Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

زندگی میں سے سکون ختم ہو گیا ہے. ایسے جیسے کبھی تھا ہی نہیں.اتنا تو مجھے سمجھ آرہا ہے کہ جو دکھائی رے رہا ہے وہ ہے نہیں اور جو ہے وہ سمجھ سے باہر ہے. کوئی انسان کتنا بھی ظالم ہو محض روپے پیسے کے لیے اپنی اولاد کو نہیں مارتا.
یہ ہانیہ بی بی کم از کم ناجو بابا کی بیٹی نہیں ہے اور یہ بیٹی اصل میں کس کی ہے اور ناجو بابا اسے کیوں مارنا چاہتے ہیں …… ؟؟
اچھی خاصی سادی سی زندگی گزر رہی تھی کہ اس لڑکی نے مجھے CID افسر بنا دیا ہے. اب جب تک میں اس معمہ کو حل نہیں کروں گا. نہ تو میں اس لڑکی کو ماروں گا اور نہ کسی کو مارنے دوں گا. رازی نے ہاتھ میں پینسل گھماتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا
اس کرم بابا کو ایک دو لتر لگانے پڑیں گے تو لگتا ہے کہ مکمل معاملہ حل ہو جائے گا یہ بندہ کچھ نہ کچھ چھپا ضرور گیا ہے. رازی نے سوچتے ہوئے شانی کا نمبر ڈائل کیا
یار ہم سارا دن ادھر ڈیرے میں گدھوں کی طرح کام کرتے ہیں. اس لیے رات کو شدید نیند آتی ہے. مہربانی فرما کے آپ دن میں رابطہ کیا کریں. تاکہ ہم پورے ہوش و حواس میں آپ کو آپ کی بات کا جواب دے سکیں. شانی کی خمار آلود آواز سپیکر سے ابھری.
کرم بابا کو دوبارہ ڈیرے پر بلواؤ اور ان سے اچھی طرح چھان بین کرو کہ اس عورت کا کیا نام تھا اور کیا یہ بچی واقع ہی ناجو بابا کی ہے …… ؟؟ مجھے ان دونوں سوالوں کا ٹھیک جواب چاہیے سمجھے _ رازی نے اپنی ازلی سنجیدگی کو اپناتے ہوئے کہا رازی کے بچے تیرے ساتھ مسئلہ کیا ہے. کیا ہر وقت عجیب و غریب فرمائشیں کرتا رہتا ہے ……. ؟؟ ایک تو سارا دن ناجو بابا کے حکم پر دوڑتے گزر جاتا ہے. رات جو تھوڑی سی سکون کی نصیب ہوتی ہے تب تجھے دورے پڑنے لگتے ہیں. شانی نے تنگ آکر اٹھ کے بیٹھتے ہوئے جواب دیا. شانی میں انتہائی سنجیدہ ہوں. اس وقت کسی فضول بات سننے کے موڈ میں نہیں ہوں. جتنا کہا ہے اتنا کر رازی نے کرسی پر جھولتے ہوئے کہا
اگر تو نے اس لڑکی کو نہیں مارنا تو نہ مار اور اگر ناجو بابا اسے مارنا چاہتے ہیں تو ان کو مارنے دے. تیرا کیا لینا دینا ان دونوں باپ بیٹی کے مسئلے سے _ شانی کو الجھن ہوئی. آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے بتا رہا ہوں حالانکہ ضروری تو نہیں ہے مگر پھر بھی وہ صرف ناجو بابا کی بیٹی نہیں بلکہ میری بیوی بھی ہے اور میں اپنے کتوں کا بھی بہت خیال رکھتا ہوں کیا سمجھے …..؟ ؟ رازی نے ہاتھ کی مٹھی بناتے کرسی کے ہنڈل پر ماری. آپ کی اس معلومات کا مجھے پہلے سے علم ہے کیونکہ آپ کے اس نام نہاد نکاح میں، میں گواہ کے طور پر شامل تھا. مجھے اس نکاح کی اصلیت اور اس کی بنیاد اور اس کی پائیداری سب کچھ بخوبی پتہ ہے اور یہ بھی کہ وہ آپ کی صرف منکوحہ ہے بیوی نہیں اگر بیوی ہوتی تو رات کے اس وقت وہ آپ کے پہلو میں پائی جاتی جو کہ یقینا نہیں ہے. شانی نے اپنا حساب برابر کیا تو رازی غصے سے اٹھ کھڑا ہوا. شانی میں نے تجھے بکواس کرنے کو نہیں کہا تو نے کام نہیں کرنا تو نہ کر لیکن زیادہ بکواس نہ کر رازی نے کہتے ہوئے فون کاٹ دیا اسے شانی کی باتیں بہت بری لگیں تھیں.
کچھ دیر کمرے میں ٹہلتے ہوئے رازی نے اپنے غصے کو کنٹرول کرنا چاہا جو کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا بالآخر اس نے کچھ سوچتے ہوئے بیڈ سے فون اٹھاتے ناجو بابا کو کال ملائی.
بابا میں کل ہانیہ کو حویلی سے لے آؤں گا. جو کام میرا ہے وہ میں خود کروں گا. مجھے بہت برا لگتا ہے میرا کام کوئی اور کرے. رازی کی بات پر ناجو بابا نے گھڑی کی طرف دیکھا.
تمہاری طبیعت خراب ہے یا نیت …..؟ ؟ جملہ خاصا طنز بھرا تھا جس کا مفہوم رازی کو سمجھ آ رہا تھا.
میری نیت خراب ہو یا طبیعت، آپ کو کام سے مطلب ہے اور آپ کا کام ہو جائے گا. بس آپ کو اتنا بتانا تھا کہ میں اس کو اپنے پاس لا رہا ہوں. رازی نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا.
کہیں رازی حقیقت میں تو سنجیدہ نہیں ہو گیا. اگر رازی نے اسے سچ مچ اپنی بیوی مان لیا تو میرے لیے بڑا مسئلہ ہو جائے گا. کچھ کرنا پڑے گا. ناجو بابا نے سوچتے ہوئے حویلی کال کی.
🪶🪶🪶🪶🪶
رات کے اس پہر میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی شخص اپنے سسرال یوں جائے گا بیوی کو لینے _ بدر نے جھاڑیوں میں سے گزرتے ہوئے سرگوشی کی. بدر تیری ایک احمکانہ حرکت ہم تینوں کی جان لے سکتی ہے. لہذا اپنا مسخرہ پن کچھ دیر کے لیے بند کردے. اچھا خاصا تو میرا دوست تھا مگر یہ جو تیری tom & jarry والی کزن ہے نااااا اس نے تیرا بیڑہ غرق کر دیا ہے. رازی نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے راستہ بنایا.
اس کی بھی تیرے بارے میں بالکل یہی رائے ہے کہ میں اچھا خاصا تھا مگر تو نے میرا بیڑا غرق کر دیا ہے. تم دونوں کی سوچیں کتنی ملتی جلتی ہیں. بدر نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے جواب دیا تو رازی نے اسے آنکھیں دکھائیں.
بدر صاحب سنجیدہ ہو جائیں جیسے ہی ہم دیوار سے اندر چھلانگ لگائیں گے. ہمیں خون خوار نسلی قسم کے کتوں کا سامنا کرنا پڑے گا لہذا خبردار ہوشیار
رازی نے کمر پر بندھی رسی دیوار کی طرف پھینکی. مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی جب تو دن کے روشنی میں حویلی کے اندر جا سکتا ہے اور حویلی والے تیری خاطر مدارات بھی کرتے ہیں. تو رات کو یوں چھپ چھپا کر اندر جانے کا کیا مقصد ہے …… ؟؟ بدر نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے انتہائی ناگواری سے رازی کی پشت کو دیکھا یہ حویلی میرے “باپ” کی نہیں بلکہ ناجو بابا کے “یار” کی ہے اور تو نہیں جانتا ان بڑے لوگوں کو اور ان کی سازشوں کو یہ اپنے مقصد کے لیے کسی کو بھی رگڑ دیتے ہیں. میرے جیسے لوگ تو ان کے لیے گھاس پھوس کے تنکوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے. رازی نے کہتے ہوئے رسی پر دباؤ ڈالا پہلے میں اندر جاؤں گا اور اگر میں پکڑا گیا جس کے چانسز نہیں ہیں تو تیرے ہاتھ میں جو پیپر ہے اس نقشے کے مطابق جا کر تو ہانیہ کو اسی راستے سے واپس لانا اور اپنے ساتھ لے جانا. باقی سب میں خود دیکھ لوں گا. رازی نے بدر کی طرف دیکھتے ہوئے ہدایت دی اور رسی کے ذریعے دیوار پر چڑھنے لگا تو پہلا شوہر ہے جو اپنے کو خود اپنی بیوی بھگانے کا مشورہ دے رہا ہے. بدر نے دانت نکالے مگر رازی اندر کی طرف کود گیا. یا تو رازی کو کسی کتے نے پکڑ لیا ہے حالانکہ آواز تو نہیں آئی یا پھر رازی نے کتے کو جو بھی ہے سچویشن سیریس لگتی ہے. رازی کے اندر جانے کے بعد جب کافی دیر تک کوئی آواز محسوس نہ ہوئی تو بدر نے دل میں سوچتے ہوئے الٹے قدم لیے.
رازی گو کہ حویلی کے چپے چپے سے واقف تھا مگر اس طرح رات کے اندھیرے میں زنان خانے میں جانا یا مہمان خانے کے کمروں کو چھاننا خاصہ مشکل تھا. کافی دیر سوچنے کے بعد رازی ایک نتیجے پر پہنچا اور خاموشی سے مہمان خانے کی طرف چل دیا.
رازی صاحب آپ اور یہاں
آپ کب آئے اور ادھر کیا کر رہے ہیں …..؟ ؟ سکیورٹی انچارج نے رازی کو دیکھتے ہی حیرت کا اظہار کیا
میں تب آیا تھا جب تم نشے میں پڑے ہوئے تھے. رازی نے فوراً اس کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تو وہ اپنی نظریں چرا گیا
خیر چھوڑو ان فضول باتوں کو اور یہ بتاؤ کہ جو لڑکی میں چھوڑ کر گیا تھا وہ بالکل خیریت سے ہے نا اااااا _ رازی فوراً مدعے پر آیا. سکیورٹی انچارج کیونکہ رازی کو اچھی طرح جانتا تھا اور رازی آگے بھی کئی بار یہاں پر رات بسر کر چکا تھا تو اس نے مزید تحقیقات کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے رازی کی طرف دیکھا جس صاحب بالکل خیریت سے ہیں اور زنان خانے میں موجود ہے. سردار صاحب ان پر خاص نظر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور نظر نہ رکھے. سیکورٹی انچارج نے دانت نکالتے ہوئے کہا تو رازی نے اسے مشکوک نظروں سے گھورا. صاحب بے فکر رہیں. ایسی ویسی کوئی بات نہیں ہے. وہ لڑکی بالکل خیریت سے ہے. اگر آپ کہیں تو میں آپ کو دکھا دیتا ہوں. رازی کے دل کی بات خود بخود سکیورٹی انچارج کے منہ پر آگئی. اندھے کو کیا چاہیں دو انکھیں رازی نے دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے سکیورٹی انچارج کو اشارہ کیا تو دونوں ایک خاص سمت کی طرف چل دیے.
تنگ سی راہداری کا خاتمہ ایک چھوٹے سے دروازے پر ہوا. جہاں پہنچ کر سیکورٹی انچارج رک گیا. صاحب وہ اندر ہیں اگر آپ کہیں تو میں اٹھا دوں. سیکیورٹی انچارج کے پوچھنے پر رازی چونکا.
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے. جبکہ وہ دل میں کچھ سوچ رہا تھا.
🪶🪶🪶🪶🪶
کہاں ہو ….؟؟ کال اٹینڈ کرتے ہی رازی کی آواز نے اسے حیرت میں ڈالا
وہیں جہاں آپ چھوڑ کر گئے تھے. ہانی نے قدرے جتلانے والے انداز میں جواب دیا.
اچھا سنو جب میں بل دوں تب اپنا سامان لے کر خاموشی سے راہداری کے اختتام پر آ جانا. رازی نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی.
مگر کیوں ….؟؟ ہانی نے بیتابی سے پوچھا پر دوسری طرف سے رابطہ منقطع ہو چکا تھا.
ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں. پہلے خود ہی چھوڑ گئے اور اب ہانی نے بڑبڑاتے ہوئے اپنا بیگ پیک کیا. بدر دیوار کے قریب پہنچ جا اور ہانی کو لے کر سیدھا میرے کواٹر پہنچا دے. تم دونوں چلے جانا میرا انتظار نہ کرنا. رازی کی تاکید پر بدر نے سر ہلایا. ویسے کب تک دلہن پہنچ رہیں ہیں …..؟ ؟ بدر کے پوچھنے پر رازی نے خود پر قابو پاتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا وہ اپنا سامان سمیٹ رہی ہے. بس چند منٹ
رازی نے بےعزتی کا پروگرام کچھ دیر کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا
اگر آپ جہیز پھر کبھی لے جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا. خیر جیسا مناسب لگے ہم تو تیار ہیں. بھابی بھگانے کے لیے _ رازی اس وقت بدر کے طنز کو بخوبی سمجھ رہا تھا. اگر میں ضبط کا دامن تھامے ہوئے ہوں تو مجھے مجبور نہ کر کہ میں اپنی آئی پر آجاؤ. اب کی بار رازی نے وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا تو بدر مسکرا دیا. بس یہی چک کرنا تھا کہ تُو اپنے والا ہی رازی ہے یا کوئی مجھے trap کر رہا ہے. اس سے پہلے کہ رازی اسے جواب دیتا اسے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی. سانس روکے رازی خاموش ہو گیا. اب کہاں جانا ہے ….؟؟ ہانی کی کمزور آواز نے رازی کو قوت بخشی. زندگی میں پہلی بار تمہاری آواز سن کر خوشی محسوس ہوئی ہے. رازی نے سرگوشی نما آواز میں کہتے ہانی کا ہاتھ تھاما اور اک طرف چل دیا. “یہ کس گمان میں پکڑ لیا ہاتھ آپ چھوڑ دیجیے آپ چھوڑ دیتے ہیں.” ہانی نے اپنی کلائی پر رازی کی گرفت کو دیکھتے ہوئے سوچا چلو جلدی سے اس رسی کو پکڑو اور باہر کی طرف کود جاؤ. خبردار جو مڑ کر دیکھا تو رازی نے ہانی کی کلائی کو چھوڑتے ہوئے خود گھنٹوں کے بل پوزیشن لی.
مممممم میں کیسے ….؟؟ ہانی نے ہچکچاتے ہوئے رازی کی طرف دیکھا
پاگل لڑکی جلدی رازی نے دبے لفظوں میں ڈانٹا اسے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنائی دے رہی تھی.
جلدی، رازی کے زور دینے پر ہانی نے اپنا پاؤں اس کی کمر پر رکھتے ہوئے رسی کو پکڑا تبھی کتوں کی آواز واضح ہونے لگی.
رازی نے سیدھا ہوتے ہوئے ہانی کے پاؤں پکڑے اور انھیں اوپر کی طرف دھکیلا
جیسے ہی ہانی نظروں سے اوجھل ہوئی رازی نے اس کا بیگ بھی باہر کی طرف اچھال دیا.
مگر مڑتے ہی _

🪶🪶🪶🪶🪶
آپ کا صاحبزادہ آج پھر اپنے آوارہ دوست ساتھ کسی ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہا ہو گا. یوسف صاحب کی بات پر نور مسکرانے لگی جبکہ فائزہ بیگم کے ماتھے پل بل پڑے.
آپ سیدھی طرح بھی ہوچھ سکتے ہیں. یوں طنز کرنے کا فائدہ …..؟ ؟ فائزہ بیگم نے ٹی وی پر چلتی خبر کو دیکھتے ہوئے جواب دیا.
میں نے تو کچھ ایسا نہیں کہا جس پر غصہ کیا جا سکے. یوسف صاحب مسلسل مسکرا رہے تھے.
میں سب جانتی ہوں کہ آپ کا کیا مطلب تھا …؟؟ نور تم انھیں بتاؤ کہ بدر کہیں نہیں گیا گھر پر ہی ہے. فائزہ بیگم کی بات پر نوڈلز کھاتی نور کو زبردست پھندہ لگا
ارے تمہیں کیا ہوا ….؟؟ نور کو کھانستا دیکھ کر پوچھا
ظاہری سی بات ہے جب آپ اسے جھوٹ پر اکسائیں گی تو ایسا تو ہو گا. یوسف صاحب کی بات پر فائزہ بیگم غصے سے اٹھ کھڑی ہوئیں.
اچھا ناراض مت ہوں اگر وہ گھر پر ہے تو اسے بلا لائیں مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے. یوسف صاحب نے سنجیدگی سے کہا اس سے پہلے کہ فائزہ بیگم اندر جاتیں ڈور بل بجی.
ارے باہر تو بارش ہو رہی ہے اور ہم اندر بیٹھیں ہیں. نور نے لاؤنچ کا دروازہ کھولا جہاں سے مین گیٹ صاف نظر آ رہا تھا.
لو جی جسے آپ اندر تلاش کر رہیں تھیں وہ باہر سے تشریف لا رہا ہے. پر کوئی بات نہیں ہم جھوٹے آپ سچی یوسف صاحب نے گیٹ سے اندر آتی بدر کی گاڑی کو دیکھ کر کہا
شکر ہے آ گیا _
نور نے جیسے ہی بدر کو باہر نکلتے دیکھا تو خوشی سے کہا مگر ہانی پر نظر پڑتے ہی سب سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے.
🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.