Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 11)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 11)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
” میں نے آپکا سارا سامان گاڑی میں رکھوا دیا ہے ۔۔ ” گٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتے امل نے اسکے سرکے بال سیٹ کرتے کہا ۔۔
” تھینک یو آنی ۔۔ “
” یور ویلکم ڈئیر ۔۔ اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔۔ ” اسکا ماتھا چھوم کر کہا ۔۔
” آپ بھی اپنا خیال رکھنا ۔ ” اسکے گال چومتے ہوئے اس نے معصومیت سے کہا ۔۔ جس پر سامنے کھڑے ماسٹر اور مصطفی مسکرائے ۔۔
” تم نے سب کچھ چیک کر لیا ہے ؟ ” ماسٹر کی جانب سے سوال ہوا ۔۔
” جی ۔۔ فکر کی کوئ بات نہیں ۔۔ ہر سال ہی سٹوڈنٹس کو کیمپنگ کے لئے لے جایا جاتا ہے ۔۔ اس طرح کچھ ایکسرسائس بھی ہوجاتی اور بچے بہت کچھ سیکھ بھی لیتے ہیں ۔۔ اس سال بھی ایسا ہی کچھ ہے اور جگہ میں دیکھ آیا ہوں ۔۔ سیو ہے بلکل ۔۔ ” مصطفی کے جواب پر ماسٹر نے سر ہلایا ۔۔
” چلیں اب ۔۔ ہم لیٹ ہورہے ہیں ” آحل کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مصطفی نے مسکرا کر کہا ۔۔
” میرے بال خراب کر دئیے ” اور ہمیشہ کی طرح اسے مصطفی کا اپنے بال خراب کرنا بلکل بھی اچھانہیں لگا تھا ۔۔
” اچھا اچھا بھئ چلو بھی اب ۔۔ ” اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا ۔۔
” اوک ماسٹر ۔۔ بابائے ” ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا ۔۔
” بائے ۔۔ ٹیک کئیر آف یور سیلف ” ماسٹر کے جواب پر وہ سر ہلاتا گاڑی میں بیٹھا ۔۔ اور اگلے ہی لمحے مصطفی نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔
” کیا ہوا ؟ ” امل کو مسلسل اسی جگہ کھڑے دیکھ کر ماسٹر نے پوچھا ۔۔
” مجھے کچھ اچھا محسوس نہیں ہورہا نائل ۔۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کچھ ہونے والا ہے ۔۔ کچھ بہت برا ” سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے کہا ۔ نظر اب بھی اس راستے پر تھی ۔۔
” ایسا کچھ نہیں ہوگا امل ۔۔ میں اب کچھ مزید برا نہیں ہونے دونگا ” اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی ۔۔
” ہمیں آحل کو اس سال نہیں بھیجنا چاہئے تھا ۔۔ یہ سیو نہیں ہے ” اس نے اپنا خدشہ بیان کیا ۔۔
” فکر مت کرو ۔۔ مصطفی نے سب دیکھ لیا ہے ۔۔ یہ ایک نارمل سی کیمپنگ ہے ہر سال کی طرح ۔۔ “
” آئ ہوپ کہ ایسا ہی ہو ” وہ اب بھی مطمئن نہیں ہوئ تھی ۔۔
” ایسا ہی ہوگا ۔۔ چلو اب ۔۔ ہمیں بہت سے اور کام بھی کرنے ہے ” اور اسی کے ساتھ وہ امل کو کاندھےسے تھامے گھر کے اندر لے گیا ۔۔
دوربین سے یہ نظارہ دیکھنے والے شخص نے اپنی آنکھوں سےدوربین ہٹائ اور موبائل کان سے لگایا ۔۔
” وہ نکل چکے ہیں ۔۔ “
” اوک ۔۔ تم ریڈی رہنا ۔۔ کوئ بھی غلطی نہیں ہونی چاہئے ۔۔ ” کہتے ساتھ ہی وہ کال کٹ کر کے گاڑی میں بیٹھا اور اسے دوسری جانب لے گیا ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
” یہاں ۔۔ یہاں روکیں ” اس نے سکرین کی جانب اشارہ کیا جس پر عنایہ نے فورا فوٹیج روکی ۔۔
” یہ ۔۔۔ یہ دونوں ۔۔ ” سکرین پر ایک جگہ انگلی رکھ کر کہا ۔۔ جہاں دو لڑکے وارڈمین کے یونیفارم پہنے سر پر کیپ پہنے ایک جانب جارہے تھے۔۔
” کون ہیں یہ دونوں ؟ ” عنایہ نے ان دونوں پر زوم کر کے پوچھا ۔۔ جن کے چہرے کیپ کی وجہ سے کلئیر نظر نہیں آرہے تھے ۔۔
” معلوم نہیں ۔۔ میں نےکوشش کی مگر کوئ بھی انہیں نہیں جانتا ۔۔ کسی نے بھی ان دونوں کو پہلے کبھی اس ہسپتال میں نہیں دیکھا تھا ۔۔ اور نا ہی اس کے بعد ” نرس نے مایوسی سے کہا ۔۔
” ہسپتال کے بیک ڈور کے کیمرے کی فوٹیج نہیں ہے ؟ “
” فوٹیج ہے ۔۔ مگر اس میں کچھ بھی نہیں سوائے پولیس آفیسرز کے شہزاد شاہ کی تلاش میں یہاں سے وہاں بھاگنے کے ۔۔ تقریبا آدھے گھنٹے تک کیمراز بند رہے ۔۔ “
” بلکل اسی طرح جس طرح مایا کے ہسپتال کے ہوئے ” اس نے خودکلامی کی ۔۔
” لیکن اس آدھے گھنٹے دوران ان دونوں نے ایک بے ہوش انسان کو کیسے پولیس کے ہوتے ہوئے وارڈ سے اور پھر ہسپتال سے نکال لیا ؟ ” عنایہ کے سوال پر وہ نرس اسکے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھی ۔۔
” میں بھی یہی سوچ رہی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ مجھے یاد آیا کہ اس دن اس وارڈ میں ایک شخص کا انتقال ہوگیا تھا۔۔ اور اسے سرد خانے میں لے گئے تھے ” نرس کی بات پر عنایہ نے اسے الجھ کر دیکھا ۔۔
” تو ؟ “
” تو یہ کہ جب میں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس دن تو کسی کی ڈیتھ ہی نہیں ہوئ تھی ۔۔۔ تو سوچنے والے بات ہے کہ شہزاد شاہ کے روم سے جس شخص کو سرد خانے میں لے جایا گیا وہ کون تھا ؟ ” اور پہیلی کا آدھا حصہ حل ہوگیا تھا ۔۔
” تو اسکا مطلب ہے کہ وہ شخص شہزاد شاہ تھا ۔۔ جسے یہ ڈیٹ باڈی بنا کر پولیس کی آنکھوں کے سامنے سے لے گئے “
” بلکل ۔۔ ” نرس نے اسکی بات پر یقین کی مہر لگائ ۔۔
” مگر پھر بھی ۔۔ صرف آدھے گھنٹے میں یہ کیسے ہوا ؟ وہ ہسپتال سے کیسے غائب ہوگیا ؟ ” عنایہ نے ایک اور سوال کیا ۔۔
” مین کام تو اس وارڈ سے نکالنا تھا ۔۔ اس کے بعد ان سب میں وقت نہیں لگا ہوگا ۔۔ یہ دیکھیں ۔۔ ” نرس نے اب ایک نقشہ اس کے سامنے میز پر رکھا ۔۔
” یہ شہزاد شاہ کا روم ہے جہاں سے اسے نکالا گیا ۔۔ جس میں زیادہ وقت نہیں لگا ہوگا ۔۔ شاید تین منٹ ” اس نے ایک روم پر انگلی رکھ کر کہا ۔۔
” اب اسکے بلکل سامنے لفٹ ہے ۔۔۔ ” اس نے انگلی آگے بڑھائ ۔۔
” یہاں انہیں ایک منٹ لگا ہوگا ۔۔ اور پھر وہاں سرد خانے تک صرف دو منٹ ” ا س نے انگلی ایک اور روم پر رکھی جو کہ سرد خانہ تھا ۔۔
” لیکن وہ اندر نہیں گئے ۔۔ ” وہ رکی ۔۔ عنایہ نے سوالیاں انداز سے اسکی جانب دیکھا ۔۔
” اگر اسکے دائیں جانب آؤں تو یہ کچھ سیڑھیا ں ہیں ۔۔ جوکہ کچھ پرانے بند رومز سے ہوتے ہوئے گراؤنڈ فلور کی جانب جاتی ہیں ۔۔ مگر ایریا کیونکہ یوز میں نہیں ہے تو یہاں کیمراز بھی نہیں ہے ۔۔ یہاں سے گراؤنڈ فلور تک ایک بے ہوش انسان کے ساتھ جانے میں انہیں تقریباٍ آٹھ سے نو منٹ لگے ہونگے ۔۔ ” اپنی انگلی پھیرتی ہوئ وہ اب گراؤنڈ فلور کی جانب لائ ۔۔
” اور یہاں سے بائیں جانب جاؤ تو ایک چھوٹی سے گیلری ہے ۔۔ اور اس گیلری کے بعد دائیں جانب ۔۔۔ ” وہ رکی ۔۔ اپنی انگلی بھی ایک جگہ روکی ۔۔
” ہسپتال کا بیک ڈور ہے ” عنایہ نے اسکی بات مکمل کی جس پر اس نے سر ہلایا ۔۔
” بلکل ۔۔ اور یہاں سے نکلنا ان کے لئے بلکل مشکل نہیں کیونکہ اس کے سامنے مین روڈ ہے اور ضرور ان کے ساتھی بہت آسانی سے اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہونگے ” کاندھے اچکا کر کہتی وہ نرس اپنی بات ختم کر نے کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھی ۔۔ جبکہ عنایہ کسی گہری سوچ میں گم اس نقشے کی جانب دیکھتی رہی ۔۔
” تو اس طرح انہیں آدھا گھنٹہ لگا اور جب کیمراز کھلے ۔۔ جب وہاں کچھ بھی نہیں تھا ۔۔ سوائے پولیس کے ” سب سمجھتے ہوئے وہ بھی اب کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی ۔۔ پھر نظر نرس کی جانب کی ۔۔
” گڈ جاب ” مسکرا کر کہا ۔۔ جس پر وہ بھی مسکرائ ۔۔
” تھینک یو ” سر خم کر کے کہا جس پر عنایہ مسکرا کر کھڑی ہوئ ۔۔
” یہ میپ میں لے کر جارہی ہو ۔۔ اور تمہاری سیلری تمہارے اکاؤنٹ میں آجائے گی ” میز سے وہ نقشہ اٹھا کر اس نے کہا ۔۔
” اوک ۔۔ ” اسی کے ساتھ وہ نرس بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئ ۔۔
” اور ہاں ۔۔ ” دروازے کے قریب پہنچ کر وہ پلٹی ۔۔
” اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہونا چاہئے ۔۔ ” دھمکی آمیز لہجہ تھا ۔۔
” مجھے اپنی جاب بہت پیاری ہے میم ۔۔ ڈونٹ وری ” مسکرا کر کہتی وہ نرس اس سے پہلے وہاں سے نکلی ۔۔ جبکہ عنایہ اب وہاں سے باہر نکلی۔۔
اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اس نے اپنا موبائل نکالا ۔۔۔
’’ یس ؟ ‘‘ مصطفی کی مصروف آواز اسکے کانوں تک پہنچی ۔۔
’’ اسے کڈنیپ کیا گیا ہے ‘‘
’’ یہ تو ہم جانتے ہیں عنایہ ‘‘ انداز اب بھی مصروف تھا ۔۔
’’ مگر کیسے کیا ۔۔ یہ اب معلوم ہوا ہے ۔۔ ‘‘ عنایہ کی بات پر لیپ ٹاپ ہر چلتی اسکی انگلیاں رکیں ۔۔
’’ کیسے ؟ ‘‘
’’ بیک ڈور سے ۔۔ میں نے ہاسپٹل کا میپ چیک کیا ہے ۔۔ ایک بے ہوش انسان کو آسانی سے آدھے گھنٹے میں غائب کیا جاسکتا ہے ۔۔ اگر بیک ڈور یوز کیا گیا ہو تو ۔۔ ‘‘
’’ اوک ۔۔ میں سمجھ گیا کہ مجھے کیا کرنا ہے ‘‘ اسی کے ساتھ اس نے کال کٹ کی اور اپنا لیپ ٹاپ اور باقی سامان ایک بیگ میں ڈال کر باہر نکلا ۔۔
’’ تمہاری آحل کے سکول والوں سے بات ہوئی ۔۔ سب ٹھیک ہے نا ؟ ‘‘ اسے جاتا دیکھ کر امل نے پوچھا ۔۔
’’ فکر مت کرو امل ۔۔۔ وہ ٹھیک ہے میری بات ہوگئی ہے ‘‘
’’ شکر ہے ۔۔۔ تم کہاں جارہے ہو ؟ ‘‘
’’ ہیکنگ کرنے ‘‘ ایک آنکھ دبا کر کہتا وہ مسکراتے باہر نکلا جبکہ اسے جاتا دیکھ کر امل بھی مسکرائی ۔۔
’’ چلو ۔۔ تم نارمل تو ہونا شروع ہوئے مصطفی ‘‘ خود سے کہا ۔۔
’’ ہمیں بھی نارمل ہوجانا چاہئے اب ‘‘ اپنے قریب سے آتی آواز پر امل چونکی ۔۔
” کیا ہم نارمل نہیں ہیں ؟ ” سوال ہوا ۔۔
” کیا ہم ہیں ؟” سوال کے بدلے سوال ہوا ۔
” ہمارے لئے نارمل ہونا اب یہی ہے ماسٹر ۔ ۔” ایک گہری سانس لیتے اس نے کہا ۔
” کیا تم ۔۔۔ کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتی امل ؟ ” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ماسٹر نے کہا ۔
” مجھے تم سے کوئ شکایت نہیں ہے نائل ۔۔ ” اسکی جانب دیکھ کر مسکرائ ۔
” پھر یہ کیا ہے ؟” سنجیدگی سے ایک اور سوال ہوا ۔
” ڈر ۔۔ ” امل نے کہنا شروع کیا ۔۔
اور دور ایک کیمپنگ ایریا ،جہاں دھند میں لپٹے پہاڑو ں کے بیچ ، درختوں کے پاس کچھ بچے اپنا اپنا کیمپ لگانے میں مصروف ہیں وہیں ان سے کچھ دور آحل جس کا کیمپ لگ چکا تھا ا ب اپنا سامان اس میں سیٹ کرنے لگا ۔۔
” مجھے ڈر لگتا ہے نائل کہ کہیں کچھ ایسا نہ ہوجائے کہ تمہیں اپنے فیصلے پر پچھتانہ پڑے “
ایک سایہ اس کے کیمپ کے اوپر ظاہر ہوا ۔۔ مگر اس سے انجان اب آحل اپنے کپڑے چینچ کرنے لگا ۔
” کیونکہ اگر ایسا ہوا نائل شا ہ ۔۔ ” وہ اب مکمل سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
” اگر میرا ڈر صحیح ثابت ہوا ۔۔ “
اب اس سائے نے کسی وجود کی شکل اختیار کی اور اس کیمپ کے اندر آنے لگا ۔
” اگر تم پچھتائے نائل شاہ ۔۔ “
آحل نے اب اپنی شرٹ پہننے کے بعد اپنے بال سیٹ کئے جب اسے محسوس ہوا کے کوئ اسکے بلکل پیچھے موجود ہے ۔۔
وہ فوراً پلٹا اور ۔۔۔
” تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی نائل شاہ ۔۔ “
ایک کپڑہ اسکے چہرے پر کسی نے بہت تیزی سے رکھا اور اگلے ہی لمحے آحل اس وجود کے بازؤں میں جھول گیا ۔۔
” کبھی معاف نہیں کرونگی ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ وہ اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے چلی گئ ۔
جبکہ نائل جانے کتنی ہی دیر خاموش بیٹھا اسے دیکھتا رہا ۔۔
” ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا ۔۔ ایسا نہیں ہوگا کبھی نہیں ۔۔ “
اور آج اسے پہلی بار محسوس ہوا ۔۔
جیسے اس نے خود کو تسلی دی ہو ۔۔
