52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

مرتضی نے باپ کی جانب بے یقین نظروں سے دیکھا مراد خان کے ہاتھ سے گن چھٹی اور وہ زمین پر بیٹھتے چلے گئے ۔
وہاں سب حیران تھے جبکہ دو آنکھیں تو اتنی حیران تھیں کہ بس باپ کو دیکھے جا رہیں تھیں
مراد نے ایک شور سے چیخ ماری تھی اتنی زور سے کہ گویا مردے بھی جاگ جائیں مرتضی منہ کے بل زمین پر جا پڑا ۔
اسکے سر سے خون پانی کیطرح بہنے لگا ۔
جبکہ مراد خان نے بیٹے کی جانب دیکھا جس کا قیمتی خون آبشار کی صورت بہہ رہا تھا ۔
اور وہ تڑپ اٹھے تھے دیوار سے لگے بڑی طرح رونے لگے علینہ سہراب پر چھاؤ بنی ہوئ تھی اسنے سہراب کو ایسے جکڑا ہوا تھا اور خود مرتضی کے سر سے نکلتے خون کو دیکھ رہی تھی ۔
جیسے سہراب کو کچھ ہو گیا تو وہ کیا کرے گی
کہی اسے لگ نہ جائے جبکہ سہراب بھی باپ کو دیکھ رہا تھا۔
مراد نے بھی سہراب کی جانب دیکھا مرتضی کی آنکھیں بھی مراد کو ہی پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہیں تھیں ۔
عجیب سی حالت تھی مراد خان نے سہراب کی جانب دیکھتے نفی میں سر ہلایا ۔
اسے معاف کر دینا
میری محبت میری بے جا محبت تمھاری مجرم ہے اور اسکی بھی اسکی بھی مجرم ہے ۔ ” مراد خان نے مدھم آواز میں کہا اور وہ ہی بندوق اٹھا لی ۔
سہراب خود زخمی تھا ۔
وہ وہ ہاں وہ انھیں روکنا چاہتا تھا ۔
یہ تم سے میری وجہ سے نفرت کرتا تھا ۔
یا یا اس کی کمزوری اسکی کمزوری اسے اکساتی تھی کہ تم سے نفرت کرے “
مراد بری طرح رو رہے تھے ۔
سہراب نے ہاتھ اٹھا کر انھیں جیسے روکنا چاہا مگر مراد نے جھک کر اسکی زخمی پیشانی چومی اور فضا میں ایک اور گولی کی آواز گونجی اور مراد بھی بیٹے کے ساتھ جا کر پڑے تھے قاسم اپنے آدمیوں کے ساتھ وہاں سے بھاگ چکا تھا ۔
سہراب کی چیخ پر علینہ نے اسے سینے میں سمیٹ لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہاسپیٹل میں تھی سہراب کے سر پر سٹیچیز آئے تھے وہ بے ہوش تھا ڈاکٹرز نے زبردستی اسکا بھی علاج کیا تھا جو کچھ کرانے کے لیے تیار نہیں تھی اسنے خود کو ہر ممکن طریقے سے نارمل رکھنا چاہا مگر وہ اسی کے کمرے میں صوفے پر بیٹھی تھی بلکل خود کو سمیٹے اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اسنے دوپٹہ لیا ہوا تھا اور سفید دوپٹے میں اسکے چہرے پر عجیب ہی کشش تھی اوپر سے خوف زدہ نظریں خود میں سمیٹنا چاہ رہیں تھیں۔
اسنے روم لاک کیا ہوا تھا کہ کوئ نہ آئے ان دونوں کے پاس ۔
سہراب اب بھی بے ہوش تھا حالانکہ اسکا علاج ڈاکٹرز نے کر دیا تھا مگر شاید وہ ہوش میں آنا نہیں چاہ رہا تھا ۔
تھوڑی دیر وہ یوں ہی بیٹھی رہی بس کچھ ہی دنوں میں ان دونوں کی دنیا کیسے تہس نہس ہو گئ تھی ۔
وہ اپنی ساری زندگی میں سے یہ لمہے نہیں نکال سکتی تھی جو اسنے کوٹھے پر گزارے تھے چھ ماہ اسکی زندگی میں ایسا بدلاؤ لائے تھے کہ علینہ جیسی لڑکی بھی اپنی آنا اپنا غرور سب کھو کر جیسے دھول ہو گئ تھی ۔
ہاں ان سب میں اگر ایک چیز نہیں بدلی تھی وہ صرف یہ تھی کہ وہ سہراب سے محبت نہیں عشق کرنا نہیں چھوڑ پائ تھی
وہ یوں ہی بیٹھی تھی آنسو صاف کر کے وہ اٹھ کر سہراب کے پاس آئ اور اسکو دیکھنے لگی
ابھی وہ یہ سمجھہ کر کہ وہ ہوش میں نہیں آیا پلٹتی کہ چونک کر دوبارہ پلٹی
اسکی بند آنکھوں سے آنسوں گیر رہے تھے علینہ نے اسکا چہرہ تھام لیا ۔
سہراب نے اسکے ہاتھ جھٹک کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔
علینہ نے برا نہیں بنایا ایک بار پھر اسکا چہرہ تھام لیا ۔
یہ سب تمھاری وجہ سے نہیں ہوا سہراب سچ ہے یہ اس میں تمھارا قصور نہیں ہے وہ دونوں اپنی جان کے زمہ دار خود ہیں “
وہ سات سال سے جانتی تھی اسکو ۔
سمجھہ گئ تھی اسکے اندر کی کیفیت ۔
ایک بار ایک بار مرنے سے پہلے بس ایک ایک بار آنا میں نے کبھی انکی محبت کی ضد نہیں کی ایک بار تو وہ میرے بارے میں سوچتے میں نہیں جانتا مرتضی کو کون سا مرض تھا جو ساری زندگی انھوں نے اسکے بارے میں سوچا میں انکی اولاد نہیں تھا جو میرے بارے میں نہیں سوچا ٹھیک ہے مار دیا اسے میں انھیں کچھ نہ ہونے دیتا میرے ساتھ رہتے تو سہی آخری وقت میں بھی ثابت کر گئے کہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہیں میں اج تک ان کی نفرت کی وجہ نہیں سمجھ سکا ۔”
وہ چیخ رہا تھا
علینہ نفی میں سر ہلاتی اسکے گال پر گیرتے قیمتی آنسوں کو صاف کر رہی تھی جبکہ وہ شاید خود نہیں جانتا تھا کہ وہ رو رہا ہے ۔
آنا میں نے تمھارے جانے کے بعد ان پر ثابت کرنے کے لیے کام کیا میں کبھی خود سے کمانے نہ نکلو انکے لیے تاکہ میں انکو ثابت کر سکوں کہ میں لوزر نہیں ہوں تاکہ وہ اپنی محبت اور نرمی کا تھوڑا سا مجھے بھی حصہ دیں ۔
مگر وہ اسکے ساتھ ہی چلے گئے اسکے ساتھ مجھے سخت نفرت ہے مرتضی سے “
وہ چیزیں اٹھا کر دیا ۔
پلیز تمھارے سر پر چوٹ لگی ہے مت سوچو اس بارے میں “
کیوں نہ سوچوں آنا حسرت ہی رہ گئ میرے دل میں انکا ایک نرم لفظ سننے کی ۔۔۔۔ ایسے ہوتے ہیں ماں باپ ایسے اپنی ہی اولاد میں تفریق کرنے والے اپنی ہی اولاد کو میرے جیسا یہ مرتضی جیسا بنا دینے والے ۔ ” وہ اسکے ہاتھ پھر سے جھٹک گیا
سہراب “
علینہ نے پھر سے اسکا چہرہ تھام لیا
تمھارے سٹیچیز سے خون ا رہا ہے ۔” وہ پریشانی سے اسکے سامنے اپنی کانپتی انگلیاں کر دی
دفع کر دو ان سب چیزوں کو “
اسنے اسکو دور دھکیل دیا ۔
وہ سب بھول کر پھر سے اسکے لیے بچہ بن گیا تھا جس کو سنبھالنا علینہ کا فرض تھا
وہ پیٹھ موڑ کر لیٹ گیا علینہ وہیں تھی مگر اس سے بولی کچھ نہیں وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا تھا ۔
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر آیا اور سہراب کے نہ نہ کر ے کے باوجود اسکے سر پر دوبارہ پٹی کر کے زبردستی اسکو نیند کا انجکشن لگا دیا ۔
وہ علینہ کا ہاتھ تھامے ہی سو گیا تھا ۔
وہ خاموش کھڑی اسکے خوبرو چہرے کو دیکھتی رہی جس کی دیوانی پوری دنیا ہی ہو چکی تھی اسکی ہر البم اتنی ہٹ جا رہی تھی کہ اسکے پاس کام کی بھرمار تھی ۔
لیکن وہ اپنے سچے رشتوں کی محبت کی چاہ میں ہلکان تھا ۔۔۔۔
علینہ نے نرمی سے اسکے گھنے بالوں میں انگلیاں چلائیں
کاش میں تمھارے دماغ اور دل سے یہ سب باتیں چھین لوں چھین کر پھینک دوں “
وہ چاہت سے بولی تھی ۔
مگر وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتی تھی اسنے اپنی طبعیت اور ہر شے کی پرواہ کیے بنا ہی خود گارڈز سے کہہ کر پاستہ بنایا تھا ہاسپیٹل کی کنٹین میں ۔
وہ بھول گئ تھی کہ وہ ذہنی طور پر کتنی ڈسٹرب تھی وہ بھول گئ تھی کہ اسنے اسکے سینے پر رو رو کر چھ مہینوں کا غم ہلکا تو ابھی کیا ہی نہیں تھا بس دوسرا ہی دن تھا جو وہ ملے تھے ایک دوسرے کو ۔
اور ایک بار پھر وہ کھڑی تھی اسکی بے ساکھی بننے کے لیے اپنے زخمی چور وجود سے ہی سہی ۔
محبت بس ایسی ہی ہوتی ہے بے لوث اور شاید اتنی بے لوث کے آپکی محبت آپ ٹوٹے ہوئے ہاتھوں سے بھی سہارا مانگے تو آپ سہارا دینے کو کھڑے ہوتے ہیں یہ پروا کیے بنا کہ آپ کے بارے میں کوئ سوچ رہا ہے یہ نہیں وہ محبت بس آپ سے ہی سہارا چاہ رہی ہے وہ آج بھی جانتی تھی میر سہراب علی خان اس سے محبت نہیں کرتا “
وہ مسکرا دی ۔
اپنی محبت کی رسوای پر آنکھیں بھیگیں ضرور تھیں مگر وہ آج کل گزرنے والے حالات پر کچھ کہنا نہیں چاہتی تھی جو کچھ بھی وہ رہا تھا وقت گزر رہا تھا ۔
اور وقت پر اسنے سب چیزوں کو چھوڑ دیا تھا اب اسکا نصیب نہ جانے اسے کس راہ پر لے کر چلنے والا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن کے بعد وہ پانچ روز ہاسپیٹل میں رہے سہراب پہلے سے بہتر تھا مگر نہ ہی علینہ سے لڑتا تھا نہ ہی اسپر کوئ فقرہ کسا اور بات بھی بس بہت کم نہ اسکے ہاتھ کا بنا پاستہ کھایا ۔
وہ نہیں جانتی تھی کیوں شاید وہ قصور نکال رہا تھا کہ اس سب میں اس کا قصور ہے یہ دل سے اتنا دکھی تھا کہ وہ لاپروائیاں بے پروائیاں کرنے کا دل نہیں تھا علینہ بھی خود سے میڈیسنز لے رہی تھی تاکہ بس فقت اسکے لیے ٹھیک ہو سکے تاکہ اسے پہلے جیسا کر سکے ۔
مگر سہراب کے رویے میں تبدیلی نہیں ا رہی تھی
وہ ویسا ہی تھا بہت خاموش اور بہت سنجیدہ ہو گیا تھا ۔
پورے پانچ دن بعد وہ بہتر ہوا تو اسنے علینہ کو آواز دی
آنا “
وہ بولا اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا
ہمم”
علینہ پلٹی ۔
کب ڈسچارج دے رہے ہیں مجھے”
وہ پوچھنے لگا
تم کافی بہتر ہو گئے ہو میں ڈاکٹر سے بات کرتی ہوں دیکھتے ہیں پھر کتنے دنوں میں ملتا ہے ” وہ تفصیلی جواب دے کر اس سے بھی کترا رہی تھی جب وہ بلکل سنجیدہ ہو گیا تھا تو علینہ نے بھی اپنے تمام تر جزبات کا اور تکلیفوں کا گلہ گھونٹ لیا تھا وہ نارمل ہو چکی تھی ۔
نہیں میں خود بات کرتا ہوں “
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور ۔
خود ہی باہر نکل گیا ۔
وہ نہیں جانتی تھی وہ اسکے ساتھ ایسا رویہ کیوں رکھ رہا ہے
مگر وہ ایسا ہی تھا ۔
چیڑ جاتا تھا تو بے قصوروں پر بھی غصہ نکالتا تھا ۔
وہ باہر جا کر خود ڈاکٹر سے بات کر رہا تھا علینہ اسکا انتظار کرنے لگی وہ باہر نہیں گئ تھی نہ جانے اسکا کیوں دل نہیں کرتا تھا اب کسی سے بھی ملنے کا جبکہ وہ وہی بیٹھی اسکا انتظار کرنے لگی وہ کچھ دیر میں لوٹا اور اسکی جانب دیکھا
چلو میں نے چھٹی لے لی ہے”
کیا یہ مناسب نہیں تھا تمھارے سٹیچیز کھل جاتے تب ڈسچارج وہ جاتے”
وہ بولی سہراب نے بس ایک نظر اسکیطرف دیکھا اور کوئ بات کیے بنا وہ موبائلز اور گاڑی کی چابی کے ساتھ والٹ لے کر وہاں سے اسکا ہاتھ پکڑ کر نکل گیا ۔
علینہ اسکے پیچھے چل رہی تھی وہ گاڑی کے قریب آیا اسکے گارڈز آگے بڑھے تھے مگر وہ مرتضی نہیں تھا جو بہت پرفیکشن کے ساتھ زندگی گزارتا وہ سب کو دور کر کے وہ خود ڈرائیو کرنے لگا علینہ کو فکر ہوئ
کیا میں ڈرائیو کر لوں “
وہ زرا جھجھکتے ہوئے بولی ۔
نہیں “
وہ سنجیدگی سے بولا ۔
علینہ چپ ہو گئ وہ کہاں جا رہے تھے یہ تو گاڑی چلانے والا جانتا تھا علینہ نے بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد گاڑی کو سہراب کے گھر کے باہر دیکھا انکے پیچھے گارڈز کی گاڑی بھی رکی تھی ۔
سہراب اندر چلا گیا تو علینہ بھی خود اسکے پیچھے آ گئ ۔
وہ دونوں اندر گئے تو شیلہ لاونج میں ہی تھی ماہین اور شیلہ
نے سہراب کو دیکھا اور ایکدم شیلہ سہراب پر جھپٹی اسکے منہ پر کھینچ کھینچ کر تھپڑ مارے
لے گئے میرے بیٹے کو مار دیا میرے بیٹے کو کھا گئے حسد کرتے تھے تم میرے بچے سے حسد سہراب تم اسی حسد میں خوش نہیں رہ سکو گے میرا بچہ مار دیا تم نے اپنے باپ کو کھا گئے تم آخر ہمارے زندگیوں میں لوٹے ہی کیوں تھے تم سہراب کیوں کیوں کیا تم نے میرا مرتضی مار دیا میرا بچہ مار دیا تم نے کیسے کیسے میرا بچہ ساری زندگی سے تمھاری وجہ سے چین سے جی نہیں سکا مر کیوں نہیں گئے تم “
وہ اسکا سینا پیٹتی اسکو مسلسل مار رہی تھی کہ علینہ کا بس نہیں چلا کہ جا کر شیلہ کے ہی کھینچ کر تھپڑ مار دے مگر اس وقت کچھ بھی کہنا فضول تھا سہراب انکے سامنے پتھر بنا کھڑا تھا
اسنے شیلہ کے دونوں ہاتھ تھام لیے
میں بھی تو آپکا بیٹا ہوں “
وہ بس اتنا ہی بولا شیلہ روتی ہوئی انکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔
ماں کا دل تو بہت نرم ہوتا ہے اور کمزور اولاد کیطرف تو بہت زیادہ نرمی لیے ہوئے ہوتا ہے کہ اسکی ہلکی سی تکلیف پر ماں کا کلیجہ ہلتا ہے ماں تو ماں ہوتی ہے ماں جاہل ہو یہ پڑھیں لکھی ممتا تو کم نہیں ہوتی تو مجھ سے کیوں میں تو کمزور تھا آپکی اولاد میں مجھ سے اتنی نفرت کیوں “
وہ آج سوال کر رہا تھا اسکی آنکھوں میں دیکھتا سوال کر رہا تھا
ہاتھ چھوڑو میرا “
شیلہ نے غصے سے کہا
سہراب نے ہاتھ چھوڑ دیے
کیا لینے آئے ہو اب یہاں مجھے اور میری بیٹی کو نکالنے آئے ہو جان تو تم گئے تھے تمھارے نام ہے یہ سب نکالنے آئے وہ نہ “
وہ بھڑک رہی تھی جبکہ ۔
ماہین نے ماں کی جانب دیکھا
پلیز مام بس کر دیں اب بس کر دیں اسے اسکا قصور آج بتا ہی دیں اسکا قصور بتا کر اسے آزاد کر دیں اس الجھن سے اس ضد سے “
ماہین غصے سے چیخی ۔
وہ تھک گئ تھی یہ سب دیکھ کر ۔
کہ آج بھی اسکی ماں وہیں کھڑی تھی جبکہ مرتضی کے لیے بچپن سے انکے گھر کا شیرازہ بکھرا ہوا تھا ۔
نہیں نہیں میرا بیٹا بلکل پرفیکٹ تھا بلکل پرفیکٹ سب اسی کا قصور ہے سب اسی کا “
سہراب نے الجھن بھری آنکھوں سے ماہین کیطرف دیکھا ۔
جیسے جاننا چاہ رہا ہو کہ وہ کیا بتانا چاہتی ہے اسے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