Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ٹرن ، ٹرن ، ٹرن نور ابھی سونے کی نیت سے لیٹی ہی تھی کہ اس کا موبائل بجنے لگا
کیا مصیبت ہے سارا دن بندہ فارغ ہوتا ہے مجال ہے جو کسی کو اس کی یاد بھی آ جائے مگر جیسے ہی سونے کے لیے لیٹو یہ منحوس مارا بجنے لگتا ہے. بڑبڑاتے ہوئے نور نے کال اٹینڈ کی.
کہاں ہو، جلدی سے “دروازہ” کھولو …… ؟؟ بدر نے سرگوشی نما آواز میں کہا
“روزہ” کھولو مگر کیسے میں نے تو روزہ رکھا ہے نہیں ہے …… ؟؟ نور کے جواب پر باہر کھڑے بدر نے انتہائی غصے سے اس کے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھا
نور میں نے کہا ہے دروازہ کھولو مطلب door کھولو _ بدر نے نرمی سے وضاحت کی کیوں کہ اور چارہ نہیں تھا. میں ڈوری نہیں ہوں. مجھے سب سمجھ آ رہی ہے تمہارے خیال سے میں پاگل ہوں. نور نے غصے سے کہتے لحاف سائیڈ پر کیا نہیں میں پاگل ہوں جو اس وقت دوڑا دوڑا گھر واپس آیا ہوں. یہاں تو کسی کو میری پرواہ ہی نہیں. سب گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں. بدر نے گیٹ ساتھ ٹیک لگاتے مایوسی سے کہا کس نے گھوڑے بیچے ہیں …..؟ ؟ ہمارے پاس تو گھوڑے ہیں ہی نہیں
نور کے پوچھنے پر بدر نے اپنا سر گیٹ ساتھ مارا
نور میں کب سے گیٹ پر کھڑا ہوں پلیز گیٹ کھول دو میں بہت تھک گیا ہوں. بدر نے ایک گہرا سانس خارج کرتے تحمل سے کہا
گیٹ پر کیوں کھڑے ہو بےوقوف، اب میں گیٹ کیسے کھولوں گی …… ؟؟ نیچے اترو ورنہ چوٹ لگ جائے گی. میں چابیاں لے کر آتی ہوں. نور فکر مندی سے کہتی سلیپر پہننے لگی
تُو ایک دفعہ گیٹ کھول تیری گردن نہ دبائی تو کہنا، پاگل کر رکھا ہے. بدر نے بڑ بڑاتے موبائل جیب میں رکھا اور اندر جھانکنے لگا جہاں سے نور آتی دکھائی دی.
پتہ نہیں اب میں گیٹ والے تالے کی چابی کون سی ہے. میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا. نور خود کلامی کرتی تالا کھولنے لگی
جلدی کرو نااااا میں بہت تھکا ہوا ہوں. بدر نے تھکاوٹ بھری آواز میں کہا
صبر کرو کھول رہی ہوں. ایک تو آدھی رات کو عذاب کی طرح نازل ہوئے ہو دوسرا شور بھی مچا رکھا ہے. نور مسلسل چابی بدل بدل کر لاک کھولنے کی کوشش کر رہی تھی.
میرے خیال سے یہ گیٹ والی چابیاں ہی نہیں ہیں. کافی دیر بعد نور نے باہر جھانکتے ہوئے بدر سے کہا
نور بی بی آپ کی اطلاع کا بہت بہت شکریہ بس میں ایک بار اندر آ جاؤں پھر دیکھنا یہ جو آپ مجھے تسلی سےذلیل کر رہی ہیں اس کا کیسے بدلا لیتا ہوں. بدر نے نظاہر مسکراتے ہوئے دل میں سوچا
تم ایسا کرو گیٹ سے اندر کود جاؤ. ہاں یہ ٹھیک رہے گا. نور نے کمر پر ہاتھ رکھتے آئیڈیا دیا.
یہ جو آپ کے چچا جان نے شاہی قلعہ جیسا گیٹ بنا رکھا ہے اس سے کود کر میرا جان دینے کا کوئی ارادہ نہیں. اللہ نے مجھے بڑا صبر دے رکھا ہے. ورنہ جب سے تم میرا دماغ خراب کر رہی ہو میں تب سے میں یہ حرکت کر چکا ہوتا. گیٹ کی لمبائی دیکھی ہے. بدر چلایا
چلو پھر چیختے رہو، میں جا رہی ہوں،. اب صبح ہی ملاقات ہو گی. نور جمائی روکتے ہوئے جانے لگی.
نور پلیز یار کچھ کرو ……. ؟؟ بدر نے مسکین سی شکل بنائی
کیا کروں …… ؟؟ نور نے مڑتے ہوئے پوچھا
کچھ بھی ایسا کرو کہ میں اندر آ سکوں. میں ساری رات یہاں نہیں گزارنا چاہتا. بدر نے دوستانہ لہجہ اپنایا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا
میں ایسا کرتی ہوں کہ چھوٹے دروازے کی کنڈی کھول دیتی ہوں اس پر تالا نہیں لگا ہوا. نور کی بات پر بدر کا دماغ گھوم گیا
تو پہلے کیوں نہیں کھولا ….؟؟ بدر حیرت سے چلایا
تم نے خود ہی کہا تھا کہ بڑا گیٹ کھولو اس پر تالا لگا تھا. نور نے معصومیت سے جواب دیتے چھوٹا گیٹ کھولا
نور کی بچی، اب تو میرے ہاتھ سے نہیں بچے گی. بدر نے اندر آتے ہی اس کا بازو پکڑا.
بدر میرا بازو چھوڑو نور نے دبا دبا سا احتجاج کیا
تم نے میرا آدھا گھنٹہ برباد کیا ہے. اب تمہیں اس کی سزا ملے گی. بدر نے ایک ہاتھ سے گیٹ بند کرتے کہا
میں چاچو کو بتا دوں گی کہ تم رات کو کتنی دیر سے گھر آئے تھے. لہذا میرا بازو چھوڑ دو اگر صبح جوتوں کا ناشتہ نہیں کرنا تو
نور نے دھمکی دی
صبح کی صبح “دیکھی” جائے گی فی الحال میں اپنا بدلہ تو لے لوں. بدر نے مزے سے جواب دیا
“دیگ” صبح کس چیز کی دیگ دینی ہے ……. ؟؟ نور نے حیرانی سے بدر کو دیکھا
یہ تم روسی ٹی وی کی طرح اچھا خاصا چلتے چلتے خراب کیوں ہو جاتی ہو. بدر نے نور کا بازو چھوڑتے ہوئے افسوس سے سر ہلایا پتہ تھا اب مسلسل الٹا بولے گی
روسی ٹی وی _ نور نے بھی اتنا ہی کہا تھا کہ بدر نے اس کے منہ پر انگلی رکھ دی شب بخیر، صبح ملتے ہیں اب تمہارے سگنل ڈراپ ہو رہے ہیں. بدر کہتا اندر کی طرف بڑھ گیا جب کہ نور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگی 🪶🪶🪶🪶🪶 دیکھو میری بات غور سے سنو یہ لوگ بہت اچھے اور شریف ہیں. انہیں اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں. میں گھر کا چکر لگاؤں پھر تمہیں لے کر اپنے ساتھ جاؤں گا. رازی نے ایک محل نما گھر کے باہر گاڑی روکتے ہوئے ہانی کو مخاطب کیا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں …..؟ ؟ میں آپ کے بغیر اندر نہیں جاؤں گی. میں آپ کے ساتھ آپ کے گھر جاؤں گی. ہانی نے ضدی انداز میں جواب دیا ایک تو میں تمہارے یہ آپ جناب سے تنگ آ گیا ہوں. تم مجھے پہلے کی طرح نہیں بلا سکتی ……. ؟؟ دوسرا میں فی الحال تمہیں اپنے گھر نہیں لے جا سکتا. اگر میں تمہیں وہاں لے گیا تو اچھا خاصا 100 قسطوں پر مشتمل ڈرامہ شروع ہو جائے گا. تم میری پھپھو سے ناواقف ہو. ڈرامہ بنانے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتی بس انہیں کوئی اچھا ڈائریکٹر نہیں ملا ورنہ سب سے بڑا ڈرامہ ہاؤس ان کا ہوتا. رازی طنزاً ہنسا مگر میں
ہانی نے رونی شکل بنائی.
اگر تم نے رونے کی ذرا سی بھی کوشش کی تو میں تمہیں ڈیرے پر واپس چھوڑ آؤں گا. رازی نے مسکراتے ہوئے ہانی کی طرف دیکھا جو رونے کی پوری تیاری میں تھی.
آپ مجھے یوں بات بات پر بلیک میل نہیں کر سکتے. ہانی نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ناراضگی سے کہا
پھر آپ رازی زور سے چلایا جس پر ہانی دروازے ساتھ جا لگی.
“تم” بولو جیسے پہلے بولتی تھی. رازی نے اس کی طرف جھکتے ہوئے قدر سختی سے اپنی بات دہرائی
پہلے کی بات اور تھی اب تو آپ
ہانی نے کہتے کہتے نظریں جھکا لی
پہلے اور اب میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جو میں پہلے تھا وہی اب ہوں. سمجھی رازی کے دل کو اس کے یوں مان دینے پر کچھ ہوا جبکہ ہانی کو رازی کا رویہ کچھ سمجھ نہ آیا. میں اس کے لیے موت کا فرشتہ ہوں اور یہ مجھے پتہ نہیں کیا سمجھ رہی ہ ے…… ؟؟ رازی نے سوچتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا چند لمحے یونہی خاموشی کی نظر ہوگئے. اچھا سوری ناراض مت ہوں. آپ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی. ہانی نے کمزور سی آواز میں معذرت کی. سوری کرنے کا نہیں بولا بس تم مجھے اتنی عزت نہ دو. میں اتنی عزت کے قابل نہیں ہوں. رازی نے بات ختم کی. کھڑوس یے اور کھڑوس ہی رہے گا. ہانی نے کن اکھیوں سےدیکھتے ہوئے سوچا چلو آؤ شاباش میں تمہیں اندر چھوڑ آؤں اور مجھ پہ بھروسہ رکھو. میری بات سمجھنے کی کوشش کرو. میں تمہیں فی الحال گھر نہیں لے جا سکتا. رازی کی بات پر ہانی نے خاموشی سے گردن جھکا لی اب اداس تو مت ہو، میں جلدی واپس آجاؤں گا. بس ایک رات کی تو بات ہے. رازی کو یوں ہانی کا اداس ہونا برا لگا. چلو اترو نیچے رازی نے اپنی طرف کا دروازہ کھولتے ہانی کو اشارہ کیا
وقار صاحب گھر پر ہیں انہیں بتائیں کہ رازی آیا ہے. رازی نے گیٹ پر موجود گارڈ سے کہا
رازی صاحب کیسے ہیں آپ، بڑے عرصے بعد چکر لگایا ہے. صاحب صبح سے کتنی بار آپ کا پوچھ چکے ہیں. آپ اندر جا سکتے ہیں. اس سے پہلے کہ گارڈ کوئی جواب دیتا عقب سے آتے شاہ بابا نے محبت سے رازی کی طرف دیکھ کر کہا
یہ شاہ بابا ہیں. اس گھر کے بہت پرانے ملازم اور شاہ بابا یہ چھوٹی بی بی کی مہمان ہے. رازی نے دونوں کا تعارف کرایا. ہانی کو سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا. وہ کبھی ایسے کسی کے گھر نہیں گئی تھی. اس کی تو ساری زندگی ایک کوٹھری میں گزری تھی. ہانی نے ڈر کے رازی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی
ہانی سامنے آؤ، بلکہ میرے برابر چلو. رازی نے قدر آہستہ آواز میں ہانی کو مخاطب کیا.
مجھے یہاں نہیں رہنا. ہانی نے ایک بار پھر کہنا شروع کیا.
تم چپ چاپ میرے ساتھ اندر چلو باقی باتیں بعد میں کرتے ہیں. رازی نے کہتے ہوئے لاؤنچ کا دروازہ پار کیا
🪶🪶🪶🪶🪶
امی بس کر دیں بھائی کراچی میں روزے نہیں رکھتے. وہاں بھی ہر قسم کا کھانا ملتا ہے. گڑیا نے بانو بیگم کو کچن میں مصروف دیکھ کر شرارت کی
میرا بیٹا اتنے دنوں بعد آ رہا ہے. ماں کے ہاتھ کا کھانا کہاں ملتا ہے. اور تو کیوں اتنا شور مچا رہی ہے تجھے تو میں نے کھانا بنانے کا نہیں بولا ……. ؟؟ بانو بیگم نے جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے محبت بھری اواز میں جواب دیا
ویسے امی آپ بھی کمال کرتی ہیں. کل تک تو آپ بھائی پر بہت غصہ کر رہی تھیں مگر آج ان کے آنے کا سن کے کیسے سب کچھ بھول گئی ہے …… ؟؟
میں تو سمجھتی تھی کہ اس دفعہ جذباتی سین دیکھنے کی جگہ مار دھاڑ والے مناظر دیکھنے کو ملیں گے مگر آپ نے سب خراب کر دیا. گڑیا نے بانو بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تبھی اسے سیڑھیوں سے اترتی رمشا دکھائی دی.
لو جی دولہا آیا نہیں اور باراتی پہلے پہنچ گئے ہے. گڑیا نے رمشا کو آتا دیکھ کر ماں سے کہا
ممانی جان کیا بنا رہی ہے قسم سے ہر طرف خوشبو پھیلی ہوئی ہے. رمشا نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
ان کا لاڈلہ آرہا ہے. ورنہ ہمارے لیے تو مونگ مسور کی دال یا توریاں ہی رہ جاتی ہیں. گڑیا نے مسکین سی شکل بنائی.
اچھا رازی آرہا ہے. رمشا کے چہرے پر دھنک رنگ بکھر گئے جو بانو بیگم کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہ سکے
رمشا بیٹے آپ جاؤ اگر شہناز کو پتہ چلا تو وہ بہت شور مچائے گی. بانو بیگم نے رمشا کی طرف دیکھتے ہوئے محبت سے کہا
رہنے دیں ممانی جان، امی کی تو عادت ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر شور مچانے کی. آپ یہ بتائیں کہ میں اپ کی کیا مدد کروں …..؟ ؟ رمشا نے خوشی سے کچن میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا
ویسے رمشا آپی آپ سچ مچ امی کی مدد کرنا چاہتی ہیں یا گڑیا نے جان بوجھ کر اپنا جملہ ادھورا چھوڑا
گڑیا ویسے بہت بری بات ہے کیا میں نے اگے کبھی ممانی جان کے ساتھ کام نہیں کرایا جو تم یوں کہہ رہی ہو …..؟ رمشا کو تھوڑا برا لگا
نہیں میرا مطلب تھا کہ بھائی کو آنے میں ابھی کچھ وقت ہے. وہ کہہ رہے تھے کہ دو تین بے تک آؤں گا تو میں نے سوچا آپ کو بتا دوں. آپ ذرا تیار شیار ہو جائیں. آخر دل کا معاملہ ہے. گڑیا نے آخری جملہ بہت ہی آہستہ ادا کیا.
رمشا جاؤ بیٹے میں خود کر لوں گی تم کیوں اتنی گرمی میں خود کو ہلکان کر رہی ہو. مانو بیگم نے پیار سے رمشا کے سر پر ہاتھ پھیرتے اسے کام کرنے سے منع کیا.
اچھا پھر آپ مجھے کوئی اور کام بتائیں ……؟ ؟ رمشا نے بانو بیگم کا ہات تھامتے ہوئے پوچھا
اچھا پھر ایسا کرو کہ تم گڑیا ساتھ جا کر رازی کا کمرہ صاف کر دو. وہ آئے گا تو بہت شور مچائے گا. بانو بیگم کی بات پر رمشا کھل اٹھی.
گڑیا تم رہنے دو میں خود ہی صاف کر لوں گی. رمشا کہتی اوپر کی طرف چل دی.
اماں آپ مانیں یا نہ مانیں مگر رمشا آپی اپنی طرف سے آپ کی کنفرم بہو ہیں. گڑیا نے اوپر جاتی رمشا کی طرف دیکھ کر تبصرہ کیا
گڑیا بغیر سوچے سمجھے کچھ نہیں بولتے. بانو بیگم نے قورمے میں چمچہ چلاتے اسے خاموش رہنے کا کہا
اماں کیا ہے آپ ہر وقت مجھے خاموش کراتی رہتی ہیں. گڑیا منہ بناتے جانی لگی
رازی آتا ہے تو اس دفعہ اس سے پوچھ کر بات پکی کروں گی. مجھے تو رمشا پسند ہے گھر کی بچی ہے. کیا برائی ہے اس میں …… ؟؟
ایک دفعہ رشتہ طے ہو جائے پھر خود ہی ٹھیک ہو جائے گا. بھلا بیوی کسے بری لگتی ہے …… ؟؟ میرے لیے نہ
سہی اپنی بیوی کے لیے ہی چکر تو جلدی لگایا کرے گا نااااا اسی بہانے میں بھی اس کی شکل دیکھ لیا کروں گی. بانو بیگم نے سلاد بناتے ہوئے کہا
امی اب آپ زیادتی کر رہی ہیں. بھائی آپ کے اتنے فرمانبردار تو ہیں. اب کیا گھر بیٹھ جائیں. کام نہ کریں. گڑیا نے فوراً سائیڈ لی.
چل جا کر رمشا کی مدد کر، زیادہ بھائی کی چمچی بننے کی ضرورت نہیں ہے. بانو بیگم نے مصنوعی غصے سے ڈانٹا
میں اپنے بھائی کی چمچی نہیں “مکھی” ہوں. گڑیا کہتی ہوئی کمرے میں چلی گئی جب کہ بانو بیگم مسکراتی اپنے کام میں مصروف ہو گئی
🪶🪶🪶🪶🪶
وقار تم لوگ پلیز ہانی کا خیال رکھنا. میں کل تک اسے لے جاؤں گا. بس ایک ضروری کام آن پڑا ہے. ورنہ تم لوگوں کو زحمت نہ دیتا. یہ گاؤں سے پہلی بار شہر آئی ہے تو کچھ کنفیوز بھی ہے. وقار نے ہانی کو سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے سر ہلایا. اسے وہ سادہ سی لڑکی بڑی دلچسپ لگی جب کہ وقار کا یوں دیکھنا ہانی کو بہت برا لگا
صبا کہاں ہے نظر نہیں آرہی …..؟ ؟ رازی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا
ابھی یونی سے آئی ہے. میں نے اسے تمہارے آنے کا بتایا تھا. آتی ہی ہو گی. وقار کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ ایک ماڈرن سی لڑکی بغیر دوپٹے کے جینز کی پینٹ پر وائٹ شرٹ پہنے اندر داخل ہوئی
رازء تم کتنے دنوں بعد آئے ہو. آج تو تم نے سرپرائز ہی دے دیا پتہ ہم لوگ تمہیں کتنا مس کر رہے تھے. انتہائی بے تکلفانہ انداز میں صبا نے رازی سے ہاتھ ملایا تو ہانی کو یہ سب کچھ بہت برا لگا جب کہ رازی اس سے بہت خوشی سے ملا
صبا یہ میری کزن ہے “ہانی” جس کے بارے میں، میں نے تمہیں بتایا تھا تم نے اس کا بہت خیال رکھنا ہے. رازی نے ہانی کی طرف مڑتے ہوئے صبا سے تعارف کروایا
تمہاری کزن تو نہیں لگتی. صبا نے ہانی کا جائزہ لیا جس پر ہانی مزید اپنے آپ میں سمٹ گئی
یار پہلی بار شہر آئی ہے اور چھوٹی بھی ہے اس لیے کچھ پریشان ہو رہی ہے. خیر اب میں چلتا ہوں. اب تم جانو اور یہ
رازی کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ہانی بھی اس کے اٹھتے ہی فوراً کھڑی ہو گئی
مجھے “آپ” سے میرا مطلب ہے “تم” سے کچھ کہنا ہے. ہانی نے انتہائی پریشانی سے رازی کی طرف دیکھا
اب کیا ہے …… ؟؟ رازی کا اس کے یوں روکنے پر موڈ بگڑا
میں نے یہاں نہیں رہنا. مجھے یہ لوگ اچھے نہیں لگ رہے. ہانی نے آنسو بھری انکھوں سے رازء کی طرف دیکھا
یہ دونوں ہی میرے دوست ہیں اور آپس میں اچھے والے میاں بیوی بھی، لہذا بے فکر رہو.یہ مجھے اچھے سے جانتے ہیں. تمہارے ساتھ کچھ بھی برا نہیں کریں گے. یہ تمہیں چھو بھی نہیں سکتے. رازی نے پہلے طنزاً پھر نارمل انداز میں جواب دیا
پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل گھبرا رہا ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے. ہانی نے انگلیاں مڑوڑتے ہے ہوئے کہا
تمہارا موبائل کہاں ہے …..؟ ؟ رازی کے پوچھنے پر ہانی نے اپنے کندھے سے لٹکے بیگ کی طرف اشارہ کیا
تمہارے پاس میرا نمبر ہے نا اگر تمہیں لگے کہ کچھ گڑبڑ ہے تو مجھے فوراً فون کر دینا میں آجاؤں گا. ٹھیک ہے. رازی نے تسلی دیتے ہوئے پوچھا مگر ہانی کا دل کسی طور بھی مطمئن نہیں ہو رہا تھا. وہ محض رازی کی ناراضگی کی وجہ سے سر جھکا کر خاموش ہو گئی اور ایسا وہ صرف تب کرتی تھی جب اسے کوئی بات سخت بری لگتی
دیکھو ہانی رازی کچھ کہنے لگا تھا مگر پیچھے سے آتی صبا کو دیکھ کر خاموش ہو گیا تم بے فکر ہو کر جاؤ میں خود ہی ہانی سے دوستی کر لوں گی. ہم خوب مزے کریں گے. صبا نے پیار سے ہانی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو رازی ہنس دیا جب کہ ہانی مکمل خاموش تھی. “اسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہاں تک چھوڑ آیا ہوں” رازی نے ابھی لاؤنج کراس نہیں کیا تھا کہ اس کا موبائل-فون بجنے لگا. کال اٹینڈ کرتے ایک دفعہ بے خیالی میں پلٹ کر دیکھا تو ہانی ابھی تک بت بنی اسے ہی دیکھ رہی تھی. اس کی آنکھوں میں کچھ عجب تھا جسے رازی نے واضح محسوس کیا. جی بابا حکم کریں
رازی نے مصروف سے انداز میں کال اٹینڈ کی.
کہاں تک پہنچے ہو اور میرے کام کا کیا بنا …..؟؟ ناجو بابا کی رعب دار آواز سپیکر سے ابھری.
بابا ابھی تو پنڈی پہنچا ہوں. امی کی کال آ رہی ہے کہ گھر کا چکر لگاؤ. امی سے مل لوں پھر آپ کو بتاتا ہوں. آپ بے فکر رہیں کام ہو جائے گا. رازی نے گاڑی میں بیٹھتے ریورس گئیر لگایا. بیک مرر میں اب بھی ہانی نظر آ رہی تھی.
مجھے اپنا کام جلدی اور مکمل چاہیے اسی لیے تمہیں سونپا ہے. ناجو بابا نے کہتے کال کاٹ دی جب کہ رازی سوچ میں پڑ گیا.
🪶🪶🪶🪶🪶
جاری ہے.