Rate this Novel
Episode 08
اگلی صبح مرتضی ہاؤس میں روٹین کی تھی انکے دادا کو گئے ہوئے ایک دن گزرا تھا اور وہ سب بلکل نارمل اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو چکے تھے ۔
مرتضی روز کیطرح بہت سارے ملازموں اور نوکروں کی فوج کے ساتھ تیار ہو کر ٹیبل پر آیا تھا ماہین روز کیطرح تیار ہو کر اپنے منگیتر کے ساتھ جانے کے لیے تیار تھی مرتضی ہاؤس میں صبح ہوتی ہی دو بارہ ایک بجے تھی اور اب یہاں ایک اور ا گیا تھا جس کی صبح کب ہوتی تھی رات کب ہوتی تھی معلوم نہیں پڑتا تھا ۔
وہ سوتا تھا یہ جاگتا رہتا تھا یہ بھی پتہ نہیں پڑتا تھا ۔
مراد خان اور شیلہ دونوں بھی تیار تھے مراد خان کی آج کوئ میٹنگ تھی جبکہ انکی بیوی نے بھی کسی سے ملنے جانا تھا غرض سب مصروف تھے اپنی مصروفیت میں وہ سب قمست سے آج اکٹھے ناشتہ کر رہے تھے اس ٹیبل پر سب اپنا کام آگے بڑھ کر خود کر رہے تھے سوائے مرتضیٰ کے وہ آرام سے بیٹھا تھا اسے ناشتہ صرف کیا جا رہا تھا اسکے آگے پیچھے پھیرہ جا رہا تھا
درانی کی فیملی پھر سے آئے گی آج اور شاید آفیشلی منگنی کی اناؤنسمنٹ کرنا چاہتے ہیں تمھارا کیا خیال ہے مرتضی ” شیلہ نے بیٹے کیطرف دیکھا ۔
ڈیڈ سے پوچھ لیں اگر وہ اپنے نکمے بیٹے کی آؤ بھگت سے نکل آئے ہو تو میری طرف بھی دیکھ لیں”
اسنے شانے اچکاتے طنز کیا اور کھانے لگا ۔
فضول مت سوچو اور درانی کی فیملی ا جائے اچھی بات ہے ہم آفیشلی منگنی اناوس کریں گے اور کیا چاہیے”
وہ بولے تو مرتضی نے باپ کیطرف دیکھا ۔
ڈیڈ مجھے کلئیرلی بتائیں کیا ہو رہا ہے اس گھر میں مجھے سمجھہ نہیں ا رہا آپ جب بھی سہراب کا ذکر ہوتا ہے یوں ہی بات کرتے ہیں ایک لفظ بھی پہلے کیطرح نہیں بولتے کیا چاہتے ہیں آپ “
وہ غصے میں لگا تھا ۔
کچھ ضرورتیں ایسی ہوتی ہیں جو زبان کو شیریں لہجے کو رسگولہ اور منہ میٹھا کر دیتی ہیں مرتضی خان” پیچھے سے آتی آواز پر ان سب نے پلٹ کر دیکھا وہ سجائے بلو شرٹ اور جینز میں تھا ۔
اسکی شرٹ کے آگے کے چار بٹن کھلے تھے کے اسکا سینہ اور اسکے ایبز واضح دیکھ رہے تھے ۔
اسنے چہرے پر گاگلز لگائے ہوئے تھے اور پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وہ پلر سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ۔
درحقیقت وہ سب اسے ایک لمہے کو سانس روکے دیکھتے رہے
مراد خان ایکدم کھڑے ہو گئے
ت۔۔تم یہیں ہو “
وہ مسکرائے
کیوں آپ کو لگا میں چلا گیا “
وہ انکی جانب چلتا ہوا آیا ۔
اور گاگلز اتار کر اسنے ڈائنگ ٹیبل پر پھینکے چئیر دور گھسیٹی اور ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھ گیا ۔
نہیں میں نے کب کہا تم نے جانا ہے اچ۔۔اچھی بات ہے تم ہمارے ساتھ رہو “
وہ چاپلوسی سے بول رہے تھے اور یہ بات سہراب کو لگتی تھی ۔
مرتضی نے مٹھیاں بھینچ لیں اسکی برداشت سے باہر تھا یہ شخص جبکہ دوسری طرف ماہین اسے غور سے دیکھ رہی تھی اور اسکی ماں کو سہراب کو دیکھتے ہی مرتضی کی فکر لاحق ہو جاتی تھی ۔
غرض چاروں جانب بے چینی سی پھیل گئ تھی اسکے آتے ہی ۔
سہراب مسکرا کر ان سب کو دیکھ رہا تھا اسکا نشان واضح تھا
اسکے ہاتھوں پر چوٹوں کے نشان تھے اسکی گردن پر چوٹ کا نشان تھا ۔
مگر پھر بھی وہ بہت پر اثر اور بہت خوبصورت دیکھ رہا تھا ۔
شاید ہی ان سب نے کسی مرد کو نامکمل ہوتے ہوئے اتنا پر اثر پایا ہو۔
وہ کچھ دیر ان سب کے ری ایکشن دیکھتا رہا اور پھر اسنے آگے بڑھ کر ۔۔۔
مرتضی کی پلیٹ اٹھا لی جس میں ناشتہ سجا تھا مگر اس نے ہاتھ نہیں لگایا تھا
وہ کانٹے سے مرتضی کی پلیٹ میں سے کھانے لگا
واٹ دا ہیل”
مرتضی نے ٹیبل پر ہاتھ مارا ۔
سہراب کو فرق نہیں پڑتا تھا دو لقمے لے کر وہ پلیٹ اسکی جانب کھسکا کر اٹھا گیا ۔ “
ویسے بھی تم سب کو میرا ہی دیا کھانے کا پلین ہے تو ۔۔ پریکٹس کر لو “
وہ مسکرایا
میر سہراب علی خان”
مرتضی چئیر چھوڑ کر جھٹکے سے اس بدتمیزی پر اٹھا
وہ ایک آئ برو آچکا کر پلٹ کر اسے دیکھنے لگا ۔
اگر تمھیں لگ رہا ہے تم بہت بڑے ہو چکے ہو اور ڈیڈ یہ دادا کی ضد پر تمھیں واپس لایا گیا ہے اور اب تم اس گھر میں من مانی کر سکتے ہو تو یاد رکھو یہ سب مرتضی کا ہے لاتیں مار کر تمھیں اس گھر سے باہر کر دوں گا اپنی اوقات مت بھولو کہ تم کیا ہو اور کیا تھے اور نہ جانے کس “
اچانک سہراب کے ایک ہاتھ کی گرفت میں مرتضی کی گردن ا گئ اور یہ اچانک ہی ہوا تھا مرتضی کی جہاں آنکھیں باہر ابلیں اور دوسری طرف وہ سب تڑپ کر اٹھے اس سے پہلے ۔۔۔ وہ سہراب تک پہنچتے سہراب نے اسکی گردن چھوڑ دی تھی ۔
ہاں تو تم کچھ کہہ رہے تھے “
وہ مسکرا کر بلکل انجان بن گیا تم مجھے لاتیں مار کر باہر نکال دو گے ۔
سنو مرتضی تم میں اور مجھ میں بہت فرق ہے ۔ ۔۔
تم نرم گرم ہاتھوں میں پلے ہو سرد گرم نہ لگ جائیں تمہیں ۔۔ تم چیخوں گے میں دھاڑوں گا ۔۔ کیونکہ مجھے زمانے نے پالا ہے اتنی سخت دھوپ نے پالا ہے کہ میری دھاڑ تم سہہ نہیں سکتے تو اپنی چوزے جتنی سوچ اور بہادری کو اپنے تک رکھو کہیں کاکے کو نقصان نہ پہنچ جائے اور دوبارہ مجھ سے اس انداز میں بات کرنے کا سوچنا بھی مت ” وہ سنجیدگی سے کہتا اسکا شانا تھپتھپا کر باہر کی جانب نکلنے لگا مرتضی حونک کھڑا اسکی پشت کو گھورنے لگا تھا جو کہ وہ چلتا ہوا بھی ایسا لگتا تھا کہ ایک علاقہ چل رہا ہے اسکی چال میں بھی گریس تھی مرتضی ایڑیوں کے بل پلٹا اور مراد خان کو دیکھنے لگا
تو جان بوجھ کر آپ لائیں ہیں اسکو یہاں جان بوجھ کر قابض کرنے کے لیے میری چیزوں پر آپ کو مجھ سے اتنی دشمنی تھی اتنی دشمنی ساری زندگی مجھ سے پیار کیا اور اب اسے اٹھا کر لیے مجھے نیچا دیکھانے کے لیے”
وہ غصے میں چیزیں اٹھا اٹھ کر پھینکنے لگا تھا جبکہ ۔۔۔۔
وہ سب پریشان ہو گئے تھے سہراب وہ بھی پیچھے سے چیزوں کے ٹوٹنے کی آوازیں آ رہیں تھیں۔
مگر وہ سیٹی پر دھن گنگناتا ہوا وہاں سے باہر نکل رہا تھا ۔
اسے ان لوگوں سے غرض نہیں تھی وہ جو مرضی کرتے
وہ باہر نکلا موسم اچھا تھا اسنے دوبارہ گاگلز لگا لیے علینہ کی گاڑی پورچ میں کھڑی تھی اس سے پہلے وہ گاڑی تک پہنچتا کہ اچانک کسی نے اسے روک لیا
وہ ماتھے پر بل ڈالے انھیں دیکھنے لگا ۔
بابا ۔ س۔۔۔سہراب بابا “
وہ دوپٹے سے ہاتھ پوچھتی ہوئ اسکا چہرہ چھونا چاہتیں تھیں سہراب کے بھی دماغ میں ماضی کی یہ نرم جھلک ا سمائ اسنے گاگلز اتارے اور انکی جانب دیکھنے لگا ۔
م۔۔مجھے پہچانا ارے کیسے پہچانوں گے بڑے جو ہو گئے ہو ۔
” وہ ہلکا سا مسکرائی انکی آنکھیں نم تھیں ۔
نوشین آنٹی” وہ بس بڑبڑایا ۔
جبکہ وہ خوشی سے نہال ہونے لگیں
آپ آپ کو ہم یاد ہے ماشاءاللہ ماشاءاللہ کیسا کیسا جوان ہو گیا ہے کتنا کتنا طاقتور ماشاءاللہ وہ تو کبھی اسکے چہرے کو چھوتی تو کبھی اسکے بازؤں کو ہاتھ لگاتیں ۔”
انکے پیچھے ایک لڑکی بھی کھڑی تھی سہراب نے اچانک اس لڑکی کی جانب دیکھا ۔
وہ لڑکی بلکل انجان اور بے گانگی سے اپنی ماں کو دیکھتی اور کبھی اس کو دیکھتی سہراب چند لمہے اسکے معصوم چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر نگاہ پھیر لی ۔
نوشین آنٹی اسے دیکھ کر کافی خوش دیکھ رہی تھیں وہ ان کے سامنے کھڑا جب تک انھوں نے خود سے ہی اسکے سر پر ہاتھ نہ رکھ دیا اسنے جھک کر مسکراتے ہوئے انکا ہاتھ اپنے سر پر پھیروایا
یہ وہ واحد عورت تھیں جو بے لوث اس سے محبت کرتی تھیں جنھوں نے کبھی کسی مقصد کے تحت اس سے پیار نہیں جتایا نہ ہی کوئ اور بات کی بس وہ ایسے ہی اس سے ملتی تھی اور آج بہت عرصے بعد انھیں دیکھ کر اسکو بھی اچھا لگا تھا
وہ ان کے پا س کچھ دیر کھڑا ہوا اور اسکے بعد انھوں نے خودی ہی کہا
ارے دیکھو میں بھی کیسے تمھیں لے کر لگ گئ باتوں میں تم تم جاؤ بچے اپنا کام کرو ” وہ مسکرائیں سہراب سر ہلا کر جانے لگا ۔
اس سے پہلے وہ گاڑی میں بیٹھتا کہ انھوں نے پھر سے روکا وہ پلٹا اب اسے احساس ہوا وہ نوشین آنٹی اور انکی بیٹی کو کس خوشی میں اپنے سینے کی نمائش کروا رہا ہے کتنی فضول لگی تھی اسے یہ حرکت کیونکہ وہ لڑکی بار بار سہراب سے نگاہ جو چرا رہی تھی اسنے شرٹ کے بٹن بند کر لیا
کیا کرتے ہو بیٹے”
وہ سوال کرنے لگیں سہراب کو ہنسی آ گئ ۔
شاید وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ اتنے عرصے بعد لوٹا ہے تو زندگی میں کس مقام پر ہے ۔
کچھ بھی نہیں” وہ شانے آچکا گیا
نوشین آنٹی کی آنکھوں میں واضح مایوسی سی چھا گئ ۔
اور یہ پہلا مقام تھا کہ کسی کو یہ بتاتے ہوئے کہ وہ کچھ نہیں کرتا اسکو بھی اچھا نہیں لگا تھا ورنہ کسی کی پرواہ نہیں تھی اسے ۔۔ وہ مزید وہاں کھڑا نہیں ہونا چاہتا تھا تبھی وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر باہر نکل گیا ۔
نوشین آنٹی نے اسکی گاڑی باہر نکلتے دیکھی اور گھیرہ سانس بھرا ۔
اور آنا کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئیں۔ ۔۔
اندر جیسے سارا گھر الٹ پلٹ چکا تھا
وہ اور آنا ایک دوسرے کو پریشانی سے دیکھنے لگی
مجھے لگتا ہے مرتضی صاحب کو دورہ پڑ گیا ہے ” نوشین پریشانی سے بولی تھی
انھوں دورے کیوں پڑتے ہیں”
وہ پوچھ بیٹھی ۔
انکو شروع سے ہی یہ مسلہ ہے جس بات کو برداشت نہیں کر پاتے
وہ انکے اعصابوں پر فورا سوار ہو جاتی ہے کہ حواس کھو بیٹھتے ہیں بہت علاج کرایا مگر کچھ بات نہ بن سکی اب بھی نہ جانے کیا ہوا ہو گا “
اور ۔۔وہ۔۔وہ باہر کون تھا اماں” وہ پوچھ بیٹھی ہچکچاہٹ بھی تھی ۔
وہ” وہ پیار سے مسکرائی۔
سہراب بابا تھا بہت ہی پیارا دیکھا کیسا خوبرو جوان ہے ۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ
ارے اتنا سا تھا تب سے ہی اتنا حسین تھا بڑا ہو کر تو ایسا ہی ہونا تھا ” وہ فخر سے بولیں
اماں وہ ہیں کون” آنا نے اصل سوال پوچھا
بےوقوف وہ مراد خان کے چھوٹے بیٹے ہیں ۔ ” وہ آہستگی سے بولنے لگیں
کیا مگر مجھے نہیں پتہ ماہین بی بی اور مرتضی صاحب کے علاؤہ بھی خان صاحب کا کوئ بچہ ہے”
پگلی تو اتنی سی تو ہے اور کیا پتہ چلے گا تجھے ۔۔ اب دیکھ لیا نہ “
وہ ہنس پڑیں آنا بھی خاموش ہو گئ اسکی ماں تعاریفیں تو بلکل جائز کر رہی تھی ۔۔۔ مگر اسکا کھلا گریبان وہ ایکدم سر جھٹک گئ ۔۔۔ وہ کیا سوچنے لگی تھی ابھی ۔
اسنے توجہ ہٹا کر ماں کا ہاتھ بٹانے میں مدد کی ۔
دوسری طرف مرتضی کو دوائ دے کر اب شیلہ خونخوار نظروں سے مراد کو دیکھ رہی تھی
میں نے تمھیں کہہ دیا ہے میرے بیٹے کو تمھارے اس پاگل نفسیاتی بیٹے کی وجہ سے کچھ بھی ہوا یقین مانو میں سہراب کو زندہ مار دوں گی”
وہ چیخیں
کیا۔۔۔ کیا بکواس کر کے گیا ہے وہ مرتضی سے ۔۔ کیا سمجھتا ہے خود کو ۔۔۔۔ وہ”
وہ مرتضی کی وجہ سے اب رونے لگیں تھیں مراد خان نے پریشانی سے گھیرہ سانس بھرا ۔
تم ریلکس ہو جاؤ وہ ہمارے ساتھ رہے گا تو ٹھیک ہو جائے گا”
وہ کبھی ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔ کبھی بھی نہیں وہ پاگل ہے دماغی طور پر ذہنی مریض ہے وہ میرے بیٹے سے جلتا ہے حسد رکھتا ہے “
وہ بھڑکیں
اب چیخنا بند کرو گی” مراد خان کو بھی غصہ ا گیا
او فور گاڈ سیک موم ڈیڈ اس وقت تو لڑنا بند کریں آپ لوگ جانتے ہیں مرتضی بھائ کی طبعیت نہیں ٹھیک پھر بھی آپ لوگ بچوں جیسا بیہیو کر رہے ہیں “
وہ بھی غصے میں لگی
مجھے تو یہ سمجھہ نہیں ا رہی مرتضی کو اتنے عرصے یہ دورہ پڑا کس طرح وہ بہت ری کور کر چکا تھا کافی معاملات کو حل کر جاتا تھا پھر “
ماہین نے باپ کو دیکھا میں نے بلایا ہے ڈاکٹر یوسف کو دیکھتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں”
وہ بولے تینوں کو مرتضی کی فکر لاحق تھی اب نہ جانے کیا کہنے والے تھے ڈاکٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پہلی بار علینہ کو پک کرنے آیا تھا خاموشی سے دونوں گاڑی میں سوار تھے علینہ اسکی جانب دیکھ رہی تھی ۔
پریشان ہو ” وہ پہچان گئ تھی
نہیں” اسنے صاف جواب دیا
پھر نارمل بلکل انسانوں کیطرح بیہیو کیوں کر رہے ہو بلکہ یوں کہوں جینٹل مین کی طرح”
وہ بولی تو سہراب ہنس پڑا ۔
تمھیں کوئ پروبلم ہے مجھ سے انسانوں کیطرح رہوں تب بھی سکون نہیں جانوروں کیطرح رہوں تب بھی۔ ” وہ شانے اچکاتے سٹیرنگ گھماتا موڑ کاٹنے لگا ۔
علینہ مسکرا دی
سہراب تم جانتے ہو نہ میرے لیے تمھارا مسکراتا چہرہ کتنا اہم ہے”
وہ بولی تو لہجے میں چاہت تھی ۔
آنا مجھ پر رومینس مت جھاڑو “
اسنے ہمیشہ کیطرح اسکی پیش رفت کو ریجیکٹ کیا ۔
کاش تمھیں بھی محبت ہو تب پتہ چلے گا محبت کیا چیز ہے”
وہ اداسی سے بولی تھی ۔
یار کیا تمھیں محبت محبت کا بخار چڑھ جاتا ہے بندہ آیا ہے نہ ناشتے کا پوچھتی ہو نہ کوئ اور بات صبح شام محبت کا دورہ
تنگ ہوں میں تمھاری اس نیچر سے”
وہ موڈ آف کر چکا تھا علینہ نے بمشکل سانس کو سینے میں ہی اتارا اور اسکے لیے مسکرا دی ۔۔
اوکے تو بتاؤ کیا ناشتہ کرو گے ۔۔ ام م م م آئ گس تم اپنے فیورٹ ریسٹورنٹ میں جانا چاہو گے”
نہیں جانا ” وہ چیڑ کر بولا
اتنے نخرے تمھاری بیوی اٹھا ہی نہ لے تمھارے”
علینہ بھی گھور کر بولی
مجھے شادی ہی نہیں کرنی “
اسنے کہا اور ایکدم گاڑی روک دی
ایک نظر علینہ کی جانب دیکھا جس کی مسکراہٹ سمٹ گئ تھی
وہ باہر نکل گیا جبکہ علینہ کی نظر اسکی چوٹوں پر چلی گئ تھی
سہراب “
وہ جلدی سے باہر نکلی
کیسے لگیں ہیں تمھیں یہ چوٹیں آف تم نے پھر سے فائیٹ کی تھی”
وہ غصے سے بولی ۔
اوور پلیز کم اون آنا میں کوئ چھوٹا بچہ نہیں ہوں اور نہ ہی تم میری بیوی ہو ہم دوست ہیں بیہیو لائیک آ فرینڈ اور میں اپنی زندگی میں کچھ بھی کرتا ہوں میں کسی کو جواب دہ نہیں ہوں تو پلیز “
وہ پہلی بار اسطرح بولا تھا علینہ جہاں تھی وہیں کھڑی رہ گئ
جبکہ سہراب آگے چلا گیا ۔
اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں
ہاں وہ بہت کچھ اسے سنا دیتا تھا بہت کچھ کہہ دیتا تھا جو شاید نہیں کہنا چاہیے تھا مگر کبھی اسنے نہیں کہا تھا کہ تم مجھ سے دور رہو ۔
علینہ نے اپنے گلے میں پھنسے ہوئے آنسو اندر اتارے اور خاموشی سے اسکے پیچھے چلنے لگی جبکہ وہ آگے چل رہا تھا
وہ اپنا ڈریس چینج کرنے چلا گیا تھا علینہ کافی دیر ایسے ہی بیٹھی رہی مگر کچھ ہی دیر میں ایک لڑکے نے اسے بتایا کہ ڈائریکٹر اسے بلا رہے ہیں اور سہراب تو الرڈی شوٹ پر چلا گیا ہے
اسے حیرانگی ہوئ تھی وہ کیوں اتنا خفا ہو گیا تھا ۔
وہ واشروم میں چلی گئ
اور جو آنسو اسکی آنکھوں میں تھے وہ دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ کر رو دی اسے شاید امید نہیں تھی ۔
اچانک ہی اسکا سیل فون بجنے لگا ۔
رضا کی کال تھی اسنے اپنا فیس واش کیا اور بالوں کو کانوں کے پیچھے کر کے وہ ۔۔ رضا کی کال اٹھا کر باہر آئ اور اسنے ڈائریکٹر کے پاس جانے کا سوچا وہ جب آئ تو ۔
اسکی آنکھیں سرخ تھیں فون پر کسی سے بات کر رہی تھی ۔
سہراب نے اسے دور سے دیکھا ۔
وہ ڈائریکٹر سے جھک کر بات کرنے لگی سہراب شوٹ میں مصروف رہا اسکا شوٹ تھا اور اکیلے کا تھا تبھی وہ مختلف پوز بنا کر مصروف رہا تھا جب ڈیڈ گھنٹہ گزر گیا تو علینہ نے اسکے لیے کچھ ناشتے کے لیے بھجوا دیا تھا ورنہ وہ خود لے کر آتی تھی اسنے ناشتہ کر لیا علینہ اسکے پاس ا گئ
سہراب اسے نوٹ کر رہا تھا وہ خاموش ہے یہ شاید اسے اپنی فضولیات کا احساس ہو چکا تھا کہ وہ زیادہ بول گیا
تمھارے کپڑے ریڈی ہیں ناشتے کے بعد تم چینج کر لینا اور
یہ پکس ہے ایک بار تم بھی دیکھ لو دین فائنل کرتے ہیں”
تم مجھ سے ناراض ہو”
وہ کھانا چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا
نہیں” وہ ہلکا سا مسکرائی
میں کیوں ناراض ہو گی ۔ ” وہ بولی اور سہراب کچھ کہتا وہ پھر سے اٹھ کر چلی گئ ۔
کیونکہ اسے میکپ آرٹسٹ نے بھی بلا لیا تھا وہ جان بوجھ کر نہیں کر رہی تھی یہ سب مگر سہراب کو لگ رہا تھا وہ جان بوجھ کر کر رہی ہے وہ غصے سے ناشتہ چھوڑ چکا تھا اور یہ پہلی بار ہی تھا کہ اسنے ناشتہ نہیں کیا اسنے تصویریں فائنل کیں اور اٹھ کر دوسری طرف نکل گیا علینہ واپس آئ تو ناشتہ ویسے ہی رکھا تھا اسنے بھی کچھ نہیں کہا دونوں اس دن بلکل خاموشی اور ایک دوسرے سے ہوں ہی فاصلے پر گزار چکے تھے سہراب اپنا کام کر کے باہر نکل گیا تھا جبکہ آج سب اسے کہہ رہے تھے کہ سب ساتھ ڈنر کریں گے مگر اسنے کسی کو جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا وہ باہر نکلا علینہ کی گاڑی ویسے ہی چھوڑ دی اور ۔ ۔۔۔
عادل کو کال ملا لی
میری جیپ کہاں ہے”
وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
بیچ چکا ہوں “
عادل بولا سہراب نے مٹھیاں بھینچ لیں
کس کی اجازت سے بیچی ہے تم نے تم نے مجھ سے پوچھا تھا جو یہ حرکت کی ہے”
وہ بھڑکا ۔
جبکہ علینہ جو یہ سمجھہ رہی تھی وہ نکل گیا ہے وہ جلدی سے باہر بھاگتی آئ وہ کسی پر غصہ کر رہا تھا اسکے پاس رضا کی کال بھی ا گئ تھی ۔
اسنے کال اٹینڈ کی یہ مجبوری تھی وہ اٹینڈ نہ کرتی تو اور کیا کرتی پیچھے سہراب کو علینہ محسوس ہوئ وہ عادل کی کال بند کر چکا تھا ۔
علینہ نے بھی مڑ کر دیکھا
وہ چاہتی تھی رضا جلد کال بند کر دے ۔
سہراب کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر غصے سے وہ وہاں سے چلا گیا
علینہ جبکہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر وہ اسی کی گاڑی لے کر جا چکا تھا ۔
علینہ سر تھام گئ
وہ کسی کو ناراض کر کے الٹا ناراض ہو جانے والے انسان تھا اب وہ گھر کیسے جاتی اسنے پرواہ بھی نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
