52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

ڈاکٹر مجھے ایسی میڈیسن دیں جس سے مجھے دوبارہ یہ اٹیکس نہ پڑیں”
مرتضی جو بیڈ کرون سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا سامنے بیٹھے ڈاکٹر سے بولا ۔
چہرے پر شدید سنجیدگی اور سختی تھی جبکہ دل و دماغ پر زہر کی طرح اترا ہوا تھا سہراب علی خان ۔
میں آپکو ایکسٹرا ڈوز نہیں دے سکتا سر آپ جانتے ہیں ۔ ” ڈاکٹر بولا جبکہ مرتضی نے اسکیطرف دیکھا ۔
میں برداشت کر لوں گا سب کچھ مجھے ایسی ڈوز چاہیے کہ جس سے مجھ پر یہ اٹکیس دوبارہ کبھی نہ آئیں”
وہ بےساختہ چیخا
اوکے کام ڈاؤن میں دے دیتا ہوں مگر اس میڈیسن کے ساتھ ساتھ جلد ری کور ہونے کے لیے آپکو ہر قسم کی ٹنشن سے فری ہونا چاہیے شاید تب آپ اس پروبلم سے نجات حاصل کر سکتے ہیں”
ڈاکٹر نے مشورہ دیا تو اسنے سر ہلا دیا ۔
سہراب کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر بھلا وہ کیسے مطمئین ہو سکتا تھا اور اسکے ری ایکشن کیسے نارمل ہو سکتے تھے ۔
وہ پھر بھی سر ہلا چکا تھا ڈاکٹر نے میڈیسنز لکھ کر دے دیں تھیں اسنے مراد ماہین اور شیلہ تینوں کو باہر نکال دیا تھا وہ ڈاکٹر سے خود بات کرنا چاہتا تھا اگر سہراب کے سامنے اسے یہ دورہ پڑ گیا تو وہ پرفیکٹ نہ رہتا جبکہ بچپن سے ہی وہ پرفیکٹ تھا نہ کہ سہراب ۔
وہ سوچتا ہوا میڈیسن کو گھورنے لگا تھا ۔
اسنے خود کو باور کرایا کہ وہ بلکل نارمل ہے اور یہ بات اسے دوسروں پر بھی کمپوز کرنا تھا کہ وہ ایک نارمل انسان ہے ۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا اور اسکے بعد وہ اٹھ کر سب سے پہلے ڈیڈ کے روم میں ا گیا یہ ساڑھے سات کا وقت تھا سہراب گھر نہیں لوٹا تھا حالانکہ اسکا کوئ کام نہیں تھا پھر بھی سارے دن وہ گھر سے باہر ہوتا تھا ۔
آوارہ ” اسنے سوچا اور باپ کے پاس ا گیا ۔
مراد خان اسے دیکھ کر اچانک کھڑے ہو گئے
تم ٹھیک ہو میرے پاس کیوں ا گئے مجھے بلا لیا ہوتا ” وہ اسے بڑے پیار سے بولے تھے ۔
مرتضی نے انکے دونوں ہاتھ تھام لیے شیلہ بھی واشروم سے باہر ا گئیں تھیں اسے سامنے دیکھ بہت خوش ہوئیں تھیں کہ وہ جلد ری کور کر گیا تھا ۔
ڈیڈ آپکے لیے میں سب سے زیادہ اہم ہوں یہ نہیں”
وہ سوال کر رہا تھا ۔
افکورس مرتضی یو آر موسٹ پریشیس فور میں ” وہ اسکا گال چھوتے بولے مرتضی کی بریڈز نہیں تھیں ۔
جبکہ سہراب کی بریڈز تھیں جو اسکے چہرے پر مردانی وجاہت کو بھرپور حسن میں ڈھال دیتی تھیں ۔
وہ سر ہلا گیا ۔
پھر مجھے جواب چاہیے اس بات کا کہ سہراب کو یہاں رکھنے کا کیا مقصد ہے”
وہ پوچھ بیٹھا مراد نے گھیرہ سانس بھرا ۔
وجہ کچھ نہیں ہے مرتضی میں تمھیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اسے یہاں ہمارے ساتھ ہونا چاہیے تھا “
نہیں” وہ ایکدم انکے ہاتھ جھٹک کر دور ہوا۔
مرتضی انکی طرف دیکھنے لگا شیلہ بھی اسکی جانب بڑھی تو اسنے ہاتھ اٹھا کر روکا جیسے خود کو دوبارہ کمپوز کیا ہو۔
ڈیڈ میں جانتا ہوں آپکو بلکل اچانک بیٹھے بیٹھے سہراب کی محبت آپکے دل میں نہیں جاگ سکتی کیوں کہ میں جانتا ہوں میرے ماں باپ سٹیٹس معیار اور برابری کے لیے کتنے بھوکے ہیں ۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ جس شخص کا کوئ سٹیٹس نہ ہو جو کسی چیز کے بارے میں نہیں جانتا ہو آپ لوگ اس سے محبت کرنے بیٹھ جائیں ۔۔وجہ کیا ہے مجھے وجہ جاننی ہے”
وہ کہتے ہوئے زرا تلخی پر اتر آیا کہ لہجا بہت سخت ہو گیا ۔
یہ بات تو میں بھی جاننا چاہتی ہوں کہ آخر ہوا کیا ہے جو سہراب پر اتنی مہربانی ہو رہی ہے “
شیلہ نے بھی اپنے شوہر کی جانب دیکھا ۔
جبکہ مراد خان بیٹھ گئے ۔
بابا نے یہ گھر اپنا بینک بیلنس اور وہ کمرشل ایریا کا پلاٹ سہراب کے نام کر دیا ہے اور وکیل مجھے وہ فائلز دینے کے لیے تیار نہیں ہے نہ ہی وہ بابا کے اکاؤنٹس کی چابیاں دے رہا ہے جو کہ بابا آج سے سال پہلے ہی اسکے ہینڈ اور کر چکے ہیں سہراب کو یہاں رکھنے کی وجہ اور اسپر مہربانی کی وجہ یہ ہے کہ اس تک وکیل پہنچے تو میری نظروں کے سامنے ۔۔۔وکیل کو اسکا اڈریس نہیں پتہ تو جب بھی وہ آئے گا میرے سامنے آئے گا اور میں خود دیکھوں گا کہ وہ کون سی فائلز ہیں “
وہ بالآخر بتا چکے تھے کہ سہراب کے پیچھے کی کہانی کیا ہے مرتضی اور شیلہ کی آنکھیں ایکدم کھل گئی
کیا بکواس ہے یہ”
وہ چیخا تھا
ساری زندگی وہ بڈھا ہمارے سارے پر پلتا رہا مرتضی۔۔۔ مرتضی خان نے اس گھر کے ایک ایک فرد کو پالا اسکی بے کار سی بیماری اور ہر چیز پر پیسہ میرا لگا اور نمک حرام سب کچھ اسکے نام کر گیا “
وہ چلا رہا تھا جبکہ مراد خان نے مرتضی کی طرف دیکھا ۔
تم میرے باپ کے بارے میں بات کر رہو ہو مرتضی” وہ ترشی سے بولے
بس کریں بہت بہتر جانتا ہوں اس باپ کے پیسے کی لالچ تھی جو اسکی آخری سانسیں یہاں نکلوا دیں آپ نے ورنہ کس دن منہ لگایا تھا آپ نے اپنے ہی باپ کو بچپن سے دیکھتا ا رہا ہوں آپکا سلوک انکے ساتھ”
وہ ہاتھ اٹھا کر ناگواری سے بولا جیسے کہہ رہا ہو کہ مراد خان تم جو چیز ہو مرتضی بہتر جانتا ہے مراد خان اسے گھورتے رہ گئے جبکہ وہ سر تھام گیا
بھلا اس بات سے کیا فرق پڑتا تھا کہ اس گھر پر مرتضی ہاؤس کی تختی جمی تھی
اصل مالک تو سہراب علی خان بنا بیٹھا تھا اسکے اندر جیسے سب بھسم ہو گیا تھا ۔
اسنے اپنے بال ہی نوچ لیے شیلہ بے حد فکرمندی سے اسکے نزدیک آئ اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔
ریلکس ہو جاؤ مرتضی ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ۔
تمھارے ڈیڈ نے ٹھیک کیا یے جو اسے یہاں لے آئے اب جو ہو گا ہمارے سامنے ہو گا ہمارے پیٹھ پیچھے تو وکیل اس تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ آئے اور ہمیں ادھر سے نکال دے “
شیلہ نے اسے بات کا دوسرا رکھ دیکھایا ۔
جزبات سے چلنے کا وقت نہیں ہے اگر ہوتا تو
بات کچھ اور ہوتی اس وقت زبان دبا کر چلنا ہو گا کیونکہ ہمارا کام پھنسا ہوا ہے سہراب سے ان فائلز پر سگنیچر کرا کر ہمارا اس سے کوئ مقصد نہیں رہے گا ۔
تب تک اسے یہاں برداشت کرنا ہو گا “
مراد خان نے اسے واضح بتایا ۔
تو مرتضی ایک نظر بھڑکتی ہوئی انپر ڈال کر وہاں سے باہر چلا گیا ۔
اچھا نہیں کیا تمھارے باپ نے مراد میرا بچہ کتنی فکر میں ا گیا ہے “
شیلہ ناراضگی سے بولی
اب تم بولنا بند کرو مجھ پر ” مراد نے غصے سے کہا ۔
تمھارے ان مسلوں کی وجہ سے فاطمہ بھی یہاں نہیں ا سکتی کتنے ایشو بنا دیے ہیں تم نے سہراب کو یہاں لا کر
وہ کہتی خود بھی انکی سنے بنا ہی کمرے سے نکل گئیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہراب گھر لوٹا تو سخت بھوک لگ رہی تھی
سڑے دس کا وقت تھا وہ اندر آیا اور بنا ادھر ادھر دیکھے وہ کچن میں گھس گیا ۔
اسے سب کچھ خود بنانے کی عادت تھی ۔
تبھی وہ جیسے ہی اندر آیا تو وہاں صبح والی لڑکی کو دیکھ کر رک گیا
وہ لڑکی پیٹھ موڑے جلدی جلدی کام کر رہی تھی ۔
اسکے ہاتھ خوبصورت تھے بلکل سفید بنا داغ کے اور سہراب کو ان ہاتھوں کی نرمی دور سے ہی محسوس ہو رہی تھی ۔
آنا کو بھی اپنے پیچھے کسی وجود کی آہٹ محسوس ہوئ اسنے پلٹ کر دیکھا وہ ماہین میڈیم کے لیے کافی بنا رہی تھی تو ایک منٹ کے لیے سانس ہی سکھ گیا ۔
وہ اتنا بڑا تھا کہ وہ اسکے سامنے کھڑی بلکل چوہیا سی لگ رہی تھی
سہراب نے اسکے ہاتھ میں ریڈ کلر کا کافی کا مگ دیکھا ۔
اور بنا کسی ہچکچاہٹ کے اسنے وہ کپ اسکے ہاتھوں سے لیا اور ۔۔ چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ۔
ایک سیپ لے کر وہ منہ بنا گیا
اور کپ دور دھکیل دیا ۔
بلکل اچھی نہیں ہے ” وہ بدمزاہ سا ہوتا اسے گھورتا بولا
یہ یہ ماہین آپی کی تھی “
آنا پریشانی سے اس کپ کو جلدی سے اٹھا گئ ۔
اس میں اتنا ڈرنے کی کیا بات ہے ویسے بھی زہر جیسی تو بنا رکھی ہے دو گولیاں زہر کی ڈال دو کام ختم ” اسنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور شانے آچکا کر لاپرواہی سے بولا ۔
آنا نے نفی میں سر ہلایا اور وہ کافی کو دیکھنے لگی ابھی انھوں نے کہا تھا کہ وہ جلد کافی کا مگ اسے دے ۔
آنا نے وہ کافی کا مگ سینک میں الٹ دیا اور دوسری کافی بنانے لگی ۔
سہراب نے یہ منظر دیکھا تھا ۔
کیا فرق پڑتا تھا اس گھر کے ملازم بھی اسے کیا اہمیت دیتے تھے ۔
وہ ہلکا سا مسکرا دیا ۔
مجھے بھوک لگی ہے پاستہ بنا دو “
وہ بولا آنا نے پلٹ کر دیکھ ۔
جی ابھی بنا دیتی ہوں بس یہ ماہین میڈیم کو دے آؤں “
وہ عجلت میں کافی بناتی بولی ۔
سہراب نے کچھ دیر ویٹ کیا اور جب کافی تیار ہو گئ
اسنے دوبارہ اسکے ہاتھ سے کپ کھینچ لیا آنا رونے والی ہو چکی تھی ۔
تم میرے لیے پاستہ بناؤ میں یہ کافی پہنچا دیتا ہوں تمھاری ماہین آپی کے پاس “
وہ بولا ہلکی سی مسکراہٹ تھی چہرے پر
آنا حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
سچ” وہ پوچھ رہی تھی
افکورس ڈئیر پہلے میرا کام کرو ” وہ مزے سے وہاں سے مڑ گیا آنا بھی مطمئین ہو گئ ۔
جبکہ سہراب وہاں سے کافی کا مگ لے کر چلا گیا ۔
وہ کافی کا مگ لے کر اندازے کے ساتھ ماہین کے روم کے باہر آیا تو اندر سے آوازیں آ رہیں تھیں گویا وہ کسی سے فون پر بات کر رہی ہو ۔
اسنے دروازہ بجایا ۔
ہاں اندر ا جاؤ “
اسنے اجازت دی تو سہراب خان نے لات مار کر دروازہ کھول دیا
ماہین اسے اپنے دروازے پر کافی کا مگ ہاتھ میں دیکھ کر بس ایک لمہے کے لیے حیران ہوئ اور پھر جیسے گزشتہ کسی آنا کو تسکین ملی ہو وہ طنزیہ مسکرائے ۔
بچپن کا منظر جو آنکھوں میں دوبارہ آ سمایا تھا ۔
سہراب بھی مسکرایا ۔
تو مسٹر سہراب علی خان کیا تم نے اس گھر میں آتے ساتھ ہی اپنی پرانی پوزیشن سنبھال لی ہے “
وہ ہنسا اسکی ہنسی میں جو چھبن تھی سہراب کے کلیجے میں چبھی تھی ۔
مگر چہرے پر سے مسکراہٹ نہ ہٹی ۔
وہ کچھ نہیں بولا ۔
اچھی بات ہے ڈیڈ تمھیں تنخواہ ضرور دیں گے ایکچلی تمھارے پاس کوئ کام وام تو ہے نہیں تو یہ کام تم پر سوٹ کر رہا ہے “
وہ اسکے نزدیک آئ اور اس سے کافی کا کپ لینا چاہا کہ سہراب نے کافی کا مگ اسکے منہ پر الٹ دیا ۔
ارے ارے”
وہ ایسے ہو گیا ماہین کے چیخنے پر جیسے نہ جانے کیا ہو گیا ہو ۔
جبکہ گرم گرم کافی ماہین کے چہرے پر گری تھی وہ اتنی گرم نہیں تھی اسکا منہ جھلسا دیتی مگر اتنی ضرور تھی کہ اسکا چہرہ سرخ کر چکی تھی ۔
ماہین میڈیم کے سپنے اس کافی کی طرح بہہ گئے ۔ چہ چہ چہ ” وہ نفی میں سر ہلاتا دانت دیکھاتا بولا ۔
پھر ہسنے لگا ماہین حونک کھڑی تھی ۔
اس سے مراد ہوتا ہے شکل دھو کر رکھو بھلے کافی سے ہی سہی”
وہ ہنستا ہوا پلٹ گیا ۔
یو” اس سے پہلے ماہین گالی دیتی اسکے پلٹنے اور جن نظروں سے سہراب نے دیکھا تھا دیکھنے پر زبان دانتوں کے بیچ میں دبا لی اسکا چہرہ بھی تو جل رہا تھا ۔
وہ ہلکی سی مسکراہٹ اسپر اچھال کر چلا گیا جبکہ ماہین نے مٹھیاں بھینچ لیں اور وہ یوں ہی دندناتی ہوئی ڈیڈ کے روم میں پہنچ گئ تھی
سہراب نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا اسنے کچن میں جھانکا وہ لڑکی کام میں مصروف تھی وہ پاستہ بنا رہی تھی سہراب کو بہت بھوک لگی تھی ۔
وہ کچن میں ہی بیٹھ گیا ۔
جبکہ دوسری طرف سے اسے ماہین کے چلانے کی آوازیں آ رہیں تھیں وہ مزاہ لے رہا تھا ۔
ٹیبل پر مزے دار دھن بناتے ہوئے وہ جیسے کافی خوش دیکھائی دے رہا تھا ۔
وہ جانتا تھا مراد خان اسکے پاس آئیں گے ۔
اور ایسا ہی ہوا شیلہ مراد اور ماہین اسکے پاس تھے اسنے ان سب کیطرف دیکھا ۔
لبوں کی تراش میں مسکراہٹ دبی ہوئ تھی
یہ کیا کیا ہے بیٹا تم نے”
مراد خان کا لہجہ بچپن کیطرح نہیں تھا جو اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ۔
وہ اسکی طاقت سے واقف تھے ۔
کچھ نہیں ڈیڈ بس اسکو کافی چاہیے تھی میں نے دے دی بس اب زرا سٹائل میں فرق تھا اور ویسے بھی مجھے بھوک لگی تھی اور کافی میں ٹائم ویسٹ ہو رہا تھا “
وہ لاپرواہی سے بولا ۔
مگر میرے منہ پر پھینکنے کی ہمت کیسے ہوئی تمھاری”
ماہین چیخی
وہ تو ویسے ہی ہاتھ پھسل گیا ماہین” وہ آئ برو کو ظالم جنبش دیتا ان سب کو چیرا رہا تھا
ماہین مٹھیاں بھینچ گئ بچپن کیطرح اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ جو نہیں مار سکتی تھی مراد بھی چپ رہے ۔
جبکہ شیلہ بولتی ہوئ وہاں سے چلی گئ
عذاب لا کر بیٹھا دیا ہے ہم لوگوں پر مراد تم نے عذاب” وہ چلانے لگیں جبکہ وہ تینوں چلے گئے اسکا کیا بگاڑ سکتے تھے تبھی چلے گئے جبکہ سہراب ۔۔۔۔
ٹیبل کی جانب دیکھتے ہاتھ سے ہی ایک دھن بنا رہا تھا ۔
آنا یہ سب ہی دیکھ رہی تھی وہ کافی دیر ٹیبل کو بجاتا تھا رہا اور پھر جیسے ایکدم ہوش میں آیا اور سیدھی نگاہ آنا سے جا ملی
وہ سٹپٹا گئ ۔
ادھر ادھر دیکھنے لگی
پاستہ”
سپاٹ انداز میں سہراب نے سوال کیا ۔
ج۔۔۔جی بس تیار ہو گیا ہے”
وہ جلدی سے بول کر
پلیٹ میں نکال کر گرم گرم پاستہ اسکے سامنے رکھ گئ
سہراب نے وہ پاستہ اٹھایا اور اپنے روم میں جانے کا سوچا تو ایک بائیٹ فوک سے منہ میں لے گیا ۔۔۔۔۔
جیسے ہی اسنے بائیٹ لی ۔
ویسے ہی برا سا منہ بنا لیا ۔
کیا بکواس ہے یہ”
وہ زرا برہم سا ہوا ۔
اس قدر بکواس چیزیں بناتی ہو تم “
وہ باول پھینک گیا ۔
تبھی وہاں مرتضی آ گیا ۔
کیا بدتمیزی ہے یہ “
وہ سختی سے بولا
اگر تمھیں ہمارے گھر کے ملازموں سے کام نہیں لینا تو اپنے لیے کوئ نئ لے آؤ خبردار جو تم کسی پر چیخے “
مرتضی دروازے میں کھڑا تھا وہ ایسے بولا جیسے اس گھر پر اور ایک ایک فرد پر اسکا ہولڈ ہو اور وہ جو چاہے کر سکتا ہو ۔
سہراب ایڈیوں کے بل پلٹا ۔
بھوک اسے کافی لگی تھی تبھی وہ سب پر بھوکوں کیطرح جھپٹ رہا تھا ۔
مسٹر پرفیکٹ مجھے آرڈرز دینے کی ضرورت نہیں اپنے کام سے کام رکھو “
وہ انگلی اٹھا کر اسپر طنز کرتا وہاں سے نکل گیا
جبکہ آنا کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں مرتضی کو غصہ تو بہت آیا مگر واقعی ان سب کو اسے برداشت کرنا تھا کیونکہ کوئ دوسرا آپشن نہیں تھا
یہ میں کھا لیتا ہوں “
مرتضی نرمی سے بولا ۔
آنا نے کچھ نہیں کہا ۔
مجھے پلیٹ میں ڈال دو “
وہ بولا اور آنا نے اسکے حکم کے مطابق پلیٹ میں نکال کر کڑاہی میں سے اسے دے دیا
اور یہ باول پھینک دو “
اسنے سہراب کا جھوٹا پھینکنے کے لیے کہا آنا نے سر ہلا کر ویسا ہی کیا
مرتضی اسے کھڑا کام کرتے دیکھتا رہا ۔
مجھے پانی بھی دے دو “
اسنے جلدی سے سر جھکائے پانی بھی دے دیا ۔
مرتضی نہ جانے اسے دیکھتا ہوا کیا سوچ رہا تھا ۔
اچانک ہی نوشین ا گئ تو آنا کو تسلی ہوئ ۔
اور کچھ ہی دیر میں وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں
مرتضی کا دماغ حرکت میں آ چکا تھا
اسکے پاس زیادہ وقت نہیں تھا ایک ماہ کا وقت تھا اور اس ایک ماہ میں زیادہ نہیں تو کم از کم وہ پلاٹ تو اسے اپنے نام کروانا ہی تھا ۔
جس کے لیے وہ کھڑے کھڑے پلین ترتیب دے چکا تھا
مگر اسے یہ لڑکی خوبصورت لگی تھی ۔
پہلی بار کیونکہ کبھی وہ لڑکیوں سے متاثر نہیں ہوا تھا
لیکن وہ اسکے سٹینڈرڈ کی نہیں تھی تبھی وہ دماغ جھٹک کر اپنے روم میں چلا گیا ۔
اور پاستہ مزے دار تھا ۔
مگر سہراب کو کوئ پنگا ہی تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سارا دن بھوکا ہی رہا تھا اور یہ پہلی بار تھا ۔
وہ صبح جلدی اٹھ گیا تھا بھوک کی وجہ سے ہی اسنے بلیک جینز پر وائیٹ شرٹ پہنی ہوئ تھی ۔
وہ خود ہی کچن میں ا کر اپنے لیے کھانے کو کچھ بنا چکا تھا اسنے باہر ڈائنیگ پر اپنا ناشتہ رکھا اور کھانے لگا سچ تو یہ تھا اسے علینہ کی یاد ا رہی تھی شاید وہ اسکے ہاتھ کے علاؤہ کسی کا پاستہ پسند نہیں کرتا تھا مگر اس سے وہ بات نہیں کرنا چاہتا تھا کتنا وقت گزر چکا تھا اسنے اسے ایک کال یہ مسیج نہیں کیا تھا ۔
وہ یہ ہی سوچتا کھانا کھا رہا تھا ۔
کہ شیلہ جلدی سے باہر آئ ۔
سہراب نے آنکھ اٹھا کر بھی اپنی ماں کیطرف نہیں دیکھا سہراب کو اب محسوس ہوا کہ گھر میں ہلچل ہے برحال جو بھی ہو ۔
اسکا کام پر جانے کا ارادہ نہیں تھا جب تک علینہ خود چل کر اس تک نہ آتی ۔
وہ آرام سے کھاتا رہا ۔
جبکہ شیلہ ایک نظر اسے دیکھ کر اگنور کیے وہاں ملازموں سے کام کرا رہا تھی سہراب نے گلاس کو ہاتھ مارا اور پانی کا گلاس زمین پر جا گیرہ ۔
اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گئ ۔
شیلہ نے مڑ کر دیکھا وہ اب بھی سر جھکائے کھا رہا تھا
مگر لبوں کی تراش میں جان لیوا مسکراہٹ تھی
شیلہ نے ملازمہ سے کہہ کر سارا صاف کروایا فاطمہ درانی اور انکی فیملی نے آج آنا تھا وہ کوئ بدمزگی نہیں چاہتی تھی تبھی خاموشی سے اپنا کام کروا چکی تھی سہراب نے جوس کا گلاس پیا اور آدھا گلاس دوبارہ پھینک کر اٹھ گیا
تم ہمیشہ سے جاہل ہی تھے اور جاہل ہی رہو گے”
جاہل ماں کا بیٹا ہوں جاہل ہی رہو گا “
وہ ترکی باترکی بولا
شیٹ آپ میں جاہل نہیں ہوں “
وہ پھنکارہ
تو آپ میری ماں ہیں”
وہ دانت پر دانت چڑھائے سوال کر بیٹھا شیلہ ایکدم چپ ہو گئ ۔
میں تو نہیں مانتا کسی جاہل گوار عورت کا بیٹا ہوں میں آپ جیسی ہائ اپر سٹینڈرڈ کا نہیں ” وہ مزے سے بولا تھا ۔۔۔۔
سہراب اپنے کام سے کام رکھو “
مام آپکے کس کام میں گھسا ہوں میں”
وہ معصومیت سے سوال کرنے لگا
تم کچھ کرتے کیوں نہیں ہو چلے جاؤ اس گھر سے “
وہ چیڑ گئ ۔
مجھ سے بات کر کے تو دیکھو
تم نے اپنا سر نہ پھاڑ لیا تو پھر کہنا”
ایک آنکھ دبا کر وہ ایک اور پلیٹ پھینک کر چلا گیا جبکہ شیلہ کا واقعی بس نہیں چلا وہ سر پھاڑ لے وہ چلائ تھی
مراد “
سہراب کا قہقہہ ابھرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continued…