Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

تم نے اپنے بھائی کو فون کیا تھا کیا کہہ رہا تھا کب تک آئے گا؟؟ یہ لڑکا تو پتہ نہیں کن چکروں میں پھنس گیا ہے. آگے پھر بھی کبھی کبھی اپنی شکل دکھا دیتا تھا مگر اب تو ایسا غائب ہوا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ _ بانو بیگم نے افسوس سے کپڑے طے کرتے ہوئے گڑیا کی طرف دیکھا امی ایک تو آپ بھائی پر ہر وقت شک کرتی رہتی ہیں. دوسرا گدھے کے سر سے سینگ والی کہاوت کچھ سجی نہیں. گڑیا نے مسکراتے ہوئے بانو بیگم سے کپڑے پکڑے زیادہ دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ہے. یہ کپڑے الماری میں رکھو اور اسے فون ملاؤ. وہ کہہ رہا تھا کہ میں آجاؤں گا. لیکن کب آئے گا کچھ پتہ نہیں اوپر سے تمہاری پھپھو نے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے. وہ چاہتی ہیں کہ ہم جلد از جلد رمشا کی منگنی کر دیں. بانو بیگم نے گڑیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو الماری میں کپڑے رکھ رہی تھی. امی آپ پتہ نہیں کیسے بھائی کی بات پر ایمان لے آتیں ہیں. یاد نہیں جب خالو کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور ہم نے بھائی کو فون کیا تھا کہ جلدی آئیں بھائی نے کہا تھا میں آدھے گھنٹے کے اندر آیا اور بھائی کہیں دوسرے دن جا کر آئے تھے. گڑیا نے ہنستے ہوئے الماری کا پٹ بند کیا تو بانو بیگم نے اسے ناگواری سے دیکھا تیرے پاس میری ہر بات کا جواب آگے سے موجود ہوتا ہے. لڑکیوں کو اتنی زبان نہیں چلانی چاہیے. اچھا نہیں ہوتا ان کے لیے اور جو کہا ہے وہ کر. بانو بیگم نے دور پڑے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے ڈانٹا امی کیا آپ سچ مچ رازی بھائی کی شادی رمشا آپی سے کر دیں گی …… ؟؟ گڑیا نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر بانو بیگم پوچھا تیرے خیال سے میں یہ مذاق کر رہی ہوں. آخر رمشا میں برائی ہی کیا ہے …… ؟؟ گھر کی بچی ہے. اپنی انکھوں کے سامنے پلی بڑی ہے. ہاں مزاج کی تھوڑی تیز ہے لیکن چلو خیر ہے. بانو بیگم نے بسترے پر اپنی ٹانگیں سمٹتے ہوئے جواب دیا امی وہ جو لڑکی آئی تھی کیا نام تھا اس کا ہاں ہانیہ آپی وہ آپ کو کیسی لگی ہے. مجھے تو بڑی اچھی لگی تھی. اس کے بارے میں اپ کا کیا خیال ہے ……. ؟؟ گڑیا نے موبائل ہاتھ میں لیتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا
اس لڑکی کا تو نام بھی مت لینا. مجھے تو ایسی لڑکیاں اچھی نہیں لگتی. کیسے رازی کے آس پاس گھومتی تھی جیسے رازی سے اس کا کوئی رشتہ ہو. بےشرم بانو بیگم کے لہجے میں نفرت کا عنصر نمایاں تھا. امی اگر آپ غور کرتی نااااااا تو وہ بھائی کے آس پاس نہیں گھومتی تھی بلکہ بھائی گڑیا نے بڑبڑاتے ہوئے فون کان ساتھ لگایا
امی بیل جا رہی ہے. آپ خود ہی بات کر لیں. گڑیا نے موبائل ماں کی طرف بڑھایا.
مجھے اس جمعہ کو تو گھر پر چاہیے. میں نے تیری اور رمشا کی دعائیں خیر کرانی ہے. بانو بیگم نے موبائل پکڑتے ہی اونچی اواز میں کہا تو گڑیا منہ پہ ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی
امی میں نے کہا بیل جا رہی ہے یہ نہیں بولا کہ بھائی نے فون اٹھا لیا ہے. گڑیا کا ہنسی سے برا حال تھا. اس سے پہلے کہ بانو بیگم گڑیا کو ڈانٹتی سپیکر سے رازی کی آواز ابھری.
ہاں میں خیریت سے ہوں. تجھے یہ بتانا تھا کہ اس جمعرات کو میں نے تیری اور رمشا کی دعائے خیر رکھی ہے.وقت پر پہنچ جانا. مجھے رشتہ داروں کے سامنے ذلیل اور رسوا نہ کرنا. بیگم کے لہجے میں واضح ناراضگی تھی.
امی آپ کیسی باتیں کرتی ہیں …..؟ ؟ میں آ جاؤں گا. بس ایک ضروری کام میں پھنس گیا تھا. رازی نے جھوٹ کا سہارا لیا.
آپ کی طبیعت اب کیسی ہے …. ؟؟ رازی نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا
جب آئے گا تب دیکھ لینا ابھی میری نماز کو دیر ہو رہی ہے. مانو بیگم نے کہتے ہوئے موبائل گڑیا کی طرف بڑھایا جسے گڑیا نے جلدی سے پکڑ لیا
بھائی ہانیہ بھابھی کیسی ہیں …. ؟؟ گڑیا نے ماں کے کمرے سے نکلتے ہی آہستہ اواز میں پوچھا
پتہ نہیں، مجھے بھی کافی دن ہوئے دیکھے ہوئے. ابھی اسی طرف جا رہا ہوں. رازی نے گاڑی کو مڑتے ہوئے جواب دیا.
بھائی آپ نے رمشا آپی سے بالکل منگنی نہیں کرنی. مجھے وہ اچھی نہیں لگتی. ہاں ہانیہ بھابھی بہت اچھی ہیں. انھیں میرا سلام کہیے گا. گڑیا نہیں کہتے ہوئے فون بند کر دیا کہیں بانو بیگم سن لیں. جب کہ رازی نے مسکراتے ہوئے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا جہاں گجرے پڑے مہک رہے تھے.
“ویسے کچھ خاص لگاؤٹ نہیں پھولوں سے مجھے، گجرے لیکن تیری کلائی میں سجتے ہیں.”
🪶🪶🪶🪶🪶
مجھے شروع سے ہی نرم نرم گھاس پر ننگے پاؤں چلنا، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے کھیلنا، درختوں کا ہلنا، پتوں کی آوازیں یہ سب چیزیں بہت اچھی لگتی ہیں اور میں شام اور زیادہ تر رات کو لان میں آجاتی ہوں جبکہ مجھے چچی غصے بھی ہوتی ہیں کہ اس ٹائم باہر نہیں جاتے. نور نے ہانی ساتھ ٹہلتے ہوئے کہا اچھا ہانی نے یک لفظی جواب دیا.
یار تم اتنی ڈری سہمی کیوں رہتی ہو ….؟؟ جب سے تم آئی ہو. تمہارے لفظ میں انگلیوں پہ گن کے بتا سکتی ہوں جو تم نے ابھی تک ادا کیے ہیں. نور نے رک کر اپنے برابر چلتی ہانیہ کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دی
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے. ہانی نے تردید کی.
میرے خیال سے تم رازی بھائی کو مس کر رہی ہو. ظاہری سی بات ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے اور انھوں نے تمہیں ہمارے گھر بھیج دیا ہے. نور نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
نہیں ایسی بات بھی نہیں ہے. ہانی نے پھیکی مسکراہٹ ساتھ جواب دیا.
ہانی کہیں تمہاری شادی گن پوائنٹ پر تو نہیں ہوئی. اکثر بدمعاش ایسے ہی کرتے ہیں. مجھے تو اس بات کا پہلے خیال ہی نہیں آیا. نور نے اچانک مڑتے ہوئے ہانیہ سے پوچھا تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
“بدمعاش” کون بدمعاش …..؟ ؟ تم رازی کو بدمعاش بول رہی ہو. (ڈیرے پر جتنے بھی لوگ آتے تھے ہانی کو ان میں رازی ہی شریف لگتا تھا. ) ہانی کو لگا جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہے.
کیوں کیا رازی بھائی بدمعاش نہیں ہیں. چچا تو سارا دن انہیں غنڈا موالی اور پتہ نہیں کیا کچھ بولتے رہتے ہیں. نور نے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے پوچھا
شاباش نور بی بی بہت ہی اچھا یعنی تم ایک نئی نویلی دلہن کے سامنے اس کے دولہا کی اتنی برائی کر رہی ہو تمہاری تعریف تو بنتی ہے. اس سے پہلے کہ ہانیہ کوئی جواب دیتی بدر کی آواز پر دونوں نے مڑ کر پیچھے دیکھا
میں نے کچھ غلط نہیں کہا میں نے صرف پوچھا ہے کہ کیا رازی بھائی ایسے ہی ہے….؟؟ نور نے لفظ بھائی پر بھرپور زور دیا
ہانیہ تم اس کی کسی بات کو سیریس مت لینا. یہ بہت فضول بولتی ہے. اس کا اس کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے. اس کی زندگی کے دو ہی مقصد ہیں یا لوگوں میں لڑائی کروانا خاص طور پہ میرے اور میرے والدین کے درمیان اور یا پھر tom & jarry دیکھنا. بدر نے فوراً بات بدلی.
یہ جھوٹ بول رہا ہے. میں فضول نہیں بولتی بلکہ میں تو بولتی ہی بہت کم ہوں. اس کی حرکتوں ہی ایسی ہیں جس پر اس کی بےعزتی کی جائے. یہ تو چچا جان کا بڑا ظرف ہے کہ اسے گھر میں رکھا ہوا ہے اگر میں اس کا باپ ہوتی تو میں اسے گھر سے نکال دیتی. نور نے فوراً حساب برابر کیا.
تم جتنی مرضی کوشش کر لو تم کسی بھی صورت میرا باپ نہیں بن سکتی ہاں البتہ میں تمہارے بچوں کا باپ آسانی سے بن سکتا ہوں. بدر کے جملے پر ہانیہ اور نور دونوں نے ہکا بکا ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو اُن کی حیرانگی پر بدر کو اپنے جملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا. تبھی گیٹ پر ہارن کی آواز سنائی دی.
یہ تو رازی کی جیب کا ہارن ہے. ہانیہ نے فوراً گیٹ کی طرف پلٹتے ہوئے کہا جبکہ بدر نے کچھ شرمندگی سے نور کی طرف دیکھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی.
جیسے ہی گیٹ کھلا گرین رنگ کی جیپ گیراج میں انٹر ہوئی اور ہانیہ کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا. رازی بلیک شلوار قمیض میں شہزادوں کی ان بان ساتھ باہر نکلا.
کبھی کبھی ہمیں کوئی شخص ویسے ہی اتنا اچھا اور پیارا لگنے لگتا ہے کہ ایک دم دل کی دنیا بدل جاتی ہے. ہانیہ جو کچھ دیر پہلے بہت اداس تھی اور اپنے آپ کو اجنبی لوگوں میں خیر محفوظ سمجھ رہی تھی رازی کو دیکھتے ہی مطمئن ہو گئی.
خوبصورت ہرا بھرا لون، ٹھنڈی میٹھی ہوا، اس پر گرے بادل اور بادلوں میں گری سرمئی سادہ شلوار قمیض میں ہانیہ رازی کو بہت پیاری لگی وہ اسی منظر کا حصہ لگ رہی تھی.
ارے واہ تُو تو بڑی جلدی آگیا. میرا تو خیال تھا کہ تو نہیں آئے گا. یہ دعوت کی کشش ہے یا _ ا بدر نے اسے دیکھتے ہی طنز کیا جس پہ رازی نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے بدمعاش بھی کتنا خوش لباس ہو گئے ہیں یا سب میڈیا کی کرامت ہے. نور نے ہانی کے کان میں سرگوشی کی. جس پر ہانی نے مسکراتے ہوئے رازی سے نظریں پھیر لیں. آپ تو دیکھنے میں کہیں سے بھی بدمعاش نہیں لگتے. میں نے سوچا تھا کہ آپ vigo پر آئیں گے. پیچھے چار پانچ لوگوں نے کلاشنکوف پکڑی ہوگی. آپ کی شرٹ کے بٹن کھلے ہوں گے. آپ نے چادر کندھوں پہ ڈالی ہوگی. ہاتھ میں آپ کے پسٹل ہوگی. لیکن اپ تو اچھے خاصے ہیرو ٹائپ ہیں. نور کے تبصرے پر رازی نے اس کی طرف دیکھا آپ کو یقیناً مجھ پر حیرت ہو رہی ہوگی اور یہی حال میرا بھی ہے کہ اچھا خاصا انسان بدر کا دوست کیسے ہو سکتا ہے …..؟ ؟ نور کی بات پر رازی نے قہقہ لگایا جبکہ بدر نے اسے غصیلی نظروں سے دیکھا میرا خیال تھا باہر تو نہیں لیکن گھر میں تیری ضرور تھوڑی بہت عزت ہوگی مگر رازی نے بڑی اپنائیت سے بدر کے کندھے پر اپنا بازو پھیلاتے ہوئے پوچھا
میری زندگی میں جتنے بھی لوگ ہیں. مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ سارے کے سارے ہی کمینے، ذلیل اور کتے ہیں. وہ کوئی موقع بھی مجھے کاٹنے کا نہیں چھوڑتے. بدر کا جواب نور کو تپا گیا جبکہ رازی نے اسے خوب انجوائے کیا.
میں ابھی اندر جا کے چچا جان اور چچی جان کو بتاتی ہوں کہ تم کہہ رہے ہو کہ آپ انتہائی ذلیل، کمینے اور کتے ہیں پہلی اولاد دیکھی ہے وہ بھی اکلوتی جو اپنے والدین کے لیے اتنے گھٹیا لفظ استعمال کر رہی ہے. نور نے کہتے ہوئے اندر کا رخ کیا جبکہ بدر نے اپنا ماتھا پکڑ لیا
میں نے انہیں نہیں بولا بدر نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا “تم نے کہا ہے تمہاری زندگی میں جتنے بھی لوگ ہیں وہ سب” ان میں تمہارے والدین بھی اتے ہیں. نور نے مرتے ہوئے جواب دیا تو بدر اس کی طرف لپکا وہ نہیں چاہتا تھا کہ آج کوئی ڈرامہ رازی کے سامنے لگے. بدر کے جاتے ہی رازی نے ہانی کی طرف دیکھا جو خاموشی سے سر جھکائے کھڑی تھی.
کیسی ہو …… ؟؟ تم تو اچھی خاصی پیاری لگ رہی ہو. یہ کلر تم پر سج رہا ہے. رازی نے اپنی طبیعت کے برخلاف انتہائی نرمی سے پوچھا تو ہانی اداس ہو گئی.
دل نے کہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے اور اسے بتائے کہ اس نے اسے کتنا مس کیا ہے ….؟؟ مگر دونوں میں ایسا رشتہ نہ تھا کہ وہ اس کے گلے لگ کر روتی اور اسے بتاتی کہ وہ اس بن بہت اداس ہے. لہٰذا صرف مسکرا دی.
تمہارے لیے ایک اچھی خبر ہے. ناجو بابا کے خیال میں تم اب اس دنیا میں نہیں رہی. اب تم جہاں چاہو وہاں جا سکتی ہو. رازی نے ہلتے ہوئے درختوں کی طرف دیکھا
میں دوبارہ ڈیرے پر جانا چاہتی ہوں. ہانی کا جواب رازی کو سچ مچ جھٹکا دے گیا.
مگر کیوں تم تو وہاں سے نکلنا چاہتی تھی ……. ؟؟ رازی نے بے تابی سے پوچھا
اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہاں سے نکلنے کے بعد میں در بدر کی ٹھوکریں کھاؤں گی تو میں کبھی وہاں سے نکلنے کا نہ سوچتی.
آپ نے مجھے وہاں سے لا کر پہلے اپنے دوست کے گھر چھوڑ دیا یہ سوچے بغیر کہ وہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے. پھر آپ مجھے اپنے گھر لے گئے. جہاں آپ کی کزن اور والدہ نے میرے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا اور اس کے بعد یہ لوگ کیا میں ابھی بھی ڈیرے واپس جانے کی خواہش نہ کروں …… ؟؟ ہانی کے سوال رازی کو سچ مچ لاجواب کر گئے.
سوری مگر یہ سب کچھ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا. میں نے تمہیں اپنی طرف سے تحفظ ہی فراہم کرنا چاہا تھا مگر رازی نے اسے دیکھتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑا حیرت ہے جسے مارنے کا وعدہ کیا ہو آپ اسے تحفظ کیسے فراہم کر سکتے ہیں ……. ؟؟ ہانی سچ مچ آج رازی کو حیران کر رہی تھی. اس کا مطلب ہے کہ تمہیں سب کچھ پہلے سے ہی معلوم تھا. رازی نے ایک گہرا سانس تازہ ہوا میں چھوڑتے ہوئے ہاتھ کمر پر باندھے لہجہ تفتیشی تھا. جس پر ہانی زخمی سا مسکرا دی. بس اتنی مہربانی کریں کہ مجھے ڈیرے پر چھوڑ آئیں. ہانی کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے تھے. دیکھو میری بات سمجھنے کی کوشش کرو. مجھے لڑکیوں کو سمجھانا نہیں آتا لیکن
رازی نے ہانی کو بازوں سے تھامتے ہوئے کہا
میرے خیال سے یہ موسم رومینس کے لیے تو بہترین ہے مگر یہ جگہ نہیں کیونکہ تھوڑی دیر میں آس پاس کی چھتوں پر خاصی رونق لگ جائے گی اور آپ مفت میں میرے پورے علاقے کو بہترین تفریح مہیا کریں گے. کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی مفت میں آپ پ سے فائدہ اٹھائے لہذا اندر تشریف لے آئیں. بدر نے شرارتی آواز میں کہا تو رازی نے ہانی کو چھوڑتے ہوئے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا.
تیرے ساتھ تیرے گھر والے اور نور جو بھی کرتے ہیں تو وہ ڈیزرو کرتا ہے. رازی نے کہتے ہوئے ہانی کو اندر چلنے کا اشارہ کیا.
“کمینہ پن بھی دکھاؤں تو ہنسے لگتے ہیں _ جو گہرے دوست ہیں میرے، وہ مجھے سمجھتے ہیں.” بدر نے لہک کر شعر پڑھا تو رازی نے اسے ایک مکا رسید کیا جبکہ وہ خود بھی مسکرا رہا تھا. 🪶🪶🪶🪶🪶 میز رنگ برنگے خوشبودار کھانوں سے سجا ہوا تھا اور لذیذ خوشبوئیں اس کی بھوک کو یقینا بڑھا رہیں تھیں. کچھ سفر کی تھکاوٹ تھی اور کچھ گھر والوں کا خیال رازی نڈھال سا کرسی پر بیٹھا.
لگتا ہے تم بہت تھک گئے ہو. کھانا کھاؤ پھر کچھ دیر آرام کر لینا بعد میں بیٹھ کر باتیں کریں گے. مجھے تمہیں دیکھنے کا تم سے باتیں کرنے کا بہت شوق ہے کیونکہ بدر تم پر بہت مرتا ہے اور میں بدر پر __
بیٹا خوش تو ماں خوش، فائزہ بیگم نے محبت سے رازی کے آگے پلیٹ رکھی.
انٹی آپ شرمندہ نہ کریں (جو کہ تم ہوتے نہیں. بدر نے لقمہ دیا) ایسی کوئی بات نہیں ہے. میں بالکل آرام سے ہوں بلکہ مجھے تو شرمندگی ہو رہی ہے کہ میری وجہ سے آپ نے اتنی زحمت کی. رازی نے پلیٹ میں کھانا نکالتے ہوئے فائزہ بیگم کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھا
سالے تیری وجہ سے ہم نے کچھ نہیں کیا. تو خود سوچ اور ایمانداری سے بتا کہ تُو اس قابل ہے کہ تجھے اتنی عزت دی جاتی یہ تو ہانیہ کی وجہ سے ہے. بدر نے سامنے بیٹھی ہانی کی طرف اشارہ کیا تو رازی نے خلاف معمول مسکرا کر اسے دیکھا
ہانیہ سامنے بیٹھی ہے یہ میں ہوں. بدر نے اس کی مسکراہٹ پر جل کر جواب دیا
بدر اسے کچھ کھانے بھی دو بعد میں باتیں کر لینا. فائزہ بیگم نے قورمے کا ڈونگا رازی کی طرف کرتے ہوئے بدر کو ٹوکا
انٹی آپ آرام سے کھائیں میں کھا رہا ہوں اور انکل نظر نہیں آرہے …..؟ ؟ رازی نے فائزہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو بدر کو زبردست پھندہ لگا
کمینے تجھے میں آرام سے کھانا کھاتا اچھا نہیں لگ رہا. وہ آ گئے تو کسی کا لقمہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترے گا کیونکہ وہ اترنے نہیں دیں گے. بدر نے فورا رازی کے کان میں سرگوشی کی
میں نے آنٹی کے لیے پوچھا ہے آخر وہ ان کے شوہر ہیں اگر میں ان کا نہیں پوچھوں گا تو انھیں برا لگے گا.اخلاق بھی کسی “چڑیا” کا نام ہے رازی نے بھی اسی انداز میں جواب دیا.
اخلاق چڑیا کا نہیں کسی “چڑے” کا نام ہو گا اور اگر اب تو ان کا پوچھے گا تو مجھے شدید برا لگے گا. بدر نے برا سا منہ بناتے جواب دیا تبھی یوسف صاحب لاؤنچ میں داخل ہوئے.
اچھا تو برخوردار تمہارا نام کیا ہے. میرا مطلب ہے کہ تمہارا پورا نام کیا ہے …… ؟؟ یوسف صاحب نے آتے ہی رازی کی طرف دیکھتے ہوئے تیکھے لہجے میں سوال کیا
بس جو کھانا تھا کھا لیا اب تو بہت مشکل ہے کہ ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے اترے. بدر نے اپنی پلیٹ چھوڑتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی جبکہ اس کے تاثرات کافی حد تک بگڑ چکے تھے.
اب مزہ آئے گا تم دیکھنا کیسے چچا جان اس کی عزت کرتے ہیں. کہہ رہا تھا سب کے سب کمینے ہیں. نور نے آہستہ سا ہانی کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی.
آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کمرے میں ہی کھانا کھائیں گے اس لیے میں نے آپ کو بلایا نہیں. فائزہ بیگم نے یوسف صاحب کے لیے کرسی کھینچتے ہوئے کہا
سوچا تو یہی تھا کہ اپنے کمرے میں کھانا کھاؤں گا مگر پھر خیال آیا کہ آخر آپ کے شہزادے کے دوست پہلی دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے ہیں پھر پتہ نہیں کبھی دیدار نصیب ہو یا نہ ہو میں ان سے با نفس نفیس خود مل آؤں. یوسف صاحب کے طنز پر بدر کرسی سے اٹھنے لگا مگر رازی نے روک دیا.
انکل آپ کی مہربانی ہے لیکن اگر آپ نہ آتے تو میں کھانے کے بعد ضرور آپ سے ملنے آپ کے کمرے میں آتا. رازی نے بھرپور اخلاق کا مظاہرہ کیا. جس پر ہانی کو حیرت ہوئی.
ویسے تم شکل سے اتنے لفنگے نہیں لگتے جتنی تمہاری حرکتیں ہیں میرا مطلب ہے کہ اپنی بیوی کو کسی کے ساتھ بھگانا کیا شرفا کو زیب دیتا ہے ….؟؟ یوسف صاحب کے سوال پر ایک دم سناٹا چھا گیا سب لوگ کھانا چھوڑ کر رازی کی طرف دیکھنے لگے جب کہ بدر کے ماتھے پر ناراضگی اور غصے کی سلوٹیں نمایاں تھیں.
انکل میری بیوی بدر کی بہن لگتی ہے اور بہن کو مشکل وقت میں بھائی سے زیادہ کون تحفظ فراہم کر سکتا ہے …… ؟؟ رہی بات بھگانے کی تو جب کتے آپ کے پیچھے لگے ہوں تو آپ کو مجبورا بھاگنا ہی پڑتا ہے. رازی کے جواب پر سب کا رکا سانس بحال ہوا.
بدر کی نسبت باتیں اچھی کر لیتے ہو مگر میں تمہاری حرکتوں سے مطمئن نہیں. دیکھو برخوردار خود بھی برے کام چھوڑ کے سیدھے راستے پہ چلو اور اس بدر کو بھی چلنے دو. مجھے نہیں پتہ تمہاری ماں کے کتنے بچے ہیں مگر میرا یہ ایک ہی ہے میرے بڑھاپے کا سہارا _ یوسف صاحب کے لہجے میں دکھ تھا. انکل نہ میں خود کوئی الٹے سیدھے کام کرتا ہوں اور نہ بدر کو کرنے دیتا ہوں. اس لیے آپ بے فکر رہیں. دوسرا میری ماں کا بھی ایک ہی بیٹا ہے جیسے آپ کا بدر
رازی کے اس قدر نارمل جوابات پر بدر بالکل شاکڈ بیٹھا تھا. وہ اتنی نرمی سے کبھی بات نہیں کرتا تھا جتنی نرمی اور اخلاق سے وہ اب بات کر رہا تھا.
اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جاؤ گے یا یہ یہیں رہے گی …..؟ ؟ یوسف صاحب کا سوال بدر کو شرمندگی کی گہرائیوں میں لے گیا جبکہ فائزہ بیگم بھی فکرمندی سے یوسف صاحب کی طرف دیکھنے لگی
ظاہری سی بات ہے میری بیوی ہے تو ساتھ ہی لے کر جاؤں گا. اگر آپ کو اس کی وجہ سے کوئی زحمت ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں. رازی اب کھانا چھوڑ کر صرف جواب دے رہا تھا. جبکہ ہانی سر جھکائے خاموشی سے پلیٹ میں چمچ ہلا رہی تھی.
تمہارا مستقبل کیا ہے …… ؟؟ یوسف صاحب کے سوال پر رازی مسکرا دیا
مستقبل کا تو سوائے اللہ کی کسی کو نہیں پتہ مگر میں نے سی ایس ایس کے پیپر دیے ہوئے ہیں اور امید ہے کہ پاس ہو جاؤں گا. رازی کا اعتماد سچ مچ یوسف صاحب کو متاثر کر گیا.
بدر جہلم کیوں جاتا ہے. وہاں ایسا کیا ہے …..؟ ؟ یوسف صاحب کا یہ سوال رازی کو مسکرانے پر مجبور کر گیا
وہاں گھوڑوں کا اصطبل ہے. مجھے گھوڑے بہت پسند ہیں. اورمیرا نہیں خیال کہ گھوڑوں میں کوئی ایسی بات ہے جس سے بدر کو نقصان پہنچ سکتا ہے بہرحال آپ بے فکر رہیں آئندہ میں اسے لے کر نہیں جاؤں گا. رازی کے جواب پر یوسف صاحب نے سر ہلایا اور اٹھ کر جانے لگے
ویسے تم اتنے برے نہیں جتنے مجھے بدر کے منہ سے لگتے تھے. کبھی کبھی آ جایا کرو. یوسف صاحب کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے جب کہ بدر نے حیرت سے ان کی پشت کو دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو کہ اس نے جو سنا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے
یہ ابا نے ابھی کیا بولا ہے …..؟ ؟ بدر نے حیرانگی سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
وہی جو تم نے سنا ہے. چلو اب بیٹھ کے ارام سے کھانا کھاؤ. فائزہ بیگم نے مسکراتے ہوئے بدر کو جواب دیا.
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ابا نے تمہیں گھر آنے کی اجازت دے دی ہے. بدر نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے حیرانگی کا اظہار کیا جب کہ رازی نے ٹشو ساتھ ہاتھ صاف کیے.
اگر مجھے لیٹنے کے لیے ایک عدد بستر مل جائے تو تیری بڑی مہربانی ہوگی. میں شدید تھک گیا ہوں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں. رازی نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
تجھے آرام کے لیے سب کچھ ملے گا اگر تو کہے تو میں تجھے دبا بھی سکتا ہوں. بدر نے شرارت سے آنکھ ونک کی.
نہیں فلحال اس کی ضرورت نہیں ہے. بس ایک کپ چائے بھجوا دینا. رازی کی بات پر فائزہ بیگم نے سر ہلایا
بدر تم اسے کمرے میں چھوڑ آؤ، میں چائے بھجواتی ہوں. فائزہ بیگم کے جواب پر بدر نے سر ہلایا
🪶🪶🪶🪶🪶
شانی ایسا کر ایک بار پھر اُس “پرانی لکڑ” کو پکڑ کر لا اور اس بار اُس کا ریمانڈ میں خود لوں گا. تبھی کہانی ختم ہو گی. رازی نے کہتے ہوئے سگریٹ کا کش لیا.
کہانی تو اُس بیچارے کی ختم ہو گی تیری تو شروع ہو گی. ویسے تجھے یہ آئیڈیا آیا کیسے تھا …..؟؟ شانی نے گھوڑے کو تھپکی دیتے ہوئے پوچھا
اتنا عرصہ ناجو بابا ساتھ گزارا ہے. میں صرف ان کی آواز سن کر بتا سکتا ہوں کہ وہ کیا کرنے والے ہیں. ان کے لب و لہجہ کے اتار چڑھاؤ سے بخوبی واقف ہوں.
خیر چھوڑ ان باتوں کو اور یہ بتا کہ اتنی رات کو تُو اصطبل میں کیا کر رہا ہے …؟؟ رازی نے گھوڑے کی ممناہٹ محسوس کرتے ہوئے پوچھا
مجھ جیسے شدید کنوارے نے اب گھوڑوں ساتھ ہی رات گزارنی ہے. یارررر تُو ہی میرا خیال کر، ناجو بابا کو تو آتا نہیں. شانی نے مسکین سی شکل بنائی.
بس رہنے دے میں تجھے اور انھیں بخوبی جانتا ہوں. تم دونوں ہی _ رازی نے دروازے کی آواز پر پلٹ کر دیکھا تو ہانی ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے داخل ہوئی. اچھا میں پھر بات کرتا ہوں مگر میرا کام ہوتے ہی اطلاع کر رازی نے فون بند کرتے ہی ہاتھ میں پکڑا سگریٹ مسل کر پھینکا
چائے ہانی نے سائیڈ ٹیبل پر کپ رکھتے بتایا مجھے نظر آتا ہے مگر شاید تمہاری نظر کمزور ہے. رازی نے اسے کپ پکڑانے کا اشارہ کیا جس پر ہانی نے فوراً عمل کیا. کچھ کہنا ہے کیونکہ خاموشی کی زبان مجھے سمجھ نہیں آتی. ہانی کو خاموش کھڑا دیکھ کر رازی نے پوچھا مجھے ڈیرے جانا ہے. ہانی نے نظر چراتے بتایا ٹھیک ہے. رازی نے چائے کا گھونٹ بھرتے حامی بھری. ابھی جانا ہے. ہانی کے لہجہ میں ضد تھی. چائے پی لوں یا پہلے تمہیں چھوڑ آؤں ……؟ ؟ رازی نے کپ سائیڈ پر رکھتے ہوئے پوچھا جو ہانی کو طنز لگا پی لیں ہانی کو اپنی جلد بازی شرمندگی ہوئی.
بیٹھو کچھ دیر میرے پاس بھی بیٹھ جاؤ میں تمہیں کھا نہیں جاؤں گا. رازی نے دوبارہ کپ پکڑتے کہا
تمہیں اپنے بچپن کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں. میرا مطلب ہے کہ اگر کچھ بھی یاد ہے جیسے کوئی واقعہ، مخصوص جگہ، کوئی شخص، کسی کی آواز وغیرہ تو مجھ سے شئیر کرو. رازی نے ہانی کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
مجھے کچھ یاد نہیں سوائے ڈیرے کے ہانی نے رازی کی طرف دیکھتے جواب دیا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا. ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں کیا کوئی نئی بات پتہ چلی ہے …..؟ ؟ ہانی نے حیرانگی سے رازی کی طرف دیکھتے پوچھا ہاں نئی بات تو ہے. رازی نے سر ہلاتے اقرار کیا. کیا بات ہے بتاؤ ناااااا ….؟؟ ہانی کو تجسس ہوا. یہی کہ اگر تم ڈھنگ کے کپڑے پہنو، میرا مطلب ہے اچھے کلرز کے تو تم اچھی خاصی خوبصورت لگتی ہو. رازی کے چہرے پر پر اسرار سی مسکراہٹ تھی. مذاق ہانی کو اپنی سماعت پر شک ہوا.
نہیں بلکل بھی نہیں رازی نے سنجیدگی سے انکار کیا. تبھی اس کا موبائل بجنے لگا ایک منٹ رازی نے کپ ہانی کو تھماتے کال اٹینڈ کی.
جی امی رازی کے منہ سے امی کا لفظ سنتے ہی ہانی کی تمام توجہ فون کی طرف ہو گئی. جی بہتر میں جمعہ کو پہنچ جاؤں گا. حالانکہ مجھے ان تماشوں میں زرا بھی دلچسپی نہیں ہے مگر صرف آپ کی خوشی کے لیے آ جاؤں گا. اب خوش ہو جائیں مجھ سا ناراض نہ ہوا کریں. رازی نے کہتے فون بند کیا. چلو میں زرا بدر سے مل لوں پھر نکلتے ہیں. رازی کہتا اٹھ کھڑا ہوا. جمعہ کو کیا ہے …..؟ ؟ لاشعوری طور پر ہانی نے پوچھا میرا نکاح ہے یا شاید منگنی
پوچھا نہیں امی سے، رازی نے لاپرواہی سے جواب دیا جبکہ ہانی سکتے میں آ گئی.
کوئی وعدہ وفا تو نہیں مگر میں تمہیں بانٹ نہیں سکتی. ہانی نے نم آنکھوں سے رازی کی پشت کو دیکھا جو کمرے سے باہر نکل رہا تھا.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.