Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

پتہ نہیں بدر کو کیا ہوتا جا رہا ہے. اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے چڑنا شروع کر دیتا ہے. میں تو کہتی ہوں کہیں کسی نے ہمارے بچے پر کچھ کر تو نہیں دیا ……؟ ؟ فائزہ بیگم نے انتہائی پریشانی سے یوسف صاحب کی طرف دیکھا جو ان کی بات پر مسکرا رہے تھے.
آپ کو میری ہر بات مذاق لگتی ہے جبکہ میں بالکل سنجیدہ ہوں. ایک ہی تو ہماری اولاد ہے. اگر اسے کچھ ہو گیا تو ہم کیا کریں گے …..؟ ؟ فائزہ بیگم کے چہرے سے پریشانی صاف واضح تھی.
ایک تو تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے پریشان ہو جاتی ہو جیسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے. تمہارے بیٹے پر کسی نے کچھ نہیں کیا ہے. الٹا مجھے تو ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ یہ کسی کو کچھ کر نہ دے. جیسا اس کا دوست ہے یہ بھی ویسا ہی ہوتا جا رہا ہے. فارغ بیٹھے بیٹھے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے. یوسف صاحب کی بات پر فائزہ بیگم نے ناراض نظروں سے ان کی طرف دیکھا
پتہ نہیں کیوں آپ ہر وقت بدر سے خائف سے رہتے ہیں. مجھے آپ کی یہ بات اچھی نہیں لگتی. بیٹے سے بدگمانی اچھی نہیں ہوتی. آپ کبھی بھی اس سے دوستانہ انداز میں بات نہیں کرتے. فائزہ بیگم افسوس سے سر ہلاتی کمرے سے باہر نکلنے لگی تو اندر داخل ہوتے بدر سے ٹکرا گئیں.
تم کیا عورتوں کی طرح باہر کھڑے ہو کر ہماری باتیں سن رہے تھے. فائزہ بیگم نے اپنا سر ملتے ہوئے غصے سے کہا
ماما مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کی باتیں سننے کا _ میں تو ابا سے کوئی بات کرنے آیا تھا کہ آپ نے میرا ناک توڑ دیا . بدر ناک سہلاتا اندر داخل ہوا جبکہ اس کی بات سن کے فائزہ بیگم نے حیرت سے اس کی پشت کو دیکھا برخوردار جب سے پیدا ہوئے ہو. میرا خیال ہے آج پہلی بار زندگی میں خیال آیا ا ہے. باپ سے بات کرنے کا یوسف صاحب نے طنز کرتے ہوئے اخبار بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی
ابا مجھے پورا یقین ہے کہ آپ میرے “سگے باپ” ہیں مگر پتہ نہیں آپ کو میں اپنی “سگی اولاد” کیوں نہیں لگتا، ہر وقت طنز کرتے رہتے ہیں. بدر نے خلاف معمول قدر ناراضگی سے کہتے ہوئے نیچے پڑے کشن کو پاؤں مار کر اپنے قریب کیا
جو بھی بات کرنی ہے جلدی کرو میرے پاس تمہارے ان فضول باتوں کا وقت نہیں ہے. ویسے بھی جس زمانے میں تم پیدا ہوئے تھے اس وقت ہسپتالوں میں بچے تبدیل اور چوری ہونا عام بات تھی. یوسف صاحب نے فوراً حساب برابر کیا.
ابا میں آپ سے یہ کہنے آیا تھا کہ میں نور سے شادی کرنے کو تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے. بدر نے بغیر لگی لپٹی کے بات شروع کی تو فائزہ بیگم جو کمرے سے باہر جانے کی نیت سے کھڑی تھیں فورا پلٹیں
شادی تو تمہاری ہر حال میں نور ساتھ ہی ہوگی مگر پھر بھی اپنے دل کی تسلی کے لیے بتاؤ کیا شرط ہے حالانکہ شرط رکھنے کا حق نور کا بنتا ہے. …..؟ ؟ یوسف صاحب نے عینک اتارتے ہوئے پوچھا
آپ مجھے شادی کے بعد یورپ بھیجیں گے. میں پاکستان میں نہیں رہوں گا. میں باہر جانا چاہتا ہوں. بدر نے یوسف صاحب کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا
اگر تم اپنے دوست کی وجہ سے “اندر” نہ گئے تو میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں “باہر” بھیج دوں گا. یوسف صاحب نے کہتے ہوئے دوبارہ اپنی عینک لگا لی
چند لمحے بدر باپ کو دیکھتا رہا اور پھر خاموشی سے اٹھ کر باہر نکل گیا جبکہ فائزہ بیگم ہکا بکا دروازے میں کھڑی تھی.
اسے اچانک کیا ہوا ……؟ ؟ فائزہ بیگم دل میں سوچتی اس کے پیچھے چل دیں.
🪶🪶🪶🪶🪶
کیسا لگا میرا آئیڈیا …… ؟؟ بدر نے اپنی بات کے اخر میں انتہائی خوشی سے نور کی طرف دیکھا
ایک دم بکواس، کسی نہ کام کا نور منہ بناتی دوبارہ نرم گھاس پر چلنے لگی. آج کل اس کا بہت ٹرینڈ ہے یقین مانو یہ آئیڈیا ایک دم کام کرے گا. بدر نے نور کے پیچھے جاتے ہوئے اونچی آواز میں کہا اگر چچا جان نے سن لیا تو تمہارا آئیڈیا کام کرے نہ کرے یہ تو پتہ نہیں مگر تم کسی کام کرنے جوگے نہ رہو گے. نور نے ارد گرد لہراتے درختوں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا میرے ابا کو سچی “خوابیں” نہیں آتیں. ہاں یہ الگ بات ہے کہ تم جا کر جاسوسی کر دو. بدر نے نور کے برابر لان میں ٹہلتے ہوئے جواب دیا. مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی. تم اچھی خاصی گفتگو کر رہے تھے پھر تمہیں ایک دم چچا جان کی “جرابوں” کا خیال کیسے آگیا …..؟ ؟ نور نے رک کر بدر کی طرف دیکھا نور بی بی تم نے جتنا مجھے بے وقوف بنانا تھا بنا لیا ہے میں اب اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ تمہارے اس دماغ میں کوئی خرابی نہیں ہے. جب تم نے کسی بات کا جواب نہیں دینا ہوتا تو تم یہ الٹی گنتی گننا شروع کر دیتی ہو. لہذا میرے سامنے آئندہ یہ ایکٹنگ مت کرنا. سمجھی …… ؟؟ بدر نے انگلی سے نور کی کنپٹی کو چھوا. جس پر نور اسے دیکھنے لگی. ایسے کیا دیکھ رہی ہو. میں نے کوئی فارسی نہیں بولی. تم اچھے طریقے سے سمجھ رہی ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ……؟ ؟ بدر نے نور کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا “ہزاروں ان سے قتل ہوئے ہیں خدا کی بندی سنبھال آنکھیں” میں نے آج پہلی بار غور کیا ہے. نور تمہاری آنکھیں تو بہت پیاری ہیں. بدر کے اچانک ایسا بولنے پر نور نے ایک گھوری سے اسے نوازا. تم اب اتنے کمینے ہو گئے ہو کہ میرے ساتھ بھی فلرٹ کرو گے …… ؟؟ نور نے بدر کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا میں فلرٹ نہیں کر رہا. میں بلکل سچ کہہ رہا ہوں. نور تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں. بدر نے دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے اپنی بات دہرائی ہم دونوں ایک دوسرے کو کب سے جانتے ہیں …… ؟؟ نور نے سینے پہ ہاتھ باندھتے ہوئے تفتیشی انداز میں بدر کی طرف دیکھا مجھے سہی طرح تو یاد نہیں مگر میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تمہیں اپنے گھر میں پایا ہے اور مجھے لگتا ہے جب میری آنکھیں بند ہوں گی تب بھی تم میرے گھر میں پائی جاؤ گی. بدر نے بھرپور سنجیدگی سے جواب دیا بدر وہ جو تمہارا اکلوتا دوست ہے وہ کس چیز کا نشہ کرتا ہے. …. ..؟؟ نور کا سوال اتنا اچانک تھا کہ بدر نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تم کیوں پوچھ رہی ہو …… ؟؟ بدر کو تعجب ہوا. کیونکہ تم بھی نشہ کرنے لگے ہو. اوٹ پٹانگ باتیں تو تم بچپن سے ہی کرتے تھے مگر اب تو بہکی بہکی بھی کرنے لگے ہ. و میں یہ بات ابھی جا کر چچا جان کو بتاتی ہوں. نور دھمکی دینے کے انداز میں واپس مڑی جب کہ ساری صورتحال کو سمجھتے ہوئے بدر چیخ پڑا نور رکو ابا سے کچھ مت کہنا پلیز میری بات تو سنو. بدر نے تیزی سے نور آگے بڑھتے ہوئے اس کا راستہ روکا 🪶🪶🪶🪶🪶 تم نے آخر یہ کیوں کیا مجھے بس اس کا جواب چاہیے ….؟؟ رازی کے سوال پر برتن دھوتی رمشا کے ہاتھ سے پیالی چھوٹتے چھوٹتے بچی. میں نے
رمشا نے سنبھلتے ہوئے جواب دینا چاہا.
اب یہ مت کہنا کہ تم نے کچھ نہیں کیا. رازی دروازے ساتھ ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا.
دیکھو رازی وہ ایک غیر لڑکی ہے اور میں تمہاری کزن _ ہمیں یوں “کسی” کے لیے آپس میں الجھنا نہیں چاہیے. رمشا نے ہاتھ صاف کرتے جواب دیا. غیر، کسی رازی لفظ دہراتا مسکرایا.
اگر اسے کچھ ہو جاتا تو پتہ تمہارا کیا انجام تھا. سیدھی سادی جیل تھی. رازی کندھا جھاڑتا سیدھا ہوا.
مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم اس کو اتنا سیریس کیوں لے رہے ہو. وہ ایک حادثہ تھا کسی کو بھی برسات کے موسم میں کرنٹ لگ سکتی ہے. رمشا نے اپنا دفاع کیا.
اچھا اگر ایسا ہے تو پھر تمہیں کیوں نہیں لگی اسے ہی کیوں لگی ……. ؟؟ راز دو قدم آگے آیا.
اچھا تو تمہاری خواہش یہ تھی کہ اس کی بجائے مجھے کرنٹ لگتی اور میں مر جاتی. رمشا کی آنکھوں میں عجیب بے یقینی اور لہجے میں دکھ تھا.
میں نے یہ تو نہیں کہا رازی نے رمشا کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے اپنے اور اس کے درمیان کا فاصلہ سمیٹا
میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ آئندہ یہ حرکت نہیں ہونی چاہیے. رمشا اس لڑکی سے فاصلے پر رہو. مجھے بہت برا لگتا ہے جب اسے کوئی تکلیف پہنچاتا ہے. رازی پیار سے کہتا رمشا کا گرا دوپٹہ اس کے کندھے پر سیدھا کرتا پلٹا
اچھا تو یہ بات ہے وہ گڑیا کی سہیلی کم اور تمہاری زیادہ ہے. رمشا کی بات پر رازی جاتے پلٹا
میں نے تمہیں جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے. تمہاری مرضی ہے تم جو مرضی سمجھو مگر میں نہیں چاہتا کہ میری اور تمہاری دوستی خراب ہو. ہم کزن تھے، کزن ہیں اور کزن ہی رہیں گے. رازی اپنے جملے پر زور دیتا باہر نکل گیا.
🪶🪶🪶🪶🪶
اچھا تو بالآخر تو اپنی کزن سے شادی کے لیے راضی ہو گیا ہے. بہت مبارک ہو. رازی کی مبارک پر بدر ہلکا سا مسکرایا
اب اندازہ ہوا کہ ان چاہی شادی کی مبارکباد کیسے دی اور وصول کی جاتی ہے. یاد کر تو نے بھی مجھے مبارکباد دی تھی. رازی کے یادہانی پر بدر مسکرا بھی نہ سکا
پتہ نہیں وہ کون خوش قسمت ہوتے ہیں جو اپنی کزنز سے شادی کے لیے مرتے جاتے ہیں. جن کی کزنز بہت پیاری لائق اور پتہ نہیں کیا کیا ہوتیں ہیں. بدر نے گاڑی ساتھ ٹیک لگائے اردگرد آتے جاتے لوگوں کی طرف حسرت سے دیکھا
مسٹر بدر اگر آپ بدر سے در بدر نہیں ہونا چاہتے تو چپ چاپ اپنی کزن سے شادی کریں اور عیش کی زندگی گزاریں. اتنی ناشکری جیب کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے. رازی نے بدر کے کندھے پر اپنا بازو پھیلایا.
لوگ ٹھیک کہتے ہیں بندہ شادی کے بعد پریشان ہو جاتا ہے. اب ہم دونوں دوستوں کو ہی دیکھ لو. اچھی خاصی زندگی گزر رہی تھی عجیب مسائل میں الجھ گئے ہیں. بدر نے رازی کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
تُو تو ایسے خوش ہو رہا ہے جیسے وہ مر گئی ہے. ویسے وہ ہے کدھر، ابھی تک ہسپتال ہی ہے یا تو گھر لے گیا ہے …… ؟؟ بدر کو اچانک نور کا خیال آیا تو سیدھا ہو کے پوچھنے لگا
میں نے ناچو بابا کے کہنے پر اسے “سرداروں کی حویلی” چھوڑ دیا ہے. رازی کا اطمینان قابل دید تھا جبکہ اس کے جواب پر بدر کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی
عجیب بے وقوف انسان ہے وہ جگہ ہے ایسی جہاں ہانی کو چھوڑا جا سکے. تیری تو مت ماری گئی ہے. بدر نے پریشانی سے رازی کی طرف دیکھا
ناچو بابا کو لگتا ہے کہ میں ان کا کام نہیں کر سکتا اس لیے انہوں نے خود ہی اس چیز کا بندوبست کر لیا ہے. رازی نے جوس کا ڈبہ پھینکتے ہوئے ہاتھ جھاڑے.
یار مجھے تو نور کے لیے بہت دکھ لگ رہا ہے. تو اس کے لیے کچھ کرنااااااااا . میں تو سمجھا تھا کہ اتنے دنوں میں تجھے اس سے محبت ہو گئی ہوگی اور اب تو اسے مرنے نہیں دے گا مگر میرا اندازہ غلط نکلا. بدر نے بونٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا
ایک تو ہی نہیں یہاں سب کا ہی اندازہ یہی ہے کہ مجھے اس سے اتنے دنوں میں محبت ہو گئی ہے. اس لیے میں اسے مرنے نہیں دے رہا. مگر بات یہ نہیں ہے بات کچھ ہو رہا ہے. رازی نے بدر کی طرف جھکتے رازداری سے کہا
کیا بات ہے …..؟ ؟ بدر نے اسی انداز میں جواب دیا
ناجو بابا اگر اس لڑکی کا اتنا پیچھا کر رہے ہیں تو مطلب اس لڑکی میں کچھ خاص ہے اور میں اب وہ خاص جاننا چاہتا ہوں ……؟ ؟ رازی نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا
مطلب …….؟؟ بدر نے ناسمجھی سے رازی کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی طرف کا دروازہ کھولا
مطلب یہ کہ ہم آج رات دونوں جہلم جا رہے ہیں. رازی نے اطلاع دیتے گاڑی سٹارٹ کی.
ہم نہیں مسٹر صرف آپ
گاڑی روک میں نے نیچے اترنا ہے بدر نے سٹیرنگ پر ہاتھ مارا
میرا ابا مجھے پہلے ہی گھر میں ہر وقت تیرے نام کے طعنے دیتا رہتا ہے اور جو کسر رہ گئی ہے وہ تو آج نکل جائے گی. بدر نے بھر پور احتجاج کیا.
جو دوست کا ساتھ نہیں دیتے وہ “کتے بے غیرت” ہوتے ہیں. رازی نے بغیر بریک لگائے کہا
اطلاع کا شکریہ _ بدر نے تشکر بھری نظروں سے رازی کو دیکھا تو رازی کا بےساختہ قہقہ گاڑی میں گونجا.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.