52.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

تو آپکا ایم پرفیکٹ بیٹا اپنے قدموں پر چل کر ا نہیں رہا تھا تو آپ اسے اٹھا کر لے آئے”
مرتضی نے جلد ہی سنبھال لیا تھا خود کو
اسکے نشان زدہ چہرے کی جانب دیکھ کر کہتے تسکین سی ملی تھی کہ مرتضی کی دی گئ چوٹ کا نشان آج تک اسکے چہرے پر موجود ہے مگر حقیقت تو یہ تھی کہ وہ خود بھی میر سہراب علی خان کے اثر سے متاثر تھا ۔
اور اگر یہ بات سب پر واضح کر دیتا تو اسکی کیا عزت رہ جاتی ۔
میں فلحال کچھ نہیں سننا چاہتا ڈیڈ کی طبعیت نہیں ٹھیک تبھی مجھے یہ سب کرنا پڑا ہے باپ تو میرا ہے سوچوں گا بھی میں ہی اس معاملے میں “
وہ مرتضی سے بولے
مرتضی نے مزید کچھ نہیں کہا ۔
البتہ سہراب پر سب کی ایسے نظریں تھیں جیسے بس اسکے چہرے اسکے مظبوط چھ فٹ سے نکلتے قد اسکے شاندار نین نقش اسکے مسلز اسکے پیکس بس نہ چاہتے ہوئے بھی سب دانتوں تلے زبان دبائے کھڑے تھے
وہ سب کچھ لمہے دیکھتے رہے ۔
پھر مرتضی نے ہی وہاں سے جانے میں پہل کی ۔
عجوبہ لگ رہا ہے ہمیشہ کی طرح”
اسنے سر جھٹک کر کہا اور جانے لگا
جبکہ مراد کو پرواہ نہیں تھی نہ جانے دل میں احساس جاگا تھا یہ کچھ اور وہ نہیں جانتا تھا مگر سہراب کی باتوں نے اسے اندر سے عجیب کیفیت میں مبتلہ کر دیا تھا ۔
اور وہ اپنی کیفیت سے خود بھی انجام دوڑ کر جب اسکے گھر کو گئے تو وہ اکیلا تھا اسکے سر کے نیچے تکیہ لگا تھا اسکے ارد گرد تکیے رکھے تھے جیسے کسی نے چھوٹے بچے کی پرواہ کی ہو اور وہ سو رہا تھا
وہ اسکے نزدیک گئے
اور بس آدمیوں کی مدد سے اپنے بیٹے کو اٹھا کر لے آئے وہ جانتے تھے وہ کیا کر رہے ہیں اور یہ سب کرنے کے پیچھے بہت سی وجوہات تھی جس کا ذکر ابھی کسی سے کیا نہیں جا سکتا تھا
وہ پہلے باپ تھے جو جانتے تھے انکا بیٹا اپنے قدموں سے
انکے گھر کی دہلیز کبھی پار نہیں کرے گا تبھی کڈنیپ کیا تھا ۔
اپنی حرکت پر خود ہی ہنس پڑے ۔
تم اتنا خوش کیوں ہو اسکو لا کر “
اسکی بیوی نے غور سے مراد کو دیکھا ۔
بات خوشی کی نہیں ہے بات یہ ہے کہ میرے باپ کی اگر آخری خواہش سہراب خان تھا تو میں نے پوری کر دی”
لیکن ایسا لگ نہیں رہا کہ تم صرف یہ اپنے باپ کے لیے کر رہے ہو ۔
تمھارا انداز بتا رہے ہے تم اپنے چھوٹے بیٹے کے ملنے پر ایسے خوش ہو رہے ہو جیسے وہ بچھڑا تھا تم سے “
تم سگی ماں ہو اسکی شہلا ” مراد نے زرا اسے احساس دلانا چاہا
بس کریں یہ باتیں مجھے نہ پڑھائیں یہ وہ ہی لڑکا ہے جو اتنی سی عمر سے آپکو بی پی کا مرض دے چکا تھا اور میں جانتی ہوں آپ اتنے اچھے بلکل نہیں ہیں کوئ نہ کوئ بات ضرور ہے جسے آپ چھپا رہے ہیں” وہ جانتی تھی مراد کو ایسے کیسے منہ اٹھا کر آج بیٹے پر پیار ا گیا ضرور پیچھے کوئ بڑی گیم تھی
انھوں نے زرا کڑوے تیوروں میں کہا ۔
میں تمھیں صرف یاد دلا رہا ہوں تم اسکی سگی ماں ہو اور ٹھیک ہے میرا اس سے اختلاف رہا ہے مگر اب وہ ویسا نہیں رہا “
مراد بلاوجہ اسے ڈیفینڈر کرنا چاہ رہے تھے
اوہ واؤ تو کیا کیا اسنے ان سات سالوں میں کیا مرتضی سے آگے نکل گیا کیا وہ میرے بیٹے کی طرح جیت چکا ہے کیا وہ ہزاروں دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے اس کٹے ہوئے چہرے کے ساتھ۔۔۔ کرتا کیا ہے یہ ۔۔۔۔کیا یہ آج ہماری سوسائٹی میں موو کرنے قابل ہے کیا اسے انگلش بولنی آتی ہے کیا یہ دوسروں کی نظروں میں نظریں ڈال کر بات بھی کر سکتا ہے مراد بھولو مت میں نے ہمیشہ پرفیکٹ چیزوں کو پسند کیا ہے اور تمھارا یہ بیٹا پرفیکٹ نہیں ہے تو میرے بیٹے پر سہراب کو فوقیت کبھی مت دینا ابھی کچھ دیر پہلے جب درانی کی فیملی آئ تب تم سہراب کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں تھے جانتے بھی ہو کتنا حساس ہے وہ کتنا فیل کرتا ہے ہر چیز کو ۔ پھر بھی تمھاری کمی کو اگنور کر کے خود کو کمپوز کر کے بیٹھا رہا اور انکے جاتے ہی تمھارے روم میں چلا گیا ۔
وہ تمھارا بہترین بیٹا ہے مراد تم جانتے ہو سب جانتے ہو اسے تنہا چھوڑنا ہم دونوں کا نہیں بنتا وہ اپنے کنفیڈینس سے گیر جائے یہ میں نہیں ہونے دوں گی ۔ “
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آج پہلی بار بیٹے کے لیے چیخ رہی تھی
ماہین نے بھی ماں کی حامی میں حامی بھری ۔
میں سب جانتا ہوں اور بہت اچھے سے جانتا ہوں مجھے کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے تم لوگوں کو “
وہ بولے اور اپنے گھر کو چاروں اطراف میں دیکھا
سہراب کا روم تو سٹور روم بنا دیا تھا اب کون سے روم میں رہے گا وہ “
وہ سوچ رہے تھے
یہ رہنے آیا ہے ڈیڈ”
ماہین نے حیرانگی سے باپ کو دیکھا وہ سب ایسے ری ایکشن دے رہے تھے جیسے سہراب کوئ اجنبی ہو اور انکے بیچ رہنے ا گیا ہو ۔
ماہین بیٹے سہراب ہمارے ساتھ ہی رہے گا ہمیشہ ۔ ” وہ بات پر زور دے کر بولے
ماہین نے ماں کو دیکھا اور مراد نے ملازموں سے ۔
سیکینڈ فلور پر دو بڑے کمرے تھے انکو اسکے حساب سے راتوں رات ترتیب دینے کی کوشش کی وہاں فرنیچر نہیں تھا اور دوسرا سامان بھی
فرنیچر انھوں نے فون پر آرڈر دے کر منگوایا اور سب کرایا تھا سیٹ
اور صبح تک وہ اسی تگ و دو میں لگے رہے ۔
ماہین اور مرتضی تو کمرے سے ہی نہیں نکلے تھے البتہ شہلا خون کے گھونٹ پی رہی تھی صرف اس لیے کہ اسکا بڑا بیٹا یہ سب چیزیں محسوس نہ کر لے ۔
مراد کو فلحال کسی کی پرواہ نہیں تھی وہ جلد از جلد اس کے اٹھنے سے پہلے سب سیٹ کرنا چاہتے تھے
