Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 13)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 13)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
” کون ہو تم ؟ ” ایک پولیس آفیسر نے کہا ۔۔ یہ انٹیروگیشن روم تھا جہاں وہ اسے چھپا کر لائے تھے ۔
” شیرو نام ہے میرا ۔۔ باس نے بھیجا ہے ” سنجیدگی سے جواب دیا ۔
” تمہیں پہلے کبھی دیکھا نہیں ؟ ” اسے غور سے دیکھتے پولیس آفیسر نے کہا ۔
” دیکھا تو آپ نے میرے باس کو بھی نہیں ہے ۔۔ اور نا ہی انکے رائٹی مسٹر ڈی کو “
اور اسی کے ساتھ آفیسر کے چہرے پر پہلے حیرانگی اور پھر ایک مطمئن ہونے کے تاثر آئے ۔۔
” کیا پیغام ہے ؟ “
” پیغام یہ ہے کہ ۔۔ ” اور اب وہ سیاہ فام شخص اس آفیسر کی جانب بڑھا ۔
” باس بہت ناراض ہیں ۔۔ کہہ رہے ہیں کہ ۔۔۔ ” اب وہ اسکے قریب آکر کھڑا ہوا اور مسکرایا ۔۔
” تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ ماسٹر سے بے ایمانی کر کے تم بچ جاؤگے ؟ ہاں “
اور اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا اور کوئ اندر آیا ۔۔ جسے دیکھتے ہی آفیسر کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نموراد ہوئے ۔۔
” مم۔۔۔ ماسٹر “
” تو تم ہو وہ عظیم آفیسر جس نے شہزاد شاہ کو فرار ہونے میں مدد دی ” اسکے پاس آکر رکتے کہا ۔
” ماسٹر میں ۔۔۔ ” اور اسکے الفاظ ماسٹر کے مکے نے روک دیئے ۔۔ وہ اب زمین پر گرا اپنے ہونٹوں سے نکلا ہوا خون صاف کر رہا تھا۔
” کس نے ۔۔ کس کروایا تم سے یہ ؟ ” اسے گریبان سے پکڑتے ماسٹر نے پوچھا ۔۔
” مم۔۔ میں نہیں جانتا ” کپکپاتی آواز میں کہا ۔۔
اور اگلے ہی لمحے ماسٹر نے اسکا ہاتھ موڑ کر میز پر جھکایا ۔۔
” میں نے تم سے پوچھا ۔۔۔ ” اس نے اب اسکے ہاتھ پر پریشر بڑھایا جس پر اسکی ایک چیخ نکلی ۔
” کس کے کہنے پر کیا تم نے یہ سب ؟ ” ایک ایک لفظ پر زور دیتے اس نے اپنا سوال دہرایا ۔۔
” میں سچ میں نہیں جانتا ماسٹر ۔۔ میری بس اس سے فون پر بات ہوئ تھی “
اب ماسٹر نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا ۔۔۔
” کون ہے وہ ؟ “
” میں نہیں جانتا ۔۔ اس نے مجھے کبھی کچھ نہیں بتایا ماسٹر ۔۔ میرا یقین کریں “
“تمہارا یقین ؟ ” ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا ۔۔
” تم جیسوں پر صرف شیطان بھروسہ کر سکتا ہے ” اسی کے ساتھ ایک اور مکا اسکے ہونٹوں کے قریب پڑھا جس پر وہ میز کے کونے پر جالگا ۔۔ اب ماتھے سے بھی خون نکلنے لگا۔۔
” میں تم سے اتنے پیار سے آخری بار پوچھ رہا ہوں آفیسر ۔۔ ” ایک بار پھر اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھاتے کہا ۔۔
” کس کے کہنے پر کیا تم نے یہ سب ؟ ” اس نے اپنا سوال دہرایا ۔۔
پاس کھڑے سیاہ فام کے شخص کے موبائل پر کسی کی کال آئ ۔۔
” ہیلو ؟ ” ان دونوں کی جانب دیکھتے اس نے سنجیدگی سے موبائل کان سے لگاتے کہا ۔
” مم۔۔ میں نہیں جانتاماسٹر اس نے مجھ سے کہا کہ میں اسے مسٹر ڈی سمجھو ۔۔ مجھے اسکا نام نہیں معلوم ۔۔ اس نے مجھے پیسے دیئے تھے شہزاد شاہ کو اس ہسپتال میں لے جانے کے ۔۔ اسکے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا “
” ماسٹر ۔۔ ” سیاہ فام شخص کی سنجیدہ آواز پر ماسٹر نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
” ہمیں جانا ہوگا ماسٹر ۔۔ ” اور جس سنجیدگی سے اس نے یہ بات کی ۔۔
کسی انہونی کا خدشہ ماسٹر کی گرفت اس شخص کے گریبان میں کمزور کر گیا تھا ۔۔ وہ اک دم ہی پیچھے ہوا اور باہر کی جانب بھاگا جہاں موجود کچھ پولیس آفیسرز نے اسکے پکڑ لیا ۔۔
” اس سے معلومات نکلواؤ ۔۔ ہمیں جانا ہے ” ان پولیس آفیسرز سے کہتی عنایہ جوکہ اس وقت ایک سیاہ فام کے حلیے میں تھی ۔۔ اب آگے بڑھی جبکہ ماسٹر اسکے پیچھے بنا کسی سوال کے آیا ۔۔ جانے کیوں پر سوال کرنے ہمت نہیں کر پارہا تھا وہ ۔۔
راستہ خاموشی سے کٹا تھا ۔۔
عنایہ اب بھی سیاہ حلیے میں تھی لیکن اس سیاہی میں بھی اسکے چہرے کی سنجیدگی اس کی آنکھوں میں نمی چھپ نہیں پارہی تھی ۔۔ ماسٹر سے بھی نہیں پر وہ اب بھی خاموش تھا ۔۔ بلکل خاموش ۔۔۔
وہ تقریباً دس منٹ بعد گھر پہنچے ۔۔ لاؤنچ میں مصطفی سر جھکائے بیٹھا ہے ۔۔ چہرے پر بے انتہاہ سنجیدگی ، آنکھیں لال سرخ اور ماتھے پر پریشانی کی لیکر واضح تھی ۔۔ وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھائے ، قالین پر نظرٹکائے بیٹھا ہے ۔۔ جبکہ سامنے بیٹھی امل اسکے کچھ کہنے کے انتظار میں بیٹھی اسے ایسے ہی دیکھ رہی ہے ۔۔ الجھی نظروں سے ۔۔
ماسٹر اور عنایہ لاؤنچ میں آتے ہیں اور امل ماسٹر کے ساتھ کسی سیاہ فام شخص کو دیکھ کر کھڑی ہوتی ہے ۔۔
” یہ کون ہے ؟ ” ماسٹر سے سوال ہوا ۔۔
” میں ہوں ؟ ” عنایہ نے مصطفی پر نظریں ٹکائے کہا ۔ جبکہ امل کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔ اس حلیے میں واقعی کہ پہچاننا مشکل ہے کہ وہ ایک لڑکا ہے یا لڑکی ۔۔ کمال ہے !
” کیا ہوا ہے ؟ ” ماسٹر نے امل سے پوچھا ۔۔
” مجھے نہیں معلوم ۔۔ جب سے آیا ہے ایسے ہی بیٹھا ہے ، کوئ بات تک نہیں کی ۔۔ تم کال نہیں اٹھارہے تھے تو میں نے عنایہ کو کال کی ۔۔ ضرور کچھ ہوا ہے ۔۔ ” امل نے اب مصطفی کی جانب دیکھا جو اب بھی ایسے ہی سر جھکائے بیٹھا تھا جیسے اپنےآس پاس کا کچھ معلوم ہی نہ ہو ۔۔
” کچھ بہت برا ۔۔ ” امل نے اپنی بات مکمل کی اور واپس اس اپنی جگہ پر بیٹھی جبکہ ماسٹر اب مصطفی کی جانب بڑھا اور اسکے پاس جارکا ۔
” مصطفی ۔۔۔ ” کوئ ردعمل نہیں آیا ۔
” مصطفی ۔۔ ” اب کی بار ماسٹر نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے کہا جس پر اسے جیسے کوئ کرنٹ لگا ہو۔۔ فوراً نظر اٹھا کر ماسٹر کی جانب دکھا ۔۔
غصہ ۔۔ پچھتاوہ۔۔ درد۔۔۔ شکوہ ۔۔۔ اور جانے ایسا کیا کیا تھا اسکی ان سرخ آنکھوں میں کہ ماسٹر ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔
” کک ۔۔ کیا ہوا ہے مصطفی ” امل کی آواز کی کپکپاہٹ محسوس کرتے مصطفی نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
پچھتاوہ ۔۔ درد ۔۔ امل کو اپنے لئے ان آنکھوںمیں بس یہی نظر آیا ۔۔
دل ۔۔۔ ہاں یہ دل بھی کسی نجومی سے کم نہیں ہوتا ۔ خوشی کا تو نہیں پر ہاں جب کچھ بہت برا ہوا ہو ۔۔
جب کسی بہت اپنے کے ساتھ کچھ ہوا تو اس دل کو جانے کیسے پر پہلے ہی معلوم ہوجاتا ہے ۔۔
اور ایسا ہی ہورہا تھا امل کے دل کے ساتھ بھی ۔۔
” آحل ۔۔ آحل ٹھیک ہے نا ؟ ” امل نے سوال کیا ۔۔ ایسا سوال ۔۔۔ جس پر ماسٹر نے چونک کر اسکی جانب دیکھا ۔۔
پر نظر مصطفی کی جانب گئ جس کی آنکھ سے اب آنسو کا ایک قطرہ چہرے پر لکیر کی صورت بہا ۔۔
” مصطفی ۔۔ ” امل اب تڑپ کر اسکے پاس آئ اور زمین پر بیٹھی ۔۔
” آحل ٹھیک ہے نا ۔۔۔ بولو ” اس نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا ۔۔ مگر دوسری جانب صرف خاموشی تھی ۔
اور کبھی کبھی خاموشی اتنےزور سے چیختی ہے کہ سننے والے ہر انسان کے کانوں پربرداشت نہیں کر پاتے ۔۔ دل سہہ نہیں پایا ۔۔
ماسٹر اب ایک قدم اور پیچھے ہوا سر نفی میں ہلاتے ۔۔
” تم ۔۔ ” امل نے اب اسکے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ رکھ کر اسے ہلایا ۔۔
” تم بولتے کیوں نہیں ۔۔ بولو مصطفی وہ ٹھیک ہے نا ؟ ” اسکی آواز میں تیزی آئ اور مصطفی نے ایک بار پھر اسکی جانب دیکھا ۔
” وہ ۔۔۔ ” اس نے کہہ کر آنکھیں بند کی ۔۔ ایک گہری سانس لی ۔۔ جیسے خود کو تیار کیا ہو آگے کہنے والے الفاظ کے لئے ۔۔
” وہ اسے لے گئے ۔۔ ” اس نے آنکھیں کھول کر امل کو دیکھا ۔۔ جس کی آنکھیں حیرت سے پھلیں ۔۔۔
” ہی از گڈنیپڈ”
وہ یہ الفاظ نہیں تھے ۔۔ یہ وہ صور تھا جو وہاں موجود ہر انسان کے جسم سے روح نکا ل گیا تھا ۔۔
٭٭٭٭٭٭
یہ اس دوسرے شہر میں سمندر کے کنارے گھر کے کمرے کا منظر ہے جہاں بیڈ پر لیٹے شہزاد شاہ کی آنکھوں میں حرکت ہونا شروع ہوئ ۔۔
اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔ نظر سیدھا چھت پر گئ جہاں ایک پنکھا چل رہا ہے ۔ اب نظر آس پاس گئ ۔۔ اس کمرے گئ جہاں ضرورت کی ہر چیز تھی ۔۔ ا ور اس کے ساتھ بائیں جانب کھڑکی کے پاس رکھے صوفے پر ایک شخص جسے وہ پہلے بھی دیکھ چکے تھے بیٹھا انہیں دیکھ کر مسکرایا ۔۔
” گڈ مارننگ شہزاد شاہ ” مسکرا کر کہتے ہو کھڑا ہوا ۔۔
” تم ؟ یہ تم مجھے کہا ں لے آئے ہو ؟ ” سیدھے ہوکر بیٹھتے انہو ں نے کہا جس پر سینے میں تھوڑا درد اٹھا ۔۔
” ارے آرام سے سر ۔۔ فکر مت کریں ۔۔ ہم آپکو اس جیل سے بہت دور ۔۔ ایک دوسرے شہر لے آئے ہیں یہاں آپ تک کوئ نہیں پہنچ سکتا ” دوستانہ انداز میں کہا گیا ۔۔
” کہا ہے تمہارا باس ۔۔ مجھے بات کرنی ہے اس سے ۔۔ ” سخت انداز میں کہاگیا ۔۔۔
” معذرت کے ساتھ ۔۔ آپ باس سے بات نہیں کر سکتے ۔۔ ” وہ کہہ کر اب دوبارہ صوفے پر جابیٹھا ٹانگ پر ٹانگ ٹکائے ۔
” وہ کیا ہے نا ۔۔ وہ اس وقت بہت مصروف ہیں ۔۔ ” وہ اب آگے جھکا ۔۔ انکی آنکھوں میں دیکھتے ۔۔
” آحل مصطفی کے ساتھ ” اور اسی کے ساتھ شہزاد شاہ کی آنکھیں پھیلیں ۔۔
” وہ بچہ ۔۔ کیا کیا تم نے اس کے ساتھ ۔۔ ” اب کی بار آواز اونچی ہوئ ۔۔
” آرام سے ” اس نے بھی اتنی ہی اونچی آواز میں جواب دیا ۔۔
” آرام سے بات کریں سر ۔۔ آپکی طبیعت ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئ ہے ۔۔ اور کیوں آپ دوسروں کے لئے پریشان ہورہے ہیں ؟ آپکو تو خوش ہونا چاہئے ۔۔ بہت جلد آپکا بیٹا واپس آپ کے پاس ہوگا ” اور اسی کے ساتھ وہ ان کے کمرے سے نکلا ۔۔
دروازہ لاک ہونے کی آواز پر شہزاد شاہ نے ایک گہری سانس لی ۔۔
” یہ ٹھیک نہیں کر رہے تم۔۔ اسکا انجام بہت برا ہے ” خوکلامی کرتے وہ ایک بار پھر اپنی آنکھیں بند کر گئے ۔۔
٭٭٭٭٭٭
یہ اسی کچی عمارت جہاں کچھ دن پہلے شہزاد شاہ کو رکھا کے کمرے کا منظر ہے جہاں آحل نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔
اپنے آس پاس کا ماحول دیکھ کر وہ ڈرا تھا ۔۔
” یہ ۔۔ یہ میں کہاں ہوں ؟ ” دھیرے سے کہتے وہ اب آہستہ کھڑا ہوا ۔۔ کمرے میں کوئ لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح کچھ دیکھ نہیں پارہا تھا ۔۔ دروازے کے نیچے سے آنے والی ہلکی سی روشنی بس اتنا بتا رہی تھی کہ کمرے میں ایک بیڈ ہےاور شاید ایک کرسی بھی ہے ۔۔ اب وہ دروازے کی جانب بڑھا ۔۔ دروازے کےپاس آکر اس نے دروازہ کھولنا چاہا ہر وہ لاک تھا ۔۔
” کوئ ہے ۔۔ دروازہ کھولیں ” وہ اب دروازہ بجانے لگا ۔۔
” پاپا ۔۔۔ آنی ۔۔ کوئ ہے ۔۔” وہ انہیں پکار رہا تھا پر دوسری جانب صرف خاموشی تھی ۔۔
اب اس کے ڈر میں مزید اضافہ ہوا ۔۔
” دروازہ کھولو ۔۔ ” اب وہ باقاعدہ چیخنے لگا ۔ دروازہ زور سے بجاتے ہوئے ۔۔
” بچے کو ہوش آگیا ہے باس ” کمرے کے سامنے کھڑے دانش نے موبائل کان سے لگائے کہا ۔۔
” اوک ۔۔ ” جواب سنتے ہی اس نے کال کٹ کی اور کمرے کی جانب بڑھا جہاں اب بھی دروازہ بجایا جارہا تھا ۔۔
جیب سے چابی نکال کر اس نے کمرے کا لاک کھولا ۔۔
آحل لاک کھلنے کی آواز پر ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔
اس کے سامنے اب اسکےپاپا کی عمر کا ہی ایک شخص کھڑا تھا ۔۔ کلین شیو ، گھنگھرالے چھوٹے بال بلو شرٹ اور جینس پہنے وہ اسے دیکھ کر مسکرایا ۔۔
“گڈ مارننگ چھوٹے مصطفی ” زمین پر اسکے سامنے بیٹھتے اس نے کہا ۔
” آپ کون ہیں ؟ ” اس نے سوال کیا ۔
” میں تمہارے پاپا کا بہت پرانا دوست ہوں “
” جھوٹ ۔۔ ” اسی کے ساتھ وہ آحل باہر کی جانب بھاگا ۔۔
” چالاک ہے بلکل اپنے باپ کی طرح ” مسکرا کر کہتا اب وہ بھی باہر کی جانب آیا ۔۔ جہاں دو لڑکے آحل کو پکڑے کھڑے تھے ۔۔
” چھوڑو مجھے ” وہ مسلسل اپنے آپ کو ان سے چھڑانے میں لگا ہوا تھا ۔۔
” بری بات ۔۔ اچھے بچے اس طرح ضد نہیں کرتے ۔۔ ” ایک ایک قدم اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا۔۔
” نام تو بہت پیارا ہے تمہارا ۔۔ کس نے رکھا پاپا نے یا ۔۔۔ ” وہ اب اسکی جانب جھکا ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھتے ۔۔
” پاپا کے ماسٹر نے ” اور اسی لمحے آحل نے اپنے گال کی طرف بڑھے اسکے ہاتھ پر کاٹا ۔۔ پوری جان لگا کر ۔۔
جبکہ اسکے فوراً اپنا ہاتھ کھینچا ۔۔
” یہ یا بد تمیزی ہے ۔۔۔” اور اسی کے ساتھ اسکا ہاتھ اٹھا اور پوری قوت سے آحل کے گال پر لگا ۔۔ جو اسکے گالوں پر اسکی انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا تھا ۔۔
” بلکل اپنے باپ کی طرح ضدی انسان ہے ۔۔ بند کرو اسے کمرے اور خبردار جو اسے ایک گھونٹ پانی بھی دیا ہو تو ” دونوں لڑکوں سے کہتا اب وہ اپنا ہاتھ سہلائے سیڑھیوں کی جانب بڑھا ۔۔
