Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

رازی صاحب آپ یہاں کیا کر رہے ہیں…..؟ ؟ سیکورٹی انچارج کے لہجے میں تفتیش تھی. اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رازی نے فورا اپنے تاثرات تبدیل کیے اور ایسے ظاہر کرنے لگا جیسے اسے موسم اچھا لگ رہا ہو.
آپ کی حویلی میں سیر کرنے پر پابندی ہے کیا ……؟ ؟ پہلے تو سردار صاحب مہمانوں کا بہت احترام کرتے تھے. لگتا ہے اب وقت کے ساتھ ساتھ اپ لوگ بھی خاندانی روایات بھولتے جا رہے ہیں. رازی نے قدرے ناگواری سے جواب دیا.
نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے. وہ تو اپ مہمان خانے سے کافی دور ادھر ویران جگہ پر کھڑے تھے تب پوچھ لیا. ورنہ میرا وہ مقصد نہیں تھا جو آپ سمجھے _ سکیورٹی انچارج کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا کہ کہیں سردار صاحب سے اس کی شکایت نہ لگ جائے تو فورا بعد بدلی سردار صاحب صبح کب تک جاگ جاتے ہیں میں نے ان سے ضروری بات کرنی ہے ……. ؟؟ رازی نے سگریٹ جیب سے نکالتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا رازی صاحب آپ تو لگتا ہے سچ مچ ہم سے ناراض ہو گئے ہیں. میں نے کہا ناااااا میں نے ویسے ہی پوچھ لیا تھا. معذرت چاہتا ہوں. سکیورٹی انچارج نے فوراً معزرت کی اچھا ٹھیک ہے کچھ کھانے کو ہے رات میرا دل نہیں تھا تو میں نے کچھ نہیں کھایا. رازی نے دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے بات بدلی جس پر سیکورٹی انچارج نے سر ہاں میں ہلایا اور اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا. 🪶🪶🪶🪶🪶 آپ سب لوگ مجھے یوں کیوں دیکھ رہے ہیں. ایسا لگتا ہے جیسے میں اپنے گھر نہیں کسی اور کے گھر آگیا ہوں. بدر نے سب کو اپنی طرف گھورتا ہوئے دیکھ کر پوچھا جبکہ ہانیہ چپ چاپ ایک سائیڈ پر کھڑی تھی. میں نے کہا تھا مگر تم لوگوں نے میری ایک نہیں مانی. بالآخر وہ اپنی بیوی کو اس گھر میں لے ہی آیا. اس نے وہاں شادی کی ہوئی تھی تبھی بھاگ بھاگ کر وہاں جاتا تھا. خامخواہ میں اس کے دوست کو برا بھلا کہتا رہا. سب سے پہلے یوسف صاحب سکتے سے باہر نکلے اور چیخ کے کہتے اندر کی طرف بڑھ گئے. بدر مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی. تم بہت نافرمان بردار اور لاپرواہ تھے مگر تم اس طرح کی حرکت کرو گے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا فائزہ بیگم بھی نفی میں سر ہلاتی دکھ سے ایک نظر پاس کھڑی ہانیہ پہ ڈالتی یوسف صاحب کے پیچھے چل دی
تم بھی اپنے حصے کا بھاشن دو کہ تمہیں کیا مجھ سے امید تھی اور کیا نہیں تاکہ ہم دونوں کو اندر جانے کا راستہ ملے. ویسے بھی بارش میں بھیگ رہے ہیں. بدر نے انتہائی بیزاری سے گاڑی ساتھ ٹیک لگاتے نور کی طرف دیکھا
مجھے کبھی بھی تم سے کوئی امید نہیں تھی. ( نور کے بولنے پر بدر نے فرمانبرداری سے سرجھکایا) لہٰذا مجھے نہ تو کوئی دکھ ہوا ہے اور نہ حیرت ہاں اس بات پہ تھوڑا سا تعجب ضرور ہے کہ اچھی خاصی پیاری خوبصورت لڑکی تمہیں دے کس نے دی……؟ ؟ نور نے ہانیہ کا جیسا لیتے ہوئے کہا
نور بی بی گو کہ تمہارا بھاشن ان دونوں کے مقابلے میں کافی بہتر تھا اس لیے میں تمہیں پہلی پوزیشن دیتا ہوں. مگر اب تمہارا وقت بھی ختم ہوتا ہے لہذا تم بھی اپنے چاچا چاچی کے پیچھے جاؤ اور ہمیں راستہ دو. بدر نے نور کو مخاطب کرتے ہوئے ہانیہ کو اندر چلنے کا اشارہ کیا
وہ میں
ہانیہ نے ہچکچاتے ہوئے ایک نظر نور کی طرف دیکھا
اس سے شرمانے یا ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ انتہائی بے شرم اور ڈر پوک ترین لڑکی ہے. چلو شاباش اندر چلتے ہیں. اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو تمہارا کچھ لگتا مجھے اندر کی بجائی نیچے پہنچا دے گا. بدر کی بات پر ہانیہ سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھی.
ایک منٹ پہلے تم اس کا تعارف میرے ساتھ کرواؤ. اسے بتاؤ کہ میں کون ہوں …….. ؟؟ نور نے ہانیہ اور بدر کا راستہ روکتے ہوئے بدر سے فرمائش کی
ہانیہ یہ اپنے ماں باپ کی آخری نشانی ہے اور اس کا دماغ کبھی کبھی شارٹ ہو جاتا ہے. ویسے اتنی بری نہیں ہے جتنی نظر آتی ہے. رشتے میں میری کزن لگتی ہے. بدر نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے ہانیہ کا تعارف نور سے کرایا جس پہ ہانیہ شاکڈ تھی کہ کوئی کزن آپس میں اس طرح بھی بات کرتے ہیں کیونکہ اس کا اپنا تو کوئی کزن نہیں تھا.
ڈیئر کزن تو ایک بات بتانا بھول گئے ہو کہ جب بھی تمہیں چچا جان بےعزت کر کے گھر سے باہر نکالتے ہیں یا تم آدھی رات کو گیٹ پر لٹکے ہوتے ہو تو اس صورت میں تمہیں میں ہی ریسکیو کرتی ہوں. نور نے اپنے احسانات جتلائے.
میرے خیال سے کہ میں صبح تک خود کشی نہیں کروں گا چاہے ابا جان مجھے کتنا ہی ذلیل کیوں نہ کریں. لہذا کچھ باتیں صبح تک اپنے پیٹ کے اندر رکھو. ابھی میں بہت تھکا ہوا ہوں. بدر کہتا ہوا تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا جبکہ ہانیہ وہیں کھڑی رہی
تم بھی اندر چلو _ نور نے ہانیہ کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا جس پر چپ چاپ ہانیہ ا سر جھکائے اندر کی طرف بڑھ گئی برخوردار کدھر چل دیے. ادھر آئیے سلامی تو لے لیں. یوسف صاحب نے بدر کو اپنے کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر پکارا جی بدر تھکے تھکے قدموں سے واپس مڑا تبھی نور اور ہانیہ بھی وہیں آ گئی.
تم نے اتنی محنت اگر اپنے ہیپرز میں کی ہوتی تو آج ہمارا سر فخر سے بلند ہوتا. یوسف صاحب نے طنزیہ انداز میں بدر کی طرف دیکھا
ابا میں نے ابھی پیپر دیے ہی کب ہیں جو آپ مجھے یوں طعنے مار رہے ہیں. بدر نے اونچی آواز میں جواب دیا جس پر فائزہ بیگم نے اسے گھورا
پیپرز دیے بغیر ہی مجھے پتہ ہے کہ تمہارے کتنے نمبر آنے ہیں کیونکہ ساری محنت تو تم نے اس طرف کی ہے. میں خواہ مخواہ تمہارے دوست کو برا بھلا کہتا رہا اللہ مجھے معاف کرے. یوسف صاحب نے ہانیہ پر سرسری سی نظر ڈالتے وہ ایک کانوں کو ہاتھ لگایا
چلو جی اب میرا دوست بھی نیک پارسا ہو گیا. میں نے ایسا کیا کر دیا ہے جو آپ مجھے طعنے دے رہے ہیں. بس کریں ابا پہلے کسی کی سن تو لیتے ہیں. بدر نے احتجاج کیا
ہم تیری سنتے ہیں مگر پہلے تو ہماری سن، یہ لڑکی تو نے بھگائی ہے. یوسف صاحب نے غصے سے ہانیہ کی طرف انگلی کی تو ہانیہ نے نظریں جھکا لیں
جی بلکل میں ہی اسے بھگا کر لایا ہوں کیونکہ آہستہ چلنے کی آپشن نہیں تھی. بدر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا. جس پر فائزہ بیگم نے حیرانگی سے اسے دیکھا
دیکھ رہی ہیں اپنے برخوردار کو کس طرح بے شرمی سے اپنا کارنامہ سنا رہے ہیں. یوسف صاحب نے فائزہ بیگم کی طرف دیکھا جیسے جتلا رہے ہوں کہ میں اس کے بارے میں جو بھی کہتا تھا ٹھیک کہتا تھا تمہیں کسی کی لڑکی بھگاتے ہوئے شرم نہیں آئی. یہ تربیت کی تھی میں نے تمہاری فائزہ بیگم نے بدر کے طرف دیکھتے ہوئے انتہائی غصے سے پوچھا
یہ کسی کی “لڑکی” نہیں بلکہ “بیوی” ہے. بدر نے انتہائی اطمینان سے صوفے پر بازو پھیلاتے ہوئے جواب دیا تو یوسف صاحب کا رہا سہا اطمینان بھی رخصت ہو گیا جبکہ نور نے اسے ستائشی نظروں سے دیکھا
کیا بکواس کر رہے ہو …..؟ ؟ یوسف صاحب اب بالکل سنجیدہ تھے.
میں بکواس نہیں کر رہا. آپ کو حقیقت بتا رہا ہوں. میں نے سوچا تھا فریش ہو کر، کھانا پینا کھا کر، آپ کو ساری کہانی سناؤں گا مگر اپ دونوں کو ٹھیٹر لگانے کا اتنا شوق ہے کہ آپ کہانی سنتے ہی نہیں. بدر کہتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
کیا …..؟؟ فائزہ بیگم نے پہلی بار نرمی سے ہانیہ کی طرف دیکھا
مطلب یہ پیاری ماں کہ یہ لڑکی رازی کی بیوی ہے اور میں اس کی اجازت سے اسے بھگا کر لایا ہوں. بدر کی بات پر یوسف صاحب نے فورا لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھی
ابا کبھی پوزیٹو بھی سوچ لیتے ہیں. میری پوری بات تو سن لیں. پہلے ہی لاحول ولا قوۃ الا باللہ
بدر نے نقل اتاری.
تم چھوڑو ان کو آگے بتاؤ کیا ہوا ……. ؟؟ کہانی تو مزے دار لگ رہی ہے. نور نے پہلی بار دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے بدر کی طرف دیکھا تو فائزہ بیگم نے اپنا ماتھا پکڑ لیا. گہرا سانس خارج کرتے بدر نے مختصر الفاظ میں ساری کہانی کھول کر رکھ دی.
تم یہ بکواس پہلے نہیں کر سکتے تھے. خواہ مخواہ بچی کو بھی پریشان کیا. ادھر آؤ _ فائزہ بیگم نے پوری بات سنتے ہی ہانیہ کو پیار سے اپنے قریب بلایا آپ نے مجھے بات بتانے کب دی ہے اور یہ بچی صدا کی پریشان ہے اس کی ٹینشن نہ لیں اور دعا کریں کہ اُس کا وہ بچہ پریشان نہ ہو. ورنہ میں بری طرح پریشان ہو جاؤں گا. بدر بڑبڑاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا. عجیب لوگوں سے واسطہ پڑا ہے. پتہ نہیں کن لوگوں میں میں پیدا ہو گیا ہوں ……؟ ؟ بدر نے آتے ہی بستر پر بے دردی سے گرتے ہوئے خود کلامی کی تبھی اس کا موبائل بجنے لگا ایک مقدمہ ختم ہوا اور دوسرا شروع سکرین پر رازی کا نام چمکتا دیکھ کر بدر نے کال اٹینڈ کی
میں آپ کی بیگم سمیت خیر و خیریت سے گھر پہنچ گیا ہوں اور ابھی ابھی ایک لمبی جراح کے بعد اپنے کمرے میں پہنچا ہوں. بدر نے سانس لیے بغیر کہا
شاباش محنت کرے گا تبھی تو کامیاب ہوگا. رازی کی مطمئن آواز سپیکر سے ابھری تو بدر کو اپنی کچھ دیر پہلے کی بےعزتی یاد آ گئی.
او بھائی !!! تیری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میری “محنت” سے نہیں بنتی. میرے اور اس کے درمیان اب کوئی رشتہ نہیں بچا. میں نے اب سے کچھ دیر پہلے “محنت” کو طلاق دے دی ہے اور اس کی جگہ “سستی اور کام چوری” سے شادی کر لی ہے. آئندہ تو مجھ سے کسی قسم کی “محنت” کی کوئی امید نہ رکھی. بدر کے جواب پر رازی نے قہقہ لگایا.
لگتا ہے آج انکل نے کچھ زیادہ ہی ڈوز دے دی ہے. رازی نے ہمدردی کی.
مجھے تیری دو نمبر ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بتا کہ فون کیوں کیا ہے. کم از کم خیریت معلوم کرنے کے لیے تو نہیں ہے. میں تجھے اچھے سے جانتا ہوں. بدر کا جواب رازی کو پھر مسکرانے پر مجبور کر گیا.
میں نے تو سنا تھا کہ صرف ماں ہی اچھی طرح جانتی ہے مگر دوست بھی اچھی طرح جانتے ہیں اس پر حیرت ہے …… ؟؟ رازی نے پر سوچ انداز میں پوچھا
بیٹا تو مجھے اپنی ماں ہی سمجھ اور یہ بتا کہ اب میں تیری کیا خدمت کروں ….؟؟ بدر کے جواب رازی کو مزہ دے رہے تھے.
بدر تو اتنی مزیدار گفتگو بھی کر سکتا ہے میں نے تو کبھی نہیں سوچا تھا. رازی کے پوچھنے پر بدر نے مسکراتے ہوئے سامنے آئینہ میں اپنا عکس دیکھا
صبر کر ابھی تیرے ناجو بابا کا فون آتا ہی ہوگا. پھر تجھے پتہ چلے گا کہ مزیدار گفتگو اور خوفناک گفتگو میں کیا فرق ہے اور کون کیسی گفتگو کر سکتا ہے…..؟ ؟ بدر کا اشارہ ہانیہ کی طرف تھا.
یہی بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ صبح تک ہانیہ کو میرے فلیٹ پر چھوڑ دینا اور ضرورت کی تمام چیزیں اور اس سے پوچھ لینا جو اسے چاہیے ہو وہ بھی لا دینا. رازی اب کی بار بلا کا سنجیدہ تھا.
جی بہتر اور کوئی حکم بدر نے سعادت مندی سے پوچھا نہیں فی الحال تو نہیں لیکن اگر یاد آیا تو میسج کر دوں گا. رازی نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی نوابی ہے بھئی، بر یاد رکھ ہر مفت کام نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہ ڈیوٹی بن جاتا ہے.
