Rate this Novel
Episode 16
کراچی کے کوٹھے سے اسلام آباد کے مشہور کوٹھے میں اسے پہنچا دیا گیا تھا اور پیچھلے دو مہینے سے وہ یہاں تھی اگر کوئ اسکو دیکھتا تو پہچان نہیں سکتا تھا ۔
اسکے سر کے بالوں کو بری طرح کاٹ دیا گیا تھا اسکے سامنے روز اسکو اذیت پہچانے کے لیے ایسا تماشہ لگوایا جاتا کہ وہ پاگلوں کیطرح چیختی چلاتی نگو بائ اس ایک دھکے کی سزا اسے روز دیتی تھی ۔
اسنے کئ بار اسے مختلف لوگوں کے پاس زبردستی بھیجا مگر علینہ کی ذہنی حالت ایسی ہو گئ تھی کہ کوئ اسے چھوتا تو اسکی چیخوں سے گھبرا جاتا تبھی آج تک کسی نے اسے چھوا نہیں تھا اسکی خوبصورتی کہیں کھو سی گئ تھی اور نگو بائ نے اسے مردہ سا کر دیا تھا ۔
اسے ناچنے پر مجبور کرتی اسے مارتی کھانے کو نہ دیتی ۔
بڑی کڑی سزا تھی جو اسے ملی تھی کہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں بلکل ختم ہو چکیں تھیں ۔
مگر اگر کوئ یاداشت میں تھا تو وہ ایک نام تھا میر سہراب علی خان ۔۔۔۔۔
جس کی اس اسے ضرورت تھی ہر لمہے ہر پل تھی چھ مہینے سے وہ بڑی اذیت میں تھی ۔
اس وقت بھی وہ آنسو صاف کر کے خود میں سیمٹی چھپی ہوئ بیٹھی تھی اس کمرے میں جو کچھ ہو رہا تھا اسکے اندر دیکھنے کی ہمت نہیں تھی اسے ان آوازوں سے گھن ا رہی تھی اور بس کچھ ہی لمحے گزرے اسنے چلانا شروع کر دیا ۔
وہ اتنا چیخی اتنا چیخی کے دونوں وجود اسے پاگل سمجھہ کر وہاں سے بھاگ گئے
اور جیسے ہی وہ بھاگے علینہ نے دوڑ کر دروازہ بند کر لیا ۔
اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے اسنے وہ بستر دیکھا وہ الماری کے پیچھے چھپی ہوئ تھی دنیا کا کون سا رخ تھا جو اسکی قسمت اسے دیکھا رہی تھی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اتنا شاید پوری زندگی میں کبھی نہیں روئ تھی جتنا ان چھ ماہ میں وہ رو چکی تھی ۔
وہ خود میں سمٹ گئ اسے یہ بستر نہیں دیکھنا تھا ۔
اسنے ساری لائٹیں بند کر دیں اور سسکتی رہی جبکہ دروازہ زور زور سے بجنے لگا شاید باہر والے سمجھ گئے تھے اسنے یہ جان بوجھ کر کیا نگو بائ نے دروازہ پیٹا اسی کی وجہ سے تین ماہ سے وہ بھی یہیں پر تھی ۔
مگر علینہ نے دروازہ نہیں کھولا
انھیں حرکات کی وجہ سے وہ پٹتی تھی اور نگو بائ نے اسکے سر کے بال کاٹ دیے تھے ۔
وہ کانوں پر ہاتھ رکھ گئ ۔
اتنی زور سے کہ کسی کی آواز اسکے کانوں میں نہ پہنچ سکے ۔
یہ اللّٰہ مدد ۔۔ یہ اللّٰہ ” وہ سسک اٹھی خوف اسکے رگوں میں سما گیا تھا وہ بولڈ کانفیڈینٹ لڑکی کہیں کھو گئ تھی
اس وقت خوف زدہ ڈری سہمی کمزور وجود کی لڑکی خود کو اپنے کانپتے ہاتھوں سے سنبھال رہی تھی مگر اپنا آپ سنںھل نہیں رہا تھا۔۔۔۔
چھ ماہ گزر گئے تھے اسنے ایک ایک بار بھی اسے نہیں ڈھونڈا کیا ۔
ایک بار بھی نہیں وہ سسکتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔
یہ نہیں سوچا کہ اسکی آنا کہاں گئ” وہ سسک اٹھی مگر جواب نہیں تھا ۔
اچانک دروازہ کھولا وہ ایکدم کھڑی ہو گئ اسکی ٹانگیں بھی کانپ رہیں تھیں اس میں بلکل ہمت نہیں تھی وہ خود کو بچائے کسی سے یہ پھر نگو بائ کے ہاتھ سے ہی اپنا چہرہ بچا لے وہ پیچھے ہٹنے لگی کہ نگو بائ نے ہمیشہ کی طرح دو آدمیوں سے کہا کہ اسکے وجود کو جکڑ لیا اور وہ اپنے دل کی نہ جانے کون سی بھڑاس اسکے وجود پر اتارنے لگی اسے بری طرح مار مار کر اسکے بال نوچ نوچ کر ۔۔۔۔
علینہ میں چیخنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔
مگر اسکی مار کی تکلیف سے وہ بے حال تھی
نگو بائ کی وحشت سے علینہ ایک لفظ نہ بول سکی
اور جب وہ تھک گی تو اسنے کہا کہ علینہ کو پھینک دیا جائے اور وہ دونوں آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی روز کیطرح اسکے وجود سے نظریں چرا کر وہاں سے نکل گئے ۔
وہ اب بہت کمزور ہو چکی تھی ۔
علینہ اندھے منہ زمین پر پڑی رہی ۔
ارے صاحب کیا بلا لا کر دے دی ہے مجال ہے جو اس مصیبت کا کہیں ریٹ لگ رہا ہو “
نگو بائ کسی سے بول رہی تھی اسکے سانس پھول رہے تھے ۔
دروازہ ایک بار پھر سے کھل اٹھا کسی کے جوتے کی ٹک ٹک کی آواز اندر ا رہی تھی اور وہ جوتا علینہ کے چہرے کے بلکل قریب ا گیا وہ نیچے کو بیٹھا اور علینہ کے چہرے پر موبائل کی ٹارچ مار کر پورے چہرے پر چوٹوں کے نشان تھے سنہری بال بے ہنگمی سے کہیں کہیں سے کٹے ہوئے تھے جبکہ اسکے ہاتھوں پر بھی چوٹوں کے نشان تھے وہ سکون سے مسکرایا ۔
روشنی پڑنے کے باعث علینہ نے آنکھیں زور سے میچ لیں وہ اس شخص کو دیکھ نہیں پائ ۔
ارے اتنی مہمان نوازی کر دی تم لوگ نے اسکی”
وہ ہنسا ۔۔
علینہ نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں ۔
شاید سامنے والا بھی سمجھہ گیا تھا کہ وہ اسے پہچان چکی ہے ایک خوفناک قہقہہ اس اندھیرے میں بلند ہوا ۔
علینہ نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اس سے اٹھا نہیں گیا وہ بری طرح زخمی تھی
اور وہ شخص ایکدم کھڑا ہوا اورا سنے علینہ کے اسی زخمی ہاتھ پر اپنا جوتا رکھ دیا اتنی زور سے کہ وہ تلملا گئ ۔
بن پانی کی مچھلی کیطرح وہ تڑپ اٹھی ۔
یہ سزا سہراب کے نام کی ملی ہے میری جان تمھیں”
خوبصورتی سے اسکے زخمی چہرے پر ایک سطر کھینچتا وہ بولا ۔
آہ آہ ” وہ رو رہی تھی تکلیف کے باعث
جبکہ اس ادمی نے لائٹیں کھولنے کے لیے کہا جبکہ ایکدم لائٹیں کھلیں تو مرتضی کا چہرہ علینہ کے سامنے تھا ۔
وہ بھیگی بھیگی نظروں سے مرتضی کو دیکھ رہی تھی ۔
اوہ مائے ڈائیر یہ تمھارا کیا حال ہو گیا “
وہ ہنسا ۔
علینہ سانسیں بھر رہی تھی ہر سانس مشکل ہو گئ تھی۔
وہ سسکی بھرتی اور آنکھ سے آنسو گال پر پھسل جاتا مرتضی نے اسکے ہاتھ سے جوتا ہٹا لیا ۔
جبکہ علینہ اسکو دیکھنے کے بعد کچھ نہ بولی مرتضی اسکے پاس بیٹھ گیا ۔
مجھے افسوس ہے تمھارے ساتھ جو بھی ہوا اسکا بہٹ افسوس ہے مگر میں کیا کرو میں کیا کرو میں بلکل پرفیکٹ ہوں اور میں اپنے سے زیادہ کسی کو سمجھتا ہی نہیں ہوں دیکھو میں نے جو بھی کیا اس میں واقعی قصور تمھارا نہیں تھا مگر اس لوزر کے ساتھ تم تھی تو اسے آگے بڑھا رہی تھی وہ مجھ سے زیادہ امیر ہو رہا تھا اور اسے یہ سب دینے والی تم تھی ہاں تمھارا گناہ چھوٹا تھا مگر مستقبل میں یہ میرے لیے وبال بن جاتا تبھی میں نے تمھیں راستے میں سے ہٹانے کے لیے تمھارے شوہر کو جگایا ۔
اور وہ تو سمجھو تیار ہی بیٹھا تھا بڑی آرام سے مان گیا “
وہ ہنسا
علینہ نے بڑی مشکل سے سانس لیا تھا ایسا لگا بہت تکلیف محسوس ہوئ ہو اس سانس میں ۔
پھر میں نے راستے میں سے تمھیں ہٹا دیا ۔
وہ مسکرایا ۔
تو۔۔۔ وہ ہٹ۔۔۔۔ ہٹ گ۔۔گیا تمھارے ر۔۔ راستے سے” وہ سوال کر رہی تھی مرتضی کے چہرے پر بے ساختہ تاریکی چھا گئ ۔
علینہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے وجود پر لگے زخموں میں زرا تکلیف کا احساس کم ہوا ہو اس میں نہ مسکرانے کی ہمت تھی نہ وہ مسکرائ نہ اسپر طنز کیا مگر پھر بھی مرتضی نے غصے سے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا اسکی ناک سے خون بہنے لگا ۔
اور انکھوں سے بےساختہ آنسو نکل گئے ۔
م۔۔مت مارو م۔۔۔مجھے مت مارو اب اب مجھے مت مارو میں میں یہ تکلیف نہیں سہہ پاؤ گی۔ “
وہ ڈر کر خود کو چھپانے لگی اور بری طرح رو رہی تھی جبکہ دوسری طرف مرتضی اٹھا ایک لات غصے سے ماری جس پر علینہ کی چیخ نکلی
تجھے اس تک اور اسے تجھ تک کبھی پہچنے نہیں دوں گا میں میں ہر اس شخص کو جان سے مار دوں گا جو سہراب علی خان کو کچھ دینے کی کوشش کرے گا “
وہ دھاڑا ۔
جبکہ وہ ڈر کر چھپنے کی کوشش کرنے لگی اسکی ذہنی صلاحیتوں نے جیسے دم توڑ دیا تھا
مرتضی باہر نکلا ۔
میں نے کہا تھا اسے کسی وحشی کتے کے آگے ڈال دو “
وہ نگو بائ پر بھڑکا
ارے صاحب جی میں آج ہی یہ کام کر دیتی ہوں “
وہ مسکرائ
تو مرتضی نے سر ہلایا ۔
وہ پہلی بار آیا تھا یہاں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد آج تیسرا دن تھا سہراب نہیں آیا تھا اسنے آنا کا بھی حشر بگاڑ دینا چاہا مگر اسکی ماں نے روک دیا ۔
اور شیلہ کی وجہ سے وہ چپ ہو گیا کیونکہ نوشین نے شیلہ کے پاؤں پکڑ لیے تھے انکے پاس اس جگہ کے علاؤہ کوئ ٹھکانہ نہیں تھا اور پھر شیلہ وہ آنا کی غلطی بھی نہ لگی وہ ایک ملازم پیشہ لوگ تھے بھلا یہ اتنا بڑا کام کیسے کر سکتے تھے یہ کام تو کسی ایکسپیرینس لڑکی سے کروانا چاہیے تھا تبھی مرتضی کو ٹھنڈا کر رہا اور آنا سے کہا کہ وہ دوبارہ اپنا منہ ڈھانپ لے اور کبھی مرتضی کے سامنے اپنی شکل نہ دیکھائے ۔
اور پھر جب فائلز سائین نہ ہوئ تو مرتضی جان بوجھ کر اپنی آنا کی تسکین کی خاطر سہراب کے عزیز ترین رشتے کو دیکھنے کے لیے آیا کہ فائلیں تو وہ سائین کرا ہی لے گا ۔
آخر دیکھے تو سہی سہراب کے ساتھ اسنے کیا کیا ہے اور دیکھ کر کچھ سکون ملا تھا ۔
اسنے اب خود یہ کام کرنے کا سوچا تھا ۔
وہ جانتا تھا سہراب اسلام آباد میں ہی آیا ہوا ہے وہ پتہ نکلوا کر مراد خان کے ساتھ سہراب کے پاس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک خوبصورت ہوٹل تھا جہاں سہراب رہائش پزیر تھا مرتضی حسد سے جیسے جل چکا تھا اندر تک وہ اندر داخل ہوئے تو دو چار لوگ اسکی خدمت میں کھڑے تھے سہراب نے باپ اور بھائ کی جانب دیکھا ماتھے پر بل ڈالے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوۓ اسنے ان کو باہر جانے کے لیے کہا جو اسکی خدمت کے لیے کھڑے تھے مگر وہ کام خود کر رہا تھا اپنا اور وہ مڑ کر سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھ گیا
آج اسکے انداز میں فخر تھا اکڑ تھی آج جہاں وہ تھا وہاں ان دونوں میں سے کو بھی نہیں تھا اور دوسرا سب سے اہم وہ سب جانتے تھے کہ وہ گھر جہاں وہ لوگ رہ رہے ہیں وہ کس کے نام ہے ۔۔ جس کی وجہ سے سہراب کی پوزیشن کا سٹرونگ ہونا بنتا ہی تھا
وہ جس انداز میں بیٹھا مرتضی کے آگ لگ گئ اگر مراد نہ روکتے تو شاید وہ اپنے گن ہولڈر سے بندوق نکال کر اسکے سینے میں گولیاں اتار دیتا ۔
مراد خان نے اسے کچھ بھی کرنے سے باز رکھا
جان تو تم گئے ہو کہ ہم کیوں آئے ہیں”
سہراب نے سیگریٹ کا گھیرہ کش لیا اور سر ہلا کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا بڑی بے نیازی تھی انداز میں مرتضی کڑھ رہا تھا وہ کہاں کہ انسان اسکے سامنے کیسے اکڑ کر بیٹھا تھا ۔
وہ سہراب جسے کبھی کسی نے محبت نہیں دی کسی نے اسکی تعریف تو کیا اسکو پیار سے دیکھا تک نہیں آج وہ کہاں اور مرتضی کہاں تھا ۔
تو تم ان فائلز پر سائین کر کے ہمارے اور اپنے درمیان دوریوں کو ختم کیوں نہیں کر دیتے”
مراد خان بولے
سہراب ہنس دیا
کون سی دوریاں آپ جیسے دو ٹکے کے شخص کو میں کچھ اپنا مانتا نہیں اور بات کرتے ہیں دوریوں کی “
وہ سر جھٹک کر بولا ۔
جبکہ مراد کا چہرہ بےساختہ سرخ ہو گیا مرتضی نے بھڑک کر باپ کو دیکھا مگر وہ اسکا ہاتھ دبائے بیٹھا تھا ۔
دیکھو سہراب ہم لوگوں کے راستے الگ الگ ہی تھے شروع سے تم اپنے راستے پر خوش ہو تو ہم لوگوں کو بھی خوش رہنے دو ہمارا پیچھا چھوڑ دو اور ان فائلز پر سائن کر دوں
یہ نہیں کروں گا میں پیچھا تو میں نے تم لوگوں کا کبھی نہیں کیا مگر یہ سائین والی بات مجھ سے نہ ہی کرو تو بہتر ہے”
سہراب”
مرتضی اٹھا سہراب اسے بے فکری سے دیکھ رہا تھا
بلڈی لوزر دو ٹکے کے انسان آج تجھے اوپر لوگوں نے چڑھا دیا تو سر پر ناچے “
کھینچ کر لات ماری تھی سہراب نے “
مراد ایکدم اٹھے اور مرتضی کے سامنے ا گئے وہ تلخی سے مسکرایا ا
میں نے ایسے ڈنڈے بہت کھائیں ہیں مراد خان اتنے کے لوگوں نے مجھے زمین پر پڑا کیڑا سمجھہ لیا تھا ۔
لیکن کسی ہاتھ نے آگے بڑھ کر میری حمایت نہیں کی اور اس کی قسمت واقعی بہت اچھی ہے بے وجہ کی نفرت برداشت نہیں کر رہا “
وہ ہنسا اور نفی میں سر ہلانے لگا ۔
لوزر کون ہے اس وقت دیکھ رہا ہے کون ہاتھ پھیلائے سوال کرنے آیا ہے دیکھ رہا ہے وقت کے کروٹ بدل لی ہے اب مراد خان بوڑھا ہو چکا ہے اور اسکا یہ پاگل بیٹا انقریب نفسیاتی ہسپتال میں جائے گا یہ میرے ہاتھوں مر جائے گا بے چارہ مراد خان پرفیکٹ پرفیکٹ کا بورڈ لیے چلاتا رہے اب ” وہ انھیں طنز بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا
بہت ہو گیا سہراب سائین کرو اس پر اور اپنے راستے چلے جاؤ ہم اپنے راستے چلے جائیں گے”
مراد نے کہا ۔
سہراب کو شدید نفرت کا احساس ہوا تھا ۔
مجھے اس جائیداد میں کوئ دلچسپی نہیں ہے مراد خان شاید ” وہ چپ ہو گیا
شاید سہراب خان ایک پیار بھرے لفظ کے لیے ترسا ہوا ہے”
اسنے دل میں سوچا نگر بولا کچھ نہیں اسنے وہ فائل اٹھائ اور اس سے پہلے وہ اس پر سائین کرتا کہ اچانک اسکے روم کا دروازہ بجنے لگا مرتضی اور مراد جو اسکے جزباتی رہنے پر ابھی خوش ہی ہوتے کے دروازہ بجنے پر دونوں جانب دیکھنے لگے
سہراب آگے بڑھا اور دروازہ کھول دیا
اسکے گارڈز نے عادل کو جکڑا ہوا تھا
چھوڑ دو میں جانتا ہوں”
وہ بولا تو عادل پھٹی پھٹی انکھوں سے مراد کو دیکھنے لگا
پہلے سائین کرو “
مرتضی نے سہراب کی توجہ اس جانب کرائ مگر سہراب کے لیے یہ اہم نہیں تھا عادل کی آنکھوں میں کچھ تھا ۔
وہ عادل کیطرف دیکھنے لگا جس کا گلہ بھی ایسا لگ رہا تھا سوکھ گیا ہے جیسے وہ کہیں سے بھاگ کر آیا ہے
کیا ہوا ہے “
وہ سوال کر رہا تھا اور پھر خود ہی خیال آیا
تم پیٹے ہو”
اسنے بےزاری سے پوچھا
عادل نفی کرنے لگا
ع۔۔۔عل۔۔۔علینہ کہاں ہے”
عادل خیخا حیرانگی تھی اسکے چیخنے میں سہراب تو بس اتنا جانتا تھا وہ کینیڈا جا چکی ہے ۔
کینیڈا “
سہراب بولا جبکہ مرتضی ایکدم فق چہرے سے عادل کو دیکھنے لگا
ن۔۔۔نہیں نہیں”
وہ بولا
سہراب کو لگا اسکے کانوں میں شور زیادہ ہے ۔
کیا کہنا چاہتے ہو “
وہ عادل کو جھنجھوڑ کر بولا تو دوسری ظرف مرتضی جلے پاؤں کی بلی کیطرح پہلو بدلنے لگا وہ یہاں فائیر کر دینا چاہتا تھا تاکہ عدالت ما منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے مگر نہیں یہاں اتنے گارڈز تھے کہ اسے بنا دیکھے ہی گولیوں سے بھون دیتے وہ چپ ہی رہا تھا ۔
مراد اس قصے کے بارے میں لاعلم تھے ۔
تبھی خاموش کھڑے تھے
نہیں ع۔۔۔عینہ کوٹھے کوٹھے پر ہے”
وہ بولا نہیں چیخ رہا تھا سہراب کی آنکھیں پہلی بار حیرانگی سے پھیل گئیں
وہ وہ ۔۔۔وہ پاگل ہو گئ ہے سہراب ہماری علینہ۔۔۔ علینہ پاگل ۔۔ اسکے اسکے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے کچھ غلط ہوا ہے “
وہ چلانے لگا اور سہراب نے مزید نہیں سنا اسکو پرے دھکیل کر وہ بھاگا تھا وہ نہیں جانتا تھا وہ کہاں بھاگ رہا ہے کہاں جا رہا ہے مگر وہ باہر کی جانب دوڑ لگا چکا تھا اسکے گارڈز اسکے پیچھے بھاگے تھے ۔
سہراب اپنی گاڑی لے کر وہاں سے نکل گیا جبکہ وہاں سے سب کے ہٹتے ہی مرتضی نے بنا دیکھے عادل پر دو فائر کر دیے
مرتضی ۔۔۔۔۔۔ مراد چیخے ۔
جبکہ مرتضی انھیں بھی دھکیل کر وہاں سے وہ فائلز لے کر چلا گیا مراد اسکے پیچھے لپکے جبکہ ایک بے قصور آخری سانسیں بھرنے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگو بائ نے مرتضی کے کہنے پر علینہ کو کوٹھے پر آنے والے مختلف لوگوں کے پاس بھیجنے کا سوچا تو تبھی عادل ا گیا اور اسنے نگو بائ سے بات کی تو نگو بائ کو پہلا شکار وہ ہی لگا اسے لالچ دے کر نگو بائ نے علینہ کے کمرے میں بھیج دیا عادل نے لائٹیں جلائ اور بے حال علینہ کو سکتا سیمٹا بیٹھے دیکھے وہ جہاں چیخا وہاں علینہ بھی چلا اٹھی تھی ۔
وہ وہاں سے بھاگ اٹھا سہراب یہاں آیا تھا تو عادل سے رابطے میں ہی تھا کبھی کبھی بات ہو جاتی تھی اسنے فائیٹ بھی کچھ عرصے سے چھوٹی ہوئ تھی ۔
لیکن عادل جانتا تھا کہ سہراب کہاں رہ رہا ہے تبھی وہ دوڑ کر اس تک پہنچا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کوٹھے میں داخل وہا تو اس کوٹھے میں کئ کئ امیر لوگ اترے تھے مگر ایسے کاموں میں کوئ سینہ تان کر نہیں آتا تھا چھپ چھاپا کر کے کہ ہوئ دیکھ نہ لے کوئ پہچان نہ جائے جبکہ وہ سینہ تان کر اندر ایسے آیا تھا کہ اگر اسکو کسی نے روکا تو وہ کسی کا خون کر دے گا ۔
دانت پر دانت چڑھائے
یہ کون مرد کا بچہ ہمارے کوٹھے پر ا گیا ہے”
ایک لڑکی ہلکی سی آواز میں بولی
ارے تو اسے نہیں جانتی مشہور ماڈل ایکٹر ہے سہراب علی خان آف آف نہ جانے اب کس کی قسمت کھولنے والی ہے میں تو چلی تیار ہونے”
دوسری لڑکی بھاگی تو اسکے نام کی دوڑیں لگ گئ کہ وہ کس کو بنے گا ۔
جبکہ سہراب نے ارد گرد دیکھا سامنے نگو بائ بیٹھی تھی اور دوسری طرف اس کوٹھے کی مالک۔۔۔۔
علینہ کہاں ہے”
اسنے ان دونوں عورتوں کی جانب دیکھا ۔
کون علینہ ارے سیٹھ آؤ بیٹھو باتیں شاتیں کرو تو مل جائے گی ایک سے بڑھ کر ایک”
بس اسکی آواز دب گئ سہراب نے وحشیوں کی طرح اسکی گردن جھپٹ لی تھی
آنا کہاں ہے ” وہ اسکی گردن پر اپنے جسم کی ساری طاقت لگاتا بولا تھا اس عورت کی آنکھیں پھٹتی دیکھ کر نگو بائ تو اٹھ گئ ۔
ک۔۔۔کون ہے تو ” وہ پوچھنے لگی سہراب نے اسکی جانب دیکھا
میں نے جو سوال کیا ہے جواب دے اسکا “
وہ دھاڑا اور اس جگہ پر پہلی بار ا کر کوئ دھاڑا تھا ورنہ آواز دبا دبا کر اپنی عزت کی پرواہ کرتے لوگ اپنی عزت لٹانے پہنچ جاتے تھے ۔
نگو بائ ہار نہ مانتے ہوئے کچھ نہ بولی تو اس عورت کو اپنی جان کی پرواہ ہو گئ اس کمرے کی طرف اشارہ کر دیا بےشمار کمرے تھے سہراب نے دو بار سر جھٹکا تھا ۔
اور تیر کی سی تیزی سے وہ اس کمرے کو لات مار کر کھول چکا تھا
اور عادل کے کہنے کے مطابق علینہ سامنے تھی
سہراب اسی دروازے پر جم گیا
علینہ نے سسکتے ہوئے سر اٹھایا کہ اس اندھیرے میں کس نے روشنی کر دی ۔
شکل نظر نہیں آ رہی تھی ۔
جبکہ علینہ پر باہر کی روشنی پڑ رہی تھی پہلی بار اسکے ہاتھ کانپ اٹھے تھے اسے اندازا نہیں تھا ایک طرف بجلی کا بورڈ لگا ہے اسکا ہاتھ بے ساختہ لگا تھا اور کمرے میں روشنیاں بکھر گئیں
علینہ اور سہراب ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے
وہ آنکھیں کھول کر پورے سہراب خان کو دیکھ رہی تھی آج بھی اتنی ہی آب و تاب سے چمکتا ہوا تھا آج بھی اسکا چہرہ ایسا تھا کہ وہ دیکھتی رہ گئ ۔
وہ مری ہو گئ اسکے لیے اور اسے خبر بھی نہ ہوئ سہراب کی آنکھوں کے آگے دھند سی بڑھ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continued
