Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

آپ بھی کمال کرتے ہیں. کبھی کبھی بالکل چھوٹے بچے بن جاتے ہیں. بھلا سب کے سامنے یوں جہلم کے نام پر جذباتی ہونے کی کیا ضرورت تھی …..؟؟ فائزہ بیگم نے یوسف صاحب کے قریب بیٹھتے ہوئے انھیں سوپ کا پیالہ دیا.
مجھے پتہ ہے آپ ساری رات پھر وہی ایک بات سوچتے رہے ہیں اور اپنے آپ کو الزام بھی دیتے ہوں گے تبھی تو طبیعت خراب ہو گئی ہے. میں تو کہتی ہوں ایک بار جہلم کا خود چکر لگا لیں. یوں روز روز کی اذیت سے جان چھوٹ جائے گی. فائزہ بیگم کے مشورہ پر یوسف صاحب نے اپنی لال انگارو آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا
مجھے سب معلوم ہے. کیا ہوا تھا _ کیوں ہوا تھا کیسے ہوا تھا _ کس نے کیا تھا پھر وہاں جا کے میں کیا کروں گا …….. ؟؟
یوسف صاحب نے سوپ کا پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
اگر آپ کو سب معلوم ہے تو پھر اپنے آپ کو کیوں بھٹی میں جلاتے ہیں. رات گئی بات گئی جو ہوا سو ہوا مٹی ڈالیں. اب تو اس بیچاری کی ہڈیاں بھی گل گئی ہوں گی. فائزہ بیگم غصے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی.
میری بھی تو غلطی تھی. مجھے بھی سزا ملنی چاہیے تھی. مگر میں تو بڑے مزے سے اپنے بیوی بچوں میں زندگی گزار رہا ہوں. اس کے بچے کا پتہ نہیں کہاں ٹھوکریں کھا رہا ہوگا. یوسف صاحب کے لہجے میں دکھ تھا.
ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی. آپ میرے اور بدر کے پیچھے کیوں پڑ جاتے ہیں. اگر اس بیچاری کا گھر خراب ہوا تھا تو اس میں آپ کی غلطی نہیں تھی. ہر بندہ اپنی پسند سے زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہے.
آپ نے بھی بالکل ایسے ہی کیا اور اُس نے بھی، اب یہ الگ بات ہے کہ اس کے نصیب میں “دکھ” تھے اور اپ کے نصیب میں “خوشیاں” خدا کے لیے لکیر پیٹنا چھوڑ دیں نہ اپنے آپ کو اذیت دیں اور نہ مجھے
بدر اور نور کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ان کی کوئی پھوپھو بھی تھی.
لیکن پھر بھی اگر آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرتا ہے تو دونوں بچوں کو بٹھا کے ساری بات بتا دو. ہاں مگر ایک بات یاد رکھنا نور کا تو میں کچھ کہہ نہیں سکتی مگر بدر ضرور تم پر انگلی اٹھائے گا. وہ آگے ہی تم سے بہت بدظن رہتا ہے. اوپر سے تمہارا “کارنامہ” سنے گا تو پتہ نہیں اس کا کیا ری ایکشن ہو گا …… ؟؟
اپنے ساتھ ساتھ بڑھاپے میں میرے سر میں بھی خاک ڈالو گے. یوسف صاحب میں تو کہتی ہوں عقل کے ناخن لو. گزری ہوئی باتوں کو مت دہراؤ. خاک چھاننے سے کچھ نہیں ملتا.
فالتو باتوں کو دماغ سے نکال کر نور اور بدر کی شادی پر توجہ دو. میری مانو تو دونوں بچوں کی شادی کر کے انھیں ملک سے باہر بھیج دو. ہم نے تو اپنی جیسے تیسے زندگی گزارنی تھی گزار دی. اب بچوں کا وقت ہے انہیں تو اپنی بھرپور زندگی گزارنے دو. فائزہ بیگم کو بولتے بولتے سانس چڑھنے لگا تھا.
تمہاری صحت اتنا لمبا لیکچر دینے کی اجازت نہیں دیتی. بیٹھ جاؤ اور پانی پیو. یوسف صاحب نے ناگواری سے کہتے ہوئے دوبارہ سوپ کا پیالہ پکڑا
مجھے لیکچر دینے کا شوق بھی نہیں ہے یہ ڈیپارٹمنٹ آپ کا ہے. مگر کیا کروں جب ایک بات سمجھا سمجھا کر سر میں چاندی اتر آئی ہے اور آپ کو وہ سمجھ نہیں آتی تو پھر بولنا پڑتا ہے. فائزہ بیگم بیٹھ کے گہرے گہرے سانس لینے لگی
اب کیا سوچ رہے ہیں ……. ؟؟ سوپ پئیں. فائزہ بیگم نے یوسف صاحب کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر ٹوکا
سوچ رہا ہوں زندگی کا پتہ نہیں اور میں یہ راز اپنے ساتھ قبر میں لے کر جانا نہیں چاہتا. یوسف صاحب نے سوپ میں چمچ ہلایا
ہائے آپ کی مثال تو اس شخص جیسی ہے جو ساری رات روتا رہا مگر مرا کوئی بھی نہیں. میں اتنی دیر سے آپ کو کیا سمجھا رہی ہوں لیکن پھر بھی اگر آپ یہ راز قبر میں لے کر نہیں جانا چاہتے تو مجھے اپنا ہمراز بنا لیں.
مگر اللہ کا واسطہ ہے کوئی ڈرامہ نہ لگا لینا. میں آپ کو بتا رہی ہوں بات صرف “بدر” تک نہیں رہے گی بلکہ “نور” پہ بھی یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس کے ماں باپ کا قتل کس کے سر ہے ……. ؟؟
ویسے تو بڑے سمجھدار بنے پھرتے ہیں مگر اس معاملے میں پتہ نہیں کیا ہو جاتا ہے. ہر سال دو سال بعد آپ کو دورہ پڑتا ہے. سچ بتانے کا _ فائزہ بیگم نے اپنا ماتھا پکڑا. مجھے نہیں پینا اسے لے جاؤ. میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں. یوسف صاحب نے ناراضگی سے کہتے ہوئے پیالہ سائیڈ پر رکھا. آپ جتنی مرضی دیر آرام کریں مگر جب تک سچ بولنے کا جن آپ پر سوار ہے. آپ کو سکون کی نیند نہیں آئے گی. فائزہ بیگم کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی. 🪶🪶🪶🪶🪶🪶 دیکھیں بھابھی بات بالکل صاف صاف کریں. ہمیں دھوکہ دینے کی ضرورت نہیں ہے. مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ رازی نے شادی کر رکھی ہے مگر میرے بار بار پوچھنے کے باوجود بھی آپ نے یہی کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے. اب بتائیں ……؟ ؟ شہناز نے باقاعدہ لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچاتے ہوئے بانو بیگم طعنہ دیا. دیکھو شہناز ایسی کوئی بات نہیں ہے. تمہیں یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے. رازی نے شادی نہیں کی اگر کرتا تو وہ مجھے ضرور بتاتا. میرا بیٹا جھوٹ نہیں بولتا. بانو بیگم نے کئی دفعہ کا دہرایا ہوا جملہ دوبارہ دہرایا جب کہ گڑیا مسلسل انہیں روک رہی تھی. پھپھو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ “نجومی” ہیں. جو آپ کو پہلے سے ہی سب پتہ چل جاتا ہے کہ کس نے کیا اور کب کیا ہے ……. ؟؟ چلیں فرض کریں کہ بھائی نے شادی کر لی ہے تو پھر کیا ہوا ……؟ ؟ گڑیا نے بانو بیگم کو کرسی پر بیٹھاتے ہوئے کہا اے لڑکی تُو تو اپنا منہ بند رکھ. مجھے تیری جیسی زبان دراز لڑکیاں بالکل پسند نہیں. جنہیں چھوٹے بڑے کی تمیز نہ ہو. میں بھابھی سے بات کرنے آئی ہوں. اگر تم رمشا کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہو. تو رازی کو اُس لڑکی کو طلاق دینا ہوگی. میں کسی غیر لڑکی کو اس گھر میں برداشت نہیں کر سکتی. ہمارے خاندان میں کبھی کوئی دوسرے علاقے یا ذات کی لڑکی نہیں آئی. رازی اس خاندان کی روایات کو پامال کر رہا ہے. وہ میرے باپ کا وارث ہے. اسے یہ کام زیب نہیں دیتے. شہناز بیگم کی باتوں سے بانو بیگم کی طبیعت خراب ہونے لگی. پھپھو خدا کے لیے بس کر دیں. ابھی ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے. جب تک ہم رازی بھائی سے بات نہیں کر لیتے. ہم کیا کہہ سکتے ہیں ……. ؟؟ گڑیا نے بانو بیگم کے ہاتھ ملتے جواب دیا. میں تم دونوں ماں بیٹا کو سارے خاندان میں ننگا کروں گی اگر تم لوگوں نے میری بیٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی تو، مجھے نہیں پتہ رمشا کی شادی رازی سے ہی ہوگی. سب کو پتہ چل گیا ہے. ارے میں کس کس کا منہ بند کروں گی …..؟ ؟ تم رازی کو فون کرو، اسے کہو کہ فوراً گھر آئے. تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے. بانو بیگم نے اپنی بگڑتی طبعیت کو کنٹرول کرتے ہوئے کمزور آواز میں کہا امی آپ ٹینشن نہ لیں. میں بھائی سے خود بات کرتی ہوں. پھر ساری صورتحال کا پتہ چل جائے گا. ہو سکتا ہے کہ پھپھو جھوٹ بول رہی ہوں. گڑیا کی بات پر شہناز جاتے جاتے پلٹی. ارے واہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے. میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے راضزی کسی لڑکی کو اپنی بیوی کہہ رہا تھا اور تم کہتی ہو کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہے الو کسی اور کو بنانا. شہناز بیگم کی بات پر گڑیا ماں کی طرف دیکھنے لگی جبکہ بانو بیگم بلکل چپ تھیں. اصل میں بھابھی کی نیت میں ہی کھوٹ تھا. میں کب سے کہہ رہی ہوں کہ رازی اور رمشا کی شادی کر دیتے ہیں مگر بھابھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بات ٹال دیتی تھی. کیونکہ یہ خود بھی اپنے بیٹے ساتھ ملی ہوئی تھی اور میری بیٹی کو بہو بنا کر نہیں لانا چاہتی تھی. حالانکہ میرے مرحوم بھائی کی یہ خواہش تھی. شہناز نے فوراً جذباتی کارڈ کھیلا شہناز تم فکر نہیں کرو میں نے کہہ دیا ناااااا رازی کی دلہن رمش اہی بنے گی. میں کسی لڑکی کو اس گھر میں نہیں آنے دوں گی. اب تم جاؤ اور منگنی کی تیاری کرو. بانو بیگم نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو گڑیا کے تاثرات بدلے. منگنی نہیں اب تو سیدھا نکاح ہوگا کیا بھروسہ تمہارے بیٹے کا کل پھر کوئی چاند چڑھا دے. میں کیا کروں گی …… ؟؟ شہناز کہتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی. اگر رازی نے کوئی بھی ایسی ویسی حرکت کی تو میں اسے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی. بانو بیگم نے شہناز کے جاتے ہی گڑیا کی طرف دیکھا امی آپ تو خواہ مخواہ جذباتی ہو رہی ہیں. کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے جو آپ یوں کہہ رہیں ہیں. بھائی کو بھی حق ہے اپنی پسند کی زندگی گزارنے کا گڑیا کہتی کمرے سے باہر جانے لگی
اسے فون کرو بانو بیگم نے غصے سے کہا ابھی بہت رات ہو گئی ہے. صبح کروں گی. خود تو آپ نے سونا نہیں ہے کم از کم انھیں تو سونے دیں. گڑیا جواب دیتی باہر نکل گئی. 🪶🪶🪶🪶🪶 نور یار یہ میری “شرٹ” استری کر دو. مجھے دیر ہو رہی ہے. پلیز بدر نے تیزی سے کمرے میں جھانکتے ہوئے آواز لگائی. “شرط” مگر کیسی شرط …..؟ ؟ میں نے تو تم سے کوئی شرط لگائی ہی نہیں تھی. نور نے انتہائی معصومیت سے بدر کی طرف دیکھا نور اپنے اس ڈرامے کو برائے مہربانی فی الحال بند کرو اور مجھے جلدی سے یہ شرٹ پریس کر دو. بدر نے ہاتھ میں پکڑی شرٹ نور کی طرف اچھالی. ڈرامہ کیسا ڈرامہ میں تو ڈرامہ دیکھ ہی نہیں رہی میں تو کارٹون دیکھ رہی ہوں. نور نے بدر کا جائزہ لیتے جواب دیا. نور تم میرے دماغ کی دہی کیوں بنا رہی ہو. ایک چھوٹا سا کام ہے کر دو. امی پتہ نہیں آج کس وجہ سے اپ سیٹ ہیں. میں ان کے پاس گیا تھا مگر ڈانٹ کھا کر واپس آ گیا ہوں. بدر نے دروازے ساتھ ٹیک لگائے اداسی سے کہا میرے خیال سے تم “ڈانٹ” کی جگہ “طعنے” کا لفظ استعمال کرو تو زیادہ مناسب رہے گا. نور نے مسکراتے ہوئے اس کی شرٹ واپس اچھال دی. مطلب میں تمہاری طرف سے “نہ” سمجھوں. سوچ لو نور پھر میں تمہاری کبھی بات نہیں سنوں گا. آخر تمہیں بھی مجھ سے کام پڑتا ہے. بدر نے شرٹ پکڑے جتلایا تم نے رات کو میری بات سنی تھی جو اب میں تمہاری بات سنوں گی. آخر ہم دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں. ہم دونوں کی رگوں میں ایک ہی خون ہے. جیسا تم کرو گے ویسا میں کروں گی. نور کندھے اچکاتی دوبارہ کارٹون دیکھنے لگی او آئی سی تو تم اس بات کا غصہ نکال رہی ہو دیکھو نور تمہاری بات بالکل عجیب و غریب تھی جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا. تو میں اس بارے میں تم سے کیا بات کرتا …… ؟؟ اچھا چلو تم میری شرٹ پریس کر دو میں ابا سے جا کر پوچھ لیتا ہوں ٹھیک ہے. بدر نے دوبارہ شرٹ نور کی طرف اچھالی
بے وقوف انسان پوچھنا نہیں ہے بلکہ اس بارے میں تحقیق کرنی ہے. میرے خیال سے میں نے تحقیق کا لفظ غلط استعمال کیا ہے ہمیں اس بارے میں جاسوسی کرنی ہے. ہاں یہ ٹھیک رہے گا. نور نے فوراً جذباتی انداز میں کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو بدر نے افسوس سے سر ہلایا
میں کہاں پھنس گیا ہوں …..؟؟ بدر اپنی شرٹ نور سے چھینتا چل دیا.
چلو مرضی ہے تمہاری مگر اچھی خاصی ایڈونچر والی ایکٹیوٹی تھی. بہت مزہ آنا تھا. نور خود کلامی کرتی دوبارہ کارٹون دیکھنے لگی.
🪶🪶🪶🪶🪶
شانی بالآخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا یعنی میرا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا ہے. رازی نے مسکراتے ہوئے پیپرز دوبارہ لفافے میں ڈالے.
رازی ایک بات سچ سچ بتا تجھے ناجو بابا سے بالکل ڈر نہیں لگتا یا تو صرف ایکٹنگ کرتا ہے ……. ؟؟ اللہ جانتا ہے جب میں نے ان پیپرز کو ہاتھ لگایا میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی.
تب سے اب تک میری نیند حرام ہے. قسم سے مجھے رات کو نیند بھی نہیں آئی اور نہ ہی بھوک لگ رہی ہے. شانی کی شکل قابل رحم تھی.
ویسے تو میرے دوست یہ ساری نشانیاں ایک عاشق کی ہیں یعنی جب ہمیں کسی سے بہت محبت ہو جاتی ہے تو پھر ہمیں یہ بیماری لاحق ہوتی ہے. آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تجھے مجھ سے زیادہ ناجو بابا اے محبت ہے تبھی تو تیرا یہ حال ہے. رازی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی.
کمینے تجھے مذاق سوجھ رہا ہے اور مجھے اپنی عبرت ناک موت دکھائی دے رہی ہے. آج نہیں تو کل ناجو بابا کو ضرور پتہ چل جائے گا کہ پیپرز وہاں سے غائب ہیں. پھر جو ہو گا وہ قابل بیان نہیں. شانی کی رونے والی شکل رازی کو مزہ دے رہی تھی.
یار تیری کتوں سے اچھی خاصی دعا سلام ہے. آخر تو ان کا مالک رہ چکا ہے. میرا نہیں خیال کہ وہ تجھے اتنی بے دردی سے کاٹیں گے جیسے دوسروں کو کاٹتے ہیں. کچھ تو لحاظ رکھیں گے.رازی نے سگریٹ کا کش لیا.
رازی میں تجھے چھوڑوں گا نہیں. پتہ نہیں کون سا منحوس وقت تھا جب میں نے تیری بات مانی. شانی نے پریشانی سے کمرے میں چکر لگایا
شانی چھوڑ ان فضول باتوں کو اور تو اپنی کوئی درینہ خواہش مجھے بتا جو میں پوری کر سکوں. رازی نے دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے اسے مزید چھیڑا
کوئی ایک خواہش ہو تو تب ناااااا یہاں تو ایک درجن خواہشیں دل میں پل رہی ہیں. کون کون سی بتاؤ اور آپس کی بات ہے ساری تجھے بتانے والی بھی نہیں. شانی نے آخر میں رازداری سے کہا
جو بتانے والی نہیں ہے وہ بتا دے کیونکہ وہ میں پوری کر دیتا ہوں پھر کیا پتہ وقت ملے نہ ملے رازی کہتا ہوا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا. تیری بات کا کیا مطلب ہے …..؟ ؟ شانی نے رازی کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے ناراضگی سے پوچھا میرے گھر والوں کو میری اور ہانی کی شادی کا پتہ چل گیا ہے اور میری پھپھو میں یہ ٹیلنٹ ہے کہ کوئی بات نہ بھی ہو تو وہ اچھا خاصا ڈرامہ خود سے لگا لیتی ہیں یہ تو پھر ایک بڑی وجہ ہے. اور میری ماں نے اب تک اعلان کر دیا ہوگا کہ وہ مجھے دودھ نہیں بخشیں گی اور اگر وہ مر جائیں تو میں ان کے جنازے کو کندھا نہیں دوں گا. میں انہیں اپنی شکل نہیں دکھاؤں گا وغیرہ وغیرہ. رازی نے کہتے سگریٹ زمین پر پھینکا مطلب اب تو سیدھا ہانیہ کو لے کر اپنے گھر جائے گا. چلو ہانیہ کا تو مسئلہ حل ہوا. شانی نے سر ہلایا فی الحال تو میں سیدھا بدر کے گھر جا رہا ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہاں جا کر میں بذات خود مسئلہ پیدا کروں گا اس کے بعد وہ حل ہو گا. پھر ہانیہ کو گھر لے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی. رازی کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی جسے شانی سمجھ نہیں سکا چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا _
رازی ،شانی کو حیران پریشان چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل آیا.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.