Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 19)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2

وہ میز پر رکھے اس پیپر پر نظر ٹکائے بیٹھی تھی ۔ پر دماغ تو کہیں اور ہی تھا ۔ ماضی کی جانب ۔۔

اسے آج بھی یاد تھا وہ دن جب وہ پہلی بار ماسٹر سے ملی تھی ۔ ۔

کیسے اس نے سارے کیمرے ہٹا کر اسے سامنے آنے پر مجبور کیا تھا ۔

اور جب وہ سامنے آیا تو کتنی حیران ہوئ تھی وہ ۔۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے بچانے والا کوئ اور نہیں شہزاد شاہ کا بیٹا ہے !

اور حیران کی انتہاہ تو تب ہوئ جب ماسٹر نے اسے شادی کے لئے پرپوز کیا ۔

وہ سوچتے ہی مسکرائ ۔۔ کتنی عجیب تھی نا انکی شادی ۔۔

دونوں ایک دوسرے کے ساتھ صرف انصاف حاصل کرنے کے لئے تھے ۔۔

اور وہ کانٹریکٹ ؟

سوچ کر ہی اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئ ۔

کتنے عجیب عجیب پوائنٹس لکھوائے تھے دونوں نے اس کانٹریکٹ میں ۔

لیکن دل کا کسے معلوم کہ کب کیا ہوجائے ؟ کون اس پر قابض ہوجائے اور کون اتر جائے؟

انکے دلوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔ پتہ ہی نہیں لگا کہ کب وہ ایک دوسرے کے دل پر قابض ہوگئے تھے ۔

کب ایک کانٹریکٹ میریج ، رشتے میں بدل گئ ؟

اور رشتے تو بہت نازک ہوتے ہیں ۔ ذرا سی غلطی ، ذرا سی لاپرواہی انہیں کمزور کر دیتی ہے ۔

اور کمزوریوں کو وقت پر ختم نا کیا جائے تو وہ رشتے توڑ دیا کرتی ہیں ۔

ایک ایسی ہی غلطی ، ایک ایسی ہی لاپرواہی ماسٹر سے بھی ہوئ تھی ۔۔

اور یہ اسکی ناراضگی نہیں تھی کہ وہ ماسٹر سے دور ہوگئ ۔

محبت کا یہی تو مسئلہ ہے ۔

وہ ظلم بھی کرے تو دل اس سے دور ہونے پر راضی نہیں ہوتا ۔۔

اسکا دل بھی راضی نہیں تھا ۔۔

” تو تم نے کیا فیصلہ کیا ؟ ” اسے اپنے پیچھے سے ایک آواز آئ ۔۔ اور وہ حیران نہیں ہوئ ۔ شاید جانتی تھی کہ وہ پیچھے کھڑا جانے کب سے اسے دیکھ رہا ہے ۔

” جانتے ہو مصطفی ۔ ۔

محبت کی جنگ نفرت سے ہو تو جیت ہمیشہ محبت ہی کی ہوتی ہے ۔۔

پر اگر محبت کی جنگ محبت سے ہی ہو تو۔۔ یا تو دونوں جیت جاتے ہیں یا پھر دونوں کو ہی شکست ہوتی ہے ۔ “

اس نے ایک گہری سانس لی اور ہاتھ آگے بڑھا کر وہ پیپر اٹھایا ۔ اسے ایک نظر دیکھ کر فولٹ کیا اور پاس رکھے اپنے بیگ میں ڈالتے کھڑی ہوئ اور پلٹ کر اسکی جانب دیکھا ۔

” میں آ ج اسی جنگ کے میدان میں کھڑی ہوں جہاں ایک جانب اولاد کی محبت ہے اور دوسری جانب ماسٹر کی ۔

اور مجھے لگتا ہے کہ اس جنگ میں میں ہارنے والی ہوں ۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ” کہتے ہوئے وہ مسکرائ ۔ ایک زخمی مسکراہٹ ۔

” اچھی طرح سوچ لو امل ۔۔ ہم آحل کو ڈھونڈ سکتے ہیں پر تم ماسٹر کے بغیر نہیں رہ سکوگی ” وہ اسے روکنا چاہتا تھا پر وہ روک نہیں پارہا تھا ۔ آحل اسکا بیٹا تھا ۔ ماسٹر کی ایک غلطی انہیں آج جس مقام پر لے آئ تھی وہ اس کے لئے ا ب تک ماسٹر کو معاف نہیں کرپارہا تھا پھر امل سے کیسے کہتا ؟ وہ تو اسکی حقیقی ماں تھی ۔

” تم فکر مت کرو ۔۔

یہ سچ ہے کہ میں اسکےبغیر جی نہیں سکونگی ۔۔ پر یہ بھی سچ ہے کہ میں زندہ رہونگی ۔۔

اور زندہ رہنے کے لئے تو بس سانسیں چلنی چاہئے نا ۔۔ جینا ضروری تھوڑی ہوتا ہے” وہ تلخی سے کہتی پلٹی اور تیزی سے اپارٹمنٹ سے باہر نکل گئ ۔۔ جبکہ مصطفی ایک گہری سانس لے کر پلٹا اور واپس سٹڈی میں آکر بیٹھا ۔

اس دن امل نے اسے میسج کر کے بتا دیا تھا کہ وہ اسکے اپارٹمنٹ میں ہے ۔۔ اسکا نمبر مختلف تھا اور موبائل بھی ۔۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اسے ٹریس نہیں کر پارہا تھا ۔ اور پھر امل نے اسے سب بتایا ۔۔

سر پر ہاتھ پھیرتے وہ سیدھا ہوا اور نظر سامنے لیپ ٹاپ پر پڑی ۔۔

وہ اتنے دنوں سے اس ڈیوائس کو ٹریس کرنے کی کوشش کر رہاتھا جس سے امل کے پاس مسیسجز آرہے تھے ۔ پر اب تک اسے اس میں کوئ کامیابی نہیں ہوئ تھی اور اسے حیرانگی بھی نہیں ہوئ ۔ یقیناً وہ ہر طرح سے خود کو سیکیور کر کے ہی یہ سب کر رہے تھے آخر کو وہ ماسٹر کی پوری ٹیم کی قابلیت سے واقف جو تھے ۔۔

” لیکن اب میں انکی ٹیم نہیں ہوں ” کچھ سوچتے ہوئے وہ آگے جھکا ۔۔

” اب میں لیگل کام کرنے کا پابند نہیں ہوں ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ ۔۔ایک مسکراہٹ مصطفی کے ہونٹوں پردوڑی۔ اور ایک بار پھر وہ لیپ ٹاپ پر اپنی تیز انگلیاں چلانے لگا ۔۔

٭٭٭٭٭

وہ آحل کو دیکھ کر کمرے سے باہر آیا تو نظر سامنے باس پر پڑی جو کسی گہری سوچ میں گم تھے ۔

” کیسا ہے وہ ؟ ” اسے اپنے سامنے بیٹھتے دیکھ کر پوچھا ۔

” بلکل ٹھیک ہے ۔ کھانا کھلا کر سلا دیا تھا اسے “

“خیال رکھو اسکا ۔ ہمارا مہمان ہے یہ اور شاید بہت جلد یہاں سے جانے والا بھی ہے ” مسکرا کر کہا جس پر دانش نے الجھ کر اسے دیکھا ۔

” آپکو یقین ہے وہ ڈائیوورس لے گی ؟ “

” ہنڈریٹ پرسنٹ ” پریقین لہجے میں جواب آیا ۔

” لیکن وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔ “

” اولاد کی محبت کے آگے دنیا کی ساری محبتیں ماند پڑجاتی ہیں دانش ۔۔ تمہاری اولاد ہوگی تو تمہیں اندازہ ہوجائے گا اس بات کا ” اور اس خیال سے ہی دانش کے ہونٹوں پر ایک دلکش مسکراہٹ دوڑی ۔۔

” تم اپنی وائف کو مِس کر رہے ہوگے ۔۔ بہت عرصہ ہوگیا تمہیں گھر گئے ہوئے ” اسکی مسکراہٹ دیکھتے پوچھا ۔

” ہاں ۔۔ پر وہ لوگ وہاں موجود ہیں اس لئے جب تک یہ کام ختم نہیں ہوتا میں گھر نہیں جاؤنگا “

” تمہارا یہ انتظار جلد ختم ہونے والا ہے ۔۔ امل ماسٹر کے پاس جارہی ہے اس سے الگ ہونے کے لئے ۔۔

اور ان کے الگ ہوتے ہی تم بھی آزاد ہوگے اور میں بھی ” کہتے ساتھ ایک مسکراہٹ ہونٹو ں پر نمودار ہوئ ۔

” جیت ابھی سے مبارک ہو آپکو ” وہ کہتے کھڑا ہوا ۔۔

” تمہیں بھی “

اسی کے ساتھ دانش پلٹا اور وہاں سے جانے لگا جب موبائل پر ایک کال آئ ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ کوئ انجان نمبر تھا۔

” ہیلو ” کمرے سے نکل کر اب وہ لاؤنچ سے گزرتا باہر کی جانب موبائل کان میں لگائے آگے بڑھنے لگا ۔

” ہیلو بیسٹی ۔۔ کیسے ہو ؟ ” اور جانے اس آواز میں ایسی کیا طاقت تھی کہ گاڑی کا دروازہ کھولتے دانش کے ہاتھ رکے۔

آٹھ سال ۔۔ وہ آٹھ سال بعد یہ آواز سن رہا تھا ۔ اور آٹھ سال بعد بھی یہ آواز اسے روک دینے کی طاقت رکھتی تھی ۔

” ارے ۔۔ میری آواز سنتے ہی چپ کیوں ہوگئے ؟ مجھے تو لگا تمہارے پاس مجھے کہنے کے لئے بہت کچھ ہوگا ۔ جیسے کوئ دھمکی یا کچھ اور ؟ ” وہ مسلسل کہہ رہا تھا اور دانش کی زبان کو جیسے تالے لگ گئے تھے ۔

“اسے میرا نمبر کیسے ملا ؟” وہ بس سوچ کر رہ گیا ۔

” تمہاری پیاری سی بیوی کی ڈائری سے ملا ہے تمہارا نمبر ” اور یہ الفاظ دانش کے پیروں تلے زمین کھینچ چکے تھے ۔

” میری بیوی ؟ “

” یس ۔۔۔ تمہاری پیاری بیوی ۔۔ مبارک ہو یار شادی کرلی تم نے میرے جاتے ہی ” چہکتی آواز آئ۔

کک ۔۔کہاں ہو تم فرہاد ؟ “

” میں ۔۔ ” فرہاد نے اپنے آس پاس دیکھا ۔۔

” میں ایک ایسی جگہ ہو جسکا تمہیں نہیں معلوم ۔۔ لیکن اگر تم چاہو ۔۔ اگر ۔۔ تم اکیلے چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ میں کہاں ہوں ۔۔ آخر کو بہت وقت ہوگیا ہے نا تمہیں اپنی بیوی کو دیکھے ۔۔ مِس تو کرتے ہوگے اسے ” اور وہ ڈر گیا تھا ۔۔ محبت جب خطرے میں ہو تو انسان اکثر ڈر جایا کرتا ہے ۔۔ اور فرہاد کتنا بڑا خطرہ ہے؟ یہ دانش سے بہتر کوئ نہیں جانتا تھا ۔۔

” گیو می یور ایڈریس فرہاد ” بےبسی اسکے لہجے میں ہی ظاہر ہورہی تھی ۔۔ فرہاد کے ہونٹ مسکرائے ۔

” گیو می یور سنسیرٹی دانش ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ اس نے کال کٹ کر دی ۔۔ وہ جانتا تھا کہ دانش کی جس رگ پر اس نے ہاتھ رکھا ہے ۔۔ وہ چالاکی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔

” فر ۔۔ فرہاد ۔۔” کال کٹ ہونے کی آواز پر اس نے موبائل گاڑی کے اندر پھینکا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ۔۔

اسکی بیوی فرہا د کے پاس تھی ۔۔

وہ فرہاد جو اپنے فائدے کے لئے کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔

وہ جو زندہ انسانوں کو جلا بھی سکتا ہے ۔۔

وہ جو محبت کے لئے جیل بھی جاسکتا ہے ۔۔

تو وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا ؟

وہ تو اسکی بہن کا قاتل ہے؟

اور فرہاد کے پاس اب اسکی بیوی تھی ۔۔ اگر اس نے اپنا بدلہ اس سے لینے کا سوچا تو ۔۔

” نہیں نہیں نہیں ۔۔۔ یہ ۔۔ یہ نہیں ہوسکتا ۔ یہ میں نہیں ہونے دونگا ” وہ اس سے آگے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔

” سنسیرٹی ۔۔ ” فرہاد کی بات یاد آتے ہی اس نے چونک کر سامنے دیکھا ۔۔ اس گھر کی جانب جہاں آحل موجود تھا ۔ جہاں اسکا باس موجود تھا ۔

اور وہ جانتا تھا کہ اس نے اپنی سنسیرٹی کیسے ثابت کرنی ہے ۔۔

وہ جانتا تھا کہ اسے اپنی محبت کو فرہاد سے کیسے آزاد کروانا ہے ۔۔

اسی کے ساتھ ۔۔ ایک فیصلہ کرتے اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھ گیا ۔

فرہاد مسکراتے پلٹا تو نظر پیچھے منہ کھولے واجد پر پڑی ۔۔

” منہ تو بند کردو ۔۔ اس علاقے میں بہت مکھیاں ہیں کوئ بھی اندر چلی گئ تو بیچاری مر جائے گی ” مسکرا کر کہتا وہ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا ۔۔

” تم نے اسکی بیوی اٹھالی !! “وہ حیرانگی سے چیخا۔

” میں اب اتنا بھی بے غیرت نہیں کہ کسی کی بیوی اٹھا لوں ۔۔ میں نے تو بس اسے اغواہ کیا ہے ” ڈھٹائ سے کہتا وہ مسکرایا ۔

” دونوں میں کوئ فرق ہے کیا ؟ اگر ماسٹر کو پتہ لگا تو وہ تمہیں ۔۔۔ “

” جیل میں ڈال دینگے ؟ “اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔

” ایک دن تو میں نے وہاں جانا ہی ہے ۔۔ اب اگر قتل کے ساتھ اغواہ کا مقدمہ بھی لگ گیا تو اس بار میں سراٹھا کر وہان جاسکونگا ” کاندھے اچکا کر کہتا وہ ایک بار پھر موبائل کی جانب متوجہ ہوا۔ جبکہ واجد اب بھی منہ کھولے اسے دیکھنے لگا ۔

” ماسٹر اللیگل طریقے سے کوئ کام نہیں کرتے ۔۔۔ ” اسے مسلسل فون میں متوجہ دیکھ کر اس نے کہا ۔

” کیا واقعی ؟ ” حیرانگی کی ایکٹنگ کرتے اسکی جانب دیکھا ۔۔

” لیکن ۔۔۔ ” موبائل جیب میں ڈالتے وہ تھوڑا آگے جھکا ۔

” میں ماسٹر کی ٹیم میں کب شامل ہوا ؟ سوری پر مجھے یاد نہیں آرہا ؟ ” مسکرا کر کہتا وہ ٹیک لگائے اسے دیکھنے لگا جبکہ واجد ۔۔ وہ اب جیسے کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭

” کیا چل رہا ہے وہاں ؟ ” کانوں میں ائیر فون لگائے اس نے کہا ۔۔ رخ کھڑکی کی جانب تھا پر نظریں آسمان پر ٹکی تھیں جہاں بادل کسی بھی وقت برسنے کو تیار تھے ۔۔

” سب کچھ نارمل ہے ۔۔ دو آدمی ابھی کھانے کا کچھ سامان لے کر اندر گئے ہیں ” دوربین آنکھوں سے ہٹائے اس نے کہا ۔

” کسی کو کو ئ شک تو نہیں ہوا ؟ “

” نہیں ۔۔ وہ اتنے ریلیکس ہیں کہ اچانک حملے پر مجھے شک ہے کہ کہیں دل کا دورہ ہی نہ پڑجائے ” مسکرا کر کہتی ایک بار پھر دوربین آنکھوں سے لگا کر دیکھنے لگی ۔۔

” ہمارے بندے ریڈی ہیں ؟ ” سنجیدگی سے پوچھا ۔

” جی سب اپنی پوزیشن پر ہیں ۔۔ بس آپکے آرڈر کا انتظار ہے “

” گڈ ۔۔ ” وہ کہہ کر خاموش ہوا ۔۔ نظر سامنے رکتی گاڑی پر گئ جس سے امل باہر نکل کر گھر کی جانب آرہی تھی ۔۔

اسے لگا جیسے اسے کوئ دھوکا ہوا ہو ۔۔

وہ یہاں کیوں آئے کی نائل ۔۔ چھوڑ کر جاچکی ہے وہ ” خود کو سمجھاتے وہ ایک بار پھر نظر آسمان کی جانب کر گیا ۔۔

” ماسٹر ۔۔ ” عنایہ کی سنجیدہ آواز پر وہ سوچ سے باہر نکلا ۔

“ہمم ؟ “

” اندر کون ہے ؟ ” وہ سوال جو اسے کل سے تنگ کر رہا تھا آخر پوچھ ہی لیا ۔

” خود جاکر دیکھ لو ” ماسٹر نے کہا اور دوسری جانب عنایہ فوراً الرٹ ہوئ ۔

” کنفرم ؟ ” ایک با رپھر اجازت چاہی ۔۔

” یس ” اور ماسٹر کا اشارہ ملتے ہی اس نے ائیر فون پر ہاتھ رکھا اور ۔۔

” گو ۔۔ ” اسی کے گھر کے چاروں اطراف سے پولیس مختلف جگہوں سے نکل کر گھر گھیرے میں لے چکی تھی ۔۔ جبکہ عنایہ چہرے پر ماسک لگائے اپنی گن نکالتی دو تین بندوں کے ساتھ گھر کا دروازہ تڑوا کر اندر داخل ہوئ ۔۔۔

فضا میں کچھ دیر بعد ہی گولیوں کی آوازیں گونجنے لگیں ۔

جو ماسٹر کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں۔۔

اور کچھ دیر کی کاروائ کے بعد ہی اچانک خاموشی ہوئ ۔۔

پولیس پانچ کے قریب لڑکوں کو ہتھکڑی لگا چکی تھی ۔

جبکہ عنایہ ایک ایک کمرے میں جاتی اندر دیکھنے لگی ۔۔

اور پھر اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔ نظر سامنے کھڑے آدمی پر گئ ۔۔

” ہینڈز اپ ! ” گن کا رخ اسکی جانب کرتے اس نے کہا جس پر سامنے کھڑے انسان نے فوراً ہاتھ اوپر کئے ۔۔

” کون ہو تم ؟ ” سنجیدگی سے اس سے پوچھا ۔۔

” ماسٹر کی شاگرد ” عنایہ نے کہتے ساتھ کھڑے لڑکوں کو اشارہ کیا وہ آگے بڑھے اور اسکے ہاتھ کمر کی جانب لے جاتے ان پر ہتھکڑی لگا دی ۔۔

” یہ تو جمشید شاہ ہے ” ان میں سے ایک نے اسے پہچانتے ہوئے کہا جبکہ عنایہ اس نام پر چونکی ۔۔

” جمشید شاہ ۔۔ ” نظر اب بائیں جانب بیڈ پر گئ جہاں ایک شخص شاید بے ہوش پڑا تھا ۔۔

” شہزاد شاہ ۔۔ ! ” اور عنایہ کی حیران کن آواز سن کر ماسٹر نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔

” فائنلی ” دھیمی آواز میں کہتے اس نے ایک گہری سانس خارج کی ۔ اتنے مہینے میں یہ ایک پہلی اچیومنٹ تھیں ۔۔ پر اسے کوئ خوشی محسوس نہیں ہوئ۔۔

” نائل شاہ ” اور ایک آواز نے اگلے ہی لمحے اسکی سانسیں روک دیں ۔

وہ پلٹا ۔ نظر سامنے کھڑی شخصیت کی جانب گئ۔

” امل ۔۔ ” دھیمی آواز میں جیسے اس نے پکارا ہو ۔

امل نے ایک لفافہ سٹڈی ٹیبل پر رکھا ۔۔

” اس پر تمہارے سائن چاہئے ” بے حد سنجیدگی سے اس سے کہا ۔۔

اور اسکا لہجہ ماسٹر کو حیران کر گیا ۔۔ امل کا یہ لہجہ ، یہ روپ ، دیکھنے کا یہ انداز ۔۔

یہ سب وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔۔

” کیا ہے یہ ؟ ” اسکے چہرے سے نظر نا ہٹاتے ہوئے اس نے پوچھا ۔

” ڈائیوور س پیپر ز۔۔ “

اور یہ الفاظ نائل شاہ کے دل کو چیر کر گزرے تھے ۔۔ وہ تڑپ گیا تھا ۔

” یہ ۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہو تم ” تیز قدم اٹھایا وہ فوراً اس تک آیا اور دونوں کاندھوں سے اسے پکڑتے ہوئے دھاڑا ۔

” آواز نیچی کر کے بات کرو ۔۔ ” اپنے کاندھو ں سے اسکے ہاتھ ہٹاتے اس نے کہا ۔۔

” تم ایسا نہیں کر سکتی ۔۔ اتبی بڑی سزا ڈیزرو نہیں کرتا میں امل ” آنکھوں میں نمی لئے اس نے کہا ۔۔ اور اسکی یہ التجا، یہ آنکھیں، امل کو تکلیف دے رہی تھیں ۔۔ مگر وہ اس وقت کمزور نہیں پڑ سکتی تھی ۔ اسے مضبوط رہنا تھا ۔۔ اپنے بیٹے کے لئے ۔۔

” میں ایسا کر چکی ہوں ۔۔ اس پر سائن کر کے مصطفی کے فلیٹ میں پہنچا دینا ” وہ کہہ کر پلٹی جبکہ اسکی بات پر نائل چونکا ۔۔

” تم مصطفی کے فلیٹ میں رہ رہی ہو؟ ” حیرت سے پوچھا ۔۔

” میں کب ؟ کہاں اور کس کے ساتھ رہ رہی ہو ں ۔ یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے ۔”

” میرا مسئلہ ہی ہے یہ ” وہ اب اسکے سامنے آیا ۔۔

” مت بھولو کہ تم میری بیوی ہو ” اسکی آنکھوں میں دیکھتے اس نے جیسے اسے یاد دلایا ۔۔

” اب نہیں رہونگی ” وہ اسی انداز میں کہتی ایک بار پھر اسکی سانسیں روکتی وہاں سے چلی گئ ۔۔

جبکہ نائل کی نظر ٹیبل پر رکھے اس لفافے کی جانب گئ ۔۔

” اتنا آسان ہے تمہارے لئے سب ختم کردینا ۔۔” اس نے خودکلامی کی ۔۔

” مصطفی کے ساتھ ہو تم ۔۔ مصطفی کے ساتھ ! ” اور غصے کی ایک لہر یہ سوچتے ہی اسکے وجود میں دوڑی ۔۔ نظر لفافے کے ساتھ رکھے پین کی جانب گئ ۔

” اسی کے ساتھ رہو تم ۔۔ نہیں چاہئے مجھے ایسی جھوٹی محبت “

اور اسی کے ساتھ ۔۔ اسکا ہاتھ تیزی سے بڑھا ۔۔

پین کی جانب ۔۔

لفافے کی جانب ۔۔

اس کہانی کے اختتام کی جانب ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *