No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
(سیکنڈ لاسٹ)
گولی کی آواز ساتھ ہی ہر طرف سناٹا چھا گیا. سب اپنی اپنی آنکھیں بند کیے خود کی یا دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرنے لگے. لیکن یہ کیا ……؟ ؟
کسی کو بھی کچھ نہیں ہوا تھا. سب ٹھیک ٹھاک تھے .سب سے پہلے رازی نے آنکھیں کھولتے ماحول کا جائزہ لیا. اگر گولی ہم میں سے کسی نے نہیں چلائی تو پھر گولی چلائی کس نے، آواز کہاں سے آئی تھی ……؟ ؟
اس سے پہلے کہ رازی ساری صورتحال سمجھنے میں کامیاب ہوتا کہ سپیکر سے وارننگ کی آواز آنا شروع ہوئی اور یہ آواز رازی لاکھوں لوگوں میں بھی پہچان سکتا تھا.
کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے بے وقوف دوست سے لاکھ درجے بہتر عقل مند دشمن ہوتا ہے. آج بدر مجھے ضرور مروا دے گا. راضی نے سپیکرز سے آنے والی اواز کو سنتے ہوئے دل میں سوچا
آپ تمام لوگوں کو پولیس نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے. خبردار جو کسی بھی قسم کی کوئی حرکت یا مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو نقصان کے ذمہ دار آپ لوگ خود ہوں گے. سب لوگ اپنا اسلحہ زمین پر رکھ دیں اور ہاتھ اوپر کریں. بدر نے ایک پیشہ ورانہ پولیس آفسر کی طرح بولنا شروع کیا.
شانی یہ سب کیا ہے ……. ؟؟ تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ علاقے میں نیا ایس ایچ او آیا ہے. پرانے میں تو اتنا دم نہیں تھا کہ وہ میرے سامنے کھڑا ہوتا کجا میرے ڈیرے کا محاصرہ کرنا. ناجو بابا نے چیختے ہوئے شانی کی طرف دیکھا جو خود بھی انجان نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا.
ناجو بابا اگر آپ میرے پر اعتبار کریں تو میں اس ایس ایچ او کو دیکھ لیتا ہوں. آپس کی لڑائیاں اپنی جگہ پر آپ مجھے اجازت دے دیں. رازی نے عاجزی سے ناجو بابا کی طرف دیکھا
اپنی بکواس بند کرو. اس کو لے کے فوراً تہہ خانے کی طرف جاؤ اور تم لوگ دیکھو کہ کتنے لوگ ہیں اگر بات چیت سے معاملہ حل ہوتا ہے تو ٹھیک ورنہ فائرنگ شروع کر دو. میں تب تک اوپر بات کرتا ہوں. ناجو بابا نے کہتے ساتھ اپنا فون جیب سے نکالا
اب تو کسی بھی صورت بدر نہیں بچ سکتا اس بے وقوف کو کس نے کہا تھا یہاں آنے کو، رازی نے دل میں سوچتے ہوئے اپنی آنکھیں میچیں.
اس سے پہلے کہ ناجو بابا کسی کو کال کرتے شانی نے قریب سے گزرتے ہوئے جان بوجھ کر موبائل-فون کو نیچے گرا دیا.
الو کے پٹھے دیکھ کے نہیں چل سکتا ناجو بابا نے نیچے سے موبائل اٹھا کر دوبارہ ان کیا
معذرت ناجو بابا _ غطی سے ہاتھ لگا ہے. شانی رازی کے قریب جا کر اس کی رسیاں کھولنے لگا کوئی پولیس باہر نہیں ہے وہ بے وقوف بلکہ انتہائی گدھا باہر آیا ہے. بیچارہ بے موت مارا جائے گا. شانی اسے بچا لے اور یہاں سے نکال دے جلدی رازی نے رازداری سے کہا تو شانی مسکرانے لگا
اچھا تو یہ ” وہ والا ” تیرا دوست ہے جو ایک دفعہ اگے بھی آیا تھا. ویسے میری اس سے بہت لگتی ہے مجھے امید نہیں تھی کہ دوبارہ ایسی صورتحال میں آمنا سامنا ہوگا. چلو تھوڑا دیر شغل لگاتے ہیں. شانی نے رازی کو کھولتے ہوئے دوسرے بندوں کے حوالے کیا.
اسے تہہ خانے میں پہنچا دو. شانی نے بیان دیتے ہوئے ایک آنکھ دبائی جسے رازی سمجھ نہ سکا
ناجو بابا باہر تو مجھے کسی بھی طرف کچھ دکھائی نہیں دے رہا. شاید کھیتوں میں چھپے ہوئے ہیں. آپ حکم کریں تو ہم فائرنگ شروع کریں. ناجو بابا ابھی فون پر کسی سے بات کر ہی رہے تھے کہ ایک ملازم نے آ کر اطلاع دی.
میں نے پتہ کیا ہے کوئی پولیس ریٹ نہیں ہے. ایسا کرو جو بھی ہے اسے بھون کے رکھ دو تاکہ دوبارہ کسی کی جرات نہ ہو اس طرف دیکھنے کی. ناجو بابا نے سفاکی کہ انتہا کرتے ہوئے حکم دیا تو رازی کے جاتے قدم ڈگمگائے.
ناجو بابا آپ اندر جائیں اور بے فکر رہیں. میں سب دیکھ لیتا ہوں. شانی نے فرمانبرداری کی انتہا کرتے ہوئے باہر کی طرف رخ کیا
میں اندر نہیں بلکہ تہہ خانے جا رہا ہوں کیونکہ مجھے وہاں ایک حساب برابر کرنا ہے. ورنہ مجھے نیند نہیں آئے گی. ناجو بابا اس سمت چل دیا جہاں کچھ دیر پہلے رازی گیا تھا.
ہاں بھئی سالے کیا مسئلہ ہے …… ؟؟ شانی نے باہر نکلتے ہی بدر کے نمبر پر کال کی.
سالا میں نہیں “وہ” ہے جو اندر ہے. اسے باہر بھیج دے. ورنہ میں تمہارا یہ سارا “ساگ” خراب کر دوں گا. بدر نے انگلی سے کھیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
وہ تو تم ابھی تک خراب کر چکے ہو گے شانی نے قہقہہ لگاتے جواب دیا
مسٹر شانی! تم گھوڑوں میں رہ کے گھوڑے ہی بن گئے ہو. میں “اس” خراب کرنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ میں ساری کھڑی فصل کو آگ لگا دوں گا اگر تھوڑی دیر تک رازی باہر نہ آیا تو ……. ؟؟ بدر نے سنجیدگی سے جواب دیا
ارے واہ یہاں تو ٹڈی کو بھی زکام ہو گیا ہے. میں تو سمجھتا تھا کہ تو بڑا سیدھا سادہ سا شہری ہے مگر تو بھی اچھا خاصا فسادی ہے. میری بھی مت ماری گئی تھی. رازی کا دوست اور سیدھا سادہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے …… ؟؟ شانی نے اپنی عقل پر ماتم کرتے ہوئے خود ہی افسوس کیا
ابھی تو تمہیں افسوس تب ہوگا جب تمہارے ناجو بابا کو یہاں سے گرفتار کر کے لے جایا جائے گا. میڈیا کی ٹیم پہنچنے والی ہے. میں نے ناجو بابا کا کلائمکس یہیں تمہارے ڈیرے کے دروازے پر کرنا ہے. بدر کی دھمکی اس دفعہ سچ مچ شانی کو سنجیدہ کرنے پر مجبور کر گئی.
دیکھو بدر تم ایسا ویسا کچھ نہیں کرو گے کیونکہ اگر تم نے ناجو بابا کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو مجھ سے زیادہ رازی کو برا لگے گا. رہی بات رازی کی تو میرے ہوتے ہوئے اسے کچھ نہیں ہوگا. تم لوٹ جاؤ. رازی واپس آ جائے گا. یہ میرا وعدہ ہے تم سے _ شانی کے جواب پر بدر نے پچھلی سیٹ پر بیٹھی نور اور ہانی کی طرف دیکھا اچھا ٹھیک ہے. ہم صبح تک انتظار کر لیتے ہیں. تم رازی کو ڈیرے سے باہر نکال دو. پھر ہم لوٹ جائیں گے. بدر کے جواب پر شانی نے سکھ کا سانس لیا. اور میڈیا اسے کون کنٹرول کرے گا …….. ؟؟ شانی کے سوال پر بدر نے مسکراتے ہوئے نور کو دیکھا جس کا یہ آئیڈیا تھا میڈے کو رازی سنبھالے گا کیونکہ ہمارا کام سنوارنا نہیں بلکہ بگاڑنا ہے. بدر نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی جس پر شانی افسوس سے سر ہلاتا باہر چل دیا. 🪶🪶🪶🪶🪶 آگے دیکھ کر گاڑی چلاؤ یوں مڑ مڑ کر کیوں دیکھ رہے ہو….؟؟ تمہاری تو خیر ہے مگر ہماری زندگیاں بہت قیمتی ہیں. نور نے ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا جو بالکل چپ چاپ گم سم بیٹھی تھی جیسے وہ اس گاڑی کا حصہ ہی نہ ہو. “کہ یوں تو عادت نہیں مجھ کو مڑ کے دیکھنے کی تجھے دیکھا تو سوچا اک بار اور دیکھ لوں پھر یہ کارٹون ملے نہ ملے” _ بدر نے ہنستے ہوئے مرر میں نور کا چہرہ دیکھا
بدر بھائی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ کا کیا خیال ہے صبح تک سب ٹھیک ہو جائے گا …..؟ ؟ کچھ دیر بعد ہانی نے اپنی کمزور سی اواز میں پوچھا تو نور نے اسے گھورا
بڑی ہی بد لحاظ اور احسان فراموش لڑکی ہو. سب کچھ میں نے کیا. یہاں تک میں لائی. میڈیا کو میں نے انفارم کیا اور پوچھ تم بدر سے رہی ہو. مجھ سے پوچھو بدر میں کہاں عقل ہے …..؟ ؟ نور کی باتوں پر بدر مسلسل اپنا ایک ہاتھ اور سر ہلاتا رہا
تمہیں کیا میراثیوں والا دورہ پڑا ہوا ہے. کیوں اس طرح جھوم جھوم کے گاڑی چلا رہے ہو …… ؟؟ نور نے پیچھے سے بدر کے بال کھینچتے ہوئے کہا تو بدر چلا اٹھا
پاگل لڑکی بلکہ اندھی لڑکی تمہاری وجہ سے ابھی ایکسیڈنٹ ہونے لگا تھا. بدر نے گاڑی کی سپیڈ کو کنٹرول کرتے کہا
میری وجہ سے تو ابھی اور بہت کچھ ہوگا ……؟ ؟ نور نے منہ چڑھاتے ہوئے جواب دیا
جی معلوم ہے اگر آپ نہ بھی بتاتی تو ہمیں اندازہ ہو رہا ہے. بدر نے بھی اسی انداز میں جواب دیا
وہ دونوں آپس میں نوک جھونک کرتے سفر کو انجوائے کر رہے تھے. جب کہ ہانی کا دل ڈیرے میں اٹکا ہوا تھا کہ نہ جانے اب کیا ہوگا. وہ دوبارہ راضی کو دیکھ بھی پائے گی کہ نہیں مگر یہ بات طے تھی کہ اسے رازی سے محبت ہو گئی تھی.
“جس طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمیں پر بارش”
“اس طرح خود کو تیری ذات پہ مرتے دیکھا”
🪶🪶🪶🪶🪶
میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ تم میرے مقابل کھڑے ہو گے. میں نے تمہیں ہمیشہ اپنے بیٹے کا درجہ دیا ہے. مجھے تمہارے اندر اپنا آپ دکھائی دیتا تھا مگر آج تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا. ناجو بابا کی آواز میں واضح دکھ تھا جسے رازی با خوبی محسوس کر سکتا تھا.
مجھے تو اپنے کتوں سے بھی اتنی محبت ہے کہ میں انہیں اپنے ہاتھ سے نہیں مار سکتا تو تمہیں کیسے ماروں گا مگر دل تو کرتا ہے کہ تمہیں جان سے مار دوں. ناجو بابا کی بات پر رازی نے سر جھکا لیا.
تم نے محض ایک لڑکی کی خاطر میرے ساتھ غداری کی مجھے اس بات کا دکھ نہیں جا رہا اور مجھ بے وقوف کو دیکھو کہ میں نے تم پر اعتبار کیا. ناجو بابا نے بناوٹی سا قہقہہ لگایا
وہ محض ایک لڑکی نہیں بلکہ میری بیوی ہے. آپ کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آرہی اور رہی بات غداری کی یا بے وفائی کی تو نہ میں نے آپ سب غداری کی ہے اور نہ کروں گ ا……. ؟؟ رازی کے جواب پر ایک بار پھر ناجو بابا نے اسے مکا مارا
اور غداری کسے کہتے ہیں ……. ؟؟ تم نے میرے لاکر سے کاغذات چوری کیے اور اپنے ساتھ اس شانی کو بھی ملا لیا. مجھے تو سارا جہاں ہی غدار اور بے وفا دکھائی دے رہا ہے. ناجو بابا نے آس پاس پڑی چیزوں کو پاؤں سے ٹھوکر ماری.
بابا آپ ٹھنڈے دل سے میری بات سنیں. میں کل بھی آپ کے ساتھ وفادار تھا اور آج بھی مگر محض ایک لڑکی کو اس خاطر مار دیا جائے کہ اس کی جائیداد ہمارے کام آئے گی تو یہ مسئلے کا حل نہیں.
میں ویسے ہی اس کی ساری جائیداد آپ کو لے دیتا ہوں کیونکہ میں اس کا خاوند ہوں اس کی ہر چیز پہ اختیار رکھتا ہوں. جب کام قانونی طریقے سے ہو سکتا ہے تو ہم غیر قانونی طریقے سے کیوں کریں …..؟؟ رازی کی بات پر ناجو بابا نے اسے ناسمجھی سے دیکھا
بابا آپ میری بات سنیں، میں آپ کو ایک ایسا طریقہ بتاتا ہوں جس سے آپ کو شہرت بھی ملے گی اور اپ الیکشن بھی جیت جائیں گے. رازی نے فوراً اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے جال بچھایا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ شیر کو قابو کیسے کرنا ہے …… ؟؟
ہم ایک بہت بڑی پریس کانفرنس بنوائیں گے. جس میں ہانیہ کو اس کے ماموں کے حوالے کیا جائے گا. اس طرح میڈیے پر آپ کا بہت چرچہ ہوگا کہ آپ نے ایک یتیم بچی کو پال پوس کے بڑا کیا اور اس کو اس کے وارثوں سے ملا دیا.
رہی بات جائیداد کی تو اس کی اپ فکر نہ کریں جو چیز میری ہے وہ آپ کی ہے کیونکہ میں خود آپ کا ہوں. رازی کی بات پر ناجو بابا نے اس کی طرف قدم بڑھائے.
(لگتا ہے بابا کو میری بات پسند آگئی ہے. رازی نے بابا کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر دل میں سوچا)
تو یہ ساری بکواس میرے ساتھ پہلے نہیں کر سکتا تھا . اتنی گیمز کھیلنے کی کیا ضرورت تھی …..؟؟ ناجو بابا نے رازی کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے پے در پے دو تین تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیے
بابا آپکے پیار کرنے اور داد دینے کا طریقہ مجھے کبھی بھی پسند نہیں آیا. رازی نے اپنے الٹے ہاتھ کی پشت سے اپنے منہ سے نکلنے والا خون صاف کیا.
شیروں کے پیار کرنے کا طریقہ ایسا ہی ہوتا ہے. ناجو بابا نے ہنستے ہوئے رازی کو اپنے گلے لگا لیا
🪶🪶🪶🪶🪶
یہ سب بچے کہاں ہیں. آج گھر میں اتنی خاموشی کیوں ہے ……. ؟؟ یوسف صاحب نے فائزہ بیگم کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر پوچھا
یہاں ہی ہیں. انہوں نے کہاں جانا ہے. اپنے کمروں میں ہوں گے. اب تو شام کو ہی ٹھنڈ ہو جاتی ہے ورنہ سارے ٹی وی لاؤنچ میں ہی بیٹھے ہوتے تھے. فائزہ بیگم نے لاپرواہی سے جواب دیتے ہوئے بستر کی چادر درست کی.
میں نے ایک فیصلہ کیا ہے. کافی دیر بعد یوسف صاحب نے آہستہ اور نرم آواز میں فائزہ بیگم کی طرف دیکھ کر کہا
ویسے تو مجھے کبھی بھی آپ کے فیصلے پسند نہیں آئے مگر پھر بھی بتا دیں. فائزہ بیگم نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے ان کی طرف دیکھا
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ نور اور بدر کی شادی کے ساتھ ساتھ ہم ہانیہ کی بھی دھوم دھام سے شادی کریں گے تاکہ اس کے دل میں کوئی حسرت نہ رہ جائے. یوسف صاحب کی بات پر فائزہ بیگم نے انہیں مشکوک نظروں سے گھورا
آپ شاید بھول رہے ہیں کہ نور کی شادی ہو چکی ہے اور جس سے ہوئی ہے اسے شاید آپ اچھی طرح جانتے نہیں. فائزہ بیگم نے لحاف اوڑھتے طنز کیا
بیگم ہر وقت جلی کٹی بات نہیں کرنی چاہیے. میری بات کا مطلب یہ تھا کہ ہم اسے دھوم دھام سے رازی کے ساتھ رخصت کریں گے اگر وہ اس بات پر رازی ہوئی تو …… ؟؟ یوسف صاحب کی بات پر فائزہ بیگم سر ہلایا
صبح آپ بدر سے بات کیجئے گا کہ رازی کے ماں باپ کہاں ہیں …… ؟؟ ہم ان سے خود بات کریں گے تاکہ شادی کی تاریخ رکھی جا سکے. یوسف صاحب کہتے ہوئے صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے
آپ پریشان نہ ہوں اور نہ ہی اپنے آپ کو ملامت کریں. یہ سب ایسا ہی ہونا تھا. بس اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کو آپ کی بہن کی نشانی مل گئی. ورنہ آپ نے یہ کسک لے کر قبر میں چلے جانا تھا. اب اللہ کا شکر ادا کریں اور آ کر سو جائیں. فائزہ بیگم کی آواز پر یوسف صاحب اپنے آنسو صاف کرتے اٹھ کھڑے ہوئے
یا اللہ تو مجھے معاف کر دے اور مجھے توفیق دے کہ میں اس بچی کو اس کے حصے کی تمام خوشیاں دے سکوں. یوسف صاحب دل میں دعا کرتے واشروم کی طرف بڑھ گئے
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے
