Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Last Episode)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Last Episode)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
انصاف ہو یا انتقام ۔۔
دونوں ہی کے حصول کے لئے کچھ نا کچھ کھونا تو پڑتا ہی ہے ۔۔
اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کچھ پانے کے لئے کچھ بہت قیمتی کھونا بھی پڑتا ہے ۔۔
اس کے ساتھ تو ہمیشہ ایسا ہی ہوا تھا ۔
والدین کھوکر اس نے نائل کو پایا تھا ۔۔
اور اب نائل کو کھو کر وہ اپنا بیٹا پارہی تھی ۔۔
بادل اب برس رہے تھے ۔۔ تیزی سے گرتی بوندیں اسکے وجود کو بھگو رہی تھیں ۔۔ تیز ہوا درختوں کے پتے ہلاتے عجیب آوازیں کانوں تک پہنچا رہے تھے ۔۔ مگر وہ ان آوازوں کو نہیں سن رہی تھی ۔۔ وہ تو کسی اور ہی جہان میں گم تھی ۔۔
” جانتی ہوں ۔۔ تم اب تک سائن کر چکے ہوگے ” وہ دھیمی آواز میں کہتی چہرہ آسمان کی جانب کر گئ ۔۔
” جانتی ہوں کہ گھر پہنچونگی تو وہ پیپرز مجھ سے پہلے وہاں موجود ہونگے ۔۔ ” اس نے اب اپنے ہاتھ پھیلائے ۔۔ بارش کی بوندیں جتنی تیزی سے اسکے چہرے پر برس رہی تھیں ۔۔ اسے اپنا چہرہ سن ہوتا محسوس ہوا ۔۔
” جانتی ہوں کہ گھر پہنچونگی تو میں ” امل نائل شاہ ” سے “امل شاہ” بن جاؤگی ” سردی کی شدت بڑھ رہی تھی ۔۔ اسکا پورا وجود اس سردی سے بے نیاز بھیگ رہا تھا ۔۔ ہوا کی دوش میں دوپٹہ اڑ رہا تھا ۔۔ اور وہ ۔۔
وہ نائل شاہ سے ہم کلام تھی ۔۔
” جانتی ہوں کہ تم مجھ سے بدگمان ہوچکے ہو ماسٹر ۔۔
جانتی ہوں کہ اب محبت کا وہ درخت جو آٹھ سال پہلے تمہارے دل میں اپنی جڑیں پھیلا چکا تھا ۔۔ وہ اس طوفان سے کمزور پڑنے لگا ہے ۔۔
تم کمزور پڑنے لگےہوں ” اس نے دونوں ہاتھ اپنے گرد باندھتے چہرہ سیدھا کیا ۔۔ آنکھیں کھولیں جو لال سرخ تھیں ۔۔
” پر مضبوط میں بھی نہیں رہی ۔۔ میں ٹوٹ گئ ۔ میں بکھر گئ ۔ میں کمزور ہوگئ ۔۔
میری اس کمزوری پر ۔۔ مجھے معا ف کردو نائل شاہ ۔۔ ” وہ رکی ۔۔ ایک گہری سانس لی اور پھر مسکرائ ۔
” اور میں جانتی ہوں کہ تم مجھے کبھی معا ف نہیں کروگے نائل شاہ ۔۔ کیونکہ اس دنیا میں بس میں ہی تمہیں جانتی ہوں ” اس سوچ کے ساتھ ہی اسکی مسکراہٹ گہری ہوئ ۔۔
وہ ایک بار پھر بھیگنے میں مصروف ہوگئ ۔۔ وقت کی پرواہ کئے بغیر ۔۔
٭٭٭٭
” میری بیوی کہاں ہے ؟ ” اسکی کال اٹھاتے ہی دانش نے پوچھا۔
” اتنی بے چینی ۔۔ لگتا ہے بہت مِس کر رہے ہو اسے ؟ ” فرہاد کی چہکتی آواز اسکے کانوں تک پہنچی ۔۔ اسے غصہ آیا پر وہ جانتا کہ اگر اس نے کوئ غلطی کی تو فرہاد کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔
” وہ معصوم ہے فرہاد ۔۔ اسے چھوڑ دو ” اس نے التجا کی ۔۔
” میری بہن بھی معصوم تھی ۔۔ کیا تم نے اسے چھوڑا ؟ ” اسکا انداز فوراً ہی بدلا ۔۔
اور دانش کانپ کر رہ گیا ۔۔ وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا ۔۔ وہ اپنی بہن کا انتقام اسکی بیوی سے لینے والا تھا ۔۔
” تمہیں سنسیرٹی چاہئے نا ؟ میں تمہیں وہ دینے کو تیار ہوں۔۔ بس اسے کچھ مت کرنا ” گہری سانس لیتے اس نے کہا ۔ جبکہ دوسری جانب فرہاد مسکرایا ۔۔
” اچھا ۔۔ تو کیسے دوگے تم مجھےاپنی سنسیرٹی ؟ “
” تمہیں آحل چاہئے نا ؟ میں تمہیں اسکا ایڈریس دونگا ۔۔ تم میری بیوی کو چھوڑ دو ” اسکی بات پر فرہاد کےہونٹ مسکرائے ۔۔
” تم سے کس نے کہا کہ مجھے آحل چاہئے ؟ ” اور اس جواب پر وہ چونکا ۔۔
” کیا مطلب ؟ “
” کم آن دانش ۔۔ تم تو ایسے پریٹنٹ کر رہے ہو جیسے تم مجھے جانتے نہیں ہو ؟ آحل کون ہے ؟ امل اور ماسٹر کا بیٹا ۔۔
اور وہ دونوں کون ہیں ؟ جنہوں نے مجھے جیل بھیجا اور جن کی وجہ سے میری بہن کا قتل ہوا ۔۔ تمہیں سچ میں لگتا ہے کہ میں ان دونوں کے بیٹے کو بچاؤنگا ؟ “
اور فرہاد کے الفاظ دانش کو حیران کر گئے تھے ۔۔
” تو ۔۔ کیا چاہتے ہو تم ؟ “
” یہ کیا نا تم نے کام کا سوال ” فرہاد ایک بار پھر چہکا۔۔
” میں چاہتا ہوں کہ تم خود کو میرے حوالے کردو ۔۔ بولو ۔۔ تیا ر ہو اس کے لئے ؟ ” ایک سوال ہوا ۔۔ فرہاد کی جانب سے ۔۔
اور وہ کچھ پل کے لئے خاموش ہوگیا ۔۔
جانتا تھا کہ فرہاد اس سے اپنا انتقام لے کر رہے گا ۔۔
تو یہ برا بھی تو نہیں ہے نا ؟ کم از کم اسکی بیوی تو محفوظ رہے گی ۔
اپنی زندگی کی پرواہ کب ہے اسے ؟
” تیار ہوں “
اور اسی کے ساتھ ایک فاتحانہ مسکراہٹ فرہاد کے ہونٹوں پر پھیلی ۔۔
” ایڈریس بھیج رہا ہوں ۔۔ وہاں پہنچ جاؤ ” اسی کے ساتھ فرہاد نے کا ل کٹ کی ۔۔
اور پلٹ کر اپنے لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ایک شخص کی جانب دیکھا ۔۔
” ڈن ؟ ” اس نے سنجیدگی سے پوچھا جس پر اس شخص نے نظر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا ۔۔
” ڈن ” اور اسی کے ساتھ ۔۔ دونوں کے ہونٹ ایک بار پھر مسکرائے ۔۔
٭٭٭٭٭
وہ بھیگی حالت میں فلیٹ پہنچی تو اس وقت رات کے اندھیرے چاروں اور پھیل چکے تھے ۔۔
اس نے اپنے بیگ سے چابی نکالی ۔۔دروازہ کھول اور اندر داخل ہوئ ۔۔
نظر زمین پرگئ جہاں ایک لفافہ تھا ۔۔
وہی جو وہ آج دوپہر کو ہی اسے دے کر آئ تھی ۔۔
” تو ۔۔ تمہیں بھی جلدی تھی مجھ سے جان چھڑوانے کی ماسٹر ” زمین پر جھکتے اس نے سوچا ۔۔
کانپتے ہاتھوں سے اس نے وہ لفافہ اٹھایا ۔۔ آنکھیں ایک بار پھر دھندھلائیں تھیں ۔۔
” کتی ہمت پیدا کی میں نے اپنے اندر اس وقت کے لئے ۔۔ پھر یہ ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں میرے ” اپنے کاپنتے ہاتھوں کو دیکھتے اس نے کہا ۔۔
اور اگلے ہی لمحے اسکا موبائل بجا ۔۔
اس نے لفافہ ڈائنگ ٹیبل پر رکھا اور اپنےبیگ سے موبائل نکالا ۔۔
اسی کا مسیج تھا ۔۔
” میری خواہش ہے کہ تم یہ لفافہ میرے سامنے کھولو ۔۔ تمہارے چہرے اور آنکھوں میں اذیت دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔۔ ” نیچے ایک ایڈریس اور ٹائم لکھا تھا ۔۔
” میرا بیٹا ؟ ” اس نے ریپلائ کیا ۔۔ جانتی تھی کہ اس بار نمبر فوراً بند نہیں ہوگا ۔۔
اس کا کام ہوچکا تھا ۔۔ اب نمبر بند کرنے کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔
” تمہاری واپسی پر وہ اس فلیٹ میں ہوگا ۔۔ “
اس نے گہری سانس لے کر موبائل میز پر رکھا ۔۔ نظر دوبارہ اس لفافے پر گئ جس کے اندر انکے رشتے کا اختتام تھا۔
” شاید ہمارا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا ۔۔
شاید یہ ایسے ہی ہونا تھا ” خودکلامی کرتی وہ اندر کی جانب بڑھی ۔۔
یہ رات بہت لمبی ہونے والی تھی ۔۔
کل کی صبح سب ختم کر دینے والی تھی ۔۔
٭٭٭٭
وہ اپنے ٹیرس پر کھڑا بارش میں جانے کب سے بھیگ رہا تھا ۔۔
اس نے غصے میں سائن کر کے وہ لفافہ مصطفی کے فلیٹ پہنچا دیا تھا ۔۔
اور اب جب ڈھنڈی ہوا اور اس بارش نے غصہ کچھ کم کیا ۔۔ تو وہ پچھتا رہا تھا ۔۔
” تھوڑا وقت رک جاتے نائل ۔۔ آحل کے اتنے قریب ہو تم تو تھوڑا رک جاتے ۔۔ کیوں کیا تم نے ایسا ” اپنے گھیلے بالوں میں ہاتھ پھیرے وہ خود سے ہم کلام ہوا ۔۔
” وہ رکی کیا ؟ ” اندر سے ایک آواز آئ ۔۔
” نہیں ۔۔ اس نے اس رشتے کو ختم کرنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچا تو میں کیوں سوچتا ؟ ” ایک بار پھر غصہ حاوی ہوا ۔ وہ اب تیزی سے اندر کی جانب بڑھا ۔۔
جانتا تھا کہ آج کی رات نیند نہیں آئے گی ۔۔
جانتا تھا کہ اگلی صبح پہلی جیسی نہیں ہوگی ۔۔
پھر بھی ۔۔ گزارنی تو ہے نا یہ رات ؟
دیکھنی تو ہے یہ صبح ۔۔
٭٭٭٭٭
یہ ایک خالی سڑک کا منظر ہے جہاں چاروں اور کوئ گاڑی اور کوئ انسان نہیں ہے ۔۔ ایسے میں ایک گاڑی یہاں آکر رکتی ہے ۔۔ بلیک مررز کی وجہ سے اندرموجود شخصیت کو دیکھا نہیں جاسکتا او ر نا ہی کوئ باہر نکلتا ہے۔ لیکن اسے ابھی یہاں آئے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ ایک اور گاڑی دوسری جانب سے اس گاڑی کے سامنے کچھ فاصلے پر آکر رکتی ہے ۔۔
اب اس دوسری گاڑی سے امل باہر نکلتی نظر آتی ہے ۔۔ کھلے کمر تک آتے بال ، واٹیٹ شرٹ اور بلو ٹراؤزر کے ساتھ بلو دوپٹہ دائیں کاندھے پر ڈالے ۔۔ میک ۔اپ سے بے نیاز چہرہ ، سرخ آنکھیں لئے وہ ایک لفافہ ہاتھ میں پکڑے آگے بڑھی اور گاڑی کے بلکل سامنے آکھڑی ہوئ ۔۔
اب اگلے ہی لمحے اس گاڑی کا فرنٹ ڈور کھلتا ہے اور اس ہائی ہیل پہنا پاؤں باہر نکلتا ہے ۔۔
جینس پر بلیک ٹی۔شرٹ اور اوپر کوٹ پہنے ، سر پر کیپ اور آنکھوں میں کالے گلاسس لگائے وہ باہر نکلی ۔۔
اور امل اسے پہلی ہی نظر میں پہچان گئ تھی ۔۔
” تو یہ تم ہو ؟ ” بے تاثر ہوکر اس نے کہا ۔ جس پر سامنے کھڑی شخصیت مسکرائ ۔۔
آنکھوں سے گلاسس ہٹائے ۔۔
سر سے کیپ اتاری جس کے اترتے ہی شولٹر کٹ بال بکھرے ۔۔
ہاں ۔۔ ” اس نے کیپ گاڑی کے اندر پھینکی اور دروازہ بند کر تی اسکے سامنے آکھڑی ہوئ ۔۔
” یہ میں ہوں ۔۔ تمہاری بربادی ” کہتے ساتھ وہ مسکرائ ۔۔ اور اسکی یہ مسکراہٹ امل کو اس وقت بہت بری لگی ۔۔
” کیوں کیا تم نے یہ زویا ؟ ” اس نے ایک سوال کیا ۔۔ جس پر زویا کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔
” سچ میں امل ؟ تم اتنی بے وقوف ہو کہ اب تک سمجھ نہیں پائ کہ میں نے یہ کیوں کیا ؟ ” اس کی جانب ایک قدم بڑھایا ۔۔
” لیکن میں پھر بھی بتا دیتی ہوں تمہیں ” اچانک ہی وہ سنجیدہ ہوئ ۔۔
” میں نے یہ سب اسے حاصل کرنے کے لئے کیا ۔۔ وہ میرا تھا لیکن تم نے اسے مجھ سے چھین لیا تھا ۔۔ اور اب وہ مجھے واپس چاہئے ” اسکی آنکھوں میں دیکھتے اس نے کہا ۔۔ جس پر امل کو حیرت ہوئ ۔
” صرف اس لئے ؟ صرف اس لئے تم نے مایا کی جان لے لی ؟ صرف اس لئے تم نے شہزاد شاہ کو غائب کروا دیا اور صرف اس لئے تم نے ایک معصوم بچے کو اغواہ کیا ؟ ” وہ حیران تھی کہ کوئ ایسا کیسے کر سکتا ہے ۔۔ لیکن وہ حیران کیوں تھی ؟ یہ خاندان تو ہمیشہ سے ایسا ہی کرتا آیا تھا ۔
” ہاں ۔۔ اس لئے کیا میں نے یہ سب ۔۔ اپنی زندگی ، اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لئے کیا میں نے یہ سب ۔۔
اور میں نے مایا کو مارا نہیں ہے ۔
میں تو بس اسے قربان کیا ۔۔
اسکی قربانی تم سب کو الگ کرنے کے لئے ضرور ی تھی ” کہتے ساتھ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئ ۔
” اور جہاں تک بات تایا کی ہے تو ۔۔ ” وہ کہہ کر پلٹی اور گاڑی کے فرنٹ سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوئ ۔
” ان میں مجھے کوئ انٹرسٹ نہیں تھا ۔۔ وہ توبابا انہیں نکالنا چاہتے تھےتو میں نے انکا ساتھ دیا ” ہاتھ باندھتے اس نے کہا ۔۔
” لیکن ان سب میں آحل میرے لئے ایک جیک پاٹ ثابت ہوا ۔۔ جانتی تھی میں کہ تم اپنے بیٹے کو بچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہو ۔۔ اور دیکھو ۔ ” دایاں ہاتھ بڑھا کر اس نے امل کے ہاتھ میں پکڑے لفافے کی جانب اشارہ کیا ۔۔
” دیکھو آج اسکی خاطر تم یہ ڈائیوورس پیپر ہاتھ میں لئے کھڑی ہو ۔۔” مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتے وہ کہہ رہی تھی ۔ جبکہ امل کی آنکھیں نم ہوئیں ۔۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی ۔ کم از کم اس لڑکی کے سامنے نہیں ۔۔ اس نے خود کو قابو لیا ۔
” تمہیں کیالگتا ہے زویا ؟ ہمیں الگ کر کے تم اسے حاصل کرلوگی ؟ تمہیں لگتا ہے کہ تم سے ” اس نے زویا کو سر سے پیر تک دیکھا ۔۔
” تم جیسی لڑکی سے شادی کرے گا وہ ؟ ” اب کی بار اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ ۔۔
جانتی تھی کہ ماسٹر ایسا کبھی نہیں کرے گا ۔۔
” وہ مجھ سے شادی نا بھی کرے تو وہ تمہارا شوہر نہیں رہے گا ۔۔ میرے یہ کسی انعام سے کم نہیں ” جواب دیتی وہ ایک بار پھر اسکی جان بڑھی ۔
” وقت آگیا ہے امل شاہ ۔۔ اس لفافے کو کھولو ” اس سے کچھ دور رک کر اس نے کہا ۔ اور امل کو لگا جیسے وقت رک گیا ہو ۔۔
اسکے ہاتھ ایک بار پھر کانپنے لگے ۔۔
اور اسکا یہ حال زویا کی مسکراہٹ گہری کر گیا ۔۔
” کم آن امل ۔۔ آحل نہیں چاہئے کیا ؟ “
اس نے کہا ۔۔ اور اس انداز کے پیچھے چھپی اسکی دھمکی کو وہ سمجھ گئ تھی ۔۔
اس نے اب اپنے ہاتھ میں موجود لفافے کی جانب دیکھا ۔۔
اب لفافہ کھولنے لگی تھی ۔۔
اور زویا کے وجود کی بے چینی بڑھنے لگی ۔۔
اچانک ہی اسکا ہاتھ رکا ۔۔
” تم نے آج صبح کی نیوز دیکھی زویا ؟ ” ایک بہت ہی بے تکا سوال امل کی جانب سے ہوا ۔
” یہ کیسا سوال ہے ؟ ” الجھ کر پوچھا ۔۔ جبکہ امل نے اب اسکی جانب دیکھا ۔۔
” سمپل سوال ہے ۔۔ تم نے نیوز دیکھی ؟ “
” نہیں ۔۔ اب لفافہ کھولو امل ” غصے سےجواب دیا جس پر امل کے ہونٹوں پر بہت ہلکی مسکراہٹ دوڑی ۔
” اتنی جلدی بھی کیا ہے ؟ پہلے نیوز دیکھ لیتے ہیں ” کہتے ساتھ ہی امل نے اپنے بیگ سے موبائل نکالا اور لائیو نیوز لگا کر والیئم فل کیا ۔
” آپکو تازہ ترین خبر سے آگاہ کرنے چلیں کہ کچھ ماہ پہلے شہزاد شاہ کو ہسپتال سے اغواہ کرنے والے ملزم نے پولیس سٹیشن آکر سیلنڈر کیا ہے ۔۔ ملزم نے اپنا نام دانش بتایا ہے ۔۔ اس نے بتایا کہ کرائم اسوسٹیگیٹر آفیسر نائل شاہ کے رائیٹ ہینڈ مصطفی کی وائف مایا کے قتل میں بھی اسکا ہاتھ تھا ۔۔ ملزم نے یہ سب سابقہ سیاستدان جمشید شاہ اور انکی بیٹی زویا کے کہتے پر کیا ۔۔ ایک بار پھر آپکو آگاہ کرتے چلیں کہ کچھ ماہ پہلے ہونے والے قتل ۔۔۔ ” نیوز اینکر اب اپنی خبر بار بار دہرارہا تھا جبکہ سکرین پر دانش کو ارسٹ کرکے جیل لے جانے کی فوٹیج چل رہی تھی ۔۔
جبکہ زویا کے سر پر جیسے بجلیاں گری تھیں ۔
” یہ ۔۔ ” وہ ایک قدم پیچھے ہوئ ۔۔
“یہ سب کیا ہے ؟ ” ایک ایک قدم پیچھے ہوتے اس نے کہا وہ شاکڈ تھی ۔۔ جبکہ امل کی مسکراہٹ اب مزید گہری ہوئ ۔ ۔
” تمہارا انعام ۔۔ ” آواز امل کی گاڑی کے پیچھے سے آئ ۔۔
زویا نے دیکھا فرہاد چلتا ہوا اسکے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔
” پسند آیا میڈم جی ؟ ” پرانے انداز میں کہتے فرہاد کے ہونٹ مسکرائے ۔۔
” یہ سب تم نے کیا ہے ؟ ” وہ حیران ہوئ ۔
” یس ۔۔ اچھا کیا ہے نا ؟”ایک آنکھ دباتے ہوئ اس نے کہا ۔۔جبکہ زویا کو اب غصہ آیا ۔
” میں نے تمہیں یہاں اکیلے بلایا تھا ۔۔ لیکن تم نے چالاکی کی ۔۔ مت بھولو کہ تمہارا بیٹا اب بھی میرے پاس ہے امل ۔۔ میں اسے مار دونگی ” وہ اب امل پر چیخی ۔۔
” کیا تم اس بیٹے کی بات کر رہی ہو ؟ ” ایک آواز اسے اپنے پچھے سے سنائ دی ۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔
سامنے مصطفی کھڑا تھا ۔۔
آحل اک ہاتھ پکڑے ۔۔
اور جہاں زویا کو اپنے پیرو ں تلے زمین کھچتی محسوس ہوئ ۔۔
وہیں امل بھاگتی ہوئ آحل کے پاس گئ اور اسے گلے لگایا ۔۔
” تم ٹھیک ہو ؟ ” دونوں ہتھیلیوں سے اسکا چہرہ پکڑے اس نے پوچھا ۔۔
” جی ماما ” اور اس کے منہ سے اپنے لئے ماما سن پر بے اختیار روپڑی تھی ۔۔ کتنا ترسی تھی وہ یہ لفظ سننے کے لئے ۔۔
” یہ یہاں کیسے آیا ؟ ” زویا اب بھی حیران تھی۔
” او کم آن زویا ۔۔ ” امل اب خود کو نارمل کر تی کھڑی ہوئ اور زویا کی جانب پلٹی ۔
” تم سچ میں اتنی بے وقوف ہو کہ سمجھ نہیں پارہی کہ یہ یہاں کیسےا ٓیا ۔۔ ” وہ اب چلتی ہوئ اسکے سامنے آکھڑی ہوئ ۔۔ زویا کا دھنگ چہرہ اسکے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری کرگیا تھا ۔۔
” چلو میں بتا دیتی ہوں ۔۔ “
” جب دانش ہمارے پاس آگیا ہے تو آحل کیسے نہیں آتا ؟ نیوز غور سے نہیں سنی کیا تم نے ؟ ” اور اسی کے ساتھ اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئ ۔۔
” تمہیں کیا لگتا ہے تم جیت گئ ؟ ” خود کو سنبھالتے ہوئے وہ مسکرائ ۔۔
” نہیں امل ۔۔ تم اب بھی ہاری ہوئ ہی ہو “
” اچھا ؟ وہ کیسے ؟ ” ہاتھ باندھتے امل نے پوچھا ۔۔
” مجھے تمہارے بیٹے اور اس دانش سے کوئ سروکار نہیں ہے ۔۔ میرا مقصد صرف تمہیں اور نائل کو الگ کرنا تھا ۔۔ اور وہ میں کر چکی ہوں ۔۔ دیکھو اپنے ہاتھ میں ڈائیوورس پیپر ۔۔ ” کہتے ساتھ ہی وہ ہنسی ۔۔
” دیکھ امل ۔۔ماسٹر نے ا ن پر سائن کر کے تمہیں آزاد کردیا ہے ۔۔ اب تم رہ سکتی ہو اپنے بیٹے اور مصطفی کے ساتھ ” ایک بار پھر وہ مکمل کانفیڈنس سے اسکے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔
” میں اسکی اجازت نہیں دونگا ” اور ایک آواز نے اسکی مسکراہٹ اگلے ہی پل غائب کی تھی ۔۔
وہ اس آواز کو لاکھوں میں پہچان سکتی تھی ۔۔ اس نے دائیں جانب دیکھا ۔۔
وائیٹ شرٹ اور جینس پہنے ، لمبے گردن تک آتے با ل، ہلکی داڑھی ، گہری آنکھیں اور دائیں گال میں ڈمپل ۔۔ وہ آج بھی ویسا ہی تھا ۔ وہی شاہانہ چال چلتے وہ اسکی جانب آیا ۔۔
نہیں ۔۔ وہ امل کی جانب آیا اور اسکے پاس جاکھڑا ہوا ۔
” تم نے اب تک لفافہ نہیں کھولا ڈارلنگ ؟ ” اسکا ہاتھ تھامتے ماسٹر نے کہا ۔
اور لفظ ڈارلنگ پر جہاں زویا کو دھچکا لگا ۔۔
وہیں فرہاد اور مصطفی کے ہونٹ مسکرائے ۔۔
جبکہ انکی جانب آتے عنایہ اور واجد کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔
” میں بس تمہارا انتظار کر رہی تھی سویٹ ہارڈ ” معصومیت سے مسکرا کر کہتی وہ ماسٹر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئ ۔۔ جس سے اسکا ڈمپل اب ظاہر ہونے لگے ۔۔
” تو انتظار کے لمحے ختم ہوئے ” وہ کہہ کر آگے جھکا ۔۔
” میں آگیا تمہارے پاس ” اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہا ۔۔
” تم گئے ہی کب تھے ۔۔ ہر پل پاس ہی تو ہوتے ہو سویٹ ہارڈ ” وہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتی کہہ رہی تھی۔۔
” یہ زیادہ اوور نہیں ہوگیا ؟ ” فرہاد نے مصطفی کے کان میں سرگوشی کی ۔
” یہ انکا پرانا سٹائل ہے ۔۔ہمیشہ ایسے ہی انٹری ہوتی ہے انکی شاہ فیملی کے سامنے “
ماضی کی ایک یاد انکی مسکراہٹ میں اضافہ کر گئ ۔۔
” یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ ” زویا کی آواز جیسے انہیں ہوش میں لائ ۔۔ وہ دونوں سیدھے ہوئے ۔۔
” اوہ آپ بھی ہیں یہاں ؟ ” ماسٹر نے مصنوعی حیرانگی سے اسے دیکھتے کہا ۔
” سوری ۔۔وہ ایکچولی اپنی بیوی کو دیکھتا ہوں تو کچھ اور دیکھنے کو دل ہی نہیں چاہتا میرا ” ایک بار پھر شوخی سے کہتے امل کی جانب دیکھا ۔
” تو مت دیکھو نا ۔۔ بھول جاؤ سب ” اسکے بازو پر ہاتھ رکھتے امل نے معنی خیز انداز میں کہا ۔
اور اس کے اس انداز پر جہاں فرہاد کا منہ حیرت سے کھلا ۔۔ وہیں مصطفی نے ہنستے ہوئے آحل کی جانب دیکھا جو منہ کھولے اپنے ماں باپ کے اس نئے روپ کو دیکھ رہا تھا ۔۔
” یہ کیا ہورہا ہے ؟ نائل ۔۔ ” وہ ایک قدم اسکی جانب بڑھی ۔
” تم نے کو اسے ڈائیوورس دے دی ہے نا ؟ تو پھر یہ سب کیا ہے ؟ ” وہ اس سے پوچھ رہی تھی ۔ جبکہ نائل کی مسکراہٹ اسکی بات پر گہری ہوئ ۔
” ڈارلنگ ۔۔ ” وہ دوبارہ امل کی جانب متوجہ ہوا ۔
” ہمم ” پلکیں جھپکاتے امل نے معصومیت سے کہا ۔
” مجھے اسکا بار بار یہ لفظ کہنا اچھا نہیں لگ رہا ۔ کھول دو نا اب یہ لفافہ ” اس نے جیسے ریکوسٹ کی ۔ جبکہ اسکے انداز پر امل کی مسکراہٹ گہری ہوئ ۔۔
” یہ ۔۔ یہ ماسٹر نہیں ہوسکتے ؟ اتنے چھچھورے ؟ ” عنایہ نے حیرت سے کہا جبکہ واجد نے اسے کہنی ماری ۔
” چپ کرو ۔۔ یہ چھچھورہ پن بھی کچھ دیر کے لئے ہے ” اس نے سرگوشی کی جس پر سر ہلاتے وہ دوبارہ سامنے متوجہ ہوئ۔
” اب ایسے کہوگے تو جان بھی دے دونگی ۔۔ لفافہ کیا چیز ہے ” اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہتی وہ مسکرا کر لفافے کی جانب متوجہ ہوئ ۔
اس نے لفافہ کھولا ۔۔ اندر سے ایک کاغذنکلا ۔ لیکن وہ سائز میں بہت چھوٹا تھا ۔۔
” یہ کیا ہے ؟ ” زویا نے پیپر کی جانب دیکھتے پوچھا ۔۔ یقیناً وہ ڈائیوورس پیپر نہیں تھے ۔
” یہ ۔۔ ” امل نے مسکراتے ہوئے پیپر کا رخ اسکی جانب کیا ۔۔
اور اگلے ہی لمحے زویا پر جیسے کسی نے بجلی گرائ تھی ۔۔ وہ حیرت بھری نظروں سے امل کے ہاتھ میں پکڑے چیک کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” میری فیس ہے ۔۔ پورے پانچ لاکھ ” چہک کر کہتے اس نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔
” فیس ؟ ” عنایہ اور زویا ۔۔ دونوں نے بیک وقت سوال کیا تھا ۔
” یس ۔۔ ” امل کو کاندھے سے پکڑ کر ماسٹر نے اپنے قریب کرتے کہا ۔۔
” وہ کیا ہے نا ۔ مجھے اسے قید کرنا پسند ہے ۔۔آٹھ سال پہلے اسے اپنے نام کی قید میں رکھنے کے لئے میں نے اپنا سب کچھ اسے دے دیا تھا ۔۔ اور آج اسے اپنے کمرے میں قید رکھنے کے لئے میں نے اسے پورے پانچ لاکھ دیئے ہیں ۔۔ اتنی آسانی سے کہاں مانتی ہے یہ قید ہونے پر ۔۔ ” معنی خیز انداز میں اسکی جانب دیکھتے ماسٹر نے کہا ۔۔
” بس میں کریں ۔۔ سب دیکھ رہے ہیں ” شرمانے کی شاندار ایکٹنگ کا مظاہرہ کرتے وہ ماسٹر سے الگ ہوئ ۔۔
” میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنا چھچھورہ پن کبھی نہیں دیکھا ” فرہاد نے مصطفی کے کان میں سرگوشی کی ۔۔
” ویل ۔۔ میں یہ کئ بار دیکھ چکا ہوں ” کاندھے اچکاتے ہوئے مصطفی نے کہا ۔
” تم ۔۔ تم دونوں ملے ہوئے تھے ؟ تو وہ سب ۔۔ “
” ڈرامہ تھا ” اب کی بار امل کی جانب سے سنجیدگی سے جواب آیا ۔۔
ایک پل میں ہی دونوں کے تاثرات سنجیدہ ہوئے تھے ۔
” شکر ہے یہ کیرکٹر سے باہر نکلے ” فرہاد نے سکھ کا گہرا سانس لیا ۔
” تمہیں کیا لگا زویا ؟
ہم اتنے کمزور ہیں کہ تم جیسے تھرڈ کلاس ویلنز ہمیں توڑ کر سکینگے ؟ الگ کر سکینگے ؟ ” سنجیدگی سے سوال کیا ۔
جبکہ زویا اب حیرت سے چاروں جانب موجود ماسٹر کی ٹیم کو دیکھ رہی تھی ۔
” لیکن تم نے گھر چھوڑ دیا تھا ؟ “
” ہاں ۔۔ اگر میں وہ سب نا کرتی تو ہم تمہاری ناک کے نیچے سے آحل کو جیسے نکالتے ؟ اسکے لئے تو تمہیں جیت کے نشے میں چور کرنا ضروری تھا نا ۔۔ جو ہم نے کردیا ” کاندھے اچکا کر کہتے ایک فاتحانہ مسکراہٹ امل کے ہونٹوں پر بکھری ۔۔
” یہ نہیں ہوسکتا ۔۔ میں نے خود سب کچھ سنا تھا مصطفی اور تم ماسٹر کو چھوڑ چکے تھے ” وہ اب بھی یقین کرنے کو تیار نہیں تھی ۔
” لگتا ہے ماسٹر ہمیں اسے سب تفصیل سے سمجھانا پڑے گا ۔۔ بیچاری کا صدمے سے دماغ بند ہوگیا ہے ” مصطفی کی ہمدردانہ آواز پر ماسٹر مسکرایا ۔
” یہ ماسٹر کے ٹیم ہے زویا شاہ ۔۔ یہ سب جینا تو چھوڑ سکتے ہیں پر ایک دوسرے کو نہیں ” مصطفی کی جانب سے سنجیدگی سے کہا گیا ۔
” تمہیں کیا لگا ؟ تم ہمارے گارڈ کو خرید کر ہمارے گھر میں ڈیوائسس لگوا کر ہماری ہر پلیننگ ، ہر حرکت کی خبر رکھوگی اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا ؟ ” ماسٹر کی جانب سے سوال ہوا ۔۔ جس پر زویا کی حیرت مزید بڑھی ۔۔
یہ کام تو اس نے مایا کی ڈیتھ والے دن کیا تھا ۔۔ جب سب ہسپتال میں تھے اور پیچھے دانش انکے گارڈ کی مدد سے گھر میں ڈیوائسس لگا چکا تھا ۔۔ تبھی تو وہ ہمیشہ اس نے ایک قدم آگے رہتے تھے ۔۔
” لیکن تم میری بیوی کے ٹیلنٹ سے ابھی واقف نہیں ہو ” ایک بار پھر مسکرا کر امل کی جانب دیکھا ۔
” اسکے لئے تو بس ایک رات ہی کافی ہوتی ہے گھر کے کونے کونے میں چھپی ایک ایک چِپ کا پتہ لگانے میں “
ماضی کی ایک یاد ان دونوں کے ساتھ ساتھ مصطفی کے ہونٹو ں پر بھی مسکراہٹ بکھیر گئ ۔
” لیکن اس بار ہماری سلیپنگ بیوٹی نے تھوڑی سی دیر کر دی تھی ” اس بار مصطفی آگے بڑھا ۔ اور اسے ماسٹر کی گھوری کا سامنا کرنا پڑا ۔۔ امل کو سلیپنگ بیوٹی جو کہہ دیا تھا اس نے ۔۔
” آج تو بنتا ہے ماسٹر ” ایک آنکھ دبا کر کہتا وہ دوبارہ زویا کی جانب متوجہ ہوا ۔۔ جو سن کھڑی حیرت سے ان سب کی باتیں سن رہی تھی ۔
” جب تک امل کو اس بارے میں معلوم ہوا ۔۔ تم آحل کو گڈنیپ کر چکی تھی ۔۔ ہم اسکی خاموشی کو اسکی ناراضگی سمجھ رہے تھے مگر اصل میں تو یہ کچھ اور ہی کر رہی تھی ۔۔ ” مصطفی نے مسکرا کر امل کی جانب دیکھا ۔۔ وہ بھی مسکرائ ۔
” اس نے ظاہر کیا کہ وہ ناراض ہے ۔۔ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی پر اس کمرے میں جانے سے پہلے بہت چالاکی سے میرے ہاتھ میں ایک پیپر دے گئ ۔۔ جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ تم ہمیں سن رہی ہو ۔۔ ہر وقت “
” اور یہی ایک چال تمہارا پورا کھیل بگاڑ گئ ۔۔ بے وقوفی کی تم نے ماسٹر کے گھر میں ڈیوائسس لکھوا کر ۔۔ ” عنایہ کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” اور تمہاری اسی بے وقوفی مجھے اپنی شاندار ایکٹنگ کے جوہر دکھانے کا موقع دیا ۔۔
” ہم جانتے تھے کہ تمہیں اب جلد آحل کی اصلیت کا معلوم ہوجائے گا ۔۔ اس لئے ہم نے بھی ایک گیم کھیلی ” مصطفی کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” آحل ہمارا بیٹا ہے ۔۔ یہ معلوم ہونے کے بعد تم امل کو بلیک میل کروگی ۔۔ یہ میں بہت پہلے ہی سمجھ گیا تھا ۔۔ اس لئے اس رات جب میں امل کے کمرے کے باہر کھڑا اس سے وہ باتیں کر رہا تھا ۔۔ تو میں نے بہت چالاکی سے دروازے کے کونے میں ایک پیپر پھنسا دیا تھا ” ماسٹر کہہ کر رہا ۔
” جس پر لکھا تھا کہ ۔۔
وہ ہمیں الگ کرنا چاہتی ہے ۔۔ وہ جو چاہتی ہے وہی ہونا چاٰہئے ۔۔
ہم الگ ہونگے اور آحل ہمارے پاس ہوگا” امل نے مسکرا کر کہتے آحل کی جانب دیکھا ۔۔ جو ان کی باتیں بہت توجہ سے سن رہا تھا ۔
” بس پھر ۔۔ تم نے گھر چھوڑنے کا کہا ، میں نے چھوڑ دیا ۔ ” اسکی جانب دیکھتے امل نے دوبارہ کہا ۔
” تم ماسٹر کی ٹیم توڑنا چاہتی تھی ، میں نے توڑ دی ” مصطفی نے کہا ۔
” اور میں نے تمہارے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ۔ دانش کی بیوی اٹھا لی ۔۔ وہ میری پاس آئ تو دانش خود باخود میرا ہوگیا ” فرہاد کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” اور مصطفی دی ہیکر نے ایک بار پھر اپنے ٹیلنٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے دانش کو ٹریس کیا اور پھر تمہاری پوری ٹیم کو ہیک کرتے ہوئے میں اپنے بیٹے تک پہنچ گیا ۔۔ ویسے میں تمہیں بتاتا چلوں کہ تمہارے سارے بندے اس وقت جیل میں ہیں “
” کہتے ہیں ملازم گھر والوں کے جتنے راز جانتے ہیں اتنے تو گھر والے خود بھی نہیں جانتے ۔۔ تمہارے بابا کے خاص ملازم کی خاص خدمت کرکے میں سب معلوم کر چکا تھا ۔۔ ” ماسٹر کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” اور عنایہ کس دن کام آئے گی ؟ جب تم ان سب کے ہاتھوں بے وقوف بن رہی تھی ۔۔ تب میں اپنی ٹیم کے ساتھ کراچی میں شہزاد شاہ اور جمشیدہ شاہ کو پولیس کے حوالے کر رہی تھی ۔۔ ” عنایہ نے اپنا حصہ ڈالا ۔۔
” اور میں ؟ ” واجد نے کہا جس پر زویا سمیت سب کی نظریں اسکی جانب گئیں ۔۔
” میں تمہارے ساتھ بے وقوف بن رہا تھا ۔ کیونکہ کسی نے بھی مجھے کچھ نہیں بتایا ؟ “
اور اس بار ان سب کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔
” تم نے مجھے اسکی بیوی اٹھانے پر ڈانٹا تھا ” فرہاد نے جیسے اسکا کیا ہوا اہم کام یاد دلایا ۔۔ جس پر واجد نے اسے آنکھیں دلائیں ۔
“کوئ بات نہیں ۔۔ تم اس کھیل کا اختتام کرلو واجد ” مسکرا کر کہتے ماسٹر نے ہتھکڑی اسکی جانب بڑھائ ۔۔
جسے دیکھتے وہ خوشی سے آگے بڑھا ۔
” شکریہ ماسٹر ” ہتھکڑی اسکے ہاتھ سے لیتے وہ زویا کی جانب پلٹا ۔۔ جسے سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔
وہ جیسے کچھ کہنے کے قابل نہیں رہی تھی ۔۔
” زویا شاہ ولد جمشید شاہ ۔ آپکو ڈاکٹر مایا کے قتل ، شہزاد شاہ اور آحل شاہ کی گڈنیپنگ کے جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے ” فلمی انداز میں کہتا وہ سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتا اسکے اب ہتھکڑی لگا چکا تھا ۔
” اسے اسکے نئے گھر پہنچانا تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔ ” ماسٹر کہہ کر گاڑی کی جانب پلٹا ۔۔ باقی سب بھی اپنی اپنی گاڑیوں کی جانب بڑھے ۔
” اور ہم سب جارہے ہیں ایک اچھا سا لنچ کرنے ۔۔ ” امل نے چہک کر کہتے چیک ہوا میں لہرایا ۔۔
” مائ ٹریٹ ” اسی کے ساتھ سب نے تھمپ اپ کیا ۔۔
” اور میں ؟ ” واجد کو دوبارہ اپنی پریشانی ہوئ ۔
” ہم پیکنگ کروا لینگے ” مسکرا کر کہتی وہ گاڑی میں بیٹھی ۔۔جبکہ ماسٹر نے گاڑی چلاتے اسکی جانب دیکھا ۔
” سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ ماسٹر ورنہ ایکسیڈنٹ ہوجائے گا ” اسے مسلسل خود کو دیکھتے پاکر اس نے کہا ۔
” تم سے شادی کے ایکسیڈنٹ کے بعد اب کسی ایکسیڈنٹ سے ڈر نہیں لگتا مجھے ” چڑانے والے انداز میں کہتا وہ سامنے متوجہ ہوا ۔۔
” کہہ سکتے ہو ۔۔ آج تم کچھ بھی کہہ سکتے ہو ۔۔ میں بہت خوش ہو اس لئے کوئ جواب نہیں دونگی ” چیک کو دیکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا ۔۔جبکہ ماسٹر نے ایک بار پھر اسکی جانب دیکھا ۔۔
” تم اس دنیا کی واحد ماں ہو جس نے اپنے ہی بیٹے کو بچانے کے لئے پیسے لئے ہیں ” اس کی بات پر امل کی مسکراہٹ گہری ہوئ ۔
” پہلی بات تو یہ کہ یہ پیسے آحل کو بچانے نہیں میری ایکٹنگ کے ہیں ۔۔ ” چیک بیگ میں رکھتے اب وہ مکمل اس کی جانب متوجہ ہوئ ۔
” اور دوسری بات یہ کہ آحل کو تم نے نہیں مصطفی نے بچایا ہے ” اسی کے ساتھ ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ امل کے چہرے پر بکھری ۔۔
” تو پھر تم صرف مصطفی کو لنچ کروا لو نا ۔۔ ہم سب کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے ” وہ جل کر بولا تو اس کی مسکراہٹ گہری ہوئ۔۔
” اسکی فکر مت کرو تم ۔۔ مصطفی کے ساتھ ڈنر کا پلین ہے میرا ” سامنے دیکھتے ہوئے جلتی پر تیل ڈال گئ ۔۔
” امل ۔۔۔ ! ” سختی سے کہتے اسکے گھورا ۔۔
” ایسے مت دیکھو ماسٹر ۔۔ نظر لگ سکتی ہے مجھے “
” تم جیسی چڑیلوں کو بھی کسی نظر لگتی ہے بھلا ؟ ” سامنے دیکھتے ہوئے اس نے تپ کر کہا ۔
” ہاں ۔۔ ” اب کی بار امل بے اسکی جانب دیکھا ۔۔ مسکرائ۔۔
” جنات کی “
اور ایک بار پھر وہ ماسٹر کو آگ لگانے میں کامیاب ہوچکی تھی ۔۔
ایسا ہی تعلق تھاان کا ۔۔
کچھ کھٹا ۔۔ کچھ میٹھا ۔۔
وہ لڑتے تھے ۔۔ وہ مل کر رہتے بھی تھے ۔۔
وہ ایک دوسر ے کو جلانے کا کوئ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔۔
وہ جلتی پر تیل ڈالنے کا ہنر جانتے تھے ۔۔
وہ ساتھ ہوتے تو ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کے بہانے ڈھونڈتے تھے ۔۔
وہ الگ ہوتے وہ ایک دوسرے کی یاد میں تڑپ جایا کرتے تھے ۔۔
وہ محبت میں جینا جانتے تھے ۔۔
وہ محبت میں مر جانے سے گزیر نہیں کرتے تھے ۔۔
وہ دوستوں کے لئے رحمت تھے ۔۔
اور دشمنوں کےلئے زحمت ۔۔
بس ایسی ہی زندگی تھی ان سب کی ۔
او ر بس ۔۔
یہی تو زندگی ہے ۔۔
کبھی لڑنا ۔۔کبھی منانا ۔۔
روٹھ جانا ۔۔ مان بھی جانا ۔
غصہ ہوجانا ۔۔ اور پھر مسکرا دینا ۔۔
غلطی کردینا ۔۔ معافی مانگ لینا ۔۔
معاف کردینا ۔۔ اور پھر اس پر طعنے دینا ۔۔
دوسرے کے ساتھ ہنس دینا ۔۔ اور اکیلے میں رو دینا ۔۔
کبھی بس انتظار ۔۔ اور کبھی ڈھیر سارا پیار ۔۔
بس ۔۔
یہی تو زندگی ہے ۔ ۔۔
ختم شد ۔
