Rate this Novel
Episode 10
درانی کی فیملی کے لیے ساری تیاری پوری ہو چکی تھی سہراب گھر پر ہی تھا ۔ وہ کافی دیر سے اپنے روم میں تھا علینہ نے اس سے رابطہ نہیں کیا تھا تبھی اسنے بھی علینہ سے کوئ رابطہ نہیں کیا ۔
جبکہ نیچے ساری تیاری مکمل تھی مرتضی آفس سے آیا تو ۔ اسکے سیل پر آنے والے میسیج نے اسے پریشان کر دیا یہ میسیج قاسم کا تھا ۔ جس سے اسنے پیسے لیے تھے اپنا بیزنیس کھڑا کرنے کے لیے ۔
وہ پریشان ہو چکا تھا اسکا میسیج دیکھ کر ہی
اسے اتنا بڑا کام نہیں لگا تھا یہ سہراب سے پیسے لینے کا مگر اب ڈیڈ اس کام کو بڑا بنا رہے تھے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکی جان پر بنتی جا رہی تھی ۔ وہ پریشانی سے گھر میں داخل ہوا تو مام نے بتایا فاطمہ اور اسکی فیملی منگنی کی ڈیٹ فکس کرنے ا رہی ہے پہلے تو وہ چیڑ گیا پھر خود کو کمپوز کرتا سر ہلا گیا
وہ آج ڈیڈ سے کہنے والا تھا کہ سہراب سے دو ٹوک بات کی جائے اس سے یہ پہلیاں مزید نہیں سلجھائ جائیں گی ۔
تبھی وہ تھوڑا ریلکس ہوا ااور فریش ہونے چلا گیا ۔
جبکہ گھر کی چمک دھمک دیکھنے لائق تھی ۔
ماہین بھی تیار ہو کر ا گئ تھی اور شیلہ اور آج مراد خان بھی تیار تھے انکے بیٹے کی منگنی کی تاریخ رکھی جانی تھی مرتضی خان کی منگنی ہونی تھی اور یہ منگنی دنیا کی شاندار منگنی ہونے والی تھی
وہ ایسی منگنی کرنا چاہتا تھا اگر سہراب نامی وبال اتر جاتا سر سے بس
سب تیار تھے ۔
اچانک مراد خان کی نظر نوشین کی بیٹی پر گئ جو کام کرتی پھر رہی تھی ۔
اپنی ماں کے ساتھ ہی آتی تھی وہ جانتے تھے
ائے لڑکی”
وہ بولے تو سب انکی جانب متوجہ ہوئے
جاؤ سہراب کو کہو اپکے ڈیڈ کہہ رہے ہیں کہ ریڈی ہو کر نیچے ا جائیں مرتضی کی تاریخ پکی ہونی ہے”
وہ بولے تو ۔ آنا وہیں جم گئ ۔
اسنے دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا ۔
وہ حیرانگی سے ۔ مراد خان کو دیکھنے لگی ۔
وہ اپنے دوپٹے کے معاملے میں بےتوجگی برت رہی تھی مراد خان بھی چند لمہے اسے عجیب نظروں سے دیکھتے رہے تو آنا خود ہی گھبرا گئ
شیلہ نے زرا غصے سے انکا ہاتھ جھٹکا
بیٹے کی تاریخ رکھی جا رہی ہے شاید اور یہاں آپکی بیٹی بھی کھڑی ہے “
وہ ہبولیں
جبکہ مراد خان نظر پھیر گئے
کیا ضرورت ہے سہراب کو بلانے کی مجھے یقین ہے وہ مرتضی کو پریشان ہی کرے گا وہ کچھ بھی نارمل نہیں کرتا ہے مراد اسکی ہمیں ضرورت نہیں ہے ہماری فیملی پوری ہے بس معاذ آ جائے”
شیلہ نے بیٹی کے منگیتر کا ذکر کیا ۔
نہیں اسے ہونا چاہیے ۔”
مراد خان اپنی بات پر اڑے رہے شیلہ نے انھیں بڑے غصے میں دیکھا تھا ۔
