Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 18)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 18)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
وہ بالکنی میں کھڑی کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔۔ اسے آج وہ گھر چھوڑے پورا ایک ہفتہ ہوچکا تھا اور اس ایک ہفتےمیں وہ ایک بار بھی یہاں سے باہر نہیں نکلی تھی ۔۔
” آخر کب ختم ہوگا یہ انتظار ۔۔ ” سوچتے ہوئے وہ آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔ اب تک انہوں نے دوبارہ اس سے کوئ رابطہ نہیں کیا تھا ۔ اور اس نے کوشش کی تو نمبر بند جارہا تھا ۔۔ وہ چھوڑ کر تو آگئ تھی پر اب یہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ آگے کیا ہوگا ؟
ابھی انہیں سوچو ں میں وہ گم تھی کہ اچانک اس کے موبائل کی میسیج ٹیون بجی ۔ اس نے دیکھا ایک انجان نمبر کا میسج تھا ۔
” صرف گھر چھوڑ دینے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ تمہیں اسے مکمل طور پر چھوڑنا ہوگا تب ہی تمہیں تمہارا بیٹا واپس ملے گا۔”
ساتھ ہی آحل کی ایک تصویر بھی بھیجی گئ تھی جہاں وہ بیڈ پر سویا ۔ یا شاید بے ہوش تھا ۔ سر کی پٹی اب اتار دی گئ تھی زخم اب کافی حد تک بھر چکا تھا لیکن یقیناً وہ نشان چھوڑ نے والا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں نے ایک بار پر گھیرا کیا ۔
اگلے ہی پل میسج ٹیون ایک بار دوبارہ بجی ۔
” جانتی ہوں تمہارے یہ آنسو بہت سکون دیتے ہیں مجھے ۔ ” وہ میسج پڑھ کر حیران نہیں ہوئ تھی ۔ جانتی تھی کہ وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ بس اس نے اب اپنے آنسو صاف کئے ۔
ایک اور میسج آیا ۔
” تمہارے لئے کچھ بھیجا ہے میں نے ۔۔ دروازہ کھولو “
وہ میسج پڑ ھ کر تھوڑی حیران ہوئ اور پھر تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی ۔۔
دروازہ کھولا پر سامنے کوئ نہیں تھا ۔۔ نظر زمین پر گئ جہاں ایک لفافہ رکھا تھا ۔۔ اس نے جھک کر لفافہ اٹھایا جس پر اسکا نام لکھا تھا اور اندر آگئ ۔
جانے کیوں پر یہ لفافہ کھولتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپے تھے ۔۔
جانے کیوں پر دل بہت زورسے دھڑکا تھا ۔ پر یہ اچھے انداز میں نہیں تھا ۔ یہ کچھ بہت برا ہونے کا اشارہ تھا ۔
کیا ان سب سے بھی برا کچھ ہوسکتا ہے ؟
اس سے سوچتے ہوئے لفافہ کھولا ۔ اس میں سے رکھا پیپر نکال کر کھولا ۔۔
اور پھر اگلے ہی لمحے اسکی سانسیں جیسی اٹک گئیں تھیں ۔
آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئیں تھیں ۔۔
اب اسکا پورا وجود کانپے لگا تھا ۔۔
مسیج ٹیون ایک بار پھر بجی ۔۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے ایک بار پھر میسج کھولا ۔
” زیادہ کچھ نہیں ۔۔ بس ان پیپر پر ماسٹر کے سائن کروانے ہیں تم نے ۔۔ ورنہ تمہارا بیٹا کبھی اٹھے گا بھی یا نہیں ؟ یہ بتانا تھوڑا مشکل ہوگا ۔۔ “
اور اسی کے ساتھ موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا تھا ۔
نظر ایک بار پھر اس پیپر پر گئ ۔ جس پر بولڈ حروف میں دو حر ف واضح لکھے تھے ۔۔
” ڈائیوورس ایگریمنٹ “
اور اسے لگا ۔۔
جیسے جسم سے جان اچانک ہی نکلی ہو ۔۔
وہ اگلے ہی پل زمین بوس ہوئ تھی ۔
٭٭٭٭
” اتنے دن ہوگئے ہیں ۔۔ وہ اب تک نہیں آیا اسے آجانا چاہئے تھا نا اب تک تو ” عنایہ نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا ۔
” وہ بہت چالاک ہے ۔۔ سمجھ گیا ہے ہماری چال کو اسی لئے تو بیوی کے بلانے پر بھی نہیں آیا ” اسکے گھر کے دروازے پر نظر رکھتے فرہاد نے کہا ۔
وہ کتنے ہی دن سے دانش کے انتظار میں یہاں تھے کہ شاید وہ آجائے لیکن وہ تو جیسے یہاں بھٹکنے کو بھی تیار نہیں تھا ۔
” ہم کب تک ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہینگے فرہاد ؟ اس نے اسکی جابن دیکھتے کہا جو بہت سنجیدہ دکھ رہا تھا ۔
” اس کے علاوہ اور کوئ آئیڈیا ہے تمہارے پاس ؟ ” اسکی جانب دیکھتے سوال کیا ۔
” میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ ہمارے یہاں بیٹھ کر انتظار کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔ ہمیں کچھ ایسا کرنا ہوگا جس سے وہ خود تڑپ کر اپنے بل سے باہر آئے ۔۔ بنا سوچے سمجھے ” سامنے دیکھتے ہوئے اس نے پر سوچ انداز میں کہا ۔۔
” ایسا کیا کر سکتے ہیں ہم ؟ ” اس نے خود کلامی کی جبکہ اگلے ہی پل فرہاد کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری ۔
” سمجھو ہو آگیا باہر ” مسکرا کر کہتے اس نے ایک بار پھر سامنے کی جانب دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کی ۔
” کیا مطلب ؟” عنایہ اس اچانک تبدیلی پر حیران ہوا ۔۔ کہاں وہ اتنے دنوں سے یہاں سے ہلنے کو تیار نہیں تھا کہ کہیں دانش ہاتھ سے نہ نکل جائے اور کہاں اب وہ مسکراتے ہوئے گاڑی واپس موڑ رہا ہے ؟۔
” مطلب یہ کہ اس بار میں ایسی رگ پر ہاتھ رکھونگا کہ وہ تڑپ کر چیختے ہوئے خو د اپنی مرضی سے ہمارے پاس آئے گا ۔۔ ” اور اسکی مسکراہٹ گہری ہوئ جبکہ عنایہ کو یہ مسکراہٹ بہت خطرناک لگی ۔
” تم کیا کرنے والے ہو ؟ “
” وہی جو کئے ہوئے سالوں گزر گئے ۔۔ پر لگتا ہے وہ مجھے مس کر رہا ہے ” اور اس بار ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا ۔
” کون ؟ ” ناسمجھی سے پوچھا گیا ۔ جس پر فرہاد نے اسکی جانب دیکھا ۔
” کرائم ۔۔ میرا کرائم مجھے مس کر رہا ہے “
اور اسی کے ساتھ گاڑی کی رفتار بڑھاتے ہوئے وہ دوبارہ سامنے متوجہ ہوا ۔۔
جبکہ عنایہ اب بھی حیرا ن تھی ۔
” یہ آخر سب کو ہو کیا رہا ہے ؟ “
٭٭٭٭٭
وہ حویلی سے نکل کر اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا ۔۔
ایک نظر اور اس حویلی پر ڈالی جہاں آج ہو آٹھ سال بعد آیا تھا ۔۔
جہاں کچھ بھی نہیں بدلا تھا ۔ آج بھی سب ویسا کا ویسا ہی تھا ۔
فرق بس یہ ہے کہ کبھی یہاں ایک خاندان رہتا تھا اور اب ۔۔ اب یہاں بس چند ملازمین تھے جو اسکی دیکھ بھال کے لئے رکھےگئے تھے ۔
لیکن وہ یہ سب دیکھنے نہیں آیا تھا ۔۔
اور جس کام کے لئے وہ آیا تھا ۔۔ وہ کام شاید ہو گیا تھا ۔۔
اس نے اپنے ہات میں پکڑے اس کاغذ کی جانب دیکھا جہاں ایک ایڈریس لکھا تھا ۔
کراچی کا ایڈریس ۔۔
” آپ نے کیسے سوچ لیا چچا کے میں اپنوں سے انجان رہونگا ؟ ” کاغذ سامنے رکھتے ہوئے اس نے کہا ۔
” ماسٹر کبھی کسی سے انجان نہیں رہتا ۔ ۔ ہاں اس بار پھر میں آپکی نیت اور ارادوں سے انجان رہا ” وہ رکا ۔ ایک گہری ساتھ لی ۔
” جس کا افسوس ہے مجھے “
” پر اب بس ۔۔ ” کہتے ساتھ اس نے گاڑی سٹارٹ کی ۔
” اب وقت آگیا ہے کہ آپ کو یاد دلایا جائے کہ میں کون ہوں ” اب گاڑی آگے بڑھنے لگی ۔
” میں سب کھو چکا ہوں ۔۔ اب تمہاری باری ہے جمشید شاہ ” اور اسی کے ساتھ گاڑی تیزی سے حویلی کے مین گیٹ سے نکل کر سڑک سے گزر گئ ۔۔ جبکہ واپس اس حویلی کی جانب آؤں تو داخلی دروازے پر کھڑے دو ملازم گاڑی کے جاتے ہی اندر کی جانب بڑھے ۔۔
” تجھے ڈر نہیں لگ رہا ” دائیں جانب چلنے والے ملازم نے دوسرے سے پوچھا ۔
” ڈرنا تو اب بڑے صاحب کو پڑے گا ۔۔ چھوٹے صاحب جس طرح گئے ہیں وہ انہیں چھوڑینگے نہیں “
” بڑے صاحب کو چھوڑ ، اپنی فکر کر ۔ بڑے صاحب کو پتہ چلا نا کہ تو نے انکے ساتھ دھوکا کیا ہےتو تجھے بھی مار دینگے”
” اور اگر میں چھوٹے صاحب کو ایڈریس نہیں بتاتا تو وہ مجھے بڑے صاحب سے پہلے مار دیتے ۔۔ اچھی طرح جانتے تھے کہ میں سب جانتا ہوں اس لئے تو سیدھا میری گردن پر ہاتھ آیا انکا “
” وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ واپس آکر ہمیں بھی نہیں چھوڑینگے “
” کم از کم ہم زندہ تو رہنگے نا ۔۔ چل اب زمینوں پر بھی جانا ہے “
اوراسی کے ساتھ انکی آوازیں رکیں تھیں ۔۔
جبکہ نائل شاہ جوکہ اب یہاں سےکافی دور نکل چکا تھا نے ایک نمبر ڈائل کیا ۔
” ماسٹر ” عنایہ کی سنجیدہ آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ ۔
” یہاں ہو تم دونوں؟”
” ہم واپس آرہے ہیں ۔۔ ” وہ رکی ۔۔
” فرہاد کے پاس شاید کوئ اور پلین ہے ” اپنی بات مکمل کی جس پر ماسٹر نے سر ہلایا ۔
” میں تمہیں ایک ایڈریس بھیج رہا ہوں ۔۔ تمہیں کل ہی وہاں پہنچنا ہوگا ۔ لیکن جب تک میں نہ کہوں کوئ ایکشن مت لینا “
” اوک ماسٹر۔۔ پر وہاں ہے کیا ؟” اس نے سوال کیا ۔۔جس پر ماسٹر کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئ ۔
” سرپرائیز “
اور اسی کے ساتھ اس نے کال کٹ کی ۔۔ جبکہ عنایہ کو ایک بار پھر حیران ہونا پڑا ۔
” ماسٹر بھی ؟”
” ماسٹر بھی کیا ؟ ” فرہاد نے اسکے حیران چہرے کی جانب دیکھتے پوچھا ۔
” انہوں نے کہا ایک سرپرائیز ہے ۔۔ “
اسکی بات سنتے فرہاد مسکرایا ۔
” ویل ڈن ” وہ ایک بار پھر سامنے متوجہ ہوا ۔
” ایک کرائم کرنے چلا ہے اور دوسرا کریمنل کو پکڑنے ۔۔ ماسٹر کی ٹیم کچھ عجیب نہیں ہوگئ ؟ ” وہ سب سوچ کر رہ گئ ۔۔