اور جب صبح کی کرنوں کے ساتھ انھیں لگا کہ سب سیٹ ہو گیا ہے تو انھوں نے انھیں ملازموں کی مدد سے سہراب کو اٹھوا کر اس کمرے تک پہنچایا
وہ اتنی گھیری نیند کبھی سویا نہیں تھا یہ فرا کا کام تھا جو اسے ڈرگز دے چکی تھی جس کی وجہ سے سہراب نیند میں نہیں نیم بےہوشی میں تھا کہ اسکے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے اسے پتہ نہیں تھا
اسے بستر پر لیٹا دیا گیا تھا
مراد نے اسکے کمرے میں جم کا سامان رکھوایا تھا نہ جانے کیوں انھیں اندازا ہو رہا تھا اسکا شوق ہو گا
آج اسکا کمرہ سجاتے انھیں یاد آیا کہ اسے باسکٹ بال کھیلنا کتنا پسند تھا نہ جانے آج تک کھیلتا ہے یہ نہیں انھوں نے تقریبا چیزیں اس کمرے میں اسکی پسند کی رکھوائ اور کمرہ ایکدم شاندار دیکھ رہا تھا
اسکی شخصیت کے عین مطابق ۔
وہ مطمئین سے ہوتے تھک کر اب کمرے میں ا گئے
شہلا ساری رات نہیں سوئی تھی
کیا کرنا چاہ رہے ہیں آپ آپکی یہ حرکات بتا رہیں ہیں کہ اپ سہراب کو لا کر بہت خوش ہیں”
ہاں شہلا میں خوش ہوں کیونکہ نہ میں سوتیلا باپ ہوں اسکا اور نہ تم سوتیلی ماں ہماری اولاد تھی جو دنیا میں کہیں پڑی تھی ۔ اگر میں اسے گھر لے آیا تو تمھیں کس بات کی تکلیف ہے “
ہے مجھے تکلیف”
وہ چیخی
میرا بڑا بیٹا ہماری پہلی پریورٹی ہے “
اسے ساری زندگی پیار ملا ہے اور میں سب جانتا ہوں اسکے بارے میں اسکے پیار میں کوئ کمی نہیں آئے گی
مگر ایک اور بھی بیٹا ہے ہمارا اور اسکو دنیا میں لانے کا سبب ہم دونوں ہی ہیں”
وہ بولے
یہ سب بکواس باتیں سات سالوں میں ایک بار بھی نہیں آئیں یاد اور آج اچانک”
ا گئ کمال ہے اچانک سے مراد خان کو بیٹھے بیٹھے بیٹے کی یاد آتا گئ کچھ عجیب نہیں لگ رہا آپکو “
وہ غصے سے بولی
اب خاموشی سے سونے دو مجھے میں تھک گیا ہوں “
انھوں نے کہا اور کروٹ لے کر سو گئے جبکہ شہلا کی رات بھی آنکھوں میں کٹی تھی اور اب بھی نیند کوسوں دور تھی فکر تھی تو مرتضی کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موبائل فون کی تیز آواز پر اسکی آنکھ کھلی مگر مکمل بیدار نہیں ہو سکا تھا وہ
اسنے اندازے سے پینٹ کی پوکٹس میں ہاتھ ڈالا اور چیختے چلاتے موبائل کو جیب سے نکال کر کان سے لگا لیا
ہیلو ” بھاری آواز سپیکر پر ابھری علینہ دل ہی تھام سکتی تھی
کہاں ہو ” وہ سوال کرنے لگی ۔
تمھارے دل میں ہی ہوں دیکھ لو غور سے مگر اب فون مت کرنا “
کہہ کر اسنے موبائل پھینکا اور کروٹ لے کر سو گیا ۔
وہ بھول گیا تھا وہ سونے کا عادی نہیں مگر اتنی سکون بھری نیند آج سے پہلے نہیں آئ تھی ۔
وہ ہر پل کی بے چینی کا شکار تھا ۔
علینہ کا فون پھر سے بجنے لگا
اسنے پھر سے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا ۔
تم اپنے فلیٹ میں نہیں ہو میں وہیں کھڑی ہوں “
اسنے بتایا
تم اندھی ہو ” وہ آنکھیں بند کیے بول رہا تھا
سہراب فلحال میری آنکھیں بلکل ٹھیک کام کر رہی ہیں مجھے فکر ہو رہی ہے یار پلیز بتاؤ مجھے کہاں ہو تم”
وہ فکر مندی سے بولی
یار کیا ڈرامہ ہے”
وہ چیڑ کر اٹھ بیٹھا ۔
اور آنکھیں کھولیں تو وہ واقعی اپنے فلیٹ میں نہیں تھا صاف ستھرا کمرہ اور مختلف چیزوں سے بھرا۔۔۔۔
اٹھتے ساتھ ہی پیشانی پر بل پڑے تھے اسکے۔۔۔
کیا ہوا”
علینہ بولی
کہیں اپنے گھر تو اٹھا کر مجھے نہیں لے آئ اپنے شوہر کو باہر دھکیل کر مجھے سلانا ہے کیا “
بکواس مت کرو ” علینہ خفیف سی ہوئ
تو میں کہاں ہوں ” وہ عجیب بھولے پن سے بولا
ہائے میرے شیر کی یاداشت چلی گئ”
علینہ نے طنز کیا ۔
یہ تم کیوں اتنا بگڑ رہی ہو مجھ پر” وہ برا مناتا اپنی جگہ سے اٹھا ۔
جب تم مجھے نہیں دیکھو گے تو مجھے غصہ ہی آئے گا “
وہ بولی
میری شیرنی مجھے چیک تو کرنے دو کہاں رات و رات شفٹ ہوا ہے میر سہراب “
وہ ہنسنے لگا
علینہ مسکرا اٹھی ۔
وہ اکثر بےگانگی سے یہ کہہ جاتا تھا یہ جانے بنا کہ دوسرے پر کیا اثر ہوتا ہے
وہ اٹھا اور اردگرد دیکھنے لگا
اچانک اسنے پردے ہٹائے اور سیدھا نظر کھڑکی سے لون میں لگے جھولے پر گئ تھی ۔
وہ جھٹکا سا کھا گیا
وہ بھرپور شاندار مرد تھا طاقت تھی اس میں شاید خدا کیطرف سے دی گئ ۔
بہت چھوٹی عمر میں زمانے کی گردشِ میں نکل گیا تھا
تو مددگار اسکا رب ہی تھا ۔
لیکن اس وقت وہ زلزلے کی زد میں تھا وہ یہاں آیا تھا کیسے “
اسکا دماغ خراب ہونے لگا تھا ۔
اور ایسی شدت محسوس ہو رہی تھی اسے خود میں جو آج سے پہلے کبھی نہیں کی تھی
سہراب کیا ہوا ہے”
علینہ اسکی خاموشی کو محسوس کر رہی تھی
آج میرا باپ زندہ نہیں بچے گا مجھ سے اگر میں قتل کر دو تو بچا لینا “
وہ پاگل سا ہونے لگا بھڑک کر کہتا فون کان سے ہٹا گیا
سہراب”
اسنے فون بند کیا جھٹکے سے دروازہ کھولا اور تن فن کرتا وہ باہر نکل آیا اس گھر کو سات سال بعد دیکھ کر بھی اسکے دل و دماغ میں کوئ خیال نہیں آیا تھا
یہ وقت دوپہر دو بجے کا تھا
دادا کی طبعیت بے حد خراب تھی تبھی مرتضی بھی گھر پر تھا
ڈاکٹرز کھڑے تھے مراد نے تو ویسے بھی جانا نہیں تھا ۔
سہراب کی وجہ سے ۔
دوسری طرف علینہ کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے وہ جلدی سے اسکے فلیٹ کو لاک کرتی نکلی تھی اسے نہیں پتہ تھا کہ سہراب کے پیرنٹس کہاں رہتے ہیں اور وہ شخص اسے کبھی بتاتا بھی نہ
تبھی وہ سہراب کی لوکیشن کو ٹریس کر کے جلد از جلد وہاں پہنچنا چاہتی تھی ۔
نہ جانے فکر نے اسے سب بھلا دیا تھا کہ انکا کتنا اہم کام تھا آج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسنے لات مار کر دروازہ کھولا تھا جہاں سے اسے گھر والوں کی آوازیں آ رہیں تھیں
اور اسنے ادھر ادھر دیکھے بنا ہی سیدھا مراد خان تک پہنچنے اور انکا گریبان جکڑ لینے میں لمہہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
چاہ کیا رہے ہیں آپ مراد خان”
وہ دھاڑا ۔
اسکی دھاڑ کی گونج جیسے پورے گھر کی در و دیواروں کو ہلا گئ تھی ۔
وہ خون آشام نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا
انھوں نے اس کے بازو گریبان پر سے نہیں ہٹائے سب اسے دیکھ رہے تھے آنکھیں بند کر کے جتنا پراثر لگتا تھا اس سے کہیں گنا زیادہ آنکھیں کھول کر وہ مراد خان پر چھایا ہوا لگ رہا تھا
س۔۔۔۔سہراب سہراب میرا بیٹا آ گیا “
دادا کی کانپتی آواز پر مراد خان سے دھیان ہٹ کر اپنے دادا پر گیا تو وہ چند لمہے یوں ہی کھڑا انھیں دیکھتا رہا اور پھر ایکدم ہنس دیا ۔
اسنے مراد خان کی جانب دیکھا گھر میں اور کسی کو دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی ۔
کیا ڈرامہ ہے یہ” وہ طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگا
جیسے اسے کچھ ہضم نہ ہو رہا ہو اور ہضم ہوتا بھی کیسے ۔۔۔۔
اچانک سات سالوں میں ایک صبح وہ اٹھا تو اپنوں کے بیچ میں تھا یہ کون سا کھیل تھا
سہراب “
دادا نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا
جسٹ انف ۔۔۔ انف دس نان سینس ” وہ نفی میں سر ہلاتا بھڑک اٹھا
سہراب سہراب رک جاؤ اب تم کہیں نہیں جاؤں گے”
کون ہوتے ہیں آپ مجھے روکنے والے”
وہ انکی جانب بڑھتا کہ اچانک ہی علینہ بھاگتی ہوئ اندر داخل ہوئ اور اسکے مظبوط جسم کو اپنے بازؤں سے روک لیا جبکہ وہ بھرا ہوا انسان کہاں روکنے والا تھا ۔
سہراب ” وہ بولی تو سہراب پیچھے ہٹ گیا
ہائے ہنی ” اسنے علینہ کے گال پر جھک کر اپنی بےشرمی کا ثبوت دیا تھا اور یہ جان بوجھ کر ہی تھا سب کو دیکھانے کے لیے علینہ سٹپٹا اٹھی جبکہ وہ سب ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کچھ انوکھی چیز ا گئ ہو ۔
اور سب اسے بس دانتوں تلے انگلیاں دبا کر دیکھ رہے ہوں ۔
چلو ” اسنے علینہ کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکلنا چاہ مگر مراد خان آگے ا گئے ۔
مت جاؤ کہیں نہ جاؤ اب ” وہ پریشانی سے بولے تھے سہراب کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔۔
اسکا سانس پھولنے لگا اسنے مڑ کر دیکھا ۔
مجھ سے مزید آپکا یہ ڈرامہ برداشت نہیں ہو رہا اور اگر آپ نے مجھے مزید الو بنانے کی کوشش کی تو واقعی مراد خان سارے لحاظ بھولا دوں گا ۔
تو نکلے نہ تم وہی جاہل ۔۔ جسے باپ سے بات کرنے کی بھی تمیز نہ ہو ” مرتضی بولا سہراب کے تو تلوں پر آگ سی جل اٹھی وہ مڑا اور
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا کہ اندر سے چیخ و پکار کی آوازوں نے سب کی توجہ کو دوسری جانب مبذول کر دیا مرتضی ماہین اور انکی ماں اندر بھاگی مراد خان نے سہراب کے ہاتھ تھام لیے وہ جانتے تھے انکے والد کی جان کنی میں آسانی ہوئ تھی
بس کیونکہ مر تو وہ بہت عرصے سے گئے تھے ۔
کہیں مت جانا اب سہراب یہ تمھارا گھر ہے پیچھلے سات سالوں کا حساب تمھیں دے نہیں سکتا مگر ۔ “
وہ چپ ہو گئے سر جھکا گئے جبکہ سہراب نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑا لیا اسکا دم سا گھٹنے لگا ان منافق لوگوں کے بیچ ۔۔۔۔۔
جبکہ سہراب کی برداشت سے سب باہر تھا اندر سے رونے پیٹنے کی آوازیں ا رہیں تھیں
مراد خان وہاں سے اندر چلے گئے
سہراب نے علینہ کی طرف دیکھا ۔
تم یہاں کیوں آئ ہو ۔”
میری بات “
اگر تم ان لوگوں کے حق میں کچھ بولی تو اتنے تھپڑ ماروں گا کہ منہ سوجھ جائے گا تمھارا ” وہ دھاڑا ۔
علینہ نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔
کیسے چیخنے لگے ہو سہراب تھوڑا ہوش کرو اور اپنے دماغ کا استعمال “
بکواس بند کرو “
وہ غصے سے بولا
علینہ نے سانس بھرا ۔
ٹھیک ہے تو کیا چاہتے ہو تم” وہ اسکی چاہت جاننا چاہتی تھی
یہاں سے دور جانا یہ جگہ میرے لیے نہیں ہے قید خانہ ہے یہ اور ایک بار یہ لوگ پھر سے مجھے قید کرنا چاہتے ہیں”
مارے غصے کے اس نے آس پاس پڑے گملے کے لات مار دی
سہراب” اسنے اسکے دونوں بازو تھام لیے ۔
سہراب اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
جو تم چاہتے ہو وہ ہی ہو گا فلحال غصہ مت کرو ابھی تو اندر کسی کی ڈیتھ ہو گئ ہے تم تھوڑی دیر ریلکس ہو جاؤ “
بلکل نہیں” وہ اکڑ کر اپنے بازو چھڑا گیا ۔
ابھی مزید علینہ کچھ بولتی کہ اسکا سیل فون بجنے لگا ۔
سہراب نے جہاں غصے سے دیکھا تھا اسے وہیں علینہ نے گھیرہ سانس بھرا اور اپنا موبائل دیکھا رضا کی کال تھی ۔
اب میرے سامنے اسکی کال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے اور۔۔۔ اور تم آتی ہی کیوں ہو جب اپنے شوہر سے چیپکنا ہوتا ہے تم نے”
وہ بگڑ رہا تھا اسپر ۔
علینہ سر تھام گئ وہ اسکے قابو کی بھی چیز نہیں تھا وہ ایسے ہی سمجھتی تھی کہ وہ اسے قابو کر سکتی ہے
شوہر ہے میرا ۔۔۔۔
جان سے مار ہی نہ دوں اس تمھارے شوہر کو ۔۔۔۔۔
پھر پیٹتی رہنا ڈھنڈورا شوہر ہے میرا “
گھور کر دیکھتا وہ اپنے آپ ہی اندر چلا گیا
علینہ اپنی مسکراہٹ روکنے لگی ابھی کیسے اس سے لڑ رہا تھا اس وجہ سے کہ وہ یہاں نہیں رہے گا اور اب خود ہی اندر جا چکا تھا
اسنے کال پیک کر لی رضا اسے انفارم کر رہا تھا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے انگلینڈ جا رہا ہے وہ شرمندہ سی رہ گئ چار مہینے ہوئے تھے شادی کو اور انکے بیچ شادی لگتی ہی نہیں تھی ۔
علینہ نے اسے گڈ بائے کہا اور خود اندر جاتی کہ رک گئ ۔
شاید اسے اکیلا رہنا چاہیے تھا مگر شاید اسے بھوک لگی ہو “
اسکے دماغ نے جیسے گھنٹی بجائ اور وہ پھر بنا کچھ دیکھے اسکے لئے سامان آرڈر کر چکی تھی تھوڑی دیر گاڑی میں بیٹھ کر اسنے ویٹ کیا اور جب ناشتہ ا گیا تو وہ اندر لے آئ ۔
سہراب کا کمرہ ایک ملازمہ سے پوچھ لیا تھا وہ اندر آئ تو وہ کمرہ کافی کشادہ اور بہت خوبصورت تھا وہ بیڈ پر الٹا لیٹا ہوا تھا اسکا وجود جیسے پورے بستر پر پھیلا تھا
اب نخرے کم دیکھاو اٹھو ناشتہ کرو تمھیں بھوک لگی ہو گی”
وہ بولی
نہیں کھانا مجھے کچھ جاؤ اپنے شوہر کے پاس “
وہ بولا
اب اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے”
علینہ عاجز سی ا گئ ۔
ابھی تم نے شوٹ کے لیے بھی جانا ہے پلیز پلیز سہراب ناشتہ کر لو تا کہ تم انسانوں طرح بیہیو کرو “
دوست بن کر دشمنوں والا رویہ رکھتی ہو میں کھاتا نہ یہ سب ۔۔۔ بس تمھاری شکل ہے جس کی وجہ سے کھا رہا ہوں”
وہ احسان کرتا ٹرے اپنی جانب کھینچ گیا
میں مشکور ہوں سرکار آپکی”
علینہ نے ہاتھ جوڑے تو وہ اپنی ہنسی روک گیا ۔
علینہ ریلکس ہو گئ
ایک بات پوچھوں “
بکواس کے علاؤہ کچھ بھی” سہراب بولا تو علینہ نفی میں سر ہلاتی پوچھ ہی بیٹھی
یہ تمھارے پیرنٹس ہیں”
اسے یقین نہیں آیا تھا شاید تبھی پوچھ رہی تھی
دنیا میں کوئ بھی درختوں پر نہیں اگتا ماں باپ ہی لے کر آتے ہیں
اور بدقسمتی سے میں بھی انکی نفرت کی انمول نشانی ہوں “
وہ سر جھٹک کر اپنی مرضی کا جواب دے رہا تھا
نفرت کی” علینہ کو کچھ سمجھہ نہیں آیا
آنا سر مت کھاؤ “
وہ بولا اور کھانے پر فوکس کرنے لگا ۔
بہت عرصے بعد اسطرح اسنے اسے پکارہ تھا وہ خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھتی رہ گئ یونیورسٹی میں وہ اسے آنا کہتا تھا اور جب علینہ نے وجہ جانی تو اسنے بس اتنا ہی کہا کہ اسے یہ نام پسند ہے
ہاں وہ روز بے ایمان ہو جاتی تھی اسپر اور اسے دور دور تک بھی خبر نہیں تھی ۔
دل تھا کہ تھکتا ہی نہیں تھا اسے دیکھتے دیکھتے ۔
وہ اپنی چاہت شاید خود میں بھی شمار نہیں کر پاتی تھی کہ وہ کتنی محبت کرتی تھی اس سے ۔
تم ریڈی ہو جاؤ میں گاڑی میں ویٹ کروں گی تمھارا “
وہ جلدی سے بولی ۔
سہراب نے سر ہلایا ۔
وہ “
اس سے پہلے وہ کچھ بولتا
اوکے بابا تمھیں پاستہ خود بنا کر کھلاؤ گی اب چلو “
وہ تنگ آتی اسکی بات کو پورا کر گئ ۔
سہراب نے ایک آنکھ دبائ اور مسکرا کر فریش ہونے چلا گیا ۔
یہ تو اسکی نیت خراب تھی
یہ اسکا اتنا بڑا وجود تھا کہ اسے ہر پل اسکی پسند کی ڈشز چاہیے تھیں اس وجود کی انرجی پوری کرنے کے لیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
To be continued