No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
یار مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تیری شادی ہو گئی ہے. حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ تجھے بھی کسی نے اپنی لڑکی دے دی ہے …..؟؟
یعنی اب لڑکیوں پر اتنا برا وقت آ گیا ہے کہ تیرے جیسے انسان ساتھ بھی شادی کر لیں گئیں _ بدر نے انتہائی دکھ سے رازی کی طرف دیکھا جو سگریٹ انگلیوں میں دبائے اسے ہی گھور رہا تھا. خیر اب تُو میرا یاررررر ہے تو مجبوراً تجھے مبارکباد دینا پڑے گی. لڑکی سے ہمدردی اپنی جگہ اور دوستی اپنی جگہ بدر نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے رازی کی طرف قدم بڑھائے.
اپنی مبارکباد اپنے پاس رکھ ہاں البتہ ہمدردی اُس سے ضرور کر دینا. اسے ویسے بھی بہت شوق رہتا ہے ہمدردیاں سمیٹنے کا _ رازی نے کہتے ہوئے آدھ جلا سگریٹ نیچے پھینکا اور شوز سے مسلنے لگا بڑے بڑے ناشکرے دیکھے ہیں مگر تیرا لیول ہی الگ ہے. بدر نے سر نفی میں ہلاتے دوبارہ ریلنگ ساتھ ٹیک لگا لی. اگر مجھے پیسوں کی ضرورت نہ ہوتی تو میں کبھی بھی یہ شادی نہ کرتا. رازی نے کچھ سوچتے ہوئے سمندر کی لہروں کو دیکھا جو ساحل سے ٹکرا رہیں تھیں. ناجو بابا کو اگر تیرے ان سنہرے خیالوں کی خبر ہو گئی نااااا تو یاد رکھ ڈیرے پر پھینٹی بڑی پڑتی ہے. بدر نے مسکراہٹ دباتے یاد دلایا میں پھینٹی سے نہیں ڈرتا. رازی نے بیزاری سے جواب دیا. ہاں وہ تو نظر ہی آ رہا ہے. ادھر ناجو بابا نے شادی کا کہا اُدھر جناب بہادر پہنچ گئے ویسے ڈرتے تو کسی سے نہیں. بدر کا قہقہ ابھی پورے سے گونجا نہیں تھا کہ ایک زور دار مکے نے اسے چیخ میں بدل دیا. کیا ہے یار مذاق بھی نہیں کرنے دیتا ……. ؟؟ اب تجھ سے مذاق نہیں کروں گا تو نور سے کروں گا جسے ایک معمولی سی بات سمجھانے کے لیے آدھا گھنٹہ چاہیے ہوتا ہے. وہ مذاق کیا خاک سمجھے گی ……. ؟؟ بدر نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے کہا میں سخت پریشان ہوں اور تجھے مذاق سوجھ رہا ہے. میری صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رازی سیڑھیاں اترتے ساحل کی طرف قدم بڑھائے
زیادہ سیریس ہونے کی ضرورت نہیں ہے سمندر کسی بندے کا مذاق برداشت نہیں کرتا اپنے اندر لے جاتا ہے اور رہی بات پریشانی کی تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے جو شادی سے پہلے تو بہت پریشان ہوتے ہیں مگر پھر کسی نہ کسی حکیم سے رابطہ کرتے ہیں تو سب ٹھیک ٹھاک ہو جاتا ہے. بدر کے نادر خیالات سنتے ہی رازی نے پلٹ کر اسے ایک زوردار دھکا پانی میں دیا
کمینہ مر یہاں _ تو اس قابل ہی نہیں ہے کہ میں تجھ سے اپنی پریشانی شئیر کروں. میرا خودکشی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر لگتا ہے کہ ُُاس سے پہلے تو میرے ہاتھ سے مارا جائے گا اگر یہی بکواس کرنی ہے تو یہاں سے دفع ہو جا. رازی بولتا ہوا نرم ریت پر چلنے لگا جبکہ بدر نے پانی سے باہر آتے اس کا پیچھا کیا جب تو کھل کر نہیں بتائے گا کہ کیا مسئلہ ہے تو مجھے کیسے پتہ چلے گا ……… ؟؟ میں تو بس تکے ہی لگا سکتا ہوں. بدر سر سے پاؤں تک گیلا ہو چکا تھا ناجو بابا نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے. رازی کی بات پر بدر کو سچ مچ 440 وولٹ جھٹکا لگا اور وہ ہکا بکا رازی کی پشت کو دیکھنے لگا کیا ……؟ ؟ مگر وہ تو شاید بقول تیرے ان کی ہی بیٹی ہے کوئی اپنی بیٹی کے لیے ایسے کیسے کہہ سکتا ہے جب کہ وہ تو اس سے بہت پیار کرتے ہیں. بدر نے رک رک کر اپنا جملہ پورا کیا پتہ نہیں مگر فی الحال ان کا یہی کہنا ہے کہ وہ لڑکی ان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے. رازی نے ننگے پاؤں ساحل پر چلتے ہوئے رک کر بدر کی طرف دیکھا اور تو اس لیے پریشان ہے کہ تو اسے مارنا نہیں چاہتا. بدر نے پشت پر ہاتھ باندھتے ہوئے راضی کی طرف دیکھا جی نہیں میں اس لیے پریشان ہوں کہ اسے کیسے ماروں ……. ؟؟ راضی کا جواب بدر کو حیران کر گیا
تو نے مجھے ہارٹ اٹیک دینے کے لیے بلوایا ہے کبھی کہتا ہے وہ ناجو بابا کی بیٹی نہیں، کبھی کہتا ہے کہ میں اسے مارنا چاہتا ہوں. تو اس معصوم کی جان لے گا وہ بھی بغیر کسی وجہ کے، تجھے شرم نہیں آئے گی. بدر کو سچ مچ بہت برا لگا تھا
مجبوری ہے میں ناجی بابا کو ناراض نہیں کر سکتا. رازی نے کندھے اچکائے
شرم کر تھوڑی سی، میں نے اسے دیکھا ہے. یار وہ تو بہت چھوٹی ہے. بدر کو اچانک ہانی کا خیال آیا
ہاں ترس تو مجھے بھی آیا تھا مگر میں کیا کر سکتا ہوں ……. ؟؟ رازی نے رک کر بدر کی طرف دیکھا پھر دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی جبکہ آس پاس لوگوں کا ہجوم تھا
ٹھیک ہے میں اب چلتا ہوں میں نے گھر جہلم کا بتایا ہے. اگر کراچی کا بتاتا تو کبھی بھی مجھے یہاں آنے کی اجازت نہ ملتی. انہیں کراچی کے حالات سے بہت ڈر لگتا ہے. بدر نے رازی کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
میں نے تجھے اپنی مدد کے لیے بلایا تھا. شاید تو بھول رہا ہے. رازی نے بدر کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا.
میں کسی کی جان نہیں لے سکتا اور وہ بھی ایک بے گناہ کی، اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تو نے مجھے قتل کی پلاننگ کرنے کے لیے بلوایا ہے تو کبھی نہ آتا. بدر نے انتہائی سنجیدگی سے جواب دیتے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا
سمجھ تو مجھے بھی نہیں آ رہی کہ کیا کروں ….. ؟؟ رازی کے تاثرات بھی کچھ عجیب سے تھے
اسے مارنا ضروری ہے، کیا اس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں ہے …..؟ ؟ بدر کے سوال پر رازی نے لاعلمی کا اظہار کیا
میری مان تو اسے مت مار بلکہ اس مسئلے کا کوئی اور حل نکال. یار قتل ایک بہت بڑا گناہ ہے. بدر نے نرمی سے سمجھانا چاہا
ناجو بابا اسے میرے ساتھ رخصت کر رہے ہیں اور میری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ میں اسے کہاں لے کر جاؤں گا …… ؟؟
اگر گھر گیا تو گھر والے طرح طرح کے سوال کریں گے پھپھو تو ویسے بھی امی کے پیچھے پڑی رہتی ہے اور میں اسے کہیں اور چھوڑ نہیں سکتا.
