Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

کبھی کبھی آپ بےوجہ اداس اور غمگین ہو جاتے ہیں. حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہوتی. زندگی تو نام ہی انہونی چیزوں کا ہے. جو ہم چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا. جیسا سوچتے ہیں اس سے الٹ ہو جاتا ہے. مگر ہم جینا چھوڑ تو نہیں دیتے نااااا _ ہانی نے چھت کو گھورتے ہوئے سوچا میرے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑے گا لہٰذا مجھے اپنے لیے جینا چاہیے. ایک آنسو آنکھ سے راستہ بناتا تکیہ میں جذب ہو گیا. رازی کتنا خوش قسمت ہے. اس کے پاس ایک محبت کرنے والی فیملی ہے. ایک ماں جو ہر وقت اس کے صدقے واری جاتی ہے. ایک بہن جو اس سے اپنے ناز نخرے اٹھواتی ہے. اگر میری بھی فیملی ہوتی تو آج میں یوں ہسپتال کے بستر پر تنہا نہ پڑی ہوتی …..؟ ؟ ہانی نے ہاتھ اٹھا کر اپنے آنسو صاف کرنے چاہے مگر تکلیف سے محض کراہ کر رہ گئی. کیا چاہیے ……؟ ؟ رازی جو ابھی ابھی روم میں داخل ہوا تھا ہانی کی آواز پر اس کے قریب آتے پوچھنے لگا پانی پینا ہے ….؟؟ رازی کے اس قدر محبت بھرے لہجے پر ہانی نے حیرت سے اسے دیکھا کیا ہوا تھا. تمہیں کیسے کرنٹ لگی ….؟؟ ہانی کے قریب بیٹھتے ہوئے رازی نے اس کا ڈرپ لگا ہاتھ پکڑا وہ رمشا آپی نے کہا تھا کہ تار بورڈ میں لگا دو. میں جیسے ہی لگانے لگی تو ہانی نے رک رک کر بتانا شروع کیا تو رازی کے تاثرات سرد پڑنے لگی.
تمہارا دماغ کام کرتا ہے. کون بےوقوف مین بورڈ میں ایسے تار ڈالتا ہے یہ تو سیدھی سیدھی خود کشی ہے. رازی نے سخت لہجے میں تنبیہ کرتے اس کا ہاتھ بستر پر رکھا.
ویسے تو مجھے تم سے کبھی بھی عقل مندی کی امید نہیں رہی مگر پھر بھی اسے استعمال کر لیا کرو. اچھی چیز ہے. رازی نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے ہانی کے سر کو دو انگلیوں سے چھوا.
مجھ میں عقل کب تھی اگر ہوتی تو …..؟؟ ہانی نے پرشکوہ نگاہ سے رازی کی طرف دیکھا جو خود بھی تھکا تھکا سا لگ رہا تھا.
تو تم مجھ سے شادی نہ کرتی. کافی مزاحیہ گفتگو کرنے لگی ہو. کرنٹ لگنے سے تمہارا جو تھوڑا بہت دماغ کام کر رہا تھا وہ بھی جواب دے گیا ہے. رازی نے افسوس بھری نظروں سے دیکھا
اگر تم سب کو بتا دو کہ میں تمہاری کون ہوں تو کم از کم میری زندگی آسان ہو جائے ……؟ ؟ نہ چاہتے ہوئے بھی ہانی نے گلہ کیا.
شششششش _ رازی نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے فوراً اس کے لبوں پر اپنی انگلی رکھی. بھول کر بھی ایسا مت سوچنا. میں تمہاری زندگی آسان کرتے کرتے اپنی مصیبت میں نہیں ڈال سکتا. رازی کہہ کر پیچھے ہٹا کہاں جا رہے ہیں …..؟ ؟ ہانی کو رازی کا یوں اس کے قریب بیٹھنا بہت اچھا لگ رہا تھا. بے فکر رہو اتنی خوشی نہیں ملی کہ مٹھائی بانٹا پھروں. ڈاکٹر پاس جا رہا ہوں کہ کب تک تمہیں ڈسچارج کر رہے ہیں. رازی کہتا دروازے کی طرف بڑھ گیا. ایک تو زبردستی میری زندگی میں شامل ہو گیا ہے اوپر سے مجھے اپناتا بھی نہیں. ہانی نے سوچتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں. 🪶🪶🪶🪶🪶 بدر کہاں جا رہے ہو …..؟ ؟ نور کی آواز پر بدر رکا مگر پلٹا نہیں. سنو صبح سے “کیبل” نہیں آ رہی. زرا چیک کر دو. نور نے گھوم کر بدر کے آگے آتے ہوئے کہا “کمبل” کمبل کہاں سے نہیں آ رہا. میں کچھ سمجھا نہیں …… ؟؟ بدر نے نا سمجھی سے نور کی طرف دیکھا بدر زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے. کیبل “چک” کرو. مجھے tom & jarry دیکھنا ہے. نور نے زچ ہوتے ہوئے دوبارہ کہا “بک” کسے بُک کرنا ہے ….؟؟ بدر کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی. اچھا ٹھیک ہے اگر میرا کام نہیں کرنا تو رہنے دو مگر یہ ڈرامے بند کرو. نور کہتی جانے لگی کہ بدر نے اس کی کلائی پکڑ لی. اب پتہ چلا کہ دوسروں کو تنگ کرنا آسان مگر خود برداشت کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے. خاص طور پر تب جب آپ جلدی میں ہوں. بدر نے نور کو اپنے سامنے کرتے جتلایا. میں نے کبھی تمہیں تنگ نہیں کیا. نور کے جواب پر بدر کلائی چھوڑتا اس کے راستہ میں حائل ہوا.کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی کا وقفہ رہا. ہٹو آگے سے نور نے ہاتھ سے اشارہ کیا.
میں نے خود بذات خود کیبل بند کی ہے. تاکہ تمtom & jarry نہ دیکھ سکو. بدر کے انکشاف پر نور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں.
مگر کیوں ….؟؟ نور نے چیختے ہوئے پوچھا
تمہاری انھی حرکتوں کی وجہ سے اور کیوں ….؟؟ بدر نے کندھے اچکائے
تم نے میرے ساتھ پنگا لے کر اچھا نہیں کیا اب دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتی ہوں ….؟؟ نور نے انگلی اٹھاتے وارنگ دی.
تم نے بڑی اچھی کی تھی اس دن ابا کے سامنے میرے ساتھ بدر نے یاد دلایا. او اچھا تو یہ بات ہے. نور نے آبرو اچکاتے کہا جی بلکل یہی بات ہے. میں سمجھتا تھا کہ تمہارا سسٹم تھوڑا ہلا ہوا ہے اس لیے میں تمہیں تھوڑی space دے دیتا تھا مگر اب میں جان گیا ہوں تمہارے سسٹم میں کوئی مسئلہ نہیں بلکہ تم سب گھر والوں میں عام طور پر اور صرف مجھ میں خاص طور پر وائرس منتقل کر رہی ہو. بدر کے منہ سے وائرس سن کر نور چیخ پڑی. وائرس، میں کیوں وائرس منتقل کروں گی اور کس چیز کے …. ؟؟ نور کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بدر کا سر توڑ دے. اپنی محبت اور ہمدردی کے بدر کے جواب پر نور کے تاثرات ایک دم بدلے جسے بدر نے خوب انجوائے کیا.
دیکھ لو تم سب کو میرے عیب بتاتی ہو مگر میں نے تو ایسا نہیں کیا. میں نے تو تمہیں ہمیشہ اپنی کزن سمجھا ہے.
“تو شہر میں گنواتا پھرا عیب ہمارے
ہم نے تو ترا نقص اچھالا نہیں کوئی”
بدر کہتا ہوا حیران پریشان نور کو چھوڑ کر چل دیا.
🪶🪶🪶🪶🪶
رمشا، رمشا گھر میں داخل ہوتے ہی رازی نے اونچی آواز میں پکارا
کیا بات ہے خیریت تو ہے. کیوں اسے آوازیں دے رہے ہو ……. ؟؟
تمہاری پھپھو نے سنا تو ناراض ہوں گی اور اس لڑکی کی اب کیسی طبیعت ہے ….. ؟؟ بانو بیگم نے رازی کی آواز سنتے ہی کچن سے باہر آتے پوچھا
اسے کرنٹ کیسے لگی تھی …..؟؟ رازی نے پلٹتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا
مجھے نہیں پتہ، میں تو کچن میں تھی کہ اچانک اس کی چیخ سنتے باہر آئی. بانو بیگم نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا.
اسے کرنٹ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے. میں اتنا بےوقوف نہیں جتنا آپ سمجھ رہی ہیں. کس نے اسے مین بورڈ میں تار لگانے کا حسین مشورہ دیا تھا. رازی نے قریب پڑی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
یعنی اس نے تمہیں پڑھا کر بھیجا ہے. تم اب ماں سے بحث کرو گے ….؟؟ بانو بیگم نے باہر آتی گڑیا کی طرف دیکھا
میں کسی سے بحث نہیں کر رہا بس اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ جان بجھ کر اس کی جان خطرے میں کیوں ڈالی اگر وہ مر جاتی تو ہم پر کیس بن سکتا تھا. اب کی بار رازی نے نرمی سے ماں کی طرف دیکھا
وہ واشنگ مشین کی تار اندر نہیں لگ رہی تھی تو رمشا نے کہا باہر لگا لیتے ہیں. بانو بیگم نے دونوں بہن بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے شرمندگی سے کہا
اماں اسے نہیں معلوم لیکن آپ تو جانتی تھی نااااا کہ اس سوئچ میں ڈائریکٹ کرنٹ ہے.وہ مر بھی سکتی تھی. رازی دکھ سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا.
مجھے وہ اچھی نہیں لگتی خاص طور پر تب جب وہ تم سےبات کرتی ہے. رازی کے جاتے قدم بانو بیگم کی بات پر رکے.
اماں کیا ہو گیا ہے کیسی باتیں کر رہیں ہیں. …..؟ ؟ رازی کے ساتھ ساتھ گڑیا کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا
آپ نے کب مجھے اس سے باتیں کرتے دیکھا ہے …..؟ ؟ رازی نے گلہ کیا.
اماں اگر باتیں کرتے بھی ہیں تو اس میں کیا حرج ہے ….؟؟ گڑیا نے فوراً دفاع کیا جبکہ رازی سیڑھیوں کی طرف مڑ گیا.
وہ چھٹانک بھر کی لڑکی میرے سامنے میرے بیٹے پر ڈورے ڈال رہی ہے اور تم کہتی ہو کہ خیر ہے …..؟ ؟ بانو بیگم نے غصے سے گڑیا کی طرف دیکھا جو حقیقت معلوم ہونے کی وجہ سے مسکرا رہی تھی.
🪶🪶🪶🪶🪶
معلوم کرو کیا بنا اس کا …… ؟؟ ناجو بابا نے صبح ہوتے ہی پہلی کال شانی کو کی.
بابا ابھی تو میں اٹھا ہوں. ناشتہ بھی نہیں کیا. آپ کچھ وقت دیں میں رازی سے بات کرتا ہوں. شانی نے بستر پر لیٹے لیٹے جواب دیا.
ہڈ حرام یہاں میری جان پر بنی ہے اور تجھے سونے کی پڑی ہے. فون کر اسے اور مجھے جلدی سے اچھی سی خبر سنا. ناجو بابا نے غصے سے کہتے فون کاٹ دیا. پھر کچھ یاد آنے پر دوبارہ کال ملائی شانی جو سونے کا سوچ رہا تھا ایک دم سکرین پر ناجو بابا کا نمبر دیکھ کر اٹھ بیٹھا. وہ جو اسلام آباد سے ٹیم آئی تھی وہ کہاں ہے …..؟ ؟ شانی نے ناجو بابا کی بات سنتے پاؤں چارپائی سے نیچے اتارے. وہ غائب ہو گئی ہے. شانی نے سرسری سا جواب دیا نیند نہ پوری ہونے کا غم چہرے سے عیاں تھا. کیا بکواس کر رہا ہے. رات کو زیادہ پی لی تھی …..؟؟ ناجو بابا دھاڑے بابا میں سچ کہہ رہا ہوں. میں گیا تھا مگر وہ لوگ ملے ہی نہیں تو میں کیا کرتا. شانی بیزاری سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا. شانی تو بلکل بیکار ہوتا جا رہا ہے. رازی یہ کام کر دے پھر اسے ڈیرے پر رکھوں گا. ناجو بابا بڑبڑاتے ہوئے کال کاٹ گئے. ہائے اتنے مزے کا خواب دیکھ رہا تھا. ستیاناس کر دیا. شانی نے رازی کا نمبر ملاتے برآمدے کا رخ کیا جہاں سے اصطبل میں نوکر گھوڑوں کی آؤبھگت کرتے دکھائی دے رہے تھے. خود تُو شادی کر کے بیٹھ گیا ہے اور ہمیں شادی کے خواب بھی دیکھنے نہیں دیتا. شانی کی ناراض سی آواز سپیکر سے ابھری رازی جو رمشا کی تلاش میں اوپر آیا تھا اس کی بات پر ہنس پڑا. یہ کون ہنسا ہے جہاں تک مجھے یاد پڑتی ہے تمہیں تو ڈاکٹرز نے مسکرانے سے بھی منع کر رکھا ہے. شانی کی حیرانگی پر رازی رمشا کے کمرے کی بجائے اوپر چھت کی طرف چل دیا. لگتا ہے ناجو بابا نے صبح صبح اٹھایا ہے تبھی ایسی باتیں کر رہا ہے ورنہ تُو تو اچھا بھلا سلجھا انسان ہے. رازی نے لفظ “انسان” پر زور دیا. بنتا ہے تیرے تو کنفرم بنتا ہے مگر سالے ناجو بابا نے پوچھا ہے کہ تُو ابھی تک “رنڈوا” ہوا ہے کہ ہم اپنی بچی کو “بیوہ” کر دیں. شانی کی بات پر رازی کے چہرے سے مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی. کیا بتاؤں یار
رازی نے ماتھا مسلتے جواب دیا.
سیدھی طرح جواب دے وہ زندہ ہے یا نہیں …..؟ ؟ شانی چلتا چلتا اصطبل میں داخل ہو گیا.
زندہ ہے _ رازی نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا. ناجو بابا کو تجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا پھر ایسا کیوں کر رہا ہے ….؟؟ شانی نے گھوڑے کی پیٹھ پر تھپکی دی. مارنے والے سے بچانے والا زیادہ بڑا ہوتا ہے. رازی نے دھواں ہوا کے سپرد کیا. رازی تُو ٹھیک نہیں کر رہا. میری مان تو جلد از جلد قصہ تمام کر دے اسے دودھ میں زہر ملا دے. اس قصے کو جتنا لمبا کرے گا اتنا تُو پھنستا جائے گا. میری ایک بات دماغ میں بیٹھا لے اس لڑکی کے نصیب میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے تیرے ہاتھ سے نہیں تو میرے _
شانی نے جملہ ادھورا چھوڑا.
شانی!!! رازی نے چیختے ہوئے سگریٹ نیچے پھینکی.
حقیقت سے نظریں نہ چرا اور جتنی جلدی ہو سکے اس معاملے کو ختم کر دے. یہی تیرے حق میں بہتر ہے. شانی کی وارنگ پر رازی نے کال کاٹ دی.