Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

شکر ہے اللہ کا کہ ہانی خیریت سے گھر آگئی ہے ورنہ میں تو ڈر ہی گئی تھی. ایک تو اس لڑکی کو اپنی صحت کا بالکل خیال نہیں ہے. فائزہ بیگم نے یخنی بناتے ہوئے نور سے کہا
چچی آپ بھی کمال کرتی ہیں بھلا اتنی سی لڑکی اپنا خیال کیسے رکھ سکتی ہے …… ؟؟ دیکھیں ہٹا کٹا ہمارا بدر ہے وہ اپنا خیال رکھتا ہے _ نور نے باہر سے گزرتے ہوئے بدر کو دیکھ کر شرارت سے کہا نور بی بی میرے خیال سے تمہیں گلاسز کی شدید ضرورت ہے. پہلی بات تو یہ کہ میں ہٹا کٹا نہیں ہوں اور دوسرا میں اپنا خیال خود رکھتا ہوں بلکہ اس گھر میں میں واحد جاندار چیز ہوں جو اپنا خیال خود رکھتی ہے جبکہ باقی سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں. بدر نے ناراضگی سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا پہلی بات کا پتہ نہیں لیکن سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ بدر تم اپنا خیال نہیں رکھتے ہو تمہارا خیال ہم سب لوگ مل کر رکھتے ہیں. نور نے شلف ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے دوبدو جواب دیا. ایک تو میں تم دونوں کی فضول بحث سے تنگ آ جاتی ہوں یقین مانو سر میں درد ہونے لگتا ہے. بدر تم بتاؤ کہاں سے آ رہے ہو …… ؟؟ فائزہ بیگم نے نور کو گھورتے ہوئے بدر سے پوچھا کہاں سے آنا ہے. بس یوں ہی باہر خواری کرنے گیا تھا کیونکہ رازی صاحب کا تو منہ بنا ہوا ہے اور اس کے پیچھے ساری وجہ ” ہانیہ بی بی” ہے. بدر نے دروازے میں کھڑے ہوتے ہوئے بیزاری سے کہا اللہ رحم کرے تم پر بھی اور اس پر بھی لیکن میرے خیال سے ہانیہ غلط نہیں ہے. اگر وہ رازی ساتھ جانا چاہتی ہے تو تمہارے دوست کو کیا تکلیف ہے اسے اپنے ساتھ لے کیوں نہیں جاتا …….. ؟؟ فائزہ بیگم کی بات پر بدر نے انھیں دیکھتے ہوئے تالی بجائی. میں سمجھتا تھا کہ اس گھر میں نور سے زیادہ کوئی عقلمند نہیں ہے مگر اماں آج تو آپ نے کمال ہی کر دیا ہے. بدر نے تالی بجاتے ہوئے داد دی. بدر زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر میں تیرا لحاظ کر رہی ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو فضول کی باتیں کرے یخنی اٹھا اور انہیں دے کر آ فائزہ بیگم نے یخنی کے پیالوں والی ٹرے بدر کی طرف بڑھائی
اماں میں ان کی طرف نہیں جا رہا. سچی دونوں ہی اتنے ضدی ہیں. کوئی بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں. بدر نے ہاتھ کھڑے کیے
اصل میں قصور ہانیہ کا نہیں ہے. تمہارا دوست ہی اتنا ڈھیٹ ہے کہ وہ صرف نام کا رازی ہے اصل میں “راضی” ہو ہی نہیں رہا. نور نے ٹرے پکڑتے ہوئے جواب دیا
ویسے کہہ تو نور ٹھیک ہی رہی ہے. میرے خیال سے اسے ہانیہ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہیے. فائزہ بیگم نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی
اماں اسے کوئی نہیں سمجھا سکتا. وہ صرف وہی چیز سمجھتا ہے جو خود سمجھنا چاہتا ہے. باقی سب باتیں اسے فضول لگتی ہیں. باقی باتیں اس کے سر سے ایسے گزر جاتی ہیں جیسے ہمارے سر سے جہاز بدر نے ہتھیار ڈالتے ہوئے اقرار کیا یعنی تم اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ ایک انتہائی ڈھیٹ انسان ہے. نور نے بدر کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا ڈھیٹ تو نہیں کہہ سکتے ہاں ضدی کا لفظ مناسب رہے گا. بدر نے درمیانہ راستہ اختیار کیا ہممممم
چلو دیکھتے ہیں. نور کہتی بدر کی سائیڈ سے ٹرے لے کر نکلی
اب یہ کیا کرے گی. اماں خیال کرنا کوئی نیا تماشہ نہ لگا لے. آگے ہی میری یاری خطرے میں ہے. بدر نے نور کو جاتے ہوئے دیکھ کر کہا تو فائزہ بیگم نے سر نفی میں ہلایا
مجھے تو اس گھر میں سب نمونے ہی ملے ہیں تمہارے باپ سے لے کر تم تک _ سب کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں اور بدنام دوسروں کو کرتے ہیں. فائزہ بیگم کی بات سنتے بدر نے انھیں حیرت سے دیکھا یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں. کیا ایسا آپ ابا کے سامنے بھی کہہ سکتی ہیں …… ؟؟ بدر نے رازداری سے جھکتے ہوئے پوچھا جس پر فائزہ بیگم اسے گھورتی باہر نکل گئی. دوست اچھا تھا. جب سے بہنوئی بنا ہے بلکل ڈریکولا لگتا ہے. بدر نے بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے کا رخ کیا 🪶🪶🪶🪶🪶 دیکھو میں تمہیں پیار سے سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہوں. اب اگر تم نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا. رازی نے بیڈ پر منہ پھلائے ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں ہانی نے بغیر دیکھے جواب دیا تبھی رازی کا موبائل بجنے لگا
تمہیں تو بعد میں دیکھتا ہوں پہلے اس کی سن لوں.
جو کل سے مسلسل فون کیے جا رہا ہے مگر تمہاری وجہ سے میں اس کی بات نہیں سن سکا. رازی نے ہانی کے قریب بیٹھتے ہوئے کال اٹینڈ کی
رازی اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو مجھے معاف کر دے اور اگر تو نے مجھ سے معافی مانگنی ہے تو وہ بھی مانگ لے اور جہاں تیری ماں کہتی ہے وہاں شادی بھی کر لے زندگی صرف چار دن کی ہے. کم از کم تیری تو واقعی ہی چار دن کی رہ گئی ہے. اس میں سے بھی آج کا دن نکال دے. شانی کی انتہائی دکھی آواز سپیکر سے ابھری تو رازی نے حیرت سے ہانیہ کی طرف دیکھا
شانی زیادہ نشہ کر لیا ہے یا ناجو بابا سے زیادہ دوائی ملی ہے. تو اس وقت کہاں اور کس کے ساتھ ہے…….. ؟؟ رازی نے سنجیدگی سے پوچھا تو ناجو بابا کے نام پر ہانیہ نے فوراً رازی کو دیکھا
بیٹا جی میرا تو سارا نشہ اتر گیا ہے. رہی بات دوائی کی تو آپ کے لیے ایسا حکیمانہ نسخہ ناجو بابا نے تیار کیا ہے کہ مت پوچھ _ شانی کے جواب پر رازی ے اعصاب تن گئے تو یوں بول نااااا کہ ناجو بابا کو پتہ چل گیا ہے. یہ بات تو مجھے بغیر چسکے کے سیدھی طرح بھی بتا سکتا تھا. رازی کے ماتھے پر بےشمار شکنیں نمودار ہوئیں. صرف پتہ نہیں چلا بلکہ ان کا حکم ہے کہ تجھے ڈیرے پر لایا جائے. ویسے تو نے ٹھیک کہا تھا کتے کم از کم ہماری کچھ تو لاج رکھیں گے آخر ہم ان کے مالک رہے ہیں. شانی نے سرد آہ بھرتے جواب دیا. شانی اپنا مسخرہ پن ختم کر اور مجھے سیدھی طرح بتا کہ ناجو بابا نے میرے لیے کیا پیغام دیا ہے. رازی نے کھڑے ہوتے ہوئے قدرے اونچی آواز میں پوچھا تو ہانی بھی کھڑی ہو گئی. ناجو بابا نے آپ کو “بری” طرح یاد کیا ہے. ان کا کہنا ہے کہ کل صبح تک آپ ڈیرے پر ہوں. میری تو یہ نصیحت ہے کہ بیٹے بھاگ جا اگر بھاگ سکتا ہے تو اور مڑ کے نہ دیکھنا ورنہ پتھر کا بن جائے گا. شانی اب سیریس تھا. میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں اور تم لوگوں کو بھی جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے. میں صبح گھر جا رہا ہوں اور واپسی پر سیدھا ڈیرے آؤں گا. باجو بابا کو میری طرف سے کہہ دینا کہ رازی بھاگتا نہیں ہے. رازی کا جواب ہانی کو پریشان کر گیا وہ آپ کو نہیں چھوڑیں گے. آپ کیوں وہاں جانا چاہتے ہیں …..؟ ؟ فون بند کرتے ہی رازی کو ہانی کی دکھی آواز سنائی دی. ہانیہ بی بی میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں. میں مقابلہ کرتا ہوں. دوسرا میں نے کوئی چوری نہیں کی کہ میں چھپ کر بیٹھ جاؤں. میں جاؤں گا اور ضرور جاؤں گا. اگر تم میرے ساتھ چلنا چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ….. ؟ رازی نے پلٹتے ہوئے ہانی کی طرف دیکھا جس پر وہ خاموش ہو گئی کیا میں اندر آ سکتی ہوں …..؟؟ نور نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا آپ کے ہاں اندر آ کر اجازت لی جاتی ہے ….؟؟ رازی نے اسے کمرے کے درمیان کھڑا دیکھ کر کہا وہ آپ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے میں بہت مصروف تھے اور میرے ہاتھ میں بھی ٹرے تھی تو میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ایسی صورتحال میں دستک دی جائے کیونکہ دستک یخنی اور آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی. نور نے کہتے ہوئے ٹرے بیڈ پر رکھی. آپ دونوں یخنی کے اعزاز میں کھڑے کیوں ہیں بیٹھ جائیں. یہ میں آپ دونوں کے لیے ہی لائی ہوں. نور نے رازی اور ہانی کو کھڑا دیکھ کر کہا بس یخنی دینی تھی یا اور کچھ بھی …..؟؟ رازی نے کے پوچھنے پر نور مسکرانے لگی کہنا تو بہت کچھ تھا لیکن میرے خیال سے حالات سازگار نہیں ہیں اس لیے صرف اتنا ہی کہوں گی کہ یخنی میں نمک شاید کم ہے حسب عادت ڈال لیجئے گا. نور کہتی جانے کے لیے پلٹی مگر چند قدم بعد رک گئی. وہ بدر آپ کو بلا رہا تھا شاید اسے کوئی کام تھا. نور نے مڑ کر رازی کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا بدر کا تو پتہ نہیں لیکن میرے خیال سے آپ کو ضرور ہانی سے کوئی کام ہے. آپ یہاں تسلی سے بیٹھیں. یخنی کا نمک مرچ چیک کریں اور جو بات کرنی آئیں ہیں وہ کریں. رازی کہتا تیزی سے باہر نکل گیا. آپ نے انہیں ناراض کر دیا ہے. ہانی نے پریشانی سے نور کی طرف دیکھا وہ راضی کب تھا نور نے مزے سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
شروع سے ہانی کے جواب پر نور نے بھرپور قہقہ لگایا. میرا مطلب اس کا نام شروع سے رازی ہے. ہانی نے نور کو ہنستا ہوا دیکھ کر وضاحت دی جبکہ نور ہنستے ہوئے سر ہلانے لگی 🪶🪶🪶🪶🪶 مجھے صرف میری بات کا جواب چاہیے کہ آخر میری بیٹی میں کیا کمی تھی جو تم نے میری بیٹی ساتھ یہ ظلم کیا. شہناز بیگم نے رازی کو دیکھتے ہوئے چیخ کر پوچھا پھپو میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں نے رمشا کو نہ تو کوئی دھوکہ دیا ہے اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا عہد و پیماں کیا تھا. لہٰذا آپ مجھے یا امی کو الزام نہیں دے سکتیں. رازی نے خود پر قابو پاتے ہوئے تحمل سے جواب دیا. تم تو میرے منہ مت لگو تم اور تمہاری ماں دونوں ہی دھوکے باز ہو. تم نے پہلے میرے بھائی کو اپنے جال میں پھنسایا اور اب میری بیٹی کو تمہارے بیٹے نے
شہناز نے انتہائی نفرت سے بانو بیگم کی طرف دیکھا
پھپھو میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ میں کوئی ایسی بات منہ سے نکالوں جس کا مجھے اور آپ کو بہت افسوس رہے. اب آپ امی سے بدتمیزی نہیں کریں گی. رازی نے انگلی اٹھاتے ہوئے شہناز بیگم کی طرف دیکھا
اچھا تو اب تم اتنے بڑے ہو گئے ہو کہ میرے آگے کھڑے ہو گے…… ؟؟ شہناز بیگم نے رازی کے مقابل کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا تو بانو بیگم نے پریشانی سے گڑیا کی طرف دیکھا
پھپھو آپ کو کیا ہو گیا ہے آپ بھائی سے مقابلہ کریں گی…… ؟؟ گڑیا نے سمجھانے کی ناکام سی کوشش کی
بس کرو میں تم ماں بیٹی کو خوب اچھی طرح جانتی ہوں اور رازی سے میں ڈرتی نہیں. یہ بدمعاش ہو گا تو اپنی جگہ شہناز بیگم کا غصہ آسمان کو چھونے لگا تھا.
میں نے تو سوچا تھا کہ رازی آئے گا تو اپنی ماں کو سمجھائے گا. وہ اپنے کیے پہ شرمندہ ہوگا مگر یہاں تو کوئی ایسا سین ہی نظر نہیں آرہا. نہ ماں کو شرم ہے نہ بیٹے کو آ رہی ہے. ادھر میں نے آدھے خاندان کو منگنی کی دعوت دے رکھی ہے. اب میں کیا کروں …. ؟؟ شہناز بیگم اپنا سینہ پیٹتنے لگی.
اماں بس کریں بہت تماشا ہو گیا ہے. اب اوپر چلیں. کافی دیر سے چپ چاپ گم صم کھڑی رمشا نے شہناز بیگم کرو بازو سے پکڑا تو رازی نے نگاہیں بےاختیار اس کے چہرے پر اٹھیں.
دیکھو رمشا تم میری بات سنو. پھپھو میری بات سننے کے موڈ میں نہیں ہے. وہ میں _
رازی نے کہنا شروع کیا مگر رمشا کے پتھریلے تاثرات اسے چپ کرنے پر مجبور کر گئے.
بس کرو خبردار جو کسی قسم کا جھوٹ بول کے میری بیٹی کو پھنسانے کی کوشش کی تو آج میرا بھائی زندہ ہوتا تو میں دیکھتی کیسے تم اور تمہاری اولاد مجھے ذلیل کرتے ہو. شہناز بیگم نے رمشا سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے کہا اماں جب ہم نے ان لوگوں سے کوئی رشتہ کوئی تعلق رکھنا ہی نہیں ہے تو پھر اتنی باتیں کرنے کا کیا فائدہ چلیں اوپر چلتے ہیں. آپ کا بی پی ہائی ہو جائے گا. رمشا نے ایک بار پھر شہناز بیگم کو وہاں سے ہٹانا چاہا رمشا تم اب غلط بات کر رہی ہو. ہم بہت اچھے کزن ہیں اور میری تمہارے ساتھ بچپن سے ہی بہت اچھی دوستی رہی ہے. پر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ میں تم سے شادی کروں گا. رازی کو اداس رمشا اچھی نہیں لگ رہی تھی. ارے میاں کسی اور کو بے وقوف بنانا. لڑکا لڑکی کی کوئی دوستی نہیں ہوتی اور خبردار جو اب تم نے میری بیٹی کا نام لیا یا اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو یہ کوئی ٹائم پاس نہیں ہے. شہناز بیگم پھنکارتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی. اور خبردار تم تینوں میں سے کسی نے بھی میرے پورشن میں پاؤں رکھنے کی کوشش کی تو میں تم لوگوں کی ٹانگیں توڑ دوں گی. شہناز بیگم مسلسل بڑبڑا رہی تھی جبکہ رمشا انہیں کھینچ کر اوپر لے جانے لگی اماں یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے. آپ کو کس نے کہا تھا منگنی کا شوشہ چھوڑنے کا شہناز بیگم کے جاتے ہی راضی بانو بیگم سے الجھ پڑا
میں کہتی ہوں رازی شاباش ہے تجھ پر یہ سارا تماشہ تیری اس شادی کی وجہ سے لگا ہے میرے شوشے کی وجہ سے نہیں. بانو بیگم کی بات پر رازی نے سر نفی میں ہلایا میں کتنی بار آپ سب لوگوں کو بتاؤں کہ وہ شادی نہیں محض ایک ایگریمنٹ ہے. مگر آپ لوگ میری بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہیں. کیا ضرور تھی گڑیا تمہیں امی سے وہ تمام باتیں کرنے کی جبکہ میں نے منع بھی کیا تھا. رازی نے گڑیا کی طرف دیکھتے ہوئے غصہ سے کہا مجھے رمشا آپی بالکل بھی پسند نہیں ہے اور میں نہیں چاہتی تھی کہ ان کی شادی میں پیارے بھائی سے ہو. جب کہ ہانی مجھے اچھی لگیں تھیں پھر وہ آپ سے پیار بھی کرتی ہیں. گڑیا کے جواب پر رازی نے اسے گھور کر دیکھا جب کہ بانو بیگم نے اپنا ماتھا پکڑ لیا ہائے لڑکی تیرا کیا بنے گا. رمشا اپنے خاندان کی دیکھی بھالی نیک بچی ہے اور اس کا کیا بھروسہ کل ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے ……؟ ؟ رمشا کی شادی رازی سے ہونی تھی تیرے سے نہیں کہ تجھے پسند نہیں تھی تو تُو نے بیچ میں پھڈا کھڑا کر دیا. بانو بیگم کی بات پر پہلی بار رازی کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی ویسے اماں کی بات میں دم ہے. رازی نے بانو بیگم کے قریب بیٹھتے ہوئے گڑیا کی طرف دیکھا چھوڑیں بھائی اور یہ بتائیں کہ آپ ہانیہ کو کب لائیں گے …… ؟؟ گڑیا فورا مطلب کی بات پر آئی جب کہ بانو بیگم کے چہرے کی تاثرات بگڑ گئے جب ہم بارات لے کے جائیں گے تبھی تو دلہن لائیں گے. رازی نے محبت سے ماں کے گرد اپنے بازو پھیلاتے ہوئے کہا رازی ویسے تو نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا مجھے بہت شوق تھا رمشا کو دلہن بنانے کا _
بانو بیگم نے رازی کا ہاتھ پرے کرتے ہوئے دکھ سے کہا
آپ پھپھوسے پوچھ لیں اگر انہیں ہانی منظور ہے تو مجھے دوسری شادی پر کوئی اعتراض نہیں. میں تیار ہوں. رازی نے شرارت سے ماں کی طرف دیکھا
توبہ کرو تم نے سنا نہیں کہ شہناز نے کیا کہا تھا کہ ہم میں سے جس نے بھی اس کے پورشن میں قدم رکھا وہ اس کی ٹانگیں توڑ دے گی اور مجھے بڑھاپے میں ٹانگیں تڑوانے کا کوئی شوق نہیں ہے. بانو بیگم کے جواب پر رازی اور گڑیا ہنسنے لگے
مطلب آپ پھپھو کی دھبکی سے ڈر گئی ہیں. گڑیا نے چسکا لیا.
فضول کی باتیں بہت ہو گئی ہیں. اب یہ بتا کہ وہ پھلجھڑی کہاں ہے جس کی وجہ سے یہ سارا تماشہ لگا ہے …… ؟؟ تو اسے اپنے ساتھ کیوں نہیں لایا. بانو بیگم نے رازی کی طرف دیکھتے ہوئے جارحانہ انداز میں پوچھا تو وہ پھیکا سا مسکرا دیا
اماں اس کی بھی ایک الگ ہی سٹوری ہے ابھی میں بہت تھک گیا ہوں اور سونا چاہتا ہوں. کیا پتا پھر اتنے سکون کی نیند نصیب ہو یا نہ ہو. رازی نے کہتے ہوئے ماں کی گود میں سر رکھا.
اللہ تجھے لمبی زندگی دے. کتنی بار کہا ہے اس طرح کے فضول جملے نہ بولا کر، میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے. بانو بیگم نے رازی کے بالوں میں انگلیاں پھرتے ہوئے محبت سے کہا
تکلیف کا اندازہ تو مجھے تب ہو گا جب میں ناجو بابا کے ڈیرے پر حاضری دوں گا. رازی نے دل میں سوچتے ہوئے آنکھیں موند لی.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے