Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

کیوں اداس ہو …..؟ ؟ ہانی کو چپ چاپ کھڑکی ساتھ کھڑا دیکھ کر نور نے پوچھا
نہیں پریشان تو نہیں ہوں. ہانی نے فوراً نہ میں سر ہلایا جبکہ اس کا دل انتہائی اداس اور پریشان تھا وہ کسی کو کیسے بتاتی کہ اسے رازی کتنا اچھا لگنے لگا ہے. ….؟ ؟ جب وہ نظروں سے اوجھل ہوتا ہے تو دل بےقرار ہو جاتا ہے.
ہانی میں نے پوچھا تھا کہ “اداس” ہو اور تم جواب دے رہی ہو کہ میں “پریشان” نہیں ہوں مطلب یہ ہوا کہ تم پریشان ہو تمہاری شکل پہ لکھا ہوا ہے کہ تم بہت زیادہ والی پریشان ہو. نور نے زیادہ پر زور دیتے ہوئے کہا
ہاں میں پریشان ہوں. ہانی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہار مان لی.
کیوں _ میں نہیں پوچھوں گی کیونکہ انگلش کا لفظ Q مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے. مجھے بچپن میں یہ لفظ لکھنا ہی نہیں آتا تھا. سچی اتنی پٹائی ہوتی تھی میری _ نور نے خود ہی اپنی بات کو انجوائے کیا یار کم از کم بندہ دوسرے کے ساتھ خوش ہی ہو جاتا ہے. تم نے کتنا افسردہ منہ بنایا ہوا ہے. چلو اٹھو ہم Tom & Jarry دیکھتے ہیں. ایک دم دل خوش ہو جائے گا. نور نے کہتے ہوئے ہانیہ کا بازو کھینچا نور میرا بالکل بھی کچھ دیکھنے یا سننے کو دل نہیں کر رہا. ہانی نے بیزاری سے نور ساتھ کھچتے کہا کیا تمہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ تمہارا اس وقت کچھ بھی دیکھنے اور سننے کو دل نہیں کر رہا ……؟ ؟ نور نے پلٹتے ہوئے ہانی کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تو وہ حیرت سے نور کو دیکھنے لگی کیا مطلب ہے تمہاری بات کا ہانی کو اپنی چوری پکڑے جانے کا افسوس ہوا
میری بات کا یہ مطلب ہے کہ تم جس کو سننا اور دیکھنا چاہ رہی ہو وہ اس وقت بہت دور کہیں “لتر” کھا رہا ہوگا. نور نے مزے سے انفارمیشن دیتے ہوئے ٹی وی ان کیا
کیا مطلب ہے تمہاری بات کا _ کون لتر کھا رہا ہوگا ……. ؟؟ رازی ناممکن ہانی نے سر نفی میں ہلایا.
مس ہانیہ رازیان آپ کی انفارمیشن کے لیے آپ کو بتا رہی ہوں حالانکہ یہ میرا ڈیپارٹمنٹ نہیں ہے مگر پھر بھی کہ بدر صاحب کی روح انتہائی بے چین اور بے قرار نیچے لون میں چکر لگا رہی ہے کیونکہ اس کا جگری یار عرف اس کی محبوبہ جناب محترم رازیان صاحب المشہور رازی جی ناجو صاحب کے ڈیرے پر اس وقت لتر کھا رہے ہیں اور درد بدر صاحب کو ہو رہا ہے. نور نے بتاتے ہوئے کارٹون لگائے.
نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے. ناجو بابا کیسے رازی کو مار سکتے ہیں. وہ تو رازی سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں. یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے. میں واپس جیلم جاؤں گی. مجھے نہیں پتہ میں نے جہلم جانا ہے. ہانیہ نے ایک ساتھ بہت ساری باتیں کہتے ہوئے آخر میں رونا شروع کر دیا
چلو جی ایک تو میں بدر کی ایکٹنگ سے پہلے ہی پریشان تھی اوپر سے تم نے بھی میلو ڈرامہ شروع کر دیا ہے. کچھ نہیں ہوتا اسے ایک دو لتر تو پڑنے چاہیے.
تم نے سنا نہیں سونا آگ میں پک کر کندن بنتا ہے اسی طرح لتر کھانے کے بعد بندہ صحیح پورا پکا بدمعاش بنتا ہے یاررررررر نور نے ہانی کا کندھا ہلاتے ہوئے سمجھایا اسے بہت درد ہو رہی ہوگی
ہانی نے نم آواز میں نور کی طرف دیکھا
عام حالات میں تو ایسا ہی ہوتا ہے. لیٹر کھانے سے تسکین تو میرا نہیں خیال کسی کو ملتی ہوگی. نور نے کندھے اچکائے
بدر کہاں ہے …… ؟؟ اسے کہو کہ فون کرے اور خیریت پوچھے یار نور پلیز _ ہانی نے روتے ہوئے نور کی منت کی. میرا تو اس وقت کارٹون دیکھنے کا وقت ہوا چاہتا ہے. تم ایسے کرو کہ نیچے لان میں چلی جاؤ وہاں بدر صاحب بیوہ ہونے کی پوری تیاری کیے بیٹھیں ہیں تم بھی اس میں حسب توفیق اپنا حصہ ڈالو. نور نے سر نفی میں ہلاتے اپنا رخ ٹی وی کی طرف کیا. نور تم دیکھنے میں تو اتنی “خود غرض” نہیں لگتی جتنی اس وقت مجھے دکھائی دے رہی ہو. ہانی نے ناراض سے لہجے میں نور کی طرف دیکھ کر کہا بالکل ویسے ہی جیسے تم دیکھنے میں تو اتنی بے وقوف نہیں لگتی جتنی اس وقت مجھے دکھائی دے رہی ہو. ظاہری سی بات ہے وہ ناجو بابا کا اتنا خاص بندہ ہے. وہ اسے ماریں گے نہیں. تھوڑا سا ڈرائیں گے اور بس لیکن تم دونوں نے تو ایسے شکلیں بنائی ہوئی ہیں. جیسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ……. ؟؟ کچھ نہیں ہوتا اس بندے کو، اچھی خاصی ڈھیٹ ہے. میں نے اسے دیکھا ہے. نور نے بےلاگ تبصرہ کیا تم میرے ساتھ نیچے لان میں جاؤ گی …..؟ ؟ ہانی نے باہر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا نہیں
نور نے یک لفظی جواب دیا.
🪶🪶🪶🪶🪶
لان میں قدم رکھتے ہی ٹھنڈے ہوا کے جھونکے نے ہانی کا استقبال کیا جس سے اس کے پورے جسم میں سردی کی ایک لہر دوڑ گئی.
آپ اتنی سردی میں یہاں کیا کر رہے ہیں ……. ؟؟ تھوڑے سے فاصلے پر لان میں بیٹھے بدر کو دیکھ کر ہانی نے پکارا
تم یہاں کیا کر رہی ہو ……… ؟؟؟ اندر جاؤ نور کے پاس، باہر نہیں آنا. ٹھنڈ لگ جائے گی. آگے ذرا سی جان ہے تمہاری _ بدر نے ہانی کی طرف مڑتے ہوئے نرم لہجے میں کہا آپ بھی تو باہر بیٹھے ہیں.ٹھنڈ تو آپ کو بھی لگ سکتی ہے. ہانی نے بدر کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا چھوڑو میری بات اور ہے. میں اور رازی تو ویسے ہی آوارہ پھرتے رہتے ہیں ہمیں کچھ نہیں ہوتا. بدر نے بےخیالی میں رازی کا ذکر کیا. رازی کہاں ہے. اسے کیا ہوا ہے ……. ؟؟ ہانی کے سوال پر بدر کی مسکراہٹ کو بریک لگی. میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی وہ ڈیرے پر چلا گیا ہے اور آگے تو تم جانتے ہی ہو. بدر نے اداسی سے جواب دیا. اب کیا ہوگا ……؟ ؟ ہانی نے کسی چھوٹے بچے کی طرح بدر سے پوچھا تو وہ پھیکا سا مسکرا دیا کچھ نہیں ہونا کیا ہے. ناجو بابا پہلے غصہ کریں گے، پھر شاید تھوڑی سی سزا بھی دیں. اس کے بعد چھوڑ دیں گے. بدر نے پتہ نہیں خود کو تسلی دی تھی یا ہانی کو مگر دل دونوں کے ہی ماننے کو تیار نہ تھے.
میں نے جہلم جانا ہے. چند لمحے خاموشی سے سرکنے کے بعد ہانی نے کمزور سی آواز میں بدر سے کہا
جانا تو مجھے بھی ہے _ بدر نے فوراً تائید کی. تو پھر انتظار کس بات کا ہے چلیں …..؟ ؟ وہ دونوں خاموش تھے مگر آواز ایک تیسری جانب سے آئی تھی جس پر دونوں نے چونک کر دیکھا کیا یہاں پر بیٹھے فضول بیکار بوڑھے لوگوں کی طرح باتیں بنا رہے ہو. تمہاری بھی جان اپنے دوست کے پیچھے نکل رہی ہے اور تم تو ویسے ہی اپنے دلہے پر فدا ہو. آؤ چلتے ہیں اور کچھ نہیں تھوڑا ایڈونچر ہی صحیح نور نے انتہائی پرجوش لہجے میں کہتے ہوئے دونوں کو موٹیویٹ کیا
نور بی بی وہ ناچو بابا کا ڈیرا ہے. جہاں اچھے اچھے لوگوں کا سانس رکتا ہے. اس لیے اپنے ایڈونچر کو سنبھال کے رکھو اور جا کر اپنی کارٹون دیکھو. چلو اپنی شکل گم کرو. بدر نے چٹکی بجاتے ہوئے اسے وہاں سے جانے کا کہا
ویسے نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے. میں تو تم دونوں کی مدد کے لیے آئی تھی. وہ کیا ہے نا کہ رازی کا میسج آیا تھا تمہارے نمبر پر، تو میں نے غلطی سے پڑھ لیا. نور بات ادھوری چھوڑتی چل دی.
نورررررررر بدر اور ہانی نے ایک ساتھ پکارا مجھے سنائی دیتا ہے زیادہ چیخنے کی ضرورت نہیں ہے. اگر تم مجھے ساتھ نہ لے کر گئے تو میں تمہیں نہیں بتاؤں گی کہ کیا میسج آیا تھا کیونکہ میں نے ڈیلیٹ کر دیا ہے. نور نے اپنا ہاتھ ہوا میں لہرایا جس سے بدر کا فون پکڑ رکھا تھا. ابا کو پتہ چلا تو بہت ناراض ہوں گے اور ویسے بھی آدھی رات کو میں تم دونوں لڑکیوں کو ساتھ لے کر کیوں جاؤں ……؟ ؟ بدر نے غصے سے نور کی طرف قدم بڑھائے ابا کی تو اس دن سے ہوا نکلی ہوئی ہے کوئی آواز. سنی ہے ہوئے نہ ہوئے ایک برابر ہیں. رہی بات دو لڑکیوں کو ساتھ کیوں لے کر جاؤ ……. ؟؟ تو جس کے لیے جا رہے ہو اُس کی اِس میں جان ہے اور میں تم دونوں کے لیے جا رہی ہوں کیونکہ بے وقوفوں کے ساتھ ایک عقلمند ہونا ضروری ہے. نور نے جتلایا نور بی بی آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ ہنی مون ٹرپ نہیں ہے. بدر اب نور کے مقابل کھڑا تھا. میں نے کب کہا کہ ہنی مون ٹرپ ہے …..؟ ؟ نور نے فوراً جواب دیا. نوررررر
بدر نے لاچاری سے پکارا
میں تمہیں پاگل نظر آتی ہوں. جو یوں چیخ رہے ہو. نور نے اپنی انگلی بدر کی طرف اٹھائی
نہیں میں پاگل ہوں. بدر کہتا ہوا نور کے قریب سے گزرنے لگا
اگر جانے کا پروگرام بن جائے تو مجھ سے چچا جان کی گاڑی کی چابی لے لینا. میں نے چابی ان کے کمرے سے اٹھا لی تھی کہ تمہیں اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے مگر شرط وہی ہے کہ مجھے ساتھ لے کر جانا ہو گا. نور کی بات پر بدر رکا اور پھر بڑبڑاتا ہوا اندر کی جانب چل دیا.
مجھے جہلم جانا ہے _ بدر کے جاتے ہی ہانی نے نور سے کہا لتر کھانے بی بی تھوڑا صبر کر لو پہلے پرانا رزلٹ تو آ جائے پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے …..؟ ؟ نور نے کہتے ہوئے ہانی کو اندر چلنے کا اشارہ کیا
میرے دل کی دھڑکن سہی نہیں چل رہی. عجیب سا لگ رہا ہے جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہو. ہانی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نور کی طرف دیکھا
اس مسئلے کا ایک حل ہے میرے پاس نور نے انتہائی سنجیدگی سے ہانی کی طرف دیکھا وہ کیا ……؟ ؟ ہانی نے حسب عادت فوراً پوچھا تم اپنا سیدھا ہاتھ اپنے سینے پر رکھو اور جو میں کہتی ہوں میرے پیچھے پیچھے دہراؤ یقین مانو بہت فائدہ ہوگا. نور کی بات پر ہانی نے فوراً عمل کیا. “دھڑکنوں کو بھی جگہ دیجیے جناب!!! اپ تو پورے دل پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں” نور نے آخری جملہ ادا کرتے ہوئے قہقہ لگایا تو ہانی کو اپنی بےوقوفی کا احساس ہوا. اس سے پہلے کہ وہ دونوں اندر بڑھتی سامنے سے بدر آتا دکھائی دیا 🪶🪶🪶🪶🪶 رازی ہمارے کاروبار میں غداری کی سزا کیا ہوتی ہے …..؟ ؟ ناجو بابا نے سرد پتھریلے لہجے میں پوچھا موت رازی کی طرف سے یک لفظی جواب آیا جو وہاں پر موجود سب کے رونگھٹے کھڑے کر گیا. خاص طور پر شانی کے پسینے چھوٹنے لگے.
کس طرح کی موت مرنا پسند کرو گے …… ؟؟ ناجو بابا نے اگلا سوال کیا. ڈیرے پرہر طرف ہی سناٹا چھایا ہوا تھا کالی رات کے ساتھ گہری خاموشی کا راج تھا.
جیسے آپ دینا پسند کریں. رازی کا اطمینان قابل دید تھا.
ہممممم _ ناجو بابا نے سر ہلاتے ہوئے ہنکار بھرا بابا میری مانیں تو اس دفعہ معاف کر دیں. آئندہ یہ ایسا کچھ نہیں کرے گا شانی سے جب رہا نہ گیا تو محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بول پڑا شانی وہ ہمارے دھندے کو اچھے سے سمجھتا ہے اور اسے پتہ ہے کہ یہاں وفاداری اور غداری کی کیا سزائیں اور نعمتیں ہیں. ناجو بابا کی دھاڑ پر پھر خاموشی چھا گئی میری پسٹل پر silencer لگاؤ. ناجو بابا نے جیب سے پسٹل نکالتے ہوئے شانی کی طرف بڑھائی جبکہ رازی کو درخت کے ساتھ رسیوں سے باندھا ہوا تھا. بابا رحم شانی نے قدموں میں بیٹھتے ہوئے ایک بار پھر بیکار کوشش کی.
شانی اس سے پہلے کہ میں تیری کھوپڑی بھی اڑا دوں جو کہا ہے وہ کر ناجو بابا نے غصے سے کہتے ہوئے رازی کی طرف قدم بڑھائے میں نے تجھے تب پناہ دی تھی جب تو میرے کسے کام کا نہیں تھا. تیری ٹانگیں انتہائی کمزور تھیں اور تیرا یہ دماغ بالکل خالی تھا. مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ تو نے میرے ساتھ غداری کیوں کی ….؟؟ چند روزہ ہانی کا ساتھ میری تربیت پر غالب آ گیا . تُو تو ایسا بندہ نہیں تھا جو “زن” کے قابو آ جاتا. پھر تجھے کیا ہوا …..؟؟ میں سچ جاننا چاہتا ہوں. یہ میری تجھ سے آخری بات ہے. ناجو بابا نے کف فولڈ کرتے شانی سے پسٹل پکڑی میں کل جتنا آپ کا احترام کرتا تھا اتنا ہی آج بھی کرتا ہوں. مجھے جتنا کل آپ سے پیار تھا. اتنا آج بھی ہے. غداری کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا. رازی کے منہ سے ابھی یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ ناجو بابا نے ایک زور دار پنج مارا جس سے رازی کے منہ سے خون نکلنے لگا میں نے جھوٹ بولنے کا نہیں کہا صرف وجہ پوچھی ہے کہ میرے ساتھ غداری کیوں کی ……. ؟؟ جب ہم دونوں میں طے تھا کہ اس لڑکی نے مرنا ہے تو پھر اسے چھوڑ کیوں دیا اور جھوٹ بھی بولا میں ہر چیز معاف کر سکتا ہوں. لیکن اپنے حکم کی خلاف ورزی اور اپنے ساتھ بے وفائی برداشت نہیں کر سکتا. مانا کہ ُتو جوان ہے اور میں بوڑھا، تُو طاقتور ہے اور میں کمزور مگر ابھی اتنا نہیں کہ میں تیری جان نہ لے سکوں.
مگر اس سے پہلے مجھے یہ جاننا ہے کہ تُو نے میرے ساتھ غداری کیوں کی …… ؟؟ ناجو بابا نے پسٹل رازی کے سر پر ماری. تو درد کی شدت سے رازی کی آنکھیں دھندلانے لگیں.
وہ لڑکی بے قصور تھی. بے گناہ تھی. پھر میں اس کی جان کیوں لیتا. اگر آپ نے اسے مجھ سے مروانا ہی تھا تو میرے ساتھ نکاح کرانے کی کیا ضرورت تھی. میں اللہ کو کیا جواب دیتا اس نکاح کا _ رازی کے جواب پر ناجو بابا نے حقارت سے اسے دیکھا تو جتنا نیک اور شریف ہے مجھ سے بہتر یہ بات کون جانتا ہے …….. ؟؟ اس لیے میرے سامنے زیادہ فرشتہ بننے کی ضرورت نہیں ہے. تیری نظر اس کی جائیداد پر تھی یا میری، میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تیری “بھوک” کی حد کیا ہے …… ؟؟ ناجو بابا کا سوال سچ میں رازی کو دکھی کر گیا. کسی سیانے نے بالکل سچ کہا ہے کہ عورت کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہیے. بندہ بہت ذلیل ہوتا ہے. رازی نے پھیکی سی مسکراہٹ ساتھ شانی کی طرف دیکھا جو اسے دکھ سے دیکھ رہا تھا. تیرے اس نیک کام کی وجہ سے میری کتنی بدنامی ہوگی اور میں کتنے مسائل میں پھنس سکتا ہوں تو یہ جانتا تھا نااااااا
ناجو بابا نے زور سے رازی کے بال کھینچتے ہوئے پوچھا
میں آپ پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا چاہے میری جان ہی چلی جائے. رازی نے ناجو بابا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ناجو بابا نے جھٹکے سے اس کے بال چھوڑ دیے
جان تو تیری جائے گی اور وہ بھی تیرے دوست کے ہاتھوں _
تاکہ تیری اور اس کی روح تڑپتی رہے اور کوئی آئندہ میرے ساتھ غداری کا نہ سوچے. ناجو بابا نے کہتے ہوئے پسٹل شانی کو دی.
اور جہاں تک بات ہے اس لڑکی کی تو میرا وعدہ ہے تجھ سے، تیری قبر کی مٹی سوکھنے سے پہلے پہلے میں اسے بھی تیرے پاس ہی پہنچا دوں گا. ناجو بابا نے پلٹتے ہوئے شانی کو گولی چلانے کا حکم دیا.
ناجو بابا یہ مجھ سے نہیں ہو گا. شانی نے رازی کو دیکھتے ہوئے نہ میں سر ہلایا.
شانی میں نے کہا گولی چلاؤ. میں تین دفعہ گنوں گا. اگر تو نے گولی نہ چلائی. تو میں تیری کھوپڑی اڑا دوں گا. ناجو بابا نے قریب کھڑے گارڈ سے گن پکڑتے ہوئے کہا
نہیں یہ مجھ سے نہیں ہو گا. شانی نے پسٹل ہاتھ سے گرا دی. پسٹل گرتے ہی گولی کی آواز سے سارا علاقہ گونج اٹھا
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے