Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 07)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2

’’ آحل کہاں ہے ؟ ‘‘ ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھتے ماسٹر نے پوچھا ۔۔

’’ اپنے کمرے میں ہے ‘‘ گلاس میں پانی ڈال کر ایک گھونٹ لیا ۔۔

’’ اب کیسا ہے وہ ؟ ‘‘

’’ ہم جیسا ہی ہے ۔۔ ‘‘ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا ۔۔ جبکہ ماسٹر کے ہونٹ بھی مسکرائے ۔۔ آحل کی جانب سے اب اسے واقعی کوئی پریشانی نہیں تھی ۔۔

’’ باقی سب کہاں ہیں ؟ ‘‘ کچھ دیر بعد امل کی جانب سے سوال ہوا ۔۔

’’ اپنے اپنے مشن میں ‘‘ مختصر جواب آیا ۔۔

’’ مصطفی ، واجد ۔۔ یہاں تک کے فرہاد کو بھی تم نےکوئی نہ کوئی ٹاسک دیا ہے ۔۔ پوچھ سکتی ہوں کہ آپ خود کیا کر رہے ہیں مسٹر نائل شاہ ؟ ‘‘ میز پر اپنی کہنیاں ٹکاتے ہوئے اس نے کہا ۔۔ آنکھوں میں شرارت واضح تھی ۔۔

’’ میں تو سب سے مشکل کام کر رہا ہوں ‘‘ کرسی سے ٹیک لگا کر مسکراتے کہا ۔۔

’’ اور وہ کیا ہے ؟ ‘‘

’’ تمہیں جھیلنا ‘‘ اور امل کی آنکھوں سے شرارت فوراً ہی غائب ہوئی ۔۔ جبکہ ماسٹر کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔

’’ بلکل ۔۔ اور اب مجھے سمجھ آیا کہ وہ سب اب تک واپس کیوں نہیں آئے ‘‘ وہ کہتی کھڑی ہوئی ۔۔

’’ کیوں ؟ ‘‘

’’ کیونکہ تمہیں جھیلنے کے لئے میں ہوں نا ‘‘ کاندھے اچکا کر کہتی وہ پلیٹ اٹھاتی کچن کی جانب بڑھی ۔۔ جبکہ ماسٹر اسے گھورتا رہ گیا ۔۔

اب اگر وقت کو کچھ گھنٹے آگے لے جاؤ تو یہ رات کے بارہ بجے کا وقت ہے جب وہ سب بیسمنٹ میں رکھی میز کے ارد گرد موجود کرسیوں میں بیٹھے ہیں ۔۔ سب سے پہلے ماسٹر ۔۔ دائیں جانب امل ۔۔ بائیں جانب مصطفی جبکہ مصطفی کے ساتھ ہی فرہاد ۔۔۔ کمی تھی تو بس واجد کی ۔۔ جو جانے اب تک کیوں نہیں آیا تھا ۔۔

’’ واجد کہاں ہے ؟ ‘‘ ماسٹر کی آواز پر سب کی نظریں فرہاد کی جانب گئیں ۔۔

’’ مجھے نہیں معلوم ۔۔ مجھے وہ خفیہ راستے کا بتا کر چلا گیا ۔۔ ‘‘ کاندھے اچکا کر کہتے اس نے مصطفی کی جانب دیکھا ۔۔

’’ مجھ سے تو بس صبح ہی رابطہ ہوا ۔۔کہہ رہا تھا کہ جیل جارہا ہے ۔۔ شہزاد شاہ کی ڈیٹیلز لینے ۔۔ اس کے بعد کچھ پتہ نہیں‘‘ مصطفی نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔

’’ کال بھی ریسیو نہیں کر رہا وہ ۔۔ ضرور کچھ گڑبڑ ہے ‘‘ ماسٹر اب پریشان ہوا ۔۔

’’ وہ جیل گیا تھا ۔۔تو وہاں سے معلوم کرنا چاہئے ہمیں ‘‘ امل کی بات پر سب نے اسکی جانب دیکھا ۔۔

’’ آج کل بہت سمارٹ ہورہی ہو تم ۔۔ ‘‘ طنزیہ انداز میں ماسٹر نے کہا ۔۔ جس پر سب مسکرائے ۔۔

’’ ہمیشہ سے رہی ہوں ۔۔۔ کال کرو نا ‘‘ چڑ کر جواب دیتی وہ مصطفی کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔ جس نے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا ۔۔

’’ مصطفی بات کر رہا ہوں ‘‘ انداز بے حد سنجیدہ تھا ۔۔

’’ صبح واجد وہاں آیا تھا ؟ ‘‘ سوالیاں انداز تھا ۔۔

’’ اچھا ۔۔۔ اوک ‘‘ کہتے ساتھ اس نے کال کٹ کی ۔۔

’’ وہ وہاں سے دوپہر میں ہی نکل گیا تھا ‘‘ مصطفی کی بات پر ماسٹر کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا ۔۔

’’ تو وہ پورا دن کہاں رہا ہے ۔۔ اسے فائل فوراً میرے پاس لانی چاہئے تھی ۔۔۔ ‘‘ میز پر ہاتھ مارتے ماسٹر نے کہا ۔۔جب کہ ماسٹر کا موڈ خراب ہوتا دیکھ کر امل نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔۔

’’ ریلیکس ۔۔۔ ‘‘ امل کے کہنے پر ماسٹر نے ایک گہری سانس لی ۔۔۔

’’ تمہیں فوٹیج مل گئیں ؟ ‘‘ مصطفی سے سوال ہوا ۔۔

’’ ہاں ۔۔۔ ‘‘

’’ کیا ملا اس میں ‘‘

’’ ہم دیکھ لیتے ہیں ‘‘ سر جھکاتے مصطفی نے جواب دیا ۔۔ اور اسکی حالت وہاں بیٹھا ہر انسان سمجھ سکتا تھا ۔۔ جب بات کسی اپنے کی آئے تو انسان ایسے ہی کمزور پڑ جاتا ہے ۔۔

’’ اوک ۔۔ لگاؤ ‘‘ اور اسی کے ساتھ مصطفی نے یو۔ایس۔بی ۔۔۔ جس میں ہسپتال کے کیمراز کی فوٹیج تھی ، اپنے لیپ ٹاپ پر لگائی ۔۔۔ سب کی توجہ اب اس فوٹیج پر تھی ۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘تقریباً بیس منٹ بعد امل کی آواز بیسمنٹ میں گونجی ۔۔

’’ اسے دوبارہ چلاؤ ‘‘ ماسٹر نے کہا ۔۔ جس پر مصطفی نے ویڈیوں دوبارہ پیچھے سے چلائی ۔۔ سب کی نظریں بہت غور سے سکرین کو دیکھ رہی تھیں ۔۔ اور پھر ۔۔

’’ مجھے یہی امید تھی ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ماسٹر نے کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندیں ۔۔

’’ فوٹیج روم میں موجود گارڈز کا کہنا ہے کہ کسی نے انکے سر پر کوئی چیز مار کر انکے پلٹنے سے پہلے ہی انہیں بے ہوش کر دیا ۔۔۔ ‘‘ مصطفی نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے کہا ۔۔جبکہ ماسٹر نے آنکھیں کھولیں ۔۔

’’ یعنی دو لوگ تھے ۔۔ ‘‘

’’ ہسپتال کے اندر دو لوگ ہی تھے ۔۔ ایک نے کیمراز بند کئے اور دوسرا ۔۔۔۔ ‘‘ مصطفی کی زبان رک گئی ۔۔ وہ آگے کہنے کی ہمت نہیں کر پایا ۔۔ جبکہ امل نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔ جو مصطفی کے لئے فکر مند نظر آیا ۔۔

’’ گارڈز جب ہوش میں آئے تو سب ویسا ہی تھا ۔۔ کیمراز بھی آن تھے ۔۔ اس لئے وہ سمجھ نہیں پائے کہ کیا ہوا ۔۔ ‘‘ مصطفی نے اپنی بات جاری رکھی ۔۔

’’ یعنی کیمراز صرف آٹھ منٹ کے لئے بند ہوئے ۔۔ آٹھ منٹ میں ہی وہ اپنا کام کر کے چلے گئے ۔۔ اس نے بعد کیمزار دوبارہ آن کر دیئے گئے ۔۔ ‘‘

’’ اگر صرف آٹھ منٹ کے لئے کیمراز بند ہوئے ہیں ۔۔ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ جب وہ دونوں ہسپتال میں آئے تو کیمراز آن تھے ۔۔ ہمیں انٹرنس کا کیمرہ چیک کرنا چاہئے ‘‘ اس بار فرہاد کی جانب سے کہا گیا ۔۔

’’ میں نے یہی کیا ۔۔ اور مجھے یہ ملا ۔۔ ‘‘ مصطفی نے اب ایک اور فوٹیج چلائی ۔۔ اور اسے ایک جگہ روکا ۔۔

’’ یہ دیکھو ‘‘ اس کے کہتے ہی سب ایک بار پھر سکرین کی جانب جھکے ۔۔ جہاں دو خواتین اور ایک آدمی ہسپتال کے اندر داخل ہوئے ۔۔ اور انکے پیچھے ایک آدمی کیپ پہنے سر جھکائے اندر داخل ہوا ۔۔ اور فوراً لفٹ کی جانب بڑھا ۔۔ کیمرے کے اینگل کے مطابق وہ اپنا چہرہ مکمل طور پر چھپاتا آگے بڑھا گیا ۔۔۔ جبکہ اس کے جانے کے پندرہ منٹ بعد ہی ایک اور آدمی اسی حلیے میں ہسپتال کے اندر داخل ہوا ۔۔اور لفٹ کی جانب بڑھا ۔۔ کیمرے کے اینگل کے حساب سے وہ بھی اپنا چہرہ مکمل طور پر چھپا گیا ۔۔ اور پھر ۔۔ لفٹ کھلنے سے پہلے ہی کیمراز بند ہوگئے ۔۔۔

’’ قد ، رنگ ، صحت ، چلنے کا انداز یہاں تک کے باڈی لینگویچ ۔۔۔ایک ایک چیز بلکل تم جیسی ہے اسکی ‘‘ امل کی بات پر سب کی نظریں اس کی جانب اٹھیں ۔۔ جو فرہاد کو دیکھ رہی تھی ۔۔ بہت غور سے ۔۔

’’ صرف ایک منٹ اور چند سیکینڈ میں اس نے فرہاد کی باڈی لینگویچ بھی پہچان لی ‘‘ ماسٹر بس سوچ کر رہ گیا ۔۔

’’ یہ میں نہیں ہوں امل ۔۔ ‘‘ اسکی آنکھوں میں دیکھتے فرہاد نے مضبوط لہجے میں کہا ۔۔

’’ جانتی ہوں ۔۔ ‘‘ کہتے ساتھ اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی ۔۔

’’ میں یہ کہہ رہی ہوں کہ یہ انسان بلکل تم جیسا لگ رہا ہے ۔۔ یعنی یہ تمہیں بہت اچھے سے جانتا ہے ۔۔ لگتا نہیں کہ کچھ زیادہ محنت کی اس نے ‘‘ امل کی بات پر جیسے سب ہی نے اتفاق کیا ۔۔

’’ تم نے لسٹ بنائی ؟ ’‘ ماسٹر کی جانب سے سوال ہوا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ یہ نوٹ بک میں نے پوری رات اور دن بیٹھ کر لکھی ہے ۔۔ ماضی کے تمام لوگ جو اس بارے میں جانتے ہیں ۔۔ جن پر شک ہے ۔۔ جیل میں جو آتے رہے ملنے ۔۔ سب کے سب اس میں موجود ہیں ۔۔ لیکن ۔۔۔ ‘‘ فرہاد رکا ۔۔

’’ لیکن ؟ ‘‘

’’ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے اورجنل نیمز ہم نہیں جانتے ۔۔ شہزاد شاہ کے کچھ بندے فیک نیم پر کام کرتے تھے ۔۔ ‘‘

’’ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ اتنے سالوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے ۔۔ ہمیں بس ان لوگوں کو ڈھونڈنا ہے جو شہزاد شاہ کے بہت مخلص رہے ہوں ۔۔ کیونکہ صرف مخلص لوگ ہی اتنے لمبے عرصے تک ساتھ دیتے ہیں ‘‘ مصطفی نے نوٹ کو ایک نظر دیکھتے کہا ۔۔

’’ میں نے انکے نام بھی یہاں لکھ دیئے ہیں ۔۔ جن میں جمشید شاہ کا نام بھی شامل ہے ‘‘ اور فرہاد کی بات پر ماسٹر فوراً الرٹ ہوا ۔۔

’’ جمشید شاہ ؟ تمہیں ان پر شک ہے ؟ ‘‘ سوال مصطفی کی جانب سے ہوا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ وہ اپنے بھائی سے بہت اٹیچ تھے ۔۔۔ لیکن وہ امل کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے ۔۔ لیکن ۔۔۔۔ ‘‘ وہ پھر رکا ۔۔

’’ لیکن ؟ ‘‘

’’ لیکن وہ زویا سے بہت پیار کرتے ہیں ۔۔ اپنی زندگی سے بھی زیادہ ‘‘ کہتے ساتھ ہی فرہاد نے سامنے بیٹھی امل کی جانب دیکھا ۔۔ جس کی نظریں ماسٹر پھر تھیں ۔۔ جبکہ ماسٹر نے پہلو بدلا ۔۔

’’ مجھے نہیں لگتا ان سب میں ان دونوں میں سے کسی کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے ‘‘ ماسٹر کی بات پر جہاں سب حیران ہوئے وہیں امل کی آنکھوں میں جیلسی واضح ہوئی ۔۔

’’ کیوں ؟ کیوں نہیں ہوسکتا ؟ ‘‘ امل کی جانب سے سوال ہوا ۔۔ ماسٹر نے اسکی جانب دیکھا ۔۔ اور بے اختیار ہی ہونٹ مسکرائے ۔۔

’’ کیونکہ وہ تمہاری طرح مضبوط اور بریو نہیں ہے ۔۔ وہ ایک عام سی لڑکی ہے جس نے ساری زندگی حویلی میں گزاری ۔۔ وہ ایسا کچھ نہیں کرسکتی ‘‘ اور ماسٹر کے جواب پر وہاں موجود ہر شخص مسکرایا ۔۔

’’ مکھن لگانا تو کوئی تم سے سیکھے ماسٹر ‘‘ بڑبڑاتے ہوئے امل نے اپنی نظروں کا رخ پھیرا ۔۔ جب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ روکنے سے بھی نا رکی ۔۔۔

جبکہ یہاں سے دور اس سنسان سڑک کی جانب آؤ تو ایک کالے رنگ کی گاڑی جانے کب سے یہاں کھڑی ہے ۔۔ اندر موجود شخص کو دیکھو تو وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اپنی کلائی میں بندھی کھڑی کی جانب دیکھتا۔۔ تو کبھی سامنے خالی سڑک کو ۔۔ شاید وہ کسی کے انتظار میں تھا ۔۔ اور یہ انتظار اس وقت ختم ہوا جب گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر ایک درمیانی عمر کا لڑکا سر پر کیپ پہنے جلدی سے اندر بیٹھا ۔۔

’’ کام ہوگیا ؟ ‘‘ سنجیدگی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے پوچھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ یہ لیں ۔۔ ‘‘ اس نے ایک فائل اسکی جانب بڑھائی ۔۔ جسے لیتے ہی اس شخص نے ایک سرسری نظر اس پر ڈالی اور فائل بیک سیٹ پر جہاں پہلے سے ایک اور فائل موجود تھی پر رکھی ۔۔

’’ گڈ ۔۔ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنا ۔۔ مجھے ایک ایک بات ، ہر ایک کی ایک ایک حرکت کے بارے میں جاننا ہے اوک ‘‘ ایک کاغذ کا لفافہ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس شخص نے کہا جسے اس لڑکے نے اس کے ہاتھ سے لیتے ہی اپنی جیب میں ڈالا ۔۔

’’ ٹونٹ وری باس ۔۔ مجھے جیسے ہی کوئی بھی اہم بات معلوم ہوتی ہے ۔۔ میں فوراً آپکو انفارم کرتا ہوں ‘‘

’’ گڈ ۔۔ ‘‘ مختصر جواب اس کے چلے جانے کا اشارہ تھا ۔۔ وہ لڑکا گاڑی سے باہر نکلا اور جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے گم بھی ہوگیا ۔۔ جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے ایک گہری سانس لی اور گاڑی سٹارٹ ۔۔

’’ اٹس ٹائم ٹو میٹ ماسٹر ‘‘ اور اسی کے ساتھ گاڑی اس سنسان سڑک پر تیزی سے آگے بڑھا دی گئی ۔۔۔

اب اگر یہاں سے دور اس دوسرے شہر میں سمندر کنارے موجود اس گھر کی جانب آؤ تو ایک بار پھر یہی تین لوگ یہاں موجود ہیں ۔۔

’’ کیا اپڈیٹ ہے ؟ ‘‘ درمیان میں بیٹھے شخص جس کا چہرہ آج بھی چھپا ہوا ہے نے پوچھا ۔۔

’’ سب پلین کے مطابق چل رہا ہے ۔۔ مصطفی ہسپتال کی فوٹیج لے گیا ہے ۔۔ واجد کو جیل سے ایک نیا صدمہ ملا ہے ۔۔ فرہاد کو انہوں نے کسی خفیہ جگہ بھیج دیا جس کا ہم جلد ہی معلوم کر لینگے ‘‘ دائیں جانب بیٹھے شخص نے کہا ۔۔

’’ لیکن مجھے اب تک کوئی ایکسائیٹمنٹ نہیں ہوئی ‘‘ اندھیرے میں چھپے شخص نے کہا ۔۔

’’ ایکسائیٹمنٹ کے لئے تھوڑا صبر کرنا ہوگا ۔۔ ‘‘ بائیں جانب بیٹھے شخص نے کہا ۔۔

’’ بہت صبر کیا ہے ۔۔ آٹھ سال ۔۔ آٹھ سال کا صبر کیا ہے میں نے اس وقت کے لئے ۔۔ اور اب ۔۔ مجھ سے مزید صبر نہیں ہوگا ۔۔۔ مایا کی قربانی ہم نے اس سب کو الگ کرنے کے لئے دی تھی ۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ اس سے وہ سب اور بھی قریب آگئے ہیں ۔۔ ‘‘ انداز میں مایوسی واضح تھی ۔۔ جبکہ دائیں جانب بیٹھے شخص کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی ۔۔

’’ مایا انہیں ایک کرنے کی قربانی ہی تھی باس ۔۔ اور جہاں تک بات انہیں الگ کرنے کی ہے ۔۔ تو اسکی فکر مت کریں۔۔ واجد کی لائی خبر آج ان میں پہلی دراڑ ڈالنے والی ہے ۔۔۔ ‘‘ اور اسی کے ساتھ انکے ہونٹوں پرمسکراہٹ دوڑی ۔۔ ایک معنی خیز مسکراہٹ۔۔

اب اگر واپس اس بیسمنٹ کی جانب آؤ تو یہاں بلکل خاموشی ہے ۔۔ مصطفی کانوں سے موبائل لگائے کسی کو کال ملانے میں مصروف نظر آرہا ہے ۔۔ مگر شاید دوسری جانب سے جواب نہیں آرہا تھا ۔۔

’’ آخر یہ کال کیوں نہیں ریسیو کر رہا ۔۔۔ مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ۔۔ ‘‘ موبائل میز پر رکھتے ہی اس نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے اکتا کر کہا ۔۔

’’ وہ ایسا کبھی نہیں کرتا ۔۔ اور اگر وہ اب ایسا کر رہا ہے تو ضرور وہ کسی بہت اہم کام میں مصروف ہے ‘‘ ماسٹر کی سنجیدہ آواز پر امل نے الجھ کر اسکی جانب دیکھا ۔۔

’’ تمہیں اتنا یقین کیوں ہے کہ وہ کوئی کام ہی کر رہا ہے ۔۔ ہوسکتا ہے وہ کسی مشکل میں ہو ؟ ‘‘ اور امل کے سوال پر جہاں ماسٹر نے اسے گھورا وہیں مصطفی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑی ۔۔

