Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 09)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 09)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
” ماسٹر کل سے ہی بہت الگ رہے ہیں ۔۔ تمہیں معلوم ہے کیا ہورہا ہے ؟ ” امل کے ساتھ بیٹھتے مصطفی نے سرگوشی میں پوچھا ۔۔
” نہیں ۔۔۔ مگر انکے چہرے کا اطمینان بتا رہا ہے کہ ضرور کوئ راستہ نکال لیا ہے اس نے “
” اگر ایسا ہے تو وہ ہمیں کیوں نہیں بتارہے ؟ “
” ہوسکتا ہے یہی بتانے کے لئے ہمیں یہاں بلایا ہو اس نے ” وہ بیسمنٹ میں بیٹھے ایک دوسرے سے سرگوشی کر رہے تھے ۔۔ یہ پہلی بار تھا جب شام کے پانچ بجے ماسٹر نے انہیں یہاں بلایا ۔۔
” پر مجھے ناجانے ایسا کیوں لگ رہا کہ وہ ہمیں بہت بڑا سرپرائیز دینے والے ہیں ” مصطفی کی چھٹی حس اسے بار بار کچھ ہونے کا اشارہ رکر رہی تھی ۔۔۔ کیا ؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔
” لگ تو مجھے بھی ایسا ہی رہا ہے ۔۔ ” سامنے بیٹھتے واجد نے کہا ۔۔ جبکہ فرہاد بھی اسکے ساتھ بیٹھا ۔۔
” ماسٹر نے اسے بھی لانے کا کہا ؟ ” مصطفی نے حیرت سے فرہاد کی جانب دیکھتے پوچھتے کہا۔۔
” ہاں ۔۔ اتنی روشنی میں اسے یہاں بلانے کا مقصد میری سمجھ سے باہر ہے “
” اب تو پکا کچھ گڑ بڑ ہے ” مصطفی نے حتمی انداز میں کہتے کرسی سے ٹیک لگائ ۔۔
” ایک تو یہ انسان کبھی کوئ کام بنا سسپنس کے نہیں کر سکتا ۔۔۔ پتہ نہیں کیا مزہ آتا ہے اسے دوسروں کو تجسس میں ڈال کر ” امل نے اکتا کر کہا ۔۔
” اور پتہ نہیں کیا مزہ آتا ہے تمہیں میری ٹیم کے ساتھ میری برائیاں کر کے ” ماسٹر آواز پر وہ سب کھڑے ہوئے ۔۔
” نہیں تو ۔۔۔ میں تو کوئ برائ نہیں کی تمہاری ۔۔۔ مصطفی سے پوچھ لو ” اور اب ماسٹر کی نظریں مصطفی کی جانب گئیں تو اپنی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کرر ہا تھا ۔۔
” بلکل ماسٹر ۔۔ امل تو آپکی بہت تعریفیں کر تی ہے ۔۔ کیوں واجد ؟ ” نظر اب واجد کی جانب گئ ۔۔۔ جو گڑبڑایا ۔۔۔
” ہاں ۔۔ ہاں ۔۔۔ بلکل ۔۔۔ امل بھابھی تو ہمیں بتا رہی تھیں کہ وہ کتنی محبت کرتی ہیں آپ سے ۔۔ کیوں فرہاد ؟ ” اور اب نظر فرہاد کی جانب گئ ۔۔ جو کبھی امل ۔۔ تو کبھی ماسٹر کی جانب دیکھتا ۔۔
” ہا ہا ۔۔ بلکل ۔۔۔ امل بہت محبت کرتی ہے آپ سے ۔۔ ہے نا امل ؟ ” بات گھوم کر دوبارہ امل کی جانب آگئ ۔۔ جس کے ہونٹ مسکرائے ۔۔ زبردستی کی مسکراہٹ ۔۔
” بلکل ۔۔ بہت ہی زیادہ ” ایک ایک لفظ چبا کر کہا ۔۔ جیسے کھا جانا چاہتی ہو ۔۔
” اچھا اااا ۔۔۔۔ ” ماسٹر نے لفظ تھوڑا کھینچ کر کہا ۔۔۔
” تو بتا ہی دو آج ۔۔۔ کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے ؟ ” وہ کرسی کھینچ کر بیٹھا ۔۔ جبکہ سب کے منہ حیرت سے کھل گئے ۔۔۔
” کک ۔۔۔ کیا مطلب ؟ ” اب گڑبڑانے کی باری امل کی تھی ۔۔۔
” تم انہیں بتا رہی تھی نا کہ مجھ سے کتنی محبت ہے تمہیں ۔۔۔ اب مجھے بھی بتا دو ۔۔ میرا حق ہے جاننا ” معصومانہ انداز میں کہا گیا ۔۔ جس پر سب کے ہونٹ مسکرائے جبکہ امل نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔
” یہ میں تمہیں بعد میں بتاؤنگی ۔۔۔ تم نے اس وقت ہمیں یہاں کیوں بلایا ۔۔ پہلے یہ بتا دو ” مسکرا کر کہا گیا ۔۔ آنکھوں میں وارننگ لئے جسے سمجھتے ہوئے ماسٹر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔ اب ظاہر ہے سب کے سامنے امل کی زبان کھلوانے کا رزق وہ نہیں لے سکتا تھا ۔۔
” ہم نے ہر طرح کی کوشش کرلی ۔۔ واجد اور فرہاد کی معلومات ۔۔۔ مصطفی کا ہیک کیا ہوا ڈیٹا ۔۔۔ کوئ بھی چیز ہمیں کسی کی کوئ نشانی نہ دے سکی ۔۔۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ سب کرنے سے پہلے ہم سب پر اچھی خاصی ریسرچ کی ہے ۔۔ وہ ہماری انویسٹیگیشن کا طریقہ بھی جانتے ہیں ۔۔۔ ہمارے ہر ممبر کی خاصیت ۔۔ سب کچھ ۔۔۔ اس لئے انہوں نے اپنی کوئ نشانی کہیں نہیں چھوڑی ۔۔۔ ” ماسٹر کی بات پر سب نے ہی سر ہلایا ۔۔۔
” کل رات امل کی کی گئ بات واقعی بہت اہم تھی ۔۔۔ ” اس نے امل کی جانب دیکھا ۔۔ جو سوالیاں نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” سٹیج کے سامنے سے دیکھنے والے ہمیشہ دھوکہ کھاتے ہیں ۔۔ ہمیں سٹیج کے پیچھے ہونے والی کہانی کو جاننا ہوگا ۔۔ ہم میں سے کسی کو سٹیج کے پیچھے جانا ہو گا ” سب نے ایک دوسر ے کی جانب دیکھا ۔۔۔ وہ اب بھی سمجھ نہیں پائے کچھ ۔۔ جبکہ ماسٹر کچھ دیر خاموش کھڑا مصطفی کی جانب دیکھتا رہا ۔۔ اور ماسٹر کی نظریں مصطفی کو اشارہ دے چکی تھیں ۔۔ کہ آگے ہونے والی بات ۔۔ کوئ عام بات نہ ہوگی ۔۔
” تم ڈیوائس ہیک کرتے ہو ۔۔۔ ہر طرح کی ” ماسٹر نے کہنا شروع کیا ۔۔ مصطفی کے ساتھ ساتھ سب ہی اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔
“لیکن ہمیں اب ایسے ہیکر کی ضرورت ہے ۔۔ جو انسانوں کو ہیک کرتا ہو “
ایک نیلے رنگ کی گاڑی اس گھر کے سامنے رکی ۔۔۔
” جو انسانوں کے دماغ میں چلنے والے ہر خیال کو ہیک کرسکتا ہو “
گاڑی کا فرنٹ ڈور کھلا ۔۔ اور ایک پاؤں بلیک پینسل ہیل پہنے باہر نکلا ۔۔
” ایک ایسا ہیکر ۔۔۔ ایک ایسا آفیسر ۔۔۔ ایک ایسا ساتھی ۔۔۔ “
بلیک جینس پر گھٹنوں تک آتا کوٹ اور وائیٹ ٹی شرٹ پہنے وہ دونوں کاندھوں پر بکھرے گولڈن ڈائی کئے ہوئے بالوں کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلی اور دروازہ بند کیا ۔۔
“اور ایک ایسا انوسٹیگیٹر ۔۔ جو مجرموں کا دوست ہو ۔۔ “
ماسٹر رکا اور مصطفی کو لگا ۔۔ اسکی سانس رکی ہو ۔۔
وہ اب آنکھوں میں لگے بلیک گلاسس ہٹائے اور گلابی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے دونوں ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈالے آگے بڑھی۔۔
” جسے کوئ نا پہچانتا ہو ۔۔۔ اور وہ ۔۔۔ ہر آزاد اور ہر قیدی انسان کی رگ رگ سے واقف ہو ” اور اسی کے ساتھ ماسٹر مصطفی کی جانب دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔
” ماسٹر آپ ۔۔ “
” ہیلو ایوری ون ! “
اور پیچھے سے آتی ایک آواز مصطفی کی زبان روک گئ ۔۔۔
یا شاید ۔۔ دل روک گئ ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
” ہیلو ایوری ون ! “
اور اسی کے ساتھ سب نے اس آواز کی مالک ہستی کی جانب دیکھا ۔۔ جو بالوں میں بلیک گلاسس ٹکائے ۔۔ گہری سیاہ آنکھیں ، میک اپ سے پاک چہر ہ ، صاف رنگت ، ہونٹوں پر گلابی لپ گلو لگائے، کانوں میں ایک سلور نگینے کے ٹاپس پہنے، ایک ہاتھ میں گھڑی دوسرا ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈالے ۔۔۔ وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ سب کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔ نظر ماسٹر کی جانب گئ ۔۔ جو اسے دیکھ کر مسکرایا اور سر ہلایا ۔۔۔ پھر ساتھ کھڑی امل ۔۔۔ جو اسے اجنبی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ اب اسکی جانب بڑھی ۔۔
” آپ امل ہے ۔۔ ہمارے ماسٹر کی سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ رائٹ ؟ ” دایاں ہاتھ اسکی جانب بڑھا تے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔
” یس ۔۔ مگر آپ کون ؟ ” اسکا ہاتھ تھامتے امل نے سوال کیا ۔۔ جس پر اس نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔
” میں عنایہ خان ہوں ۔۔ ماسٹر کی ایکس ٹیم ممبر ” اس نے لفظ ایکس پر زور دیا ۔۔۔ جب کے نظر اب امل کے ساتھ کھڑے شخص پر گئ ۔۔ جو بہت دلچسپی سے میز کی سطح کو گھو ر رہا تھا ۔۔
” عنایہ میم ۔۔ واٹ آپلیزنٹ سرپرائیز ۔۔ آپ یہاں کیسے ؟ ” واجد کی ایکسائیٹڈ آواز پر اس نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
” بس ۔۔ ماسٹر نے پکارا اور میں دوڑی چلی آئی ” شرارتی انداز میں کہا جس پر سب ہی مسکرائے ۔۔۔
” اور یہ ۔۔۔ ؟ ” عنایہ نے واجد کے ساتھ کھڑے شخص کی جانب دیکھ کر پوچھا ۔۔
” یہ فرہاد ہے ” جواب ماسٹر کی جانب سے آیا ۔۔ جس پر عنایہ کے چہرے پر سنجیدگی ظاہر ہوئ ۔۔
” اوہ ۔۔۔ اچھا ” اب نظر دوبارہ اسی کی جانب گئ جو اب بھی میز کو دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔
” مصطفی ۔۔۔ ! ” ایک پرانی آواز نے اسے پکارا ۔۔۔ اس نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑی اس آواز کی مالک کی جانب دیکھا ۔۔ ایسا کیسے نہ ہو کہ وہ پکارے اور مصطفی متوجہ نہ ہو ۔۔۔
” کیسے ہو ؟ ” نرم لہجے میں پوچھا گیا ۔۔ ایسا سوال ۔۔ جسکا جواب آج اسے بے حد مشکل لگ رہا تھا ۔۔
” تمہاری وائف کے لئے بہت افسوس ہوا مجھے ۔۔۔ لیکن ڈونٹ وری ۔۔ ہم سب مل کر اسے انصاف دلوائینگے ۔۔ وہ جو بھی ہے ۔۔ اب بچ نہیں سکتا ” وہ کہہ رہی تھی ۔۔ مضبوط لہجے میں ۔۔ مکمل یقین سے ۔۔ اور مصطفی ۔۔ وہ پہلی بار مسکرایا ۔۔
ان چند دنوں میں وہ پہلی بار دل سے مسکرایا تھا ۔۔
” ایسا ہی ہوگا ۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔ تم کیسی ہو ؟ “
” بس ۔۔ تمہارے سامنے ہوں ۔۔ بلکل پہلے جیسی ہی ۔۔۔ ” کاندھے اچکا کر کہتی وہ اس کے برابر رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھی ۔۔
” ہاں ۔۔ وہ تو نظر آہی رہا ہے ۔۔ ” مسکرا کر کہتا وہ بھی اپنی جگہ بیٹھا ۔۔ جبکہ امل نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔ سوالیاں انداز سے ۔۔
” عنایہ تمہارے کیس سے دو سال پہلے تک ہماری ٹیم کا حصہ تھی۔۔ مصطفی اور عنایہ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے ۔۔ ” ماسٹر نے امل کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔
” یہ ا یک بہترین سائیکولاجسٹ ہے ۔۔ “
” کریمنلز کی ۔۔ ” مصطفی نے ماسٹر کی بات مکمل کی ۔۔
” اور دوست بھی ۔۔ ” واجد نے مسکرا کر کہا جس پر امل نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا ۔۔
” مس عنایہ خان کسی نارمل انسان سے دوستی نہیں کرتیں ۔۔ انکے تمام دوست اور ساتھی یا تو کریمنلز ہوتے ہیں یا پھر کوئ ڈان ٹائپ کے لوگ ” واجد کی بات پر امل حیران ہوئ ۔۔
” یہ تو بہت خطرناک ہے ” مصطفی کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے عنایہ کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔
” ہاں ۔۔ مگر میں اس میں ایکسپرٹ ہوں ۔۔ ان سب کی نظر میں ،میں ان جیسی ہی ہوں ۔۔۔ کوئ بھی میری اصل پہچان نہیں جانتا ۔۔ اور نا ہی کوئ یہ جانتا ہے کہ میں ماسٹر کے ساتھ کام کر تی تھی ۔۔ “
” مگر ۔۔ اس سے پہلے کبھی مجھے کسی نے اس بارے میں کچھ بتایا نہیں ” اس نے دوبارہ ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔
” عنایہ کی جلد ہی شادی ہوگئ تھی ۔۔ اس کے بابا کی پسند سے ۔۔ اس لئے اسے سب چھوڑ کر جانا پڑا “
” اور اب ؟ ” امل کے سوال پر مصطفی کی نظریں بھی اسکی جانب اٹھیں ۔۔ وہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ اتنے سالوں بعد ۔۔ وہ اب یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔
” ایکچولی میری کچھ سال پہلے ڈائیوارس ہوگئ تھی ۔۔ ” مسکرا کر کہتی وہ وہاں موجود ہر انسان کو حیران کر گئ ۔۔ سوائے ماسٹر کے ۔۔ جو پہلے ہی سے سب جانتا تھا ۔۔
” اوہ ۔۔ آئ ایم سوری ۔۔ ” امل نے دھیمی لہجے میں کہا ۔۔
” اٹس اوک ۔۔ یہ میری مرضی سے ہی ہوا ۔۔ اور میں تو ڈائیوارس کے بعد ماسٹر کی ٹیم میں دوبارہ آنا چاہتی تھی مگر ماسٹر نے مجھے روک لیا ۔” اور اب مصطفی کی حیرانی میں اضافہ ہوا ۔۔
” آپ کانٹیکٹ میں تھے ؟ “
” آفکورس ۔۔ میں اپنے کسی بھی ساتھی کو کبھی نہیں بھولتا ۔۔ چار سال پہلے عنایہ نے مجھ سے کہا کہ وہ واپس آنا چاہتی ہے ۔۔ مگر اس وقت یہ ٹھیک نہیں لگا ۔۔ اس لئے میں نے اسے کراچی بھیج دیا۔۔ وہاں سے آنے والی ہر ریپورٹ عنایہ ہی کی جانب سے آتی تھی “
” اور اتنے سالوں بعد ۔۔ فائنلی کل رات ماسٹر نے مجھے واپس بلایا ۔۔ اور دیکھو ۔۔ میں آگئ ۔۔ دوبارہ اپنی پرانی جگہ سنبھالنے ” کاندھے اچکا کر کہتی وہ مسکرائ ۔۔ جبکہ مصطفی اب بھی ماسٹر کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔
” آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ ” دھیمی آواز میں اس نے سرگوشی کی جو امل کی کانوں تک پہنچ گئ ۔۔
” تمہیں بتادیتا تو کیا کر لیتے تم ؟ ” اور ماسٹر کا سوال اسے لاجواب کر گیا ۔۔۔
” تو ۔۔ اب کام کی بات پر آتے ہیں ” اسی کے ساتھ ماسٹر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔
” اس وقت اگر ہمارے پاس کوئ امید ہے ۔۔ تو وہ عنایہ ہے ۔۔ شہزاد شاہ کیسے فرار ہوا ؟ مایا کہ ساتھ کس نے یہ سب کیا ۔۔ اور آگے کیا ہوسکتا ہے ۔۔ اس بارے میں اب تمہیں معلوم کرنا ہے عنایہ ۔۔۔ کیونکہ ہم میں سے کسی کو بھی کوئ کلو نہیں ملا ۔۔ یعنی یہ سب مکمل انسانوں کے بیچ ہوا ۔۔ اور انسانوں سے کھیلنا تمہارا ہنر ہے “
” ڈونٹ وری ماسٹر ۔۔ میں آج سے ہی اس کام میں لگ جاتی ہوں ” مکمل کانفیڈنس سے کہتی وہ مصطفی کی جانب متوجہ ہوئ ۔۔
” اور تم پہلے کی طرح میرے ساتھ ہوگے ” اس نے جیسے مصطفی کو یاد دلایا ۔۔
” جیسا آپ کہیں ایڈوکیٹ صاحبہ ” مسکرا کر کہا گیا ۔۔
” واجد تمہیں ساری ریپورٹ دیگا ۔۔ ” ماسٹر نے واجد کی جانب دیکھ کر کہا جس نے سر ہلایا ۔۔
” مگر مجھے جیل میں کام کرنے والے ہر ایک بندے اور ہر اس قیدی کی ڈیٹیلز بھی چاہئے جو کہ ان کے ساتھ تھا ” عنایہ کی جانب سے کہا گیا۔۔
” ڈونٹ وری ۔۔ سب کے نام اور کام میں اور فرہاد معلوم کر لینگے ۔۔ ” واجد کی جانب سے جواب آیا ۔۔
” اور ان سب کا ڈیٹا نکالنا میرا کام ہے ” مصطفی کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” گڈ ۔۔ پھر کل صبح تک تم سب کے نام اور ایڈریسز مصطفی کو دوگے ۔۔ اور مصطفی انکا ڈیٹا نکال کر تمہیں دیگا ۔۔ مجھے امید ہے کہ اس بار تمہیں کوئ نا کوئ کلو ضرور ملے گا ” ماسٹر نے ایک امید سے کہا ۔۔
” بلکل ملے گا ۔۔ میں کل صبح دونوں ہسپتالوں کو وزٹ کرونگی ۔۔ وہاں کے سٹاف سے ڈیٹیلز نکلوانے کی کوشش کرتی ہوں “
” گڈ ۔۔ سو ۔۔ بیسٹ آف لک ۔۔ ” اور یہ میٹنگ ختم ہونے کا اشارہ تھا ۔۔ سب ایک ایک کر کے اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر باہر نکلے ۔۔ جبکہ آخر میں ماسٹر اور امل ہی وہاں رہ گئے ۔۔
” یہ وہی ہے نا ؟ ” امل کی جانب سے سوال ہوا ۔۔ جس پر ماسٹر نے گہری سانس لی ۔۔
” ہاں ۔۔ اسے ہی ہونا تھا ” اور ماسٹر کا جواب ۔۔ امل کو سب سمجھا گیا ۔۔
٭٭٭٭٭٭
وہ سکول سے باہر نکلا تو نظر سامنے ہی گاڑی کے ساتھ کھڑے مصطفی کی جانب گئ جو اسے لینے آیا تھا ۔۔ وہ اسکی جانب بڑھا ۔۔
” کیسا رہا آج کا دن ؟ ” اسکا بیگ بیک سیٹ پر رکھتے ہوئے مصطفی نے پوچھا ۔۔
” اچھا تھا ” فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھا ۔۔ اور مصطفی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔
” گڈ ۔۔ کوئ مسئلہ تو نہیں ہے نا ؟ ” گاڑی سٹارٹ کرتے ساتھ کہا ۔۔
” نہیں ۔۔۔ ” وہ سر جھکا کر بولا ۔۔ مصطفی نے دیکھا ۔۔ وہ کسی سوچ میں گم نظر آرہا تھا ۔۔
” کیا کوئ بات ہوئ ہے ؟ “
” وہ ۔۔ پرسوں سب سکول کی طرف سے کیمپنگ کے لئے جارہے ہیں ۔۔ ” دھیمی آواز میں کہا گیا ۔۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔ تمہیں بھی جانا چاہئے “
” مگر میرا دل نہیں چاہ رہا ۔۔ ” اداس لہجہ تھا ۔۔
” پھر تو جانا اور بھی ضروری ہے ۔۔ اس طرح تمہارا دل بدل جائے گا “
” کیا آپ میرے ساتھ نہیں جاسکتے ؟ ” اس نے ایک امید سے پوچھا ۔۔ جبکہ مصطفی نے نظریں چرائیں ۔۔
” تم جانتے ہو یہ مشکل ہے “
” جی ۔۔ ” سر جھکا کر کہا گیا ۔۔
” پر آئ پرامس ۔۔ اگلے سال میں تمہارے سال ضرور جاؤنگا ” اور اسکے پرامس پر وہ مسکرا دیا ۔۔ نظر کھڑکی سے باہر گئ ۔۔ جہاں بہت سے گاڑیاں ان کے ساتھ ہی سڑک پر رواں تھیں ۔۔ انہیں میں ایک بلیک کرولا بھی شامل تھی جو انکی گاڑی سے تھوڑا پیچھے چل رہی تھی ۔۔
اس کے اندر دیکھا جائے تو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے موبائل پر کسی کو کال ملائ ۔۔ جو دوسری ہی بیل پر ریسیو کر لی گئ ۔
” کام ہوگیا ہے ۔۔ وہ سب پرسوں کیمپنگ کے لئے جارہے ہیں ” سامنے چلتی مصطفی کی گاڑی کی جانب نظر ٹکاتے ہوئے کہا ۔۔
” گڈ ۔۔۔ یہ کیمپنگ ان کے لئے یادگار ہونی چاہئے ” دوسری جانب سے باس کی آواز آئ ۔۔
” فکر مت کریں ۔۔۔ اس بار وہ سنبھل نہیں پائینگے ” مسکرا کر کہتے اس نے کال کٹ کی ۔۔ نظر اب بھی مصطفی کی گاڑی کی جانب تھی جو کہ ایک گھر کے سامنے رکی ۔۔ ماسٹر اور امل کے گھر ۔۔۔
٭٭٭٭٭
