Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

دیکھا تم نے وہ نہیں آیا ہے. اب مجھے سارے خاندان کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا. بانو بیگم نے انتہائی دکھ سے گڑیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
امی آپ غیروں کے لیے اپنے بیٹے سے لڑیں گی ……. ؟؟
پہلی بات تو یہ کہ بھائی نے کچھ ایسا نہیں کیا جس پر آپ کو شرمندگی ہو. انہوں نے شادی کی ہے اور شادی کرنا کوئی بری بات نہیں. ہمارا مذہب اپنی پسند کی شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے.
جہاں تک بات پھپھو جان کی ہے. تو انہیں تو عادت ہے. وہ تو شروع سے ہی بھائی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہیں. گڑیا نے محبت سے بانو بیگم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا.
کیا مطلب ہے تیری بات کا _ یعنی شہناز ٹھیک کہہ رہی تھی. اس نے شادی کر لی ہے. یہ بات سچ ہے. تجھے اس بارے میں کیا پتہ ہے …..؟ ؟ بانو بیگم نے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے پوچھا امی اگر آپ وعدہ کریں کہ آپ بھائی سے نہیں لڑیں گی اور میرا نام نہیں لیں گی تو میں آپ کو پوری بات سچ سچ بتا دیتی ہوں ……؟ ؟ گڑیا نے سوالیہ نظروں سے بانو بیگم کی طرف دیکھا گڑیا میرے ساتھ زیادہ چالاکیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے. ابھی تم لوگ اتنے بڑے نہیں ہوئے کہ میں تمہیں مار نہیں سکتی. دو جوتے لگاؤں گی تو عقل جگہ پر آ جائے گی. جلدی بتا کیا بات ہے. بانو بیگم نے اپنے جوتے کی طرف اشارہ کرتے غصے سے پوچھا امی دراصل بھائی نے یہ شادی بہت مجبور ہو کر کی ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو اس میں ہمارا اور بھائی کا فائدہ ہی فائدہ ہے.( گڑیا خود سے ایسی کہانی بنانے کی کوشش کر جس پر اماں مطمئن ہو کر ہانی کو بہو مان لیں) . گڑیا میں تجھے کہہ رہی ہوں سیدھی سیدھی مجھے ساری بات بتا. یوں میرے ساتھ ڈرامے بازی نہ کر، کس لڑکی ساتھ رازی نے شادی کی ہے. بانو بیگم کا صبر جواب دینے لگا تھا. اماں آپکو تو پتہ ہی ہے کہ ناجو بابا نے بھائی کو کس وقت میں اور کیسے سہارا دے کر پالا ہے اور یہ بھی کے ناجو بابا کس قسم کی طبیعت کے مالک ہیں …… ؟؟ ان کے اگے انکار کرنا سیدھا سیدھا اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر ہے اور یہ شادی ناجو بابا کے کہنے پر بھائی نے کی ہے ورنہ ان کے ساتھ ساتھ ہماری جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے. کیا آپ پسند کریں گی کہ بھائی کو کچھ ہو جائے ….؟؟ گڑیا نے جذباتی کارڈ کھیلا اللہ نہ کرے کہ میرے بیٹے کو کچھ ہو، تیرے منہ میں خاک جو منہ میں آ رہا ہے بکواس کرتی جا رہی ہے. شادی کا کیا تعلق رازی کی زندگی سے بانو بیگم نے فوراً گڑیا کو ٹوکا تو وہ مسکرانے لگی. (شاباش گڑیا تیر نشانہ پر لگا ہے. گڑیا نے اپنے آپ کو شاباشی دی.) اماں وہ جو لڑکی ہانی ہمارے گھر آئی تھی نااااا اصل میں وہ ناجو بابا کی بیٹی ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ ناجو بابا اس سے کتنا پیار کرتے ہیں …..؟ ؟ گڑیا نے آنکھیں مٹکاتے چسکا لیا کیا تھوڑی تھوڑی دیر بعد میری جان نکل رہی ہے. ایک ہی دفعہ پوری بات بتا کیوں نہیں دیتی. بانو بیگم کو ٹینشن ہونے لگی تھی اماں بعد دراصل یوں ہے کہ پھر گڑیا نے اپنی مرضی کے مطابق کہانی میں جذباتی تاثر ڈالتے ہوئے ساری بات بانو بیگم کے گوش گزار کر دی جسے سنتے ہی بانو بیگم نے اپنا ماتھا پکڑ لیا
آئے ہائے اگر تو یہ بات مجھے پہلے بتا دیتی تو میں اس لڑکی کا خیال رکھتی. اب پتہ نہیں وہ بدمعاشوں کا بدمعاش میرے بیٹے کے ساتھ کیا کر رہا ہوگا …..؟؟
میں بھی کہوں وہ بیچارہ آیا کیوں نہیں. میرا اتنا فرمانبردار بیٹا ہے. کیسے میری بات کو اگنور کر سکتا ہے. اسے تو اگر میں کہوں کہ پوری رات ایک ٹانگ پہ کھڑا رہے تو وہ کھڑا رہے گا لیکن اب پتہ نہیں کس مصیبت میں گرفتار ہوگا اللہ میرے بیٹے کی خیر کریں. بانو بیگم کے بیانات بدلنے پر گڑیا حیرت سے انھیں دیکھنے لگی.
اماں تم پر بھی ڈراموں کا اثر ہو گیا ہے. ابھی تو تم بھائی کو کوس رہی تھی. برا بھلا کہہ رہی تھی اور اب کیسے صدقے واری جا رہی ہو. اب وہ فرمانبردار بیٹا ہو گیا حالانکہ اس نے تو کچھ بتایا بھی نہیں اپ کو گڑیا نے افسوس سے سر ہلایا.
میرے آگے زیادہ زبان نہ چلایا کر، ساری دنیا ایک طرف میرا رازی ایک طرف
وہ ماں کے ساتھ دھوکا کر ہی نہیں سکتا.ظاہر ہے بیچارے کی جان پھنسی ہوئی تھی تو شادی نہ کرتا تو اور کیا کرتا ……. ؟؟ بانو بیگم نے سرد آہ بھری
اب آپ پھپھو اور خاندان والوں کو کیا جواب دیں گی …… ؟؟ گڑیا نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے مزے سے پوچھا
آگ لگے ساری دنیا کو میرے بیٹے نے کوئی چوری نہیں کی شادی کی ہے. شادی میں کون سی برائی ہے …… ؟؟ میں سب کو دیکھ لوں گی. بانو بیگم نے فوراً اتراتے ہوئے جواب دیا تو گڑیا نے انگوٹھے کے اشارے سے انھیں داد دی.
رازی کو فون کر کے کہہ دے کہ اپنی بیوی کو ساتھ لیتا آئے اور ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. ابھی اس کی ماں زندہ ہے میں دیکھتی ہوں کوئی میرے بیٹے کو کیسے کچھ کہتا ہے …..؟ ؟ ایسی کی تیسی نہ کر دوں میں، جو میرے رازی پر انگلی اٹھائے اس کی _ بانو بیگم کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی. لیں بھائی آپ کا کام تو میں نے کر دیا. اب آپ بھی میرے لیے مزیدار سی چاکلیٹس لیتے آئیے گا ساتھ پیاری بھابی کے
گڑیا نے مسکراتے ہوئے رازی کو میسج سینڈ کیا
🪶🪶🪶🪶🪶
چلو پھر میں چلتا ہوں. اب تم اپنوں میں ہو. خوش رہو. ان تمام لوگوں سے تمہارا خونی رشتہ ہے. یہ تمہارا بہت خیال رکھیں گے. ویسے بھی بدر کی فیملی بہت اچھی ہے. میں بہت عرصے سے ان لوگوں کو جانتا ہوں. رازی نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا
واپس کب آئیں گے ……. ؟؟ ہانی نے اداسی سے رازی کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر کوئی اداسی، کوئی ملال نہ تھا.
میں بھلا واپس کیوں آؤں گا …..؟ ؟ میرا رزلٹ آنے والا ہے اور مجھے بڑی امید ہے کہ بہت اچھا آئے گ. ا پھر میں ٹریننگ پر چلا جاؤں گا اس کے بعد جاب مصروفیت _ جب کبھی بدر سے ملنے آیا کروں گا تو تم سے بھی مل لوں گا. رازی کا جواب ہانی کو غصہ دلا گیا. آپ میرے دجود کا ناجو بابا کو کیا جواب دیں گے …..؟ ؟ ہانی کے سوال پر رازی ہلکا سا مسکرایا اب مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں. وہ جو تمہارے ماموں ہے نااااا ا وہ انہیں ٹھیک سے جواب بھی دیں گے اور سوال بھی کریں گے. لہذا تم بالکل بے فکر رہو. رازی نے آبرو اچکا کر ہانی کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو اور کچھ …..؟ ؟ میں نے بھی آپکے ساتھ جانا ہے …… ؟؟ ہانی نے بغیر تمہید کے کہا تو رازی کو حیرت ہوئی مگر کیوں اب تو تم اپنوں میں ہی ہو اور یہ سب تمہیں بہت خوشیاں دیں گے. تمہارا بہت خیال رکھیں گے. اب تمہیں میری ضرورت نہیں ہے. رازی کے ماتھے پر بل پڑے.
میں آپ کی بیوی ہوں اور میں اپ کے ساتھ ہی جاؤں گی اور مجھے آپ کی ضرورت تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی. ہانی نے حتمی انداز میں جواب دیا.
دیکھو ہانی پہلی بات تو یہ کہ تم میری بیوی نہیں بلکہ منکوحہ ہو اور دوسری بات کہ تمہیں اس نکاح کی اصلیت اچھے سے معلوم ہے. پھر میں تمہیں کیوں اپنے ساتھ گھسیٹتا رہوں ……. ؟؟
تم اپنوں میں رہو. یہ تمہاری بہت اچھی جگہ شادی کر دیں گے. جیسے نور کے لیے انہوں نے بدر کو پسند کیا ہے تو تمہارے لیے بھی کوئی اچھا سا، شریف سا، لڑکا دیکھیں گے.
میرے ساتھ زندگی بہت مشکل ہے تم نہیں گزار پاؤ گی. میرا ماضی بہت خراب ہے. جو یقینا میرے مستقبل پر اثر انداز ہوگا. میں اپنے ساتھ دوسروں کی زندگی مشکل میں نہیں ڈال سکتا اور ویسے بھی میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے. رازی نے ہانی سے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا.
مجھے نہیں پتہ میں نے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے. آپ جہاں بھی رہیں گے. میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گی. میں یہاں نہیں رہوں گی. ہانی نے ضدی لہجے میں جواب دیا.
ہانی بات سمجھنے کی کوشش کرو. میری ماما میری شادی میری کزن ساتھ کرنا چاہتی ہیں. ان کے بھی کچھ ارمان ہیں. میری اپنی خاندان کی کچھ رسمیں ہیں، روایات ہیں. میں بھی مجبور ہوں. میں اپنی مرضی نہیں کر سکتا اور اس نکاح سے پہلے یہ بات طے تھی کہ میں تمہیں وقت گزرنے کے ساتھ جیسے ہی حالات سازگار ہوں گے تو طلاق دے دوں گا. رازی نے اپنا غصہ ضبط کرتے جواب دیا.
مجھے طلاق نہیں چاہیے. ہانی کی آواز میں نمی گھلنے لگی.
میری ماں تمہیں پسند نہیں کرتیں اور یہ تم نے خود دیکھا تھا. رازی نے اسے تصویر کا ایک اور تاریک پہلو دکھایا
آپ پسند کرتے ہیں …..؟ ؟ ہانی نے اپنی نم آنکھوں سے رازی کی طرف دیکھا
بولیں ناااا آپ مجھے پسند کرتے ہیں یا نہیں _ ہانی کے اصرار پر رازی نے اس سے نظریں ملائیں. نہیں یک لفظی جواب ہانی کے اعصاب پر کسی ہتھوڑے کی طرح لگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا
بے رخی کی تو خیر ہے لیکن
بے حسی یاد رہے گی تیری
🪶🪶🪶🪶🪶
مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ صبح یہ اچھی بھلی تھی بلکہ بہت زیادہ خوش تھی پھر اچانک اسے کیا ہوا ……. ؟؟ یوسف صاحب نے ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھتے ہوئے انتہائی پریشانی سے بدر اور رازی کی طرف دیکھ کر کہا تو رازی اپنا رخ موڑ گیا.
ابا آپ گھر جا کر آرام کریں میں اور رازی یہاں پر ہی ہیں. ویسے بھی کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے. سب ٹھیک ہے. بدر نے یوسف صاحب کو تسلی دیتے گھر بھیجنا چاہا
نہیں مجھے گھر نہیں جانا. میں اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر ہی گھر جاؤں گا. یوسف صاحب کے انکار پر بدر اٹھ کھڑا ہوا.
چلیں پھر آپ یہاں اپنی بیٹی کے پاس بیٹھیں. میں گھر چلا جاتا ہوں کیونکہ مجھے آرام کی سخت ضرورت ہے. میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے. بدر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے. یہ کس طرح انکل سے بات کر رہا ہے …..؟ ؟ رازی پہلی بار باپ بیٹے کی گفتگو میں شامل ہوا.
جب انہیں میری بات سمجھ نہیں آرہی تو پھر میں کیا کروں ….. ؟؟ میں کہہ تو رہا ہوں کہ آپ گھر جائیں. آپ کا بی پی ہائی ہو جائے گا. میں یہاں موجود ہوں مگر انہیں مجھ پر یقین ہی نہیں ہے. مجھ پر نہیں ہے تو رازی پر ہی یقین کر لیں. یہ اس کا شوہر ہے. بدر نے غصے سے یوسف صاحب کی طرف دیکھا
انکل ویسے یہ صحیح کہہ رہا ہے. آپ اتنی سردی میں یہاں بیٹھیں گے. تو بیمار پڑ جائیں گے. آپ گھر جائیں میں اور بدر یہاں موجود ہیں نااااا
رازی نے یوسف صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا اچھا اگر تم دونوں اتنا زور لگا رہے ہو تو میں گھر چلا جاتا ہوں مگر میری بچی کا بہت خیال رکھنا. مجھے اس میں اپنی بہن کا عکس نظر آتا ہے. شاید اسی طرح میں اپنے گناہ کا کفارہ ادا کر سکوں. یوسف صاحب دکھ سے کہتے اٹھ کھڑے ہوئے. ابا میں آپ کو گھر چھوڑ آتا ہوں. تب تک رازی یہیں موجود ہے. بدر نے یوسف صاحب ساتھ چلتے ہوئے کہا زیادہ ڈرامے بازی کی ضرورت نہیں ہے. میرے ہاتھ پاؤں سلامت ہے. میں خود ہی گھر چلا جاؤں گا اور گھر کون سا مریخ پر ہے کہ مجھے جانے میں بہت ٹائم لگے گا. یہ پچھلی گلی میں تو میرا گھر ہے. یوسف صاحب کہتے بڑے بڑے قدم اٹھاتے نظروں سے دور ہونے لگی یار ویسے تیرا ابا ہے بڑا زبردست مجھے ایسے رعب دار بابے بہت پسند ہیں. رازی کے تبصرے پر بدر پلٹا
اگر تجھے پسند ہے تو تُو رکھ سکتا ہے. مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ اب تیری ہمارے ساتھ رشتہ داری بنتی ہے. لیکن خیر تو مجھے یہ بتا کہ ہانی کو کیا ہوا ہے ….؟؟ بدر فوراً اصل مدعا کی طرف لوٹا
مجھے کیا پتہ کیا ہوا ہے. تیری یزن ہے تجھے پتہ ہونا چاہیے …..؟؟ رازی نے کندھے اچکائے
میں نے تجھے اس سے بات کرتے دیکھا تھا. لہذا جھوٹ کی گنجائش نہیں بچتی. بدر نے ایک ایک لفظ پہ زور دیتے جتلایا
اچھا تو تُو اب میری جاسوسی بھی کرے گا ….؟؟ رازی نے بینچ ساتھ ٹیک لگائی.
مجھے تیرا گھٹیا رومینس دیکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے. اس سے تو بہتر ہے کہ میں پاکستان کا ہارا ہوا میچ دیکھ لوں. وہ پھر بھی بہتر ہے. بدر نے منہ بنایا.
میں نے کچھ پوچھا ہے کہ تو نے اسے کیا کہا ہے جس کی اس نے اتنی پریشانی لے لی ہے. ننھی سی جان ہے اس کی تجھے شرم نہیں آتی. بدر نے رازی کی طرف سے مکمل خاموشی پر دوبارہ پوچھا
ننھی سی جان ہے اس کی اسی لیے مجھے شرم آتی ہے مگر اسے یہ بات سمجھ نہیں آتی. رازی نے سنجیدگی سے کہا تو بدر نے اسے گھورا
اس نے ایک ہی ضد لگا رکھی ہے کہ میں اسے اپنے ساتھ لے کر جاؤں جبکہ تو اچھے سے جانتا ہے کہ ماں اسے قبول نہیں کریں گی اور اگر کر بھی لیں گی تو میرے لیے بہت سارے مسئلے پیدا ہو جائیں گے.
ابھی میں نے ناجو بابا کو بھی سیٹ کرنا ہے تو جانتا ہے کہ ان کی میری زندگی میں بہت اہمیت ہے. وہ جہاں غلط تھے میں نے ان کا ساتھ نہیں دیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کا کبھی بھی ساتھ نہیں دوں گا یا میں ان کا ساتھ چھوڑ دوں گا. میں جو کچھ بھی ہوں انہی کی وجہ سے ہوں.
مگر یہ ساری باتیں اسے سمجھ نہیں آرہی. وہ ابھی بہت چھوٹی ہے اور میں اسے اپنے ساتھ تمام مسائل میں گھسیٹنا نہیں چاہتا. رازی کے جواب پر بدر اسے خاموشی سے دیکھنے لگا
اب تو کیا “الو” کی طرح مجھے گھورے جا رہا ہے. منہ سے کچھ بول تاکہ مجھے پتہ چلے کہ تو اب مزید کس قسم کی بکواس کرنا چاہ رہا ہے. رازی کے پوچھنے پر بدر نے ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالی.
بندہ ایسے الٹے کام نہیں کرتا نا اااااا جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں مسائل پیدا ہوں. اب مجھے دیکھ بالکل سیدھی سادھی سی لائف ہے کوئی مسئلہ نہیں کوئی ٹینشن نہیں. بدر نے جتلانے والے انداز میں رازی کو دیکھا
بدر میری جان یہ سب باتیں تو مجھے کہہ رہا ہے. لگتا ہے تیری طبیعت خراب ہو رہی ہے. تجھے اصطبل کا چکر لگانا پڑے گا ویسے بھی شانی تجھے بہت یاد کر رہا ہے. رازی نے طنزاً مسکراتے ہوئے اپنا موبائل جیب سے نکالا تو آگے گڑیا کا میسج چمک رہا تھا.
اللہ خیر _
پتہ نہیں اماں نے اب کیا کیا ہو گا ہانی کے چکر میں صبح سے موبائل ہی نہیں دیکھا. رازی نے کہتے میسج اوپن کیا.
ایک تو اس کمینے شخص شانی کا میرے سامنے ذکر نہ کیا کر اور دوسرا اب تو میرا احترام کر آخر میں تیرا سالا ہوں. بدر نے احتجاج کیا جبکہ رازی میسج پڑھ کر مسکرا رہا تھا.
ویسے یہ بہنیں بھی کمال چیز ہوتی ہے. بھائی کے بگڑے کام بنا دیتی ہیں. رازی نے خود کلامی والے انداز میں کہا تو بدر نے اسے گھورا
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے. بدر نے دہرایا
اچھا سالے صاحب میں تیرا بہت عزت اور احترام کروں گا اگر تو کہے تو میں تیرے پاؤں بھی دبا دیتا ہوں. رازی نے جیسے ہی یہ جملہ ادا کیا بدر اچھل کر کھڑا ہو گیا.
خبردار جو تو نے میرے پاؤں کو ہاتھ لگایا. مجھے یاد ہے ایک دفعہ تو نے مجھے پاؤں دبانے کے بہانے کس طرح سڑک پر گھسیٹا تھا. بدر کی یاداشت پر رازی نے مسکراتے ہوئے اسے داد دی.
آپ میں سے کون ہانیہ رازیان کے ہسبینڈ ہے. انہیں ڈاکٹر صاحب بلا رہے ہیں. اس سے پہلے کہ وہ دونوں مزید ایک دوسرے سے الجھتے نرس کی آواز پر خاموشی سے اسے دیکھنے لگے.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.