52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

After 6 months

آنا سہراب کے لیے پاستہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی ابھی اسنے نیٹ سے بیسٹ ریسیپی دیکھی اور وہ اسے ہی ٹرائے کر رہی تھی کہ اسے پسند آئے یہ پاستہ چھ ماہ میں کتنی بار اسنے اسکے لیے پاستہ بنایا مگر ایک بار بھی سہراب کو پسند نہیں آیا الٹا وہ کھاتا ہی نہیں تھا چھ ماہ گزر گئے تھے آنا اسے اپنے لیے رام نہیں کر سکی تھی حالانکہ وہ کہہ چکی تھی کہ وہ اسے پسند کرتی ہے ہاں یہ حقیقت تھی کہ نہ اسنے اسکا مذاق بنایا اور نہ یہ کہا کہ تم خود کو دیکھو اور پھر مجھے دیکھو میری میڈ ہو تم اور مجھ سے کیا بات کر رہی ہو وہ صرف اسکی شکل دیکھ کر چپ ہو گیا تھا اس کے بعد اسنے کچھ نہیں کہا تھا مگر پہلے روز کیطرح نہیں تھا وہ ٹی وی پر آتا تھا آنا اسکا ہر شو دیکھتی تھی ان چھ مہینوں میں بہت تیزی سے اسنے ترقی کر لی تھی اسکا شوٹ بہت ہٹ گیا تھا اور اسی وجہ سے اسے ہالی ووڈ فلم آفر ہوئ تھی اور وہ ایک ماہ وہاں رہ کر بھی آیا تھا ۔
ایک ماہ میں آنا کو مرتضیٰ نے بہت کچھ سیکھایا تھا جو وہ نہیں کر پا رہی تھی جو کچھ مرتضیٰ چاہتا تھا مگر اب آنا سب سمجھہ گئ تھی اور وہ خود بھی تو یہ ہی چاہتی تھی کہ سہراب اسکیطرف متوجہ ہو اس کی طرف دیکھے اسکی تعریف کرے ۔
مگر اب تک ایسا نہیں ہو پایا تھا وہ خود کی جانب اسے متوجہ کر کے بھی نہیں کر سکی تھی ۔
تبھی وہ پاستہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ کسی نے اسے کھینچا ہے اور گھسیٹتا ہوا کافی بے رحمی سے اسے وہاں سے لے جا رہا ہے
اسنے جب مرتضی کی جانب دیکھا تو ڈر گئ ۔
مرتضی اسے اپنے کمرے میں کھینچ کر لے آیا تھا اسکے منہ پر چوٹوں کے نشان تھے آنا اس سے پہلے اپنی حیرانگی ثابت کرتی کہ مرتضی نے آنا کی گردن جکڑ لی
اسکی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں ۔
کیونکہ مرتضی کی گرفت اسکی گردن پر سخت ہی اتنی تھی ۔
تجھ سے ایک کام نہیں ہو رہا “
وہ پھنکارہ درحقیقت چھ ماہ گزر گئے تھے قاسم کو مزید پیسے دے دے کر وہ اب تک ٹال رہا تھا اور اب جب اسکا بیزینس بھی لوس میں جا رہا تھا تو قاسم اس سے پیسوں کا مطالبہ کر رہا تھا اور اسکے پاس ان زمینوں کے علاؤہ کوئ اوپشن نہیں تھا قاسم نے اسے آج جان سے مار دینے کی دھمکی دے دی تھی ۔
مرتضی کچھ قاسم کی جانب سے خوف زدہ ہو چکا تھا اور قاسم کے بندوں نے اسے پکڑ کر مارا بھی تھا تاکہ مرتضی اس دھمکی کو ہلکا نہ لے ۔
وہ ڈر کر گھر لوٹا تو پہلا اٹیک ہی آنا پر کیا جو گنگناتے ہوئے کچن میں پاستہ بنا رہی تھی ۔
صاحب صاحب میرا دم گھٹ رہا ہے
میں تجھے جان سے مار دوں گا چھ مہینے سے چنا لگا رہی ہے تو مجھے چھ مہینے میں ایک فائلز تو نے سائین نہیں کرائ “
وہ دھاڑا
صاحب میں ” آنا ڈر گئ
چپ ” وہ آنکھیں نکال کر اسکو مزید بولنے سے روک گیا
کچھ بھی کر کچھ بھی تیرے پاس صرف ایک ہفتہ ہے اس سے زیادہ ایک منٹ بھی نہیں دوں گا میں تجھے یہ فائلیں سائین کرا”
وہ بدتمیزی پر اترتا پاگل ہو رہا تھا اسنے چھ مہینوں میں ایسا رویہ نہیں رکھا تھا جیسا اس وقت تھا ۔
صاحب میں کوشش کر رہی ہوں مگر وہ مجھ پر دھیان نہیں دیتے”
آنا جلدی جلدی بولی ۔
تو اسکا دھیان اپنی طرف کرا ۔
تجھے کتنا کچھ سمجھایا تھا اپنے آپکو اسکے آگے پیش کر اسکے ساتھ وقت گزار کوئ کچھ نہیں کہے گا یہاں تمھیں مگر یہ فائلیں کسی بھی صورت سائین ہونی چاہیے وہ بھڑکا
میں کیسے “
آنا پیسے تو میں تمھیں نہیں دوں گا یہ تو طے ہے سو فیصد اور کام بھی میں تجھ ہی سے لوں گا اب خود کو اسکو بیچو یہ کچھ بھی کر مجھے یہ فائلیں سائین چاہیے ورنہ انیکسی میں جا کر تمھاری بوڑھی بیمار ماں کی گردن دبانے میں مجھے ایک منٹ لگے گا “
وہ اسے دور دھکیلتا چیخا جبکہ آنا کے رنگ فق ہو گئے
آپ نے کہا تھا آپ پیسے دیں گے”
وہ اسکی جانب بڑھی
شکل دیکھی ہے تو نے اپنی تجھے پیسوں دوں گا میں
تم مرتضی سے پیسے نہیں لے سکتی سمجھی تم اور کام کرو اپنا
پورا کام پورا کرو اگر اپنی ماں کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو ۔ ” وہ طنزیہ مسکرایا
یہ نا انصافی ہے آپ نے جو کہا میں نے وہ سب کیا ہے چھ مہینے میں ۔
تو تو نے اپنا آپ پیش نہیں کیا اب تک
اور یہ کام تبھی ہو گا ۔۔ شرافت سے جا کر اسکے سامنے اپنا آپ رکھ دے تب شاید ترس کھا کر میں تیری ماں کا علاج تو کرا ہی دوں گا “
وہ سر جھٹک کر بولا
صاحب ایسا نہییں کرو میری ماں بہت تکلیف میں ہے
چل ہٹ”
وہ بھڑکا اب نکل یہاں سے ابھی ایک ہفتہ دیا ہے کبھی ایک دن میں تیری ماں کا کام تمام کر دوں ” وہ غصے سے بولا تھا آنا رونے لگی تھی مرتضی کو بلکل اسکے رونے سے فرق نہیں پڑتا تھا اور اسے کیا لگ رہا تھا مرتضی اسے ایک روپیہ بھی دے گا تو وہ بے وقوفی میں تھی ۔
جبکہ وہ خود تو سہراب کو برباد کر دینے کے چکر میں سب کو برباد کر دینا چاہتا تھا مگر دال گل نہیں رہی تھی جتنی تیزی سے سہراب ترقی کر رہا تھا اتنا ہی مرتضی تیزی سے نیچے ا رہا تھا
اور بیزنیس کا حال دیکھ کر تو مراد شیلہ ماہین سب ہی پریشان تھے اور سہراب کی شہرت دیکھ کر بھی حیران تھے الٹا حسد میں تھے اسکی جانب سے اور بھی نفرتوں میں اضافہ ہو گیا تھا مگر سہراب خان کے رویے میں واضح تبدیلی تھی جو پہلے ان سب کو سلگانے میں پیش پیش رہتا تھا اب وہ بلکل خاموش ہو چکا تھا نہ اسے گھر والوں سے غرض تھی اور نہ ہی وہ توجہ دیتا تھا کہ وہ لوگ کیا کر رہے ہیں اسنے تو کئ بار کوشش بھی کی یہاں سے جانے کی مگر ایک دو بار فلیٹ میں جا کر اسکا دل مزید گھبراہٹ کا شکار وہ گیا تھا جسے وہ ہمیشہ کیطرح قابو نہیں کر پا رہا تھا تبھی وہ دوبارہ یہاں ا گیا۔
دوسری طرف آنا نے بہت کوشش کی تھی مگر وہ بلکل اسکے جھانسے میں نہیں آیا تھا نہ جانے کیسا انسان تھا محبتوں سے دور جتنا پرکشش اندر سے اتنا ہی کٹھور تھا
اور جتنا مرتضی کو لگتا تھا کہ وہ لڑکیوں سے بہت جلد ایمپریس ہو جائے گا اسکے برعکس ہی ثابت ہو رہا تھا ۔
آنا روتی روتی باہر جانے لگی
تجھے میں نے کہہ دیا ہے ایک ہفتے میں مجھے فائلز میرے ساتھ میں مل جائے ورنہ آگے کی زمہ دار تو خود ہو گی”
وہ آنکھیں نکال کر بولا ۔
جبکہ دوسری طرف آنا باہر نکل گئ مرتضی کے رویے اور اسکی باتوں سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اسکی ماں کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اس وقت وہ مرتضی کے جال میں پھسنے پر پچھتانے لگی تھی ۔
اور چھ ماہ سے اس لڑکی کو یہ احساس نہیں وہ رہا تھا جب وہ اپنی ماں سے چھپ چھپ کر مرتضی کے کہنے پر سہراب کو ایمپریس کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئ تھی مگر مرتضی کی اج کی ساری بات نے اسکی اصلیت واضح کر دی تھی کہ وہ صرف آنا کو کیش کر رہا ہے اور آنا خود کے لیے کیا کر سکتی تھی
پاستہ وہیں چھوڑ کر وہ وہاں سے چلی گئ ۔
جب وہ انیکسیی ائ تو اپنی ماں کو تڑپتے ہوئے پایا وہ بری طرح تڑپ رہی تھی وہ ایکدم دوڑ کرا سکے نزدیک گئ
امی کیا ہوا ہے”
وہ ہلا کر پوچھنے لگی ۔
جبکہ وہ بری طرح کراہ رہیں تھیں آنا پریشانی سے باہر بھاگی مگر باہر کوئ نہیں تھا جو اسکی مدد کرتا ۔
وہ اپنی ماں کا ہاتھ تھام کر وہیں بیٹھ گئ اور جو ہو سکتا تھا اس سے تدبیریں کر کے کوشش کرنے لگی کہ اپنی ماں کی تکلیف کو کم کر دے مگر اب ایسا نہیں ہو سکا تو بالآخر وہ خود بھی رونے لگی
کیا اسے وہ ہی کرنا چاہیے جو مرتضی نے کہا تھا کہ وہ اسکی ماں
کا علاج کرا دے گا اسکی خواہشیں تو دور کی بات تھیں پوری
ہوتی ماں کا علاج تو ہو جاتا ۔
اور یہ ہی سوچ سوچتے ہوئے وہ آنسو صاف کرتی اپنی جگہ سے اٹھ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن بعد اسنے اسلام آباد جانا تھا وہ اپنے سامان کی پیکنگ کرنے لگا تھا اس وقت شرٹ لیس تھا اور سامان پٹخ رہا تھا بیگ میں تبھی اسکے روم کا دروازہ بجا اور کوئ کھول کر اندر داخل ہو گیا اسے یہاں آئے ہوئے چھ سات ماہ تو ہوگئے تھے اور ان چھ سات ماہ میں اسکے کمرے میں صرف ایک لڑکی ہی بار بار آتی تھی جس میں اسے کوئ دلچسپی نہیں تھی اور وہ بھی دنیا کی لاکھوں لڑکیوں کیطرح اسکے عشق میں گرفتار تھی وہ سر جھٹک گیا کیونکہ جانتا تھا کہ کون آیا ہو گا اپنا بیگ وہ پیک کر رہا تھا تبھی اسے کمرے کا دروازہ لاک ہونے کی آواز آئ تو وہ مڑا۔
اور سامنے کا حیران کن منظر دیکھ کر شاید کسی بھی انسان کو جھٹکا لگ جاتا مگر میر سہراب نے زندگی میں اتنے جھٹکے کھائے تھے کہ فلحال سامنے جو بھی ہو رہا تھا وہ اسکو جھٹکا نہیں لگا سکا تھا
وہ ماتھے پر دو بل لیے آنا کو دیکھنے لگا جو ایک لمبے سے نائیٹ سوٹ میں تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسنے اس نائیٹ سوٹ کی ڈوریاں کھول دی سہراب کے سامنے ایسا منظر تھا کہ کوئ بھی مرد اس لڑکی کے سامنے اس وقت ڈھیر ہو جاتا اسکے قدموں میں گیر جاتا بے ایمان ہو جاتا ۔
اور سچ تو یہ تھا وہ بھی ایک لمہے کے لیے دنگ ہوا تھا بے پناہ حسن اور سرعام دعوت ۔۔۔
لیکن وہ اپنی جگہ پر جما رہا
تو اب بھی میری طرف نہیں بڑھو گے سہراب خان”
آنا ہلکا سا مسکرائی ۔
سہراب جیسے ہوش میں آیا تھا ۔
ایک لمہے کے لیے آنکھیں بند کر کے اسنے دوبارہ پیکنگ شروع کر دی ۔
کیا ڈرامہ ہے یہ”
وہ بلکل عام سے لہجے میں بولا اب باری آنا کی تھی وہ سٹپٹا اٹھی حیران رہ گئ مرتضی نے ہی اسے یہ سب دیا تھا پہلے تو وہ شرمندہ ہوئ پھر آنکھیں بند کر کے اسنے وہ سب کر دینے کا سوچا جو اسے اور اسکی ماں کو ان حالات سے نکال سکے ۔
اور کچھ دل کی رضامندی بھی شامل تھی تو بنا کچھ سوچے سمجھے مرتضی کے دماغ سے چلتی جا رہی تھی ۔
آنا آگے بڑھی اور اسکا رخ موڑ لیا ۔
آپکو کچھ محسوس نہیں ہو رہا “
وہ حیرانگی سے اسکیطرف دیکھنے لگی ۔
پہلے تو یہ ہاتھ مجھ پر سے ہٹاؤ” اسنے آنا کے ہاتھ جھٹک دیے
اسکا رویہ اسکے ساتھ اتنا سخت تب بھی نہیں تھا جب وہ اعتراف محبت کر کے گئ تھی ۔
اور دوسری بات مجھے کیا محسوس ہو رہا ہے کیا نہیں یہ تمھارا مسلہ نہیں ہے اپنا لباس لو اور جاؤ یہاں سے “
وہ بولا اور دوبارہ نگاہ پھیر گیا ۔
سہراب میں آپ سے پیار “
اوہ جسٹ شیٹ آپ ۔۔۔ مجھے نفرت ہے اس پیار ویات سے پتہ نہیں تم لڑکیوں میں یہ پیار کی حس کیسے پیدا ہو جاتی ہے اور تم لوگ کس طرح اپنا آپ عاریہ کر کے مرد کے سامنے پیش ہو جاتی ہو میں چاہو تو ابھی تمھیں اس بستر پر پھینک کر تمھیں احساس دلا دوں کہ میں کیا محسوس کر رہا ہوں مگر اسکے بعد تمھارا کیا ہو گا اور سچ بتاؤ مجھے تمھاری جیسی لڑکیوں کی کبھی فکر نہیں رہی جو اپنا آپ خود پیش کر دیں اگر مجھے کسی کی پرواہ ہے تو وہ نوشین آنٹی کی ورنہ میں تمھارا آج وہ حال کرتا کہ دوبارہ کسی غیر محرم کے سامنے بے لباس ہونے کا سوچتی بھی نہ”
وہ چیخا جبکہ آنا کے رنگ اڑ گئے ۔
صرف انکا خیال ا رہا ہے مجھے اور انھیں کا احساس ہو رہا ہے کیونکہ میری زندگی میں وہ واحد خاتون تھیں جن کیطرف سے میں نے نرمی پائ ہے اور میں نیچ گیرہ ہوا آوارہ ہو سکتا ہوں مگر مجھے کسی کی احساس فراموشی کرنے کی عادت نہیں ہے تو مس یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاؤ کیونکہ ابھی میں پیار سے سمجھا رہا ہوں کبھی تمھاری عزت نہ کرو دوں “
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا ۔
انا سہراب کی باتوں سے بےساختہ شرمندگی سے زمین میں گڑھنے کو ہو رہی تھی مگر مرتضی کے بارے میں سوچتی تو اسنے کیسی کیسی دھمکیاں دیں تھیں اور کس طرح وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اسکی ماں کو مار دے گا فائلیں آنا کہ پاس ہی تھیں
اور وہ اپنی ماں کو کھونا نہیں چاہتی تھی اسنے خود کو سنبھالا ۔
اور مرتضی کا بتایا ہوا آخری حربہ اپنایا ۔
میں شور کروں گی کہ آپ نے میری عزت لوٹی ہے ۔ ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی ۔
سہراب بے ساختہ ہنس دیا
اسکے بعد” وہ اب ہاتھ سینے پر باندھ کر پوچھنے لگا ۔
اسکے بعد سب “
او یہ بات میں سب کو بتا دیتا ہوں “
اسنے بڑے غصے میں اسکا ہاتھ جکڑ اور اسے کھینچ کر باہر لے آیا ۔
آنا کو جیسے اس کی امید نہیں تھی لاونج میں سامنے ہی مرتضی چکر کاٹ رہا تھا ۔
آنا گھبرا کر پیچھے بھاگنے لگی کہ سہراب نے اسکی کلائی جکڑ لی ۔
اور زور سے گرل اپنے ہاتھ میں موجود کیرنگ سے بجائ جیسے نیچے سب کسی بات کے منتظر ہی تھے چاروں طرف سے نکال کر سامنے آئے مرتضی نے مڑ کر دیکھا اور مراد خان نے بھی ۔
دونوں آنا کو دیکھتے رہ گئے تھے ۔
سہراب نے ان دونوں کو اور زمین میں گڑھتی آنا کو دیکھا تو اسے لگا دماغ کی رگیں آج ضرور پھٹ جائیں گی اسنے آنا کی دوریاں خود بند کیں تھیں ۔
پھر کسی کو جواب نہیں دیا ۔
چلی جاؤ یہاں سے میں کچھ بہت غلط کر جاؤ گا “
وہ دھاڑا ۔
جبکہ آنا سے مزید برداشت نہیں ہوا وہ آنسو بھری آنکھوں سے سہراب کی جانب دیکھتی وہ ایک لفظ بولی تھی
م۔۔۔مجھے مجھے یہ سب مرتضی صاحب نے کرنے کے لیے کہا ہے”
وہ بری طرح رو دی ۔
وہ وہ میری ماں کو مار دیں گے وہ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں میری ماں بیمار ہے میں میں انکے کہنے پر یہ سب کر رہی ہوں “
وہ سسکیوں سے رو دی تھی
جبکہ سہراب نے اسکے شانے پر سے ہاتھ ہٹا لیے وہ شاکڈ نہیں تھا مگر ایک بار ناامیدی کی فضا پھیلی تھی اسے لگا تھا اب سب اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے مگر ان لوگوں کی سہراب کے لیے نفرت کبھی ختم نہیں ہو سکتی تھی آنا کو دور دھکیل کر
وہ ابھی جاتا کہ مرتضی کی آواز پر رک گیا ۔
دیکھ رہے ہیں آپ ڈیڈ اپنے بیٹے کو “
یہ آدمی یہاں رہنے کے قابل ہی نہیں ہے کیسے اسنے ہماری میڈ کی عزت لوٹنے کی کوشش کی ہے “
وہ غصے سے بازی پلٹنے کی کوشش کر رہا تھا
اپنا منہ بند رکھ ۔۔۔ کبھی تیری عزت نہ لوٹ لوں “
وہ بل کھا کر سرخ نظروں سے اسے دیکھتا پلٹا ۔
مرتضی ایکدم رک گیا ۔
بس ” انگلی اٹھا کر وہ بھڑکتا ہوا جیسے اندر ابلتے طوفان کو روک رہا تھا ۔۔ بری طرح روک رہا تھا
چلی جاؤ یہاں سے ” اسنے مرتضی کا منہ توڑا اور آنا کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہہ دیا اور آنا جسے ایسا لگ رہا تھا کہ اب اسکے پاؤں ٹوٹ گئے ہیں آگے کیا ہونے والا تھا وہ نہیں جانتی تھی وہ باہر نکل گئ سہراب وہیں کھڑا رہا جب تک وہ چلی نہیں گئ ۔
جبکہ اسکے جانے کے بعد وہ اپنے روم میں چلا گیا ۔
مرتضی سر تھام گیا ۔
اتنی بکواس بازی کھیلتے ہوئے تمھیں شرم آنی چاہیے”
مراد مرتضی پر بھڑکا کیا کرو کیا کروں اور “
وہ چیخا ۔
مراد مرتضی شیلہ ماہین سب مرتضی کی اس گیم میں شامل تھے مگر بازی ہار چکے تھے
وہ فائلیں لو اس منحوس سے ” مراد نے کہا جبکہ مرتضی اپنی جگہ سے اٹھا ۔
وہ اب آنا کو چھوڑنے والا نہیں تھا ۔
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہراب کمرے میں آیا تو ٹیبل پر فائلز پڑی تھیں اسنے وہ فائل اٹھا کر دیکھی تو حیرانگی سے وہ ساری فائلیں پڑھتا جا رہا تھا ۔
اپنی بے ہوشی پر اسے سخت غصہ چڑھا تھا ۔
اسنے وہ فائلیں اٹھا کر ہی پھینک دیا سب سمجھہ ا گیا تھا آنا پیچھلے چھ ماہ سے اسکے پیچھے کیوں پڑی تھی اور اسے یہاں لانے کا مقصد کیا تھا اسے اپنے ہی گھر والوں سے گھن آنے لگی اسے ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں تھی
اور نہ ہی ان نیچ لوگوں کی کسی بھی چیز پر وہ اپنا حق سمجھتا تھا ۔
لیکن ایک بات تو اسنے کھڑے کھڑے طے کر دی تھی مرتضی مر جائے یہ مراد وہ فائلیں سائین نہیں کرے گا وہ فائلوں کو پھینک کر ان پر اپنا جوتا رکھتا وہاں سے چلا گیا گیا شانے پر بیگ تھا
مراد خان نے اسکی جانب دیکھا ضرور مگر اس سے کچھ کہنے ہی ہمت نہیں ہوئ اندر بھاگ کر آتا مرتضی بھی اسے دیکھ کر وہیں رہ گیا آنا کو مار مار کر اسنے پوچھوایا تھا فائل کہاں ہے جو وہ وہیں چھوڑ آئے تھی مرتضی اسے دیکھنے لگا سہراب نے بھی اسکی جانب دیکھا اور دل کیا آج اپنے بھائ پر ہی تھوک دے مگر اسے دلچسپی نہیں تھی اور تبھی وہ وہاں سے نکل گیا ۔۔۔ انیکسی میں آیا ۔
آنا کی بڑی حالت تھی اسکی ماں تڑپ رہی تھی ۔
سہراب کو اس لڑکی کی اس بیوقوفی پر افسوس ہی تھا مرتضی نے اسے بری طرح مارا تھا ۔
سہراب نے اسکی جانب پیسے بڑھا دیے ۔
اگر منہ کھول کر مجھ سے مانگ لیتی تو شاید اس طرح رسوا نہ ہونا پڑتا “
وہ سپاٹ انداز میں کہہ کر وہاں سے نکل گیا اب وہ جاتی یہ نہ جاتی نوشین آنٹی کے دو نرم بولوں کا وہ احسان چکاتا وہ نکل آیا تھا وہاں سے ۔
معلوم نہیں وہ واپس پلٹتا یہ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continue