Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

بابا جتنا آپ کو پتہ ہے اتنا بتا دیں ورنہ جتنا آپ ہل رہیں ہیں اتنا ہم آپ کو ہلا دیں گے. شانی کی بات پر کرم دین نے اپنے سوکھے لبوں پر زبان پھری.
رازی پتر میں ناجو کے بارے میں کچھ نہیں جانتا. کرم دین نے پھر انکار کیا.
ہم نے تو ناجو کے بارے میں پوچھا ہی نہیں ہے. ہم تو صرف اس لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ وہ ناجو بابا پاس کہاں سے اور کب آئی …..؟؟ رازی نے کرم دین کے پاس بیٹھتے ہوئے آہستہ سے کہا
دیکھ رازی پتر تو میرے پاس نہ بیٹھ، مجھے تجھ سے ڈر لگتا ہے. کرم دین نے ڈرتے ہوئے رازی سے فاصلہ بنایا تو شانی اور بدر بےساختہ ہنس دیے.
بابا ابھی تک تو میں نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے آپ کو ڈر لگے لیکن اگر آپ نے میرے سوالوں کا سیدھا اور صاف جواب نہ دیا تو پھر آپ ڈرنے کے قابل بھی نہیں بچیں گے. رازی کہتا ہوا ان کے پاس سے اٹھ کھڑا ہو.
دیکھو تم کیوں میری آخرت خراب کرنے پر تلے ہوئے ہو. اگر ذرا بھی ناجو کو بھنک پڑ گئی تو وہ میری ہڈیوں کا سرمہ بنا دے گا. کرم دین نے تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے بیچارگی سے کہا
آپ کو لگتا ہے کہ ہم سرمے سے کم پر اکتفا کریں گے ……. ؟؟ شانی کی بات پر پہلی بار بدر مسکرایا
اچھا ٹھیک ہے میں سب سچ بتا دیتا ہوں مگر ناجو کو خبر نہ ہو. کرم دین نے بالآخر ہار مانتے ہوئے اقرار کیا جس پر راری نے پہلی بار شانی کی طرف مسکرا کر دیکھا تو وہ سر ہلاتا آگے بڑھا
آپ بے فکر رہیں آپ کی حفاظت میرے ذمے ہے. ہم تو یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گے ہاں البتہ اگر آپ کے منہ سے پھسل جائے تو پھر آپ بھی اس دنیا سے پھسل جائیں گے سمجھ رہے ہیں نااااا ا میری بات کا کیا مطلب ہے …… ؟؟ شانی نے نرمی سے کرم بابا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی بات پر زور دیا
جی شانی پتر میں سمجھ گیا ہوں. کرم بابا نے فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے فوراً ہاں میں سر ہلایا.
چلیں پھر بتانا شروع کریں کہ یہ لڑکی کہاں سے اور کیسے ناجو بابا پاس آئی….؟؟ راضی نے کرسی گھسیٹتے ہوئے کرم دین کے قریب کی.
پتر ناجو کے پاس کچھ بھینسیں تھیں جو اس کی ماں جہیز میں لائی تھی. اس کا باپ ایک غریب انسان تھا اب اس عورت کی قسمت تھی یا ناجو کی مگر جو بھی تھا لوگ ان سے دودھ خریدنے لگے.
دیکھتے ہی دیکھتے یہ پورے علاقے میں دودھ والے مشہور ہو گئے اور انہوں نے لوگوں کے گھروں میں بھی دودھ دینا شروع کر دیا. کرم دین نے کہتے ہوئے سانس لیا.
بابا فارغ وقت میں سانس لے لیجئے گا. مجھے دیر ہو رہی ہے. آپ کے سانس لینے کے چکر میں میرا ضرور سانس نکل جائے گا. بدر نے گھڑی کی طرف نظر ماری جہاں دوبارہ شام کے پانچ بج رہے تھے. آج رات بھی اگر وہ گھر نہ پہنچا تو اس کے ابا اس کا کیا حشر کریں گے یہ سوچ کر ہی اس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے.
رازی یہ تیرا کیسے دوست ہے.لڑکیوں کی طرح ڈر رہا ہے. کبھی رات گھر سے باہر نہیں گزاری. شانی نے منہ بناتے ہوئے رازی کی طرف دیکھا جو بڑے غور سے کرم دین کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا
ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ رات گھر سے باہر گزاری ہے مگر اصطبل میں کل پہلی رات تھی میری _ بدر نے فورا شانی کو جتلایا ہمارے ہاں مہمان خانے صرف انسانوں کے لیے مختص ہی‌. شکر کرو کہ اصطبل میں گھوڑوں نے تمہاری موجودگی پر احتجاج نہیں کیا. ورنہ رات گلی میں گزارنی پڑتی جہاں کتے گھوم رہے ہوتے ہیں اور وہ شہری کتے نہیں جن کے کاٹنے سے کچھ نہیں ہوتا ان کے کاٹنے سے 14 ٹیکے کنفرم لگتے ہیں. شانی نے جتلایا. رازی تو دیکھ رہا ہے …… ؟؟ بدر نے چڑتے ہوئے رازی کی طرف دیکھا تم دونوں فی الحال کمرے سے باہر چلے جاؤ. میں 1122 کو فون کر دیتا ہوں ایمرجنسی کی صورت میں وہ فوراً پہنچ جائے گی. شانی کے پاس تو پسٹل ہے تم مجھ سے لے لو. رای نے پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بدر کی طرف دیکھا جبکہ اس کے تاثرات انتہائی پتھریلا تھے جس پر دونوں نے ہی ادھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا. گرم دین میرا سگرٹ ختم ہونے سے پہلے تمہاری سٹوری ختم ہو جانی چاہیے. رازی نے کرم دین کی طرف دیکھتے ہوئے پاکٹ سے سگریٹ نکالا بس پتر ہمارے محلے میں کہیں سے ایک عورت آئی. اچھے خاصے گھرانے کی تھی. ہمیں نہیں پتہ کہ اس کا بیک گراؤنڈ کیا تھا مگر ناجو ان کے گھر دودھ دینے جاتا تھا.تھوڑے ہی وقت میں ناجو زیادہ ان کے گھر جانے لگا پھر پتہ نہیں ان دونوں نے خفیہ شادی کی یا ویسے ہی بہرحال کچھ عرصے بعد اس عورت کے گھر ایک بچی پیدا ہوئی. بچی کی پیدائش کے بعد وہ عورت کچھ بیمار رہنے لگ گئی کچھ لوگوں کا کہنا تو ہے کہ ناجو نے شاید اس کو کوئی کرم دین نے نظریں چرائیں.
بابا ہم تینوں میں سے کوئی بھی 16 سال کی لڑکی نہیں ہے. جو آپ یوں شرما رہے ہیں. سیدھی طرح کہیں نا کہ ناجو نے اس لڑکی کو کوئی دوائی شوائی دی تاکہ وہ مر مرا جائے اور اس کی ساری دولت ناجو کے ہاتھ لگ جائے. بدر نے معاملے کو آسان کیا تو رازی نے دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے مسکرا کر شانی کی طرف دیکھا
ارے واہ تم اتنے بھی پپو بچے نہیں ہو جتنا میں سمجھ رہا تھا. شانی نے فورا داد دیتی نظروں سے بدر کی طرف دیکھا تو اس نے منہ پھیر لیا.
اچھا تو یوں وہ بچی ناچو بابا کے ہاتھ لگی. اس حساب سے تو وہ ناجو بابا کی اپنی بیٹی ہوئی…..؟؟ شانی نے تصدیق کے لیے کرم دین کی طرف دیکھا تو وہ سر ہلانے لگا
عورت نے مرنے سے پہلے اپنی ساری جائیداد اپنی بچی کے نام کر دی تھی اور یہ بھی وصیت کی تھی کہ اگر میری بچی کو کچھ ہو جائے تو ناجو سے پوچھا جائے. کرم دین نے بات مکمل کی تو رازی سگریٹ زمین پر پھینکتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
بابا آپ جا سکتے ہیں اگر آپ نے کسی کو بتایا کہ ہم نے آپ کو ادھر بلوایا تھا تو آپ یقین مانیں کہ آپ کا سرمہ کسی کو آنکھوں میں ڈالنے کے لیے نہیں ملے گا. شانی نے وارننگ دیتے ہوئے بابا کو باہر جانے کا اشارہ کیا.
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ اگر بچی کے نام ساری جائیداد ہے اور مرنے کی صورت میں ناجو بابا پہ الزام بھی آ سکتا ہے تو وہ بچی کو کیوں مارنا چاہتے ہیں. اس طرح تو انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ……؟ ؟ بدر نے فوراً رازی کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دل کی بات کہی
فی الحال تو اپنے فائدے کی فکر کر اور جلدی سے باہر آجا. میں جیپ میں تیرا انتظار کر رہا ہوں. اس سے پہلے کہ تیرا باپ تجھے دربدر کر دے مسٹر بدر رازی کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ شانی نے دبی مسکراہٹ کے ساتھ بدر کی طرف دیکھا
مجھے آپ سے مل کر خشکی ہوئی امید ہے آپ میرے اصطبل کو پھر شرف میزبانی بخشیں گے. شانی نے مصافحے کے لیے بدر کے آگے ہاتھ بڑھایا.
مگر مجھے آپ سے مل کر صرف دکھ ہی ہوا ہے اور میری پوری کوشش ہوگی کہ دوبارہ اپ کی شکل نہ دیکھوں. بدر
ہاتھ جھٹکتا کمرے سے باہر نکل گیا جب کہ شانی نے اس کے پیچھے بھرپور قہقہ لگایا
ایٹم مزے کی تھی اور دلچسب بھی
شانی نے ہلتے دروازے کی طرف دیکھ کر تبصرہ کیا جہاں سے کچھ دیر پہلے بدر گزرا تھا.
🪶🪶🪶🪶🪶
بہارو پھول برساؤ میرا پتر گھر آیا ہے. یوسف صاحب نے لاؤنچ میں انٹر ہوتے ہوئے بدر کو دیکھ کر طنز کیا
ابا خدا کے لیے اب ایسی حرکتیں تو نہ کریں مجھے شرمندگی ہوتی ہے بدر نے قریب پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے احتجاج کیا.
بیٹا اس ملک میں پٹرول سستا ہو سکتا ہے. عوام کو بجلی مفت مل سکتی ہے. مگر تو شرمندہ نہیں ہو سکتا. لہٰذا بڑے بول مت بول کیوں کہ پھر مجھے شرمندگی ہوتی ہے. یوسف صاحب کے جواب پر بدر سر کھجانے لگا
اب اگر جوؤں سے مذاکرات ختم ہو گئے ہوں تو برائے مہربانی بتا دیں کہ آپ پچھلے دو دن سے کہاں تھے …..؟؟ یوسف صاحب کے پوچھنے پر بدر نے ان کی طرف دیکھا
ابا دو دنوں کے ساتھ ایک رات بھی ہے. بدر نے تصحیح کرنا ضروری سمجھی
درستگی کے لیے شکریہ _ یوسف صاحب نے مشکور نظروں سے بدر کی طرف دیکھا یہ آپ بیٹے سے کس طرح بات کر رہے ہیں. پہلے اسے کچھ کھا پی لینے دیں. آرام کرنے دیں. تھکا ہوا آیا ہے. فائزہ بیگم نے لاؤنچ میں داخل ہوتے ہوئے ناراضگی سے کہا بیگم میں تو آپ کے صاحبزادے سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ یہ دو دن سے کہاں تھے اور میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی غلط بات ہے…… ؟؟ یوسف صاحب کی بات پر بدر نے سر جھٹکا آپ غلط بات نہیں کر رہے مگر غلط طریقے سے کر رہے ہیں. بدر نے کھڑے ہوتے ہوئے ناراضگی اور غصے کے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا چلو میں درست طریقے سے پوچھ لیتا ہوں کہ بیٹے آپ کے ایک عدد والدین بھی ہیں اور ایک گھر بھی، جہاں آپ پیدا ہوئے تھے اگر آپ کو یاد ہو تو
آپ نے کہیں جانا ہوتا ہے تو مہربانی فرما کر ان کو اطلاع دے دیا کریں تاکہ وہ آدھی آدھی رات تک آپ کا انتظار نہ کریں کیوں کہ آپ کی خوش قسمتی مگر آپ کے والدین کی بدقسمتی ہے کہ آپ ان کی اکلوتی گھٹیا اولاد ہیں. یوسف صاحب نے بظاہر مسکراتے ہوئے بدر کی طرف دیکھا
جی بہتر _ بدر کہتا ہوا تیزی سے یوسف صاحب کے قریب سے گزرنے لگا برخوردار میں نے پوچھا ہے کہ کہاں گئے تھے……؟ ؟ اب کی بار یوسف صاحب نے اپنے ازلی رعب دار لہجے میں پوچھا جہلم گیا تھا بدر نے مجبوراً رکتے ہوئے سچ بولا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اب اسے مزید لیکچر سننے کو ملے گا
پہلے مجھے شک تھا مگر اب یقین ہو چلا ہے کہ تم نے وہاں شادی کر رکھی ہے. اسی لیے بھاگ بھاگ کر جہلم جاتے ہو. دوست میں تو اتنی کشش نہیں ہو سکتی. یوسف صاحب کی بات پر بدر اپنے پاؤں پر پورے کا پورا گھوم گیا.
ابا آپ کمال کرتے ہیں بغیر ثبوت کے مجھ پر الزام لگا رہے ہیں. میں نے کوئی شادی وادی نہیں کی ( کوئی لڑکی دے تو تب نااااا یہاں اصطبل میں رات گزری ہے اور انھیں رومنس سوجھ رہا ہے. ) بدر زیر لب بڑبڑایا.
اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ آرام کرو. میں تمہارے کھانے پینے کو کچھ لاتی ہوں پھر بات کرتے ہیں. اور آپ بھی بس کریں کیا کچہری لگا کر بیٹھ گئے ہیں …..؟ ؟ فائزہ بیگم نے دونوں باپ بیٹے کو چپ کرایا اور خود کچن میں چلی گئیں.
ارے تم آگئے _ بدر کو سیڑھیاں چڑھتا دیکھ کر نور نے فورا پوچھا نہیں ابھی اصطبل میں ہی ہوں اور آگے سے ہٹو بدر ہاتھ سے نور کو سائیڈ پر کرتا خود کمرے میں داخل ہو گیا.
اصطبل نور نے اونچی آواز میں دہرایا جی اصطبل!!! گھوڑوں کے رہنے کی جگہ جانا ہے …..؟ ؟ بدر کے پوچھنے پر نور نے فوراً نہ میں سر ہلایا گڈ بدر نے کہتے ہوئے زور سے دروازہ بند کیا تو نور کانپ گئی
🪶🪶🪶🪶🪶
دیکھو کسی کو بھی اگر تم نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ میں تمہارا کیا لگتا ہوں تو انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی کیونکہ یہ لوگ تو مجھے نہیں جانتے مگر تم تو اچھے سے جانتی ہو کہ میں کتنا رحم دل ہوں ……. ؟؟ رازی نے ہانی کا راستہ روکتے آہستہ آواز میں کہا
میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا _ سدا کی ڈرپوک ہانی کی آنکھوں میں فوراً پانی جمع ہونے لگا شاباش! کسی کو کچھ کہنا بھی نہ اوکے
رازی نے راستہ چھوڑے دوبارہ اپنی بات پر زور دیا.
اب میں جاؤ ……. ؟؟ ہانی نے لرزتی آواز میں پوچھا
ہاں رازی کہتا بلکل ایک طرف ہو گیا جبکہ ہانی نے تیزی سے وہاں سے نکلنے میں عافیت سمجھی.
سنو …..؟ ؟ رازی کی پکار پر ہانی کی سپیڈ کو بریک لگی
میں تمہارے لیے ایک اچھا لڑکا دیکھ رہا ہوں. جیسے ہی مجھے کوئی مناسب رشتہ ملا تمہیں طلاق دے دوں گا. پھر تم مزے سے اپنی زندگی گزارنا.
لیکن جب تک تم میرے نکاح میں ہو. تب تک کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا کہ میں تمہیں دوبارہ ڈیرے پر بھیج دوں. رازی کے آخری الفاظ پر ہانی تڑپ کر مڑی.
نہیں مجھے ڈیرے پر نہیں رہنا. پلیز آپ مجھے واپس مت بھیجیے گا آپ جیسا کہیں گے میں بلکل ویسا ہی کروں گی. ہانی نے ہاتھ جوڑتے نم آنکھوں سے رازی کی طرف دیکھا
ہممممم
یہ تو اب تم پر ہے. جب تک میری بات مانو گی میرے پاس رہو گی ورنہ _ رازی نے لاپروائی سے کہتے کندھے اچکائے تو ہانی نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ویسے بھی کتنے دنوں بعد آیا تھا. یوں کیا دیکھ رہی ہو ……… ؟؟ اگر تم سوچ رہی ہو کہ میں تمہارے آنسو صاف کروں گا. تم سے محبت بھری میٹھی میٹھی باتیں کروں گا تو “مسز ہانیہ رازیان” آپ بہت بڑی احمق ہیں. اس لیے مجھے گھورنے سے پرہیز کریں اور چپ چاپ جہاں جا رہیں تھیں وہاں تشریف لے جائیں. رازی کی طنز بھری گفتگو پر ہانی نے سر ہلاتے دوبارہ اندر کا رخ کیا جبکہ دل اپنی بے عزتی پر شور مچا رہا تھا. کیا بات ہے ایک نوکرانی میں اتنی دلچسپی، ویسے ہے پیاری رازی بے دھیانی میں ہانی کو جاتا دیکھ رہا تھا کہ فراز کی آواز کان میں پڑی.
