Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 01)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2

سردیوں کی اس اندھیری رات میں جہاں سب اپنے اپنے کمروں میں نیند کی آغوش میں گم ہیں ۔ وہیں آبادی کے ہی بیچ ایک سنسان سڑک کے کنارےکھڑی گاڑ ی جو کہ دو گھنٹوں سے یہاں موجود ہے میں آؤ تو اسکی پچھلی سیٹ میں ایک شخص بلو جینس اور شرٹ پر گرے اپر پہنے ، صاف رنگت ، آنکھوں میں گلاسس لگائے ، گود میں رکھے لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلا رہا ہے جبکہ کان میں لگے ائیر فون پر مسلسل ایک بلو بتی جل بجھ رہی ہے ۔

اپنی مکمل توجہ سے لیپ ٹاپ سکرین کو دیکھتے کچھ دیر بعد اسکی انگلیاں تھمیں۔ تھوڑا جھک کر غور سے سکرین کو دیکھا اور پھر ۔۔

” مل گیا ! “ وہ اچانک ہی ایکسائیڈ ہو کر چیخا ۔۔ جسکی وجہ سے دوسری جانب موجود کچھ لوگوں کے کان کے پردے ضائع ہوتے بچے ۔۔

” آرام سے مصطفی “ دو لوگوں کی ایک ساتھ آواز ائیر فون کے ذریعے اسکے کونوں سے ٹکرائی ۔۔

“سوری سوری ۔۔ میں بس ایکسائیڈ ہو گیا تھا ۔۔ آخر میں نے اسے ٹریس کر ہی لیا” چیخ کر کہتے وہ ایک بار پھر کی۔ بورڈ پر انگلیاں چلانے لگا ۔۔

” کام کی بات بتاؤ ۔۔ کہاں ہے دو ؟ ” ایک سنجیدہ آواز آئی ۔۔

” وہ اپنے آفس سے کچھ دور ایک گاڑی میں ہے ۔ اس نے اب رائیٹ ٹرن لیا ہے۔۔ اور اسے وہاں سے پکڑنا آپ سب کے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔۔ ہے نا ؟ ” ٹیک لگاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا جبکہ دوسری جانب چار لوگوں کا یہ گروپ اپنی اپنی گاڑی کو رائیٹ ٹرن کی جانب موڑ رہا تھا ۔۔

“بلکل ۔۔ ہمارے ہاتھ سے آج تک کوئی بچا کر نہیں گیا “ انہیں میں سے ایک نے مسکرا کر کہا۔

“مجھے امید ہے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ ماسٹر اور میرے علاوہ کسی نے آج تک ایسا ثابت نہیں کیا “ چیلینجنگ انداز میں کہتا وہ ایک بار پھر سکرین کی جانب متوجہ ہوا ۔۔

جو اسے کسی کی موومنٹ کا سگنل دے رہی تھی ۔۔

” تو آج ہم کر لیتے ہیں “ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے گاڑی کی سپیٹ بڑھائی ۔ جبکہ تیسری جانب موجود اند ھیرے کمرے میں بیٹھا یہ شخص ۔۔ جو کہ ائیر فون کے ذریعے انکی باتیں سن رہا تھا ۔۔ دھیما سا مسکرایا جس سے بئیرڈ میں چھپے اسکے ہلکے سے ڈمپلز ظاہر ہوئے۔۔

” ایک منٹ ۔۔۔ رک جاؤ “ ایک بار پھر مصطفی کی آواز نے سب کے کانوں کو تکلیف پہنچائ۔

” آرام سے مصطفی ۔۔ اب کیا ہوا ؟ “ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نےگاڑی سلو کرتے ہوئے کہا ۔۔

” اسکی گاڑی رک گئی ہے ۔۔ “ اس نے سکرین کی جانب دیکھ کر کہا جہاں سگنل رک چکا تھا ۔۔

“واٹ ! اسکی گاڑی رک گئی ہے اور تم ہمیں بھی روک رہے ہو ؟ پاگل ہو تم ۔۔ اتنا اچھا موقع ہے اسے پکڑنے کا “ اور اس شخص نے ایک بار پھر گاڑی کی سپیٹ تیز کی ۔۔

” یہ اچھا چانس نہیں ہو سکتا ۔۔ ایک مجرم ایسے خطرناک موقع پر کبھی گاڑی اتنے قریب نہیں روکتا ۔۔ یہ ضرور کوئی ٹریپ ہے ۔۔ رک جاؤ “ لیپ ٹاپ کے کی۔ بورڈ پر ایک بار پھر مصطفی نے اپنی انگلیاں چلاتےہوئے کہا ۔

“وہ اس گاڑی میں ہے مصطفی ۔۔ ہو سکتا ہے اسکی گاڑی خراب ہو گئی ہو ۔۔ ہم بس پہنچنے والے ہیں” اسی کے ساتھ اس شخص نے گاڑی تیز کی ۔

” لیکن میرے خیال ۔۔۔ “

” مل گئی گاڑی ۔۔ ہم جارہے ہیں “ اور مصطفی کی بات کو بیچ میں روکتے وہ چاروں پولیس آفیسرز اپنی گاڑی سے باہر نکلے۔۔۔ اب وہ آہستہ آہستہ سامنے کھڑی اس گاڑی کی جانب بڑھے۔۔

” پولیس ۔۔ گاڑی سے باہر نکلو ” پسٹل کا رخ گاڑی کی جانب کر کے ایک نے کہا ۔۔ مگر کوئی بھی گاڑی سے نہ باہر آیا ، نہ کوئی حرکت ہوئی ۔۔

” گاڑی سے باہر نکلو ورنہ ہم فائیر کر دینگے “ ایک بار پھر وارننگ دی گئی اور پھر ۔۔ گاڑی کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور ایک درمیانی عمر کا آدمی باہر آیا۔

” تم ! کون ہو تم ؟ اور باس کہاں ہے تمہارا ؟ “ ان میں سے ایک نے پوچھا ۔۔

” مجھے نہیں معلوم ۔۔ باس نے مجھے یہ گاڑی اپنے گھر لے جانے کا کہا تھا ۔۔ “ گھبراتے ہوئے اس نے کہا جبکہ اب ان آفیسرز کے چہرے کے تاثرات بدلے۔

” تو تمہارا باس اس گاڑی میں نہیں ہے ؟“ حیرانی سے پوچھا ۔۔

” نہیں ۔۔ آپ چیک کر لیں “ اور اس کے ساتھ ایک آفیسر نے آگے بڑھ کر گاڑی چیک کی ۔۔ ” سر ۔۔ اندر کوئی نہیں ہے”

” تو ۔۔۔ “ اور وہ آفیسر تیزی سے اپنی گاڑی کی جانب بھاگا ۔۔

سیٹ پر رکھا ائیر فون ایک بار پھر اپنے کان سے لگایا ۔۔

” مصطفی ! مصطفی ! “ وہ اب اسے پکارنے لگا ۔۔ جبکہ اگلی جانب سے مصطفی کے بجائے ایک بہت سخت اور سنجیدہ آواز آئ۔

“ماسٹر اور اسکی ٹیم کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ٹریپ ہونے والےلوگ ۔۔ ماسٹر کے ساتھ کام کرنے کے قابل نہیں “ اور اگلے ہی لمحے کنکشن ختم ہوگیا ۔

” ہیلو ۔۔ ماسٹر ۔۔ ماسٹر ۔۔ نو “ آفیسر نے اب پوری قوت سے ائیر فون پھینکا ۔۔ ماسٹر کے ساتھ کام کرنے کا چانس وہ کھو چکے تھے ۔۔

جبکہ یہاں سے بہت دور ۔۔ ایک فلیٹ کے اندھیرے کمرے میں بیٹھے ماسٹر نے اب ائیر فون کا بٹن پش کیا ۔۔

” مل گیا وہ ؟” سوال کیا ۔

“بس میں اس تک پہنچنے میں دس سیکنڈز دور ہوں “ لیپ ٹاپ پرتیزی سے ہاتھ چلاتے مصطفی نے جواب دیا ۔۔

” مل گیا ۔۔ وہ بس سٹیشن میں ہے ماسٹر ۔۔ اسکا مطلب ہے کہ۔۔۔۔ ” مصطفی رک کر سیدھا ہوا ۔۔

” ہماری ملاقات کا وقت ہوا جاتا ہے “ اور اسی کے ساتھ ماسٹر کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری ۔۔ جبکہ مصطفی اب ایک بار پھرسکرین کی جانب متوجہ ہو چکا تھا ۔۔

٭٭٭٭

رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔۔ صبح کی روشنی دھیمی دھیمی ہو کر اس شہر میں پھیلنا شروع ہورہی تھی ۔۔جب ایک سنسان سڑک پر بس رکی ۔۔ اور اس میں سے ایک شخص باہر نکلا ۔۔ اسکے نکلتے ہی بس آگے بڑھ گئی جبکہ وہ درمیانی عمر کا شخص اپنے دائیں کاندھے پر ایک بیگ لٹکاۓ تیزی سے آگے بڑھا ۔۔ شاید وہ بہت جلدی میں تھا اور شاید اسکا فلیٹ یہاں سے کچھ دور تھا اس لئے اب وہ بار بار سڑک پر کسی گاڑی کو ڈھونڈ تے آگے بڑھ رہا تھا ۔۔ ابھی کچھ دور ہی گیا کہ اسے ایک گاڑی اپنی جانب آتی نظر آئی ۔۔ اس نے فورا آگے بڑھ کر اسے رکنے کا اشارہ کیا ۔۔ مگر گاڑی شاید رکھنے کے موڈ میں نہیں تھی تیزی سے اسکے پاس سے گزری جس پر اسے افسوس ہوا مگر پھر ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہ گاڑی تھوڑا آگے جاکر رکی ۔۔ اسے رکتا دیکھ کر وہ دوڑ کر اس گاڑی کے پاس آیا ۔۔ بلیک مرر کی وجہ سے اندر موجود شخص اسے نظر نہیں آیا اس لئے اب اس نے ونڈو مرر پر ناک کیا ۔۔

” ایکسکیوزمی۔۔ کیا آپ مجھے لفٹ دے سکتے ہیں ؟ ” اس نے کہا ۔۔ اوراگلے ہی لمحے مرر نیچے ہوا اور اندر موجود لڑکا جس نے آنکھوں پر گلاسس لگا رہے تھے ، کا مسکراتا چہرہ ظاہر ہوا ۔۔

” شیور آجائیں “ اور اسی کے ساتھ وہ خوشی خوشی اس گاڑی میں بیٹھا ۔۔ اورمصطفی نے خوشی خوشی گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔

” یہاں روک دیں ” کچھ دیر بعد اسکے کہنے پر مصطفی نے ایک فلیٹ کے سامنےگاڑی روکی ۔۔

” تھینکس ۔۔ ” اس کا شکر یہ ادا کرتے وہ تیزی سے باہر نکلا اور اپنے فلیٹ کی جانب بڑھا ۔

تھیکس تو یو ٹو ڈئیر کریمنل ” مسکرا کر کہتے مصطفی نے سیٹ کی پشت پر سر لگایا اور آنکھیں موند لیں ۔۔ ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ اس کا موبائل بجا ۔۔ اسنے دیکھا ۔۔

“سکرین پر ” سلیپنگ بیوٹی ” کا نام روشن ہوا ۔۔” اور اسی کے ساتھ مصطفی کی مسکراہٹ غائب ہوئی ۔۔

” میں تمہیں بلکل نہیں بتاؤنگا کہ ہم کہاں ہیں اور یہاں کتنا خطرہ ہے ؟ ” کال ریسیو کرتے ہی مصطفی نے کہا ۔۔ جبکہ دوسری جانب موجود امل ۔۔ جو کہ اپنے ٹیرس پر کھڑی آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔ مسکرائ۔

” مت بتاؤ ۔۔ مگر سوچ لو ۔۔۔ کہیں مجھے مایوس کرنا تمہیں مہنگا نہ پڑ جاۓ “ دھیمے لہجے میں چھپی ایک خطرناک دھمکی دی گئی ۔۔ جس پر مصطفی تلملا اٹھا ۔

“پلیز امل ۔۔ پلیز کچھ مت کرنا ۔۔ پچھلی بار بھی تمہاری شرارت کی وجہ سے ماسٹر نے مجھے پورے ایک ہفتے تک کام میں اتنا مصروف رکھا کہ میرے آنکھوں کے نیچے کالے کالے ہلکے پڑگئے تھے ۔۔ پلیز رحم کرو مجھ پر “ وہ اب اس سے با قاعدہ التجا کر رہا تھا جبکہ دوسری جانب موجود امل کے ہونٹوں کی مسکراہٹ مزید گہری اور آنکھوں میں چمک واضح ہوئی ۔۔

” تم مجھ پر رحم کرو اور میں تم پرکرتی ہوں ۔۔۔ بتاؤ مجھے ۔۔ کہاں ہو تم لوگ ؟ “ اس نے اپنا مقصد بیان کیا

۔۔

” میں نہیں بتا سکتا یار ۔۔ تم جانتی ہوں کہ ہمارا سیکرٹ ہوتا ہے ہم ماسٹر کی پرمیشن کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتے “ اس نے ہمیشہ کی طرح اسے دوبارہ یہی بات سمجھانا چاہی ۔۔ جسے سمجھنے کا امل کا اب بھی کوئی موڈ نہیں تھا ۔

ٹھیک ہے پھر ۔۔ تیار رہو ۔۔ میرے کرموں کی سزا بھگتنے کے لئے” اسی کے ساتھ امل نے کال کٹ کی ۔”

” یا اللہ! کدھر پھنسا دیا مجھے “ اس نے آسمان کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔ وہ جانتا تھا کہ اب امل ضرور کچھ نیا کارنامہ کرنے والی ہے ۔۔ اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی۔۔ وہ اسے روک نہیں سکتا ۔ جبکہ اب اگر اس فلیٹ کی جانب آؤں تو یہ آدمی اب اپنے فلیٹ میں آیاجو اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔۔

“تو فائینلی تمہیں ہرانے والے پہلے شخص کا اعزاز مجھے مل ہی گیا “ اسنے ایک جانداز مسکراہٹ سے کہتے ہوۓ لائیٹ کا سوئچ آن کیا ۔۔ اورپھر ۔۔ اگلے ہی لمحے یہ جاندار مسکر بہت بے جان ہو کر مری ۔۔

بلیک پینٹ کوٹ پہنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ، چوڑے کاندھے،دائیں کلائی میں قیمتی گھڑی ، گردن تک آتے لمبے گہرے براؤن بال، ہلکی بیئرڈ اور اس پر چمکتی آنکھوں سے وہ اسے دیکھ کر مسکرایا جس کی بدولت اسکی شخصیت کو مزید پرکشش بناتے اسکے ڈمپلز ظاہر ہوۓ ۔۔

” مم ۔۔ ماسٹر ! ” کپکپاتے ہوۓ حیرانگی سے اسے دیکتے کہا ۔۔

“ہاں ۔۔ تم جیسے ہر مجرم کا انجام ۔۔ ماسٹر ۔۔ اور ماسٹر کو ہرانے والامجرم آج تک پیدا نہیں ہوا “ اور اس کے ساتھ ۔۔ اپنا دایاں ہاتھ اٹھاکر ماسٹر نے چٹکی بجائی ۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ پولیس کے گھیراؤ میں تھا ۔۔

“چھوڑو مجھے ۔۔۔ چھوڑو “ وہ اب پولیس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔

“ارے آرام سے بھائی ۔۔ فکر مت کرو یہ تمہیں جیل میں چھوڑہی دیں گے “ فلیٹ میں داخل ہوتے مصطفی نے چہک کر کہا ۔۔

“تم ؟؟”

” یس ! میں ۔۔ مصطفی، دی ہیکر “ فخریہ انداز میں اپنا تعارف کروایا جبکہ پولیس اب اسے گھسیٹ پر باہر لے جانے لگی ۔۔

” تو فائینلی یہ مشن بھی کامیاب رہا “ ماسٹر کے سامنے رکھےصوفے پر بیٹھتے ہوۓ مصطفی نے کہا ۔۔ جبکہ ماسٹر اب اپنا موبائل کان سے لگاۓ سنجیدہ بیٹھا تھا ۔۔

اس نے دیکھا ۔۔ ماسٹر بار بار کسی کو کال ملا رہا تھا مگر شایددوسری جانب سے کال پک نہیں کی جارہی ۔۔

“سب ٹھیک ہے ؟ “ کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد کہا ۔۔

“وہ رات سے کال ریسیو نہیں کر رہی “ موبائل کان سے لگاتےماسٹر نے کہا ۔۔

” ہو سکتا ہےبزی ہو “ مصطفی نے ماسٹر سے زیادہ خود کو تسلی دی ۔۔ ضر در امل یہ جان بوج کر کر رہی ہے ۔۔

“رات سے کہاں بزی ہو سکتی ہے وہ ۔۔ ضرور کچھ ہوا ہے “ وہ اب پریشان ہوا ۔۔

“ارے کچھ نہیں ہوا ہے ۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو میری ۔۔۔” اور اسی کے ساتھ مصطفی نے اپنی پھسلتی زبان کو بریک لگائی ۔۔

“تھوڑی دیر پہلے کیا ؟ ” ماسٹر نے اسے گھورتے ہوۓ پوچھا ۔۔

“نہیں ۔۔ کچھ نہیں “ وہ فورا گڑ بڑایا ۔۔۔ اف! مصطفی ! چپ نہیں رہ سکتے”

“کال ملاؤ اسے “ ایک آرڈر ملا ۔۔

“کک ۔۔ کیا ؟ “

” اسے کال ملاؤ اور سپیکر آن کرو “ اس بار آواز میں سختی تھی ۔۔

” پلیز ۔۔ پلیز امل کال مت اٹھانا ” دل سے دعا کرتے اس نے کال مائی ۔۔ اور پھر ۔۔ دوسری ہی بیل پر امل کی آواز سپیکر پر گونجی ۔۔

” ہاں مصطفی کہو ۔۔ میں تمہیں ہی یاد کر رہی تھی رات سے “ اور اسی کے ساتھ مصطفی نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ خطرناک تاثرات لئے ۔۔

” اف ! اللہ پوچھے تمہیں امل ” اور ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر ۔۔ مصطفی امل کے کرموں کی سزا بھگتنے کو تیار تھا ۔۔

جبکہ دوسری جانب کچن شیلف پر موبائل رکھتی امل نے ایک گہری سانس لی۔

” بیچارہ مصطفی ۔۔ آخر تمہیں کب سمجھ آۓ گی کہ تمہیں اپنے ماسٹر کے ساتھ ساتھ میرا پارٹنر بننے کی بھی ضرورت ہے۔۔ آفٹر آل ۔۔ ہم دونوں ایک ہی جیسے ہیں “ اور اسی کے ساتھ ۔۔ ایک مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کو چھوا ۔۔

اب اگر ماسٹر کی جانب آؤ تو مصطفی کو نظروں کے سخت حصار میں رکھتے ہوئے وہ کھڑا ہوا ۔

“ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ آپکو تو معلوم ہے نا امل کو مزاق کرنے کی عادت ہے “ خود کو بچانے کی ایک ناکام کوشش کی ۔۔

“تمہارا مطلب ہے کہ تمہاری اس سے بات نہیں ہوئی “ اس کےسامنے رک کر ماسٹر نے پوچھا۔۔

“نہیں ۔۔ میرا مطلب ہے ہاں ۔۔ نن۔۔ نہیں “ وہ گڑبڑایا ۔۔

“کب کب بات ہوئی تمہاری اس سے ؟ “ ایک خطرناک سوال ہوا۔

“کک۔۔ کل رات اور ابھی “ اور اس سے زیادہ خطرناک جواب۔

” تم ! “ ماسٹر ایک قدم آگے ہوا جبکہ مصطفی فوراً پیچھے ۔۔

” یہ کیس کلوز ہونے تک تم یہیں رہو گے ۔۔ واپس آنے کا سوچنا بھی مت “ سنجیدگی سے اپنا فیصلہ سناتے وہ پلٹ کر جانے لگا ۔۔

” ماسٹر ۔۔ ایسا مت کریں ۔۔ میں یہاں کیا کرونگا ۔۔ اور مایا ۔۔۔ میں نے اس سے پرامس کیا تھا ۔۔ ماسٹر ۔۔ ماسٹر ! “ جبکہ مصطفی بیچارہ اسے پکارتا ہی رہ گیا ۔۔

” تمہیں تو میں چوڑونگا نہیں امل ۔۔ ” اور امل کو کوستے اب وہ اپنا سر تھامے صوفے پر گرا ۔۔

٭٭٭٭

یہ صبح کے نو بجے کا وقت تھا جب وہ تیار ہو کر باہر نکلی ۔۔ وائیٹ شرٹ کے ساتھ بلو ٹراوزر پہنے ، گہرے براؤن کمر تک آتے سکی بالوں کی پونی ڈیل بناۓ جو اسکے تیزی سے چلنے کی وجہ سے جھول رہے تھے ، ہمیشہ کی طرح میک اپ سے بے نیاز چہرہ ، کانوں میں ٹاپس پہنے ، دائیں کلائی میں ایک نازک سابریسٹ اور کاندھے پر سلور بیگ لٹکاۓ وہ اب اپنی گاڑی کی جانب آئی اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ۔۔ پھر گاڑی سٹارٹ کرنے ہی والی تھی کہ اچانک اسے کچھ یاد آیا ۔۔ موبائل نکال کر کسی کا نمبر ڈائل کیا مگر شاید دوسری جانب سے کال ریسیو نہیں کی گئی ۔۔

” لگتا ہے پھر سے کسی آپریشن میں مصروف ہے “ دوبارہ کال لگاتے ہوۓ اس نے کہا ۔۔ اور اس بار بھی دوسری جانب سے کال کا کوئی جواب نہ آیا۔

“اف ! اب اسے ہسپتال سے جاکر لینا ہو گا ۔۔ اکیلے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ” آکتا کر کہتے اس نے گاڑی سٹارٹ کی۔۔ اب اگر اسلام آباد کی اس مصروف سڑک کی دوسری جانب موجود اس ہسپتال کے تیسرے فلور میں آؤ ۔۔ تو ایک روم میں مشینوں میں جکڑا ایک مریض بے ہوش لیٹا تھا جبکہ اسکے ساتھ شائد اسکی بیوی موجود تھی ۔

“انہیں شام تک ہوش آ جاۓ گا ۔۔ ٹانگوں اور ہاتھ میں سٹیچس ہیں اس لئے شاید یہ کچھ عرصہ چل اور زیادہ موومنٹ نہ کر سکیں ۔۔ باقی وقت کے ساتھ ساتھ ایکسرے کی رپورٹ میں واضح ہو گا “ فائل بند کرتے ہوئے مایا نے پر افیشل انداز میں کہا ۔۔۔

” یہ ٹھیک تو ہو جائینگے نا ؟ “

” فکر مت کریں ۔۔ “ فائل واپس رکھتے وہ اب اس روم سے باہر نکلی۔

“روم نمبر 203 کی رپورٹ اور ایک کپ کافی کا بجھوا دینا پلیز “ اپنے پیچھے آتی نرس کو کہتے وہ اب اپنے آفس کی جانب آئی ۔۔ اندر آتے ہی اس نے اپنا کوٹ اتار کر کری کی پشت پر رکھا ۔۔ ساتھ ہی کرسی پر بیٹھتے اس نے ٹیک لگا کر آنکھیں موند یں ۔ وہ تین دن سے نائیٹ شفٹ کر رہی تھی ۔۔ ویسے بھی مصطفی ان دنوں ایک مشن پر گیا تھا تو نائیٹ شفٹ کرنے میں اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔۔ کچھ دیر اسی طرح بیٹھنے کے بعد کسی نے دروازہ ناک کیا ۔۔۔

” آجائیں ” آنکھیں کھول کر سیدھے ہوتے ہوۓ اس نے کہا ۔۔ ایک بائیس تئیس سال کے قریب لڑکا ہاتھ میں کافی کا کپ لئے اندر آیا۔

” تھینک یو ” میز پر کافی کا کپ رکھ کر وہ سر ہلا تا چلا گیا جبکہ مایا نے اب کافی کا کپ اٹھا کر ایک سپ لیا ۔۔۔ ساتھ نظر موبائل پر پڑی ۔۔۔ اسنے دیکھا ۔۔ امل کی تین مسڈ کالز تھیں ۔۔ اور پھر اچانک جیسے اسے کچھ یاد آیا ۔۔

“اوہ نو ۔۔۔“ اس نے فورا امل کو کال بیک کی ۔۔ اور کچھ ہی دیر میں امل نے کال ریسیو کرلی ۔۔

“خیال آگیا آپکو میڈم ؟ “ طنزیہ لہجہ تھا جبکہ مایا مسکرائی۔۔

” سوری ۔۔ ایک پیشنٹ کو چیک کر رہی تھی ۔”

” معلوم تھا مجھے ۔۔ خیر اب جلدی سے نیچے آجاؤ”

“مطلب ؟ تم نیچے ہو ؟ “ وہ فوراً سیدھی ہوئی ۔۔

“یس ۔۔ تمہیں شاید یاد نہیں مگر مجھے یاد ہے ۔۔ آج تمہارےپیارے بیٹے کا ریزلٹ پک کرنا ہے اور وہ یقینا ہمارا ویٹ کر رہا ہو گا ‘ اور امل کی بات پر مایا نے فورا اپنا سر تھاما ۔۔ یہ توواقعی بھول گئ تھی ۔

“تھینک یو امل ۔۔ میں بس ابھی آئی “ کال کٹ کرتے وہ فوراًکھڑی ہوئی اور تیزی سے باہر نکلی ۔۔

“سوری ۔۔ میں بلکل بھول ہی گئی تھی “ گاڑی میں بیٹھتے ساتھ مایا نے کہا ۔

“تم ہمیشہ بھول جاتی ہو مایا ۔۔ تمہیں نہیں لگتا یہ اسکے ساتھ انفئیر ہے “ امل نے سنجیدگی سے کہتے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔

“انفئیر ؟ ” ما یا اسکی بات سمجھی نہیں تھی ۔۔

“ہاں ۔۔ تم دونوں میاں بیوی اپنی اپنی جابز میں اسے وقت دینا بھول جاتے ہو ۔۔ تمہیں نہیں لگتا کہ وہ یہ سب محسوس کرتا ہو گا ؟ “ کئی دنوں سے دل میں موجود بات آج امل نے کہہ ہی دی تھی جس پر مایا اب کچھ شرمندہ ہوئی ۔۔

“تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔۔ میں ہسپتال اور مصطفی اپنے کیسز میں اتنامصروف رہتا ہے کہ کبھی کبھی ہم بھول ہی جاتے ہیں کہ ہمارا کوئی گھربھی ہے ” ایک اداس مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا ۔۔ جبکہ امل نےاب ایک جانب گاڑی روکی ۔۔

“تم دونوں بیسٹ کپل ہو مایا ۔۔ کم از کم میرے اور نائل کی طرح ہروقت لڑتے تو نہیں رہتے ۔” ہنس کر کہتے وہ گاڑی سے باہر نکلی ساتھ ہی مایا بھی۔۔

” اور اگر مجھ سے پوچو تو ۔۔ تم دونوں میری نظر میں بیسٹسٹ کپل ہو ۔۔ لڑتے بھی تو محبت میں ہو نا ۔۔ تم دونوں کو محبت نے کپل بنایا ۔۔ جبکہ مجھے اور مصطفی کو دوستی نے “ اور یہ وہ سچ تھا جس سے کوئی بھی انجان نہیں تھا ۔۔ اور شاید ۔۔ کوئی انجان رہنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔ خاص طور پر مایا ۔۔

“تم روز روز خود کو یہ کیوں یاد دلاتی ہو کہ تم دونوں کی شادی کی بنیاد دوستی ہے ؟ ہو سکتا ہے کہ مصطفی تم سے محبت کر تا ہو مگر کہہ نہ سکا ہو ۔۔۔ جیسے تم کرتی ہو ۔۔ اس سے محبت ۔۔ مگر کہا نہیں کبھی “ اور یہ وہ سچ تھا جو شاید صرف امل جانتی تھی۔۔ اور مایا شاید جاننا نہیں چاہتی تھی۔

“یہ ممکن نہیں ہے ۔۔ مصطفی کو مجھ سے کبھی محبت نہیں تھی ۔۔۔ اور کبھی ہو گی بھی نہیں ” سنجیدگی سے کہتی مایا آگے بڑھی ۔۔ جبکہ امل نے کچھ دیر اسے ایسے حیرانگی سے جاتے دیکھا اور پھر ۔۔ وہ فورا اس کے پاس آئ۔

“تمہیں اتنا یقین کیوں ہے ؟ “ ایک مشکل سوال ہوا ۔

” کیونکہ وہ بہت پہلے ہی کسی اور کی محبت میں گرفتار ہو چکا ہے ” اور اس سے زیادہ مشکل جواب تھا ۔۔ جس نے اس کے قدم روک دیئے تھے ۔۔ جبکہ مایا اب اسے رکتا دیکھ کر رکی ۔۔

” چلیں آئیں صاحبہ ۔۔ وہ ہمارا انتظار کر رہا ہو گا ۔” مسکرا کر اسے کہتے وہ آگے بڑھی ۔۔ جبکہ آج پہلی بار امل نے دیکھا ۔ کتنی پھیکی تھی ۔اسکی مسکراہٹ ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *