Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ی سے ڈرائیو کرتے رازی سے پوچھا
گھر _ نہایت نرمی سے مختصر ترین جواب ملا جسے سن کر ہانی خاموشی سے باہر دیکھنے لگی. یعنی ایک بار پھر مجھے ان کی باتیں سننی پڑیں گی. اُس گھر میں سوائے گڑیا کے کوئی نرمی سے بات ہی نہیں کرتا. سب مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے میں کسی اور دنیا کی مخلوق ہوں. ہانی نے اندھیرے میں جلتی رنگ بھرنگی لائٹوں بھری عمارتوں کو دیکھتے ہوئے سوچا جو تیزی سے گزر رہی تھی. تم نے پوچھا نہیں کہ ہم کس کے گھر جا رہے ہیں …… ؟؟ ہانی کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر رازی نے مخاطب کیا جبکہ وہ خود خلاف عادت خوش نظر آ رہا تھا. اپ بہت خوش ہیں ہانی نے رازی کی چمکتی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
مجھے بچپن سے ہی فسادی کام کرنے میں بہت خوشی حاصل ہوتی ہے. جیسے کسی کی نیندیں حرام کرنا، کسی کا راش فاش کرنا، جیسے کچھ ایسا کرنا جس کی اگلے کو امید نہ ہو وغیرہ وغیرہ رازی ضرورت سے زیادہ ہی پرجوش لگ رہا تھا. ہانی سوچتی دوبارہ باہردیکھنے لگی.
مس ہانیہ رازیان!!! تم نے پوچھا نہیں کہ ہم کس کے گھر جا رہے ہیں …….. ؟؟ چند لمحوں بعد دوبارہ رازی نے ہانی کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں کہا تو ہانی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا
یار اب پوچھ بھی لو اتنی دیر کیوں لگا رہی ہو اور مجھے گھورنا بند کرو. رازی نے سامنے سڑک پر دیکھتے ہوئے کہا تو ہانی نے فوراً اپنی نگاہیں اس کے چہرے سے پھیر لیں.
آپ کو بتانے کا اتنا شوق ہو رہا ہے تو خود ہی بتا دیں میرے پوچھنے کا کیوں انتظار کر رہے ہیں …..؟ ؟ ہانی نے بظاہر ناگواری سے جواب دیا جب کہ اسے خود بھی اب تجسس ہونے لگا تھا
دیکھو اگر تم خود پوچھو گی تو کم از کم تم بعد میں مجھ سے گلہ نہیں کر سکتی کہ میں نے تمہیں کیوں نہیں بتایا تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں …… ؟؟
اصل میں تم لڑکیوں کو ڈرامہ کرنے کی بہت عادت ہے. یہ نہ ہو کہ تمہیں بعد میں کوئی جذباتی اٹیک آ جائے اور تم مجھے الزام دو. لہذا میں نے سوچا کہ تمہارے پوچھنے پہ تمہیں بتاؤں گا سو اب تم مجھ سے پوچھو کہ ہم کہاں جا رہے ہیں…… ؟؟ رازی نے اپنی بات کے آخر میں چڑانے والے انداز میں فقرہ دہرایا
کہاں …..؟ ؟ ہانی کا لہجہ بیزار تھا.
نہیں نہیں پورا جملہ دہراؤ کہ ہم کس کے گھر جا رہے ہیں …… ؟؟ رازی نے ایک ہاتھ سے سٹیرنگ تھامتے ہوئے اپنا دوسرا ہانی کے آگے لہرایا
ہم کس کے گھر جا رہے ہیں….؟؟ ہانی نے اچھے بچوں کی طرح جملہ دہرایا تو رازی نے بے ساختہ قہقہ لگایا
محترمہ ہم آپ کے گھر جا رہے ہیں. رازی نے شہادت کی انگلی سے ہانی کا ماتھا بجایا.
میرے گھر ہانی نےتعجب سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا.
جی ہاں میں تمہارے گھر جا رہا ہوں اور کتنی عجیب بات ہے کہ نہ گھر والوں کو پتہ ہے اور نہ گھر والی کو رازی نے سیٹی بجاتے ڈرائیو کو انجوائے کیا جبکہ ہانی کا سکون ختم ہو گیا تھا.
یہ کیا بات ہوئی، مجھے سمجھ نہیں آئی. آپ مجھے بتائیں ناااااا آپ نے میرا سکون برباد کر دیا ہے. ہانی نے رازی کا بازو ہلاتے پوچھا
ایک بھنگی کا مشہور قول ہے کہ “سکون صرف قبر میں ملتا ہے اور تمہاری زندگی میں تو اس چیز کی پہلے بھی کافی کمی تھی. خیر اللہ رحم کرے تم پر بھی اور اُن پر بھی رازی نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا.
میرا گھر کون سا ہے اور کہاں ہے ……. ؟؟ ہانی نے کچھ دیر بعد چیختے ہوئے پوچھا
ریلیکس تم یہ مت سوچو کہ میں تم پہ طنز کر رہا ہوں یا مذاق اڑا رہا ہوں. میں بالکل سیریس ہوں. میں تمہیں تمہارے گھر لے جا رہا ہوں. جہاں تمہارے اپنے ہیں. تم وہاں اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتی ہو. نہ کسی کا ڈر اور نہ خوف
رازی نے آبرو اچکاتے ہوئے ہانی کی طرف دیکھا جو حیران پریشان سی اسے دیکھ رہی تھی.
بس تھوڑا سا انتظار رازی نے کہتے ساتھ ہی ہانی کا کندھا تھپکا جسے ہانی نے بری طرح جھٹک دیا
🪶🪶🪶🪶🪶
اس وقت پورے ڈرائنگ روم میں خاموشی کا راج تھا. ایسا لگ رہا تھا جیسے یہاں پانچ نفوس نہیں بلکہ پانچ مٹی کے بت بیٹھے ہوں. کسی کے وجود میں ذرا برابر بھی جنبش محسوس نہیں ہو رہی تھی. سبھی ایک غیر مرئی نقطے کو تلاش کرنے میں مصروف تھے.
میرے خیال سے انکل اب آپ کو سب کچھ سچ سچ بتا دینا چاہیے کیونکہ مزید چھپانے سے سوائے دلوں میں بدگمانی کے اور کچھ حاصل نہ ہو گا. ویسے بھی ہانی کے مستقبل کے لیے یہ ضروری ہے. رازی نے اپنے کان کی لو مسلتے مشورہ دیا.
مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ رازی کس بارے میں بات کر رہا ہے اور آپ جواب کیوں نہیں دے رہے. ہمارا ہانی سے کیا تعلق ہے …..؟ ؟ بدر نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جبکہ فائزہ بیگم اور یوسف صاحب نظریں جھکائے بیٹھے تھے.
میرے خیال سے ویسے تو میں آپ سب سے چھوٹی ہوں. لیکن آج کل چھوٹے زیادہ سمجھدار آ رہے ہیں تو جہاں تک میری ناقص عقل مجھے اشارہ کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہانی شاید بلکہ یقیناً ہماری بہن ہے جو بچپن میں ہم سے بچھڑ گئی تھی.
مجھے بس یہ معلوم کرنا ہے کہ ہانی میری بہن ہے یا کزن
بدر کی تو غیر بہن ہء ہو گی. نور کے آخری جملے پر رازی نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا
تم اپنی بکواس بند نہیں کر سکتی. کتنے دنوں سے یہ میرا سر کھا رہی ہے کہ ہماری کوئی بہن تھی جو بچھڑ گئی ہے اور اب اِس کا بخار اتنا چڑھ گیا ہے کہ اس نے ہانی کو یہ اپنی بچھڑی ہوئی بہن سمجھ لیا ہے. بدر نے طنزاً نور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میرے خیال سے مسٹر بدر یہاں آپ غلط ہیں اور نور سہی کیونکہ ہانی آپ کی فیملی کا حصہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ بات آپ کو آپ کے والد صاحب بتائیں کیونکہ اگر میں بتاؤں گا تو شاید بری بھی لگے اور یقین بھی نہ آئے کہ آپ میرے “سالے” ہیں…… ؟؟ رازی کی بات پر بدر نے اسے انتہائی ناگواری سے گھورا
تمہارے گھورنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی. ویسے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا سالا اتنا گھٹیا انسان ہوگا. رازی نے مصنوعی افسوس کرتے گردن ہلائی.
تیری اس گردن کا علاج تو میں بعد میں کروں گا مگر پہلے میں اپنے والد صاحب سے تو پوچھ لوں کہ یہ سب کیا ہے ……. ؟؟ بدر نے کہتے دوبارہ اپنا رخ یوسف صاحب کی طرف کیا
میرے خیال سے اب مزید خاموش رہنا صرف بے وقوفی ہے. آپ ہمت کر کے سب کو سچ بتا دیں. فائزہ بیگم نے یوسف صاحب کو حوصلہ دیا.
