52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

دادا کی طبعیت بے حد خراب تھی انکے جسم کی ہر چیز جیسے ساتھ چھوڑ گئ تھی سوائے سانس کے اور یہ سانسیں بہت تکلیف دہ تھی انکے لیے ۔۔۔۔
مراد خان بے حد پریشان تھے مرتضی اور ماہین تو دیکھتے بھی نہیں تھے تبھی ان لوگوں کو فرق نہیں پڑتا تھا جبکہ مراد خان کے تو وہ باپ تھے بھلے بلکل مترادف خان جیسے تھے مگر شاید انھیں خود بھی پتہ چل گیا تھا انکی جان کیوں نہیں نکل رہی جو کچھ ظلم کسی معصوم جان پر ان سب نے کیا تھا باقیوں کو تو احساس نہیں ہوا تھا مگر انکی جان کنی کے وقت انھیں یہ احساس تھا ۔
وہ جب بھی بولتے صرف سہراب کا نام لیتے تھے مراد خان نے ایک نمبر ڈائل کیا اور ۔۔۔۔
اپنے باپ کے کمرے سے باہر نکلے مرتتضی بھی سامنے سے ا رہا تھا وہ اپنی پریشانی میں تھا ۔
ہاں چیک کرو وہ کہاں ہے پھر مجھے انفارم کرو “
انھوں نے کسی سے پوچھا تو مرتضی نے باپ کیطرف دیکھا ۔
کس سے بات کر رہے تھے”
وہ پوچھنے لگا ۔
کچھ نہیں سہراب کے بارے میں پتہ کروا رہا ہوں وہ اپنی فلیٹ میں نہیں ہے “
وہ ماتھے پر بل ڈالے خود بھی صوفے پر بیٹھ گئے
مرتضی کو ہنسی آ گئ وہ طنزیہ ہنسنے لگا
میر سہراب علی خان مراد کا خان کا بیٹا فلیٹ میں رہتا ہے”
وہ مذاق اڑانے لگا جبکہ ہنس الگ رہا تھا
میں اس وقت فکر میں ہوں تم میری فکر کم نہیں کر سکتے تو زیچ بھی نہ کرو مجھے”
وہ غصے سے بولے
ارے ڈیڈ میں کہاں کر رہا ہوں آپکو زیچ
درحقیقت آپکے چھوٹے صاحب زادے ہی ہمیشہ سے آپکی ناک کو لٹکے ہوئے ہیں ویسے کس نالی کے کھڈے پر پائے گئے ہیں مراد خان کے بیٹے”
وہ باپ سے پوچھ رہا تھا مراد خان کو اسپر پہلی بار غصہ آیا تھا
وہ اسکے پاس سے اٹھ کر چلے گئے جبکہ مرتضی کھل کر ہنس دیا
دماغ کچھ نارمل ہوا تھا ۔
وہ موبائل نکل کر چیکینگ کرنے لگا اسکی ماں کا میسیج تھا شام چھ بجے درانی صاحب کی بیٹی اور انکی فیملی ا رہی تھی
انھوں نے اس لڑکی کی تصویر سینڈ کی تھی اچھی خوبصورت لڑکی تھی مگر مرتضی کو کبھی کسی سے دلچسپی نہیں تھی اور نہ شاید مستقبل میں ہونی تھی اسے صرف پرفیکشن چاہیے تھی ہر چیز میں پر بات میں اور یہ لڑکی اسکے ساتھ پرفیکٹ تھی وہ سلیکٹ کر چکا تھا ۔
اسنے فون ایک طرف پھینکا تبھی سامنے سے انکی پرانی ملازمہ آتی دیکھائی دی اسنے کبھی کسی ملازم سے بات نہیں کی تھی مگر توجہ گئ تو اسکے پیچھے سر جھکائے چلتی لڑکی کے وجود پر گئ جس کے چہرے پر گھونگھٹ تھا اور ۔۔۔۔
مرتضی نے اسکے ہاتھوں کیطرف دیکھا تو انگلیاں مروڑے وہ
کنفیوز لگ رہی تھی وہ غور سے دیکھنے لگا ۔
اور لڑکی وہاں سے گزر کر چلی گئ تھی ۔
مرتضی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا مگر خیال میں ضرور وہ آواز اور یہ ہاتھ رہ گئے تھے
شام چھ بجے کے لیے اسے بلکل ریڈی رہنا تھا کہ اسکی ایک جھلک سے ہی وہ لڑکی اسکی ہو سکتی تھی ۔
اسکی ڈریسنگ اسکا انداز اسکا گھر اسکا گاڑی اسکا بینک بیلنس
ایک لڑکی کو اور چاہیے بھی کیا ہوتا تھا ۔۔۔
وہ سر جھٹک کر ہنستا وہاں سے اٹھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاروں اطراف افراتفری تھی
ڈارک گرین شرٹ جس کے تمام بٹن کھلے تھے اور وائیٹ پینٹ پہنے وہ ایک ڈارک رومینٹک سین تھا جسے سہراب خان دے رہا تھا اسنے ایک لڑکی کو اپنے بازؤں کی گرفت میں جکڑا ہوا تھا اور کیمرے کیطرف وہ آنکھ اٹھا کر دیکھ رہا تھا ۔
یہ پرفیکٹ شوٹ تھا ۔
اسکے کپڑوں کا ۔۔۔۔اسکے جوتوں کا ۔۔۔۔
اسنے تھوڑی دیر بعد اس لڑکی کو چھوڑ دیا
اس لڑکی کی بھی سہراب کے ساتھ فرسٹ میٹنگ تھی اور وہ بری طرح سہراب پر گھائل ہو رہی تھی ۔
مجھے اب کسی لڑکی کی ضرورت نہیں”
اسنے دونوں ہاتھ پینٹ کی پوکٹس میں ڈالے اور سامنے چوڑا سینہ نکال کر وہ دیکھنے لگا ۔
اسکے مختلف اینگلز میں کلک لئے گئے
وہ پوری کیٹیلوگ پر چھایا ہوا تھا ۔
وہ اکیلا بھی جیسے ایک قبیلہ سا لگتا تھا اتنا مظبوط اتنا طاقتور
اور اسپر اسکے انداز شان بے نیازی لاپرواہی ۔
اسکے چہرہ نشان کے باوجود بھی جس طرح دیکھتا تھا وہ حیران کن حد تک حسین تھا ۔
ہاں اسنے اپنے لیے کچھ نہیں کیا ۔
اسکے اسی چہرے نے جس کو برباد کیا گیا تھا اسکی زندگی بنا دی تھی ۔
اس لڑکی کا منہ بے عزتی کے احساس سے سرخ ہو گیا ۔
کہ اسنے کیسے اسے شوٹ سے نکال پھینکا تھا
تبھی سہراب خان کے لیے کھانا لایا گیا جو کہ اسنے اپنی مرضی کا منگوایا تھا کھانے میں اسکی پسند کی چیزیں تھیں۔
علینہ ہسنے لگی تھی وہ لڑکا سدھر نہیں سکتا تھا ۔
اسکا کھانا آیا ۔۔
تو اس لڑکی نے اسکے کھانے میں نشے سے بھری ادویات ملا دیں ۔
اب دیکھتی ہو میر سہراب خان مجھے کیسے نظر انداز کرتے ہو “
وہ مسکرائ اور ایکطرف بیٹھ گئ
کھانا آتے ہی سہراب نے شوٹ چھوڑ دیا تھا
اور وہ کھانا کھانے لگا ویسے بھی شوٹ کا ٹائم بھی ختم ہو رہا تھا
علینہ اسکے پاس بیٹھی تھی اسکو آگے کا سب سمجھا رہی تھی کہ کتنے دنوں میں انھیں کراچی سے اسلامہ آباد جانا ہے اور اسکے بعد وہ ہوسکتا ہے ملک سے باہر بھی جائیں ۔
سہراب کا دھیان اسپر نہیں تھا وہ کھانے میں مگن تھا وہ لڑکی توجہ سے سہراب کو دیکھ رہی تھی
سہراب اپنی ڈرسنگ وین میں ا گیا تو اسکے گارڈز باہر کھڑے تھے جبکہ اسکا سر چکرا رہا تھا اسکےمو سر گھومتا ہوا محسوس ہوا
تو لگا کے گھر جانا چاہیے تبھی وہ ۔
اپنی جیپ لے کر گھر کے لیے نکلنے لگا مگر اس سے ڈرائیونگ نہیں ہو پا رہی تھی ۔
علینہ اسے ڈھونڈ رہی تھی مگر اندر کہیں نہیں ملا تو جب وہ باہر نکلی تو سہراب جیپ میں آنکھیں بند کیے لیٹا تھا جبکہ اسکی جیپ ڈرائیو فرا کر رہی تھی جو اسکی کو پاٹنر تھی
علینہ اندر تک جھلس گئ جلدی سے گاڑی لے کر وہ بھی انکے پیچھے نکلی تھی ۔
سہراب فرا کو دیکھ رہا تھا
فرا سمجھہ رہی تھی اسپر نشہ چڑھنے لگا ہے
تمھارا گھر کہاں ہے ہنی”
وہ پیار سے بولی سہراب ایکدم اٹھا
تم۔۔۔۔تم نے کچھ ملایا ہے “
وہ گھومتے سر کے ساتھ اسپر طنزیہ ہنستا بولا ۔
سوئیٹ ہارٹ مجھے کوئ مڑ کر نہ دیکھے ایسا تو کبھی ہوا نہیں اور اگر آج ایسا ہو گیا تھا تو تمھیں میں نے اپنی طرف موڑ لیا جسٹ ریلکس ہم تھوڑا سا وقت ساتھ گزاریں گے تو تم مجھے ہی مڑ کر دیکھو گی”
وہ ہنسی جبکہ سہراب بھی ہنس دیا ۔
اسکیا فلیٹ ا گیا تھا ۔
سہراب کو سہارا دے کر وہ اسے اندر لے آئ تھی اندر آ کر اسکا دل ہی گھبرا گیا ۔
وہ فلیٹ ایک ماڈل کا تو نہیں لگ رہا تھا کتنا عجیب لگ رہا تھا ہر طرف کباڑ ہی کباڑ ۔
وہ البتہ اگنور کر کے سہراب پر فوکس کرنے لگی
تو میر سہراب خان “
اسنے اسکی گردن میں بازو ڈال لیے وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت قریب تھے
فرا شیخ ” وہ مسکراہٹ میں ڈھلے ہونٹوں کو ایکدم سکیڑتا بولا
اسکے قدم لڑکھڑا رہے تھے
فرا نے اسکے گھنے بالوں میں اپنی انگلیاں چلائیں۔
سہراب نے سر اوپر کیطرف اٹھا کر آنکھیں بند کیں اور گھیرہ سانس بھرا ۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم ابھی کچھ لمہوں میں شدت سے پچھتانے والی ہو “
وہ اسکے گال پر جھکتا اسکی خواہش کا احترام کرتا بولا تھا
فرا تو خوش ہو اٹھی وہ مکمل نشے میں دھت جو ہو گیا تھا
سہراب نے اسے کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا
میں اس پچھتانے کو پچھتانا نہیں کہتی سہراب علی خان “
وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتی اس سے پہلے اسکے اسی زخم کو دیوانہ وار چھوٹی ۔
کہ سیراب نے اسکی گردن جکڑ لی اپنی مظبوط انگلیوں سے اسکی گرد پر دباؤ بھرا دیا
فرا کی آنکھیں ایکدم پھٹ گئ ۔
میرے چہرے سے دور رہو “
وہ پھنکارہ ۔
حالانکہ وہ غصہ نہیں کرتا تھا مگر آج تک اسکا چہرہ کسی نے چھوا نہیں تھا ۔
اور نہ ہی سہراب کو پسند تھا
اگر فرا ایسا کچھ چاہتی تھی تو اسے نشہ دینے کی ضرورت نہیں تھی وہ ویسے بھی اسکی خواہش کو پورا کر سکتا تھا
مگر نشہ دینے کے بعد وہ اپنی کیفیت کو کمپوز نہیں کر پا رہا تھا جو تھا جیسا تھا نیچرل تھا
فرا نے اس سے اپنی گردن چھڑائ
تم کتنے مظبوط ہو مائے اینگری مین”
وہ مسکرائ ۔
سہراب بھی ہنس
اور ایکدم فرا کو واشروم میں دھکیل دیا
فرا کو لگ رہا تھا سہراب کا نشہ اسپر جان لیوا انداز میں چڑھ رہا ہے اسنے۔۔۔
اپنی شرٹ کا اوپری بٹن کھول دیا البتہ سہراب نے اسکے بال پکڑے ۔
اور ۔۔۔ بڑی ادا سے مسکرا کر بے ساختہ اسنے فرا کا منہ پانی سے بھرے باتھ میں ڈال دیا
فرا پھڑپھڑا اٹھی
وہ خود کو چھڑانے کی کوشش میں پاگل ہو رہی تھی مگر سہراب اسے چھوڑ نہیں رہا تھا
فرا فرا فرا ۔۔۔تمھیں سہراب خان چاہیے تھا تو خوشی سے مانگتی یہ مجھے چیٹ کرنے والی بات پسند نہیں آئ ۔
کھل کر کہتی تو سیراب خان ضرور تمھاری خواہش کا احترام کرتا مجھے پیچھے پشت پر کیے گئے وار نہیں پسند
