52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

سہراب کی آنکھوں کے آگے دھند سی پڑ گئ وہ دیکھنا چاہتا تھا اسکو مگر اسکی آنکھوں میں شاید انسو تھے
علینہ اٹھ گئ اس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا ۔
سہراب۔ نے اسکے اٹھنے سے پہلے اگے بڑھ کر اسے دونوں بازوں میں سمیٹ لیا

اسکے الٹے سیدھے کٹے بال اسکا چوٹوں سے بھرا چہرہ اسکا پھیکا رنگ آنکھوں کے گرد ہلکے اور
نقاہت زدہ وجود اور سب سے اہم یہ کوٹھا ۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا کوٹھے پر آنے والی عورت کی عزت کی حفاظت کب رہتی ہے ۔
اسکو لگا وہ چلائے گا وہ اتنا چلائے گا کہ شاید پورا اسلامہ اباد اسکی چیخوں سے گونج جائے گا ۔
چھ ماہ سے وہ پاگل سمھجہ رہا تھا وہ اسے دھوکا دے کر جا چکی ہے کتنی بار سوچا کہ مفاد سے جڑی تھی کتنی بار سوچا کہ محبت کے دعوے ہی جھوٹے تھے کیا پتہ تھا وہ یہاں۔ ہو گی مگر وہ یہاں کیوں تھی کیسے تھی کیوں آئ کب آئ کس نےا سکے ساتھ یہ کیا کتنے سوال تھے وہ اسے سینے میں سمیٹے کھڑا تھا بس نہیں چل رہا تھا خود میں پیوست کر لے وہ رو رہا تھا ۔
علینہ کی آنکھوں میں آنسو بے شمار تھے
سہ۔۔سہراب”
بس سوکھے ہونٹوں سے یہ لفظ ادا ہوا

ات۔۔اتنی دیر کر دی ۔۔انے میں ” وہ شکواہ کرنے لگی سہراب تڑپ اٹھا ۔
اسنے اسکے سر کے پیچھے ہاتھ رکھا اسکے مظبوط بازو علینہ کے کمزور وجود کو تھامے کھڑے تھے ۔
اسنے جھک کر علینہ کے بالوں پر پیار کیا ۔
اپنے آنسووں کو حلق میں اتارا ۔
اور ہمت کر کے اسکا چہرہ دیکھا یہ وہ چہرہ نہیں تھا کتنی یادیں تھیں جو گھوم کر آنکھوں کے آگے ا گئیں وہ تو بے پناہ حسین شاداب چنچنل شوخ لڑکی تھی
۔ کس نے کیا ہے ۔۔۔ یہ”
وہ خود میں ہر بات ضبط کرتا اسکے بال سنوارتا بولا ۔
سب سب
۔نے سب نے کیا ہے سہراب میں نے تمھیں بہت رلایا ہے یہ سب ایک سب ہی۔ انھوں نے انھوں نے مجھے مارا میرے بال کاٹ دیے مجھے مارا سہراب ان سب نے کیا ہے یہ یہ ضا مجھے سزا دی
ہے رضا نے مجھے یہاں چھوڑ دیا مجھے سب نے مارا مجھے رضا نے مارا مجھے مرتضی نے مارا مجھے مجھے بہت مارا میں نے چیخ چیخ کر تمھیں بلایا میں نے کہا میرا سہراب “
آنا ” وہ اسکو تڑپتا دیکھ مزید سن نہیں پایا اسے نفرت ہو گئ تھی اس نام سے ہاں علینہ کے چھوڑ جانے اور اس لڑکی کے نام پر نفرت ہو گئ تھی مگر اس وقت علینہ کی حالت دیکھ کر وہ اپنے اندر نہ جانے کون سی آگ محسوس کر رہا تھا جو اتنی قوت رکھتی تھی کہ بنا دیکھے سب کو جلا کر بھسم کر دے
۔۔۔۔
نہیں نہیں سنو سہراب مجھے بہت مارا ہے سب نے میں بہت چیختی رہیں ہوں میں میں نے تمھیں بلایا ہے بہت چیخ چیخ کی “
شششش”
اسنے اسے روکنا چاہا مگر وہ نہیں روک رہی تھی
میرے بال “
وہ جیسے اپنے کے سمانے بکھر گئ بری طرح رو دی ۔
آنا “
نہیں میرے بال ۔۔۔۔مجھے بہت تکلیف ہے میں مجھے یہاں سے لے چلو تم لے جاؤ گے نہ مجھے چھوڑو گے نہیں نہ تم تمھارے بھائ نے کہا اسنے مجھ سے سزا لی ہے یہ یہ سب اسنے کرایا ہے تمھیں پتہ رضا کو بھی اسنے ہی کہا تھا یہ سب کرنے کے لیے ۔
وہ بچوں کیطرح سے شکایتیں لگا رہی تھی سات سال سے وہ اسی لڑکی کے آگے بچہ بنا ہوا تھا وہ ایک دن نہیں تھکی اسے سمبھالتے اور اس وقت میر سہراب جیسے ٹوٹ رہا تھا وہ اس کو سمبھالنے کی قوت نہیں رکھتا تھا ۔۔۔
اس میں اتنی ہمت نہیں تھی یہ سچ تھا مرد کی قوت عورت سے کم ہوتی ہے عورت کو اللہ نے اتنی صلاحیت دی کہ وہ ایک مرد کو اور اس مرد کے ساتھ اسکے بچوں کو بھی سمبھال سکتی ہے مگر اس وقت سہراب علی خان بھرپور طاقت رکھنے والا مرد اسکو سمبھال نہیں پا رہا تھا اسنے خونی نظروں سے مڑ کر دیکھا تھا۔
علینہ بےقابو ہو رہی تھی
مج۔۔مجھے کھانے کو نہیں دیا سارا سارا دن رات اندھیرے میں بند رکھا ۔
تم تم سب سے بدلا لو گے وعدہ کرو سب سب “
اور وہ اسکے بازو میں گیر گئ ۔
سہراب نے اسے بازو میں اٹھا لیا ۔
اس وقت سہراب اپنے حلق میں آنسو کو قید کر رہا تھا
اسنے شرافت سے علینہ کو گاڑی میں ڈالا ۔ اور ۔
وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے وہ زمین پر بیٹھا تھا بستر پر وہ لیٹی ہوئی تھی اگر کوئ کہتا وہ پہلی بار اپنے وجود کے ساتھ ہلا تھا تو علینہ کو دیکھ کر ہلا تھا اور اسکے دل میں شاید اس روز کی شدت اور غم نے جنم لیا تھا جس روز وہ اپنے گھر کو اجنبیوں کیطرح چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اسکو روکنے والس
ا کوئ نہیں تھا ۔
اسے لگا اسکا دل علینہ کو دیکھ کر پھٹ جائے گا پہلی بار احساس ہوا تھا سینے میں دل نام کی کوئ شے بھی ہے ۔
اسکے گارڈز نے بتایا تھا مرتضی نے عادل کو جان سے مار دیا ہے اور مرتضی کے بارے میں پتہ کروانے پر پتہ چلا تھا کہ وہ دوبارہ کراچی چلا گیا ہے ۔
علینہ کو ڈاکٹر کو دیکھایا تھا پہلے تو وہ قابو میں ہی نہیں آ رہی تھی اور جب اسنے ڈاکٹر کو بلا کر دیکھایا تو ڈاکٹر نے اسکی ذہنی حالت میں فلحال صدمہ بتایا تھا جس کے باعث وہ یہ سب کر رہی تھی ۔وہ اسکے قدموں میں بیٹھا تھا وہ ہر تھوڑی دیر بعد جھٹکا کھاتی اور بے چینی سے ادھر ادھر ہاتھ مارتی وہ یہ ساری کہانی سمھجہ گیا تھا ۔
اور اسے دنیا میں خود سے بڑا بیوقوف آدمی کوئ نہیں لگا تھا وہ سب اسکی پیٹھ پیچھے یہ کھیل کھیل رہے تھے اور وہ خود کہاں تھا ۔
اسکا دم گھٹنے لگا تو اسنے سیگریٹ لبوں سے لگا لی ۔
علینہ کی جانب دیکھا جو سکڑی سمٹی اسکے کمبل کو سختی سے جکڑے ہوئے پڑی تھی ۔
اسنے گھیرے گھیرے سانس بھرے تھے ۔
اس لڑکی کے الفاظ بھی کانوں میں گونجے اور پھر اسے یاد آیا ۔
جس دن مرتضی نے کہا تھا میں اپنی بےعزتی کا ایسا بدلا لوں گا تم یاد رکھو گے
وہ دور چاند کو دیکھنے لگا۔
کیا تھا اسکی قسمت میں ۔
بس بس اسکے رشتوں میں سے پاس ایک ہی رشتہ تھا اور وہ یہ لڑکی تھی جس نے ہاں بے لوث اسے چاہا مگر سہراب وہ لٹا پیٹا انسان تھا جو اپنے آپ سے کسی کو خوشیاں دے ہی نہیں سکتا تھا اور تھا ہی کون جو اسے چاہنے والا تھا ایک وہ لڑکی جو محبت کرنے لگی ۔
وہ ایک شخص لوگوں کے دل کی گہرائیوں میں تو اتر گیا تھا مگر اسکی دل کی گھرائ کو کسی نے نہیں چھوا تھا
وہ کیا شکواہ کرتا اسنے خود بھی کچھ اچھا نہیں کیا تھا ۔ خود سے ہی بے پناہ شکوے اور شکایتیں تھیں۔

بس اسکی وجہ سے علینہ کہاں پہنچ گئ کیا پہلے وہ ایسی تھی ۔
وہ ایسی تھی وہ اسطرح ڈر جاتی تھی اسطرح سہمی ہوئی تھی
کیا کیا چھن گیا صرف ایک سہراب کی وجہ سے اسکا ۔
سہراب۔ نے اس رات کھڑے کھڑے اتنی سیگریٹ پی تھی کہ اسنے صبح کا سورج نکلتے دیکھا اور اسکے بعد اسے لگا اسکا گلہ بنجر سوکھا صحرا ہو ۔
وہ واپس پلٹا اور اسنے ڈاکٹر کو کال کی جو رات علینہ کو دیکھ کر گئے تھے ان سے ملنے کا کہا علینہ اب تک جاگی نہیں تھی جب تک وہ فریش ہوا تب تک ڈاکٹر بھی ا گئے تھے تقریبا بیس منٹ کا دورانیہ تھا ڈاکٹر نے بتایا کہ علینہ کو ذہنی طور پر مکمل پرسکون ہونے کی ضرورت ہے کوئ اور صدمہ اسے پاگل کر سکتا ہے ۔
جبکہ سہراب تو علینہ کو دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔
وہ اس سے لڑتی بھڑتی اچھی لگتی تھی یہ کیا اس سے بھی وہ ڈر رہی تھی شکایتیں کر رہی تھی ڈاکٹر کے چلے جانے کے بعد وہ اسکی طرف ایا ۔ اور اسکے الٹے سیدھے کٹے بالوں کو دیکھنے لگا
مجھے قسم ہے مرتضی مراد خان میں اپنے باپ کا نہیں اگر میں نے تمھیں زندہ اس زمین پر چلتا پھرتا چھوڑ دیا تو “
دل میں سوچا اور اسکے پاس بیٹھ گیا ۔
اسنے اسکے گال کو چھوا ۔بخار سے تپ رہا تھا ۔
وہ اٹھا اور اسنے اپنا رومال پانی میں بھگو کر اسکی پیشانی پر رکھ دیا وہ ۔ زیادہ سوگھڑ نہیں تھا بس جتنا آتا تھا اتنا کر رہا تھا
دل میں عجیب ہی احساس تھا بار بار اس سے نگاہ چرا رہا تھا اس کی اس حالت کا زمہ دار وہ خود ہی تھا
علینہ کے چہرے پر نشان تھے ۔
سہراب اسے زخموں کو دیکھنے لگا اسکے ہاتھوں پر لگا میل اپنے رومال سے صاف کیا ۔ اور۔ پھر جا کر دھو کر لاتا اور پھر دوسرا ہاتھ صاف کرتا وہ اس وقت ایک انجان بچہ لگ رہا تھا جو کسی کی پرواہ بھی کر رہا تھا اور پرواہ کرنے کا ڈھنگ بھی معلوم نہیں تھا
علینہ ایکدم درد سے کراہی
آپس سوری یار”
وہ پریشانی سے بولا علینہ نے آنکھیں کھول دیں اسے دیکھنے لگی دونوں کے مابین خاموشی چھا گئی سہراب بھی اسکیطرف دیکھ رہا تھا جبکہ علینہ ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پیاسے کو کنواں دیکھائی دے گیا ہو ۔
سہراب ہلکا سا مسکرا دیا ۔
تم ٹھیک ہو جاؤ گی بہت جلد آئ پرومیس ” وہ اپنی طرف سے تسلی دینا چاہتا تھا ۔
م۔۔۔۔۔میں ٹ۔۔ٹھیک کیسے ہوں گی “
وہ سسکی ۔ تو ۔۔ سہراب دانت بھینچ گیا ۔
پلیز علینہ “
ن۔۔۔نہیں سہراب م۔۔۔میں میں میں اتنی بری تھی مجھے ات۔۔۔اتنی کڑوی سزا مل۔۔۔ملی تم تم جانتے نہیں ہو وہ جگہ وہ جگہ کیسی ہے کیسی آوازیں آتی ہیں ج۔۔۔جان بوجھ کر میرے میرے سامنے ۔۔۔ مجھے دیکھاتے تھے ز۔۔زبردستی”
ش۔ش۔ش وہ اسکے لبوں پر انگلی رکھ گیا ۔
چپ ہو جاؤ ۔ کچھ نہیں ہوا تمھیں تم بلکل ٹھیک ہو
میں ٹھیک نہیں ہوں ” وہ چیخی
تم سمھجہ نہیں رہے ہو وہ لوگ “
آنا ” وہ بولا لہجے میں بے پناہ نرمی تھی وہ اسکی طرف دیکھنے لگی ۔
ایم سوری” وہ بولا ۔
علینہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر رو دی ۔
مجھے نہیں پتہ تھا تم سے محبت کی اتنی بڑی سزا ملے گی مجھے”
وہ شکواہ کرتی بولی ۔
روکا تھا نہ میں نے کے مت کرو یہ سب مت خود کو مشکل میں ڈالو ۔ “
وہ بھی ویسے ہی بولا
ہاں سارا قصور ہی میرا ہے “
ڈاکٹر کہتا ہے تمھارے دماغ پر اثر ہوا ہے یہ اثر ہوا ہے اگلے لمہے ہی لڑنے بیٹھ گئ ہو “
وہ گھور کر بولا ۔
جاؤ یہاں سے”
وہ غصے سے بولی
سہراب چپ رہا جب کہ علینہ دور ہو کر بیٹھ گئ ۔
سہراب وہاں سے واقعی نکل گیا علینہ نے تپتی ہوئ آنکھوں سے اسے دیکھا تھا ۔
اسے مزید رونا آیا ۔
شاید اسکی محبت نے اسے یوں ہی رسوا کرنا تھا ۔
کیونکہ وہ محبت نبھا غلط طریقے سے رہی تھی پھر کہیں نہ کہیں تو جا کر پھسنا ہی تھا اسنے اپنے بالوں کو چھوا تو دوبارہ رونے لگی ۔۔۔۔
اسنے پیچھلے چھ ماہ میں آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا تھا وہ دونوں ہاتھ گٹھنوں پر رکھے باقائدہ آواز کے ساتھ رو رہی تھی ۔
سہراب نے ناشتہ آرڈر کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کوئ اسکو دیکھے تبھی اسنے ناشتہ باہر جا کر خود لیا تھا مگر وہ واپس آیا تو ۔ وہ اسی طرح رو رہی تھی ۔
وہ اسکے نزدیک ا گیا بیڈ پر اسکے سامنے ناشتہ رکھا ۔
اور بیٹھ گیا ۔
علینہ نے آنسو صاف کیے ۔
سہراب نے پہلی بار اسکے لیے اپنے ہاتھ سے ناشتہ بنا کر لقمہ اسکے منہ کیطرف بڑھایا ۔
علینہ کے بالوں سے گیرتے آنسو کوئ نہیں جانتا تھا اسپر کس طرح بوجھ بڑھا رہے تھے
سب ٹھیک ہے آنا ۔ تم ٹھیک ہو ‘
وہ اسکو بار بار تسلی دیتا اسکے گال صاف کرنے لگا ۔
اب ک۔۔۔کچھ ٹھیک ۔۔ن۔۔نہیں ہے سہراب ” اسکے وجود نے درد بھری ہچکی لی تھی ۔
سہراب نے دانت بھینچ لیے ۔
ہاں اسے وقت چاہیے تھا ۔ اور شاید بہت زیادہ ۔
اسنے تھوڑا بہت ناشتہ کیا اور انکار کرنے لگی سہراب نے بھی زیادہ زور نہیں دیا اسے دوائ دی ۔جس کی آنکھ سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
اسنے اسے دوائ دی اور ۔ لیٹا دیا کیونکہ اسے سکون کی ضرورت تھی اسے کچھ ہی دیر میں نیند آ گئ اور وہ سو گئی
سہراب کے لیے یہ سخت اعصابوں کا کام تھا ۔ اسکے اعصاب تن گئے تھے ۔
علینہ کو سنبھالتا یہ اس دنیا کو آگ لگاتا جس نے اسکے ساتھ یہ سب کیا تھا
اسنے علینہ کے سونے کے بعد

گارڈ کو وہیں رکنے کا کہا اور ڈکٹر سے کہہ کر ایک نرس کا انتظام کرا دیا
نرس جب تک نہیں آئ وہ وہیں تھا ۔
اور جیسے ہی نرس ا گئ وہ اسے اسکا خیال رکھنے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔
وہ باہر نکلا آج وہ بلیک مکمل لباس میں تھا اسنے بلیک شلوار قمیض پہنی ہوئ تھی جبکہ اسکے کرتے کے اوپری سارے بٹن کھولے تھے آنکھوں کو گاگلز سے ڈھانپ رکھا تھا جبکہ بازو کہنیوں تک فولڈ کیے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اسکا ڈرائیور بیٹھنے لگا تو اسنے انکار کر دیا وہ گاڑی خود چلانے والا تھا گاڑی میں سوار ہو کر ۔ وہ وہاں سے سیدھا اسلامہ آباد کے سب سے بڑے اور مشہور کوٹھے کی جانب بڑھ گیا ۔
اسکی کمر میں بندھے گن ہولڈر میں دو بندوقیں تھیں۔
وہ بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا ۔ ارادہ تو یہ تھا کہ علینہ کو ساتھ لے کر آتا اور سامنے بیٹھا کر پیٹواتا مگر وہ شاید ذہنی طور پر دوبارہ یہاں آنے کے قابل نہ ہوتی

تبھی وہ خود نکل آیا تھا ۔
وہ یہاں کسی کو چھوڑنے والا نہیں تھا
جیسے ہی کوٹھے کے آگے گاڑی رکی وہ گاڑی سے نکلا بازار گرم تھا اسنے فائر ہوا میں کھول دیا اسکے گارڈ ارد گرد پھیل گئے
وہ آگے بڑھا اور اندر چلا گیا اسے بلکل دلچسپی نہیں تھی کسی میں بھی وہ اندرا یا اور اسنے
دوسرا فائیر کر کے بہت بڑے اور مہنگے فانوس کو توڑ دیا وہ فانوس جو کہ پورے حال کو روشنی سے جگمگا رہا ۔
کون کون ہے یہ “
نگو بائ اور اسکے ساتھ عورت خود کو سمبھالتی ہوئ باہر آئیں

سہراب نے نگو بائ کی جانب دیکھا اور ۔ اس عورت کیطرف
تم دونوں میں سے نگو بائ کون ہے”
وہ آرام سے صوفے پر بیٹھ کر سوال کرنے لگا نگو بائ جا حلق خشک پڑ گیا
یہ یہ ہے ” اس عورت نے کہا
نہیں میں نہیں ہوں ” نگو بائ فورا مکر گئ سہراب نے اپنے گارڈز کو اشارہ کیا جنھوں۔ نے اسے سختی سے جکڑ لیا …
تو تم نے آنا کو خریدا ” وہ سکون سے اسکیطرف بڑھتا گاگلز ہٹا گیا جبکہ اسکی چوٹ کا نشان دیکھ کر نگو بائ ڈر گئ تھی سہراب اسے بڑی بڑی آنکھوں سے گھورنے لگا
یعنی تم نے علینہ کو مارا “
نہیں نہیں میں نے تو مرتضی کے کہنے پر یہ سب کیا باؤ میں نے کچھ بھی نہیں”
سہراب نے کھینچ کر تھپڑ اسکے منہ پر مارا ۔اور سکون سے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا نگو بائ چلا چلا کر رونے لگی
تم جانتی ہو تم نے کس پر ہاتھ اٹھایا ہے ۔
جانتی ہو “
وہ چیخا ۔
نگو بائ اس سے بچتی دور ہٹنے لگے
تمھارے یہ موٹے موٹے کالے بدھے ہاتھ میری آنا پر پڑے ہیں میں ان ہاتھوں کو ہی جڑ سے اکھاڑ دوں گا پھر ان ہاتھوں۔ میں گھنگھور پہن کر ناچتی رہنا ۔
اسنے شرٹ اٹھا کر گن نکالی نگو بائ کی چیخیں نکل گئ
نہیں باؤ نہیں نہیں چھوڑ دے مجھے اللہ کے واسطے چھوڑ”
چٹاخ ” ایک اور جان دار تھپڑ پڑا تھا ۔
اللہ کا خوف یہ کارنامے کرتے ہوئے نہیں آیا ۔تمھیں اور علینہ پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے تھا ۔ تمھیں اب بھگتو اپنے کیے کی سزا ۔
سہراب نے اپنے گارڈز کو اشارہ کیا گارڈز نے اسکے ہاتھ جکڑے اور سب کے سامنے سہراب نے اسکی ہتھیلی میں اپنی بندوق سے چھید کر دیا پورے کوٹھے پر نگو بائ کی چیخوں کے علاؤہ کسی پرندے کی بھی آواز نہ تھی

جاری ہے