اب بتا بھی دیں نااااااا اتنا تجسس کیوں پھیلا رہے ہیں …..؟ ؟ بدر بہت بےچین ہو رہا تھا جبکہ ہانی بلکل بت بنی بیٹھی تھی.
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یوں اپنی اولاد کے کٹہرے میں کھڑا ہوں گا مگر وقت بہت ظالم ہے. وہ آپ کے کیے کی سزا آپ کو ضرور دیتا ہے. میں نے لاکھ چاہا کہ میں یہ بات تمہیں بتا دوں مگر تمہاری ماں نے مجھے ہمیشہ رو کے رکھا. یوسف صاحب نے اپنی عینک اتاری.
یہ آج سے تقریباً پچیس چھبیس سال پرانی بات ہے. میرے اور نور کے والد کی ایک بہن بھی تھی. انتہائی لاڈلی _ یوسف صاحب کی بات پر سب نے ان کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھا سوائے رازی کے جو صوفے ساتھ ٹیک لگائے پاؤں ہلا رہا تھا. نور کے بابا کی شادی خاندانی روایات کے مطابق خاندان میں ہی ہوئی تھی جبکہ میں اور میری بہن ہم دونوں تھوڑے سے آزاد خیال تھے. یوسف صاحب کی بات پر نور نے بدر کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا. جیسے کہنا چاہ رہا ہو. ” ابا کی حرکتیں چک کرو….؟؟” ہم دونوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم خاندانی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے “لو میرج” کریں گے وہ میرا ساتھ دے گی اور میں اس کا _ یوسف صاحب نے رک کر فائزہ بیگم کی طرف دیکھا
تم سوچ رہے ہو گے کہ میں ہر وقت تمہیں ڈانٹتا رہتا ہوں. اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا جو کچھ میرے اور میری بہن ساتھ ہوا وہ تم دونوں ساتھ ہو کیونکہ مجھے بدر اور نور میں اپنا آپ اور اپنی بہن دکھائی دیتے تھے. ہم دونوں بھی جوانی میں بالکل ایسے ہی تھے “شرارتی” سے یوسف صاحب کی آواز لڑکھڑانے لگی تھی.
اپنی باری آئی ہے تو “شرارتی” کا لفظ استعمال کیا ہے ورنہ مجھے ہر وقت “بدتمیز، بےغیرت ” کہتے رہتے ہیں. بدر نے سرگوشی کی.
پھر مجھے تمہاری ماں مل گئی اور اسے بھی یونیورسٹی میں کوئی لڑکا پسند آگیا. وعدے کے عین مطابق ہم دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دینا تھا. میں نے خود غرض بنتے ہوئے اسے کہا کہ وہ پہلے میری شادی ہونے دے پھر میں تیرا ساتھ دوں گا. وہ بھولی مان گئی. یوسف صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.
چلو جی اشتہار شروع
بدر نے نور کی طرف دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا.
سمجھا کرو ناااااا _ آخر اپنے جذبات بھی تو ظاہر کرنے ہیں کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں. نور نے گھورا میری شادی تو تمہاری اماں سے ہو گئی مگر اس کی دفعہ سب نے ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ وہ ہمارے خاندان کی اکلوتی بیٹی ہے ہم اسے باہر نہیں دیں گے میں نے بھی ہتھیار ڈال دیے. یوسف صاحب کی بات پر بدر نے افسوس نے سر ہلایا. ابا مجھے آپ سے ایسی امید نہ تھی. آپ نے میرا نام ڈبو دیا ہے. بدر کو دکھ ہوا جس میں نور برابر کی شریک تھی. اُسے بھی مجھ سے ایسی امید نہ تھی. ُاسے بھی بہت دکھ پہنچا. پھر اس نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی. میں نے تو خیر اس کو درگزر کر دیا معاف کر دیا کیونکہ مجھے لگا کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا مگر نور کے والد اسے معاف نہ کر سکے. ایک ایسی ہی خوفناک سی رات تھی. بہت کالی ،سیاہ کالی
جس کالک ہماری زندگیوں کے رنگ چُرا گئی. یوسف صاحب نے پہلی بار نگاہ اٹھا کر نور کی طرف دیکھا
بیٹا میں تم سے بہت شرمندہ ہوں. میں تم سے معافی مانگتا ہوں. میری وجہ سے تم یتیم ہو گئی. یوسف صاحب نے اپنے دونوں ہاتھ نور کے آگے جوڑتے ہوئے کہا تو بدر کے ماتھے پر بل پڑ گئے جبکہ باقی سب خاموشی سے انھیں دیکھ رہے تھے.
ابا آپ ہمیشہ میرے ساتھ زیادتی کرتے ہیں. آپ کو ابھی بھی نور سے معافی مانگ رہے ہیں جب کہ آپ کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیے. میرے باپ ہونے کے باوجود ابھی آپ نے اتنے بزدلوں والا کام کیا. میں اپنے بچوں کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ ان کے دادا ڈرپوک تھے …..؟؟ بدر کی بات پر یوسف صاحب نے اس کی طرف غصیلی نظر سے دیکھا
سوری ابا زرا جذباتی ہو گیا تھا _ بدر نے فوراً پینترا بدلا مبادا بےعزتی شروع نہ ہو جائے. وقت کا کام ہے گزرنا اور وقت گزرتا گیا. میں اپنی بہن سے رابطے میں تھا. میں ہر ویک اینڈ پر جہلم اس سے ملنے جاتا تھا.میں نے اس کے حصے کی جائیداد بھی اسے دے دی تھی. وہ اچھی خاصی خوشگوار زندگی گزار رہی تھی کہ پھر پتہ نہیں کیسے نور کے ابا کو خبر پڑھ گئی. بس پھر کیا تھا نام نہاد غیرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے اپنے بہنوئی کو قتل کر دیا اور جوابی حملے میں وہ بھی نہ بچ سکے. یوں نور یتیم اور میری بہن بیوہ ہو گئی. میں نے جب تک اپنے بھائی کے کفن دفن سے فارغ ہو کر دوبارہ جہلم کا رخ کیا تو وہ اپنا گھر چھوڑ چھاڑ کے جا چکی تھی. میں نے اسے بہت تلاش کیا لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گئی ……… ؟؟ پھر ایک دن کسی جاننے والے سے مجھے پتہ چلا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہی مگر اس کا ایک بچہ ہے وہ بچہ تھا یا بچی میں نے اس سے آگے جاننے کی کوشش نہیں کی. یوسف صاحب نے اپنی آنکھیں صاف کرتے عینک دوبارہ لگائی
ویسے ابا بہت معزرت مگر اتنی بھی ٹریجڈی والی سٹوری نہیں تھی جتنا آپ نے منہ بنایا ہوا ہے. بدر کی بات پر رازی سیدھا ہو کر بیٹھا
آگے کہانی میں مکمل کر دیتا ہوں کہ آپ کی بہن کا بچہ تھا یا بچی اور وہ اب کدھر ہے. ……. ؟؟ رازی نے کہتے ساتھ پاس بیٹھی ہانیہ کا ہاتھ پکڑا
کہانی سنانی ہے رومینس نہیں کرنا بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں. بدر نے فوراً ٹوکا
آپ کی بہن اپنا گھر بار چھوڑ کر جہلم کے قریب ایک قصبے میں آباد ہو گئی. جہاں اسے ایک انتہائی کمینی ذہنیت کا مالک شخص ملا. جو جھوٹ موٹ اس کا بھائی بن گیا کیونکہ غلطی سے آپ کی بہن نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی نہیں ہے
اُس شخص نے آپ کی بہن کے بھولے پن کا بھرپور فائدہ اٹھایا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ بہت معصوم اور مالدار ہے. آپ کی بہن جو بھائی جیسی نعمت پر جان دیتی تھی اس نے اپنا سب کچھ اس خبیث انسان کے حوالے کر دیا یہاں تک کہ اپنی ہونے والی اولاد بھی رازی کی بات پر سب نے اس کی طرف دیکھا
ہاں وہ اپنا سب کچھ اپنی بیٹی کے نام کر کے اس شخص کے حوالے کر گئی مگر شاید وہ اپنے بھائیوں سے ڈسی ہوئی تھی تبھی احتیاط منہ بولے بھائی پر بھی مکمل بھروسہ نہ کر سکی.
اور وصیت کی کہ اگر اس کی بیٹی کو حادثاتی طور پر کچھ ہو جائے تو اس کی تمام جائیداد حکومت کو چلی جائے گی ورنہ دوسری صورت میں بالغ ہوتے ہی وہ مالک بن جائے گی.لیکن طبعی موت کی صورت میں وارث منہ بولا بھائی ہو گا.
اب اسے خوش نصیبی کہیے آپ کی بہن کی یا بدنصیبی اس شخص کی کہ اس وصیت کی ایک فوٹو کاپی غلطی سے اس کے ہاتھ لگ گئی.
اس نے بظاہر آپ کی بھانجی کو بہت لارڈ پیار سے پالا مگر صرف اس انتظار میں کہ جب وہ بالغ ہوگی تو وہ اسے مار دے گا اور قدرتی موت کی صورت میں ساری جائیداد کا مالک وہ بن بیٹھے گا.
یہاں بھی اُس شخص کی قسمت نے اُس کا ساتھ نہیں دیا اور غلطی سے آپ کی بھانجی کی شادی بقول آپ کے مجھ جیسے آوارہ بدمعاش سے ہو گی.
مگر میرا دل نہیں ماننا کہ میں اس معصوم کو قتل کروں حالانکہ آپ کے بیٹے نے میرا بھرپور ساتھ دیتے مجھے مختلف طریقے بھی بتائے مگر
رازی نے بدر کو دیکھتے کندھے اچکائے.
جو دوست کا ساتھ نہیں دیتا اُسے “کتا بے غیرت” بولتے ہیں. یہی کہا تھا نا ایک دفعہ تم نے مجھ سے بدر نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے جارحانہ انداز میں پوچھا جبکہ یوسف صاحب بھی کھڑے ہو کر ہانی کی طرف بڑھے.
ہانیہ ایک بت کی طرح رازی کے ساتھ کھڑی سب دیکھ سن رہی تھی جبکہ یوسف صاحب اس کے سامنے بالکل کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑے تھے.اس سے پہلے کہ بدر آگے بڑھ کر رازی کو مارتا فائزہ بیگم نے آگے آتے ہوئے ہانی کو سینے سے لگا لیا.
ہمیں معاف کر دو. ہم نے کچھ بھی جان بوجھ کے نہیں کیا. ہم تمہارے اور نور کے مجرم ہیں مگر ہم تمہیں بہت پیار دیں گے جیسے ہم نے نور کو دیا. فائزہ بیگم نے ہانی کو پیار کرتے ہوئے معافی مانگی.
چچا میں کل بھی آپ سے بہت پیار کرتی تھی اور آج بھی اتنا ہی کرتی ہوں. اس لیے آپ مجھ سے شرمندہ نہ ہوں. زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے. بابا نے شاید ایسے ہی جانا تھا مگر میں آپ کو ان کی موت کا الزام نہیں دیتی. نور نے یوسف صاحب کے گلے لگتے محبت سے کہا تو وہ رو دئیے.
باقی تو سب گلے مل رہے ہیں اب صرف میں اور تو رہ گئے ہے سالے صاحب _ رازی نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے بدر کی طرف دیکھا
تیری تو اس سے پہلے بدر مارتا درمیان میں یوسف صاحب آ گئے.
برخوردار ہم تمہارے احسان مند بھی ہیں اور تم سے شرمندہ بھی، ہم نے تمہارے بارے میں جو بھی سوچا غلط سوچا. یوسف صاحب نے نور کو سائیڈ پر کرتے رازی کو گلے لگایا.
ہر صورت میں ذلالت میرے حصے میں ہی آتی ہے. باقی تو سب پاک صاف ہو جاتے ہیں.اب تُو دیکھنا بدرنے انتہائی بگڑے تیوروں سے کہتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا.
نسلی دوست کتنا بھی ناراض ہو جائے کبھی دشمن کی صف میں کھڑا نہیں ہوتا رازی نے یوسف صاحب سے الگ ہوتے ہوئے بدر کے کندھے پر ہاتھ رکھا.
میں ناراض ہوں بغیر مڑے بدر نے جواب دیا.
میں منا رہا ہوں __
رازی نے کہتے اس کا رخ اپنی طرف کیا جبکہ اب یوسف صاحب ہانی کو پیار کر رہے تھے.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.
زرا سا وقت ملا ہے تو لکھ دی ہے. پلیززز ناراض نہ ہوا کریں. شکریہ