52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

مرتضی انیکسی میں داخل ہوا تو نوشین آنٹی چارپائی پر لیٹی تھی جبکہ انکی بیٹی کام کر رہی تھی وہ کچھ دیر میں انکے گھر کے کاموں کے لیے آنے والی ہی تھی
نوشین مرتضی کو اپنے گھر پر دیکھ کر حیران ہوتی اٹھی ۔
مرتضی کبھی انکے گھر نہیں آیا تھا اور نہ ہی اسنے کبھی ڈھنگ سے ان سے بات کی تھی ۔
وہ ہمیشہ ان سے بدتمیزی ہی کرتا رہا تھا
مرتضی کا اس گھر میں داخل ہوتے ہی دم گھٹنے لگا حالانکہ یہ انکے گھر کی انیکسی تھی ۔
وہ پھر بھی مطلب کی وجہ سے گھر میں آیا نوشین اٹھ بیٹھی
مجھے آپ سے کام نہیں ۔ “
مرتضی نے سپاٹ تیوروں میں کہا تو نوشین نے اسکی جانب ایسے دیکھا گویا پوچھ رہی ہو پھر کس سے کام ہے ۔
آپکی بیٹی کہاں ہے “
وہ پوچھنے لگا تبھی آنا بھی ا گئ ۔
وہ اس وقت قدرت مختلف لگ رہی تھی دوپٹہ اسپر بلکل نہیں تھا اور بالوں کا جوڑا بنائے وہ سرخ چہرہ لیے مرتضی کو دیکھ رہی تھی مرتضی اسکی خوبصورتی سے کھڑے کھڑے متاثر نظر ا رہا تھا ۔
مجھے تم سے کام ہے باہر آؤ “
وہ اسکے ملازم تھے انکی خوشامدی کرنا یہ انکے ساتھ نرم رویہ رکھنے کا وہ محتمل نہیں تھا اور نہ ہی اسنے ایسی کوشش کی
مرتضی کی تیز نظروں سے سٹپٹا کر جلدی سے آنا نے خود کو ڈھانپ لیا ۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا تھا اور پھر باہر نکل گیا ۔
نوشین اور آنا ایک دوسرے کیطرف دیکھنے لگا ۔
جاؤ پہلے پتہ کرو کام کیا ہے ” نوشین نے کہا ۔
مگر امی”
آنا تم مرتضی صاحب کو جانتی تو ہو کتنے سخت مزاج کے ہیں “
امی اس گھر میں سب ہی کڑوے مزاج کے ہیں”
وہ خفگی سے کہتی باہر نکل آئ ۔
اسنے مرتضی کو سامنے درخت کے پاس پیٹھ موڑے دیکھا وہ اسکے پیچھے جا کھڑی ہوئی مرتضی فون پر کسی سے بات کر رہا تھا مڑ کر اسکی جانب دیکھنے لگا تھا جو زرا کنفیوز سی ہو رہی تھی ۔
مرتضی نے جب تک کال پر بات کی اسکی جانب یوں ہی دیکھتا رہا اور اسکے بعد فون بند کر کے اسنے گھیرہ سانس بھرا ۔
یہ جگہ بات کرنے کے لیے مناسب نہیں تمھیں میرے ساتھ باہر چلنا ہو گا ” مرتضی گھڑی میں وقت دیکھتا بولا ۔
مگر صاحب کام کرنا ہے مجھے تو ” آنا نے بچنے کے لیے بھانا لگایا ۔
کوئ فرق نہیں پڑتا تمھاری ماں کر لے گی چلو ” وہ لاپرواہی سے بولتا آگے بڑھا اور آنا کو چارنچار اسکے ساتھ چلنا پڑا تھا ۔
مرتضی اپنی گاڑی سے نظر چرا کر ڈیڈ کی گاڑی میں بیٹھ گیا جبکہ آنا سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ کرے تو کیا کرے ۔
وہ باہر کھڑی رہی
بیٹھو ” مرتضی نے گاگلز لگائے اور حکم دیا وہ اندر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ پہلی بار ہی بیٹھی تھی اسطرح گاڑی میں ۔
وہ ڈر بھی رہی تھی نہ جانے کیا ہونے والا ہے
مرتضی البتہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا ایک کیفے کے آگے گاڑی روک گیا وہ باہر نکلا اور پیچھے آنا بھی نکل ائ۔
دونوں چلتے ہوئے اندر آئے اور مرتضی نے اپنے شیان شان ایک سیٹ ریزرو کرائ یہ سب آنا کو بہت اچھا لگ رہا تھا نہ جانے وہ کسی سوچ رہی تھی کہ مرتضی کیا کہنے والا ہے مرتضی نے اسکے فیس ایکسپریشن دیکھے جو پہلے تو گھبراہٹ زدہ تھے مگر اب کافی مختلف تھا ایک طنزیہ ہنسی منہ پر ا گئ
کیا لو گی”
اسنے پوچھا لیا وہ کسی سے اتنا پولائیٹ نہیں تھا وہ صرف اپنا مطلب نکلوانے کے لیے یہاں موجود تھا ۔
آنا نے اسکی جانب دیکھا وہ سمجھہ نہیں پائ کیا کہے کچھ کہتی کہ مرتضی نے روک دیا
افکورس میں سمجھ گیا ہوں تمھارا تو پہلی بار یہاں آنے کا اتفاق ہوا ہے مجھے یقین ہے تمھیں کہاں کسی بھی چیز کی تمیز ہو گی “
اسنے اسکی انسلٹ کرتے ویٹر کو پکارہ جبکہ آنا چپ ہو گئ ۔
اور اسکے لیے آئسکریم آرڈر کر کے اپنے لیے جوس منگا لیا ۔
دوسری طرف آنا اسکے مدعے کی منتظر تھی جیسے ہی ویٹر انکا آرڈر رکھ کر گیا ویسے ہی مرتضی نے گھیرہ سانس بھر کر اسکیطرف دیکھا ۔
دیکھو آنا ہمارا اور تمھارا تعلق کافی پرانا ہے اہے تمھاری ماں ہمارے ہاں کافی وقت سے ملازمت کر رہی ہے اور تمھارے باپ دادا بھی ہمارے ملازم رہے ہیں”
وہ اپنی برتری شاید ثابت کر رہا تھا ۔
آنا چپ ہی رہی ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ساری زندگی تم بھی ہماری ملازمت ہی کرتی رہو گی کیا تمھیں آگے نہیں بڑھانا کیا تمھیں وہ سب کچھ نہیں چاہیے جو ہم لوگوں کے پاس ہے یہ جو ماہین کے پاس ہے “
وہ اسکا دماغ ٹریپ کر رہا تھا
آنا نے اسکی جانب دیکھا اگر یہ سچ تھا کہ ہاں اسے وہ سب چاہیے تھا جو ان لوگوں کے پاس تھا تو اس میں اسے شرمندگی نہیں تھی کیونکہ ہر انسان کی خواہش میں سے ہی تو ہے یہ خواہش۔
آنا اسکی جانب دیکھ رہی تھی لیکن آنکھوں کی چمک نے مرتضی جیسے تیز آدمی کو یہ ثابت کر دیا تھا وہ خواہش مند ہے ان سب چیزوں کی ۔
تمھاری خاموشی مجھے اطلاع دیتی ہے کہ تم چاہتی ہو یہ سب اور بلکل جائز ہے تمھارا حق ہے ۔ ہر اس چیز کو پا لینے کا جس کی تم خواہش کرو مگر ۔ آنا ۔ ہر چیز دنیا میں یوں ہی منہ اٹھا کر نہیں مل جاتی “
وہ اب اسکے چہرے پر نا سمھجی دیکھ رہا تھا ۔
جو چاہا وہ پانے کے لیے ۔ بہت کچھ کرنا پڑتا ہے بہت محنت لگتی ہے ایک مقام پر آنے کے لیے”
وہ بولا ۔ آنا اب بھی نہیں سمھجی ۔
میرا مطلب صاف ہے ۔ شاید میں اپنے اصولوں پر جیتا ہوں ۔ جو آپکے راستے میں آئے اسے مسل دو ۔ اور کامیابی یوں ہی نہیں ملتی چھیننی پڑتی ہے ۔ دوسرے کو ختم کر دینا چاہیے اگر خود ابھرنا ہے تو ۔ کسی کا خیال کسی کا احساس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ دنیا ہے یہاں ہزاروں لوگ بھیک مانگتے ہیں کس لیے کیونکہ وہ کسی کا خیال یہ احساس دل میں رکھتے ہیں تبھی ہاتھ پھیلاتے ہیں یہ ہی لوگ چھیننے کا تصور رکھیں تو ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں “
وہ بولا اور کچھ سیکینڈز کے لیے خاموش ہو گیا
مگر یہ غلط ہے کسی سے کچھ چھین کر اپنا کر لینا ۔
کیسے غلط ہے”
وہ بھڑکا آنا ایکدم رک کر اسے دیکھنے لگی جبکہ مرتضی نے گھیرہ سانس بھرا ۔
آنا یہ غلط نہیں ہوتا ہم جن چیزوں پر اپنا حق سمجھتے ہیں وہ ہمارے پاس ہی ہونی چاہیے” وہ بولا تو آنا ۔ نے اسکی جانب دیکھا
صاحب آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں”
وہ خود ہی اسکا اصل مدعا پوچھ بیٹھی
ہمم ٹھیک سوال کیا ہے ۔
میں نے سنا ہے نوشین آنٹی کو گردوں کا مسلہ ہے ۔ اور انکا اوپریشن ہونا ہے اور تم لوگوں کو پیسوں کی ضرورت ہے شاید اتنے کہ تم دن رات بھی محنت کرتی رہو گی میرے گھر میں تب بھی اتنے کما نہیں سکتی”
وہ ہلکی سی طنز بھری مسکان سے بولا ۔
آنا کے لیے یہ حیران کن نہیں تھا وہ گھر کے مالک تھے اور آنا بس ملازم شاید انکے گھر کی خبریں ان سے زیادہ سامنے بیٹھے شخص کو پتہ ہوں گی جنھیں سن کر بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہو گا
آنا نے بس سر ہلا دیا
تو تم اپنی بوڑھی ماں کے لیے کچھ نہیں کرنا چاہتی ” وہ پوچھنے لگا
میں کیا کر سکتی ہوں “
انا کا لہجہ نم ہو۔ گیا
بہت کچھ کر سکتی ہو ماں باپ کے لیے تو اپنا آپ بھی بیچ دینا چاہیے”
اسنے ایسے کہا جیسے خود بھی ایسا وقت آنے پر کر گزرے گا ۔
آنا نے سر جھکا لیا
دیکھو آنا سر جھکانے سے اور گھبرانے سے کچھ نہیں ہوتا تم اپنا حق دنیا سے چھین لو ۔ “
وہ بولا ۔ آنا کے لیے یہ ساری باتیں ناسمجھی کی تھی۔
آپ “
وہ ہنس پڑا میں کہنا کیا چاہتا ہوں۔
ٹھیک ہے میں مدعے پر آتا ہوں ۔
درحقیقت میں تمھیں تمھاری ماں کے علاج کے پیسے دے سکتا ہوں بلکہ یوں سمھجو اس سے بھی زیادہ کے تم ۔ خوش ہو جاؤ گی “
آنا نے اسکی طرف حیرانگی سے دیکھا ایکدم جسم و جاں میں امید کی روشنی سی اٹھی اسکی ماں راتوں کو تڑپتی تھی کیسے وہ اسکی تڑپ بھری آواز پر خاموش رہتی تھی کیونکہ انکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے باپ تو بچپن میں ہی مر گیا تھا ایک ماں ہی تھی ۔ جو بس یہاں ملازمت کر کے اسکا اور اپنا پیٹ پال رہی تھی ۔
بہت شکریہ صاحب بہت شکریہ میں اپکا یہ احسان شاید کبھی نہ اتار پاؤں “
اسکی آنکھیں اب باقائدہ بھیگ گئیں مرتضی مسکرا دیا ۔
کیوں نہیں اتار سکتی اتار سکتی ہو تم ابھی ابھی بیٹھے بیٹھے ہی “
وہ مسکرایا انا نے چونک کر اسکیطرف دیکھا ۔
دیکھو آنا میں کسی پر نہ بھیک خرچ کرتا اور نہ ہمدردی رکھتا کسی سے تو کچھ لو اور کچھ دو کا سلسلہ ہے میں تمھیں یہ پیسے دوں گا تمھیں میرا ایک اہم کام کرنا ہو گا “
وہ سکون سے اب ٹیک لگا کر پیچھے بیٹھ گیا
جی بتائیں کیا کام کرنے ہیں ۔ “
وہ سمھجہ گھر کے کاموں کی بات کر رہا ہے اسے پیسے مل رہے تھےا س سے بڑھ کر کیا بات تھی اسکی ماں کا علاج ہو جائے گا ۔
اور انکے حالات بہتر ہو جائیں۔ گے ۔
گڈ ۔ تو کام کچھ یوں ہے کہ۔ میر سہراب کو تو جانتی ہو “
آنا نے گردن اثبات میں ہلا دی
ہممم تو یہ جو تمھاری مٹھی ہے نہ ” اسنے آنا کا ہاتھ بند کیا ۔ مٹھی کی صورت میں
مجھے میر سہراب اس مٹھی میں چاہیے۔ ” وہ بولا آنا ششدر سی اسے دیکھنے لگی
زیادہ حیرانگی والی بات نہیں ہے تم خوبصورت ہو بس اپنی خوبصورتی کو کیش کرنا ہے تم نے ۔ تم نے اسکے قریب جانا ہے اور ان دو فائلوں پر اسکے سائین لینے ہیں ۔ ” اسنے وہ فائلیں اسکے آگے پھینکی ۔
آنا ان فائلوں کو تو کبھی مرتضی کو دیکھتی
مگر یہ دھوکا ۔
میں نے کہا نہ اپنا حق چھین لینا چاہیے”وہ اب آنکھیں نکال کر بولا آنا ۔ چپ ہو گئ ۔
دیکھو تمھارے پاس زیادہ وقت نہیں تمھارے پاس ایک ہی اوپشن ہے وہ یہ کہ تم میرا کام کرو اور پیسے لو ۔ اگر تم اس کام سے انکار کرتی ہو تو ۔ میں تمھیں اور تمھاری ماں کو گھر سے باہر نکال دوں گا “
وہ شانے آچکا کر لاپروہای سے بولا ۔
آنا پریشان ہو گئ ۔
تو جواب اثبات میں چاہیے مجھے ۔ سب کچھ تمھیں میں بتاؤ گا تم نے کیا کیا کرنا ہے ۔ تمھیں پیسہ مل رہے ہیں یار اور کیا چاہیے اور ہو سکتا ہے اس لوزر کو تم سے محبت ہو جائے ساری زندگی اسکے ساتھ رہنا “
وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے یہ سب کھیل تماشہ ہو ۔
آنا ۔ کی پیشانی بھیگ گئ تھی
میں نے کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا”
وہ گردن جھکا گئ ۔
ہا ہا ہا تم لوگ کسی کو دھوکا تو کیا اپنا بخار بھی نہیں دے سکتے بھلا پوچھو دھوکا کیسے دو گے دینے کے لئے بھی سٹینڈرڈ ہوتا ہے آنا ۔ اور تم نسلی ملازم ہو ۔ خیر میں تمھیں یہ چانس دے رہا ہوں کے ساری زندگی کی ملازمت سے نکل آؤ “
وہ بولا تو آنا ۔ کے دل پر اسکی باتیں لگی تھیں یہ تو سچ تھا وہ ساری زندگی تو یہ کرنے سے رہی تھی بیٹھے بیٹھے ہی مرتضی نے اسکے دماغ کو کافی کنٹرول کر لیا تھا چھوٹی عمر کا دماغ تھا ۔ خواہشوں سے دور تھا سسک سسک کر ایک خواہش پوری ہوتی تھی تبھی وہ اسکی باتوں میں جلدی آ گئ
مگر سہراب بابا سے ڈر لگتا ہے “
اسنے اپنا مسلہ رکھا ۔
خالی سہراب”
مرتضی کو سہراب کے نام پر اتنی عزت پسند نہیں آئ انگلی اٹھا کر بولا ۔
آنا چپ ہو گئ۔
ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ ایک نمبر کا گدھا ہے میں جانتا ہوں وہ کتنا ہی خول چڑھا لے اسکا دل نرم ہی رہے گا”
وہ شیطانی ہنسی ہنسا ۔
جبکہ آنا ۔ سمھجی نہیں
ایک بات “
ہاں پوچھو “
مرتضی نے اسے مہلت دی ۔
آپ خود کرا لیں ان پر سائین ان سے”
وہ جھجھکتے ہوئے بولی
تو تمھیں یہاں لا کر بات کرنے کا مجھے بہت شوق تھا “
وہ بولا تو آنا شرمندہ ہو گئ
تم جانتی ہو مجھے سہراب سے کتنی سخت نفرت ہے ۔ شاید دنیا کی کوئ طاقت میری نفرت سے اس کو بچا نہیں سکتی “
وہ کھلے عام بولا تھا
آنا اسے غصے سے کھولتا ہوا دیکھ رہی تھی ۔
جبکہ مرتضی نے گھیرہ سانس بھرا ۔
اب میری بات کان کھول کر سنو “
وہ بولا تو آنا جو اسکی خوبصورتی اسکے پیسے سے متاثر ہو چکی تھی اسکی جانب متوجہ ہو گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا واپس لوٹ آیا تھا اور سیدھا گھر آیا تھا
وہ تھکا ہوا تھا ۔
علینہ فریش ہو کر ابھی نکلنے ہی لگی تھی ۔
آج اسنے جینز شرٹ کے علاؤہ ڈریسنگ کی تھی یہ بلیک ڈریس تھا ۔ جو اسکی چمکتی رنگت گرے بلو آنکھوں اور۔ سنھری بالوں پر آفت کیطرح لگ رہا تھا ۔
اسپر اسکا رضا کو دیکھ کر پریشان چہرہ ۔
وہ گھبرائ گھبرائ سی لگ رہی تھی
رضا نے اچانک ہی اسے پیچھے سے پکڑ لیا
علینہ نے ٹیبل تھام لی ۔
جب دل و دماغ میں کوئ اور تھا تو وہ کیسے اسے اپنا آپ دے سکتی تھی ۔
میرے پاس تمھارے لیے ایک شاندار سرپرائز ہے علینہ”
رضا اسکے کان میں بولا۔
علینہ نے بمشکل سانس حلق میں اتارا ۔
ک۔۔کیا ” وہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی مگر مسکرا نہیں پائ تھی ۔
وہ ابھی کیسے بتا دوں رات تک پتہ چل جائے گا آج تم کہیں نہیں جاؤ “
رضا نے اسکے شولڈر سے بیگ اتارا اور ۔ اسکا ہاتھ تھام لیا ٹھنڈی اکتوبر کی ہوا نے علینہ کے چہرے کو بڑے پیار سے چھوا تھا کہ اسکے بال لہرا گئے ۔
ویسے تم نے یہ چھٹیاں کہاں گزاری”
رضا پوچھنے لگا ۔
وہ میں”
علینہ سے کوئ بات نہیں بن سکی۔
سہراب کے ساتھ نہ”
رضا ہنسا ۔
علینہ پریشان ہو رہی تھی رضا کی وجہ سے ۔ شرمندگی الگ تھی سر جھکا گئ ۔
میری تمھاری شادی آج سے چھ ماہ پہلے ہوئ تھی علینہ اور ان چھ ماہ میں ایک بار بھی میرے حقوق کو پورا کرنے کا نہیں سوچا تم نے”
وہ ہلکا سا مسکرایا جبکہ علینہ شدید شرمندگی سے ۔ سر جھکائے کھڑی تھی
میں جانتا ہوں تم نے پہلی رات ہی مجھے کہہ دیا تھا کہ تم مجھے شاید محبت کبھی نہ دے سکو ۔ کیونکہ تمھیں اپنے عاشق کو پالنا تھا “

وہ کھل کر ہنسا
علینہ اب بھی چپ رہی
ہاں یہ بھی سچ ہے ہماری شادی میں زیادہ فورس میرا تھا مگر رضامندی تو تمھاری بھی تھی اب وہ سہراب علی خان پر غصہ لے لو یہ کچھ اور مگر تم نے مجھ سے شادی کر لی ۔ اور شادی کے بعد بس سہراب سہراب سہراب ۔
میں نے اسکے علاؤہ سنا ہی کیا ہے “
وہ اسکے گال پر ہاتھ پھیرتا بولا ۔
رضا “
علینہ نے کچھ کہنا چاہا۔
شششش” رضا نے روک دیا ۔
تم آج رات تک کچھ نہیں بولو گی”
وہ مسکرایا ۔
سہراب علی خان ” اسنے یہ لفظ دانتوں میں جیسے چبا لیا تھا ۔
اگر میرے بس اور اختیار میں ہو میں اسکے کئ ٹکڑے کر دوں “
وہ بولا
رضا ” علینہ بے ساختہ حیرانگی سے بولی تھی
میرے لیے تو کبھی یہ کنسرن نہیں دیکھائی “
وہ شانے آچکا گیا ۔
میں میں چاہ کر بھی
نو نو سوئیٹ ہارٹ میں تمھیں بلیم نہیں کر رہا ۔
خیر چھوڑو ان تلخ باتوں کو آؤ ناشتہ کرتے ہیں”
اسنے کہا اور علینہ کا سیل فون اٹھا کر آف کر دیا ۔
علینہ ایک لفظ نہیں بولی تھی جیسا وہ کہہ رہا تھا ویسا کرنے لگی تھی مگر کسی انہونی کی دل ع دماغ میں گھنٹیاں بجتی محسوس ہو رہیں تھیں جیسے کچھ ٹھیک نہ ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہراب سویا ہی کب تھا جو اٹھنے کی ضرور پڑتی مگر تیار ہو کر نیچے ضرور ا گیا تھا ڈائیریکٹر نے اسکے اکاؤنٹ میں پیسے ڈلوا دیے تھے جس کی وجہ سے اسنے اپنے لئے گاڑی کا انتظام کرنے کا سوچا تھا فلحال تو علینہ کی گاڑی میں ہی وہ وہاں سے نکلا مگر مرتضی کی گاڑی دیکھ کر ضرور مسکرایا تھا ۔
وہ وہاں سے نکلا راستے میں علینہ کو کال کی جس نے کال پیک نہیں کی تھی ۔
ایسا ناممکن تھا وہ اسکی کال نہ اٹھاتی ۔
تبھی وہ بار بار کرتا رہا۔
اور آخر کار غصے سے سیل فون پھینک دیا پہلے سوچا اسکے گھر چلا جائے مگر نہیں اسکے بعد سب ارادے ترک کر کے ۔ وہ وہاں خود ہی شوٹ پر چلا گیا ۔
عجیب خالی پن تھا یہاں اسکے بنا ۔ وہ آگے پیچھے ہوتی تھی ہر ایک منٹ بعد ۔ اسے ایسے دیکھتی تھی جیسے وہ کوئ معجزہ ہو ۔ جیسے وہ آخری بار اسے دیکھ رہی ہو ۔
مگر سہراب وہ شخص تھا جو کسی کو محبت نہیں دے سکتا تھا ۔ تبھی ہمیشہ اسے اگنور ہی کیا تھا۔
مگر عادت تھی سات سالوں کی ۔ عادت تھی روز کی جو کہ فلحال برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔
اسنے خاموشی سے جیسے تیسے کر کے یہ دن اسکے بنا گزارا تھا دماغ خراب ہو رہا تھا بھوک لگ رہی تھی پارہ ہائ تھا ۔
اور کچھ سوج نہیں رہا تھا کالز پر کالز کیے جا رہا تھا مگر کوئ ریسپونس نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اسنے بھڑک کر کافی دنوں بعد آج بار کی راہ لے لی ۔
اور جتنا دل کیا جب تک دل کیا اسنے ڈرنک کی ۔
نشہ چڑھ گیا تھا مگر ڈرائیو کر کے وہ تقریبا تین بجے کے قریب گھر لوٹا تھا
گھر میں آتے ہی سب سے پہلے اسنے دروازے کے پاس پڑا واس ہی زیادہ برا لگا تھا
اسنے لات مار کر گیرہ دیا
مراد خان جو اسی کے لیے جاگ رہے تھے باہر نکل آئے
کہاں تھے تم ساری رات سے “
وہ غصے سے پوچھنے لگے نوشین کے سامنے اپنی بےعزتی بھولے نہیں تھے ۔
اسنے سرخ نظروں سے باپ کو دیکھا اور صوفے پر بیٹھ گیا ۔
ہو گا کسی کوٹھے پر ۔ یہ وہ معشوقہ اسکی ۔ اسکے ساتھ رات رنگین ” ۔
تم “
مرتضی کو دیکھتے ہوئے سخت تیوروں میں بس اتنا ہی بولا
ناک پھٹ گئ ہونٹ پھٹ گیا سکون نہیں مل رہا شاید ۔ مزید کچھ پھٹوانا چاہتے ہو “
وہ ویسے ہی بیٹھا بول رہا تھا ۔
نشئ ” مرتضی نے بھڑک کر اسکا گریبان جکڑ لیا ۔
سہراب ہنسنے لگا شاید مرتضی سے برداشت نہیں ہوا تھا کیسے سہراب نے ایک لمہے میں اسکی بےعزتی کر دی تھی ۔
ہٹ جاؤ مرتضی “
مراد خان نے دونوں کو الگ کیا ۔
آج کے بعد اتنی دیر سے لوٹے تو گھر میں داخل “
نہیں ہونے دیں گے ۔ مراد خان مجھے اس گھر میں داخل نہیں ہونے دیں گے
تو پھر ” کیا ہو جائے گا ۔ کیا فرق پڑے گا ۔
ارے یہ آپ جیسے لوگوں کے چونچلے ہیں ۔اچھا گھر مہنگی گاڑی ۔
میں تو کہیں بھی رہ لوں گا کیوں کے اسکیطرح لڑکیوں جیسے ہاتھ تھوڑی ہیں میرے ۔ مظبوط مرد کا ہاتھ ہے “
وہ آنکھ مار کر اٹھا
ڈیڈ میں اسکی جان لے لوں گا “
مرتضی باپ سے بولا
چوہیں پہلے باپ کی گود سے نکل پھر میری جان لینے کا سوچنا “
اسے دور دھکیل کر وہ اوپر چلا گیا
مرتضی مزید تپ میں ا گیا تھا
کیوں تم بات کرتے ہو اس سے “
مراد خان بولے ۔
بس زیادہ مت بولیں اسے پیدا نہ کرتے تو آج اتنے مسائل نہ کھڑے ہوتے “
مرتضی انھیں بھی جھڑک کر چلا گیا ۔
جبکہ وہ حیرانگی سے مرتضی کا انداز دیکھ رہے تھے