Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 14)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 14)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
” یہ سب کیسے ہوا ؟ تم نے کہا تھا کہ وہ سیف ہے ” ماسٹر کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر انکی جانب دیکھا ۔۔
اور جانے کیا تھا اس نظر میں جسے وہ سمجھ نہیں سکا ۔۔ جسے وہ پڑھ نہیں سکا ۔۔
” وہ سیف تھا ۔۔ وہ سیف تھا ہماری نظر میں ماسٹر ۔۔ لیکن سیف تو اصل میں کبھی وہ تھا ہی نہیں ” وہ کہہ کر کھڑا ہوا ۔۔ اور اب ماسٹر کے سامنے آکر رکا ۔۔
” میں اپنی بیوی کھو چکا ہوں ۔۔ لیکن میرا بیٹا ۔۔ اسے کچھ ہوا تو میں کسی کو بھی معاف ہیں کرونگا ” وہ رکا ۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔
” کسی کو بھی نہیں ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ وہ لمبے قدم اٹھایا تیزی سے وہاں سے چلا گیا ۔۔ جبکہ ماسٹر اپنی طرح ہی کھڑا رہا ۔۔
یہ کیا ہوا تھا ؟ یہ مصطفی کا کونسا روپ ؟ یہ کونسی نظریں تھیں ؟
وہ حیران تھا ۔۔ وہ بے حد حیران ۔۔
” وہ پریشان ہے ماسٹر ۔۔ ” عنایہ کی آواز جیسے اسے کسی ٹرانس سے باہر لائ ۔۔ ماسٹر نے اسکی جانب دیکھا۔۔
” اسکا بیٹا اغواہ ہوا ہے ۔۔” عنایہ نے اپنی بات مکمل کی ۔۔ وہ سمجھانا چاہتی تھی کہ یہ مصطفی کا اصل نہیں ہے۔۔ یہ بس اسکی پریشانی ہے۔۔
جبکہ ماسٹر اسکی بات پر مسکرایا ۔۔ ایک اداس مسکراہٹ ؟ نہیں ۔۔ یہ مسکراہٹ کچھ عجیب تھی ۔۔ جسے عنایہ سمجھ نہیں سکی ۔۔
” ہاں ۔۔۔ اسکا بیٹا اغواہ ہوا ہے ۔۔ ” کہہ کر وہ رکا ۔۔ ایک گہری سانس لی ۔۔
” میرے دشمنوں کے ہاتھوں “
اور اسی کے ساتھ عنایہ نے دیکھ لی تھی ۔۔
مصطفی اور ماسٹر کے بیچ آنے والی ہلکی سے یہ دراڈ ۔۔
لیکن کیا دراڈ صرف مصطفی اور ماسٹر کے بیچ آئ ہے ۔۔
یا پھر ۔۔ کہیں اور بھی ۔۔۔
نظر اب اوپر اس کمرے کی جانب گئ ۔۔ جہاں امل نے خود کو بند کیا ہوا تھا ۔۔
جانے یہ سب کیا ہورہا ہے ؟
ایک سوال عناییہ کے ذہن میں پیدا ہوا ۔۔۔
اور اس سوال کا جواب دینے والا وہاں کوئ نہیں تھا ۔۔
“جنید کہاں ہے ؟ ” ماسٹر کا سوال اسکے سوچوں سے باہر لایا ۔۔
” وہ کیمپنگ کی جگہ گیا ہے ۔۔ “
” اور فرہاد “
” وہ تیاری کر رہا ہے ۔۔ “
” کس چیز کی تیاری ؟ “
” دانش سے ملنے کی تیاری ” اور اسی کے ساتھ ایک مسکراہٹ نے عنایہ کے ہونٹوں کو چھوا ۔۔
وہ لوگ قریب تھے قاتل کے ۔۔
یا پھر شاید انہیں ایسا لگ رہا تھا ؟
٭٭٭٭٭
یہ ایک مڈل کلاس علاقے کی تنگ گلیوں میں منظر ہے جہاں ایک شخص مہرون ٹی شرٹ ، بلیک جینس پہنے ، سر پر ہیڈ اور آنکھوں کو کالے چشمے میں چھپائے آگے بڑھ رہا ہے ۔۔ ایک دو گلیوں سے گزر کر اب وہ ایک گھر کے سامنے رکا ۔۔ جس کی حالت یہاں موجود کچھ کئ گھروں سے بہتر تھی ۔۔ تین منزلہ یہ گھر صاف ستھرا اور نیا تعمیر ہوا لگ رہا تھا ۔۔ اسے یاد آیا آج سے آٹھ سال پہلے یہ گھر ایسا ہرگز نہیں تھا ۔۔ لیکن تبدیلی تو آہی جاتی ہے اتنے عرصے میں ۔۔
ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے اب دروازہ بجایا ۔۔
” کون ہے ؟ ” اندر سے کسی خاتون کی آواز آئ ۔۔
” کون ہے ؟ ” دوبارہ پوچھا گیا مگر اس بار بھی وہ خاموش رہا ۔۔
” کون ہے بھئ ” اکتا کر کہتے ایک لڑکی نے دروزہ کھولا ۔۔ جسے دیکھ کر پہلے وہ تھوڑا حیران اور پھر ہلکا مسکرایا ۔۔
” آپ دانش کی وائف ہیں نا ؟ ” سوال ہوا ۔
” جی ۔۔ آپ کون ؟ ” اسے سر سے پاؤں تک مشکوک انداز میں دیکھتے اس نے پوچھا ۔۔
” میں انکا دوست ہوں ۔۔ کیا وہ گھر پر ہے ؟ “
” نہیں ۔۔ وہ شہر سے باہر ہیں “
” بتا سکتی ہیں کہاں ہیں وہ ۔۔ ایکچولی مجھے ان سے بہت ضروری کام ہے “
” میں نہیں جانتی ۔۔ وہ بتا کر نہیں جاتے ۔۔ آپ مجھے اپنا نام بتا دیں وہ آئینگے تو میں انہیں بتا دونگی “
” جی ۔۔ سمیر ۔۔ سمیر نام ہے میرا ” مسکرا کرکہا ۔۔
” اوک ” اور اسی کے ساتھ اس نے دروازہ بند کیا ۔۔
جبکہ وہ شخص اب پلٹا اور دوبارہ انہیں گلیوں سے ہوتے ہوئے ۔۔ سڑک پر کھڑی اپنی گاڑی میں آیا اور موبائل نکالا ۔۔
” اسکی بیوی کچھ چھپا رہی ہے ۔۔ ہمیں دوسرا طریقہ اپنانا ہوگا ” ایک میسیج بھیج کر اس نے موبائل واپس رکھا اور گاڑی سٹارٹ کرنے ہی والا تھا کہ موبائل پر ایک میسیج آیا ۔۔ اس نے دوبارہ موبائل نکالا اور میسیج پڑھا ۔۔
” آحل ۔۔۔ “
بس ۔۔ یہ ایک لفظ ہی کافی تھااور اگلے ہی پل وہ تیزی سے گاڑی آگے بڑھا گیا ۔۔
٭٭٭٭٭
” میرا بیٹا آپ سب کی ذمہ داری تھی ۔۔ اپنی رسپونسیبلیٹی پر لے کر گئے تھے آپ سب اسے ۔۔ ایسے کیسے غائب ہوگیا وہ ” سامنے رکھی کرسی پر زور سے لات مارتے وہ دھاڑا ۔۔ آنکھیں غصے سے لال تھیں ۔۔ جبکہ آس پاس موجود سکول کا سٹاف ڈر پر ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔
” دیکھیں مسٹر مصطفی ہم جانتے ہیں ہم سے غلطی ۔۔۔ “
” غلطی ! ” ایک بار پھر چیخا ۔
” اسے غلطی کہتے ہیں آپ لوگ ۔۔ میرا بیٹا آپ سے کے سامنے گڈنیپ ہوگیا ااور آپ کہتے ہیں کہ یہ غلطی ہے ؟ ” وہ سامنے کھڑی سکول کی پرنسپل جو دیکھے کہہ رہا تھا اور یہ وہی جانتا تھا کہ کس طرح اس نے خو د پر قابو کیا ہوا تھا اگرسامنے کوئ مرد ہوتا تو اب تک وہ اسکی ہڈیاں دوڑ چکا ہوتا ۔۔ گہری سانس لیتے اب وہ خود کر ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
” کیایہ پوراسٹاف ہے ؟ یا کوئ مسنگ ہے ؟ “سامنے کھڑے سٹاف پر نظر دوڑاتے کہا ۔۔
” سب موجود ہیں یہاں سوائے۔۔۔ ” پرنسپل نے بھی ا ب سٹاف کی جانب دیکھا جو ایک دوسرے کو سوالیاں نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔
” سوائے ؟ “
” ہمارے ایک ٹیچر کچھ دنوں کی چھٹیوں پر گئے ہوئے ہیں ۔۔ سر عثمان ” ایک ٹیچر نے کہا ۔۔
” کب سے گئے ہوئے ہیں وہ ؟ ” اب مصطفی نے اسکی جانب دیکھ کر پوچھا ۔
” ایک ہفتے سے ۔۔ “
” کب تک آئینگے ؟ “
” کہہ تو رہے تھے کہ ایک ہفتے میں آجاؤنگا ۔۔ لیکن اب تک آئے نہیں ” ایک دوسری ٹیچر کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” مجھے اس سر عثمان کی سالی ڈیٹیلز اور تصویر چاہئے ” اس نے اب پرنسپل کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔
” سر عثمان کی فائل لائیں ” اپنے ساتھ کھڑی ایچ ۔ایم کو اشارہ کیا اور وہ آفس کی دیوار میں بنے کچھ لاکرز کی جانب بڑھی ۔
ایک لاکر کھولا ۔۔ اور تھوڑی دیر ڈھونڈنے کے بعد ایک فائل مصطفی کی جانب بڑھائ ۔۔
مصطفی نے سب سے پہلے اسکا نمبر ڈائل کیا ۔۔ جوکہ بند تھا ۔
اب اس نے ایڈریس کی جانب دیکھا ۔۔
” فیک ۔۔۔ “
” ساری معلومات فیک ہے ۔۔ ایسے رکھتے ہیں آپ لوگ ٹیچرز ؟ ” ایک بار پھر وہ دھاڑا اور فائل پوری قوت سے دیوار پر ماری ۔۔
” ہم ۔۔ ہم شرمندہ ہے مسٹر مصطفی ” پرنسپل کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” شرمندہ ؟ تم سب کی شرمندگی کیا میرا بیٹاواپس لے آئے گی ؟ ایک بات یارکھنا ۔۔ اگر میرا بیٹا مجھے صحیح سلامت نا ملا تو میں اس سکول کو سیل کر وا دونگا ۔۔ اور آپ سب جانتے ہیں کہ میں یہ کر سکتا ہوں ” انہیں دھمکی دیتا و ہ واپس آکر اپنی گاڑی میں بیٹھا اور سیٹ سےسر ٹکا کر آنکھیں موند دیں ۔۔
” کون ہو تم ؟ کیا چاہتے ہو تم ؟ ” دھیمی آواز میں اس نے کہا ۔ ۔
“کوئ ۔۔ کوئ تو غلطی کی ہوگی اس نے ۔۔ کچھ تو ہوگا جہاں سے ہم اس تک پہنچ سکیں ۔۔ کچھ تو ہونا چاہئے ” اب وہ خاموشی سے سوچنے لگا ۔۔ ہر رخ سے ۔۔
اور اچانک ۔۔ اگلے ہی پل اسکی آنکھیں کھلیں ۔۔
” تمہیں پتہ ہے یہ ماسٹر سے کیسے کمیونیکیٹ کرتا ہے ؟ ” ماضی میں پوچھا گیا اپنا ایک سوال اسےیاد آیا ۔
” تم جانتے ہوں مصطفی ۔۔ ماسٹر کا سیکرٹ آج تک کون جان پایا ہے؟ “
” ماسٹر ۔۔۔ ” اور اسی کے ساتھ مصطفی نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔ ایک امید لئے ۔۔
جبکہ یہاں سے دور ۔۔۔ ایک عمارت کی جانب آؤ تو اس اندھیرے کمرے میں بھوکا پیاسا ایک کونے میں بیٹا آحل ۔۔ رونے میں مصروف تھا جب اچانک اسے کچھ یاد آیا ۔۔ ایک جھٹکے سے کھڑے ہوتے اس کے ایک بٹن پر ہاتھ رکھا اور اسے دبایا ۔۔۔
” مم ۔۔۔ ماسٹر ۔۔ “
اپنے کانوں میں پہنچنے والی اس آواز پر ماسٹر ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا ۔۔
” آحل ۔۔۔ کہاں ہو تم ؟ “
لیکن آحل کو کچھ سنائ ہیں دے رہا تھا ۔۔ سنتا بھی کیسے ؟ اسکا سامان تو وہیں رہ گیا تھا ۔۔ اب وہ ماسٹر کو سن نہیں سکتا تھا ۔۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ شاید ماسٹر اسے سن رہا ہوگا ۔۔
” ماسٹر ۔۔۔ مم مجھے بچائیں ۔۔ یہ بہت برے لوگ ہیں انکل نے مجھے مارا ۔۔ ” اسی کے ساتھ وہ اب باقاعدہ رونے لگا تھا ۔۔
” آحل ۔۔۔ میری آواز آرہی ہے تمہیں ۔ تم کہاں ہوں ؟ ” وہ تڑپ کر بولا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی جو سٹڈی میں داخل ہوا تھا وہیں رک گیا ۔۔
” مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ماسٹر یہاں ۔۔ یہاں بہت اندھیرا ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ کسی نے اس کمرے کا دروازہ تیزی سے کھولا اور اندر آیا ۔۔
” کس سے بات کر رہے ہو تم ہاں ۔۔ ؟ ” ایک مردانہ آواز ماسٹر کے کانوں سے ٹکرائ اور اس نے اپنی آنکھیں بند کر دیں ۔۔ جبکہ مصطفی اب تڑپ کر اسکے پاس آیا ۔۔
” کیا ہوا ۔ کیا ہوا اسے ؟ “
” چلو میرے ساتھ ۔۔ ” اسے اب آحل کے رونے کی آواز آئ ۔۔
” کیا ہوا ہے ماسٹر بتائیں ۔۔ ” مصطفی نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بے چینی سے پوچھا ۔۔
” وہ پکڑا گیا ۔۔ ” ماسٹر نے کہا ۔۔
اور مصطفی ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔
” نن ۔۔ نہیں ۔۔ یہ ایک واحد امید تھی ہماری ” وہ بڑبڑایا ۔۔ جبکہ ماسٹر نے اب اپنی جیب سے ایک چپ نکال کر اسکی جانب بڑھائ ۔۔
” تمہاری پاس بہت کم وقت ہے مصطفی ۔۔ اسے ٹریک کرو ۔۔ اسے ٹریک کرو اس سے پہلے کہ وہ جگہ بدل لیں “
اور اسی کے ساتھ مصطفی نے وہ چپ لی اور تیزی سے باہر کی جانب بھاگا ۔۔
جبکہ امل جو باہر کھڑی سب سن رہی ایک بار پھر بنا ماسٹر سے کوئ بات کئے اپنے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔
” اسکے پاس کچھ ہے ۔۔ یہ کسی سے بات کر رہا تھا ” دانش نے سامنے بیٹھے اپنے باس کو میسج کیا ۔۔ جس نے ایک نظر اس بچے کی جانب دیکھا جو سامنے سر جھکائے کھڑا ہے ۔۔
” تمہیں یاد رکھنا چاہئے تھا کہ یہ مصطفی کا بیٹا ہے ۔۔ ماسٹر اور مصطفی ایک بچے سے انجان کیسے رہ سکتے ہیں ؟ ” جواب بھیجا گیا ۔۔
” اب کیا کریں ؟ یقیناً وہ ٹریک کر لینگے ہمیں ” دانش نے ایک اور مسیج کیا ۔۔
” اس کی ہر چیز بدل لو ۔۔ ہم فوراً نکل رہے ہیں یہاں سے ۔۔ ” اس مسیج کر تے باس اپنی جگہ سے اٹھے اور آگے بڑھے ۔۔
” چلو ۔۔ ” اب دانش اس آحل کی جانب بڑھا جو جانتا تھا کہ اب اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔
” نہیں ۔۔ میں نہیں جاؤنگا ” وہ اب ایک ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔
” جانا تو تمہیں پڑے گا پرنس ۔۔ اسکے علاوہ کوئ راستہ بھی نہیں تمہارے پاس ” معنی خیز مسکراہٹ لئے ا ب وہ اسکی جانب ایک ایک قدم بڑھا رہا تھا ۔۔
” نہیں جاؤنگا میں ” اور اسی کے ساتھ آحل پلٹا اور بھاگا ۔۔
” پکڑو اسے ” سامنے کھڑے لڑکے سے کہا جو اسکے پیچھے بھاگا ۔۔
وہ تیزی سے سیڑھی کی جانب بھاگا ۔۔ اسے اپنے پاپا کے آنے تک کسی بھی طرح یہاں رہنا تھا ۔۔ وہ جانتا تھا کہ پاپا اسے ٹریک کر رہے ہونگے ۔۔ اب بس اسے کچھ وقت چاہئے تھا ۔۔
” رکو میں نے کہا ۔۔ ” وہ لڑکا اب اسکے بہت قریب پہنچ چکا تھا ۔۔ اس نے بھاگتے ہوئے پیچھے پلٹ کر اسے دیکھا وہ اسے کے قریب آرہا تھا ۔۔ وہ اچانک ی گھبرایا اور آگے دیکھے بنا اپنے سپیڈ تیز کی ۔۔ اورسیڑھی پر پاؤں مڑنے کی وجہ سے وہ اپنا بیلنس برقرار نہ رکھ سکا ۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ سیڑھیوں سے گرتا زمین تک آیا ۔۔اور ہوش و ہواس کھو بیٹھا ۔۔ جبکہ اسکے سر سے اب بہت تیزی سے کون بہنے لگا ۔۔
” باس ۔۔۔ وہ گر گیا ۔۔ وہ گر گیا باس ” دانش کی گھبراتی آواز پر باس جو باہر جارہا تھا نے پلٹ کر اس بچے کو دیکھا ۔۔ جس کا خون اب بھی بہہ رہا تھا اور وہ ہوش سے بے گانہ تھا ۔۔
” گڈ ۔۔ اب اسے لے جانا آسان ہوگا ” اسی کے ساتھ ایک مسکراہٹ لئے وہ پلٹا کر واپس جانے لگا ۔۔
” لیکن باس اسے ڈاکٹر کی ضرورت ہے ۔۔ اسکا خون نہیں رک رہا ” دانش نے فکر مندی سے کہا ۔۔
” سیڑھیوں سے گرنے پر کوئ نہیں مرتا دانش ۔۔ ہمیں ماسٹر اور مصطفی کے آنے سے پہلے یہاں سے نکلنا ہے ۔۔ جلدی لے کر آؤ اسے “
سخت لہجے میں اسے کہتے وہ آگے بڑھ گیا ۔۔ جبکہ دانش نے ایک گہری سانس لے کر اس بچے کی جان دیکھا ۔۔
” سوری پرنس ۔۔ ” دھیمی آواز میں کہا وہ کھڑا ہوا ۔۔
” اسکے کپڑے بدل کر اسے باہر لاؤ ” پیچھے کھڑے لڑکے سے کہہ کر وہ بھی اب آگے کی جانب بڑھا ۔
