Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 15)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 15)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
” یہ سب کیسے ہوا ؟ ” اسکے سامنے کھڑے فرہاد نے پوچھا ۔۔ چہرے پر پریشانی واضح تھی ۔
” ہم نہیں جانتے ۔۔ مصطفی سب چیک کر کے آیا تھا سب ٹھیک تھا پھر یہ سب ؟ ” عنایہ کے لہجے میں بھی الجھن واضح تھی ۔
” کہاں ہیں سب ؟” اس نے آس پاس نظر دوڑاتے کہاں جہاں ان کے سوا کوئ نہیں تھا ۔
” ماسٹر اور مصطفی ، آحل کو ڈھونڈنے کو شش میں لگے ہیں ۔۔ واجد تمہارے بتائے ہوئے باقی لوگوں کی معلومات لینے گیا ہے اور امل صبح سے اپنے کمرے میں بند ہے ۔۔ ” آخری بات پر وہ چونکا ۔
” صبح سے ؟ “
” ہاں ۔۔ جب سے اسے آحل کے غائب ہونے کا معلوم ہوا ہے ۔۔ وہ کمرے میں بند ہے نا کوئ جواب دے رہی ہے اور نا ہی دروازہ کھول رہی ہے ۔۔ سمجھ نہیں آرہا میں کیاں کروں ؟ ” وہ اب اپنا سر تھام کر صوفے پر بیٹھی ۔۔
جبکہ فرہاد اب سیڑھیوں کی جانب بڑھا ۔۔
” تم کہاں جارہے ہو؟ ” اسے تیزی سے اوپر جاتے دیکھ عنایہ نے پوچھا ۔۔
” وہ جواب نہیں دے رہی مگر سن سب رہی ہے ۔۔ ” کہتے ہوئے وہ اب تیزی سے امل کے کمرے کے دروازے کے سامنے آکر رکا اور اسے ناک کیا ۔۔
” امل ۔۔ یہ میں ہوں فرہاد “
فرہاد کو آواز اسکےکانوں سے ٹکرائ پر وہ اپنی جگہ سے ہلی نہیں وہ ایسے ہی بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی رہی ۔۔ نظریں چھت پر ٹکائے ۔۔
” میں جانتا ہوں تم آحل کو اپنی اولاد کی طرح پیار کر تی ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ تمہارے لئے بہت اہم ہے ۔۔ ” اس نے کہتے ہوئے اپنا ماتھا دروازے پرٹکایا ۔۔
” پر تمہیں یہ جاننا ہوگا کہ ہم سب اس سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ وہ ہم سب کے لئے بہت اہم ہے امل اور ہم اسے کچھ نہیں ہونے دینگے ۔۔ وہ جہاں بھی ہے، جس کسی کے پاس ہے ۔۔ میں اسے تمہاے پاس لے کر آونگا ۔۔ صحیح صلامت ۔۔ یہ میرا وعدہ ہے تم سے ۔۔ ” اپنی بات مکمل کر کے اس نے سر اٹھایا اور اس بند دروازے کی جانب دیکھا ۔
” چلتا ہوں ” وہ کہہ کر جس تیزی آیا تھا اسے تیزی سے چلا گیا جبکہ امل ۔۔ وہ اب بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلی ۔۔۔ جانے وہ کن سوچوں میں گم تھی ؟
” چلو ” عنایہ سے کہتے ہو آگے بڑھا ۔۔
” کہاں ؟ ” اسکے پیچھے آتے اس نے پوچھا ۔۔
” دانش کی وائف ۔۔ ایک وہی ہے جو ہمیں اس تک پہنچا سکتی ہے ۔۔” گاڑی میں بیٹھتے کہا ۔
” پر تم گئے تھے نا وہاں ؟ ” اس کے ساتھ بیٹھتے عنای نے پوچھا ۔
” ہاں ۔۔ لیکن کیا ہے نا اسے میری شرافت سمجھ نہیں آرہی اور کیونکہ میں ایک بہت خطراناک بدما ش ہوں اس لئے میں چاہتا ہوں اسے دوسرا موقع دیا جائے ۔۔ ” گاڑی سٹارٹ کی ۔۔
” تمہارا مطلب ہے کہ میں ہوں اسکا دوسرا موقع ؟ “
” بلکل ۔۔ تم مجھ سے تھوڑی کم خطرناک ہو ” مسکراتے ہوئے کہا ۔
” ویل ۔۔ میرا نہیں خیال کہ آپ مجھے اتنا جانتے ہیں کہ اسطرح کے کمنٹس پاس کر سکیں مجھ پر ؟ “
” میرے لئے اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ آپ ماسٹر کی ٹیم اور مصطفی کی پارٹنر ہیں ۔۔ اس کے بعد کچھ جاننے کی ضرورت بھی نہیں رہتی” کہتے ہوئے اس نے یو۔ٹرن لیا ۔۔ جبکہ عنایہ نے کوئ جواب نہیں دیا ۔
کہہ تو وہ ٹھیک ہی رہا تھا آخر ۔۔
٭٭٭٭٭٭
تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد انکی گاڑی ا ب شہر سے تھوڑا دور ایک سنسان علاقے کے بیچ ایک گھر کے سامنے رکی ۔۔ جو دو منزلوں پر مشتمل تھا ۔۔
” جلدی ڈاکٹر کا انتظام کرو اسکی حالت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔ ” ہوش سے بے گانے آحل کو بازؤں میں اٹھائے وہ اندر کی جانب بڑھا ۔۔
ایک ہاتھ سے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر آیا اور اسے بیڈ پر لٹایا ۔۔ سر پر لپٹا کپڑہ اب خون سے بھرا ہوا تھا ۔۔
” یہ اچھا نہیں ہوا ۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے ” اس کی نبض چیک کر تے اس نے کہا جوکہ بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔۔
” ڈاکٹر کو بلاؤ ۔۔ جلدی ” وہ چیخا ۔۔ اور اسکی چیخ پر باہر بیٹھے باس نے افسوس سے سر ہلایا ۔۔
” ایک کریمنل کو اتنا جزباتی نہیں ہونا چاہئے ۔” خود سے کہتے اب ا س نے ایک کال ملائ ۔۔
” کیا ریپورٹ ہے ؟ “
” چاروں جانب ہل چل مچی ہوئ ہے باس ۔۔ مصطفی اور ماسٹر ہمیں ٹریک کر نے میں لگے ہیں ۔۔واجد غائب ہے ، فرہاد اور وہ نئ لڑکی عنایہ بھی کچھ دیر پہلے گھر سے نکلے ہیں ۔۔ وہ شاید دوبارہ دانش کے گھر جارہے ہیں ۔”
” اور ہماری سلیپنگ بیوٹی ؟ و ہ کیا کر رہی ہے ؟ ” اس سوال پر ہونٹ مسکرائے ۔۔
” وہ صبح سے اپنے کمر ے میں بند ہے ۔۔ کسی سے کوئ بات نہیں کی اور نا ہی دروازہ کھول رہی ہے ” امل کے کمرے کی کھڑی کی جانب دیکھتے اس شخص نے کہا ۔۔
” یہ عجیب ہے باس ۔۔ ” اب کی بار وہ کنفیوز ہوکر کہا ۔
” ہاں ۔۔ مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ماسٹر اور امل کے درمیان کچھ چل رہا ہے ۔۔ میں نے ماسٹر کو اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا ۔۔ آٹھ سال پہلے بھی نہیں ۔ تم ان پر نظر رکھو ۔ ” کہتے ساتھ اس نے کال کٹ کی اور سامنے دیکھا جہاں ایک ڈاکٹر اب کمرے کی جانب جارہا ہے ۔۔
” امل کی اس بچے سے محبت نارمل نہیں ہے ۔۔ کچھ تو ہے ۔۔ ” وہ اب ایک گہری سوچ میں گم تھا ۔۔
اور پھر اچانک ۔۔ دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔۔
” کہیں ۔۔۔۔ ” اور اگلے ہی لمحے انہوں نے ایک کال ملائ ۔۔
” ایک کام کرو ۔۔۔ فوراً “
٭٭٭٭٭٭
مصطفی کے ہاتھ بہت تیزی سے لیپ ٹاپ پر چل رہےتھے ۔۔ ماتھے پر پریشانی کی لکیریں لئے وہ مکمل طور پر اسکی سکرین پر نظر جمائے بیٹھا تھا ۔۔ جبکہ ماسٹر اس سے تھوڑے فاصلے پر کھڑکی کے پاس کھڑا باہر کی جانب دیکھ رہا ہے ۔۔
” یا اللہ اسکی حفاظت کرنا ۔۔ میں جانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوگئ ۔ مجھے اتنا لاپرواہ نہیں ہونا چاہئے تھا ” وہ دل میں اپنے رب سے مخاطب تھا ۔۔ جب سے آحل غائب ہوا تھا وہ امل کے پاس جانے کی ہمت نہیں کرسکا تھا ۔ کرتا بھی کیسے ؟ اس سے کہنے کے لئے اسکے پاس کچھ تھا ہی نہیں ۔۔ پہلے مایا کا قتل اور اب آحل کا گڈنیپ ۔ ان دونوں کی حادثات میں اب تک انہیں کوئ لیڈ حاصل نہیں ہوئ تھی ۔
“مل گیا ۔۔ ” مصطفی کی آواز اسے سوچوں سے باہر لائ ۔۔ اس نے فوراً پلٹ کراسکی جانب دیکھا جو اب اپنا لیپ ٹاپ بند کر کے ایک بیگ میں ڈالے جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔،
” چلو ” سنجیدگی سے کہتے وہ باہر نکلا جبکہ مصطفی وہ بیگ کاندھے پر ڈالے اسکے پیچھے آیا ۔۔ ابھی وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھا ہی تھا کہ نظر امل کے کمرے کی جانب گئ وہ وہیں رک گیا ۔۔
” تم گاڑی سٹارٹ کرو ۔۔ میں ابھی آیا” اسے امل کے کمرے کی جانب جاتا دیکھ کر مصطفی نے سر ہلایا اور آگے بڑھ گیا ۔۔
امل سے بات کرنے کی ہمت تو اس وقت اس میں بھی نہیں تھی ۔۔۔ ایک پچتاوہ تھا جو اسے گھیرے ہوئے تھا ۔
” امل ۔۔ ” ماسٹر کی آواز پر وہ جیسے کسی ٹرانس سے باہر آئ ۔۔ نظر دروازے کی جانب گئ جس کے دوسری اور ماسٹر کھڑا تھا ۔
” ہمیں اسکی لوکیشن مل گئ ہے ۔۔ ” اس نے دھیرے سے کہا ۔ جبکہ امل ایک جھٹکے سے کھڑے ہوئے آنکھوں میں حیرانی لئے ۔
” میں اسے لے آؤنگا ۔ ” وہ کہہ کر رکا ۔ کچھ دیر اسکے جواب کا انتظار کیا اور جب کوئ جواب نا آیا تو پلٹا ۔۔ ابھی بس تین قدم ہی اٹھائے تھے کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئ ۔۔ وہ پلٹا اور نظر سیدھا رونے سے لال اور سوجی آنکھوں سے ٹکرائ ۔۔
اور یہ پہلی بار تھا جب امل کا آنکھیں دیکھ کر اسے تکلیف ہوئ تھی ۔۔
” تمہیں اسے لانا ہوگا نائل شاہ ۔ اور اگر تم نہیں لائے تو تم اسکے ساتھ ساتھ مجھے بھی کھو دوگے ” اسکی آنکھوں میں دیکھتے اس نے کہا ۔۔ جبکہ نائل شاہ اسکی بات سن کر سانس روک گیا تھا ۔
ہاں ۔ اسکے کھو دینے کے صرف خیال سے ہی سانسیں رک جاتی ہیں اسکی ۔۔
تو اگر واقعی اسے کھو دیا تو ؟
اور اس سےآگے کچھ سوچ نہیں پارہا تھا وہ ۔۔
کیونکہ اس سے آگے زندگی ہی نہیں تھی ۔۔
دروازہ ایک بار پھر بند ہوچکا تھا ۔۔
اسے لگا جیسے زندگی کا دروازہ بند ہوا ہو ۔۔
کچھ دیر اسی طرح اس دروازے کو دیکھنے کے بعد اس نے ایک گہری سانس لی ۔۔
” یہ وقت کمزور پڑنے کا نہیں ہے نائل شاہ ” خود سے کہتے اب وہ آگے بڑھا ۔۔
٭٭٭٭٭
انکی گاڑی دوبارہ اسے علاقے کی ایک گلی کے کونے میں رکی ۔۔
” وہ مکان دیکھ رہی ہو ” کچھ دور ایک گھر کی جانب اشارہ کرتے اس نے کہا ۔
” یہ دانش کا گھر ہے ۔ باقی تم جانتی ہو کہ تم نے کیا کرنا ہے ” اسکی جانب دیکھ کر وہ مسکرایا ۔۔
” بلکل ۔۔ ویٹ اینڈ واچ ” اسی کے ساتھ وہ گاڑی سے باہر نکلی اور آنکھوں میں بلیک گلاسس لگائے اس گھر کی جانب بڑھی ۔۔
دروازے کا پاس پہنچ کر اس نے ناک کیا ۔
” کون ہے ؟ ” ایک نسوانی آواز اندر سے آئ ۔۔ مگر کوئ بھی جواب دیئے بنا اس نے ایک بار پھر سے دروازہ بجایا ۔
” کون ہے بھئ ؟ ” اس بار آوازمیں اکتاہٹ تھی ۔ وہ مسکرائ اور ایک اور بار دروازہ بجایا ۔
” کون ہے جواب کیوں نہیں دیتے آخر ۔۔۔ ” اس بار دروازہ آواز کے ساتھ ہی کھلا اور ایک لڑکی چہرے پر غصہ لئے سامنے آئ ۔۔
” جی ؟ کون ہیں آپ ؟ ” اسے سر سے پیر تک غور سے دیکھتے اس نے پوچھا ۔
” دانش ہیں گھر پر ؟ ” اسکا سوال اگنور کرتے اس نے اپنا سوال کیا ۔
” نہیں ۔۔ آپ کون ہیں ؟ اور کیا کام ہے دانش سے ؟ ” مشکوک انداز میں اسے دیکھتے پوچھا ۔۔
” میں ۔۔۔ ” مسکرا کر کہتے اس نے اپنے گلاسس آنکھوں سے ہٹا کر بالوں میں پھنسائے ۔۔
” میں مسز دانش ” اور اسکا دیا ہوا جواب اسکے چہرے کے سارے رنگ اڑا چکا تھا ۔۔
تقریباً پانچ منٹ بعد وہ دوبارہ گاڑی میں آکر بیٹھی ۔۔
” کام ہوگیا؟ ” فرہاد نے اسے دیکھتے پوچھا جس پر اسکی مسکراہٹ گہری ہوئ ۔
” بلکل ۔ اسکےچہرے کےرنگ دیکھنے والے تھے “
” یہ ہر بیوی کی وہ دکھتی رگ ہے جس پر ہاتھ رکھ کرآپ اس سے کچھ بھی کروا سکتے ہو یو نو ” سامنے دیکھتے ہوئے فرہاد نے کہا جہاں اب دانش کی وائف اپنا بیگ لئے گھر سے باہر نکلی ۔۔
” اور ہم نے بھی کروا لیا ” مسکرا کر کہتی وہ گاڑی سےباہر نکلی اور فرہاد بھی ۔۔
مختلف گلیوں سے گزر پر وہ ایک دکان میں گئ ۔ اور اب وہ اس دکاندار سے کسی بات پر بحث کرتی دکھائ دی ۔۔
کچھ دیر کی بحث کے بعد اس دکاندار نے کسی کو کال ملائ پر دوسری جانب سے شاید کال ریسیو نہیں کی گئ تھی ۔۔
اب وہ اسے کچھ سمجھا رہا تھا ۔۔ جسے سن کر وہ کچھ مطمئن سے ہوتی دکان سے نکلی اور واپس گھر کی جانب بڑھی ۔۔
” اور یہ میرا شکار ہے ” فرہاد نے اس دکاندار کی جانب بڑھتے کہا ۔
” ذرا ہلکا ہاتھ رکھنا ” عنایہ نے اسکے ساتھ چلتے کہا ۔۔
” فکر مت کرو ” وہ رکا اور اپنا ہاتھ اٹھایا ۔۔
” بہت ہی ہلکا ہاتھ ہے میرا ۔۔ اسے محسوس بھی نہیں ہوگا کچھ ” اور ایک آنکھ دبا کر کہتا وہ اب اس دکاندار کی جانب بڑھا ۔۔
” اور مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اسے بہت کچھ محسوس ہونے والا ہے ” کاندھے اچکا کر کہتی وہ اب آگے بڑھی جہاں فرہاد اسکا گریبان پکڑے اس سے کچھ کہہ رہا تھا ۔۔