وہ بالکل ان پڑھ ہے سکول تک کی اس نے شکل نہیں دیکھی. میرے خیال سے تو اسے اردو بھی پڑھنا نہیں آتی ہوگی. ایسے حالات میں اسے کہیں چھوڑنا خطرے سے خالی نہیں. رازی نے پریشانی سے اپنا ماتھا سہلایا
میں اسے اپنے گھر نہیں لے جا سکتا ورنہ میں لے جاتا. بہانہ نہیں بنا رہا ہوں مسئلہ یہ ہے کہ نور کی کوئی دوست ہی نہیں ہے تو _ بدر نے معذرت کی پھر بتا ناااااا میں کیا کروں، اسے کہاں لے کر جاؤ ……؟ ؟ رازی نے پریشانی سے بدر کی طرف دیکھا ناچو بابا کیا کہتے ہیں …..؟ ؟ بدر کے سوال پر رازی پھیکا سا مسکرایا وہ تو ہتھیلی پر سرسوں جما رہے ہیں. کہتے ہیں کسی پہاڑی علاقے پر لے جاؤ اور وہاں جا کر اسے دھکا دے دینا. بھلا یہ زندگی ہے فلم تھوڑی، جیسا ہم پلان کریں گے بالکل ویسا ہوگا. وہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے کوئی چوہیا یا چھپکلی نہیں، جسے میں کہیں بھی کبھی بھی مار دوں گا تو کوئی مجھ سے پوچھے گا نہیں. رازی کے جواب پر بدر کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے میرا ایک دوست ہے اس کا ایک مکان سوات میں ہے اگر تو کہے تو میں اس سے بات کروں. تو کچھ دنوں کے لیے اسے وہاں لے جا، پھر سوچتے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے. بدر کے سوال پر رازی ہنسنے لگا میں نے ہنی مون گزارنے نہیں جانا جو تو مجھے مختلف تفریحی پوائنٹ بتا رہا ہے. کوئی ڈیتھ پوائنٹ بتا جہاں میں اسے مارنے میں کامیاب ہو سکوں. ایسا کر پھر تو اسے مری لے جا، اس کے آس پاس ایسی بہت ساری جگہیں ہیں جہاں سے اگر بندہ گرے تو زندہ نہیں بچ سکتا. بدر کے جواب پر رازی خاموشی سے اسے دیکھنے لگا کیا ہوا ……؟ ؟ رازی کو خاموش دیکھ کر بدر نے ابرو اچکائے کوئی آسان موت رازی نے سنجیدگی سے پوچھا
بڑا خیال آ رہا ہے زوجہ محترمہ کا آسان، وہ بھی “موت” او بھائی موت کبھی آسان نہیں ہوتی. بدر نے سر جھٹکا چلو دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے …… ؟؟ رازی کہتا ہوا بدر کے ساتھ پارکنگ کی طرف چل دیا تو جہلم کب جائے گا …..؟ ؟ بدر نے ساتھ چلتے پوچھا اپنا سامان سمیٹنے آیا ہوں. کل تک واپس چلا جاؤں گا. راضی نے سنجیدگی سے جواب دیا چل پھر مجھے ایئرپورٹ چھوڑ آ، اس سے پہلے کے نور بی بی کی کال آئے اور میرے دماغ کی دہی بنے. بدر کی بات پر رازی ہنستے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا. 🪶🪶🪶🪶🪶 بدر کہاں ہے، شام سے نظر نہیں آیا. یوسف صاحب نے کمرے میں داخل ہوتی فائزہ بیگم سے پوچھا جہلم گیا ہے رات تک واپس آ جائے گا. فائزہ بیگم نے دودھ کا گلاس سائز ٹیبل پر رکھتے ہوئے بتایا یقینا اپنے اس واحیات دوست پاس گیا ہوگا. یوسف صاحب نے ناگواری سے عینک اتارتے فائزہ بیگم کی طرف دیکھا دونوں بچپن کے دوست ہیں اور کوئی ایسی ویسی برائی بھی نہیں اس لڑکے میں، آپ خواہ مخواہ اس کے پیچھے پڑے رہتے ہیں. اچھا بھلا تو ہے. فائزہ بیگم کو برا لگا وہ اچھا بھلا نہیں ہے. بیگم صاحبہ آپ گھر میں رہتی ہیں اور میں باہر، ذرا لوگوں سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ اس لڑکے کا تعلق جس ڈیرے سے ہے وہ ڈیرا کتنا بدنام ہے ناجو بابا ایک بدمعاش ہے جسے وہ اپنا باپ مانتا ہے. مجھے تو ہر وقت بدر کی فکر رہتی ہے. اس کا ماسٹرز مکمل ہو جائے میں اسے باہر بھیج دوں گا. یوسف صاحب نے دودھ کا گلاس پکڑتے ہوئے کہا بدر بتا رہا تھا کہ رازی نے سی ایس ایس کے امتحان دیے ہیں. میں تو سوچ رہی تھی اگر وہ افسر بن جائے تو ہم اپنی نور اسے دے دیں گے. ساری زندگی عیش کرے گی. فائزہ بیگم نے بستر ٹھیک کرتے ہوئے کہا تو یوسف صاحب کے حلق میں دودھ اٹکا آپ کا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا. میں اس لڑکے کو دیکھنا نہیں چاہتا مجھے اس کا نام لینا بھی اس گھر میں گوارا نہیں اور آپ نور کے لیے اس کے بارے میں سوچ رہی ہیں. نور میرے بھائی کی آخری نشانی ہے اور میں اسے نظروں سے دور نہیں کر سکتا وہ صرف اور صرف میرے بدر کی دلہن بنے گی. یوسف صاحب کی بات پر فائزہ بیگم نے افسوس بھری نظر ان پر ڈالی کیسی باتیں کرتے ہیں. جوان اولاد سا زبردستی نہیں ہو سکتی اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ بدر اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہے. فائزہ بیگم نے نرمی سے سمجھانا چاہا رہنے دیں، مجھے اس کی مرضی کا اچار ڈالنا ہے. میں نے کہہ دیا نور اس گھر سے کہیں نہیں جائے گی وہ اس گھر کی بیٹی ہے اور میں نے کافی پہلے سوچ لیا تھا کہ وہ ہمارے بدر کی دلہن بنے گی. اب جو مرضی ہو جائے چاہے دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے بدر کی شادی نور سے ہی ہوگی اور یہ میرا اٹل فیصلہ ہے. یوسف صاحب کو غصے میں دیکھ کر فائزہ بیگم خاموش ہو گئی آپ زیادہ اس کی طرف داری نہ کریں. میں خود اس معاملے کو وقت آنے پر دیکھ لوں گا. یوسف صاحب نے فائزہ بیگم کو پریشان دیکھا تو قدر نرم لہجے میں کہا جبکہ فائزہ بیگم پریشانی سے اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی 🪶🪶🪶🪶🪶 میں تمہاری کمی کو بہت محسوس کروں گا مگر بیٹیوں کو ایک نہ ایک دن اپنے گھر جانا ہی ہوتا ہے. بیٹی اور جنازے کو زیادہ دیر گھر میں نہیں رکھا جاتا. رازی بہت اچھا لڑکا ہے. وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا. چلو اب جلدی سے اپنا بیگ لے آؤ. یہ تمہارا انتظار کر رہا ہے. ناجو بابا نے ہانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے کہا جس پر وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکائے خاموش رہی. تمہیں تو کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے. تم تو خود بہت سمجھدار ہو. میری بیٹی کا بہت خیال رکھنا اور مجھے اطلاع کرتے رہنا. ناجو بابا کی بات ہانیہ کو تو نہیں مگر رازی کو بخوبی سمجھ آ رہی تھی. جی بابا آپ جیسا کہیں گے بالکل ویسا ہی ہوگا. رازی نے ناجو بابا کے گلے لگتے کہا تو دونوں ہی زور سے ہنس دیے جبکہ ہانی ہاتھ میں اپنا بیگ تھامے خاموشی سے ان دونوں کو دیکھنے لگی شام ہو رہی ہے تم لوگوں کو اب جانا چاہیے ورنہ منزل پر پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی. پہنچ کر مجھے اطلاع ضرور کر دینا. مجھے اپنی بیٹی کی بہت فکر ہے. ناجو بابا کی ہدایت پر رازی نے سر ہلایا جب کہ ناجو بابا نے پیار سے ہانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا رازی نے ہانیہ کے ہاتھ سے بیگ پکڑا اور گاڑی کی طرف چل دیا جبکہ ہانیہ اس کی پیروی میں خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگی. رازی نے بیگ پچھلی سیٹ پر رکھا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر فرنٹ ڈور کھولا بیٹھو رازی نے ہانیہ کو بیٹھنے کا کہا تو وہ خاموشی سے سیٹ پر بیٹھ گئی. پھر گاڑی اپنی منزل کی طرف چل دی. آس پاس کے منظر ہانیہ کو بہت اچھے لگ رہے تھے. وہ شاید زندگی میں پہلی بار ڈیرے سے باہر نکلی تھی ہر چیز کو بہت شوق اور حیرانی سے دیکھ رہی تھی.
بات سنو کافی دیر بعد رازی کی آواز نے گاڑی کی خاموشی کو توڑا جی ہانیہ نے فورا پلٹ کر اس کی طرف دیکھا
تم سے اگر کوئی بھی میرے بارے میں پوچھے تو یہ مت کہنا کہ میں تمہارا شوہر ہوں. سمجھی _ رازی کی بات پر ہانیہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا میرا مطلب ہے کہ تم نے یہ نہیں کہنا کہ تم میری بیوی ہو اور ہم دونوں کی شادی ہو چکی ہے بلکہ یہ کہہ دینا کہ میں تمہارا کزن ہوں. رازی نے کہتے کندھے اچکاتے مگر میں جھوٹ کیوں بولوں ……. ؟؟ ہانیہ کو رازی کی بات سخت بری لگی. ٹھیک ہے پھر میں تمہیں دوبارہ ڈیرے چھوڑ آتا ہوں. اگر تم میری بات نہیں مانو گی تو میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے کر جاؤں گا. رازی نے کہتے ساتھ ہی گاڑی کو بریک لگائی نہیں مجھے ڈیرے واپس نہیں جانا. جیسا آپ کہیں گے میں بالکل ویسا ہی کروں گی. ہانی نے فورا خوف اور ڈر سے سر ہاں میں ہلایا. شاباش رازی نے ہنستے ہوئے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی. ہانی کو رازی پر غصہ تو بہت آیا مگر وہ دوبارہ ڈیرے نہیں جانا چاہتی تھی لہذا خاموش ہو گئی
سنو تم کچھ پڑھنا لکھنا جانتی ہو میرا مطلب ہے کوئی اردو وغیرہ. رازی اب نارمل تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ اب کیا کرنا ہے.
اردو پڑھ لیتی ہوں مگر انگلش نہیں ہانیہ نے بیچارگی سے رازی کی طرف دیکھا اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوتی تو میں سب سے پہلے تمہاری تعلیم کا کچھ کرتا مگر رازی کو اچانک خیال آیا کہ وہ چند دن کی مہمان ہے. رازی کے ایک دم خاموش ہونے پر ہانی نے اسے حیرانگی سے دیکھا.
مگر کیا ……. ؟؟ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے ناجو بابا نے مجھے سکول نہیں جانے دیا. آپ مجھے پڑھائیں گے. ہانی ایک دم اداس ہو گئی
کوئی بات نہیں، زندگی بہت چھوٹی سی ہے. کیا ضرورت پڑی ہے کہ بندہ اپنی چھوٹی سی زندگی کو تعلیم حاصل کر کے برباد کرے. میں تو کہتا ہوں کہ عیش کرے، کھائے پیے اور مزے سے سوئے. رازی کے جواب پر ہانی نے سر نفی میں ہلایا
پھر آپ نے اتنا کیوں پڑھا ہے ……. ؟؟ ہانی کے سوال پر رازی نے اسے گھوری سے نوازا
کیونکہ میری ابھی بہت لمبی زندگی پڑی ہے اس لیے میں نے سوچا کہ تھوڑی سی زندگی پڑھائی میں لگا دوں. رازی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اور آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلی کہ آپ کی لمبی سی زندگی ہے اور میری چھوٹی سی ……. ؟؟ ہانی کے سوال پر رازی نے ایک گہری سانس خارج کی. اب وہ اسے کیا بتاتا کہ وہ تو چند دنوں کی مہمان ہے اور وہ دن بھی راضی کی مہربانی ہیں.
اچھا ایک بات بتاؤ اگر کوئی تمہیں یہ چوائس دے کہ تم اپنی مرضی کی موت مر سکتی ہو تو تم کیسے مرنا پسند کرو گی ……. ؟؟ رازی کا سوال ہانی کو خاصا عجیب لگا
میں کیوں مرنا چاہوں گی اور آپ بار بار ایسی بات کیوں کر رہے ہیں. مجھے نہیں مرنا، مجھے موت سے بہت ڈر لگتا ہے. میں تو کبھی قبرستان بھی نہیں گئی کیونکہ مجھے قبروں سے خوف آتا ہے. آپ پلیز بار بار ایسی بات مت کریں. ہانی کی انکھوں میں خوف ہچکولے لینے لگا
اچھا ٹھیک ہے. ڈرو مت، میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا.
رازی خاموش ہو گیا مگر اس کا ذہن مسلسل ہانی کی طرف تھا.
🪶🪶🪶🪶🪶
کتنے دنوں سے رازی نے چکر نہیں لگایا. بھابھی آپ اپنے صاحبزادے کی خبر لیتی رہا کریں. اس سے پہلے کہ وہ کوئی گل کھلا دے. بانو آپا کو تار پر کپڑے ڈالتے دیکھ کر شہناز نے فوراً کہا
شہناز وہ کام میں مصروف ہوگا ورنہ ضرور چکر لگاتا اور تو مجھے خواہ مخواہ وہم میں مبتلا نہ کیا کرو. بانو نے کپڑے ڈالتے جواب دیا.
بھابھی آپ کو پتہ ہے. کراچی کا ماحول بہت خراب ہے. کیا پتہ اس نے وہاں کسی لڑکی سے شادی کر لی ہو اور آپ کو بتایا ہی نہ ہو. شہناز نے ایک بار پھر چسکا لیا
شہناز جاؤ اپنا کام کرو. مجھے پریشان مت کرو. میرا بیٹا ایسا نہیں ہے. تم کیوں الٹی سیدھی باتیں کرتی ہو. مانو نے جلدی جلدی کپڑے تار پر ڈالے اور سیڑھیاں اتر کر نیچے آ گئی.
کیا ہوا …….. ؟؟ گڑیا نے ماں کو یوں کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر پوچھا
مجھے شہناز کی باتیں پریشان کر دیتی ہیں اگر رازی نے سچ مچ مجھے بتائے بغیر شادی کر لی تو میں کیا کروں گی …..؟ ؟ بانو نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ گڑیا بیچ میں بول پڑی
امی آپ کو پھپھو کی عادت کا پتہ تو ہے پھر کیوں پریشان ہو جاتی ہیں. جب ہم سب کو معلوم ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے تو پھر ……؟ ؟ گڑیا نے سکول کا کام کرتے ہوئے جواب دیا.
مگر رازی تو اس سے شادی کے لیے صاف منع کر چکا ہے پچھلی بار جب وہ آیا تھا تو میں نے بات کی تھی حالانکہ اس بچی میں کوئی برائی نہیں مگر پتہ نہیں کیوں وہ منع کر رہا تھا ……. ؟؟ بانو نے سوچتے ہوئے گڑیا کی طرف دیکھا
امی بھائی کی مرضی ہے اگر انہیں رمشا آپی نہیں پسند تو آپ کیوں زبردستی کر رہی ہیں. گڑیا اپنا سکول کا کام ختم کرتے بولی
تیری پھپو تو چاہتی ہیں کہ میں رمشا کو بہو بناؤں اور رازی کو پتہ نہیں کس چکر میں ہے. آنے دو اس بار میں صاف صاف کہہ دوں گی یا تو اپنی پسند بتائے اور یا پھر رمشا کے لیے ہاں کرے. بانو بیگم کی بات پر گڑیا ہنسنے لگی
اور بھائی تو جیسے آپ کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے. کیا آپ جانتی نہیں ہیں انہیں ___ گڑیا نے ہنستے ہوئے ماں کی طرف دیکھا
زیادہ دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ہے اور فون کر کے پوچھو اس نواب صاحب سے کہ اب کی بار گھر کا چکر کب لگا رہا ہے. اس کی ایک ماں بھی ہے اگر اسے یاد ہو تو …..؟ ؟ بانو کہتی غصے سے باہرچلی گئی.
جلدی گھر کا چکر لگائیں.آپ کی ماں آپ کو یاد کر رہی ہے