جبکہ مراد خان نے پھر سے آنا کیطرف دیکھا ۔
میں نے تمھیں کچھ کہا ہے سنائ نہیں دیتا “
وہ اب تلخی سے بولے بھلے وہ لڑکی جو انکے سامنے کھڑی تھی حیران کن حد تک خوبصورت ہو سکتی تھی مگر پھر بھی وہ انکی ملازمہ تھی اور ۔ مراد خان میں سٹیٹس کا بخار حد سے زیادہ تھا بلکل جس طرح مرتضی خان میں اور انکی پوری فیملی میں تھا سوائے سہراب کے وہ سٹیٹس تو کیا عام ہونے کو بھی اہمیت نہیں دیتا تھا
آنا نے گھبرا کر سر ہلایا اور کچن میں اپنی ماں کے پاس آگئ
بڑے صاحب کہہ رہے ہیں چھوٹے صاحب کو بلا کر لاؤ “
وہ تقریبا رو دینے کو تھی ۔
تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے چھوٹے بابا بلکل مرتضی صاحب اور مراد صاحب جیسے نہیں ہیں ۔
اور انھیں صاحب مت کہنا ۔ “
نوشین مصروف سی بیٹی سے بولی الگ الگ کھانے کی ڈیشیز تیار کر رہی تھی وہ اور ساری کھانے پکانے کی ذمہ داری چونکہ اسپر تھی تبھی وہ بہت مصروف تھی
پھر کیا کہوں “
وہ ماں کا شانہ بچوں کیطرح ہلا کر بولی
ارے آنا بڑی ہو گئ ہو ۔۔۔ اب جاؤ کہہ کر جلدی نیچے آؤ ویسے بھی میری طبعیت نہیں ٹھیک”
نوشین چیڑ سی گئیں
ہٹ جائیں امی میں کر دیتی ہوں “
وہ ماں کی فکر کرتی بولی
مراد صاحب خفا ہوں گے جاؤ پہلے سہراب بابا کو کہہ او “
وہ اسکا گال تھپتھپا کر بولی آنا کے لیے یہ گھڑی کافی مشکل تھی اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا وجہ یہ تھی کہ اکثر وہ مراد صاحب کے کام کرتی تھی ۔مگر انکی نظروں میں جو آج تھا وہ آج سے پہلے نہیں دیکھا تھا یہ اسکی بےتوجگی ہی تو تھی جو وہ ان سب کے سامنے بےپردہ ہوئ تھی اسنے اچھے سے دوپٹے کا گھونگھٹ نکال لیا اسکے ہاتھ پاؤں ڈھنڈے پڑ رہے تھے نہ جانے کیوں لیکن شاید وہ وجہ جانتی تھی اور وجہ سہراب خود ہی تو تھا ایک تو وہ بہت بڑا تھا ۔۔ اس سے بہت بڑا دیکھتا تھا اور بہت طاقت ور اور اسکے بعد ۔ آخری ملاقات کچھ خاص اچھی نہیں تھی اسنے کیسے باؤل پھینک دیا تھا حالانکہ اسنے پاستہ اچھا بنایا تھا مگر اسے پسند نہیں آیا تھا مگر وہ ہی پاستہ مرتضی صاحب کو پسند آیا تھا ۔وہ ۔۔۔
سوچتی ہوئ سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔
سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئ تو ۔ یہاں قدرے خاموشی تھی
اسکا دل کیا دوبارہ پلٹ جائے اس گھر میں ہزار نوکر تھے کوئ بھی اسے پیغام پہنچا سکتا تھا وہ ہی کیوں مگر ۔۔۔ مراد صاحب نیچے ہی تھے اور وہ اسے اوپر جاتا ہوا دیکھ بھی چکے تھے یہ تو کچھ بات نہیں ہوئ اس وجہ سے کہ معاذ صاحب اور اسکی فیملی ا گئ تھی گہماگھمی بڑھ گئ تھی کچھ ہی دیر میں درانی کی فیملی بھی بس آ ہی جاتی ۔
اندر سے کافی تیز آواز ا رہی تھی گویا کسی بھاری چیز کو مارا جا رہا ہے ۔
وہ دروازے کو کانپتے ہاتھوں سے چھوتی اندر داخل ہوئ تو اتنا اچھے موسم میں بھی کمرہ کافی سرد تھا یعنی اسنے اے سی اون کیا ہوا تھا ہلکا سا میوزک چل رہا تھا جبکہ وہ پنچینگ بیگ کے سامنے کھڑا ٹراؤزر اور پسینے سے بھیگے سیاہ بنیان میں پنچینگ بیگ کو ایسے مار رہا تھا جیسے اس پینچینگ بیگ سے کوئ ذاتی دشمنی ہو ۔ ۔
اچانک وہ ہانپتا کانپتا سا رک گیا
اچھلتے پنچینگ بیگ کو ہاتھ سے تھام کر روک دیا اسنے چہرہ موڑ کر دیکھا
آنا کو لگا وہ بے ہوش ہو کر خوف سے گیر جائے گی مگر وہ کپکپاتی ٹانگوں سے یوں ہی کھڑی رہی دوپٹے نے اسکا آدھا چہرہ ڈھنپا ہوا تھا اور اسکے ہونٹ جو کہ خوف سے شاید نیلے پڑ گئے تھے اور چمکتی سفید ٹھوڑی دیکھائی دی تھی سہراب کو ۔
اس حلیے میں گھر کے ملازم ہی ہو سکتے تھے سہراب پہچان گیا تھا مگر یہاں آنے کا مقصد
اسنے اپنے ہاتھ سے گلوز اتارے اور بیڈ پر پھینک کر وہ ٹانگیں پھیلا کر چئیر پر بیٹھ گیا
آنا صرف دو شبد ہی تو بولنے آئ تھی مگر وہ دو لفظ اس سے بولے نہیں جا رہے تھے اسے لگا وہ ابھی یہاں سے دوڑ لگا کر بھاگ جائے گی مگر اسکے قدم زمین نے جکڑ لیے تھے اور سہراب اسے اوپر سے نیچے تک دیکھ رہا تھا ۔بلکہ دیکھ نہیں گھور رہا تھا
یہ گھونگھٹ کیوں ڈالا ہے تم نے”
وہ ماتھے پر بل ڈالے سوال کر رہا تھا ۔ مگر اس سوال میں نہ سمھجی بھی تھی ۔
آنا قدم پیچھے لینے لگی اس سے کچھ نہیں بولا جانا تھا یہ سچ تھا
اسکے سامنے کھڑے ہو کر ویسے بھی ۔ زمین میں گڑھنے سے بہتر تھا وہ کچھ کہے بنا بھاگ جاتی اس سے پہلے وہاں سے نکلتی سہراب ایکدم بولا
باہر جانا ہے تو جواب دو ورنہ نیچے سے کھینچ کر دوبارہ اوپر لے آوں گا اور یہ ہی سوال پوچھو گا ۔اور اتنا تو تمھیں پتہ ہو گا کہ مجھے یہاں کوئ روکنے والا نہیں” اسکا لہجہ سخت تھا ۔
وہ وہ مراد۔۔مراد صاحب۔۔۔ م۔ممراد صاحب نے ک۔۔کہا ہے ۔ م۔۔مرتضی ۔۔مرتضی صاحب ۔ کی ت۔۔۔تاریخ ۔ تاریخ کی ۔۔رسم ہ۔۔۔ہے تو ۔۔ نیچے۔۔نیچے ا جائیں”
وہ دروازے سے چیپکی گھبراہٹ کے مارے اٹک اٹک کر بولا رہی تھی
تم توتلی ہو”
سہراب حیرانگی سے اسکی شکل دیکھنے لگا وہ بولی ہی ایسے تھی ایک لفظ کو چھ حصوں میں۔ ۔ ایک تو یہ چہرہ چھپایا کیوں جا رہا تھا یہ سمھجہ نہیں ا رہا تھا وہ جانتا تھا اس لڑکی کو تو اب کس بات پر چہرہ چھپا رہی تھی وہ اپنی جگہ سے اٹھا آنا نے دروازہ کھولنا چاہا مگر دروازے کو نہ جانے کیسے لاک لگ گیا تھا ۔
وہ دروازہ کھولنے کی تگ و دو میں لگ گئ تھی جبکہ سہراب اسکے نزدیک آیا ۔ اور اسکا دوپٹہ چہرے سے الٹ دیا ۔ صاف شفاف چہرہ اسکے سامنے تھا جو ہلکی سی سرخی لیے ہوئے تھے
اسنے غور سے دیکھا
ت
اتنی بھی حسین نہیں ہو ۔ “
اسنے ۔ سر جھٹک کر کہا ۔ جیسے وہ اس سیسپینس کو ختم کرنے کے بعد جیسے ہلکا پھلکا ہو گیا تھا
آنا کا ہاتھ ایکدم رک گیا ۔چوری چوری نظروں سے اس بدتمیز کو دیکھا تھا
ہاں اسنے کب کہا تھا کہ وہ حسین ہے مگرا سطرح کسی کو کہا تو نہیں جاتا ۔
نکلو یہاں سے” وہ کڑک لہجے میں بولا ۔ اور وہ تو ایسا ہی تھا جہاں اسکے لیے مزاہ نہیں وہاں وہ سیدھا منہ رہ بات مارتا تھا
وہ بولا بےزاریت سے ۔
یہ۔۔یہ کھل نہیں رہا “
وہ رونے لگی ۔
سہراب جو وہ رہا سہا بنیان بھی اتار رہا تھا جو اسکے وجود پر تھا ۔ایکطرف پھینک کر اسکی جانب مڑ گیا
آنا نے نظریں پھیر لیں ۔ اسکی بے شرمی پر
اسکا وجود اسکے سامنے تھا ۔وہ بنا کچھ بولے اسکے نزدیک آیا ۔
دونوں ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے ۔ آنا اسکے وجود سے گھبرا رہی تھی کیونکہ وہ بہت نزدیک تھا اور اگر وہ ہلکا سا بھی ہلتی تو ضرور اسکی بیلی کو اناککا ہاتھ چھوتا ۔ وہ سختی سے مٹھیاں بھینچے کھڑی تھی
سہراب نے دروازے کو جھٹکا مارا نہ جانے دروازے نے کیا ضد باندھ لی تھی کھل نہیں رہا تھا
اسنے ہینڈل کو زور سے جھٹکا دیا تالا ٹوٹ کر اسکے ہاتھ میں ا گیا ۔
سہراب نے وہ لاک آنا کی کلائی پکڑ کر اسکی کلائی پر رکھ دیا اور خود پلٹ گیا
آنا کبھی اس تالے کو تو کبھی اس عجیب و غریب سے شخص کو دیکھنے لگی جس میں اتنی طاقت تھی کہ اسنے دروازے کا لاج ہی توڑ دیا تھا ۔اسنے روکا ہوا سانس ہلاک میں اتارا ۔ اور حلق کو تر کرنے کی کوشش کی مگر ایسا ہو نہیں پا رہا تھا
جب کھل گیا ہے تو یہاں کیوں کھڑی ہو “
وہ تقریبا چیڑ ہی گیا ۔
اسے دنیا میں شاید ہر جزبے سے چیڑ ہو گئ تھی اور اوپر سے ایک ہی دوست تھی وہ بھی ۔ نہ جانے کس اٹیٹیوڈ میں تھی ۔ اسی وجہ سے طبعیت میں چرچراہٹ ا رہی تھی جو وہ آنا پر نکال چکا تھا
بدتمیز ” اسکی بدتمیزی پر ۔۔وہ زرا گھور کر نہ جانے کیسے کہہ گئ حالانکہ کہنا س میں یہ کہنے کی ہمت نہیں تھی مگر وہ کہہ گئ تھی اور آواز اتنی تھی کہ سہراب تک بھی پہنچی تھی مگر سہراب کے مڑنے سے پہلے ہی وہ تیر کیطرح ۔ وہاں سے فرار ہو گئ ۔ اتنی سپیڈ میں نکلی تھی کہ پلٹ کر دیکھتی تو وہ اسے پکڑ لیتا ۔ ایک جن کی طرح ہی تو تھا وہ دیو کیطرح کتنا بڑا تھا اور وہ اسکے سامنے بلکل چھوٹی بچی لگ رہی تھی ۔ دوسری طرف
سہراب کوئ ریسپونس لیتا کہ اسکا سیل فون بجنے لگا علینہ کا فون تھا
غصے میں کال پک کی ۔
کیا تکلیف ہے کیوں فون کیا ہے ” وہ بھرا ہو اتھا تبھی بگڑ کر بولا ۔
تو نواب زادے سہراب خان ابھی تک غصے میں ہیں ویسے ایک بات بتا دو سہراب تمھاری انا کو مجھے جھکا کر کون سی تسکین ملتی ہے ” وہ بھی غصے سے بولی ۔
تم جانتی ہو۔ میں اس ٹائیپ کا آدمی نہیں ہوں فالتو مت بولو میں کہاں کسی کو جھکا کر خوش ہو سکتا ہوں میں خود جھکا ہوا ہوں ۔ ” وہ کچھ نارمل ہوا وہ واقعی اسے دوست سمھجتا تھا ایسا دوست جو اسکی پرواہ کرتا تھا ۔ مگر علینہ اسکے لیے کسی اور طرح کے جزبے رکھتی تھی
مگر سہراب میں ان جذبوں کی کسی کے لیے گنجائش نہیں تھی بھلے اسکے ساتھ پیچھلے سات سال سے رہنے والی وہ لڑکی علینہ ہی کیوں نہ ہو ۔
پھر تم کس ٹائیپ کے آدمی ہو ” علینہ ہلکا سا مسکرائ ۔
کبھی اکیلے میں ملو اپنی ٹائیپ سے تمھیں آگاہ کرتا ہوں اور ضرور وہ تمھارے لیے جان لیوا ہو گی ” وہ بولا لہجہ سنجیدگی لیے ہوئے تھا ۔
کیا واقعی ” وہ ہنسی روک کر بولی ۔
بےشرمی سے ڈوب مرو ” سہراب خفا ہوا ۔
ہاں تمھیں ا گئ اتنی شرم دیکھا ہے میں نے تمھیں بھی ۔ اس دن جو تم “
وہ ایکدم رک گئ ۔
جبکہ سہراب کا قہقہ نکلا ۔ وہ دونوں اس دن کی بات کو یاد کر چکے تھے ۔ جب وہ شاور لینے چلا گیا تھا بنا دروازہ بند کیے
۔ معلوم ہے تم میں کتنی شرم و حیا ہے اینی ویز ۔ تم اج نہیں آئے تو میں نے بھانا بنا دیا ہے بٹ بہت ضروری ہے سہراب یہ پروجکٹ نیکسٹ ٹائم ایسا مت کرنا” وہ اسے ایسے سمھجا رہی تھی گویا ہر بات اسکی وہ مان جائے ۔گا ۔
ہمم بائے اب بور کر رہی ہو “
اسنے بنا اسکی سنے فون بند کر دیا تھا ۔
اچانک اسکے دماغ میں ابھی یہاں کھڑی لڑکی ا گئ وہ کس طرح اسے بدتمیز کہہ سکتی تھی بلکہ کہہ چکی تھی چھٹانک بھر کی لڑکی اسپر بدتمیزی کا ٹاٹئیل مار کر نکل گئ تھی ۔۔۔
وہ اٹھا اور واشروم میں چلا گیا ہمیشہ کی طرح شاور کھول کر اسنے دونوں ہاتھ دیوار پر رکھے اور سر اوپر کر کے پانی کو چہرے پر پڑنے دیا ۔ وہ شاور کے نیچے ویسے ہی کھڑا تھا کمرے کا دروازہ کھلا تھا کوئ بھی ا سکتا تھا اسے پرواہ نہیں تھی
کیونکہ اسکے پاس کسی نے آنا ہی نہیں تھا یہ بات تو وہ جانتا تھا ۔
کچھ دیر پانی کے نیچے کھڑے ہو کرا سے اچھا لگا ۔۔۔۔
وہ باہر نکلا اور ڈریسپ ہو کر آئینے کے سامنے ا گیا
اسکے چہرے کا نشان آج بھی اسے وہ دن یاد دلا دیتا تھا ۔ اسنے اپنا چہرہ آئینے میں گور سے دیکھنا چھوڑ دیا تھا اور اس وقت بھی زحمت نہیں کی تھی وہ
خود پر مہنگا پرفیوم سپرے کر کے بالوں کو سیٹ کر کے وہ نیچے آیا تو سامنے مہمان موجود تھے اسنے مہمانوں کی جانب نہیں دیکھا جبکہ اسکی آمد کی خبر وہاں بیٹھے ایک ایک فرد کو ہو گئ تیز پرفیوم کی خوشبو جب حال میں پھیلی تو ۔ سب کو مسحور کن لگی جبکہ وہ کچن میں آگیا ۔ وہاں صرف نوشین آنٹی تھی انکی بدتمیز بیٹی نہیں تھی اسنے نوشین آنٹی کی جانب دیکھا
کیا کر رہی ہیں آپ “
وہ بچپن کیطرح ہی پوچھنے لگ مگر اب فرق ا آگیا تھا اب وہ بڑا ہو گیا تھا
وہ مسکرا دیں بس اب تو سب وہ گیا یہ ڈیکوریشن آنا کر رہی تھی اب نہ جانے یہ جھلی کہاں چلی گئ’
وہ سر پر ہاتھ مارتی ۔ پریشانی سے بولی جبکہ سہراب جو کھانے میں انگلی مارنے ہی والا تھا اس نام پر ایک دم چونک کر تھم گیا
اسنے نوشین آنٹی کیطرف دیکھا ۔
کیا کہا ہے ابھی آپ نے کیا نام لیا ہے”
وہ ماتھے پر بل ڈالے۔ پوچھ رہا تھا
آنا وہ میری بیٹی ہے نہ بیٹا پریشان کیا ہےا سنے آپکو “
وہ فکرمند ہوئیں ۔ سہراب جبکہ بے یقین تھا اسکے نزدیک یہ نام اسنے ایجاد کیا تھا اور دنیا میں کسی کا یہ دو لفظی نام کیسے ہو سکتا تھا وہ علینہ کو بھی کہہ دیتا تھا وجہ یہ تھی اسے یہ نام پسند تھا ۔
لیکن آج کسی کا حقیقت میں نام سن کر اسے عجیب سا احساس ہوا تھا اور یہ احساس پہلی بار ہی تھی ۔
وہ کچھ کہتا کہ ۔ مراد خان کچن میں آ۔ گئے ۔
سہراب باہر آؤ مہمان بلا رہے ہیں” وہ خوشامدی لہجے میں بولے تھے
کون سے مہمان ” وہ بدمزاہ سا ہوا تھا انکے انٹرپٹ کرنے پر ۔
بیٹا وہ باہر تمھارے بھائ کے سسرالی آئیں ہیں”
ایک تو یہ خوشامدی لہجے میں مجھ سے بات مت کیا کریں ” وہ بدلحاظی سے بولا مراد خان ایکدم خاموش ہو گئے
اور دوسرا میرا کوئ بھائ نہیں ہے میں فلحال بات کر رہا ہوں کسی سے آپ جا سکتے ہیں “
اسنے بے رخی سے کہا اور چہرہ موڑ گیا نراد خان کے باہر قدم لینا مشکل ہو گئے وہ نوشین کو اور کبھی سہراب کو دیکھنے لگا نوشین کا تو دم نکل گیا تھا ۔
سہراب کو البتہ پرواہ نہیں تھی ۔
نوشین سر جھکا گئ اور مراد خان خون کا گھونٹ بھر کر باہر نکل گئے
میرے لیے کافی بنا دیں زرا ” وہ بولا اور چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ۔
نوشین نے سر ہلایا ۔
امی ۔ باہر دیکھیں بارش ہونے کو ہے”
اچانک آنا اندر آئ اور پرجوش لہجے میں اپنی ماں سے بولی اسنے سہراب کو نہیں دیکھا تھا
سہراب کیطرف پیٹھ تھی اسکے لہجے کے جوش پر سہراب اسکی جانب دیکھنے لگا اسکے خوبصورت چہرے پر بارش کی آمد پر کیسی خوشی سی ابھر آئی تھی
تو کیا ہوا آنا بچی ہو بھلا تم جاؤ اب کام کرو میں کب سے دیکھ رہی ہوں ابھی میڈیم جی ا کر کہہ دیں گی کہ کھانا لگاؤ “
نوشین بولی تو آنا چپ ہو گئ ۔
امی بڑے لوگ بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں کہیں مرتضی صاحب کے رشتے ہو رہے ہیں اور کہیں انکے اکڑو بھائ کو حوش بھی نہیں “
آنا” وہ بولے جا رہی تھی نوشین نے جلدی سے اسے روکنا چاہا سہراب اسی کی جانب متوجہ تھا
ہاں نہ ۔ مرتضی صاحب کتنے اچھے ہیں اور اور باہر بیٹھے بھی کتنے اچھے لگ رہے ہیں”
وہ بولی تو نوشین نے اسکا شانا ہلایا
کیا ہو گ”
مڑتے ہی سیدھا سہراب کی نظروں سے نظریں جا ٹکرائی اور آنا سن ہو گئ ۔
معاف کرنا بابا بولتی رہتی ہے جھلی ہے “
وہ پھیکا سا مسکرائیں ۔
جبکہ سہراب کے لیے کافی بنا چکیں تھیں سہراب نہ جانے کیوں اسپر سے نظریں ہٹا نہیں سکا البتہ انا اپنی ماں کے پیچھے چھپنے کی اور خود کو دوبارہ دوپٹے سے ڈھانکنے کی بھرپور کوشش میں تھی ۔
وہ بنا کچھ بولے کافی کا مگ لبوں سے لگائے باہر نکل آیا
پاگل ہو گئ ہو تم”
نوشین نے گھورا
مجھے کیا پتہ تھا وہ پیچھے بیٹھے ہیں”
وہ شرمندہ سی ہوئ
ہزار بار کہا ہےا حتیاط سے کام لو مگر تم مان جاؤ میری بہت بڑی بات ہے ” وہ خفا ہو گئیں تھی
جبکہ آنا ۔ سر جھکا گئ ۔ ڈانٹ تو پڑنی ہی تھی دوسری طرف سہراب کی نظر مرتضی پر گئ وہ بلیک سوٹ میں تھا ۔ نیک سیک سے تیار اپنے ان لاز کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا ۔ اسنے سب کیطرف ایک نظر دیکھا اور ۔کافی کا گھونٹ بھر کر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
سب کی نظر اسکی جانب اٹھی اور فاطمہ ایکدم چیخ مارتی اٹھ گئ ۔
سہراب کے تاثرات میں کوئ فرق نہیں آیا تھا باقی سب البتہ گھبرا گئے تھے
کیا ہوا ہے بیٹا ” مراد خان کھڑے ہو گئے ۔
س۔۔۔سہراب۔۔”
فاطمہ کے منہ سے نکلا ۔ سہراب بلکل اس لڑکی کو نہیں جانتا تھا مگر کافی کے سیپ لیتے ہوئے نظریں اسی پر تھی
م۔۔۔میر سہراب علی خان اگر میں غلط نہیں ہوں تو “
فاطمہ اسکے قریب آنے لگی ۔
سہراب کو کچھ کچھ اندازا ہو گیا تھا ہو گی وہ اسکی پرانی البم کی کوئ دیوانی ۔ وہ بدمزاہ سا ہوا تھا ۔ بلکل انٹرسٹ نہیں تھا اسے اپنے بھائ کے ان لاز میں “
جی بیٹا یہ میرا چھوثا بیٹا ہے آپ کیسے جانتی ہوں اس کو ” مراد خان بڑے بیٹے کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر معملہ سنبھالتے ہوئے بولے ۔
اوہ مائے گاڈ ۔ لائیک سیریسلی انکل سہراب علی خان آپکا بیٹا ہے “
فاطمہ نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا سہراب معاملے کی نوعیت سمھجتا انجوائے کرنے لگا جبکہ ۔ مرتضی ایسا ہو گیا تھا جیسے اپنی جگہ جم گیا ہو فاطمہ یعنی وہ لڑکی جو اسکی انقریب منگیتر بننے والی تھی اس کے بھائ نکارہ کے ساتھ تھی اور کھلے عام
سب نہ سمھجی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
سر میں آپکی بہت بڑی فین ہو ۔۔” فاطمہ سہراب کے سامنے ا گئ ۔
سہراب نے بس سر ہلایا مگر پوزیشن اب بھی نہ بدلی انداز کی لاپروہای قابل تعریف تھی ۔
کیا آپ مجھے آٹوگراف دیں گے میں نے آپکا سرا البم دیکھا تھا انفیکٹ میری وارڈروپ آپکے پروانے البم کے ڈریسز سے بھری ہوئ ہے اسکے بعد آپ نے کام نہیں کیا بٹ آپکی فین فالونگ اور خاص کر لڑکیوں میں تو آپ بہت مشہور ہیں آپ جانتے ہوں گے”
وہ سہراب کا ہاتھ تھام گئ تھی
وہاں کھڑے ایک ایک انسان کو جھٹکا لگا تھا ۔ یعنی کرنٹ لگا تھا ۔
کیا بکواس کیے جا رہی ہو ” مرتضی کی برداشت سے باہر ہوا تو وہ فاطمہ کیطرف بڑھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کھینچا کے سہراب کے ہاتھوں سے فاطمہ کا ہاتھ نکل گیا
سہراب ہنس دیا ۔
کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو آپ لوگ تو ایسے بیہیو کر رہے ہیں جیسے میر سہراب کو جانتے ہی نہیں
برینڈ لانسر ہیں یہ بہت بڑے ماڈل اور انکی تین سال پرانی البم کی آج تک دھوم ہے سمھجہ مجھے یہ نہیں آئ سر آپ نے کام کیوں نہیں کیا بعد میں”
وہ ان کے بیچ چپ کلش کو جانتی نہیں تھی تبھی وہ ان سب کے سروں پر بم پھاڑ کر بلکل سکون سے سہراب سے بات کر رہی تھی
موڈ نہیں ہوا” سہراب نے شانے آچکا دیے ۔ اور خود بھی پرسکون سا بولا
اوہ” وہ سہراب کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے ہاپنی آنکھوں پر یقین نہ ہو
مرتضی مراد خان شیلہ اور ماہین کے قدم زمین نے جکڑ لیے تھا ایک انپرفیکٹ چہرہ اور دنیا میں اتنا مشہور ۔۔۔۔۔ یہ شاید نہ قابل ہضم بات تھی ۔
سہراب مزید ان لوگوں کے آڑے ہوئے رنگوں کو دیکھنا نہیں چاہتا تھا ۔
تبھی وہاں سے پلٹنے لگا
سر سر پلیز ایک آٹو گراف میری دوستیں تو پاگل ہیں آپکے پیچھے بس ایک سگنیچر تا کہ انھیں یقین ا جائے میں واقعی آپ سے ملی تھی “
فاطمہ نے کہا ۔ تو سہراب نے ان سب کے سامنے ایکدم فاطمہ کی کمر میں بازو حائل کیا ۔
اور اسے جھٹکے سے خود سے نزدیک کھینچتا وہ اسکی گردن پر جھکا اور ایک خوبصورت مہر اسکی گردن پر ایک ادا سے دے کر اسنے لمہوں میں اسے آزاد کر دیا ۔
آٹو گراف کے لیے مجھے پن کی ضرورت نہیں امید ہے تمھارے ہونے والے منگیتر نے مائینڈ نہیں کیا ہو گا “
معنی خیز ہنسی ہنستا وہ ان سب کے بیچ سے نکل گیا۔ اور پیچھے فاطمہ شرما ہی اٹھی
جبکہ باقی سب پر ایسا عالم تھا جیسے ۔
کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔
