No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
کبھی کبھی لگتا ہے میری زندگی ایک خواب ہے . ایک ڈراؤنا خواب جس میں ڈرنے کے باوجود بھی میری آنکھ نہیں کھلتی. ہانی نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو گھورتے ہوئے سوچا
پتہ نہیں ان لکیروں میں کیا چھپا ہے. میرے ساتھ اب کیا ہونے والا ہے. اپنا ہاتھ جھٹکتی وہ کھڑکی پاس آ کھڑی ہوئی.
ڈیرے پر خلاف معمول آج کافی گہما گہمی تھی. ہانی نے بیزاری سے اس رونق کو دیکھا اور کھڑکی بند کر دی.
میں یہاں رہنا تو نہیں چاہتی مگر یوں جانا بھی نہیں چاہتی. ہانی سوچتی ہوئی چارپائی پر لیٹ گئی مگر نیند اور سکون دونوں ہی آنکھوں سے کوسوں دور تھے.
ایک تو وہ اتنے غصے والا ہے. دوسرا ناجو بابا اس ساتھ زبردستی کر رہے ہیں. ناجو بابا کو تو وہ کچھ نہیں کہے گا مگر مجھے معاف نہیں کرے گا. میں کیسے انکار کروں. ہانی اپنی سوچوں سے خود ہی پریشان اٹھ بیٹھی تبھی اس کا موبائل بجنے لگا. سکرین پر چمکتا نمبر اسے مزید پریشان کر گیا.
ہانی ہمت کر کال اٹھا اس سے پہلے کہ وہ آکر تجھے اس دنیا سے اٹھا دے. ہانی نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹینڈ کی.
کہاں مر گئی تھی اتنی دیر سے کال کر رہا ہوں. رازی کی گرجدار آواز سپیکر سے ابھری اور ہانی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اسے بولے کیوں جھوٹ بول رہے ہیں پہلی بار تو کال کی ہے اور میں نے اٹھا لی.
اب بولتی کیوں نہیں ہو سانپ سونگھ گیا ہے …… ؟؟
رازی نے ہانی کی خاموشی سے بیزار ہوتے ہوئے اکتا کر پوچھا
جی میں سن رہی ہوں. ہانی نے ڈرے سہمے انداز میں جواب دیا
صرف سننا نہیں ہے بولنا بھی ہے سمجھی _ رازی کی بات پر ہانی نے سر ہلایا مگر منہ سے پھر بھی کچھ نہیں بولی ناجو بابا آئے تھے تمہارے پاس ……. ؟؟ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد رازی نے دوبارہ پوچھا جی نہیں ہانی نے مختصرا جواب دیا
کیوں وہ تو کہہ رہے تھے کہ میں ہانی سے بھی پوچھوں گا ……….. ؟؟ رازی نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ نیچے پھینکا
کیا پتہ آج آ جائیں انھیں پہلے وقت نہ ملا ہو. ہانی کے جواب پر رازی نے ہنکار بھری اور گاڑی کو سڑک کنارے لگاتے روکا
انہوں نے مجھے فورا جہلم پہنچنے کا کہا ہے. آج رات میں کراچی سے جہلم کے لیے نکلوں لگا. جب میں جہلم پہنچ جاؤں گا پھر تو میں خود بھی بات کر سکتا ہوں مگر تب کوئی فائدہ نہیں ہوگا لہذا مہربانی فرما کر تم جلدی بات کر لو. رازی نے سڑک پر دوڑتی ٹریفک کو دیکھتے ہوئے سمجھایا
میں کوشش کروں گی کہ وہ میری بات مان لیں مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا ……؟ ؟ ہانی نے آہستہ آواز میں نظریں جھکائے جواب دیا جیسے رازی اس کے سامنے بیٹھا ہو.
تم ایک کام کرو، ڈیرے سے بھاگ جاؤ. نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری کیس ا…… ؟؟ رازی اپنے آئیڈیا پر خود ہی خوش ہوا.
یہ کیا کہہ رہے ہیں. میں اگر ڈیرے سے بھاگ سکتی تو آج سے دس سال پہلے ہی بھاگ گئی ہوتی. ہانی کو رازی کی بات سخت بری لگی
دیکھو میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا اور اگر میری شادی تم سے ہو گئی تو میرا تو کچھ نہیں جائے گا میں تو دوسری شادی بھی کر لوں گا مگر تمہارا بڑا نقصان ہوگا. کچھ بھی کہو آخر ہمارا بچپن ساتھ گزرا ہے اور میں اتنا بھی ظالم نہیں کہ تمہارا برا چاہوں. میں تمہاری ہمدردی میں ہی تمہیں یہ مشورہ دے رہا ہوں. رازی نے سٹیرنگ پر انگلیاں بجاتے سنجیدہ لہجے میں کہا
میرا نقصان مگر کیسے …..؟؟ ہانی کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے.
دیکھو میں بہت برا انسان ہوں.نشے کی حالت میں مجھے پتہ ہی نہیں چلتا کہ میں کیا کر رہا ہوں .میں تمہیں ماروں پیٹوں گا تو تمہیں تکلیف ہوگی ناااااا رازی کا لہجہ ہمدردی سے بھرپور تھا
مگر تم کب سے نشہ کرنے لگے …..؟؟ ہانی کو شدید حیرت ہوئی
جب سے کراچی آیا ہوں تب سے یہ لت مجھے لگ گئی ہے. یہاں تو سب ہی ایسا کرتے ہیں. اس ڈیرے کا ماحول ناجو بابا کے ڈیرے سے بہت مختلف ہے. رازی کے جواب پر ہانی مزید پریشان ہو گئی
ناجو بابا کو اس بات کا پتہ ہے …… ؟؟ ہانی کی بات پر رازی ہنس دیا
ناجو بابا کون سا مکہ بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی تو یہی سب کرتے ہیں مگر خیر چھوڑو کام کی بات کرتے ہیں.
ہانی مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے. میں شادی اپنے والدین کی پسند سے اپنے خاندان میں کروں گا اس لیے تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ تم بھاگ جاؤ یا انکار کر دو. رزضی نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی
یہ کام تم خود کیوں نہیں کرتے. ہانی نے بے بسی سے جواب دیا
اگر میں نے انکار کیا تو ناجو بابا مجھے گولی مار دیں گے لیکن اگر تم نے کیا تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے آخر تم ان کی محبوبہ کی آخری نشانی ہو. رازی نے اپنی بات کے آخر میں قہقہ لگایا جبکہ اس کی بات پر ہانی کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا
میری ماں ان کی محبوبہ نہیں تھی. ہانی نے احتجاج کیا.
تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کیا ہوگا. جو سچ ہے وہ سچ ہی رہے گا بدل نہیں سکتا ہانیہ بی بی رازی نے گاڑی چلاتے مزے سے جواب دیا
یہ جھوٹ ہے ناجو بابا جھوٹ بولتے ہیں. ہانیہ کی آواز نم ہونے لگی تھی.
اچھا اچھا زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے. جو بھی ہے مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں مگر تم کل تک پلیز ادھر ادھر ہو جانا. رازی نے کہتے کال کاٹ دی جب کہ اپنی بے خبری میں وہ ہانی کے زخم ادھیڑ گیا تھا.
🪶🪶🪶🪶🪶
نور، نور، او نورررررر بی بی بدر نے سیڑھیاں پھلانگتے تیزی سے نور کے کمرے کا فاصلہ طے کیا.
نور کہاں ہو یاررر کمرے کا دروازہ کھولتے ہی سامنے کا منظر اسے غصہ دلا گیا.
تم بول نہیں سکتی کہ اندر ہو. میں کب سے تمہیں آوازیں دے رہا ہوں. بدر نے محویت سے کارٹون دیکھتی نور کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
میرے خیال سے تمہیں دیکھنا یا کارٹون دیکھنا ایک ہی بات ہے. نور کہتی دوبارہ سکرین کو گھورنے لگی.
ارے واہ کمال ہو گیا اب کارٹون بھی دوسروں کو کارٹون کہیں گے. بدر کا انداز خاصا چڑانے والا تھا مگر نور پر زرا بربر اثر نہیں ہوا.
نور _ کچھ دیر بدر اسے گھورتا رہا. کیا کروں بلائے بغیر چارہ نہیں ہے آخر اپنا مطلب بھی تو نکالنا ہے. کیا ہے …؟؟ نور نے ریموٹ سے ٹی وی بند کیا. وہ میں نے جہلم جانا ہے. بدر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے قدرے شرمندگی سے بتایا کیا “جیل” جانا ہے …… ؟؟ نور کے پوچھنے پر بدر کے تاثرات ایک دم تبدیل ہوئے. میں نے “جہلم” بولا ہے. بدر نے دانت پیسے. اچھااااااااااااا تو تمہارے خیال میں، میں پاگل ہوں جو مجھے غلط سنائی دیتا ہے. نور نے غصے سے بدر کی طرف دیکھا نہیں میں پاگل ہوں جو “مدد” کے لیے تمہارے کمرے میں چلا آیا. بدر کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا. “بدر” کے لیے مگر وہ تو تم خود ہو. نور کے پوچھنے پر بدر نے کمرے میں نظر دوڑائی کیا تلاش کر رہے ہو …..؟ ؟ نور نے بدر کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا سر پر مارنے کے لیے کوئی چیز ملے گی …..؟ ؟ اپنی بات کے آخر میں اکتا کر بدر نے نور کو دیکھا اب میں نے کیا کیا ہے جو یوں طنز کر رہے ہو. نور منہ بناتی ڈریسنگ ٹیبل پاس جا کھڑی ہوئی. میں نے “مدد” بولا تھا “بدر” نہیں بدر نے نور کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا
مطلب میں پاگل ہوں …..؟؟ نور نے خود پر انگلی رکھی.
نہیں میں پاگل ہوں. بدر نے فوراً عاجزی کا مظاہرہ کیا.
ہاں وہ تو تم ہو مگر خیر یہ بتاؤ کہ مجھ سے کیا مدد چاہیئے. نور نے اپنی پونی درست کرتے پوچھا
میں نے جہلم جانا ہے. “رازی” نے بلوایا ہے. تم بس ماما کو سنبھال لینا ٹھیک ہے. بدر کا لہجہ ایک دم نرم پڑا.
کس کو “راضی” کرنا ہے …… ؟؟ نور نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا تو بدر نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل رکھنے کی بھرپور کوشش کی.
میں نے اپنے “دوست” رازی پاس جہلم جانا ہے. بدر نے ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر ادا کیا.
“روسٹ” مگر چاچی تو کہہ رہیں تھیں کہ آج ماش کی دال پکی ہے تبھی میں نے دن کا کھانا نہیں کھایا. نور نے قدرے حیرانگی سے پوچھا تو بے ساختہ بدر کے لب مسکرانے لگے.
نور تمہارا موبائل-فون کہاں ہے …..؟ ؟ بدر کے پوچھنے پر نور نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا. بدر نے ایک میسج ٹائپ کرتے نور کی طرف دیکھا تبھی اس کی میسج ٹون سنائی دی.
اپنا میسج دیکھو اور مجھے ڈائریکٹ جواب دو. نور اپنا موبائل اٹھانے لگی جبکہ بدر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اپنا جائزہ لینے لگا
اچھا تو یوں بولو ناااا کہ تمہیں اپنے دوست رازی پاس جہلم جانا ہے. نور نے میسج پڑھتے ہوئے بدر کی طرف دیکھا
“شُکر” ہے نور بی بی تمہیں میرا مسئلہ تو سمجھ آیا. بدر نے سینے پر بازو لپیٹتے ہوئے خوشی سے کہا
“شَکر” اب شَکر کس میں ڈالنی ہے ……. ؟؟ نور کے پوچھنے پر بدر نے دکھ اور پریشانی سے اپنا انگوٹھا دانتوں میں دباتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
چاچی سے اجازت لینی ہے اور چاچو کی گاڑی کی چابی چاہیے ہو گی مگر میں پیسے نہیں دوں گی پچھلی دفعہ ہی تم نے واپس نہیں کیے تھے. بدر کو یوں چپ چاپ گھورتے دیکھ کر نور نے اونچی آواز میں کہا
کاش تمہارا software میں update کر سکتا. خیر _ بدر زیر لب بڑبڑایا. بس مجھے اجازت “چاہیے” تھی وہ لے دینا میں نے کل شام کو نکلنا ہے. بدر کہتا دروازے کی طرف چل دیا. “چائے” چائے پینی ہے تو اس میں اجازت والی کیا بات ہے. چاچی کو بولو بنا دیں گی. میں تو اس گرمی میں نہیں بناؤں گی. نور کے جواب پر بدر نے موبائل فون کی طرف اشارہ کیا اور خود میسج ٹائپ کرنے لگا اچھا اچھا کوئی مسئلہ نہیں ہے. میں گھر میں سب کو دیکھ لوں گی مگر تم جلدی واپس آنا. نور نے میسج پڑھتے ہوئے فراخدلی سے کہا شکریہ، مہربانی دماغ کی دہی بنانے کے لیے آدھا جملہ منہ میں ادا کرتا بدر دروازہ کھولنے لگا
تم بھی ناااا زرا سی بات کو اتنا لمبا کر دیتے ہو. میں نے سوچا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے. اچھی بھلی ٹی وی دیکھ رہی تھی سارا مزہ خراب کر دیا. نور نے کہتے ہوئے ریموٹ سے ٹی وی آن کیا.
“بات” میں نے لمبی کی ہے …..؟ ؟ ہنڈل گھماتے بدر کا ہاتھ اس الزام پر وہیں رک گیا.
“رات” _ اب رات کو کیا ہے …..؟ ؟ نور نے پلٹ کر بدر کی طرف دیکھا پاگل کہیں کی بدر افسوس سے سر ہلاتا پلٹنے لگا
تمہارے خیال میں، میں پاگل ہوں ……؟ ؟ نور فوراً چلائی
نہیں میں پاگل ہوں. ( صرف یہ ایک لفظ اسے بلکل ٹھیک سنائی دیتا ہے. ) بدر بڑبڑاتا سیڑھیاں اترنے لگا.
🪶🪶🪶🪶🪶
دیکھو بچے میں تمہیں اب ڈیرے پر مزید نہیں رکھ سکتا یہاں طرح طرح کے لوگ آتے ہیں. ویسے بھی اب تم بڑی ہو گئی ہو. میں اتنا ہی تمہاری ماں ساتھ کیا وعدہ نبا سکتا ہوں اس سے زیادہ میرے میں ہمت نہیں ہے.
رازی بہت اچھا لڑکا ہے. دیکھا بھلا بھی ہے. تمہارا تو بچپن بھی اس کے ساتھ گزرا ہے. مجھے امید ہے کہ میرا یہ فیصلہ تمہارے حق میں بہت اچھا ثابت ہوگا اور تمہیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے. کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں. ناجو بابا کے پوچھنے پر ہانی نے ہاں میں سر ہلایا(وہ یہاں سے جانا چاہتی تھی مگر یوں نہیں).
ٹھیک ہے تم اب اندر جاؤ. مولوی صاحب آتے ہی ہوں گے پھر میں تمہیں بلواتا ہوں. ناجو بابا کے کہنے پر ہانی سر ہاں میں ہلاتی اپنے کمرے کی طرف چل دی
شانی او شانی _ کہاں مر گیا ہے تو ……؟؟ پتہ کر رازی ابھی تک آیا کیوں نہیں. ناجو بابا نے اپنے پسندیدہ گھوڑے کو دیکھتے ہوئے شانی کو آواز دی ناجو بابا راستے میں ہے. آ رہا ہے. میں نے فون کیا تھا. آپ تو خواہ مخواہ غصے میں آ جاتے ہیں. اس کی کیا مجال کہ آپ کی حکم عدولی کرے. کبھی اس نے ایسا کیا ہے جو اب کرے گا ……. ؟؟ شانی اپنے دوست کی حمایت میں فورا بول پڑا ویسے رازی کو رقم ابھی دینی ہے یا کام ہونے کے بعد ……؟ ؟ شانی نے ناجو بابا کے قریب جھکتے ہوئے رازداری سے پوچھا ارے کم بخت! یہ بات یوں پوچھنے والی ہے. ناجو بابا کا چہرہ ایک دم غصے سے لال ہو گیا. معذرت بابا غلطی ہو گئی ہے. معاف کر دو. شانی نے فورا ہاتھ جوڑے. تبھی نوکر نے آ کر رازی کے آنے کی اطلاع دی. اسے میرے خاص کمرے میں بٹھاؤ اور ہاں جب تک میں اس سے بات کر رہا ہوں کوئی اندر نہ آئے. ناجو بابا کہتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے جس پر شانی نے سر ہلایا اب پتہ نہیں ناجو بابا شادی کے لڈو کے ساتھ ساتھ اور کیا کچھ کھلائیں گے. بس مار نہ کھانی پڑے باقی سب چلے گا. راضزی نے انگلیوں سے میز بجاتے ہوئے سوچا. اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور ناجو بابا اندر داخل ہوئے جنہیں دیکھ کر رازی اٹھ کھڑا ہوا. یہ ایک سادہ سا کمرہ تھا. جس کے وسط میں ایک میز اور دو کرسیاں رکھی ہوئی تھیں. یہ ناجو بابا کا خاص کمرہ تھا جو ساؤنڈ پروف تھا رازی تم میرے خاص بندے ہو اور یہ بات میرے سوا کوئی نہیں جانتا. ناجو بابا کی بات پر رازی سر ہلانے لگا تم میرے پاس تب آئے تھے. جب تمہارے باپ کا سایہ تمہارے سر سے اٹھ گیا تھا اور تمہارے رشتے داروں نے تمہیں سڑک پر پھینک دیا تھا. تمہارے گھر کھانے پینے کو کچھ نہ تھا. ناجو بابا کی بات پر رازی نے ایک گہرا سانس خارج کیا. بابا آپ کو یہ سب باتیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے. مجھے سب یاد ہے. یہ جو میں ٹھاٹ سے زندگی گزار رہا ہوں یہ سب آپ کی وجہ سے ہی ہے. رازی کے اقرار پر ناجو بابا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی میں نے تمہیں اسی لیے اتنا پڑھا لکھایا ہے تاکہ تم پولیس میں افسر بنو اور میرے کام کو آسان کر دو. لوگ ہمارے تعلق سے ناواقف ہیں اس لیے تم میرے لیے سب سے زیادہ فائدے مند ہو. میں صرف تم اور شانی پر ہی بھروسہ کرتا ہوں اور اپنے خاص کام بھی صرف تم ہی دونوں کو کہتا ہوں. ناجو بابا نے رازی کی طرف محبت سے دیکھا ناجو بابا آپ حکم کریں …..؟؟ رازی نے اب کی بار کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا یہ لڑکی اب میرے لیے مسئلہ بنتی جا رہی ہے. اس سال یہ 18 سال کی ہو جائے گی پھر تو تم جانتے ہی ہو کہ کیا ہوگا ……. ؟؟ اگر میں کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہوں تو میں پھنس بھی سکتا ہوں اور کیونکہ میں نے الیکشن لڑنے ہیں اس لیے میں کسی ایسے مسئلے میں پھنسنا نہیں چاہتا. تم اس سے شادی کر کے اسے کہیں دور لے جاؤ اور ناجو بابا کی آواز پر اسرار ہوئی
اور _ رازی کو پہلی بار ناجو بابا کی بات سمجھنے میں دشواری پیش آئی. اور اللہ کے حوالے کر دو ناجو بابا مسکرائے.
مطلب ……. ؟؟ رازی کو حیرت کا شدید جھجکا لگا
آپ تو اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور یہ بات سارا علاقہ جانتا ہے پھر رازی اب کی بار اپنے جذبات چھپانے میں کامیاب ہوگیا تھا.
وہ سب ایک ڈھونگ ہے. تم اسے کہیں دور کسی پہاڑی علاقے میں لے جانا اور کوشش کرنا لاش نہ ملے. باقی سب میں سنبھال لوں گا. تمہارا نام بھی نہیں آئے گا اور یہ کام تمہارے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا
میں شانی سے بھی کہہ سکتا تھا مگر شانی اس علاقے کا ہے اور یہاں کے لوگ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں. اس لیے اس کو بچانا اور سنبھالنا میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گا. ناجو بابا کی بات پر رازی سوچ میں پڑ گیا.
کیا سوچ رہے ہو …… ؟؟ ناجو بابا کی آواز پر رازی چونکا
کچھ نہیں جیسا اپ کہیں گے بالکل ویسا ہی ہوگا. رازی نے اپنے جذبات کو کنٹرول کرتے جواب دیا.
شاباش مجھے تم سے یہی امید تھی. رقم تمہاری من پسند ہے. نکاح کے بعد شانی سے لے لینا. ناجو بابا کہتے ہوئے کھڑے ہوئے.
جو حکم __ رازی نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے تابعداری کا مظاہرہ کیا.
چلتے ہیں مولوی بھی آ گیا ہو گا. ناجو بابا کہتے دروازے کی طرف بڑھ گئے جبکہ رازی کی آنکھوں میں مسلسل ہانی کا چہرہ گھوم رہا تھا. وہ اس لڑکی کو کیسے موت کے حوالے کر سکتا تھا ……؟ ؟
