52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

نگو بائ کے ہاتھ میں چھید ہو گیا تھا اسنے بلکل بھی اسکی عمر کا لحاظ نہیں کیا تھا ایک جنون سا سوار تھا اسپر اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کے سامنے نگو بائ کے دوسرے ہاتھ میں بھی چھید کر دیا اور اسنے اسی رفتار سے چیختی چلاتی نگو بائ کا منہ اپنی سخت انگلیوں کی جکڑ میں قید کر لیا ۔
بتا مجھے میری آنا کو اور کس کس نے چھوا ہے”
وہ آنکھیں نکال کر دھاڑا اس وقت وہ جگہ کسی کوٹھے کا منظر نہیں دے رہی تھی ایسا لگ رہا تھا وہاں کھڑی ہر عورت اور مرد سہما ہوا ہے وہ بھی سہراب خان کے اثر سے مرعوب بلکل ساکت اور خاموش کھڑا ہے نگو بائ کا انجام ان سب کے سامنے تھا
کس۔۔۔کسی کسی نے نہیں چھوا اسے کسی نے نہیں چھوا۔ ” نگو بائ چلانے لگی جبکہ دوسری طرف سہراب نے اسے دور دھکیل دیا
جبکہ ارد گرد دیکھا نگو بائ کا خون فرش پر چاروں جانب بکھر گیا وہ بلکل ہر اس عورت کی طرح تڑپ رہی تھی اس وقت زمین پر پڑی جس طرح وہ یہاں زبردستی لانے والی عورت یہ لڑکی یہ بچی کو زبردستی کام پر اکساتی تھی اور وہ اپنی عزت بچانے کے لیے اسکے سامنے تڑپتی تھیں
سہراب اسکے آگے جما کھڑا تھا وہ مدد کے لیے چلا رہی تھی
ارے میری مدد کرو مجھے بہت درد ہو رہا ہے “
وہ یوں ہی کھڑا اسے دیکھتا رہا بھلا اسکے ہوتے ہوئے کسی میں جرات تھی آگے بڑھ کر نگو بائ کو اٹھانے کی وہ درد سے کراہ رہی تھی وہ دو آدمی نگو بائ کے خاص ملازم سہراب سے چھپے ہوئے تھے
کہ اگر سہراب کی نظر ان دونوں پر چلی گئ تو سہراب انکا انجام کیا کرے گا تبھی وہ فرار ہو گئے تھے اور چھپ گئے تھے ایک چھوٹی عمر کی بچی اگے آئ اور اسنے سہراب کی جانب آنسوں سے تر آنکھوں سے دیکھا تھا سہراب جو اس وقت زہر اگلنے کے لیے سب پر تیار تھا ایکدم پلٹا اور اس سے پہلے وہ کچھ کہتا کہ چپ ہو گیا وہ بچی صرف بارہ سال کی تھی اور بے حد کمزور تھی اور اسکی آنکھوں میں لاتعداد آنسو تھے ۔
م۔۔مجھے مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے میرے اماں ابا کے پاس چھوڑ دو بھائ “
وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئ میر سہراب خان ساکت کھڑا اس بچی کو دیکھنے لگا
ہاں شاید ہم نہیں جانتے اس دنیا میں کتنے لوگوں پر کس کس طرح کیسے ظلم کیا جا رہا ہے ۔
اسنے بڑی مشکل سانس اندر کھینچا
اور اسکے راستے سے ہٹ گیا
جاؤ “
اسنے ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا ایسا لگا وہ پنجرے سے معصوم چڑیوں کو آزاد کر رہا ہوں وہ بچی بے یقینی اسے دیکھنے لگی
جبکہ اس کوٹھے کی مالکن کی بے چینی سی دیکھنے لائق تھی وہ سخت تیوروں میں نگو بائ کو دیکھنے لگی آخر کو اسی کی وجہ سے اسکے کوٹھے پر یہ سب ہو رہا تھا بس نہیں چلا کہ آگے بڑھ کر اسکا گلہ ہی دبا دے ۔
مگر نگو بائ کا حال سب دیکھ چکے تھے آگے کوئ نہیں آ رہا تھا اور نہ ہی اس عورت نے اپنا حال نگو بائ جیسا کرانا تھا
کیا کیا سچ میں” وہ بچی بولی ۔ تو سہراب نے سر ہلا دیا ۔
وہ بچی شاید اپنی معصومیت دوبارہ مل جانے پر بہت خوش تھی روتی چلاتی ہوئ وہاں سے بھاگ اٹھی ۔
اور اس بچی کے دیکھا دیکھی ۔
جیسے پنجرے سے رہا ہونے والی لڑکیاں وہاں سے بھاگنے لگیں تھیں سہراب وہیں کھڑا رہا وہ نہیں جانتا تھا کہ اسنے شاید کبھی زندگی میں کوئ اچھا کام نہیں کیا تھا نہ ہی یہ محسوس کیا تھا کہ وہ کچھ اچھا کرتا ہے یہ کر رہا ہے مگر آج ایسا محسوس ہوا کہ اسنے کچھ اچھا کیا ہے ۔
وہاں سے جو جانا چاہتا تھا چلا گیا باقی ایک دو ہی کوئ لڑکی کھڑی نظر ا رہی تھی نگو بائ ہائے ہائے اب بھی کر رہی تھی ۔
سہراب ایک نفرت بھری نگاہ اسپر ڈال کر وہاں سے نکل گیا ۔
اسکا دوسرا رخ مرتضی تھا مگر وہ جانتا تھا مرتضی یہاں سے بھاگ گیا ہو گا تبھی وہ دوبارہ اپنے ہوٹل میں ا گیا جیسے ہی وہ اپنے فلور پر آیا تو خاموشی اور سناٹے کا سامنا کرنا پڑا نہ جانے کیوں گڑبڑ کا احساس ہوتے ہی اسنے ذرا قدموں میں تیزی بڑھائ اور وہ بھاگ کر اپنے روم کا دروازہ کھول گیا اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو خالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا اسکا شک بلکل درست نکلا اسکے پیٹھ پیچھے مرتضی نے اسپر ایک اور وار کر دیا تھا مگر یہ وار اتنا خطرناک تھا کہ اب مرتضی شاید سہراب سے بچ نہ پاتا ۔
اسنے دانت پر دانت چڑھا لیے ۔
وہ خالی بیڈ اور زمین پر پڑی نرس کو دیکھ کر وہیں سے پلٹ گیا ۔
سر ہمارے دو آدمی مار دیے ہیں “
اسکے ایک گارڈ نے بتایا سہراب تیزی سے چل رہا تھا کہ گارڈ کو اسکے پیچھے دوڑنا پڑا اسے مرتضی سے نفرت محسوس ہوئ تھی اتنی کہ کوئ اس نفرت کا اندازا نہیں لگا سکتا ہاں اتنی نفرت جتنی مرتضی بھی خود سہراب خان سے نہ کرتا ہو ۔
پہلے عادل کو مار دیا اور اب اسکے دو گارڈز کو وہ علینہ کو بھی نقصان پہنچا سکتا تھا ۔۔۔ تبھی وہ تیزی سے باہر نکلا تھا
مگر گارڈ کو کسی بھی بات کا جواب دیے بنا وہاں سے نکل گیا رخ کراچی کی جانب تھا
شاید اب مرتضی کی جان کوئ بچا نہیں سکتا تھا ۔
وہ وہاں سے نکلا تھا اسکے گارڈ نے اسے فلائیٹ کا بھی کہا مگر اس وقت دماغ کنٹرول میں نہیں تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرتضی کراچی جلد لوٹنا چاہتا مگر اسطرح نہیں کہ سہراب کو پیچھے سکون دہ چھوڑ جائے کہ اسے لڑکی بھی مل جائے اور اسکے پاس پیسہ بھی بے شمار ہو وہ تو ایک لمہے کے لیے بھی نہیں چاہتا تھا کہ سہراب کی زندگی میں سکون آئے تبھی وہ ہوٹل پہنچا اور اسکے کمرے کا لاک قسمت سے اس وقت کھولا تھا اور مرتضی نے بس اسی لمہے کا فائدہ اٹھایا اور کمرے میں داخل ہو گیا اسنے نرس کے اٹھتے ہی نرس کے سر پر پاس پڑا لیمپ مارا اور وہ نرس لہرا کر زمین پر گیر گئ جبکہ اسنے بستر پر سہراب کے کمبل میں سختی سے جکڑے پڑی علینہ کو اپنے بازؤں میں اٹھا لیا اسکے لبوں پر مسکان تھی علینہ ایکدم ہوش میں ا گئ اور ہوش میں آتے ہی مرتضی کے بازوں خود کو پا کر وہ گھبرا کر کچھ کرتی ہے مرتضی نے خود ہی دوسرے ہاتھ سے رومال اسکے منہ پر رکھ دیا۔
وہ لڑکی اس سے سنبھل نہیں رہی تھی علینہ ایکدم زمین پر جا گیری
اور مرتضی کو پرواہ نہیں تھی اسے کتنی چوٹ لگی یہ نہیں لگی وہ علینہ کو بازؤں میں آچک کر تیزی سے وہاں سے کراچی کے لیے نکل گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علینہ کی آنکھ کھلی تو خود کو رسیوں میں جکڑا ہوا پایا ۔
وہ حیرانگی سے اس جگہ کو پچان میں لانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ جگہ پہچان میں نہیں ا رہی تھی
بہت خوب جوان تم نے ہمارا دل خوش کیا ہے اگر زمین نہیں تو رکھیل ہی سہی ویسے تمھارا یہ تحفہ مجھے پسند آیا اور باقی رہی زمین کی بات تو چلو تمھارے لیے مزید انتظار کر لیں گے”
قاسم نے اسکا شانہ تھپتھپایا اور ہوش میں آتی علینہ کا چہرہ اپنے کالے سیاہ ہاتھ میں جکڑ لیا۔
علینہ کو لگا اسکا دماغ سائیں سائیں کر رہا ہو وہ ذہنی طور پر واقعی اس قابل نہیں تھی کہ وہ مزید کوئ بھی ایسی چیز برداشت کرتی ۔
اسکے کالے سیاہ اور عجیب انداز میں رینگتے ہاتھ اپنے چہرے گالوں اور ہونٹوں پر محسوس ہوئے تو وہ تلملا گئ رونے لگی ۔
چھ۔۔چھوڑو م۔۔مجھے” وہ سسکی مگر سامنے کھڑے دو مرد وہ مرد نہیں تھے جو محافظ ہوتے ہیں عزتوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ تو لوٹیرے تھے ایسے لوٹیرے جن کا کام ہی عزتوں کو لوٹنا تھا
وہ چیخ چیخ کر اپنے گلہ بیٹھا چلی تھی قاسم نے علینہ کے تھپڑ مار دیا
زہر لگتی ہے مجھے چیختی چلاتی عورت “
وہ اسکے بال جکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا مرتضی دور کھڑا مسکرا رہا تھا ۔
یہ کوٹھے پر سے تو بچ گئ تھی اب یہاں سے کیسے بچتی قاسم جیسے وحشی سے کیسے بچتی علینہ کی گردن ایکدم گر گئ وہ مزید خود کو بچا نہیں سکتی تھی نم دھندلی آنکھوں سے وہ دیکھ رہی تھی مرتضی کو مسکراتا ہوا ۔
جبکہ قاسم نے اپنی کروائی شروع کرنا چاہی ابھی اسکی گردن میں اپنا منہ دیا ہی تھا کہ اسکا فون بجنے لگا مرتضی نے بھڑک کر قاسم کیطرف دیکھا علینہ میں بلکل سکت نہیں تھی کہ وہ حل بھی سکے وہ اتنی ہی سختی سے جکڑی ہوئی تھی رسیوں میں ۔ ۔
قاسم نے نخوت سے فون اٹھایا ۔
اسکے خاص آدمی نے اسے کوئ بات بتائ تو وہ ایکدم وہاں سے نکل گیا ۔
مرتضی اسکی اس قسمت پر حیران ہی رہ گیا
وہ اسکے سامنے آیا اور علینہ کا منہ جکڑا ۔
وہ تمھیں بچا نہیں سکتا تم تم ہی ہو جس نے اسے یہاں تک پہنچایا مرتضی خان سے زیادہ اہمیت دے دی اسے ۔۔۔ لیکن افسوس نہیں نہیں بچا سکے گا تمھیں” وہ ہنسا
علینہ کچھ نہیں بولی ۔
مرتضی نے غصے سے اسکا ادھ موھا چہرہ جھٹکا اور
ابھی وہ پلٹتا کہ اسکی کمر سے ہی کسی نے اسے جکڑا اور زمین سے اٹھا کر ایکطرف پٹخ دیا
مرتضی اس اچانک حملے پر چلا اٹھا ۔
مگر سہراب سے شاید وہ خود کو بچا نہیں سکتا تھا
سہراب بنا رہے اسکی جانب بڑھا اور ایک بار پھر اسے اپنے دونوں بازوں میں جکڑ کر دیوار میں دے مارا وہ سہراب کے سامنے اتنا بھی بھاری نہیں تھا تبھی سہراب نے اسے فٹبال کی طرح دے دے کر مارا تھا ۔
اچھا کمینے تو تو مارے گا اسے ہاں تو مارے گا تو جانتا ہے یہ کس کی ہے جانتا ہے “
وہ اسکی گردن جکڑ کر چیخا کہ چارو جانب اسکی آواز بکھر گئ اور اسکی آواز کی گونج دور دور تک سنائ دی تھی ۔
سہراب اس سے پہلے مرتضی کیطرف مزید بڑھتا کہ مرتضی اٹھ کر وہاں سے بھاگنے لگا مگر سہراب نے اسکی گردن جکڑ لی ۔
اور وہ پھر جانتا نہیں تھا اسنے مرتضی کو کس کس طرح مارا تھا اتنا مارا اتنا مارا کے مرتضی کا سر پھٹ گیا
اسکا چہرہ لہولہان ہو گیا اسکے کپڑے پھٹ گئے مگر سہراب پاگل ہو چکا تھا
قاسم اور اسکے آدمی شور ہنگامے پر اندر بھاگتے آئے مگر یہ منظر دیکھ کر اور سامنے والے کا وجود اور اسکا وحشی پن دیکھ کر وہ لوگ وہیں رک گئے
مرتضی کو ایک چھوٹے کیطرح اسنے دور دھیالا اور مڑ کر ان سب کی جانب دیکھا ۔
آنا ” دونوں ہاتھوں میں علینہ کا چہرہ پکڑ کر اسنے دیکھا تو اسکا دل کٹ گیا اسکی وجہ سے وہ کیا کیا سہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
علینہ نے آنسو سے تر چہرے سے اسکیطرف دیکھا اور وہ خود پر پڑے اس اذیت آمیز لمہوں کو بوجھ نہ سہتے ہوئے بچوں کیطرح رو دی ۔
جبکہ سہراب نے اسے پھر سے سینے میں جکڑ لیا اسکے ہاتھ جلد از جلد کھولے ۔
اور اسے آزاد کر لے خود میں پیوست کر لیا ۔
اسکے بالوں پر پیار کرتا وہ خود میں سیمٹنا چاہ رہا تھا
کہ مرتضی نے پیچھے سے اسکے سر میں کوئ چیز مار دی ۔
ایکدم جیسے سب سن ہو گیا ۔
علینہ پر سے اسکا ہاتھ ہٹا اور ۔
وہ پیچھے جا گیرہ جبکہ سہراب کے سر میں سے خون بہت تیزی سے بہہ رہا تھا ۔
اچانک آنکھوں کے آگے دھندلا پن چاہ گیا جبکہ وہ کوئ بھاری چیز تھی لوہے کی سہراب کے اوسان خطا کر گئ کہ وہ اتنا مظبوط طاقت ور شخص کیسے ڈھیر ہوا تھا ۔
دوسری طرف علینہ ایکدم اسکی جانب بڑھی ۔
سہراب سہراب “
وہ اسکا نام پکارتی ارد گرد دیکھتی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی
سہراب اٹھو پلیز ۔”
وہ رو رہی تھی جبکہ قاسم نے ہنستے ہوئے علینہ کو پیچھے کھینچ لیا
سہراب ” علینہ چلائ ۔
سہراب کی آنکھوں میں کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا
قاسم نے ہنستے ہوئے سہراب کی طرف دیکھا اور اسنے اس لوہے کے راڈ کو سہراب کے منہ پر مارنے کے لیے ہوا میں بلند کیا جبکہ اس فضا میں علینہ کی چیخیں بھی تھیں کہ ٹھا کی آواز سے ایکدم سکوت چاہ گیا ۔
مرتضیٰ کے ہاتھ سے علینہ چھٹی اور
سہراب کی جانب دوڑی ۔
وہ اسکو اپنے کمزور بازؤں میں سمیٹ چکی تھی یہ سمیٹنا چاہ رہی تھی
سہراب ” وہ پاگلوں کیطرح چیخی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