Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

تمہاری ہر چیز سے تمہاری خوشبو آتی ہے. مجھے ہر اس شخص اور اس چیز سے محبت ہے جس کا تعلق تمہاری ذات سے ہے. رمشا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پورے کمرے کا جائزہ لیا پھر سائیڈ ٹیبل پر پڑے رازی کے فوٹو فریم کو اٹھایا
پتہ نہیں تم اتنے پیارے ہو یا صرف مجھے ہی لگتے ہو مگر جو بھی ہے مجھے تم بہت پسند ہو. ہاں البتہ تھوڑے سے بدتمیز ہو مگر چلے گا. رمشاہ نے ہنستے ہوئے فوٹو فریم پر ہاتھ پھیرا
ایک دن تم اور یہ کمرہ صرف میرا ہوگا اور وہ دن جلد آئے گا. کتنے کتنے دنوں بعد تمہاری آواز سننے کو ملتی ہے. آنکھیں ترس جاتی ہیں تمہیں دیکھنے کے لیے مگر جناب پاس وقت ہی کہاں ہے کہ ہمیں اپنا دیدار کرائیں. رمشا نے ایک آہ بھرتے فریم دوبارہ اپنی جگہ پر رکھا
چل رمشا جناب کی الماری بھی ٹھیک کر دے. کیا یاد کریں گے …… ؟؟ رمشا خود کلامی کرتے الماری تک پہنچی مگر الماری کھولتے ہی اسے حیرت کا تب شدید جھٹکا لگا ساری الماری انتہائی ترتیب اور نفاست سے سجی تھی.
رمشا آپی ماما نے آپ کو بھائی کے کمرے کی صفائی کا بولا تھا. چھان بین کرنے کا نہیں. گڑیا نے رمشا کو الماری پاس کھڑے دیکھ کر کہا
گڑیا شرم کرو بڑی ہوں تم سے اور میں رازی کے کمرے میں چوری کروں گی. تم نے یہ کیسے سوچ لیا ……. ؟؟ رمشاہ نے الماری کا دروازہ زور سے بند کرتے گڑیا کی طرف جارحانہ انداز میں مڑتے ہوئے جواب دیا
آپی آپ زرا مجھ سے بنا کر رکھا یوں بات بات پر مجھے غصے نہ ہوا کریں. میں راضی بھائی کی بہت لاڈلی ہوں. گڑیا نے اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے وارننگ دی.
گڑیا _ رمشا محض اسے پکار کر رہ گئی. آپی جو کچھ آپ سوچ رہی ہیں، وہی میرے بھی ذہن میں چل رہا ہے. گڑیا نے دروازے ساتھ ٹیک لگائی اور میں کیا سوچ رہی ہوں …….. ؟؟ رمشا نے تفتیشی انداز میں سینے پر ہاتھ باندھتے گڑیا سے پوچھا یہی کہ کمرے کی صفائی ہو گئی ہے اب “ہم” نیچے چلتے ہیں. بلکہ “ہم” نہیں “میں”، آپ تو اوپر جائیں گی ہے نا اااااا گڑیا نے اپنی ہنسی روکتے کہا
گڑیا تم بہت بدتمیز ہوتی جا رہی ہو …….. ؟؟ رمشا کو گڑیا کی باتیں سخت بری لگ رہی تھی.
میں کیوں آپ سے بدتمیزی کروں گی. میں تو صرف آپ کو یہ بتا رہی تھی کہ پھوپھو آپ کو آوازیں دے رہی ہیں. اب آپ کا گھر اوپر ہے تو آپ اوپر ہی جائیں گی نااااااا گڑیا نے معصومیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے جواب دیا میں اتنی بے وقوف نہیں جتنا تم مجھے سمجھتی ہو. میرا ایک مشورہ ہے تمہارے لیے تم جتنی ہو اتنی ہی رہو تو اچھا ہے. رمشا کہتی اس کے پاس سے گزرنے لگی اور میرا بھی آپ کے لیے ایک مفت مشورہ ہے. رازی بھائی سے فاصلے پر رہا کریں انہیں چپکو لوگ بالکل پسند نہیں. گڑیا کہتی نیچے کی طرف سیڑھیاں اترنے لگی ایک بار میں رازی کی زندگی میں داخل ہو جاؤں پھر سب سے پہلے تیرا ہی “پتا” صاف کروں گی. رمشاہ سوچتی ہوئی اوپر کی طرف چل دی 🪶🪶🪶🪶🪶 آپ کا صاحبزادہ خیر سے رات کتنے بجے تشریف لایا تھا ……؟ ؟ فائزہ بیگم کو بدر کے لیے ناشتہ لگاتے دیکھ کر یوسف صاحب نے طنزاً پوچھا وہ صرف میرا نہیں آپ کا بھی بیٹا ہے. دوسرا ہر وقت اولاد پر طنز کرنا اچھا نہیں ہوتا. فائزہ بیگم نے نور کو چائے لانے کا اشارہ کرتے مسکرا کر جواب دیا. اسی بات کا تو دکھ ہے کہ اللہ نے ایک اولاد دی ہے وہ بھی انتہائی نافرمان یوسف صاحب نے اخبار طے کرتے ہوئے میز پر رکھی
خیر اب ایسا تو نہیں ہے. آپ جو بھی کہتے ہیں جس وقت بھی کہتے ہیں وہ فورا کر دیتا ہے پھر بھی آپ کے گلے شکوے ہی ختم نہیں ہوتے. اس کی بھی زندگی ہے تھوڑا بہت اسے انجوائے کرنے دیا کریں. فائزہ بیگم نے یوسف صاحب کے آگے ناشتہ رکھا
تم جیسی مائیں ہوتی ہیں جو اپنے لاڈ پیار سے بچوں کو بگاڑ دیتی ہیں. اکلوتا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کی تمام جائز اور ناجائز خواہشات پر آنکھیں بند کر کے امین کہیں. یوسف صاحب نے ناشتہ شروع کیا.
نور جا کر بدر کو بلا لاؤ. ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے. فائزہ بیگم نے بدر کے کمرے کا بند دروازہ دیکھتے ہوئے نور سے کہا جس پر نور فورا سر ہلاتی کرسی سے کھڑی ہو گئی.
کوئی ضرورت نہیں ہے اس نواب زادے کو بلانے کی. وہ نہیں جانتا کہ گھر میں ناشتے کا کیا وقت ہوتا ہے. نور بیٹھ کر اپنا ناشتہ کرو. یوسف صاحب کے کہنے پر نور خوشی سے دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی. تبھی بدر اپنے کمرے سے آتا دکھائی دیا.
خیر سے آج کہاں جانے کی تیاری ہے …… ؟؟ بدر کو تیار دیکھ کر یوسف صاحب نے پوچھا
ابا یونی جاؤں گا اور میں نے کہاں جانا ہے …….. ؟؟ بدر شرٹ کے کف فولڈ کرتا نور کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا.
نور مجھے چائے ڈال دو. بدر نے مصروف سے انداز میں کہتے ہوئے اپنے موبائل سے رازی کو میسج سیڈ کیا.
اگر تمہارے پاس کچھ وقت ہو تو آج میں نے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے. یوسف صاحب نے اپنا ناشتہ ختم کرتے بدر کی طرف دیکھا جب کہ فائزہ بیگم کے چہرے پر پریشانی واضح نظر آنے لگی
جی کہیں میں سن رہا ہوں. بدر نے موبائل سائیڈ پر رکھتے اپنا ناشتہ شروع کیا
تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے …… ؟؟ یوسف صاحب کا سوال اتنا اچانک تھا کہ بدر کا نوالہ گلے میں پھنسنے لگا اس نے حیرت سے پہلے ماں اور پھر باپ کی طرف دیکھا. جیسے پوچھ رہا ہو کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے …….. ؟؟
کس لیے ……. ؟؟ بدر نے بامشکل حلق میں نوالہ اتارا
اپنے باپ کے لیے _ یوسف صاحب نے غصے سے جواب دیا جس پر نور کی ہنسی چھوٹ گئی جبکہ بدر نے بمشکل کنٹرول کیا ابا ایک تو آپ چھوٹی چھوٹی بات پر فوراً ناراض ہو جاتے ہیں میں سیریس پوچھ رہا ہوں. بدر نے ناشتہ چھوڑتے کہا میں نے جو سوال پوچھا ہے مجھے اس کا جواب دو. تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے کیا …….. ؟؟ یوسف صاحب نے دوبارہ اپنی بات دہرائی چھوڑیں نا آپ صبح صبح کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں. بعد میں آرام سے بات کرتے ہیں. فائزہ ہ بیگم نے ہچکچاتے ہوئے نور کی طرف دیکھا آپ بیچ میں مت بولیں. مجھے آج اس سے صاف صاف بات کرنی ہے. یوسف صاحب نے فائزہ بیگم کو سخت لہجے میں جواب دیا تو وہ خاموش ہو گئی جبکہ نور اس ساری صورتحال کو بہت انجوائے کر رہی تھی ابا مجھے فی الحال کوئی لڑکی پسند نہیں ہے. بدر نے بات ختم کی کیونکہ اسے رازی سے ملنے جانا تھا اگر تمہیں کوئی لڑکی پسند بھی ہے تو اسے صاف بتا دو کہ تمہارے ابا نے تمہارا رشتہ کہیں اور طے کر دیا ہے. یوسف صاحب کی بات بدر کے سر پر دھماکے کی طرح پھٹی کس سے، کب، مگر کیوں، مجھ سے پوچھے بغیر میں کسی ایسی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا. بدر نے غصے سے کرسی چھوڑتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا
میں نے تمہارا رشتہ نور سے طے کر دیا ہے. اس لیے جتنی جلدی ہو سکے اس بات کو تم دونوں قبول کر لو .نور جو ابھی تک ساری صورت حال کو انجوائے کر رہی تھی اپنا نام آنے پر ہکا بکا رہ گئی.
نوررررررر
بدر نے تقریباً چیختے ہوئے کہا
ہاں نور یہ میرے بھائی کی اکلوتی نشانی ہے اور میں اس کو اس گھر سے کہیں نہیں جانے دوں گا. ویسے تو تم نور کے قابل بھی نہیں ہو مگر خیر یوسف صاحب کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے. ابا آپ میرے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں. میں نے نور کو ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن سمجھا ہے. آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں. آپ یوں نہیں جا سکتے. بدر نے آگے بڑھ کر یوسف صاحب کا راستہ روکا جب کہ نور ابھی تک حیرت میں گری کھڑی تھی. برخوردار میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے. اب میں اس بارے میں کسی قسم کی کوئی بات نہیں سنوں گا. تم اسے بہن سمجھتے تھے مگر وہ تمہاری بہن نہیں ہے. ویسے بھی شادی سے پہلے سب بہنیں ہی ہوتی ہیں شریف لڑکوں کے لیے یوسف صاحب بدر کا گال تھپتھپاتے اپنے کمرے میں چلے گئے
اماں آپ کچھ بولتی کیوں نہیں اور نور تم …… ؟؟ بدر نے اچانک مڑتے ہوئے نور کو پکارا تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹی
میں نے تمہارے ابا کو کافی سمجھایا ہے مگر وہ میری بات سننے کو تیار نہیں.اب میں کیا کروں ….. ؟؟ فائزہ بیگم نے اداسی سے کہا اور برتن سمیٹنے لگیں.
نور یار تم تو کچھ بولو، تم کچھ بولتی کیوں نہیں …….. ؟؟ مدر نے ماں کی طرف سے مایوس ہوتے نور کی طرف دیکھا جو چند لمحے خاموشی سے بدر کو دیکھتی رہی اور پھر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
کیا مصیبت ہے یار ……. ؟؟ میں نے کہا تھا اکلوتی اولاد پیدا کرنے کو، دو تین بچے اور پیدا کر لیتیں تو یہ پھندہ میرے گلے میں نہ پھنستا. بدر مسلسل بڑبڑاتا میز سے اپنا موبائل اور بائیک کی چابی اٹھاتا لاؤنج سے باہر چلا گیا جبکہ فائزہ بیگم اسے دیکھتی رہ گئی
🪶🪶🪶🪶🪶
ماں کے ہاتھ کا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے. بندہ جتنے مرضی اچھے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کے کھانا کھا لے مگر قسم سے یہ ذائقہ نہیں ملتا. رازی نے کھانا ختم کرتے ماں کی طرف محبت سے دیکھا تو بانو بیگم کھل اٹھی
بھائی سچ مچ آپ کو کھانے کا اتنا ذائقہ آیا ہے یا آپ امی کو مکھن لگا رہے ہیں …….. ؟؟ گڑیا نے شرارت سے ماں کی طرف دیکھا
مکھی تم شرارت مت کیا کرو اور چلو اب یہاں سے اڑ جاؤ. مزے کا قہوہ بنا کر لاؤ تب تک میں تھوڑا ریسٹ کر لوں اور ہاں مجھے تم سے ایک ضروری کام بھی ہے اگر تم میرا کام کرو گی تو بدلے میں تمہیں انعام بھی ملے گا. رازی نے گڑیا کی طرف جھکتے ہوئے رازداری سے کہا
بھائی آپ نے اپنی بات سے مکرنا نہیں ہے. پچھلی بار بھی آپ لڈو ہار گئے تھے تو آپ نے مجھے پیسے نہیں دیے تھے. گڑیا نے کھڑے ہوتے منہ بنایا جس پر رازی ہنس دیا.
اب کی بار پکا وعدہ انعام دوں گا. رازی نےمسکراتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا جو اپنی اولاد کو خوش دیکھ کر مطمئن نظر آرہی تھی
رازی میں نے تم سے ایک بات کرنی ہے. گڑیا کے کمرے سے باہر جاتے ہی بانو بیگم نے آہستہ سا رازی کو مخاطب کیا تو وہ ماں کے یوں سنجیدگی سے پکارنے پر چونکا
اماں خیریت ہے کچھ ہوا تو نہیں …… ؟؟ رازی نے ایک دم پریشانی سے ماں کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا
تیرے جیسے بیٹے جس ماں کے ہوں وہاں سب خیریت ہی ہوتی ہے. اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی. مانو بیگم نے محبت سے رازی کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس نے سکھ کا سانس لیا
اماں ایک تو آپ مجھے ڈرا دیتی ہیں. رازی نے پیچھے بیڈ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے نارمل انداز میں کہا
رازی تیری پھوپھو بار بار رمشا کے لیے کہہ رہی ہیں اور میرے خیال سے بھی اس بچی میں کوئی برائی نہیں ہے. اب شادی کر لے کب کرے گا ……. ؟؟
گھر تو نے بنا لیا، بہنوں کی شادی کر دی ہے اب تو بھی شادی کر لے. کب تک یوں ہی پھرتا رہے گا. بانو بیگم کی بات پر رازی نے ہنستے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرا
اچھا اماں اس مسئلے کا بھی کوئی حل نکالتے ہیں. فلحال میں بہت تھکا ہوا ہوں. کچھ دیر آرام کروں گا شام میں بات کرتے ہے. گڑیا سے کہیے گا کہ قہوہ میرے کمرے میں لے آئے. رازی کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا
سیڑھیاں پھلانگتا ابھی وہ اپنے کمرے کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اوپر سے رمشا اترتی دکھائی دی جسے دیکھ کر رازی دروازے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
کیسے ہو، کب آئے ……. ؟؟ رمشا نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے _ رازی نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے جواب دیا. اس بار بہت دیر سے چکر لگایا ہے. رمشا کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا پوچھے تمہیں بڑا یاد ہے. میرا نہیں خیال کہ میں دیر سے آیا ہوں. رازی نے حیرت سے رمشا کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی. پھر دونوں کے درمیان خاموشی کا وقفہ آ گیا. دونوں کے پاس ہی کہنے کو کچھ نہیں تھا مگر دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خاموش کھڑے تھے کچھ کہنا ہے کہ جاؤں ….؟؟ کافی دیر بعد رازی نے رمشا سے پوچھا کہنا تو کچھ نہیں ہے مگر رمشا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ اوپر آتی گڑیا کو دیکھ کر خاموش ہو گئی
مگر کیا ……؟ ؟ رازی نے گڑیا کو نظر انداز کرتے پوچھا
جلدی چکر لگا لیا کرو، رمشا کہتی دوبارہ اپنے قدموں پر لوٹ گئی.
رمشا آپی کیا کہہ رہی تھیں ……؟ ؟ گڑیا نے رازی سے پوچھا
کچھ نہیں، تم اندر اؤ، بیٹھ کے قہوہ پیتے ہیں اور باتیں کرتے ہے. رازی نے دروازہ کھولتے گڑیا کو راستہ دیا.
لگتا ہے کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے. گڑیا نے قہوہ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے رازی کی طرف دیکھا
مکھی تم تو بہت ذہین ہو گئی ہو. بالکل اپنے بھائی کی طرح رازی نے گڑیا کو داد دیتے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا
بھائی جلدی بتائیں نا کیا بات ہے مجھے پریشانی ہو رہی ہے …..؟ ؟ گڑیا نے رازی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
گڑیا تمہاری عمر کیا ہے …… ؟؟ رازی کے سوال پہ گڑیا نے حیرت سے دیکھا
بھائی آپ مذاق کر رہے ہیں. یہ ضروری بات کرنی تھی ……؟ ؟ گڑیا اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی
زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے بیٹھو اور میری بات کا جواب دو کہ تمہاری عمر کتنی ہے …… ؟؟ رازی نے سنجیدگی سے اپنا سوال دہرایا
اس دسمبر میں 16 کی ہو جاؤں گی. گڑیا نے منہ بناتے جواب دیا
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی 18 سالہ لڑکی تمہاری دوست ہو سکتی ہے ہے نا ااااا …..؟ ؟ رازی نے اپنی بات کی تصدیق چاہی
ہاں ہو تو سکتی ہے مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں …… ؟؟ گڑیا نے تجسس سے دوبارہ بیٹھتے ہوئے رازی کی طرف دیکھا جس پر وہ مسکرا دیا.
دیکھو تمہیں میری طرح ایڈونچر کرنے کا شوق ہے نا تو تمہارے لیے ایک سنہری موقع ہے …… ؟؟ رازی نے اپنی بات کہنا شروع کی.
🪶🪶🪶🪶🪶
گڑیا سے بات کرنے کے بعد رازی اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا کہ اچانک اس کا موبائل برے طریقے سے چیخنے لگا
اب کیا موت پڑی ہے دو گھڑی سانس تو لینے دیا کر ……؟ ؟ رازی نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا
تجھے سانس لینے کی پڑی ہے اور یہاں میرے گھر والوں نے میرا آکسیجن سلنڈر ہی اتار دیا ہے. بدر نے رونی آواز میں کہا
ویسے تو تیرا اس دنیا سے اٹھ جانا ہی بہتر ہے کیونکہ جو شخص مشکل وقت میں اپنے دوست کے کام نہ آئے اس بے فیض دوست کا نہ ہونا ہی اچھا ہے. رازی نے شعر کو توڑتاڑ کر بیان کیا
تُو چاہتا ہے کہ میں تیری محبت میں ایک بندے کا قتل کر دوں. پھر مجھے سزائے موت ہو جائے. تب تجھے یقین آئے گا کہ مجھے تجھ سے محبت ہے. تو بہت معذرت کے ساتھ رازیان احمد میں آپ کا دوست ہوں محبوبہ نہیں جو سولی چڑھ جاؤں. بدر نے چڑ کر جواب دیا تو رازی ہنس دیا.
یہ جو تجھے بہت ہنسی آرہی ہے نا اااااا اس کا علاج ہے میرے پاس، میں ناجو بابا کو فون کرتا ہوں پھر دیکھوں گا کہ 32 دانتوں میں سے ایک بھی نظر آئے گا. بدر نے غصے سے کہا تو رازی کو مجبوراً سنجیدہ ہونا پڑا.
اچھا بتا کیا ہوا ہے ……. ؟؟ راضی نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا
یار ابا نے میری شادی نور سے طے کر دی ہے. تو سوچ میں اس کے پاس آدھا گھنٹہ نہیں بیٹھ سکتا تو ساری زندگی کیسے گزاروں گا …… ؟؟ بدر کی بات پر رازی جو بہت مشکل سے سنجیدہ ہوا تھا قہقہ لگا کر ہنس پڑا
نافرمان دوستوں کو اس دنیا میں ہی سزا ملتی ہے. آج سے کچھ دن پہلے تو میری حالت زار پر خوش ہو رہا تھا دیکھ اللہ کی پکڑ رازی نے جلتی پر تیل کا کام کیا.
راضی تجھے میرے ساتھ ہمدردی ہے یا نہیں …… ؟؟ بدر نے دو ٹوک لہجہ سے پوچھا
مجھے تیرے سے جتنی بھی ہمدردی ہے مگر میں تیری جگہ سولی نہیں چڑھوں گا. سمجھے بدر کی بات کا مفہوم سمجھتے رازی نے فوراً کہا
یار تو مجھے خودکشی کا کوئی آسان ترین طریقہ بتا. بدر نے دکھی لہجے میں پوچھا
قسم سے تو بین ڈالتا بہت مزیدار لگ رہا ہے کاش تو میرے سامنے ہوتا اور میں آواز کے ساتھ ساتھ ویڈیو بھی انجوائے کر سکتا. رازی نے حسرت بھرے لہجے میں کہا
تجھے دوست کا مطلب پتہ ہے کہ کیا ہوتا ہے ….؟؟ بدر نے افسوس بھرے لہجے میں پوچھا
عزت نہ کرنے والی، بے غیرت، لاپرواہ، عجیب و امیر کبھی کبھی غریب مخلوق رازی کے جواب پر بدر اسے گالیوں سے نوازتا فون بند کر گیا.
شکر ہے کچھ تو سکون ملا __
گھر، گھر ہی ہوتا ہے. رازی نے موبائل پھینکتے پشت کے بل لیٹتے ہوئے کہا تبھی ذہن ہانی کی طرف کیا.
پتہ نہیں وہ کیا کر رہی ہوگی چلو اس کی بھی خبر لیتے ہیں. رازی نے سوچتے ہوئے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا. جس پر رازی کے ماتھے پر شکنیں پڑیں.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے