Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

کیسی ہو …… ؟؟ کتنے دنوں بعد اس کی آواز سنائی دی تھی.
ٹھیک ہوں. ہمیشہ کی طرح مختصر جواب ملا
پھر دونوں طرف خاموشی چھا گئی. دونوں ہی الفاظ کے تانے بانے بننے لگے کہ کیا کہیں اور کیا نہ کہیں، کیا ایک دوسرے سے پوچھیں اور کیا نہ پوچھیں ……؟ ؟
میں جہلم ہوں. رازی نے انتظار کے بعد خود ہی بتایا پتہ تھا وہ نہیں پوچھے گی.
اچھا _ ہانی کے جواب پر رازی کو حیرت ہوئی وہ خاموش طبع تھی مگر اتنی بھی نہیں جتنی وہ اسے لگی. ہانی تم ٹھیک تو ہو ناااااا …..؟؟ رازی کو فکر ہوئی. یہاں کسی کو فرق نہیں پڑتا میرے ٹھیک ہونے یا نہ ہونے سے ہانی کا جواب تلخی بھرا تھا.
کیا مطلب ……؟ ؟ رازی نے جانتے بوجھتے ہوئے وجہ پوچھی پتہ نہیں کیوں مگر وہ اس سے باتیں کرنا چاہ رہا تھا.
مطلب یہ مسٹر رازیان! تم سے شادی کے بعد میرے اندر جینے کی امنگ جاگی تھی. میں نے سوچا تھا کہ تم تھوڑے بتمیز، بد لحاظ اور سخت مزاج ہو مگر تمہارے ساتھ زندگی کم از کم ڈیرے سے اچھی گزرے گی.
مجھے بھی ایک فیملی مل جائے گی. جس میں ماں، بہن، بھائی اور مختلف رشتے ہوں گے. میں رشتوں کو انجوائے کرنا چاہتی تھی. جب تم گڑیا سے لڑتے یا اس کے نخرے اٹھاتے تھے تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا. تمہاری امی کیسے تمہارے صدقے واری جاتیں تھیں.
میں نے تنہا اس کمرے میں جو دن گزارے ہیں. میں ہی جانتی ہوں. مگر ویسا کچھ بھی نہ ہوا جیسا سوچا تھا. اپنی فیملی اپنی ہی ہوتی ہے.
تمہاری فیملی نے مجھے اپنایا یا پیار کیا خاک کرنا تھا وہ تو مجھے مارنے پر تُلی ہوئی تھی. تمہاری امی اور کزن جانتی تھیں کہ تار شارٹ ہے پھر بھی مجھے تار لگانے کا کہا
کیا میری جگہ گڑیا یا تم ہوتے تو وہ ایسا کہتیں نہیں ناااااا ہانی نم آواز میں ہنسی تو رازی کو دکھ ہوا.
یہ میرے ساتھ جو بھی ہوا صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ہوا. اگر تم مجھے اپنا لیتے تو کوئی میرے ساتھ ایسا سلوک نہ کرتا. سب کو تمہارا ڈر ہوتا خیر
ہانی نے اپنی گالوں پر بہتے آنسو صاف کیے.
دیکھو میں نے تمہیں کبھی کوئی امید نہیں دلائی نہ ہی وعدہ کیا. میں نے تو یہ سوچ کر ناجو بابا کی بات مان لی تھی کہ تم اس طرح آزاد ہو جاؤ گی. میرے گھر والوں سے تمہیں تکلیف پہنچی جس کا مجھ دکھ ہے اور میں تم سے معزرت بھی کرتا ہوں.
میری پوری کوشش ہے کہ میں تمہارے اپنے تمہارے لیے تلاش کروں. میں تمہیں بہت جلد طلاق دے دوں گا. تم اپنی پسند سے شادی کرنا یہ تمہارا حق ہے. رازی کی بات پر ہانی مسکرائی.
جہاں اتنی مہربانی کر رہے ہیں وہاں لڑکا بھی خود ہی تلاش کر دیں. میں کہاں تلاش کروں گی. اگر میں اتنی قابل ہوتی تو اپنے نہ تلاش کر لیتی. ہانی کے طنز کو رازی نے بخوبی محسوس کیا.
اگر تمہیں برا لگا ہے تو میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں اور تمہیں بھی اس حویلی سے سیدھا ڈیرے پر پہنچا دیتا ہوں. رازی کے جواب پر ہانی تڑپ پڑی.
میں نے یہ تو نہیں کہا _ ہانی کے جواب پر رازی نے ایک گہرا سانس خارج کیا. ہانیہ بی بی میرا تمہارے ساتھ نہ کبھی کوئی چکر تھا اور نہ ہے اس لیے مجھ سے بات کرتے ہوئے احتیاط کیا کرو. تم مجھے جذباتی بلیک میل نہیں کر سکتی. اپنا خیال رکھو اور حویلی میں کوئی مسئلہ ہو تو کال کر دینا جیسے اس دن کی تھی. رازی کہتا فون بند کر گیا جبکہ ہانی نے آنکھیں بند کرتے بیڈ ساتھ ٹیک لگا لی. 🪶🪶🪶🪶🪶 ویسے میٹنگ کے لیے تم دونوں کو اس سے اچھی جگہ نہیں ملی تھی. بدر نے اصطبل میں نظر گھماتے ہوئے شانی اور رازی کی طرف دیکھا جو دونوں مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہے تھے. آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہاں پر صرف گھوڑے ہی گھوڑے ہیں لہذا آپ پر کوئی چیز عاشق نہیں ہو گی. شانی کے جواب پر رازی نے ہنستے ہوئے سگریٹ کی ڈبی سامنے پڑے ہوئے چھوٹے سے لکڑی کے میز سے اٹھائی. پتہ نہیں رازی کے سارے دوست ہی مسخرے کیوں ہوتے ہیں …..؟ ؟ بدر نے بغیر سوچے سمجھے جملہ ادا کیا تو رازی نے بدر کو سر سے پاؤں تک دیکھا جس پر شانی نے قہقہ لگایا. شانی میں نے تجھے جو کام کہا تھا اس کا کیا بنا ……؟ ؟ کسی نہ کسی طرح ان دونوں کو گھیر کر ڈیرے پر لا مگر ناجو بابا کو اس بات کا پتہ نہیں چلنا چاہیے. رازی نے سگریٹ سلگاتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے شانی کی طرف دیکھا مجھے تیرا کام کرنے میں نہ تو کوئی اعتراض ہے نہ ہی دقت مگر تُو اچھے طرح سے سوچ لے اگر پکڑا گیا تو میں تیرا ساتھ نہیں دوں گا. شانی کا جواب بدر کو بہت برا لگا میں نے سوچ لیا ہے بغیر سوچے سمجھے میں نے آج تک کوئی کام نہیں کیا سوائے تم دونوں کو دوست بنانے کے رازی نے کہتے ہوئے ہوا میں دھواں چھوڑا تو بدل تلملا اٹھا
یہ تو زیادتی ہے تو نے اس کمینے کے ساتھ مجھے بھی ملا دیا ہے. میں نے کب تیرے ساتھ غداری کی ہے. ابا کی گالیاں کھائی ہیں. جوتے کھائے ہیں اور اب تیری وجہ سے در بدر بھی ہو جاؤں گا کیونکہ جب آج رات میں گھر نہیں پہنچوں گا تو ابا مجھے گھر سے نکالنے کا اعلان کر دیں گے. ان کے لیے تو میں بالکل فالتو سامان کی طرح ہوں. انہوں نے کبھی مجھے اپنی اولاد سمجھا ہی نہیں بدر ایک دم کرسی سے کھڑا ہو گیا.
زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے.رازی کو میری بات اچھی طرح سمجھ آگئی ہے. یہ شہر کے پڑھے لکھے لڑکوں کی عقل کہاں ہوتی ہے …… ؟؟ شانی نے بدر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اصل دکھ تجھے کس بات کا ہے.
گھر سے بے گھر ہونے کا یا شانی کا یا صرف گھوڑوں کا _ رازی کی بات پر شانی نے ایک بار پھر بھرپور قہقہ لگایا. تُو مجھے یہاں اپنے ساتھ ذلیل کرنے لایا تھا. بدر نے دروازے کی طرف جاتے ہوئے غصے سے کہا تو رازی نے آدھ جلی سگریٹ نیچی پھینکی. تیری زبان آج کچھ زیادہ ہی چل رہی ہے کتنی بار کہا ہے اسے کنٹرول میں رکھا کر
رازی نے اٹھتے ہوئے ایک مکا شانی کو رسید کیا اور بدر کے پیچھے چل دیا جو تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا
مجھے ابھی اور اسی وقت واپس جانا ہے مجھے اسٹیشن چھوڑ کر آ بدر نے اپنے پیچھے رزضی کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے اونچی اواز میں کہا
یہ جو تیرے اندر کبھی کبھی لڑکیوں والی روح آ جاتی ہے نا اااا مجھے بہت بری لگتی ہے. چھوٹی چھوٹی باتوں پہ منہ پھولنا، ناراض ہو جانا جبکہ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ مجھے رازی کرنا نہیں آتا. رازی نے اسے بازو سے پجڑے ہوئے روکا
اس جنگلی کو تو اپنا دوست کہتا ہے جو مشکل پڑنے پر تیرا ساتھ بھی نہیں دے گا. بدر نے اصطبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو رازی مسکرا دیا.
تُو شانی کو نہیں جانتا مگر میں بہت اچھے سے جانتا ہوں. کہ اس کی بات کا کیا مطلب تھا. رازی نے اپنے لفظوں پہ زور دیتے ہوئے بدر کی طرف دیکھا
چل اندر بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں. ہم شانی کی مدد لیے بغیر اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتے. شانی یہاں کے لوگوں سے بخوبی واقف ہے. کچھ نہ کچھ ہانی کے آباؤ اجداد کا پتہ چل جائے گا تو یہ راز بھی کھلے گا کہ ناجو بابا اسے کیوں مارنا چاہتے ہیں. تجھے اس سے ہمدردی ہے ناااا تو ساتھ دے …… ؟؟ رازی نے نرمی سے سمجھایا
تُو یہاں بیٹھ کر پلاننگ کر اور وہاں حویلی میں وہ اس کو مار دے گا. بدر نے غصے سے منہ پھیرا.
لگتا ہے مسٹر بدر کہ آپ نے اپنے دوست کو بہت ہلکا لے لیا ہے. مجھے یہاں بیٹھ کر بھی وہاں کی پوری خبر ہے. وہ بالکل خیریت سے ہے اور جب تک میں نہیں چاہوں گا کوئی اسے ہاتھ نہیں لگائے گا سمجھا. میری آج بھی اس سے بات ہوئی ہے. وہ بلکل خیریت سے ہے. رازی نے بدر کے کندھے سے مصنوعی گرد جھاڑی.
رہی بات کہ تیرا باپ تجھے میرے نام کے طنعے دیتا ہے تو یہ تو پکی یاری ہونے کی نشانی ہے. دوستی اور محبت میں طعنے تو ملتے ہیں لیکن پھر بھی میں تجھے خیریت سے تیرے گھر چھوڑ آؤں گا بے فکر رہ تو میرے ہوتے ہوئے “در بدر” نہیں ہوگا صرف “بدر” ہی رہے گا راضی نے مسکراتے ہوئے بدر کے کندھے پر بازو پھیلایا
کچھ دوست انتہائی ذلیل، کمینتے لعنتی، بے غیرت اور منحوس ہوتے ہیں. ان کی وجہ سے آپ کی زندگی میں ہمیشہ مسائل رہتے ہیں مگر کیا کریں ایسے دوستوں کے بغیر گزارا بھی نہیں ہوتا
بدر نے کہتے ہوئے رازی کا ہاتھ پیچھے کیا تو رازی مسکرا دیا.
میں صرف ایک شرط پر تیرے ساتھ اندر جاؤں گا کہ اس شانی کو بول دے میرے منہ نہ لگے _ بدر کی بات پر رازی دبا دبا سا مسکرایا مگر سر ہلانے لگا رازی تو __
اس سے پہلے بدر اسے مارتا رازی کا موبائل بجنے لگا.
🪶🪶🪶🪶🪶
آپ کا لاڈلہ آج پھر گھر سے غائب ہے …… ؟؟ یوسف صاحب نے ڈنر کرتے ہوئے فائزہ بیگم کی طرف دیکھا
آپ کو کیسے پتہ چلا ……؟ ؟ فائزہ بیگم نے سامنے بیٹھی نور کی طرف دیکھا جیسے پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ تم نے بتایا ہے.
اس میں کسی کے بتانے اور پوچھنے کی ضرورت ہی کہاں ہے …..؟ ؟ گھر میں خاموشی ہے، سکون ہے. تو مطلب آپ کا برخوردار گھر پر نہیں ہے. ورنہ کچھ نہ کچھ تو اس گھر میں عجیب ہو رہا ہوتا ہے. یوسف صاحب کے جواب پر نور نیچے منہ کر کے ہنسنے لگی جبکہ فائزہ بیکم نے کھانا چھوڑ کر یوسف صاحب کی طرف ناراضگی سے دیکھا
مجھے یہ گھر بدر کے بغیر کھانے کو دوڑتا ہے. وہ گھر پہ نہ ہو تو میرا دل اداس رہتا ہے مگر پتہ نہیں آپ کیسے باپ ہیں کہ بدر آنکھوں سے اوجھل ہو تو آپ سکون میں رہتے ہیں …..؟ ؟ فائزہ بیگم حد سے زیادہ سنجیدہ تھیں.
بیگم آپ تو بہت سیریس ہو گئی ہیں. میں نے تو ویسے ہی کہا تھا یوسف صاحب نے فائزہ بیگم کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے بات بدلی جبکہ نور کو بھی حیرت ہوئی
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی. فائزہ بیگم ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئیں.
چچا آپ نے چچی کو ناراض کر دیا ہے. بری بات ہے ہر وقت بدر کو ایسا مت کہا کریں. نور نے بھی کھانا چھوڑتے ہوئے یوسف صاحب کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیے
نور بیٹا تم اپنا کھانا آرام سے کھاؤ اور ان کی فکر نہ کرو میں انہیں دیکھ لوں گا. یوسف صاحب نے بھی اپنا کھانا ختم کرتے ہوئے کرسی چھوڑی. نور نے یوسف صاحب کے جاتے ہی بدر کو کال ملائی.
بدر تم کہاں ہو، گھر کیوں نہیں آئے، تم جانتے ہو نا کہ چچا کو کتنا غصہ آتا ہے …… ؟؟ کال اٹینڈ کرتے ہی نور نے بےتابی سے پوچھا
اصطبل میں ہوں. بدر نے اطمینان سے جواب دیا.
مگر کیوں، وہاں کیا کر رہے ہو…… ؟؟ نور نے حیرت سے پوچھا
بس ویسے ہی دل میں خیال آیا کہ ایک رات اصطبل میں بھی گزاری جائے. جانوروں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہیے ان کو بھی ہمارے پیار محبت کی ضرورت ہوتی ہے. بدر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
بدر سچ سچ بتاؤ کہ تم کہاں ہو …..؟ ؟ نور نے ضدی لہجے میں پوچھا
رازی کے گھوڑے کی طبیعت خراب ہو گئی تھی تو وہ مجھے اپنے ساتھ جہلم لے آیا ہے. بدر کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا بہانہ بنائے.
تم کیا گھوڑوں کے ڈاکٹر ہو. سچ سچ بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے. مجھے پتہ ہے تم جھوٹ بول رہے ہو اور تم بتائے بغیر جہلم گئے کیوں …..؟؟ نور نے فوراً بات کاٹی.
نور میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں صبح تک واپس آ جاؤں گا اور ابا نے غصہ تو نہیں کیا …..؟؟ بدر نے آہستہ سا پوچھا
اب تم مذاق کر رہے ہو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ تمہاری غیر حاضری پر چچا جان کا کیا رد عمل ہوتا ہے لیکن فی الحال تمہاری وجہ سے دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہو گئی ہے. نور نے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے اطلاع دی
یعنی کافی لمبا چوڑا لیکچر سننے کو ملے گا. بدر نے مایوسی سے اپنے ارد گرد موجود گھوڑوں کی طرف دیکھا
اگر تم سچ بتا دو کہ جہلم کیوں گئے ہو تو میں تمہیں بچا سکتی ہوں ……؟ ؟ نور نے فوراً آفر دی
میں سچ کہہ رہا ہوں یارررررر اس کے گھوڑے کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی. تم جانتی تو ہو کہ وہ گھوڑوں کا کتنا شوقین ہے اور اپنے گھوڑوں سے کتنا پیار کرتا ہے بس اسی لیے میں اس کے ساتھ آگیا. بدر نے مضبوط لہجے میں جواب دیا.
“ہم سمجھدار بھی اتنے ہیں کہ ان کا جھوٹ پکڑ لیتے ہیں.
اور
ان کے دیوانے بھی اتنے ہیں کہ پھر بھی یقین کر لیتے ہیں.”
چلو ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا اور ہاں بہت صبح سویرے یا آدھی رات کو مت آنا ورنہ ساری رات گیٹ پر لٹکے رہو گے میں کھولنے نہیں آؤں گی. نور نے کہتے ہوئے کال بند کر دی جبکہ بدر مسکرانے لگا
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.