’’ میں تو سمجھ رہا تھا کہ تم بہت سمارٹ ہوگئی ہو ۔۔ لیکن لگتا ہے کہ ہماری سلیپنگ بیوٹی کی معصومیت اب تک ختم نہیں ہوئی ‘‘ اسکی جانب جھکتے ہوئے مصطفی نے شرارتی انداز میں کہاں ۔۔ جس کے جواب میں اسے ماسٹر کی جانب سے جو گھوری ملی ۔۔ جس نے اسے دوبارہ سیدھا ہونے پر مجبور کر دیا ۔۔

’’ میرا مطلب ہے امل ۔۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مشکل حالات سے ناواقف نہیں ہے ۔۔ ہماری ایک دوسرے پر نظر ہو یا نہ ہو ۔۔ مشکلات پر ضرور ہوتی ہے ‘‘ اور امل نے جیسے اسکی بات سمجھ کر سر ہلایا ۔۔ وہ کیسے بھول گئی کہ وہ سب دور ہوکر بھی ایک دوسرے کے قریب ہی ہوتے ہیں ۔۔

’’ اپنی بات کرو ۔۔ کیا تمہارے پاس کچھ اور خاص نہیں ہے ہمیں دکھانے کو ‘‘ ماسٹر کی بات پر جہاں امل اور فرہاد کے چہرے پر الجھے تاثر آئے ۔۔ وہیں مصطفی نے اپنی آنکھیں گمائیں ۔۔

’’ دیکھا تم نے ۔۔ ہماری ایک دوسرے کی حرکتوں پر بھی مکمل نظر ہوتی ہے ‘‘ امل سے کہتے اس نے اپنی جیب سے ایک ایک چپ نکالی ۔۔ اور میز پر رکھی ۔۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘ سوال فرہاد کی جانب سےہوا ۔۔

’’ مایا کے آفس میں لگایا ہوا سیکرٹ کیمرہ ۔۔۔ جس کے بارے میں ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔ ‘‘ مصطفی نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔

’’ کم از کم تھوڑی دیر پہلے تک تو مجھے یہی لگتا تھا ‘‘ اور اسکی بات پر ماسٹر کے ہونٹ مسکرائے۔۔۔

’’ تمہارا کام صرف ان سب کی جاسوسی کرنا ہے ۔۔ ہے نا ؟ ‘‘ امل کی جانب سے ہونے والے سوال پر جہاں مصطفی اور فرہاد کا قہقہہ گونجا وہیں ماسٹر نے امل کو آنکھیں دکھا کر ڈرانے کی ناکام کوشش کی ۔۔

’’ تمہیں تو میں بعد میں بتاتا ہوں کہ میں اور کیا کیا کرتا ہوں ‘‘ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا ۔۔ جبکہ امل نے مصطفی کی جانب دیکھا ۔۔ جسکی ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔

’’ میرے خیال سے ہمیں یہ دیکھا چاہئے کہ اس میں کیا ہے ‘‘ امل کی سنجیدہ آواز پر مصطفی فوراً اپنے لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا ۔۔

’’ میرے کہنے پر تو اس نے کبھی اتنی جلدی کام شروع نہیں کیا ۔۔ ‘‘ ماسٹر بس سوچ کر ہی رہ گیا ۔۔

’’ آئی کانٹ بیلیو دس ‘‘ کچھ دیر بعد مصطفی نے حیرانی سے کہا ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ سوال ماسٹر کی جانب سے ہوا ۔۔

’’ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ ‘‘ مصطفی تیزی سے ایک بٹن دباتے کہہ رہا تھا ۔۔

’’ بتاؤگے کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ اس بار فرہاد کی جانب سے سوال ہوا ۔۔

’’ انہوں نے کیمرے کو چھپا دیا ۔۔ مایا کے آفس کا دروازہ کھلتے ہی کیمرے کا راستہ رک گیا ۔۔ اور ۔۔۔ ‘‘ مصطفی کے چہرے کے تاثر اب پتھر ہوئے ۔۔

’’ اور ۔۔ ؟ ‘‘ امل کی جانب سے کہا گیا ۔۔

’’ اور ۔۔۔ ‘‘ اس نے لیپ ٹاپ موڑ کر اسکا والیم فل کیا ۔۔

سامنے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی مایا سکرین پر دکھی ۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی ۔۔

اور پھر ۔۔ کوئی چیز ۔۔ کوئی کپڑہ یا جانے کیا تھا جس نے کیمرے کے سامنے اندھیرہ کر دیا ۔۔

اور اب ۔۔۔

کچھ باقی تھا تو بس آواز ۔۔

پسٹل لوڈ کرنے کی آواز۔۔

مایا کی آواز ۔۔۔

درد کی آواز ۔۔۔

**************************************

’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ‘‘ درمیانی عمر کے اس شخص نے کھڑے ہوتے کہا ۔۔

’’ وہی جو تم سن رہے ہو ‘‘ کیپ پہنے انکا باس بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔

’’ آپ ایسا نہیں کرسکتے ۔۔ ابھی وہاں جانا خطرناک ہے ‘‘ وہ اپنے باس کے فیصلے پر خوش نہیں تھا ۔۔

’’ مجھ سے اب مزید انتظار نہیں ہوتا ۔۔ میں اپنی آنکھوں سے ان سب کو روتے ۔۔ ایک دوسرے سے الگ ہوتے دیکھنے کے لئے بے تاب ہوں ‘‘

’’ لیکن باس ۔۔ آج واجد کی لائی ہوئی خبر ملنے کے بعد ماسٹر جنگ کے اس میدان میں پوری قوت کے ساتھ اترے گا ۔۔ اور صرف ماسٹر نہیں ۔۔ وہ سب الگ ہو بھی جائیں تو وہ اس میدان سے بھاگنے نہیں والے ۔۔ وہ ایک دوسرے سے الگ ہوکر بھی کریمنل تک پہنچے کے لئے اپنی پوری جان لگا دینگے ۔۔ ایسے میں آپکا وہاں جانا خطرناک ہے ۔۔ ‘‘ وہ انہیں سمجھانا چاہتا تھا ۔۔ مگر شاید انکا باس اب سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔

’’ خطرہ صرف تب ہوتا ہے جب سب ایک ہوں ۔۔ وہ اب ایک نہیں رہنے والے ۔۔۔ امل شاہ ، نائل شاہ اور مصطفی ۔۔۔ ان سب کے راستے اب الگ ہونے والے ہیں دانش ۔۔۔ اور میں اتنا حسین نظارہ مس کر دوں ؟ ایسا ہونہیں سکتا ۔۔ مجھے دیکھنا ہے ۔۔ ان سب کو ایک دوسرے سے لڑتے ۔۔ ایک دوسرےکے خلاف جاتے ۔۔ ‘‘ ایک عجیب سے مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے باس نے کہا ۔۔ جبکہ دانش نے گہری سانس لی ۔۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اب باس اسکی بھی نہیں سننے والے ۔۔

’’ مگر ہمیں کچھ وقت بعد وہاں جانا تھا ۔۔۔ تب ۔۔ جب کسی کو امید نہ ہو ‘‘ اس نے انہیں پلین یاد دلایا ۔۔۔

’’ فکر مت کرو ۔۔ میرا انکے سامنے جانے کا وقت نہیں آیا ۔۔ وہ سب پلین کے حساب سے ہوگا ۔۔ میں تو بس ابھی اسی شہر میں ۔۔ انکے آس پاس رہ کر ۔۔ دور سے انہیں، بھاگتے دوڑتے اور لڑتے دیکھنے کے لئے بے تاب ہوں ‘‘ اپنی بات مکمل کر کے وہ پلٹ کر آگے قدم بڑھانے لگا ۔۔

’’ میری صبح کی ٹکٹ کنفرم کروا دو ۔۔ کل یہ باس ۔۔ ماسٹر کے شہر میں اسکی نظروں کے سامنے ہوکر بھی دور ہوگا ۔۔ اور افسوس ۔۔ اسے احساس تک نہ ہوگا ‘‘

اور اسی کے ساتھ باس اور دانش کا قہقہہ اس کمرے میں گونجا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *