Rate this Novel
Episode 13
رضا ٫” اسکے لب پھڑپھڑانے جبکہ رضا نے مسکرا کر اسکی آنکھوں پر پٹی باندھ لی کل کا سارا دن ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ گزارا تھا رضا اس سے کئ باتیں کرتا رہا تھا علینہ بس اسے سن رہی تھی وہ جانتی تھی پورے دن اسکو سہراب نے کالز کی ہو گی مگر رضا نے سیل اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور وہ ایک منٹ بھی اسکے سر پر سے ہٹا نہیں تھا علینہ اگلی صبح اٹھی تو رضا پہلے سے ہی اٹھا ہوا تھا ۔
وہ فریش ہوئ دونوں نے ناشتہ کیا اکٹھے اور اسکے بعد ابھی علینہ یہ کہتی ہی کہ وہ آفس جائے گی کہ رضا نے پیچھے سے آ کر اسکی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔
علینہ نے گھبرا کر پٹی پر ہاتھ رکھا اور رضا کو پکارہ
میں یہیں ہوں یار کیا ہو گیا اب تم اپنا سرپرائز نہیں دیکھنا چاہو گی “
وہ بولا تو لہجہ مسکراتا ہوا تھا ۔
علینہ کے دل کو دھڑکا سا لگا تھا ۔
پتہ نہیں کیوں وہ رضا کیطرف سے آج مطمئین نہیں تھی پیچھلے چھ ماہ میں ایسا رویہ نہیں تھا جو آج تھا۔
وہ چپ ہو گئ پتہ نہیں کیوں دل ایک بار سہراب کو دیکھنے کو اکسانے لگا تھا خود بخود دل میں خواہش سی ابھر رہی تھی جیسے وہ آج کے بعد اس سے مل نہ سکے ۔
وہ خود کے وہم جھٹکتی رضا کے بتائے گئے راستوں پر چلنے لگی رضا اسے لے کر گاڑی میں سوار ہوا اور اسے یوں ہی پٹی باندھیں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر ڈرائیو کرنے لگا ۔
علینہ خاموش ہی رہی تھی
رضا نے تقریبا آدھے گھنٹے ڈرائیو کی تھی اور پھر گاڑی روک دی
علینہ کو اردگرد سے کافی شور سنائی دے رہا تھا
اسنے رضا کو پکارہ تو رضا نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا
تھوڑی صبر کر لو تمھیں ابھی کچھ ہی دیر میں سب پتہ چل جائے گا ۔ ” وہ مسکرایا علینہ نے اپنی آنکھوں پر سے پٹی ہٹانا چاہی مگر رضا نے ہاتھ سختی سے جکڑ لیا ۔
علینہ تھم گئ ۔
کچھ ٹھیک نہیں تھا کہیں تو کچھ غلط تھا وہ چھ مہینوں میں ایسا رویہ نہیں رکھے ہوئے تھا جو وہ کل سے اب تک کر رہا تھا ۔
رضا نے اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسے باہر نکال لیا
علینہ باہر ا گئوہ اس وقت کھلے ٹروزر اور کرتے میں تھی سفید رنگ کے دور سے ہی کئ لوگوں نے اسکو دیکھا تھا ۔
رضا نے اسکا ہاتھ تھاما
اب جہاں میں تمھیں کہتا ہوں وہاں چلتی رہو “
وہ بولا تو علینہ کچھ گھبرائ ہوئے تھی پہلے سے ہی اسکے بتائے گئے راستے پر چلنے لگی دل میں بار بار صرف سہراب کا خیال اٹھ رہا تھا اس شخص کا نہیں جو اسکے ساتھ چل رہا تھا اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا
وہ کچھ سٹیپس چڑھ کر اوپر آئ اسکے کانوں میں چیماگویاں سنائ دینے لگی
ارے یہ تو بہت ہی خوبصورت ہے واہ کتنی حسین لڑکی لایا ہے ” ایسے کئ فقرے تھے جو اسکے کانوں سے ٹکرائے رضا تم مجھے کہاں لائے ہو “
علینہ کا دم سا نکل رہا تھا وہ سمجھہ نہیں پا رہی تھی وہ کہاں آئ ہے ۔
میں تمھیں اس جگہ پر لایا ہوں جو تمھارا اصل مقام ہے علینہ یقین مانو تمھاری جیسی عورت کے لیے یہ جگہ بہترین ہے “
کہتے ساتھ ہی اسنے علینہ کی آنکھوں پر سے پٹی کھینچ کر اتاری علینہ کو ایکدم روشنی کا احساس ہوا تو ایک دو لمہے تو آنکھیں بند کئے وہ خود کو سنبھالتی رہی اور اسکے بعد اسنے اپنی گیرے براؤن آنکھوں سے ارد گرد دیکھا ۔
تو پہلی بار سے اپنے قدموں سے زمین کھسکتی محسوس ہوئ تھی ۔
رض۔۔۔رضا” اسنے مڑ کر رضا کو دیکھا تھا یہ جگہ اسنے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی تھی ۔
ہاں اسنے کئ شورٹ ڈائریکٹ کیے بہت سے لوگوں کو انٹرڈیوز کرایا اسکا کام تھا اسنے پڑھا ہی فیشن اور آرٹس ہی تھا تو وہ اپنا کام تبھی یہ ہی کرتی تھی اسکا بہت سے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اسکا ایک نام تھا مگر ان سب کے باوجود بھی وہ کبھی اس جگہ سے آشنا نہیں تھی
یہ کوٹھا تھا ۔
اور کئ لڑکیاں کھڑی اسے ہی مسکراتی نظروں سے دیکھ رہیں تھیں جبکہ سامنے ایک عورت تخت پر بیٹھی تھی ۔
وہ پان کھا رہی تھی اسنے ساڑھی پہنی تھی جس کا گلہ گہرہ تھا جبکہ بالوں میں گھرا لگائے تیز لپ سٹک وہ پہچان گئ تھی وہ اس جگہ کو پہچان گئ تھی وہ مڑی اور رضا کے بازوں تھام لیے
یہاں کیوں آئے ہیں ہم “
کیونکہ اب بس وہ ہی تو تھا جو اس وقت اسکا آسرا تھا وہ گھبرا کر اسکیطرف لپکی کہ رضا نے اسے جھٹک کر دور پھینکا ۔
ارے ہٹو ڈرامے باز عورت ” وہ پھنکارہ ۔
کیا ہوا یہ عورتیں تمہاری جیسی ہی ہیں تمھیں کیا مسلہ ہو گیا کس بات پر ڈرامے کا کر رہی ہو ۔ تم بھی تو ایسی ہی ہو علینہ ۔۔ میڈیم میں تو بس تمھیں تمھارے اصل مقام تک لے آیا ہوں “
وہ مسکرایا
علینہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
رضا یہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔”
وہ کپکپاتے لبوں سے خود کو سمٹتی کھڑی ہو گئ
وہی جو تم سن رہی ہو علینہ دیکھو یہ ہی تمھاری اصل جگہ ہے میرا گھر نہیں یہاں پر ہر عورت یہ ہی کام کرتی ہے کبھی اس مرد سے اور کبھی اس مرد سے تو تمھارے میں اور ان میں فرق ہی کیا ہے تم اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے کسی کی خواہشیں پوری کرتی ہو “
رضا ” وہ ایکدم سخت نظروں سے چیخی۔ ۔۔
جبکہ رضا نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ مارا
بکواس بند کرو اور اگر چیخنے کی کوشش بھی کی تو یہاں اتنے کتے ہیں علینہ اور تم انکے لئے وہ تازہ بھنا ہوا گوشت ہو جو کسی بھی بھوکے کتے کو ملے تو وہ ایک سانس میں کھا جائے ۔۔ ۔”
وہ ہنسا جبکہ اردگرد بھی ہنسی کی آواز ابھری علینہ خوفزدہ نظروں سے اردگرد دیکھتی ہمت کرتی ایک بار پھر کھڑی ہوئ
ر۔۔رضا م۔۔میرے ساتھ یہ مت کرو ۔ پلیز ۔ م۔۔میں ہر غلطی مان لوں گی اپنی “
ارے اچار ڈالوں تمھاری غلطی کا جب تمھارے دل میں وہ کمینا ہی رہے گا ہاں “
وہ چیخا جبکہ اچانک آواز آنے پر رک گیا ۔
وہ عورت بولی تھی تبھی رضا خاموش ہو گیا
علینہ کو زندگی میں پہلی بار اپنے وجود میں لرزش محسوس ہوئ تھی جیسے وہ لرز رہی ہو جیسے وہ کانپ اٹھی ہو ۔
اسکی پیشانی پر تیزی سے پسینے کی بوند جمع ہونے لگی اسکی آنکھیں سرخ ہو چکیں تھیں اسے جیسے ابھی وہ شدت سے دھاڑے مار مار کر روئے گی ۔
کیوں چیخ کر تماشہ لگا رہا ہے رضا ۔ تیرا کام ختم تو نے اسے یہاں لانا تھا بس اب تو جا “
وہ بولی تو رضا نے سر ہلایا
نہیں”
علینہ کانپتے ہی لہجے میں سہی مگر چلائ تھی
ت۔۔۔تم مجھے تباہ نہیں کر سکتے تم مجھے یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتے”
وہ رضا کا گریبان جکڑ گئ
میں یہ کر چکا ہوں اب اپنے عاشق کو یہاں بلا اور ایک طوائف بن کر اس سے عاشقی کر ۔۔۔ “
وہ طنزیہ ہنسی ہنسا علینہ کی آنکھیں پھٹ گئیں
ات۔۔اتنی بڑی سزا مت مت دو “
اسکی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ۔۔
میں تمھیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔
ہاں ہاں کر دیا میں نے تمھیں آزاد لیکن دیکھو تمھیں کسی کے قابل نہیں چھوڑا جب تم میری نہیں ہو سکتی تو میں تمھیں اس سہراب کے لیے چھوڑ دیتا یہ ساری زندگی تمھارے دل میں سہراب کی محبت کو پالتا کیوں کہ وہ تو تم سے کبھی شادی نہیں کرے گا ہاۓ افسوس کہ تم نہ یہاں کی رہی نہ وہاں کی”
وہ ہنسا جبکہ وہ عورت بھی ہنس پڑی تھی ۔
علینہ کا دماغ ماؤف ہو گیا تھا اگر کوئ کہتا کہ قیامت کسے کہتے ہیں اس وقت یہاں کھڑے علینہ کو قیامت کا احساس ہو رہا تھا
اسکو لگ رہا تھا کہ وہ اتنا کانپ رہی ہے کہ اسکے اپنے ہاتھ ہی اسکے کنٹرول سے باہر ہیں وہ ایک عقل شعور رکھنے والی بولڈ لڑکی تھی اسنے زندگی میں ایک ہی انسان سے محبت کی تھی جس محبت کو وہ سات سالوں سے دل و دماغ میں پالتی ا رہی تھی اور اس محبت کی حفاظت خود سے زیادہ کرتی آ رہی تھی اسی محبت کا ہرجانہ اسے کس طرح بھرنا پڑا تھا اسکی زندگی کی غلطی رضا سے شادی تھی تو ایک وہ ناسور کی صورت اسکے سامنے ا کھڑی ہوئ تھی ۔
رضا نے علینہ کے لرزتے کانپتے ہاتھ خود پر سے دور کیے
گڈ بائے علینہ پیپر اور کاغذات تمھیں یہیں بھیجوا دوں گی اب تم آزاد ہو جس مرد سے چاہے عاشقی لڑاؤ “
سخت سرد تیوروں میں کہہ کر وہ آخری طنزیہ مسکان اسپر اچھالتا قدم لینے لگا کہ علینہ کو کچھ سجھائی نہیں دیا تو وہ اسکے قدموں میں سر رکھ گئ یہ عمل تھا جو اس جیسی لڑکی کبھی نہ کرتی مگر اسکی حالت موت سے بھی بدتر تھی
نہیں رضا مجھے مجھے یہاں چھوڑ کر مت جاؤ خدا کے لیے رضا
پلیز پلیز جو بھی ہوا ہے اتنی بڑی بڑی سزا مت دو ۔۔۔۔
مجھ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے رضا رضا پلیز مجھ مجھ میں ہمت نہیں ۔۔۔۔
سہراب”
وہ اسکے کان کے نزدیک ایسے بولا جیسے پکار رہا ہو
سب تماشائی وہاں کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے کوئ نہیں بڑھا تھا آگے اسکو بچانے کے لیے جبکہ رضا ہنسنے لگا
سہراب سہراب کہاں ہو تم تمھاری علینہ کے ساتھ دیکھو کیا ہو رہا ہے سہراب سہراب”
وہ چلا رہا تھا علینہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی مگر سر اپنا اسکے قدموں سے نہیں اٹھایا۔۔
ارے یہ کیا سہراب تو ایک آیا ہی نہیں
سہراب تو تمھارے پاس آیا ہی نہیں علینہ سات سات اسکی عوض کرنے کے باوجود بھی تمھیں یہ دکھ اسی کی بدولت ملا ہے اب اس کوٹھے پر مارنا پیٹو میری جان ۔۔۔
تم میری طرف سے آزاد ہو اور میں ہر اس عورت پر جو تمھارے جیسا کردار رکھتی ہے تھوکتا ہوں اور تمہارے ساتھ یہ کرنے پر خود کو جائز سمجھتا ہوں کیونکہ درحقیقت تم یہ ہی ہوں تو آرام سے اپنا کاروبار یہاں آباد کرو “
وہ اپنے پاؤں سے ہی اسے دور جھٹک کر بولا
علینہ روتی چیختی
نہیں نہیں ۔۔۔رضا
وہ چلاتی وہی اسکے پیچھے لپکی
رضا مت کرو میرے ساتھ ایسا ۔۔۔رضا پلیز رضا “
وہ چلانے لگی جبکہ اس عورت کے ایک اشارے پر تڑپتی ہوئ علینہ کو وہاں کی ملازموں نے جکڑ لیا تھا
چھوڑو مجھے وہ خود کو چھڑانے لگی رضا ” وہ حلق کے بل چلائ تھی
پلیز چھوڑو مجھے پلیز میں ویسی نہیں ہوں مجھے چھوڑ دو میں یہاں نہیں رہو گی مجھے مجھے جانے دو میں سچ میں میں ایسی نہیں ہوں مجھے ۔ سہراب”
لب پھڑپھڑانے تھے ۔
یہ ہی تو وہ قیمتی نام تھا جس کی بلی وہ چڑھ چکی تھی
علینہ کو سختی سے ان لڑکیوں نے جکڑ لیا مگر وہ کسی کے قابو نہیں ا رہی تھی وہ خود کو چھڑا کر بھاگ جانا چاہتی تھی
وہ بھاگ جانا چاہتی تھی علینہ کیسے کیسے ایک کوٹھے پر جہاں جہاں کیا ہوتا ہے ساری دنیا جانتی تھی وہ وہ طوائف نہیں تھی محبت کو گندہ نہیں کہا جا سکتا اسنے سچی محبت کی تھی مگر وہ مان تو رہی تھی اسکی غلطی تھی کہ اس محبت کو نبھاتے نبھاتے وہ رضا کو بھول گئ جس کے ساتھ رشتے میں تو وہ بندھی ہوئی تھی مگر اسکا مطلب یہ نہیں تھا اسے اتنی بڑی سزا دی جاتی
وہ چلا رہی تھی خود کو چھڑا رہی تھی اس عورت نے ایک انجکشن نکالا
نہیں “
علینہ کی خوف سے آنکھیں پھٹ رہیں تھیں یہاں علینہ کو دیکھ کر کتنی حوس بھری نظروں نے اسے اپنانے کی آرزو کر ڈالی تھی صرف کھڑے کھڑے ہی ۔
علینہ کی گردن میں کھینچ کر بنا کسی احساس کے اس عورت نے جانوروں کیطرح وہ ٹیکا گھسا دیا تھا علینہ تڑپ ہی اٹھی آنسو اسکے گالوں سے بہنے لگے اسکے روئ جیسے سفید گال سرخی مائل ہو گئ اسکی سفید گردن لال سرخ ہو گئ ۔۔ علینہ نے پھر بھی تگ و دو جاری رکھی مگر جیسے ہی اسپر نشہ چڑھنا شروع ہوا وہ وہیں ڈھیر ہو گئ ۔
اسکے لبوں پر آخری سانس بھرتے بھی سہراب کا نام تھا بس یہ ہی لفظ تھا جسے وہ پکار رہی تھی ۔
وہ عورت مسکرا دی تھی ۔۔
لے جاؤ “
اسنے اپنے ملازموں سے اسے اٹھوایا وہ ایسے لوگ تھے اگر علینہ ہوش میں ہوتی تو شاید مر ہی جاتی کن نظروں سے وہ اسکے وجود کو دیکھ رہے تھے
وہ عورت مسکرا اٹھی
اگر تم میں سے کسی نے اسے چھوا بھی تو ہاتھ کوئلے کی بھٹی میں ڈلوا دوں گی “
وہ پھنکاری تو وہ آدمی سیدھا اسے کمرے میں لے گئے جو علینہ کے لیے ہی تھا اور اسے وہاں چھوڑا تو اس عورت نے وہاں پر تالا ڈال دیا
یہ چیخے چلائے دروازہ پیٹے یہ کچھ بھی کرے کسی نے اس دروازے کو نہیں کھولنا یہ میرا حکم ہے ورنہ تم سب جانتی ہو انجام کیا ہو گا “
وہ غصے سے بولتی دھمکا گئ جبکہ وہاں سب اسکے آگے چل بھی کیسے سکتے تھے
نگو بائ کیا ریٹ لگاتی ہو اسکا ۔”
ایک امیر زادے نے آگے بڑھ کر سوال کیا تو نگو بائ طنزیہ مسکرائ ابھی اسکا کوئ ریٹ نہیں کل اسکی بولی لگے گی جسے یہ مال چاہیے وہ ا جائے مگر ایک رات کا پندرہ لاکھ سے کم نہیں لے گئ نگو بائ”
وہ پان کھاتے ہوئے پیک ایک طرف پھینکتی بولی اور اتارتی ہوئ چلی گئ جبکہ کمرے میں بند ایک وجود اپنے لاشعور میں بھی فقت ایک ہی شخص کو پکار رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کام ہو گیا “
رضا ڈرائیو سٹارٹ کرنے سے پہلے ہی بتا دینا چاہتا تھا اسے جس نے اسے ہوش دلایا تھا کہ وہ آخر کس قدر کرپٹ لڑکی کے ساتھ ہے اور اسے مہلت دے کر وہ خود کے لیے کیا کر رہا ہے وہ مطمئین تھا اپنے عمل سے اور مقابل شخص کا مشکور تھا کہ اسنے اسے اس بات کا احساس دلایا تھا ورنہ علینہ کو مہلت دے کر تو وہ اپنی آستین میں سانپ پال رہا تھا ۔
گڈ” مسکراتے لہجے میں کہا گیا جبکہ رضا نے فون بند کر دیا
اسے یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا مگر اسکی محبت آڑے آئ ہوئ تھی لیکن اب اسے کسی چیز کا پاس نہیں تھا نہ محبت کا اور نہ ہی علینہ کی عزت کا ۔
جب وہ سہراب کے ساتھ یہ سب کر سکتی ہے تو کسی بھی مرد کے ساتھ کر سکتی ہے اسے انگلینڈ سے یہ کہہ کر ہی بلایا گیا تھا کہ علینہ سہراب کے ساتھ کس حد تک انولو ہے اور سہراب اور علینہ کو گلے لگے دیکھ اسکا پارہ ہائ ہو گیا اور اسنے اس اجنبی جو بھی تھا وہ رضا نہیں جانتا تھا اسکو ذسکی بات ماننے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
اور جو بھی اسنے کیا بلکل ٹھیک کیا تھا ۔
جس عورت کو یہ احساس نہیں کہ وہ اسکے نکاح میں ہو کر نامحرم کے گلے لگے کھڑی ہے تو اسکی جگہ اور سزا بلکل ٹھیک بنوائی تھی اس آدمی نے رضا سے آج علینہ کا قصہ ہمیشہ کے لئے اسکی زندگی سے ختم ہو گیا تھا وہ گاڑی آگے بڑھا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہراب اس وقت شوٹ پر موجود تھا علینہ کی لاپرواہی پر وہ خون کے گھونٹ بھر رہا تھا وہ شخص جو ایک منٹ بھی کھانے کے بنا نہیں رہ سکتا وہ صبح سے بھوکا تھا یہاں تک کے شام ہونے کو آئ تھی اسنے سارے سیٹ پر تباہی مچائی ہوئ تھی جو چیز اسے پسند نہیں آتی وہ اٹھا کر اس چیز کو پھینک دیتا ۔
ڈائریکٹر پر بھڑکتا تو کبھی میکپ آرٹسٹ کو سنا دیتا
یہاں تک کے ڈائریکٹر اپنی ٹیم سے کہہ چکا تھا کہ علینہ کو کانٹیکٹ کرو مگر علینہ کا نمبر بند جا رہا تھا اور یہ ہی سہراب خان کے ساتھ ہو رہا تھا کہ جب وہ اسکا نمبر ٹرائے کرتا تو لڑکی اسے پاور آف کا جواب دے دیتی
شدید غصہ تھا علینہ پر اسے وہ یوں تو اس سے لاپرواہی نہیں ہوئ تھی کہ نہ سیٹ پر ا رہی تھی نہ اس سے فون پر بات کر رہی تھی آخر مسلہ کیا تھا اسنے ارادہ کر لیا تھا وہ اسکے گھر جائے گا اور اسکے دو تھپڑ لگا دے گا ۔۔۔ ٹھیک ہے کہ سہراب خان اس سے پیار نہیں کرتا مگر سہراب خان اسکے بنا بھی تو کچھ نہیں تھا تو اسے یہ بات سمجھہ نہیں آتی اور وہ تو اس سے پیسے کیش کرنا چاہتی تھی تو اب کہاں گئ اسکی پیسے بنانے کی تڑپ جتنا وہ سمجھہ رہا تھا اتنا ہی سوچ رہا تھا
شوٹ انکا ختم ہوا تو اسکی پاٹنر نے اسکو کہا
جس طرح تم نے آج میری کمر جکڑی ہوئی تھی تمھاری بیوی توبہ کرے گی “
وہ فرینڈلی بولی تھی
جبکہ سہراب نے توجہ نہیں دی
کیونکہ یہ بیوی ویوی کا کوئ کیس نہیں تھا اسکی زندگی میں وہ اپنی زندگی میں کسی کو شامل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر جو اسکا تھا وہ اسی کا رہتا نہ وہ بھی جان چھڑا رہا تھا
سہراب وہاں سے اٹھ کر سیدھا علینہ کے گھر کے راستے پر تھا اور جیسے ہی وہاں پہنچا وہاں بڑا سارا تالا اسکا منہ چڑا رہا تھا
وہ تالے کو گھورنے لگا وہاں صرف واچ مین تھا
کہاں ہے انا “
شاید اسکی یاد ا رہی تھی تبھی وہ اسے اس نام سے پکار گیا ۔
میڈیم صاحب تو جی صاحب کے پاس کل ہی چلی گئیں تھیں انگلینڈ جا چکی ہیں وہ “
واچ مین نے بتایا تو اسکا سٹیرنگ کو سختی سے جکڑے ہاتھ چھوڑ گیا
آنا انگلینڈ چلی گئ “
بے ساختہ منہ سے نکلا تھا
اسے بتائے بنا اسے کچھ کہے بنا ابھی تو تین دن پہلے وہ ملے تھے اسنے ایسا کچھ نہیں کہا تھا وہ کیسے جا سکتی ہے وہ باہر نکلا اور واچ مین کا گریبان جکڑ کر تقریبا اسے دیوار سے لگا کر زمین سے دو فٹ اوپر کر لیا بکواس بند کرو اور سچ بتاؤ
کہاں ہے علینہ”
اب غصہ چڑھ چکا تھا تبھی نام بھی بدل گیا تھا ۔
جی میں میں تو یہ ہی جانتا ہوں انگلینڈ چلی گئ ہیں “
سہراب نے واچمین کو دور جھٹک دیا
غصے سے اسکے دماغ کی رگیں پھٹنے کو تھیں وہ بے یقین تھا علینہ اسے بتائے بنا چلی گئ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continued…
