Rate this Novel
Episode 01
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرم چائے کا کپ اسکے ہاتھ پر پھینک کر وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ دے مارا ۔
جبکہ وہ بچہ حیرانگی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا اسنے ایسا بھی کچھ نہیں کیا تھا کہ اسکے ہاتھوں کو چائے سے جلا دیا جاتا یہ پھر اسکے منہ پر تھپڑ مارا جاتا
ہزار بار کہا ہے کام میں دل لگاؤ ۔۔ ایک چائے تم سے بنتی نہیں کرو گے کیا تم زندگی میں بلڈی لوزر” وہ دھاڑے تو وہ چودہ سالہ بچہ سر جھکا گیا
اپنی چودہ سالہ عمر میں یہ بات اسنے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھیرتے ماں سے باپ سے دادی سے دادا سے بہن سے بڑے بھائ سے تایا چچا غرض ہر رشتے سے سنی تھی
وہ حساسیت سے ڈبڈبائ آنکھوں سے باپ کو دیکھنے لگا
جو ڈی آئ جی تھا ۔
پولیس محکمے کا اتنا بڑا اور اونچا نام کہ انکے ہاں نوکروں کی ایک بے شمار تعداد تھی ۔
مگر اسکا نائنتھ کا ریزلٹ بے حد برا آیا تھا وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ پڑھنا نہیں چاہتا تھا وجہ یہ تھی کہ وہ پڑھ نہیں پاتا تھا
وہ میتھس نہیں پڑھ پاتا تھا اسے کیمسٹری سمجھہ نہیں آتی تھی اسے انگلش بولنے میں انگلش پڑھنے میں پریشانی ہوتی تھی
حالانکہ وہ شہر کے سب سے بڑے سکول میں پڑھتا تھا ۔
سب سے زیادہ فیس اسکی تھی انکے حلقہ احباب میں مگر نہ ہی سکول میں اسکے کنسیپٹس کلئیر ہوئے اور ٹیوٹر کوئ نہیں تھا ۔ اسکے بہن بھائ بہت اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوتے تھے بھائ نے کامرس میں ٹاپ کیا تھا جبکہ بہن سی آئے کر رہی تھی وہ کافی چھوٹا تھا ان سے مگر اسکی مدد کے لیے گھر پر کوئ نہیں تھا اور ٹیوٹر رکھنے پر بھی اسے یہ ہی سننے کو ملتا تھا کہ وہ اپنے بڑے بہن بھائیوں سے کچھ سیکھے ۔
اسکا ریزلٹ برا آیا۔۔۔ برا ایسا تھا کہ ڈیڈ کی پسند کے نمبر وہ حاصل نہیں کر سکا تھا اور اسی وجہ سے ڈیڈ نے اپنے پرسنل ملازم کو ہٹا کر اسے ملازمت کے لیے رکھ لیا تھا اور یہ اسکی سزا تھی ۔
وہ بہت رویا تھا اسے چائے بنانی نہیں آتی تھی اسے جوتے پولیش نہیں کرنے تھے اسے ڈیڈ کے تھپڑ نہیں کھانے تھے مگر سب گھر والے متفق تھے کہ اسکے ساتھ یہ ہی ہونا چاہیے تو اسے سزا کے طور پر یہ سب کرنا پڑ رہا تھا
ڈیڈ ڈیڈ ایم سوری پلیز میں اب اچھا پڑھو گا بہت محنت کروں گا بہت زیادہ محنت کروں گا پلیز میری سزا ختم کر دیں ” “وہ دل برداشتہ سا بولا اسکے آنسو گال پر گیر رہے تھے جبکہ اسکے والد نے اسے دور جھٹکا
جس لائق تم ہو تمھیں اسی لائق رکھ رہا ہوں آج اگر چھوٹ دے دی تو زندگی میں کچھ نہیں بن پاؤ گے ساری زندگی لوزرز کیطرح میرے سہارے پڑے رہو گے ۔” “وہ چیخے ۔۔
جبکہ اتنے میں ہی اسکی مام ا گئ
اب کیا کر دیا اس لوزر نے” وہ ہنسنے لگیں وہ سب اسے ٹیز کر رہے تھے جبکہ وہ چودہ سالہ بچہ سر جھکائے کھڑا ہو گیا اسنے اپنے ہاتھوں کو سختی سے بند کر لیا تھا اور وہ گھبراہٹ اور کنفیوژن سے دھورا ہو رہا تھا
معافی مانگ رہیں ہیں آپکے شہزادے مجھ سے ۔ ” “ڈیڈ نے سر جھٹکا اور فائلز اٹھا لی
اس کو معافی بھی مانگنی آتی ہے یہ ایک لفظ تو ڈھنگ کا بول نہیں سکتا ہماری سوسائیٹی میں موو نہیں کر سکتا ” “مام کو الگ غصہ تھا
اتنے مہنگے سکول میں پڑھانے کا کیا فائدہ ہوا کہ اب تک تم گھر میں اردو بولتے ہو انگلش نہیں ماہین اور مرتضی کو دیکھو کس طرح روانگی سے وہ بولتے ہیں جیسے ابروڈ سے پڑھیں ہو ” “اسکی ماں نے بھی اسے دھکیلا اور غصہ نکالا
بس یہ صاحب زادے جس لائق ہیں انھیں وہی نوکری مل گئی ہے ۔
جاؤ اب یہاں سے “”وہ بولے اس بچے نے ماں باپ کیطرف دیکھا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
مام پلیز”
شیٹ آپ”
وہ غصے سے بھڑکیں ناؤ گیٹ لاسٹ” “وہ اسے باہر کا راستہ دیکھانے لگی
تمھیں دیکھ کر میرا بی پی شوٹ کرتا ہے جسٹ لیو ناؤ ” وہ عاجز ا کر بولیں تو وہ مردہ قدموں سے وہاں سے واپس چلا گیا
اپنے کمرے میں آ کر وہ بری طرح رویا تھا اسکی ویڈیو گیمز اسکی باسکٹ بال اسکا سارا سامان کمرے سے نکال دیا تھا یہاں تک کے ٹی وی موبائل کچھ نہیں تھا
اسنے کتابیں اٹھا لیں وہ پڑھے گا خوب پڑھے گا
اسے کیوں نہیں سمجھہ آتی یہ سب ” وہ کتابوں پر سر ڈال کر پھر سے رونے لگا
اوئے لوزر میرے دوست آ رہے ہیں ۔۔ ڈرنک تم نے سرو کرنی ہے ۔۔۔ “
“اچانک دروازہ کھولا اور مرتضی نے کہا ۔
میں نہیں کروں گا میں کیوں کرو ” وہ آنسو صاف کرتا بولا
کیونکہ ڈیڈ نے تمھیں یہ سزا سنائی ہے اور پتہ چلنا چاہیے سب کو تم کتنے بڑے لوزر ہو” “وہ اسکو کہتا ہنستا ہوا باہر نکل گیا جبکہ وہ بچہ پھر سے رونے لگا
اسے یہ اب نہیں کرنا تھا وہ ڈیڈ کا اچھا بیٹا بننا چاہتا تھا وہ اب پڑھے گا تو اچھے نمبر حاصل کرے گا مگر کوئ بھی اسے پڑھنے نہیں دیتا تھا وہ اٹھ گیا مرتضی ڈیڈ کو شکایت لگاتا تو اسے مار پڑتی اور ابھی وہ تھپڑ کھا کر اتنا رو رہا تھا بعد میں کیا ہوتا وہ اٹھ کر ایا
نوشین آنٹی انکی ملازمہ تھیں وہ اسکو دیکھ کر مسکرائیں ۔
ارے بابا تم یہاں کیا کرتا ہے ۔۔۔ ام دے دے گا مرتضی بابا کو فریشمنٹ” “وہ ہمیشہ اس سے پیار سے مخاطب ہوتی تھیں
نوشی آنٹی ” وہ نم انکھوں سے انھیں دیکھنے لگا
وہ اسکیطرف بڑھیں
آپ مرتضی کو بابا مت کہا کریں یا پھر مجھے مت کہا کریں” “وہ پاؤں کے انگوٹھے سے زمین پر سطر کھینچتا بولا ۔
ارے ام تو اپنے بابا کو ہی بابا کہے گا اتنا پیارا گول مٹول سا ہے تم کو پتہ ہے جب تم ہوا تھا صاحب بہت خوش تھا بہت ” “وہ مسکرا کر بتانے لگیں
سب جھوٹ ہے آپ یہ ہی باتیں بتاتی ہیں جبکہ وہ مجھ سے بہت نفرت کرتے ہیں ” “وہ بولا تو تھوڑا غصہ سا محسوس ہوا
ایسا نہیں ہے بابا وہ شاید سخت ہیں بس” نوشین نے سمجھانا چاہا
وہ سخت نہیں ہیں وہ دوسروں کو نیچا دیکھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں بھلے سامنے انکی اولاد ہی کیوں نہ ہو ” اسنے کہا اور غصے سے وہ ٹرالی گھسیٹتا ہوا مرتضیٰ کے دوستوں میں لے آیا
پہلے تو ہال روم میں مرتضی سمیت سب کا قہقہہ نکلا تھا ۔
یار یہ کیا نوکری کرنے لگا ہے تیرا بھائ مرتضی” “وہ سب بولے ۔
یہ لوزر یہ ہی ڈیزرو کرتا ہے بلکہ ڈیڈ نے کہا ہے اگر او لیول کا ریزلٹ اچھا نہ آیا تو ۔۔۔ اسے گھر سے نکال دیں گے سڑکوں پر بھکاریوں کیطرح مانگتا پھیرے گا ” مرتضی ہنسا اسکے دوست بھی ہسننے لگے جبکہ سامنے کھڑے بچے کو شدید غصہ آیا تھا ۔
اور اسنے اسی طرح جس طرح اسکے باپ نے چائے کا کپ پھینکا تھا وہ کپ مرتضی کے منہ پر پھینک دیا
مرتضی کے خوبصورت خوبرو چہرے پر کپ کے ٹوٹنے سے نشان پڑا اور خون نکلنے لگا
میں نہیں جاؤں گا کہیں میں لوزر نہیں ہوں اور نہ بھکاری ہوں ” وہ روتے ہوئے چیخا اور وہاں سے گھبرا کر بھاگ گیا مرتضی کی چیخیں گھر میں گونجنے لگیں اسکے دوستوں نے مرتضی کو پکڑا اور اسکے ڈیڈ کو بلانے لگے ۔
جبکہ وہ بچہ اپنے کمرے میں بند ہو گیا وہ پتے کیطرح کانپ رہا تھا ۔۔
اسے ڈر لگ رہا تھا ڈیڈ سے وہ اب اسے ماریں گے اسے اندھیرے میں قید کر دیں گے اس سے گھر کا مزید کام لیں گے ۔
برتن دھلوائیں گے کپڑے دھلوائیں گے اسنے ایسا کیوں کیا
مرتضی اسکا بھائ تھا ۔
اپنے غصے پر ہی افسوس ہونے لگا وہ غصہ نہیں کرے گا وہ کبھی غصہ نہیں کرے گا ڈیڈ اسے معاف کر دیں مرتضی اسے معاف کر دے ۔
وہ روتے ہوئے بس یہ سوچ رہا تھا ۔
جبکہ کچھ ہی دیر میں اسکے روم کا دروازہ دھڑ دھڑ بجا ۔
دروازہ کھولو میں تمھاری ٹانگیں توڑتا ہوں بھائ کا منہ برباد کر دیا ” “وہ باہر سے چیخ رہے تھے
ائ۔۔۔ائ ایم سوری ڈیڈ” “وہ دروازہ کو کھولے بنا روتے ہوئے بولا
انھوں نے اتنے تہذیب دار ہونے کے باوجود اسے بہت گالیاں دیں تھیں اسکی ماں بھی چیخ رہی تھی اور وہ اتنا خوف زدہ تھا اسکا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا
اور اچانک اسکے روم کی ایک ایک چیز بند ہو گئ
اور کمرے کو باہر سے ہی لاک کر دیا یعنی اسکی سزا شروع ہو گئ تھی
اسکے کمرے میں گھپ اندھیری ہو گیا اسے ڈر لگ رہا تھا
آئ ایم سوری ڈیڈ میں اب اچھا بیٹا بنو گا پلیز مجھے معاف کر دیں”
ہمیشہ اندھیرے سے وہ ذہنی طور پر مفلوج سا ہو جاتا تھا
اور اسکی کمزوری سے سب ہی واقف تھے تبھی اسے یہ سزا دی گئ تھی اسنے غلطی بھی بڑی کی تھی مگر کسی نے بھی مرتضی کی غلطی کے بارے میں نہیں سوچا تھا کہ وہ کس طرح اسے ٹیز کر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی سزا پورے دس دن بعد ختم ہوئ تھی نہ ہی دس دن تک اسکے کمروں میں روشنی ہوئ نہ ہی کوئ اسکے پاس آیا اور نہ ہی کسی نے اسکا حال احوال پوچھا
نوشین آنٹی اسے کھانے کو دیتی رہیں تھیں کسی کو اسکے نہ ہونے کی پرواہ بھی نہیں تھی
جبکہ نوشین کا دل بیٹھتا تھا یہ کیسا ظلم تھا جو اس گھر کے لوگ اس معصوم بچے پر کر رہے تھے وہ بہت غمگین ہوتی تھیں اور نہ جانے اس بچے سے محبت سی ہو گئ تھی ۔
وہ اسے کھانا دیتی تھی وہ کھا لیتا تھا مگر بولتا کچھ نہیں تھا نوشین آنٹی نے بہت بار اسے کہا کہ وہ یہاں سے باہر نکلے مگر وہ ایک لفظ نہیں بولتا تھا
اور انھیں بہت فکر تھی وہ ذہنی طور پر اس اندھیرے میں بہت ڈسٹرب ہو چکا تھا
دس دن بعد اسکے والد آئے اور اسے گھسیٹ کر باہر نکالا تو دس دن بعد بھی اسکے منہ پر دو تھپڑ پڑے تھے
کیا کیا ہے تم نے بھائ کے ساتھ تمھیں احساس ہے” “وہ دھاڑے تھے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا
س۔۔۔سو۔۔سوری ۔۔سوری” وہ سسکتا ہوا معافی مانگ رہا تھا
مائے فٹ “وہ چیخے اور اسے دور دھکیل دیا
تمھاری سوری سے اسکے منہ پر لگا نشان ہٹ جائے گا دس دنوں سے اسکے منہ پر سے اس نشان کو ہٹوانے کے لیے کہاں کہاں نہیں گیا میں مگر مگر تمھاری وجہ سے تم پیدا ہی کیوں ہوئے تھے جلتے ہو اپنے بھائ سے تم بلڈی لوزر جلتے ہو تم اس سے تبھی تم نے یہ سب کیا ہے جب تم خود کچھ نہیں کرسکتے ایک زمین پر رنگتے بس کیڑے کیطرح تم رینگ رہے ہو اور تم نے اپنے بھائ کے ساتھ یہ سب کیا ہے جان بوجھ کر باسٹرڈ” وہ اسپر چیخ رہے تھے گالیاں دے رہے تھے اور وہ اسے جتنا سنا سکتے تھے اور مار سکتے تھے انھوں نے سب کچھ کیا اور وہ بچہ ایک بات ہی دھراتا رہا س۔۔۔ سوری سوری کہتا رہا اور وہ روتے روتے زمین پر بیٹھ گیا اسنے ارد گرد دیکھا اسکے والد جا چکے تھے ۔
تبھی اسے سامنے سے اسکی ماں اندر آتی دیکھائی دی تھی
مما مما ” وہ دوڑ کر کسی معصوم چڑیا کے بچے کیطرح انکے سینے سے لگ کر بری طرح رونے لگا
میں آپکا برا بیٹا نہیں ہوں مما میں برا بیٹا نہیں ہوں میں اب کوئ برا کام نہیں کروں گا میں آپکا اچھا بیٹا بن کر رہوں گا میں اب اچھے نمبر لوں گا میں کسی سے بدتمیزی نہیں کروں گا مما پلیز مجھ سے بولیں نہ” “وہ روتا رہا جبکہ اسکی ماں سپاٹ نظروں سے کھڑی اسے دیکھتی رہی
یہ جو تم نے اپنے بھائ سے حسد رکھی ہوئ ہے نہ سینے میں اسے ختم کرو پہلے” وہ اسے دور دھکیل کر بولی۔
تم کبھی میرے اچھے بیٹے نہیں بن سکتے خود کو ایک نظر دیکھو تو سہی کس قدر لوزر ہو تم اور اسی بات کی حسد میں تم نے اپنے بھائ کے ساتھ یہ سب کیا ہے ” وہ اسے ڈانٹ کر بولیں
میں بھیا سے حسد نہیں کرتا وہ ۔۔وہ مجھے لوزر کہہ رہے تھے انکے دوست ہنس رہے تھے وہ میرا مذاق بنا رہے تھے
تو تم ہو لوزر تم ہو لوز ۔۔۔۔
پتہ نہیں تم میرے بیٹے کیسے بن گئے تمھیں میں نے کیسے پیدا کر دیا ” وہ بھڑک کر کہتی وہاں سے چلی گئیں جبکہ وہ بھاگ کر دوبارہ اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ شکر تھا اسکے کمرے کی لائٹس کھول دی گئیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کے پانچ سال مزید ایسے ہی گزرے تھے وہ انیس سال کا تھا ان پانچ سالوں میں کچھ نہیں بدلا تھا اسنے ہر ممکن طریقے سے باپ بھائ بہن ماں اپنے رشتوں کے قریب ہونے کی کوشش کی باپ کو خوش کرنے کے لیے دن رات پڑھائ میں لگا اچھے مارکس لے کر آتا مگر اسکے ریزلٹ اسکی پوزیشنز اور اسکی کامیابی سے کسی کو غرض نہیں تھی وہ چاہتا تھا کہ مرتضی کیطرح اسکا باپ اسے بھی گلے لگائے اور اسپر بھی فخر محسوس کرے مگر انھوں نے اسے بلکل اگنور کیا ہوا تھا مرتضی کے چہرے پر پڑا نشان اب وقت کے ساتھ بلکل ٹھیک ہوتا جا رہا تھا یہاں تک کہ دیکھتا بھی نہیں تھا اسنے اپنے بھائ سے بھی بہت معافیاں مانگیں تھیں مگر مرتضی نے اسے معاف نہیں کیا تھا اور اسکے باپ نے مرتضی کا چہرہ ٹھیک کرانے کے لیے جیسے دن رات ایک کر دیا تھا ۔
مرتضی ایک پرفیکٹ مین تھا خوبصورت چارمنگ ڈگیرز کا انبار اور شاندار جاب۔
وہ آئیڈیل تھا اسکے باپ کا فخر تھا جبکہ سہراب کے بارے میں اس گھر میں ایک لفظ بھی کوئ بات نہیں کرنا چاہتا تھا اور اسی شدت سے وہ رشتوں کا بھوکا تھا جس شدت سے اسے اگنور کیا جاتا تھا
پھر ان پانچ سالوں میں بدلہ کچھ نہیں تھا بس اتنا ہوا تھا کہ مرتضی نے اپنے چہرے پر مارے گئے کپ کا بدلہ اس سے لے لیا تھا
سہراب کے آنکھ کے نیچے ایک بہت بڑا کٹ کا نشان تھا جو کہ تقریبا سال پہلے مرتضی کی وجہ سے اسے چوٹ لگی تھی۔
مرتضی اس دن کے بعد اس سے مزید نفرت کرنے لگا تھا مگر باپ کی نظروں میں اور بھی اچھا بن گیا تھا تبھی کچھ سکون تھا مگر جب جب ڈاکٹر اسکے نشان کے بارے میں نہ امید ہوتے تو سہراب کا شاداب چمکتا چہرہ اسکے اندر جلن اور حسد کو اجاگر کرتا جاتا ۔
پھر وقت کے ساتھ باپ کی بے پناہ کوششوں اور محنت سے اسکا نشان تو جاتا رہا مگر اسکے دل سے بھڑاس نہیں گئ اور اسی بھڑاس کے سبب جب سہراب اپنی فٹ بال پریکٹس کے لیے گھر سے اجازت لے کر نکلا تو مرتضی اور مرتضی کے دوست بھی اسکے ساتھ کھیلنے لگے اور انھوں نے سہراب کے منہ پر بال ماری بال بہت بھاری تھی اور اس میں نہ جانے کیسے کیل اٹکی ہوئی تھی جو سہراب کے منہ پر لگتے ہی اسکی ناک سے کے کر اسکی آنکھ کے نیچے تک ایک نشان بنا گئ
مرتضی کے دل کو سکون ملا تھا اور سہراب کی تڑپ کسی کو نظر نہیں آئ تھی سوائے نوشین کے یہاں تک کے اسے ڈاکٹر پر لے جانا بھی کسی نے ضروری نہیں سمجھا مرتضی نے بس اتنا کہا تھا
سوری ڈیڈ ہم تو کھیل رہے تھے میں نہیں جانتا کیل کیسے لگا “
اسکی اتنی ہی بات پر مراد نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا جیسے سمجھہ گیا ہو ۔
کچھ نہیں ہوتا ڈوننٹ واری تم جاؤ تمھارے کل اہم ایگزمیز ہیں ” وہ دن سہراب علی خان کی زندگی کا وہ دن تھا جس میں ایک اٹھارہ سال کا بچہ کسی چھوٹے معصوم بچے کیطرح پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا اتنا رویا تھا اتنا رویا تھا کہ اسے پرواہ نہیں تھی کون سنتا ہے کون نہیں ۔
اسکا دل کرچیوں میں تقسیم ہوا تھا ۔۔
ایک تھپڑ ایک وہ تھپڑ جو اسکا باپ اسکے منہ پر مرتضی خان کے لیے مارتا تھا اگر سہراب کے لیے مرتضی کے منہ پر لگ جاتا اور اسکے بعد ساری زندگی بھی اسکا باپ اسکے ساتھ ویسا ہی رہتا تو وہ شکواہ زبان پر نہ لاتا مگر یہ وہ وقت تھا جو سہراب کی زندگی کا رخ بدل گیا تھا ۔
اسکی بہن اسکی ماں اسکے رشتے اسکے وہ رشتے جن کے لیے وہ تڑپتا تھا کہ کبھی محبت کا احساس اسے دلائیں وہ رشتے اسے ایک نظر دیکھنے بھی نہیں آئے تھے ۔
اگلے دن شاید ان سب کے لیے نیا سہراب کھڑا تھا ۔
اسکے آنسو خشک ہو گئے تھے ۔
اسکا چہرہ سپاٹ ہو گیا تھا اسکے چہرے پر پڑا نشان ہاں سرخ تھا لیکن اس نشان سے کسی کو فرق نہیں پڑتا تھا نہ ہی کسی نے اسکو کچھ کہا نہ تسلی دی نہ ہمدردی کی ۔
اب اسے کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے تھی ۔
تبھی وہ اگلے ہی دن باپ کے کمرے میں داخل ہوا ۔
اور آج جس طرح وہ داخل ہوا مراد علی خان اسکو دیکھنے لگے ۔
میں ہاسٹل جا رہا ہوں ” اسنے بس اتنا ہی کہا ۔
وہاں جا کر تم کیا اکھاڑ لو گے”
وہ طنزیہ ہنسے ۔
سہراب کچھ نہیں بولا ۔
انفارم کیا ہے ” اسنے ترچھی نظر ایک باپ پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا ۔
اسکے ماں باپ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
کس بات کا رویہ دیکھا رہا ہے یہ اگر مرتضی سے لگ بھی گئ تو کیا ہو گیا بھائ ہے اسکا اور اسنے جو کیا تھا بھول گیا یہ لڑکا تم دیکھنا ہمیشہ لوزر ہی رہے گا اور اسکے اندر اپنے بہن بھائ کی حسد یوں ہی رہے گی لکھوا لو تم مجھ سے” مراد بولے سہراب انکے کمرے کے باہر کھڑا یہ سب سن رہا تھا
مجھے تو سخت نفرت ہو گئ ہے اس سے ” اسکی ماں بولی ۔
اور سر جھٹک کر اپنے شوہر کا غصہ ٹھنڈا کرنے لگی ۔
سہراب سیدھا اپنے کمرے میں آیا نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھوں میں نمی ا گئ تھی مگر یہ سب کوئ نئ بات تو نہیں تھی پھر وہ کس لیے روتا وہ بچہ نہیں رہا تھا
وہ ہلکا سا مسکرایا اور اپنے کپڑے اور اپنا ضروری سامان کے ساتھ کیش لیا اور گاڑی لے کر وہ وہاں سے انیس سال کی عمر میں چلا گیا ۔
نہ کسی سے ملا نہ کسی سے بات کی نہ کسی نے اسکو روکا نہ ہی کوئ اسکے پیچھے آیا ۔
سوائے نوشین کے جو تڑپ کر اسکے پیچھے بھاگیں تھیں ۔
اور اسکو جاتے دیکھ اسکی لمبی عمر کی دعا کی تھی ۔
حالانکہ سہراب کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں تھی یہ دو گاڑیاں مرتضیٰ کے لیے تھی مگر آج وہ پہلی بار بغاوت کر کے نکلا تھا اور اب تو اسکی رگوں میں خون کی جگہ بغاوت نے بہنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