پہلی بات تو یہ کہ وہ نوکرانی نہیں ہے دوسرا ناجو بابا کے ڈیرے سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے. احتیاط _
رازی، فراز کا کندھا تھپتھپاتا آگے بڑھ گیا.
یہ صحیح ہے خود پورے مزے لے لیے، باتیں کر لیں اور مجھے ناجو بابا کی دھمکی لگا کر چل دیا. کچھ بھی ہے رازی مگر یہ چڑیا مجھے پسند آگئی ہے. اب میں اسے نہیں چھوڑوں گا. فراز نے اپنی کمینی ہنسی ہنستے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیرا.
اور رازی آج کل کیا ہو رہا ہے …… ؟؟ بڑے عرصے بعد تُو نے چکر لگایا ہے. ناجو خیریت سے ہے. ہمارے لائق کوئی خدمت ہے تو ہمیں بتا …… ؟؟ سردار سکندر نے انتہائی محبت سے رازی سے پوچھا جس پہ وہ مسکرا دیا
سردار صاحب سب خیریت ہے بس ناجو بابا کے کام سے ہی آیا ہوں. آپ کو تو معلوم ہی ہے جدھر بابا بھیجتے ہیں ادھر میں چلا جاتا ہوں. اپنی مرضی کرنے کی عادت نہیں …..؟؟ رازی کے جواب پر حقہ پیتے سردار سکندر نے ہاں میں سر ہلایا
کتنی دفعہ کہا ہے میرے پاس آجا، تیری ہر خواہش پوری ہوگی مگر پتہ نہیں تجھے ناھو میں کیا نظر آتا ہے. ہمارے پاس تیرا دل ہی نہیں لگتا. سکندر صاحب نے ہمیشہ کی طرح رازی کو پھر آفر دی.
سردار صاحب آپ شرمندہ نہ کیا کریں. مجھے اچھا نہیں لگتا. میں چھوٹی جگہ پر ہوں. آپ کی بہت عزت اور احترام کرتا ہوں. مگر آپ جانتے ہیں کہ ناجو بابا نے مجھے پالا ہے اور میرے خون میں غداری شامل نہیں. رازی کے جواب پر سردار سکندر نے حقہ سائیڈ پر کیا.
زندگی میں بے شک یار کم ہوں مگر تیری طرح وفادار اور کھرے ہونے چاہیے. ناجو خوش قسمت ہے کہ اسے تیرے جیسا ہیرا مل گیا. بڑھاپا اس کا ارام سے گزرے گا. سردار سکندر کی بات پر رازی نے کندھے اچکائے جیسے کہنا چاہ رہا ہو کیا پتہ ……؟ ؟
اچھا اب بتا کہ کس کام سے آیا ہے …… ؟؟ سکندر صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا تو رازی کے تاثرات بھی تبدیل ہوئے.
بابا وہ لڑکی ناجو بابا کے لیے بہت اہم اور خاص ہے. اسے کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے. آپ سمجھ رہے ہیں نا کہ میری بات کا کیا مطلب ہے …… ؟؟ رازی نے جس انداز میں بات کہی سردار سکندر نے چونک کر اسے دیکھا
اگر اس لڑکی کو کسی بھی قسم کی کوئی بھی تکلیف پہنچی تو آپ نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے. رازی کہتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ قریب بیٹھے فراز نے غور سے رازی کی طرف دیکھا
سردار صاحب مگر مجھے وہ لڑکی چاہیے اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں آپ کا کام کر دوں تو آپ مجھے منہ مانگی قیمت دیں گے. رازی کے جاتے ہی فراز بگڑا.
فراز زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے. چپ کر کے اپنی جگہ بیٹھ جا، پہلے مجھے معاملے کی تحقیق کر لینے دے. آخر اس لڑکی میں ایسا کیا ہے جو رازی ہمیں دھمکی لگا کر گیا ہے ……. ؟ سردار سکندر نے پر سوچ انداز میں فراز کی طرف دیکھا.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.
پیارے ریڈرز