بدر فون پھینکتا دوبارہ لیٹ گیا.
🪶🪶🪶🪶🪶
صبح کی کرنیں سردار حویلی میں ایک بھونچال لے آئیں. جیسے ہی سردار صاحب کو ہانیہ کی گمشدگی کی اطلاع ملی وہ سیخ پا ہو گے.
میں نہیں مانتا کہ وہ لڑکی اس حویلی سے کہیں جا سکتی ہے اس میں اتنی ہمت ہی نہیں. اس حویلی کی در و دیواروں کو کوئی مرد نہیں پھلانگ سکتا وہ تو پر ایک کمزور سی چڑیا تھا. سردار صاحب نے غصے سے ملازموں کی کھڑی قطار کی طرف دیکھا
یقیناً تم ہی میں کوئی غدار ہے. جس نے غداری کی ہے. ہمیشہ اندر کا بندہ ہی مخبری کرتا ہے. سردار صاحب کی بات پہ سب ملازمین کے رنگ خوف سے اڑ گئے.
سردار صاحب ہم نے اپ کا نمک کھایا ہے ہم نمک حرامی کا سوچ بھی نہیں سکتے. تمام ملازمین ہاتھ باندھے کہنے لگے.
ہمیشہ نمک کھانے والا ہی نمک حرامی کرتا ہے. سردار صاحب نے ٹہلتے ہوئے غصہ نکالا
سردار صاحب کل سے رازی بھی آیا ہوا ہے اور اب وہ آپ سے ملنے کو ضد کر رہا ہے. سکیورٹی انچارج نے مؤدب انداز میں آتے ہوئے عرض کی.
اچھا ٹھیک ہے اسے بھیجو اور اسے کسی صورت بھی شک نہ ہونے پائے کہ وہ لڑکی حویلی میں نہیں ہے اور فراز کو بھی دیکھو وہ کدھر ہے اور رات کہاں تھا. مجھے اس پہ شک ہے کب سے وہ اس لڑکی کے پیچھے پڑا تھا ……… ؟؟ سردار صاحب نے نوکروں کو جانے کا اشارہ کیا.
آؤ رازی آؤ __
آج تو بڑی بات ہے. صبح صبح تمہارا چہرہ دیکھنے کو ملا ہے. میں جب بھی تم سے ملتا ہوں مجھے اپنی جوانی یاد آ جاتی ہے. میں جوانی میں بالکل تمہاری طرح تھا. پرجوش، نڈر، سردار صاحب نے رازی کو آتا دیکھ کر اپنی باہیں محبت سے پھیلائیں.
یہ تو آپ کی محبت ہے ورنہ میں اس قابل تو نہیں. رازی نے بغل گیر ہوتے ہوئے جواب دیا.
سردار صاحب کیا میں اس لڑکی سے مل سکتا ہوں …..؟؟ رازی نے بیٹھتے ہوئے فورا مدعا پیش کیا جس پر سردار صاحب نے گلا صاف کیا
ہاں کیوں نہیں مگر میرے خیال سے وہ کچھ دنوں کے لیے میری بیٹی کی طرف گئی ہے. جب آئے گی تو مل لینا. سردار صاحب کا جواب رازی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا وہ یہی سننا چاہتا تھا.
مطلب وہ محفوظ جگہ پہ ہے. آپ ہی کے پاس ہے. ہمیں آپ پر اعتبار ہے. رازی نے مسکراتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھی
ہاں یہی سمجھو وہ لڑکی بالکل محفوظ ہے. سردار صاحب نے کہتے ہوئے نوکر کو ناشتہ لانے کا اشارہ کیا.
گیم کھیلنے کا مزہ تو اب آئے گا. رازی نے دل میں سوچتے ہوئے سردار صاحب کی طرف دیکھا
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.