی فرق نہیں پڑتا تھا وہ بس اتنا ہی ظاہر کرتا تھا سب پر کہ اسے کوئ غرض نہیں وہ لاپروہای ہے سب سے بےزار ہے مگر شاید سینے میں کہیں دل تھا جو ہر شے کی تمنا آج بھی رکھتا تھا جسے روز وہ اپنی مٹھی میں جکڑ کر اس طرح دباتا تھا کہ اسکی آہ کی بھی آواز کسی اور تک نہ پہنچے ۔
میں تمھیں بخشوں گا نہیں سہراب”
مرتضی دانت پیستا اسکے بلکل نزدیک جاتا اسکا گریبان جکڑتا بہت مدھم آواز میں بولا تھا
جو تم نے میرا اکھاڑنا ہے مرتضی اکھاڑ لو میری طرف سے کھلا چیلینج ہے ۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا میں تمھاری گردن دھڑ سے جدا کر دوں گا ۔ اب اپنے کسی بھی نقصان پر “
وہ بھی اتنی ہی آواز میں اسکے دونوں ہاتھوں۔ کو اپنے سخت طاقت ور ہاتھوں میں جکڑتا بولا ۔
اچھا ۔ تو یہ چیلینج ہے میں بھی دیکھتا ہوں کس طرح تم میری گردن دھڑ سے جدا کرو ۔ گے لوزر”
بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ سہراب نے ایک کھینچ۔ کر پنچ اسکے منہ پر مارا تھا کہ مرتضی کا ہونٹ پھٹ گیا ۔
شیلہ مراد اور ماہین ایکدم مرتضی کی طرف چیختے ہوئے بڑھے مرتضی زمین پر گیرا تھا سہراب نے اسکی شرٹ جکڑی اور ۔۔ ایک ٹانگ فولڈ کر کہ وہ اسپر جھکا ۔
تم سہراب خان کے پاگل پن سے نہ آشنا ہو مرتضی خان سہراب خان پاگل ہے پاگل مجھ سے مت لڑنے کی کوشش کرو ۔ تمھاری ان نازک ہڈیوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا ۔ ” وہ اسے دور جھٹک کر اسپر سے ہٹا ۔
شیلہ اسکے شانے پر مکے مار رہی تھی ۔
مگر وہ سب کو جھٹکتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
اسکے دماغ کی نسیں پھول رہیں تھیں اسے لگ رہا تھا اسکا دماغ پھٹ جائے گا ۔ عجیب زندگی لکھی تھی اسکی قسمت میں نہ یہ رشتے اسکے سوتیلے تھے اور نہ ہی وہ باہر سے اٹھا کر لایا گیا تھا ۔
پھر بھی ان سب کی نفرتوں نے اسے ۔ جانور بنا دیا تھا ۔ علینہ کی گاڑی وہیں کھڑی تھی مگر۔ اسنے مرتضی کی گاڑی میں لگی چابی کو گھما کر دروازہ کھولا اور وہ وہ گاڑی لے کر چلا گیا ۔
اسکے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے تھے کہ وہ ایسی دو چار خرید سکتا تھا مگر نہ اسکو خود سکون ا رہا تھا اور نہ کسی اور کو سکون دے سکتا تھا وہ
تبھی وہ گاڑی لے کر جو شاید اس گھر میں سب سے مہنگی گاڑی تھی لے کر نکل گیا تھا ۔
دوسری طرف مرتضی کو پھر سے فیڈز پڑنے لگے تھے اور گھر والے پریشان ہو چکے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ اسکی فائیٹ تھی نہ ہی اسکا نام نکلا تھا مگر وہ سیدھا میدان میں کود چکا تھا دیکھے بنا کہ ڈیتھ فائیٹ ہے یہ نہیں اسنے دونوں لڑتے آدمیوں کو اس بری طرح پیٹنا شروع کیا کہ وہ دونوں خونم خون ہو چکے تھے ۔
وہاں کے اونر نے عادل کو کال کر دی تھی ۔۔۔۔ یہ رولز کے خلاف تھا اور وہ اپنے جنون میں سارے رولز توڑ رہا تھا ۔
اور ان آدمیوں کو بری طرح مارنے کے ساتھ اسنے وہاں کھڑے اسے روکنے والوں کو بھی پیٹ ڈالا تھا ۔
جبکہ عادل دوڑتا ہوا آیا تھا
سہراب سہراب”
اسنے بھپرے ہوئے سہراب کو ۔پکڑنا چاہا ۔
مگر سہراب قابو میں نہیں ا رہا تھا ۔
ہٹ جاؤ ” وہ دھاڑا ۔
اور اس جگہ سے باہر نکل گیا دونوں ادمیوں کے چہرے اس حد تک زخمی ہو چکے تھے کہ شناخت نہیں ہو پا رہی تھی وہ باہر نکلا اور ایکطرف پڑا لوہے کا راڈ اٹھا کر اسنے ساری گاڑی توڑ ڈالی گاڑی کے شیشے گاڑی کے دروازے ۔ ہیڈ لائٹس سب تباہ کر دیا تھا ۔
سکون تھا کہ سینے میں محسوس ہی نہیں وہ رہا تھا دماغ تھا کہ بس لاوے کیطرح پھٹ رہا تھا ۔
اسے مرتضی یہ کسی بھی انسان کا غم نہیں تھا کہ وہ لوگ اسے کیسے ٹریٹ کر رہے تھے اسے غم تھا تو خود کا آج بھی اسکا دل ان رشتوں کو قبول کرنے پر آمادہ ہو رہا تھا یہ اسکا دل ہی تھا ۔ کیسا دل تھا یہ
جس نے اسے زلیل کرا کے رکھ دیا تھا
ان سب کی نفرت کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود وہ کس چیز کی طلب کر رہا تھا ۔
وہ ٹوٹی پھوٹی گاڑی سے ہی ٹیک لگا کر بیٹھتا چلا گیا ۔
اسنے جلتی ہوئ آنکھیں بند کر لیں ۔
اسکی ماں کے ہاتھ اسکے شانے پر اب بھی محسوس ہو رہے تھے انکے الفاظ کانوں میں جیسے زہر انڈیل رہے تھے ایسا نہیں تھا کہ وہ ان کمزور ہاتھوں کے مکوں سے تکلیف میں تھا نہیں ۔تکلیف اسکی روح کو ہو رہی تھی خود کو ڈھانپ کر چلتے چلتے تھکاوٹ کیوں ہو رہی تھی اسے ۔
وہ خود بھی سمھجہ نہیں پا رہا تھا
اچانک سامنے سے بھاگ کر اتی علینہ کو دیکھ کر اسنے گھیرہ سانس بھرا اپنی جگہ سے اٹھا اور شاید اسے خود بھی اندازا نہیں ہوا تھا کسی بھی چیز کا
اسنے اسے اپنی بانہوں میں سختی سے جکڑ لیا ۔
علینہ ششدر رہ گئ ۔
س۔۔سہراب” بہت مدھم آواز نکلی تھی اسکی جبکہ وہ اسکے ناتواں وجود کو سختی سے خود میں پیوست کر لینا چاہتا تھا
علینہ خاموش ہو گئ ۔
وہ کچھ نہیں بولی ۔
کچھ دیر وہ آنکھیں بند کیے یوں ہی کھڑا رہا ۔
اور پھر اس سے جدا ہو گیا ۔
سوری”
وہ بولا اور ۔ پیچھلے جزبوں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگا
یہ سب کیا کیا ہے تم نے کس کی گاڑی ہے یہ” وہ سہراب کا چہرہ دیکھتی خود کو ۔سمبھالتی پوچھنے لگی تھی جبکہ ۔ اسکے دل کی حالت میں جو زیرو بم تھا وہ شاید بیان نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
کیسا لگا ہے تمھیں یہ ڈیزائین”
وہ مدھم مسکراہٹ سے بولا
سہراب ” علینہ حیرانگی سے اس گاڑی کی بری حالت دیکھنے لگی
جان من یہ میرے بڑے بھائی کی موسٹ ایکسپینسیو گاڑی ہے ۔”
وہ جلدی سے اسکے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا ۔
جبکہ علینہ کی آنکھیں اب بھی پھٹی ہوئ تھیں ۔
سہراب ہنس دیا ۔
علینہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔
تم کیوں نہیں سدھر رہے مجھے تو یہ فکر ہو رہی ہے جب یہ سب تمھارا بھائ دیکھے گا تو کیا ری ایکشن دے گا سہراب پہلے ہی وہ لوگ تم سے “
نفرت کرتے ہیں”
اسنے بات مکمل کی
اور میں چاہتا ہوں کہ دنیا کا ہر شخص مجھ سمیت مجھ سے اتنی نفرت کرے کے میرے دل کو کسی کی محبت کی طلب نہ رہے”
وہ سختی سے کہہ کر ۔
گاڑی سے اترا ۔
علینہ اسکی جانب۔ دیکھنے لگی اسکا لہجہ بکھرا بکھرا تھا ۔
شاید کوئ اور بھی ہے جو تم سے محبت کرتا ہے”
وہ کہے بنا نہ رہ سکی
اچھا یار بس کرو کیا فضول محبت محبت ۔ یہ کچھ نہیں ہوتا محبت کے بنا انسان زیادہ خوش رہ سکتا ہے کم از کم جزبے تو نہیں پیدا ہوتے”
وہ سر جھٹک کر لاپرواہی سے بولا ۔
اتنے لا پرواہ مت بنو سہراب محبت سے اتنی بدگمانی اچھی نہیں محبت خوبصورت جزبہ ہے یہ جتنا بے چین رکھتا ہے اتنا ہی چین میسر کرتا “
مجھے سبق مت دو ۔ پورے دو دن بعد دیکھائی دی ہو اور فالتو بولے جا رہی ہو میرا دماغ الریڈی”
اچانک پولیس سائرن کی آواز پر دونوں چونک کر اس جانب دیکھنے لگے
بھاگو سہراب یہاں سے ۔ یہاں کے اونر نے تمھارے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی ہے جسٹ گو بھاگو “
عادل نے جلدی سے ا کر دونوں کو جھنجھوڑا سہراب۔ نے گاڑی کا دروازہ لمہوں میں کھولا علینہ جو ابھی کچھ کہتی اسے اندر دھکیل کر اسنے پولیس کی گاڑی اپنے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہاں سے دوڑ لگا دی تھی ا
اسکی گاڑی ہواؤں کو باتیں کرتی وہاں سے دور بہت دور نکل گئ تھی ۔
وہ بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا دونوں بار بار پیچھے دیکھ رہے تھے ۔
سہراب دل کھول کر ہنسا ۔۔۔ اسکا قہقہ گاڑی میں گونج گیا علینہ نے جب کہ اسکا شانہ بری طرح اپنے کمزور مکوں سے پیٹ ڈالا
بہت بڑے پاگل ہو تم”
وہ غصے میں بولی گھبراہٹ سے پیشانی پر پسینے کی بوندیں تھی سہراب نے گویا یہ ٹائیٹل قبول کیا تھا
صرف پاگل ہی نہیں ہوں
تنہا ہوں آزاد ہوں ۔ اور شاید قابل نفرت بھی”
ہلکے پھلکے انداز میں وہ ایک آنکھ دباتا بولا علینہ کا بس نہیں چلا اسکی ساری تھکاوٹ خود میں سمیٹ لے ۔
اوور یار تمھیں ایک بات تو بتانا بھول ہی گیا “
وہ ماتھے پر ہاتھ مارتا ڈرائیو کرتا بولا ۔
علینہ نے اسکی طرف دیکھا
یار آنا نام کی لڑکی دنیا میں ایگزیکٹ کرتی ہے آئ کانٹ بلیو یہ نام تو مجھے لگتا تھا میں نے تمھارے لیے چنا ہے بٹ اس نام کی ایک لڑکی دنیا میں موجود ہے دنیا کیا میرے گھر میں ہے ۔ نوشین انٹی کی بیٹی ہے ۔ سچ آ بیٹیفل گرل “
وہ اسکی جانب دیکھتا بول رہا تھا کچھ دیر پہلے والے جذبے اسکا ساتھ پاتے ہی ختم ہو گئے تھے مگر اسکا لاپروہای انداز علینہ کا دم خشک کر چکا تھا وہ حیران نظروں سے سہراب کو دیکھنے لگی ۔
مگر اس سے سوال کیا کرتی اسے کہتی کیا
تمھیں اچھی لگی”
وہ ہلکا سا مسکرائی
نہ”
وہ نفی میں سر ہلانے لگا ۔
بس متوجہ ہوا تھا اسکا نام یونیک ہے سچ کہو تو یہ نام مجھے لگتا تھا میں نے تمھیں دیا ہے مگر یقین نہیں ہوتا کوئ مجھے اسی نام کا ٹکرائے گا “
وہ شانے اچکاتے موڑ کاٹتا بولا ۔
علینہ سے کچھ کہا نہیں گیا وہ سمھجا ہی نہیں تھا کہ وہ اسکے سامنے کسی لڑکی کا زکر کر رہا تھا کتنی آوارگی سے ۔
مگر اسے پہلے کب پرواہ تھی اسکی ۔
اسنے سر ہلایا ۔
تو کیا کرتی ہے وہ”
علینہ نے ہمت کر کے اسکے بارے میں جاننا چاہا ۔
کام کرتی ہے گھر کے ۔”
وہ بولا
اور تمھارے بھی”
علینہ کا لہجہ بے چینی لیے ہوئے تھا چہرہ اتر گیا تھا مگر ڈرائیو کرتے لاپرواہ لڑکے کو ہوش بھی نہیں تھا ۔
ام م ہاں “
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا
علینہ نے سر ہلایا اور ۔ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ
تقریبا پانچ منٹ کی خاموشی دونوں کے مابین ا گئ سہراب کو برداشت نہیں ہو رہاتھا
مجھے ڈنر آفر نہیں کرو گی”
وہ ماتھے پر تیوری ڈالے بولا ۔
اپنی نئ آنا کے ہاتھ کا ڈنر کرنا “
وہ زرا خفگی سے بولی اور سہراب اب سمھجہ گیا تھا وہ قہقہ لگا اٹھا ۔
یار یو آر سچ کا جیلس کیٹن ” وہ اسکے گال پر چٹکی کاٹتا بولا ۔ جبکہ گاڑی مزید تیز کر دی علینہ نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔سہراب اسکے بار بار گال کو چھوتے تنگ کرتا ۔
علینہ ہنس پڑی اسکے ساتھ وہ یوں ہی خوش رہتی تھی اگر وہ انسانوں والا رویہ رکھتا اچانک اسکی مسکراہٹ رضا کی کال سے سمٹ گئ ۔
اسنے کال صرف سہراب کے لیے ۔ نہیں اٹھائ تھی اور دونوں وہاں سے ڈنر کے لیے نکل گئے علینہ چوری کر رہی تھی اپنے رشتے کے ساتھ بے ایمانی کر رہی تھی یہ احساس اسے تھا مگر نہ جانے کیوں اسکا اختیار اپنے دل پر نہیں تھا اور وہ یہ سوچ اب روز سوچنے لگی تھی کہ رضا سے شادی کر کے اسنے رضا کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔
شاید وہ ساری دنیا کے ساتھ بے ایمانی کر سکتی تھی سوائے سہراب کے ۔
وہ اسے جیسا بھی سمھجتا لالچی یہ اپنی غرض والا ۔ وہ ایک دن بھی اس سے محبت کرنا ترک نہیں کر سکتی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح کے قریب گھر واپس لوٹا تھا اسوقت گھر میں کوئ نہیں تھا اور ۔ سہراب وہ گاڑی وہیں چھوڑ کر خود اپنے کمرے میں چلا گیا مرتضی کے ری ایکشن کا شدت سے منتظر تھا ۔
ہاں اسکا دماغ پھر گیا تھا مزید وہ کچھ اپنے بارے میں کہنا نہیں چاہتا تھا وہ اس گھر کے ایک ایک شخص کی ناک میں دم دے دینا چاہتا تھا ۔
وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ جبکہ علینہ اپنے گھر آئ تو آج بہت بوجھ تھا ۔
بہت بوجھ تھا اسکے دل پر رضا کی کال اٹینڈ نہ کر کے وہ ۔
رضا کو کال کرنے لگی مگر رضا نے کال پک نہیں کی ۔
اسنے گھیرے گھیرے سانس بھرے ۔
ابھی تھوڑی بہت نیند لینے کے بعد اسے نکلنا تھا کام پر ۔
وہ فریش ہونے چلی گئ ۔
جب وہ نائیٹ ڈریس میں باہر نکلی تو ۔
رضا کا میسیج تھا
اسنے لکھا تھا کہ وہ کل رات واپس لوٹ رہا ہے
علینہ حیران ہوئ ۔
اسنے تو شاید پندرہ بیس دن وہاں گزارنے تھے پھر تین دن میں واپسی کیوں ۔
وہ پریشانی سے لیٹ گئ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی آج اسے سہراب سے شکواہ ہو رہا تھا ۔
کاش وہ انکار نہ کرتا تو وہ رضا سے کبھی غصے میں ا کر شادی نہ کرتی وہ ۔اسکے پیچھے سب ہار چکی تھی اور کیا کرتی وہ اسکے لیے اور اب بھی وہ اسے صرف اچھی دوست سمھجتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضی کی طبعیت بہتر ہوئ تو آفس جانے کے لیے وہ تیار ہو گیا مگر آفس سجانے سے پہلے اسکے پاس ایک اور اہم کام تھا وہ باہر نکل کر انیکسی کی جانب بڑھتا کہ پورچ میں اپنی گاڑی کی ابتر حالت دیکھ کر ۔
اسکی آنکھیں حیران رہ گئ ۔
حیرانگی کے ساتھ ساتھ اسے لگا اسکا دل ڈوب ہی گیا ہو ۔
اسکی اتنی مہنگی اور قیمتی گاڑی کے بونٹ پر بے شمار نشان تھے اور شیشے ٹوٹے ہوئے تھے ۔۔
لائٹس ٹوٹیں ہوئیں تھیں گاڑی کا دروازہ بھی ایک گیرا ہوا تھا پیچھے سے گاڑی کا سارا حصہ کھلا ہوا تھا
مرتضی سے اگلی سانس نکالنا محال تھا وہ جانتا تھا سہراب کے علاؤہ یہ کوئ نہیں کر سکتا ۔
اسنے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں سہراب پر چلانے کا ارادہ بعد میں ڈال کر وہ ۔ نوشین آنٹی کے گھر کی جانب چل دیا
