Mere Aashiq Awara By Tania Tahir readelle50022

Mere Aashiq Awara By Tania Tahir readelle50022 Last updated: 20 June 2025

52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Aashiq Awara By Tania Tahir

سہراب وٹ از دس بیہیویر کتنی اہم میٹینگ ہے آج اور تم کیا کر رہے ہو " وہ اسکے فلیٹ نہیں کباڑ خانے میں داخل ہوئ تو وہ شرٹ لیس تھا اور

اسکے مسلز علینہ دور سے ہی دیکھ سکتی تھی

اسنے دو ڈمبلز اٹھائے ہوئے تھے جنھیں کبھی وہ اوپر لیفٹ کرتا تو

کبھی نیچے علینہ یہ منظر سانس روکے دیکھ رہی تھی ۔

سہراب نے علینہ کو دیکھتے ہی چھوڑ دیے ۔ وہ اسکے نزدیک سنجیدگی سے بڑھنے لگا علینہ کو لگا اسکا سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہے اتنا اثر تھا ماحول میں اسکا ۔ سہراب اسکے نزدیک آیا ۔ ہائے علینہ" وہ ہمیشہ اتنا ہی کول رہتا تھا بھلے اسکے گھر میں آگ کیوں نہ لگ جائے ۔ علینہ نے اسے غصہ کرتے ہوئے دیکھا بھی نہیں تھا سہراب" علینہ اسکی اتنی قربت پر سٹپٹا گئ ۔ سہراب نے بنا لحاظ کے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے نزدیک کیا ۔ پاگل ہو گئے ہو " وہ خود کو قابو نہیں کر پا رہی تھی یو ڈونٹ وانٹ ٹو سپنڈ ود می سچ آ رومنٹک موز " وہ اسکے کان کے قریب جھکتا بولا ۔

جبکہ علینہ نے اسکے شانے پر تھپڑ دے مارا ۔ شادی شدہ ہوں میں " پھٹیچر سے شادی کی ہے تم نے" وہ اس سے دور ہوتا شانے آچکا کر بولا ۔ ہاں طاقت ور سے کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عزت بہت پیاری تھی

اپنی اکثر لڑکیاں نکاح کے دن بھاگتی ہیں مجھے یقین تھا میرا دولہا نکاح کے دن بھاگ جاتا " یو آر ٹو امپریسیو ۔ تم میرے بارے میں اتنا سب کچھ جان جاتی ہو" وہ چیڑانے لگا ۔ شیٹ آپ سہراب میں بہت اہم بات کر رہی ہوں " وہ غصے سے بولی ۔ کول ڈاؤن " اسنے اسکے ماتھے پر انڈا مارا اورا سے پین میں ڈال کر بنانے لگا سہراب" وہ چیڑ گئ ۔ سہراب نے ا سکیطرف دیکھا یہ میٹینگ تمھاری لائف بدل دے گی یار" وہ اب زیچ ہو رہی تھی ۔ مجھے نہیں بدلنی یار" وہ اسی کیطرح لفظوں پر زور دیتا بولا ۔ تو ساری زندگی اس کباڑ میں گزار دو گے" وہ بھڑکی ۔ بھئ تمھارے باپ کا کیا جاتا ہے" وہ فریزر میں سے بریڈ ڈھونڈنے لگا مگر شاید وہ نہیں تھی تم کتنی بے مروت گرلفرینڈ ہو تمھارے بوائے فرینڈ کے

پاس ایک ڈبل روٹی نہیں جاؤ زرا لے آؤ ورنہ اپنے پھٹیچر سے کہو " وہ بولا اور انڈا ہی بنا کر کھانے لگا سہراب میرا دل کرتا ہے بعض اوقات میں اپنے بال نوچ لوں

"وہ زیچ ہو رہی تھی وہ جانتا تھا سہراب مسکرا دیا ۔ فائین "اسنے شانے آچکائے تم ابھی ریڈی ہو کر میرے ساتھ جا رہے ہو " وہ حتمی لہجے میں بولی ۔ مجھے تم پسند نہیں ا رہی اسوقت تم جا سکتی ہو " سہراب نے کہا ۔ میں اپنے شوہر کو پسند ہوں ۔ تمھاری ضرورت نہیں مجھے"

وہ زرا اترا کر بولی کہ اب علینہ اتنا بھی جان نہیں دیتی اسپر ۔ بہت اچھی بات ہے پھر نکلو یہاں سے " وہ پلیٹ وہیں چھوڑ کر ہاتھ دھونے لگا ۔ سہراب پلیز" علینہ کے پاس آخری حل یہ ہی تھا ۔ یار تم مجھے آزادی سے جینے کیوں نہیں دیتی" سہراب نے ہاتھ چھڑایا اور بیڈ پر گیر گیا ۔ اسے تم آزادی کہتے ہو مجھے تو لگتا ہے تم آزاد نہیں قید ہو کہیں

کسی بھی طرح میں نہیں جانتی مگر صاف دیکھتا ہے کوئ بھی

نارمل انسان اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھتا ہے

وہ تمھاری طرح کا رویہ نہیں رکھتا تم یہ تو یہ سب جان بوجھ کر

خود کے ساتھ کرتے ہو یہ تم انوکھے انسان ہو " وہ اسکی شرٹس زمین پر سے اٹھاتی چیخی جو پاؤں میں الجھ رہی تھی آئ وانٹ سم سلیپ جاؤ گیٹ آؤٹ" وہ تکیوں میں منہ دیتا بولا ہاں پتہ ہے مجھے تم کتنا سوتے ہو صبح چار بجے بھی اون لائین تھے " تم کیا کر رہی تھی اس وقت" وہ سر اٹھا کر اسکی صورت دیکھنے لگا

جبکہ علینہ آنکھیں غصے سے چھوٹی کرتی اسے دیکھنے لگی اب تم شرافت سے اٹھ جاؤ اس سے زیادہ نہیں ہو رہے مجھ سے تمھارے ترلے "

وہ بولی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا علینہ مسکرا دی کچھ شرائط ہیں میری ۔" وہ بولا مجھے سب منظور ہیں" علینہ نے جلدی سے کہا ۔ میری بریڈز ختم ہیں وہ لا کر دینی ہے تم نے انڈے اور پاستہ " علینہ کھل کر ہنسی مجھے لگتا ہے تم میرے دوست نہیں بس اٹھائیس سال کے بچے ہو ۔

" وہ ہنس رہی تھی شیٹ آپ " سہراب نے سر جھٹک کر واشروم جانے کا سوچا کیا تمھیں مزید کچھ چاہیے" وہ بولی آئسکریم " وہ ہنسی روک گئ