اور سہراب خان دن رات دن رات اتنا مزہ کرتا ہے کہ تمھاری اس کوکین سے م پر لمہوں کا اثر ہی ہوا ہے ۔۔”
وہ آہستہ آہستہ بولتا بلکل سائیکو لگ رہا تھا
ایکدم علینہ نے اسکا ہاتھ کھینچا اور فرا کھانسی ہوئ چیختی ہوئ دور جا گیری
پاگل ہو گئے ہو “
علینہ نے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا
سہراب نے سر جھٹکا
ہلکا سا مسکرایا اور اٹھ کر باہر نکلتا کہ
مراد خان کو سامنے دیکھ کر اسکی آنکھوں میں سرخیاں ترا گئ
مگر وہ کچھ کہہ نہیں پایا تھا کہ مراد خان نے بھی اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ دے مارا
اور سہراب کو لگا ایک بار پھر چودہ سالہ سہراب خان کے منہ پر تھپڑ لگا ہو ۔
علینہ نے کئ بار اسکے منہ پر اسکے اسی جنون کے سبب اسے مارا تھا ۔
مگر اسے برا نہیں لگا مراد خان کا تھپڑ اسکی آنا پر کھینچ کر پڑا تھا فرا چیخ رہی تھی چلا رہی تھی زور زور سے ۔۔۔۔
سہراب ۔۔۔۔ مراد خان کو گھور کر دیکھ رہا تھا
وہ غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا وہ کبھی غصہ کرنا نہیں چاہتا تھا مگر یہ شخص اسے بار بار بار بار مجبور کر رہا تھا اور وہ خائف تھا اس معاملے میں خود سے بھی
مراد خان کو دیکھتے ہی دیکھتےاسنے علینہ کی گردن جکڑ لی
اور جیسے مرادخان کی ساری شدتیں علینہ کی گردن کو دبا کر نکلنے لگا
پاگل کتے ہو تم سہراب خان جنگلی جانور ہو جانور جو ہر کسی وہ کاٹنے کو دوڑ رہا ہے مجھے افسوس ہے کہ میں نے تم جیسے نالائق اور لوزر کو دنیا میں پھینک دیا ۔
تم سنبھالے نہیں مزید لوزر بن گئے ہو میری نظر میں ۔
شیٹ آپ”
وہ دھاڑا
علینہ نے پہلی بار اسکے دھاڑنے کی آواز سنی تھی
اور اس سے پہلے سہراب جانور بن کر اپنے باپ کا لحاظ بھولتا ایکدم علینہ آگے ا گئ ۔
وہ وہ اس وقت نارمل نہیں ہے انکل آپ جو بھی ہیں میں نہیں جانتی سہراب کے والد ہیں یہ کوئ اور ۔
جو ابھی اس وقت وہ ہوش میں نہیں ہے ورنہ ایسا رویہ کبھی کسی کے ساتھ نہیں رکھتا وہ اسے کبھی غصہ نہیں آتا اور آپ مزید اسے غصہ مت دلائیں جب اسکا غصہ اترے گا وہ نارمل بیہیو کرے گا آپ جائیں یہاں سے “
علینہ بولی
ہٹ جاؤ تم میرے راستے سے بتانے دو آج تم مجھے نھیں سمجھتے کیا ہیں یہ خود کو ۔
اگر میں لوزر ہوں تو یہ بھی میرا باپ بھی لوزر ہے کہ اسنے میری جیسی اولاد کو جنم دیا ہے “
وہ اپنے باپ کا گریبان جکڑتا چیخا جبکہ مراد خان اسکی آنکھوں میں دیکھتے رہے ۔
مجھے بھی خود سے اتنی ہی نفرت ہے مراد خان جتنی تمھیں ہے تو پیدا کیوں کیا ۔۔۔ دنیا میں پھینکنے کے لیے آخر مجھے”
اسنے مراد خان کو دور دھکا دیا
پلیز پلیز جائیں آپ یہاں سے”
علینہ نے اسے پکڑ لیا ۔
دفع ہو جاؤ اور دوبارہ شکل مت دیکھانا خود غرض انسان اپنی غرض کے لیے آج مجھے ڈھونڈ نکالا سالے نے”
سہراب”
علینہ نے اسکے بکھرتے بڑھاتے وجود کو دونوں بازوؤں میں سما لیا تھا
چھوڑو مجھے”
وہ اسے بھی دور کرنے لگا فرا تو کب کی بھاگ اٹھی تھی
اوکے ریلکس ریلکس وہ جا چکے ہیں”
علینہ اسکی کیفیت دیکھ رہی تھی
شاید اسے اس دنیا میں اسکے علاؤہ کوئ نہیں سنبھال سکتا تھا
وہ اسکی گود میں ہی نیند کی وادیوں میں اتر گیا
ج۔۔۔جان جان سے مار دوں گا میں فر۔۔۔فرا کو اس۔۔۔اسنے مجھے سونے پر۔۔۔۔م ۔۔مجبور کیا۔۔کیا ہے”
وہ ایکدم غنودگی میں اترتا بولا اور اسکی گود میں ہی سو گیا ۔
علینہ نے فکر سے اپنا بجتا ہوا ڈیل فون دیکھا ۔
یقیناً رضا کی کال ہو گی ہاں وہ اسکا شوہر تھا جس سے زیادہ علینہ سہراب خان کے لیے جان دینے کو بے چین تھے ہاں وہ اسکے ساتھ پیچھلے سات سالوں میں تھی اور وہ اسکی ہر کیفیت سے واقف تھی ۔
بعض اوقات ڈر جاتی تھی بعض اوقات وہ سنبھلتا نہیں تھا مگر اسے لگتا تھا سہراب خان بس اسکا ہے بنا شادی کے بھی اسکے ساتھ تو کوئ لڑکی ہو ہی نہیں سکتی ۔
وہ سہراب خان کو سنبھال بھی سکتی تھی اور اسکا حسین چہرہ
اپنے مقصد کے لیے کیش بھی کر سکتی تھی
رضا کی کال اٹھا کر اسنے تھوڑی دیر تک آنے کو کہا ۔
اور فون بند کر دیا وہ وہیں اسکے پاس بیٹھی اسکا چہرہ دیکھنے لگی وہ اسکی گود میں سر رکھے گھیرے سانس لے رہا تھا
علینہ دیوانہ وار اسے دیکھتی رہی
کاش کاش وہ مان جاتا تو آج وہ اسکی بیوی ہوتی مگر اسنے نہیں مانا اور علینہ نے جزباتی ہو کر شادی کر لی
آج وہ پچھتاتی تھی کہ جب اسے اسکے ساتھ ہی رہنا تھا تو شادی کیوں کر لی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مراد خان چپ چپ سے تھے جب سے گھر لوٹے تھے بلکل خاموش تھے نہ وہ کچھ بول رہے تھے اور نہ ہی کھانا کھایا تھا ۔
سب کو لگ رہا تھا وہ اپنے والد کی وجہ سے پریشان ہیں اسکی بیوی نے اپنے دونوں بچوں کو اکٹھا کیا اور اسکے پاس لے آئیں
دیکھو زرا تمھارے ڈیڈ کو کیا ہوا ہے کیسے چپ ہو گئے ہیں کھانا بھی نہیں کھا رہے”
وہ بولیں کچھ فکرمند تھیں
یقیناً انھیں اپنے ہونہار سہراب علی خان کا غم لگا ہے کیوں ڈیڈ”
مرتضیٰ نے سیب اٹھا کر اچھالتے ہوئے اسنے منہ میں بائیٹ لی اور باپ کیطرف دیکھا
حقیقت تو یہ ہی تھی کہ سہراب کی وجہ سے وہ زندگی میں پہلی بار ڈسٹرب ہوئے تھے کہ اسکی باتوں نے گویا انھیں اس طرف لا پٹخا تھا جس طرف۔سے آنکھیں بند کر لیں تھیں انھوں نے کس لیے اور کیوں ۔
کیا سوچ کر اپنے وجود کے ایک حصے کو دنیا کی بھیڑ چال میں پھینک دیا
لیکن آج اگر اس بات کا اظہار وہ ان سب کے بیچ کرتے تو وہ سب انکا مذاق بنا دیتے ۔
کیسے باپ تھے وہ اپنی ہی اولاد کے احساس کا اظہار بےعزتہ کا احساس لگ رہا اتھا وہ چپ ہی رہے
میری طبعیت نہیں ٹھیک
مل جائے گا مل جائے گا ڈیڈ آپکو وہ لوزر کیوں فکر مند ہیں آپ ۔ فکر تو ہمیں کرنی چاہیے وہ ایمپرفیکٹ لڑکا صرف دادا کی بقیہ بچی سانسیں نکلوانے کے لیے یہاں آ رہا ہے خیر آپ نے اس سے وہ پراپرٹی بھی میرے نام کرانی ہیں”
اسنے یاد دلایا
مرتضی جاؤ یہاں سے”
وہ سنجیدگی سے پہلی بار اس سے بولے تھے مرتضی حیرانگی سے باپ کو دیکھنے لگا یہ ہی حال ماہین اور انکی بیگم کا تھا
بلکہ تم سب جاؤ یہاں سے مجھے کچھ دیر ریسٹ کرنا ہے جسٹ لیو می الون”
وہ اپنی طرف کی لائیٹس بند کرتے لیٹ گئے تھے مرتضی کا چہرہ بے عزتی محسوس کر کے سرخ ہو گیا وہ سب خاموشی سے باہر نکل آئے
ریلکس مائے چائیلڈ ابھی درانی کی فیملی آنے والی ہے تم خود کو ریلکس رکھو
اور انکی فکر نہ کرو اپنے پاگل باپ کی وجہ سے یہ بھی پاگل پاگل سے ہو گئے ہیں تبھی ایسا بیہیو کر رہے ہیں”
مام میں نے کبھی کسی کا ایسا بیہیو برداشت نہیں کیا ہے تو بہتر ہے ڈیڈ کو سمجھا دیں کہ مجھ سے ایسا رویہ نہ کریں”
وہ بولا تو لہجے میں سختی تھی اسکی ماں نفی میں سر ہلانے لگی
میں تو حیران ہی ہوں۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمھارے باپ کو “
وہ تھکی تھکی سی بولیں
اگنور کریں جو بھی ہو گا سامنے ا جائے گا فلحال مرتضی پر دھیان دیں اسکا موڈ آف ہو چکا ہے “
ماہین بولی تو وہ مرتضی کے روم میں چلی گئیں ماہین کو اسکے بولنے کی آوازیں باہر تک سنائ دے رہی تھی اسے ڈیڈ پر غصہ آیا تھا اچھا بھلا موڈ انھوں نے مرتضی کا خراب کر دیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درانی کی فیملی کے ساتھ ڈنر بہترین گزرا تھا ۔
ڈنر کے بعد مرتضی کی طبعیت بھی بہتر لگ رہی تھی وہ اپنی شاندار پرسنلٹی اور بہترین آئ کیو لیول سے فاطمہ کو بہت پسند آیا تھا
جبکہ دوسری طرف مرتضی کو بھی فاطمہ اچھی لگی تھی اچھا سٹیٹس تھا اسکا ۔
اور اسکے ساتھ ایک اونچے سٹیٹس کی ہی لڑکی سوٹ کر سکتی تھی ۔
وہ مطمئین سا تھا ۔
درانی کی فیملی کے جانے کے بعد وہ خود سے ڈیڈ کے پاس آیا مگر ڈیڈ موجود نہیں تھے
اسنے ماں سے پوچھا ۔
مگر انھیں بھی کچھ پتہ نہیں تھا
وہ باہر آیا
تو ڈیڈ سامنے سے آتے نظر آئے اتنی دیر جتنی دیر درانی فیملی یہاں تھی وہ گھر پر نہیں تھے عجیب ہلچل سی اسنے محسوس کی تو لاونج سے باہر لون کیطرف ا گیا
اور پورے سات سالوں کے بعد اسنے سہراب علی خان کو دیکھا
تھا اور ایک جھلک دیکھتا رہ گیا ۔
چھ فٹ سے نکلتا قد جو چھ آدمی بھی نہیں سنبھال پا رہے تھے بکھرے بال کھلی شرٹ سے اسکے سکس پیکس نظر ا رہے تھے ۔۔۔
دو آدمی اسے بمشکل لے کر اندر آئے اور اسے صوفے پر لیٹا دیا وہ تینوں بلکل ساکت کھڑے تھے ۔
ماں بہن بھی اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے ۔
جبکہ مراد خان کا انداز بہت مختلف تھا ۔
وہ سہراب کے ہاتھ پاؤں کو ٹھیک کر رہے تھے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔
اور عجیب سی انکے انداز کی ہلچل وہاں کھڑے سب لوگوں کو سن کر گئ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continued…….