52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

سات سال بعد ……….
ہائے ڈیڈ”
مرتضی نے باپ کی لائبریری میں قدم رکھا وہ اس وقت مکمل سوٹ میں تھا سیاہ رنگ کے ۔۔۔
وہ جاب چھوڑ کر اپنے بیزینس کو ان سات سالوں میں شاندار طریقے سے چلا رہا تھا اور مراد کے لیے اس سے بڑی اور کوئ بات نہیں تھی
اس میں تہذیب تھی گریس تھی تمیز تھی ۔
وہ جہاں جاتا تھا لوگوں کو اپنا بنا لیتا تھا اپنے بے پناہ خوبصورت اخلاق اور پرسنلٹی سے اسکا باپ بہن ماں سب اس سے بہت خوش تھے ۔
اس کی شادی کے لیے بس اب ڈھونڈ پڑتال ہو رہی تھی ۔
اور مراد اسکے لیے دنیا کی سب سے خوبصورت اور پرفیکٹ لڑکی کو چنا چاہتا تھا
اسکو چمکتی آنکھوں سے دیکھ کر وہ مسکرائے اور اسے اندر آنے کی اجازت دی ۔
کیسے ہیں آپ آج ایک میٹنگ تھی بیسٹ گئ ہے کافی منافع بخش تھی” وہ بتانے لگا
میرا بیٹا جہاں ہاتھ ڈالتا ہے سونا ہو جاتا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے مجھے یقین ہے تم کامیابیوں کی منزلوں کو چھو گے”
وہ مسکرا کر بولے تو مرتضی بھی مسکرایا اور انکے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا ۔
ڈیڈ میں چاہتا ہوں یہ سہراب کے نام جو پلاٹ ہے وہ تقریبا میری لوکیشن کے حساب سے بیسٹ ہے آپ اسے میرے نام کر دیں میں وہاں ایک ہوٹل بیلٹ کرانا چاہتا ہوں “
اسکی بات مراد نے کبھی رد نہیں ہی تھی وہ اسکی ہر بات مانتا تھا اور اسکی ہر بات کو بہت اہمیت دیتا تھا یہاں تک کے پورے گھر پر ہی مرتضی کا ہولڈ تھا
اور وہ جس طرح چاہتا یہاں ویسا ہی ہو گا اور ہوتا تھا ۔
سہراب کا پلاٹ ایک وہ ہی چیز مرتضی اسکے نام ہے جو کہ اسکے دادا کی طرف سے ہی اسے ملی ہے بیٹے بہت کچھ ہے تمھارے پاس تو تم ان جگہوں کو استعمال کرو اس جگہ کو چھوڑ دو “
آپ مجھے انکار کر رہے ہیں” مرتضی کا لہجہ اکھڑنے لگا
نہیں بلکل نہیں میرے بیٹے کی جتنی اہمیت ہے او سہراب کی اتنی اہمیت نہیں ہے مگر تم جانتے ہوئے بابا جان کا سہراب کے جانے کے بعد اسکے متعلق سوچنا اور اسکو یاد کرنا اور وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ سہراب گھر واپس لوٹ آئے ۔
تو میں اس عمر میں انھیں کوئ ٹنشن نہیں دینا چاہتا یہاں تک کہ تمھیں بھی نہیں کہ تم اسے دیکھ کر ڈسٹرب ہو ” مراد نے اسے سمجھایا ۔
ڈیڈ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا مجھے فرق نہیں پڑتا سہراب یہاں رہتا ہے یہ جھنم میں مجھے وہ جگہ ہی چاہیے وہ میری لوکیشن اور کام کے حساب سے بیسٹ ہے اور مجھے یقین ہے آپ میری یہ خواہش پوری کریں گے “
وہ مسکرایا مراد البتہ چپ ہو گئے اسکی ہر بات مان کر وہ اسے ضد کا پکا تو کر ہی چکے تھے اور سہراب کے لیے نفرت اسکے دل میں پہلے سے کئ گناہ زیادہ ہو گئ تھی ۔
مراد چپ ہی رہے جبکہ وہ وہاں سے نکل آیا ۔
یہاں ہر چیز پر اسکا حق ہونا چاہیے تھا ایک ایک پر ۔۔۔ کوئ ایک بھی چیز وہ سہراب دینا نہیں چاہتا تھا اور وہ تھا ہی کیا جو وہ کچھ اسے دیتا سر جھٹک کر وہ اپنے روم میں ا گیا یہ یہاں کی بیسٹ جگہ تھی بہت آرام دہ اور خوبصورت وہ بیڈ پر گر گیا اور سکون سے آنکھیں بند کر لیں ۔
جبکہ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دروازہ بجا اور اسکی بہن ماہین روم میں داخل ہوئ
ہائے مرتضی ” وہ کہیں جانے کے لیے ریڈی تھی شاید
ہائے”
مرتضی تھکا تھکا سا تھا ۔
وٹس گوئیگ اون تم تھکے ہوئے لگ رہے ہو “
وہ بولی اور اسکے سامنے بیٹھ گئ ۔
ہاں کچھ خاص نہیں تم بتاؤ کہاں جا رہی ہو “
میں تو ارہم کے ساتھ جا رہی ہوں باہر ڈیڈ نے کہا تمھیں دیکھتی جاؤں کچھ مزاج ٹھیک نہیں تمھارے “
وہ ہلکا سا ہنسی تو مرتضی پھر سے پیچھے گیر گیا ۔
درحقیقت مجھے وہ پلاٹ چاہیے جو سہراب کا ہے “
وہ اصل وجہ بتا گیا ۔
ماہین نے شانے آچکاۓ
کیا ایشو ہے ڈیڈ سے فائلز لے لو “
یہ ہی تو ایشو ہے کہ دادا نے وہ پلاٹ سہراب کے نام کیا ہے میں ہوٹل بنانا چاہتا ہوں اور وہ جگہ بیسٹ ہے وہ لوزر ویسے بھی اس جگہ کو ضائع ہی کر دے گا تو اس جگہ کا اصل حقدار مجھے ہونا چاہیے”
وہ بولا تو ماہین ہسنے لگی ۔
تم جانتے ہو مرتضی اس گھر میں سہراب کی حیثیت فقت ایک فالتو چیز سے زیادہ نہیں اور وہ بلڈی لوزر بھاگا ہوا ہے یہاں سے ۔۔۔ تم کیوں پینک ہو رہے ہو بھلا تمھیں ڈیڈ ضرور وہ جگہ دے دیں گے تو چل مارو “
وہ بولی تو مرتضی نے سر ہلا دیا
دیکھو اب تم پریشان مت ہونا تم جانتے ہو مام تمھارے لیے شہر کی بیسٹ لڑکیاں ڈھونڈنے میں لگی ہوئ ہیں” وہ ہنسی تو مرتضی بھی ہنسنے لگا ۔
اور میرے خیال سے دا پرفیکٹ مین پینیک نظر آیا تو اچھا نہیں لگے گا
کم اون یو آر دا بیسٹ برو اوکے ۔۔۔ سہراب جیسے فالتو انسان کے
لیے خود کو پریشان مت کرو اور دادا کا کیا ہے آج ہیں کل نہیں
تو انکی بات بھی ڈیڈ انکی گرتی عمر کی وجہ سے مان رہے ہیں” وہ اسے تسلی دینے لگی ۔
مرتضی نے سر ہلا دیا اور ماہین وہاں سے چلی گئ جبکہ مرتضی نے آنکھیں بند کر لیں ۔
وہ ہمیشہ سے ایسے ہی ٹریٹ ہوتا تھا ایک بہترین انسان کا خطاب اسے مل چکا تھا اور وہ اپنے آپ کو پرفیکٹ ہی سمجھتا تھا ۔
آنکھیں بند کرنے سے پہلے وہ روز سہراب کے بارے میں آخری بار سوچتا ضرور تھا ۔
کہ کس طرح سہراب کے چہرے پر نشان قدہ تھا اسنے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہراب سہراب سہراب “
بہت تیز اور بلند آواز کی چیخ و پکار تھی اور ایک مظبوط جسم اور قد و قامت کا شخص دوسرے شخص کو بری طرح مختلف ٹریکس سے مار رہا تھا اس میں ہمیشہ سے ایک جنون ہی تھا پیچھلے ساتھ سالوں میں کئ بار اسکے دوستوں نے اسے یہ سب کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔
اور وہ یہ سب کرتے ہوئے بلکل نہیں گھبراتا تھا ۔
وہ موت کی بازی کھیلتا تھا ہر ہفتے ایک بار شاید اپنی طاقت کو آزماتا تھا
کہ وہ کس حدد تک خود میں طاقت رکھتا ہے ۔
اسنے دیو ہیکل آدمی کو اپنے مظبوط بازوں میں جیسے ہی اٹھایا اور زمین پر دے کر مارا چاروں اور سناٹا چاہ گیا ۔
یہ فائیٹ ٹل ڈیتھ تک لڑی جانی تھی سہراب کا چہرہ خون آلودہ تھا اسکے جسم پر کئ جگہ نشان تھے جن میں سے خون بہہ رہا تھا ۔
وہ آدمی زمین پر گیرتے ہی بےدم سا ہو گیا اس سے پہلے سہراب اسکی گردن پر پاؤں رکھ کر واقعی اسکا کام تمام کرتا ایک عورت دوڑتی ہوئی آئ اور سہراب کے پاؤں اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیے
پلیز میرے ہزبینڈ کو چھوڑ دو ہمارے پاس انکے علاؤہ کوئ نہیں۔۔۔ پلیز” اسکے دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی رو رہے تھے اور وہ دو بچے سہراب کا پاؤں پکڑتے اس سے پہلے ہی اسنے اس آدمی پر سے پاؤں ہٹا لیا ۔
وہ پیچھے ہٹ گیا وہ جیت گیا تھا ۔
اسکے دوستوں نے اسکے نام کے نعرے لگا دیے تھے سہراب نے پورے منہ پر ہاتھ پھیرہ اور خون صاف کر کے ایکطرف ہاتھ جھٹکا ۔
تو وہ اپنی کامیابی اور اپنی طاقت پر مسکرایا تھا ۔
اسے فرسٹ ایڈ کی ضرورت تھی تبھی اسکے دوستوں نے اسے
فرسٹ ایڈ دینا چاہی مگر اسنے رد کر دی
سر جھٹک کر گیلے بالوں کو پیچھے کرتا وہ باہر نکل گیا تھا ۔
یار امیزنگ فائیٹ تھی برو “
ایک دوست نے اسکے مظبوط مسلز پر ہاتھ رکھا ۔
سہراب مسکرایا ۔
اور اس دوست نے اسکی جانب پیسے بڑھائے جسے دیکھ کر
سہراب ہنسا ۔
انھیں تم ہی رکھ لو “
وہ کہہ کر مسکراتا ہوا جمپ کر کے اپنی جیپ پر بیٹھ گیا
یہ اسنے اپنی کمائی سے لی تھی ۔
حالانکہ وہ سال میں صرف چار ماہ کماتا تھا وہ بھی علینہ کی وجہ سے جو بری طرح سہراب کے چہرے کی دیوانی تھی ۔
جبکہ وہ شادی شدہ تھی پھر بھی اسے سہراب خان کے چہرے کا کریز تھا اور وہ اسے انڈسٹری کا بہترین چہرہ بنا دینا چاہتی تھی
اسکی ایک ایلبم نے ہی کافی تھلکا مچایا ہوا تھا ۔
مگر سہراب کو شاید ابھی اپنی قیمت کا اندازا نہیں تھا اسنے ہر آفر کو ٹھکرا دیا تھا یہ علینہ ہی زبردستی اس سے یہ کام لیتی تھی ورنہ لڑائ اور دنگے فساد سے ہی وہ اپنا کام چلانے کا خواہش مند تھا
علینہ اسکی یونیورسٹی فیلو تھی
جس کا بہت بڑا کرش سہراب خان تھا مگر سہراب کو دلچسپی نہیں تھی اس میں یہ اپنی جانب متوجہ ہونے والی کسی بھی لڑکی میں ۔۔۔۔۔
وہ اپنی جیپ پر سوار ہوا اسکے دوست اسکے ساتھ تھے اور بس زندگی اتنی ہی تھی
اسکی باسکٹ بال اسکی ٹل ڈیتھ فائٹینگ اور سب سے خاص اسکی بےتوجگی ہر چیز ہر چیز سے بے توجگی کسی بھی چیز پر توجہ یہ دھیان دینے کا محتمل نہیں تھا وہ نہ ہی کبھی کسی بھی چیز کو سیریس لیتا تھا اسکے چہرے پر لگا نشان اسکے چہرے کی بہت بڑی خوبصورتی تھی ۔
سب اسکے نشان کو دیکھ کر اس کے چہرے سے نہ جانے کیوں محبت کر اٹھتے تھے ۔
اسکے نشان سے کچھ لوگ ڈر بھی جاتے تھے مگر پھر بھی چپکے چپکے اسکی شخصیت کے اثر میں گھل سے جاتے وہ اتنا بے نیاز تھا ہر چیز سے کہ احساس اور جزبات کی شدت میں کمی لگتی تھی اسکے کئ دوست تھے پھر بھی اسکو اپنا کوئ دوست نہیں لگتا تھا نہ ہی کبھی اسنے کسی دوست سے زندگی یہ زندگی میں گزری کوئ بھی اچھی یہ بری یاد ڈسکس کی تھی
اسکے دوست اسکے ساتھ مخلص تھے یہ نہیں مگر وہ کسی کے ساتھ نہیں تھا
شہر کی سڑکوں پر آوارہ پھرنا اسے پسند تھا
یہ آزاد اور کھلی ہوا جب جب اسکے چہرے سے ٹکراتی تو وہ خوشی کی انتہا کو چھوتا تھا ہاں اسے چھوٹی چیزوں میں خوشیاں ڈھونڈنا پسند تھا ۔
جیسے ہمیشہ جب علینہ اسکے لیے کام کی تلاش کرتی تو وہ بلکل بے نیازی سے اسکے لون میں باسکٹ بال کھلنے لگ جاتا جیسے اسے بلکل پرواہ نہ ہو کہ اگر اسے کوئ کام نہ ملا تو کیا ہو گا وہ کہاں سے کھائے گا اسکے خرچے کیسے پورے ہوں گے وہ بنا جھجھک کے پیسے ختم ہوتے علینہ سے مانگ لیتا تھا اور علینہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کی ناجائز حرکات میں ساتھ دے بیٹھتی تھی ۔
اور جیسے ان آوارہ دوستوں کے ساتھ گھوم کر جب وہ گھر لوٹتا تو اسے نیند نہیں آتی تھی ۔
وہ سیگریٹ کے گھیرے کش لیتا تھا وہ ڈرنک کرتا تھا وہ موویز دیکھتا تھا ۔
وہ میچز دیکھتا تھا ساری ساری رات وہ یوں ہی گزار دیتا اگر کبھی آنکھ لگ جاتی تو دم گھٹنے لگتا تھا ۔
تبھی وہ سونے کو اتنی اہمیت نہیں دیتا تھا بہت عجیب اور پراسرار سی شخصیت تھی جسے حل کرنا بے حد مشکل تھا ۔
پیچھلے سات سالوں میں ایک بار بھی اسکے گھر والوں نے اسکی
جانب پلٹ کر نہیں دیکھا اور وہ اب اتنا بے زار تھا اور اپنے جزبات
اس حد تک کھو چکا تھا کہ وہ سچی محبت اور سچے رشتوں سے
آشنائی رکھتا ہی نہیں تھا ۔
اسنے زندگی میں کیا پایا تھا کیا نہیں وہ نہیں جانتا تھا اسے ضرورت بھی نہیں تھی کہ وہ زندگی میں کچھ بن نہیں سکا وہ بس یوں ہی خود کو آزاد چھوڑے ہوئے تھے ۔
اپنے جسم سے نکلنے والے خون کی پرواہ کیے بنا سہراب رات تین بجے تک دوستوں کے ساتھ رہا تھا اور جب وہ واپس اپنے فلیٹ کی جانب مڑا تو ۔
علینہ کی کال ا گئ
اسنے کال پک کر لی شاید یہ واحد لڑکی تھی جس سے وہ بات کر لیتا تھا
ہائے “
اسکی بھاری آواز میں بھی بڑا جادو تھا نہ جانے قدرت نے اس میں کیا کچھ چھپا کر رکھا تھا جس سے وہ واقف ہی نہیں تھا اسکے لہجے کا بھاری پن سن کر علینہ نے گھیرہ سانس بھر کر اپنے شوہر کیطرف دیکھا
سہراب دور سے ہی دیکھا جانے والا تھا وہ اسکے قریب جاتی تو شاید خود بھی اس برف کی مانند ٹھنڈی ٹھاڑ آگ میں جم ہی جاتی ۔
ڈرنک ہو “
اسنے سوال کیا
ہاں”
وہ فلیٹ کی چابی کھول کر اندر ا گیا
میں آ جاؤں ” علینہ نے روز کیطرح چھیڑا ۔
تمھارے شوہر کی بیوی کی عزت لٹ جائے گی ۔ “
وہ صوفے پر ڈھیر ہوتا بے باکی سے بولا تھا اتنا ہی لاپرواہ تھا تبھی تو علینہ جان دیتی تھی وہ ہنس پڑی ۔
نہ جانے سات سالوں میں سات لاکھ بار کہہ چکے ہو پھر بھی کچھ نہیں بدلا ۔
وہ اسے یاد دلاتی بولی کہ اسکا روز کا معمول ہے یہ بات ۔
کیوں فون کیا ہے”
اسکی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں جبکہ وہ سر جھٹک کر خود کو احساس دلانا چاہ رہا تھا کہ وہ سوتا نہیں ہے
اگر وہ سویا تو وہ عام دنوں سے زیادہ پریشان ہو جائے گا
اور وہ اپنے بارے میں کبھی نہیں سوچنا چاہتا تھا ۔
جی ہاں میں تو تمھیں ویسے بھی فون کر لیتی ہوں مگر تم تب ہی
اٹھاتے ہو جب تمھیں لگے کہ کام کی بات ہو گی بہت بے مروت ہو یار”
وہ برا مان گئ
وہ کچھ نہیں بولا
اوکے میں نے بات کی تھی تمھارے لیے انھیں تمھارا فیس پسند آیا ہے انھوں نے کہا ہے تم کل انکے آفس جا کر ملو بہت بڑے ڈائریکٹر ہیں سیریسلی اگر تمھیں سلیکٹ کر لیا تو تم انکے ساتھ انڈسٹری کے جانے مانے نام بن جاؤ گے سہراب میں بہت ایکسائڈیڈ ہوں “
وہ ایک سانس میں بتانے لگی
میری طرف سے ریجیکٹیڈ”
فون بند ۔۔۔۔
ٹوں ٹوں کی آواز علینہ کے کان سے ٹکرائی
نو سہراب”
وہ ایکدم چیختی کہ خیال آیا کہ اسکے ساتھ اسکا شوہر بھی سو رہا تھا ۔
جبکہ دوسری طرف اسنے موبائل پھینکا اور زمین پڑا اپنا کشن اٹھا کر سر اسپر ڈال دیا
میر سہراب علی خان ۔
علینہ نے اسکا نام کچھ اسطرح پورا کرا کر اسکی فرسٹ ایلبم انٹریوز کرائ تھی اسکی ایلبم کی ایک بھی تصوریر اسکے پاس نہیں تھی وہ
ایسے ہی تکیے پر سر ڈالے سامنے دیوار کی جانب دیکھتا رہا ۔
اور پھر ایکدم اٹھ کر ٹریس میں آ کر سموکینگ کرنے لگا
اسکا فون پھر سے بج رہا تھا وہ جانتا تھا علینہ ہو گی وہ تڑپ اٹھی ہو گی اسکے انکار پر اسے پرواہ نہیں تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مراد سہراب کو بلا لو بلا لو اسے واپس میری سانسیں نہیں پوری ہوں گی ہم نے بڑا ظلم کر دیا اسپر”
دادا بولے مرتضی کا بس نہیں چلا جھک کر اس بڈھے کی گردن دبا دے عمر کے اس حصے میں جب سانسیں نہیں نکل رہیں تب احساس ہوا ہے کہ کس کے ساتھ کیا غلط ہوا ہے
بابا جان ہم نے کچھ نہیں کیا خود ہی بھاگا تھا وہ آنا ہو گا تو خود ہی لوٹ آئے گا “
مراد بولے تو وہ سر پٹخنے لگے جیسے اذیت میں ہوں بلا لو اسے کوئ تو بلا لے
وہ رونے لگے مراد سے باپ کی حالت نہ دیکھی گئ تو اٹھ کر باہر ا گئے
مرتضی بھی پیچھے ا گیا ۔
ان سے کہیں یہ بس فائلز پر سائین کریں “
وہ غصے سے بولا
میں کیسے اس حالت میں کرا لوں میں کون سا چاہتا ہوں کہ سہراب جیسا لوزر ہمارے گھر آئے اور نہ جانے سات سال کس نالی پر گزاریں ہوں گے تم سمجھہ رہے ہو میں کتنا پریشان ہوں “
وہ بولے تو مرتضی کو باپ کی نفرت اچھی لگی اسی طرح بلکل اسی طرح ڈیگریڈ ہونا چاہیے تھا سہراب کو ۔۔۔ سہراب کو عزت مل ہی کیسے سکتی تھی یہ عزت اور یہ شان و شوکت اسکے لیے تھی اور اس بات کو اندازا اسے اچھی طرح تھا اور اس بات کا احساس اسے دلایا بھی گیا تھا کہ وہ کتنا اہم ہے اپنے ہی بھائ کی نسبت ۔۔۔
تو اب کیا کریں گے” مرتضی نے باپ کیطرف دیکھا
معلوم نہیں مجھے تو ٹنشن میں ہی ڈال دیا ہے ” وہ چیڑ کر بولتے جانے لگے ۔
سمجھہ یہ نہیں ا رہی آخر سہراب کے واپس آنے سے انکی سانسیں پوری ہو جائیں گی اور جب سانسیں ہی نکل جائیں گی تو سہراب کا اچار ڈالیں گے”
مرتضی غصے سے صوفے پر بیٹھا تو ماہین ہنسنے لگی ۔
دیکھو مرتضی اچھا ہے پتہ تو لگے لوزر نے اتنے عرصے میں کیا کیا ۔۔۔ کہیں وزیراعظم تو نہیں بن گیا” ماہین کا قہقہہ نکلا جبکہ مرتضی بھی ہسنے لگا ۔
ویسے کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو ۔ ” مرتضی پرسوچ نظروں سے دیکھنے لگا
تمھاری فائلز کا کیا بنا ” ماہین کو یاد آیا وہ ہوٹل کی فائلز کے لیے بے چین تھا ۔
کیا بننا تھا داداجان صاحب کو اچانک سب سے بے کار اور لوزر پورے سے محبت ہو گئ ہے تو فلحال وہ سگنیچر نہیں کر سکتے”
وہ سر جھٹک کر بولا ۔
یار کیا پروبلم ہے انکو سیدھی طرح چلے جائیں زندگی تو پوری ہو ہی گئ ہے اب کس لیے زندہ ہیں”
وہ دونوں یہ سوچے بنا کہ اپنے ہی دادا کے بارے میں وہ یہ باتیں کر رہے ہیں جس نے ان دونوں سے اتنے لاڈ اور محبت کی تھی کہ سہراب تو کبھی اپنے حصے کی کوئ چیز نہیں لے سکا تھا کل پھر محبت دنیا میں سب سے قیمتی جزبات کیسے حاصل کرتا ۔
وہ دونوں تادیر باتیں کرتے رہے تھے تبھی انکی مام بھی ا گئیں وہ دو دن سے گھر پر نہیں تھیں اور وہ واپس آئیں تو دونوں بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئ تھیں ۔
ایک ڈاکٹر تھی تو دوسرا بیزنیس کی دنیا کا ابھرتا ستارہ ۔
وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئ ۔
وٹس گوئینگ اون ” وہ پوچھنے لگی ۔
کچھ نہیں بس دادا کی ضد کا سوچ رہے ہیں ویسے آپکو کیا لگتا ہے سہراب اب دیکھتا کیسا ہو گا ” ماہین نے زرا سوچتے ہوئے سوال کیا
آلویز لک لائیک آ لوزر ۔۔۔۔ ایک ہارا ہوا انسان جو کبھی اپنی زندگی کو برائیٹ نہیں کر سکتا ڈرپھوک اور بے کار انسان ” یہ اسکی مام تھی جو اپنی ہی اولاد کے بارے میں یہ گفتگو کر رہی تھی مرتضی اور ماہین مسکرا اٹھے ۔
اینی ویز سہراب خاناز من آف اور بیزنیس کل ہمارے گھر درانی اور انکی بیٹی آ رہی ہے مسٹر مرتضی تمھارے لیے ۔۔۔ سو بی ریڈی
مائے سن” وہ بولیں تو وہ مسکرایا ۔
مرتضی درانیز ڈاٹر از موسٹ بیوٹی فل گرل سیریسلی “
ماہین نے بھی تعریف کی مرتضی اٹھ گیا ۔
میرے لیے دنیا کی بیسٹ چیزیں ہی ہیں تو بیوی بھی پرفیکٹ ہی ہونی تھی ” وہ فخر سے کہتا وہاں سے چلا گیا جبکہ پیچھے وہ دونوں اسکی بات سے متفق تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continued . .