Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

نور آج تو کھیر کھانے کا مزہ ہی آ جائے گا. بدر نامی مخلوق گھر پر موجود نہیں ہے. نور نے خود کلامی کرتے کھیر کی پلیٹ اٹھائی مگر مڑتے ہی ایک دلخراش چیخ نے اس کا استقبال کیا.
نور کی بچی _ ڈرا کر رکھ دیا ہے. تم بند لائٹ میں یہاں کیا کر رہی تھی. بدر نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارتے خود کو نارمل کیا. بچی کہاں ہے سب ضائع ہو گئی ہے ……. ؟؟ نور نے زمین پر گری پلیٹ کو گھورتے ہوئے افسوس سے کہا نور بی بی مجھے اندھیرے میں نظر نہیں آتا. تم صرف نام کی “نور” ہو مگر اپنی طرف سے سولر بنی پھرتی ہو کہ لائٹ نہ بھی ہو تو روشنی ہو گی. بدر نے سر جھٹکتے فریج کا ڈور کھولا اگر تمہارا نام جگنو رکھ دیا جائے تو کیا تم روشنی دو گے نہیں نااااا تو پھر نور رکھنے سے روشنی کیسے ہو سکتی ہے. نور نے طنز کا جواب طنز سے دیتے بدر کی پشت کو گھورا. تم سے بحث کرنے والا گدھا ہے. بدر نے ڈرنک نکالتے جواب دیا. کیا اس بار بجٹ گدھا پیش کرے گا مگر کیوں ….؟؟ نور نے آنکھیں سٹپٹاتے پوچھا یہ تمہیں دورے صرف میرے سامنے ہی کیوں پڑتے ہیں….؟؟ بدر نے شلف ساتھ ٹیک لگاتے بوتل منہ کو لگائی دورے نور نے پریشانی سے دہرایا
ہاں دورے!!! غلط الفاظ سننے اور سمجھنے کے _ بدر نے منہ صاف کرتے بوتل شلف پر رکھی. مجھے کوئی دورے نہیں پڑتے، سمجھے …..؟ ؟ نور نے تلخی سے جواب دیا. اچھا اگر دورے نہیں پڑتے تو تمہیں مجھ سے شرم آتی ہو گی تبھی تو تمہارے الفاظ میرے سامنے الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں. بدر نے نور کو سر سے پاؤں تک دیکھتے آبرو اچکایا. پہلی بات تو یہ کہ شرم کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکل ویسے ہی جیسے تمہارا غیرت سے کچھ لینا دینا نہیں. سارا دن چچا جان سے ذلیل ہوتے ہو مگر مجال ہے جو محسوس کرو. دوسرا تم نے یہ کون سی ڈرنک پی ہے جو یوں بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو …… ؟؟ نور نے شلف پر پڑی ڈرنک کی بوتل اٹھائی. ڈرنک
اب اسے بدر کی بدقسمتی ہی کہیے کہ اندر آتے یوسف صاحب نے یہ الفاظ سن لیے.
دیکھ لیا اپنے لاڈلے کے کرتوت ……. ؟؟ یہ اس رازی ساتھ رہنے کا نتیجہ ہے. ورنہ اس خاندان میں آج تک کسی نے سگریٹ نہیں پیا. یوسف صاحب نے پیچھے آتی فائزہ بیگم سے کہا
افففف آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے. بدر نے ماتھے پر ہاتھ مارے ڈرنک کی بوتل پکڑی.
میرے خیال سے چچا جان کو بھی تم سے شرم آتی ہے جو ڈرنک کا مطلب نہیں سمجھ سکے. نور نے قدرے سرگوشی نما آواز میں کہتے باہر کا رخ کیا.
نور سچ سچ بتاؤ بدر کیا کر رہا تھا …..؟؟ فائزہ بیگم نے فوراً کچن سے باہر آتی نور سے پوچھا
پتہ نہیں چچی میں تو ابھی آئی تھی وہ پہلے سے کھڑا زمین پر گری کھیر کو گھور رہا تھا. نور نے کندھے اچکائے
نور کی بچی جھوٹ کیوں بول رہی ہو یہ کھیر تم سے گری ہے مجھ سے نہیں. بدر نے غصیلی آواز میں کہا
بکواس مت کرو اور یہ کیا پی رہے ہو ….؟؟ یوسف صاحب نے بدر کے ہاتھ میں پکڑی بوتل کی طرف اشارہ کیا
ابا یہ سوفٹ ڈرنک نہیں کوک ہے. خود پی کر شک دور کر لیں. بدر نے یوسف صاحب کے آگے بوتل رکھتے ہوئے کہا
تمہیں تو میں اچھے سے دیکھوں گا …..؟ ؟ نور کے قریب سے گزرتے بدر نے وارنگ دی
تم مجھے بری طرح دیکھ ہی نہیں سکتے ….. ؟؟ نور کے جواب پر بدر جاتے جاتے پلٹا مگر پیچھے یوسف صاحب کو دیکھ کر خاموش ہو گیا.
برخوردار آج کے بعد تم مجھے بکواس کرتے گھر میں نظر نہ آؤ ورنہ فٹ پاتھ پر سونے کی پریکٹس کر لو کام آئے گی. یوسف صاحب کی بات پر نور مسکرا دی.
میرے خیال سے تو پریکٹس ہی کر لو آگے تمہاری مرضی ہے. نور چڑاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
🪶🪶🪶🪶
بھائی پلیز ہانی کو مت لے جائیں نااااا میرا اس ساتھ دل لگ گیا ہے. گڑیا نے رازی کی طرف ناراضگی سے دیکھا
اچھا نہیں لے جاتا مگر پھر تمہیں میرا کام کرنا ہو گا. رازی نے گڑیا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
مگر وہ بہت اچھی ہے. گڑیا نے نیچے جھانکتے ہوئے جواب دیا.
گڑیا پڑھ پڑھ کر تمہاری نظر کمزور ہو گئی ہے. وہ صرف اچھی نہیں پیاری بھی ہے مگر کیا اچھے اور پیارے لوگ کبھی مرتے نہیں ……. ؟؟ رازی کے سوال پر گڑیا خاموش ہو گئی.
ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ناجو بابا سے جھوٹ بول دیں کہ وہ مر گئی ہے. گڑیا کے سوال پر رازی نے فورا اس کے منہ پر ہاتھ رکھا
احمق لڑکی خود تو مرو گی ہی مجھے بھی بے موت مارو گی. یہ باتیں یوں کھلے عام نہیں کرتے. رازی نے سر زشت کی.
وہ آپ کی بیوی ہے اور مجھے بھابی کے روپ میں قبول بھی ہے. میں امی کو سب سچ سچ بتا دوں گی. گڑیا کی بات پر رازی نے پوری چھت پر نظر دوڑائی جہاں ان دونوں کے سوا کوئی اور نہ تھا.
گڑیا تمہیں ایڈونچر کرنے کا بہت شوق تھا اس لیے میں نے سوچا تمہاری مدد لی جائے مگر تم مجھے مایوس کر رہی ہو. وہ شادی نہیں بس ایک ڈرامہ ہے. رازی نے محبت سے سمجھایا
مگر کسی کی جان لینا ڈرامہ نہیں ہے وہ بھی اپنی بیوی کی ……. ؟ گڑیا کی بات پر رازی ہلکا سا مسکرایا
نہ میں نے کبھی اُسے بیوی کہا ہے اور نہ اُسے سمجھنے دیا ہے اس لیے بےفکر رہو. مجھے صرف اپنی فیملی عزیز ہے. رازی نے آخری جملہ قدرے نرم لہجے میں ادا کیا.
بھائی مجھے وہ پسند ہے. آپ اس مسئلہ کا کوئی اور حل نکالو. گڑیا بضد ہوئی.
گڑیا تم ناجو بابا کو نہیں جانتی. وہ میرے ساتھ ساتھ تم لوگوں کی بھی جان لے لیں گے. میں کیوں کسی خیر کے لیے اپنوں کو خطرے میں ڈالوں. رازی نے پیار سے سمجانا چاہا.
مگر بھائی …… ؟؟
کوئی اگر مگر نہیں. تم میری مدد کر سکتی ہو تو ٹھیک ورنہ ابھی رازی نے اتنا ہی کہا تھا کہ گھر میں اچانک شور مچ گیا. یہ کیسا شور ہے …..؟ ؟ رازی نے سیڑھیوں کی طرف بڑھتے ہوئے کہا رمشا آپی یا شہناز پھپھو کا کوئی نیا تماشا ہو گا. گڑیا نے رازی کی پیروی کرتے جواب دیا. کیا ہوا ہے …..؟ ؟ رازی نے دوسری منزل سے اترتے ہوئے رمشا سے پوچھا جو حواس باختہ اوپر کی طرف آ رہی تھی. وہ وہ جو لڑکی تمہارے گھر آئی تھی وہ
رمشا کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے.
ہانی _ رازی اور گڑیا کے منہ سے ایک ساتھ نکلا ہاں اسے کچھ ہو گیا ہے میرا مطلب رمشا ابھی کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ رازی اسے سائیڈ پر کرتا دو دو سیڑھیاں پھلانگتا نیچے پہنچا.
کیا ہوا ہے …..؟ ؟ بانو بیگم اپنی گود میں ہانی کا سر رکھے اس کے گال تھپتھپا رہی تھی. رازی کے پوچھنے پر اسے دیکھنے لگیں.
رازی میں نے جان بجھ کر کچھ نہیں کیا. بانو بیگم نے فوراً اپنی صفائی دی.
امی میں پوچھ رہا ہوں اسے کیا ہوا ہے…… ؟؟ رازی نے ہانی کو چھوتے پریشانی سے پوچھا جبکہ ہانی کا رنگ پیلا اور جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا.
وہ میں نے اسے کہا تھا کہ _ بانو بیگم نے کہنا شروع کیا بھائی چھوڑیں فضول باتیں ایمبولینس کو کال کریں. گڑیا نے ماں کو بچاتے مشورہ دیا جس پر رازی نے فورا اپنا فون تلاش کیا. 🪶🪶🪶🪶🪶 ناجو بابا ایک بہت اچھی خبر ہے. شانی نے مسکراتے ہوئے ناجو بابا کو اطلاع دی جو اپنے گھوڑے ساتھ کھیل رہے تھے. میرے لیے فلحال ایک خبر ہی اچھی ہو سکتی ہے …..؟ ناجو بابا نے گھوڑے کو پیار کرتے نخوت سے جواب دیا. بس پھر سمجھ لیں کہ وہ اچھی خبر آپ کو ملنے والی ہے. شانی کے جواب پر ناجو بابا نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا کیا مطلب ہے تمہاری بات کا ……. ؟؟ ناجو بابا کے سوال پر شانی مسکراتا ہوا اپنا موبائل نکالنے لگا آپ میرے دوست پر خواہ مخواہ شک کر رہے تھے. دیکھ لیں اس نے اپ کا کام کتنے نیچرل انداز میں کیا ہے. سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی. شانی نے کہتے ہوئے موبائل سکرین ناجو بابا کی طرف کی جس پر ہانی ہسپتال بیڈ پر لیٹی ہوئی دکھائی دی. اسے کیا ہوا ہے …..؟ ؟ ناجو بابا کے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ فکر مندی کے آثار بھی واضح تھے. بابا آپ بھی کمال کرتے ہیں. اب اس کے لیے پریشان ہونے یا رونے مت بیٹھ جانا. شانی نے منہ بناتے موبائل پیچھے کیا. الو کے پٹھے میں پوچھ رہا ہوں کہ اسے کیا ہوا ہے …… ؟؟ ناجو بابا نے اب کی بار قدر غصے سے پوچھا آپ کی لاڈلی کو زبردست الیکٹرک کرنٹ لگا ہے اور اس کے دل کی دھڑکن انتہائی آہستہ چل رہی ہے. امید ہے چند گھنٹوں تک کوئی اچھی خبر سننے کو ملے گی. مجھے ابھی ابھی اس بندے نے یہ اطلاع دی ہے جسے میں نے آپ کے کہنے پر رازی کی نگرانی کرنے کو کہا تھا. اب تو آپ کو یقین آگیا ناااااا کہ راضی آپ کا وفادار ہے …..؟ ؟ شانی نے کہتے موبائل واپس جیب میں رکھا مجھے پل پل کی رپورٹ چاہیے ……؟ ؟ ناجو بابا کہتے تیزی سے اندر کی طرف چل دیا چلو اب یہ نیا ڈرامہ شروع ہو گیا ہے. کل تک اس کے مرنے کی دعائیں کر رہے تھے اور اب کیسے منہ لٹکا لیا ہے. شانی یہ بڑے لوگ کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتے کہ ان کے دماغ میں کس وقت کیا چل رہا ہوتا ہے …….. ؟؟ شانی خود کلامی کرتا گھوڑے کی طرف پلٹ گیا. 🪶🪶🪶🪶🪶 پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہوگا. بدر نے رازی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کیا خاک ٹھیک ہوگا. اس کی حالت تو بگڑتی جا رہا ہے. رازی نے غصے سے بدر کا ہاتھ جھٹکا ویسے اگر اپ کو برا نہ لگے تو پوچھنا صرف یہ تھا کہ یہ سب قدرتی ہے یا
بدر نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ رازی نے غصے سے بدر کا کالر دبوچ لیا
تجھے لگتا ہے کہ وہ اندر لیتی ایکٹنگ کر رہی ہے یا میں نے منت مان رکھی تھی ہسپتال میں یوں خوار ہونے کی ……. ؟؟ رازی کی آنکھیں سے زیادہ سرخ ہو رہیں تھیں.
اگر یہ سب تیرا کیا دھرا نہیں ہے تو پھر کس طرح اس کو کرنٹ لگ گئی. وہ بھی اتنی ہیوی ……. ؟؟ بدر نے اپنا کالر چھڑائے بغیر پوچھا
تیری وجہ سے، تیری اس کالی زبان کی وجہ سے، جس سے تو نے مجھے وہ بیہودہ مشورہ دیا تھا. رازی نے کالر چھوڑتے انگلی بدر کے سینے پر رکھی.
جی بہتر بس گزارش یہ ہے کہ اگر آپ کی محبوبہ بج جائے یا مر جائے دونوں صورتوں میں میری مشہوری کر دیجئے گا. اور تو میں اپنے باپ کے بقول کسی کام کا نہیں ہوں چلو کسی درگاہ پر ہی بیٹھ جاؤں گا. میری روٹی روزی چل نکلے گی. بدر نے طنزاً جواب دیتے رازی کا ہاتھ پیچھے کیا
دفع ہو جا میں فلحال تیرے ساتھ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں. رازی نے پریشانی سے کریڈور کی طرف رخ کیا.
اب کہاں چل دیا ہے دو منٹ کہیں بیٹھ جا. بدر نے رازی کی حالت کے پیش نظر پیچھے سے آواز لگائی.
اسے دیکھنے جا رہا ہوں جو خوامخواہ میرے گلے پڑ گئی ہے. اچھی بھلی کراچی میں سکون سے زندگی گزر رہی تھی کہ ناجو بابا نے کس مصیبت میں مجھے ڈال دیا ہے ….؟؟ رازی نے چلتے چلتے دیوار پہ زور سے مکا مارا
میں تو سمجھا تھا کہ تُو اس خبر سے بہت خوش ہوگا کہ تیرا کام بن گیا. تجھے کچھ کرنا بھی نہیں پڑا مگر یہاں تو معاملہ ہی گڑبڑ ہے. بدر نے رازی کے ہمقدم ہوتے ہوئے تبصرہ کیا
یار میں اسے مارنا چاہتا ہوں مگر ایسے نہیں
رازی نے مڑ کر انتہائی آہستہ آواز میں بدر سے کہا
مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ تو اسے مارنا ہی نہیں چاہتا ورنہ یہ سب سے مناسب وقت ہے. میری مان تو جا کر اس کی آکسیجن بھی اتار دے اور جو ڈرپس لگی ہوئی ہیں وہ بھی سب اتار دے. ایک دم نیچرل موت کام ختم بدر کے مشورے پر رازی نے بےبسی سے سر جھٹکا اور دوبارہ مڑ گیا یار تو اس کی حالت دیکھ …… ؟؟ رازی نے ویٹنگ روم میں پہنچتے ہوئے دکھ سے کہا میں کیوں دیکھوں …… ؟؟ مجھے دیکھنے کو اور بہت کچھ ہے. بدر کہتا کرسی پر بیٹھ گیا. تبھی کاؤنٹر سے رازی کے لیے اناؤنس منٹ ہوئی. کمینے انسان
رازی نے بدر کی نظروں کا تعاقب کرتے جھاڑا.
آپ کے مریض کو ہوش آ گیا ہے. آپ ان سے مل سکتے ہیں. ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں رازی سے کہا تو اس نے سکھ کا سانس لیا اور ہانی کے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے.
چل میاں بدر اب آرام سے اردگرد کے نظارے کر __
بدر ٹیک لگاتے لوگوں کو دیکھنے لگا.
🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.